ایمان بالغیب(قسط اوّل)
’’ متقی کی صفات میں سے پہلی صفت یہ بیان کی یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
اِس عارفانہ موضوع سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پُر معارف ارشاداتِ عالیہ کا ایک ایمان افروز مجموعہ
حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:’’یادرکھو کہ متقی کی صفات میں سے پہلی صفت یہ بیان کی یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ یعنی غیب پر ایمان لاتے ہیں۔یہ مومن کی ایک ابتدائی حالت کا اظہار ہے کہ جن چیزوں کو اس نے نہیں دیکھا ان کو مان لیا ہے۔غیب اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور اس غیب میں بہشت، دوزخ، حشر اجساد اور وہ تمام امور جو ابھی تک پردہ غیب میں ہیں شامل ہیں۔اب ابتدائی حالت میں تو مومن ان پر ایمان لاتا ہے لیکن ہدایت یہ ہے کہ اس حالت پر اُسے ایک انعام عطا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا علم غیب سے انتقال کر کے شہود کی طرف آجاتا ہے اور اس پر پھر ایسا زمانہ آ جاتا ہے کہ جن باتوں پر وہ پہلے غائب کے طور پر ایمان لاتا تھا وہ ان کا عارف ہو جاتا ہے اور وہ امور جو ابھی تک مخفی تھے اس کے سامنے آ جاتے ہیں اور حالتِ شہود میں انہیں دیکھتا ہے پھر وہ خدا کو غیب نہیں مانتا بلکہ اسے دیکھتا ہے اور اس کی تجلی سامنے رہتی ہے غرض اس غیب کے بعد شہود کا درجہ اسے عطا کیا جاتا ہے جیسے ایمان کے بعد عرفان کا مرتبہ ملتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کو اسی عالم میں دیکھ لیتا ہے اور اگر اس کو یہ مرتبہ عطا نہ ہوتا تو پھر يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے مصداق کو کوئی ہدایت اور انعام عطا نہ ہوتا۔اس کے لئے قرآن شریف گویا موجب ہدایت نہ ہوتا۔مگر ایسا نہیں ہوتا اور اس کے لئے ہدایت یہی ہے کہ اس کے ایمان کو حالت غیب سے منتقل کر کے حالت شہود میں لے آتا ہے اور اس پر دلیل یہ ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِہِ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسرائیل: ۷۳) یعنی جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ دوسرے عالم میں بھی اندھا اُٹھایا جاوے گا۔اس نابینائی سے یہی مراد ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی تجلی اور ان امور کو جو حالت غیب میں ہیں اسی عالم میں مشاہدہ نہ کرے اور یہ نا بینائی کا کچھ حصہ غیب والے میں پایا جاتا ہے لیکن ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ کے موافق جو شخص ہدایت پالیتا ہے اس کی وہ نا بینائی دور ہو جاتی ہے اور وہ اس حالت سے ترقی کر جاتا ہے اور وہ ترقی اس کلام کے ذریعہ سے یہ ہے کہ ایمان بالغیب کے درجہ سے شہود کے درجہ پر پہنچ جاوے گا اور اس کے لئے یہی ہدایت ہے۔‘‘(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد ۲، صفحہ ۱۳، ۱۴)
’’اگر ہدایت کا انتہائی نکتہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ہی تک ہو تو پھر معرفت کیا ہوئی ؟ اس لئے جو شخص قرآن مجید کی ہدایت پر کار بند ہوگا وہ معرفت کے اعلیٰ مقام تک پہنچے گا اور وہ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِسے نکل کر مشاہدہ کی حالت تک ترقی کرے گا۔گو یا خدا تعالیٰ کے وجود پر عین الیقین کا مقام ملے گا۔‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد ۲، صفحہ ۲۴)
