بشیر احمد،شریف احمداور مبارکہ کی آمین(قسط ۱۶)
۱۴۱۔کہاں تک حرص و شوقِ مالِ فانی؟
اُٹھو ڈھونڈو متاعِ آسمانی
حرص hirs: لالچ Greed
فانی faani: فنا ہونے والا، مٹنے والا Mortal, perishable, transitory
متاع آسمانی mata-e-aasmaani: آسمانی مال و دولت Goods, heavenly blessings
دنیا کے مال و دولت کی لالچ کہاں تک کروگے یہ تو فانی دنیا ہے سب کچھ ختم ہوجانا ہے۔ آسمانی دولت تلاش کرو۔ آسمانی دولت اللہ تعالیٰ سے تعلق، نیک اعمال اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہیں۔
۱۴۲۔کہاں تک جوشِ آمال و اَمانی
یہ سَو سَو چھید ہیں تم میں نِہانی
آمال aamaal:(امل کی جمع) امیدیں Wishes, hopes
امانی aamaani: خواہشاتDesires
چھید Chaid: سوراخ A hole, an opening
دنیا کی خواہشیں اور امیدیں کہاں تک جوش مارتی رہیں گی۔ تمہارے اندر اس طرح کی سینکڑوں کمزوریوں نے چھپ کر اپنا گھر بنا یا ہوا ہے۔
۱۴۳۔تو پھر کیونکر ملے وہ یارِ جانی
کہاں غِربال میں رہتا ہے پانی
غربال ghirbaal: چھلنی A sieve
جب دنیا کی طرف جھکاؤ ہو تو اللہ تعالیٰ کو کیسے پایا جاسکتا ہے؟ جیسے چھلنی میں پانی نہیں ٹھہر سکتا۔ اسی طرح سینکڑوں سوراخوں والے دل میں اللہ تعالیٰ کا گھرنہیں بن سکتا۔ دنیا کی محبت کو چھوڑنا پڑے گا۔
۱۴۴۔کرو کچھ فِکر ملکِ جاودانی
یہ ملک و مال جھوٹی ہے کہانی
ملک جاودانی mulk-e-jaawedaani: ہمیشہ رہنے والا ملک، وطن Everlasting land, country
ہمیشہ قائم رہنے والی جگہ حاصل کرنے کے لیے نیک اعمال جمع کرنے کا سوچو یہ فانی دنیا اور اس کا مال و دولت تو ایک افسانہ ہے۔ بے حقیقت ہے۔
۱۴۵۔بسر کرتے ہو غفلت میں جوانی
مگر دل میں یہی تم نے ہے ٹھانی
اپنا جوانی کا زمانہ بے کار کے مشغلوں کی لذت میں گزار دیتے ہو۔ اور دل میں یہ سوچتے ہو کہ یہی راستہ اختیار کیے رکھنا ہے۔
۱۴۶۔خدا کی ایک بھی تم نے نہ مانی
ذرا سوچو یہی ہے زِندگانی؟
اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے کسی پر بھی عمل نہیں کیا۔ کیا اللہ تعالیٰ سے دُور ہوکر ایسی غفلت سے جینے کو زندگی کہتے ہیں؟ یہ تو اس کے الٹ ہے یعنی موت ہے۔
۱۴۷۔خدا نے اپنی رہ مجھ کو بتا دی
فَسُبحَانَ الَّذِی اَخزَی الْاَعَادِی
اللہ تعالیٰ نے مجھےخود وہ راستہ دکھا یا جس پر چل کر اس کو پا سکتے ہیں۔ پس پاک ہے وہ ذات جو میرے دشمنوں سے خود مؤاخذہ کرتی ہے۔
۱۴۸۔کرو توبہ کہ تا ہو جائے رحمت
دکھاؤ جلد تر صدق و اِنابت
صدق sidq: سچائی، راستی، حق Steadfastness, truth, sincerity, honesty
انابت enaabat: جھکاؤ، جھکنا Inclination towards God, To turn to God
اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں سے توبہ کرو۔ تاکہ اس کی رحمت حاصل ہو۔اس کے لیے ضروری ہے کہ جلد سے جلد سچے دل سے اس کے حضور جھک کر اپنی غفلتوں پر ندامت کا اظہار کیا جائے۔ توبہ و استغفار سے اللہ تعالیٰ رجوع برحمت ہوتا ہے۔
۱۴۹۔کھڑی ہے سر پہ ایسی ایک ساعت
کہ یاد آ جائے گی جس سے قِیامت
ساعت saa’at: گھنٹہ، گھڑی The Hour, time
قیامت qeyaamat: حشر، قہر، روز جزاسزا Punishment,wrath, Day of judgement
یاد رکھو کہ ایک ایسا وقت جلد آنے والا ہے جب سب کو خدا کے حضور پیش ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ وہ وقت بڑا سخت ہوگا۔ قیامت کا نمونہ ہوگا۔ اس سے ڈر کے رہو
۱۵۰۔مجھے یہ بات مولیٰ نے بتا دی
فَسُبحَانَ الَّذِی اَخزَی الْاَعَادِی
مجھے یہ حقیقت خود مالک یوم الدین۔ جزاسزا کے فیصلہ کرنے والے رب کریم نے بتائی ہے۔ پس پاک ہے وہ ذات جو میرے دشمنوں سے خود مؤاخذہ کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: نبوت اور خلافت کے متعلق جماعت احمدیہ کا موقف