’’الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ایمان لانے پر ثواب اسی وجہ سے ملتا ہے کہ ایمان لانے والا چند قرائن صدق کے لحاظ سے ایسی باتوں کو قبول کر لیتا ہے کہ وہ ہنوز مخفی ہیں جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ نے مومنوں کی تعریف قرآن کریم میں فرمائی ہے کہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ یعنی ایسی بات کو مان لیتے ہیں کہ وہ ہنوز در پردہ غیب ہے جیسا کہ صحابہ کرام نے ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا اور کسی نے نشان نہ مانگا اور کوئی ثبوت طلب نہ کیا اور گو بعد اسکے اپنے وقت پر بارش کی طرح نشان بر سے اور معجزات ظاہر ہوئے لیکن صحابہ کرام ایمان لانے میں معجزات کے محتاج نہیں ہوئے اور اگر وہ معجزات کے دیکھنے پر ایمان موقوف رکھتے تو ایک ذرہ بزرگی ان کی ثابت نہ ہوتی اور عوام میں سے شمار کئے جاتے اور خدائے تعالیٰ کے مقبول اور پیارے بندوں میں داخل نہ ہو سکتے کیونکہ جن جن لوگوں نے نشان مانگا خدائے تعالیٰ نے ان پر عتاب ظاہر کیا اور در حقیقت ان کا انجام اچھا نہ ہوا اور اکثر وہ بے ایمانی کی حالت میں ہی مرے۔ غرض خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نشان مانگنا کسی قوم کے لئے مبارک نہیں ہوا اور جس نے نشان مانگا وہی تباہ ہوا۔انجیل میں بھی حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ اس وقت کے حرام کار مجھ سے نشان مانگتے ہیں ان کو کوئی نشان دیا نہیں جائے گا۔میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بالطبع ہر ایک شخص کے دل میں اس جگہ یہ سوال پیدا ہوگا کہ بغیر کسی نشان کے حق اور باطل میں انسان کیوں کر فرق کر سکتا ہے اور اگر بغیر نشان دیکھنے کے کسی کو منجانب اللہ قبول کیا جائے تو ممکن ہے کہ اس قبول کرنے میں دھوکا ہو۔اس کا جواب وہی ہے جو میں لکھ چکا ہوں کہ خدائے تعالیٰ نے ایمان کا ثواب اکثر اسی امر سے مشروط کر رکھا ہے کہ نشان دیکھنے سے پہلے ایمان ہو اور حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ چند قرائن جو وجہ تصدیق ہو سکیں اپنے ہاتھ میں ہوں اور تصدیق کا پلہ تکذیب کے پلہ سے بھاری ہو۔مثلاً حضرت صدیق اکبر ابوبکر رضی اللہ عنہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو انہوں نے کوئی معجزہ طلب نہیں کیا اور جب پوچھا گیا کہ کیوں ایمان لائے تو بیان کیا کہ میرے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امین ہونا ثابت ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ انہوں نے کبھی کسی انسان کی نسبت بھی جھوٹ کو استعمال نہیں کیا چہ جائیکہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھیں ! ایسا ہی اپنے اپنے مذاق پر ہر یک صحابی ایک، ایک اخلاقی یا تعلیمی فضیلت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ کر اور اپنی نظر دقیق سے اس کو وجہ صداقت ٹھہرا کر ایمان لائے تھے اور ان میں سے کسی نے بھی نشان نہیں مانگا تھا اور کا ذب اور صادق میں فرق کرنے کے لئے ان کی نگاہوں میں یہ کافی تھا کہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تقویٰ کے اعلیٰ مراتب پر ہیں۔اپنے منصب کے اظہار میں بڑی شجاعت اور استقامت رکھتے ہیں اور جس تعلیم کو لائے ہیں وہ دوسری سب تعلیموں سے صاف تر اور پاک تر اور سراسر نور ہے اور تمام اخلاق حمیدہ میں بے نظیر ہیں اور الٰہی جوش ان میں اعلیٰ درجہ کے پائے جاتے ہیں اور صداقت ان کے چہرہ پر برس رہی ہے۔پس انہیں باتوں کو دیکھ کر انہوں نے قبول کر لیا کہ وہ در حقیقت خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اس جگہ یہ نہ سمجھا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزات ظاہر نہیں ہوئے بلکہ تمام انبیاء سے زیادہ ظاہر ہوئے لیکن عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اوائل میں کھلے کھلے معجزات اور نشان مخفی رہتے ہیں تا صادقوں کا صدق اور کا ذبوں کا کذب پر کھا جائے۔یہ زمانہ ابتلا کا ہوتا ہے اور اس میں کوئی کھلا کھلا نشان ظاہر نہیں ہوتا۔پھر جب ایک گروہ صافی دلوں کا اپنی نظر دقیق سے ایمان لے آتا ہے اور عوام کا لانعام باقی رہ جاتے ہیں تو اُن پر حجت پوری کرنے کے لئے یا ان پر عذاب نازل کرنے کیلئے نشان ظاہر ہوتے ہیں مگر ان نشانوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو پہلے ایمان لا چکے تھے اور بعد میں ایمان لانے والے بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ ہر روزہ تکذیب سے ان کے دل سخت ہو جاتے ہیں اور اپنی مشہور کردہ راؤں کو وہ بدل نہیں سکتے آخراسی کفر اور انکار میں واصل جہنم ہوتے ہیں۔
مجھے دلی خواہش ہے اور میں دُعا کرتا ہوں کہ آپ کو یہ بات سمجھ آجاوے کہ در حقیقت ایمان کے مفہوم کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ پوشیدہ چیزوں کو مان لیا جائے اور جب ایک چیز کی حقیقت ہر طرح سے کھل جائے یا ایک وافر حصہ اس کا کھل جائے تو پھر اس کا مان لینا ایمان میں داخل نہیں۔مثلاً اب جو دن کا وقت ہے اگر میں یہ کہوں کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ اب دن ہے رات نہیں ہے تو میرے اس ماننے میں کیا خوبی ہوگی اور اس ماننے میں مجھے دوسروں پر کیا زیادت ہے؟ سعید آدمی کی پہلی نشانی یہی ہے کہ اس با برکت بات کو سمجھ لے کہ ایمان کس چیز کو کہا جاتا ہے کیونکہ جس قدر ابتدائے دنیا سے لوگ انبیاء کی مخالفت کرتے آئے ہیں ان کی عقلوں پر یہی پردہ پڑا ہوا تھا کہ وہ ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے تھے اور چاہتے تھے کہ جب تک دوسرے امور مشہور محسوسہ کی طرح انبیاء کی نبوت اور ان کی تعلیم کھل نہ جائے تب تک قبول کرنا مناسب نہیں اور وہ بیوقوف یہ خیال نہیں کرتے تھے کہ کھلی ہوئی چیز کو ماننا ایمان میں کیوں کر داخل ہوگا وہ تو ہندسہ اور حساب کی طرح ایک علم ہوا نہ کہ ایمان۔پس یہی حجاب تھا کہ جس کی وجہ سے ابو جہل اور ابولہب وغیرہ اوائل میں ایمان لانے سے محروم رہے اور پھر جب اپنی تکذیب میں پختہ ہو گئے اور مخالفانہ راؤں پر اصرار کر چکے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے کھلے کھلے نشان ظاہر ہوئے تب انہوں نے کہا کہ اب قبول کرنے سے مرنا بہتر ہے۔غرض نظر دقیق سے صادق کے صدق کو شناخت کرنا سعیدوں کا کام ہے اور نشان طلب کرنا نہایت منحوس طریق اور اشقیا کا شیوہ ہے جس کی وجہ سے کروڑ ہا منکر ہیزم جہنم ہو چکے ہیں۔خدائے تعالیٰ اپنی سنت کو نہیں بدلتا وہ جیسا کہ اس نے فرما دیا ہے انہی کے ایمان کو ایمان سمجھتا ہے جو زیادہ ضد نہیں کرتے اور قرائن مرجحہ کو دیکھ کر اور علامات صدق پا کر صادق کو قبول کر لیتے ہیں اور صادق کا کلام صادق کی راستبازی صادق کی استقامت اور خود صادق کا منہ ان کے نزدیک اس کے صدق پر گواہ ہوتا ہے۔مبارک وہ جن کو مردم شناسی کی عقل دی جاتی ہے۔‘‘
’’متقی کی حالت میں چونکہ رویت باری تعالیٰ اور مکالمات و مکاشفات کے مراتب حاصل نہیں ہوتے۔اس لئے اس کو اول ایمان بالغیب ہی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ تکلف کے طور پر ایمانی درجہ ہوتا ہے کیونکہ قرائن قویہ کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لاتا ہے جو بَيْنَ الشَّاكِ وَالْيَقِينِ ہوتا ہے۔
یاد رکھنا چاہئے کہ بعض آدمی تقوی کے اس درجہ پر بھی نہیں ہوتے یہ دہر یہ منش لوگ ہیں وہ آثار اور آیات قدرت کو تو دیکھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ہستی کے قائل نہیں ہوتے اور نہیں مانتے مگر متقی اللہ تعالیٰ کو مان لیتا ہے۔اور اس پر ایمان لاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ۔یہ مت سمجھو کہ یہ ادنی درجہ ہے یا اس کا مرتبہ کم ہے۔اور جو فہم سے بڑھ کر قدم مارتے ہیں وہ بڑے مجاہد ہیں اور اُن کے لئے بڑے بڑے مراتب اور مدارج ہیں نہیں بلکہ یہ ایمان بالغیب متقی کے پہلے درجہ کی حالت اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی وقعت رکھتی ہے۔ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو سب سے بڑھ کر ایمان کس کا ہے۔صحابہ نے عرض کی کہ حضور آپ کا ہی ہے۔آپ نے فرمایا کہ میرا کس طرح ہو سکتا ہے میں تو ہر روز جبریل کو دیکھتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نشانات کو ہر وقت دیکھتا ہوں۔پھر صحابہ نے عرض کی کہ کیا ہمارا ایمان؟ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا ایمان کس طرح تم بھی تو نشانات دیکھتے ہو۔آخر خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ صد ہا سال کے میرے بعد آئیں گے ان کا ایمان عجیب ہے کیونکہ وہ کوئی بھی ایسا نشان نہیں دیکھتے جیسے تم دیکھتے ہو مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ متقی کو اگر وہ اسی ابتدائی درجہ میں مرجاوے تو اسی زمرہ میں داخل کر لیتا ہے اور اسی دفتر میں اس کا نام لکھ دیتا ہے باوجود یکہ وہ مکالمات اور مخاطبات الہیہ کو نہیں جانتا اور اس لذت اور نعمت سے ابھی اس نے کچھ بھی نہیں پایا لیکن پھر بھی وہ ایسی قوت دکھاتا ہے کہ نہ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی رکھتا ہے بلکہ اس ایمان کو اپنے عمل سے بھی ثابت کرتا ہے یعنی یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ۔‘‘(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد ۲، صفحہ ۳۷ تا ۴۰)
’’ایمان بالغیب کے یہ معنے ہیں کہ وہ خدا سے اَڑ نہیں باندھتے بلکہ جو بات پر دہ غیب میں ہو اس کو قرائن مرجحہ کے لحاظ سے قبول کرتے ہیں اور دیکھ لیتے ہیں کہ صدق کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ہیں۔یہ بڑی غلطی ہے کہ انسان یہ خیال رکھے کہ آفتاب کی طرح ہر ایک ایمانی امر اس پر منکشف ہو جاوے۔اگر ایسا ہو تو پھر بتلاؤ کہ اس کے ثواب حاصل کرنے کا کونسا موقع ملا۔کیا ہم اگر آفتاب کو دیکھ کر کہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے تو ہم کو ثواب ملتا ہے؟ ہر گز نہیں۔کیوں صرف اس لئے کہ اس میں غیب کا پہلو کوئی بھی نہیں لیکن جب ملائکہ، خدا اور قیامت وغیرہ پر ایمان لاتے ہیں تو ثواب ملتا ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ ان پر ایمان لانے میں ایک پہلو غیب کا پڑا ہوا ہے۔ایمان لانے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ اخفا بھی ہو اور طالب حق چند قرائن صدق کے لحاظ سے ان باتوں کو مان لے۔‘‘(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد ۲، صفحہ ۵۰، ۵۱)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شیریں کلام سے چند اشعار پیش ہیں:
چشمۂ خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں
ہر ستارے میں تماشہ ہے تری چمکار کا
کیا عجب تو نے ہر اک ذرّہ میں رکھے ہیں خواص
کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا
تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں
کس سے کھل سکتا ہے پیچ اِس عُقدۂ دشوار کا
آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سَو سَو حجاب
ورنہ تھا قبلہ ترا رُخ کافر و دیندار کا
ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ متقی کون لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔غیب الغیب تو اللہ کی ذات ہے پھر مابعد الموت کے حالات۔پھر ملائکہ، رسول اور اس کی کتابیں اسی میں شامل ہیں۔رسول بحیثیت انسان ہونے کے تو غیب نہیں مگر بحیثیت رسول ہونے کے اس کی ذات غیب میں داخل ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۳)
یُؤۡمِنُوۡنَ ایمان لاتے ہیں۔ایمان کہتے ہیں ماننے کو۔اس طرح سے ماننا کہ جو دل کی بات ہے وہ دل سے مانی جاوے۔جو ہاتھ سے ماننے کی ہے وہ ہاتھ سے مانی جاوے۔غرض اس طرح زبان، آنکھ، کان اور ہر ایک اعضاء سے جو بات حسب فرمودہ الٰہی ماننے کی ہے وہ مانی جاوے۔اعضاء سے اس طرح مانا کرتے ہیں کہ اس بات یا امر کو عملا ًکر کے دکھلا دیا جاوے۔
الْغَيْب۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ بھی ہے کیونکہ وہ ایک نہاں در نہاں ہستی ہے جو اِن آنکھوں سے نہیں دیکھی جاتی اِن ہاتھوں سے نہیں ٹٹولی جاتی۔ان کانوں سے اس کی آواز نہیں سنی جاتی۔یہ اس کی صفت ہے منجملہ اور صفات کے۔
اس کے معنے تنہائی کے بھی ہیں جیسے فرمایا۔يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ (الملك: ۱۳) یعنی ایمان داری کی یہ نشانی ہے کہ عالَم تنہائی میں جب اس کے پاس کوئی نہیں ہوتا نہ کوئی رشتہ دار، نہ برادری، نہ قوم، نہ شاہی چوکیدار وغیرہ تو اس وقت جن جرائم کو وہ کر سکتا ہے ان کو اس لئے نہیں کرتا کہ خدا کی ہستی پر اُسے یقین ہے اور وہ جانتا ہے کہ اگر کوئی اور نہیں دیکھتا تو خدا کی ذات پاک دیکھ رہی ہے۔ایسے عالم تنہائی میں گناہوں سے بچنا در اصل ایمان کا ثبوت ہے اور اس کا پتہ ماہِ رمضان میں بھی خوب ملتا ہے جبکہ ایک شخص اپنے گھر کے اندر کوٹھڑی میں بیٹھا ہے پینے کے لئے سرد پانی، کھانے کے لئے نعمتیں اور شہوانی ضرورتوں کے لئے بیوی موجود ہے۔کوئی اُسے دیکھنے والا نہیں دل بھی للچاتا ہے مگر پھر خدا تعالیٰ کے خوف سے وہ پر ہیز کرتا ہے۔اکثر لوگ جب اپنے محلہ یا شہر کو چھوڑ کر دوسرے ممالک میں چلے جاتے ہیں تو شرارتوں اور بدکاریوں میں دلیر ہو جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اپنے مقام پر ان کو برادری اور قوم وغیرہ کا ڈر ہوتا ہے جب وہ نہ ہوئے تو پھر کھلم کھلا وہ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔اگر ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی مقتدر ہستی پر ہوتا تو وہ جہاں رہتے گناہ سے بچتے۔یہ ایک لطیف حقیقت يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ سے معلوم ہوتی ہے۔
وہ تقویٰ جو کہ ہر ایک کامیابی اور فلاح کی جڑ ہے اس کا ابتداء کیوں يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ سے شروع ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک کامیابی خواہ دنیا کی ہو خواہ دین کی، اس کا اصل اصول ایمان بالغیب ہی ہے اور اسی کے ذریعے سے انجام کار بڑے بڑے علوم اور بار یک در بار یک اسرار کا پتہ لگتا ہے۔مثال کے طور پر دیکھو کہ اگر ایک لڑکا ابتدائی قاعدہ شروع کرتے وقت اگر الف کو الف نہ مانے اور استاد سے کہے کہ تم اسے الف کیوں کہتے ہو؟ کچھ اور نام لوتو کیا وہ کچھ ترقی کر سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔بہر حال اُسے ماننا پڑے گا کہ جو کچھ استاد کہتا ہے وہ ٹھیک ہے تو ہی ترقی کرے گا۔
پھر جس قدر علوم ریاضی، اقلیدس، الجبرا اور جغرافیہ طبعی وغیرہ ہیں ان میں جب تک اوّل اول کچھ باتیں فرضی طور پر نہ مان لی جاویں تو آگے انسان چل ہی نہیں سکتا۔ابتدا میں جب وہ کچھ مان کر آگے چلتا ہے تو پھر بڑے بڑے علوم وفنونِ حقہ کا دروازہ اس پر کھل جاتا ہے۔
محکمہ پولیس جب کسی مقدمہ کا سراغ لگاتا ہے تو وہ بعض اوقات شریر لوگوں کی بات پر بھی اعتبار کر لیتا ہے اور پھر ان فرضی باتوں کے ذریعے سے مقدمات کی اصل حقیقت کو پالیتا ہے۔غرض یہ کہ دیکھا جاتا ہے کہ اکثر فرضی باتوں کو مان کر انسان بڑے بڑے علوم حاصل کر لیتا ہے۔اسی طرح اگر دہر یہ طبع لوگ اللہ تعالیٰ کو فرضی مان کر ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق کام کریں تو دیکھ لیں کہ کیا کیا نتائج نکلتے ہیں اور وہ لوگ جن کو براہ راست مکالمہ الہیہ کا شرف حاصل نہیں ہے ان کے لئے اللہ تعالیٰ ابھی غیب میں ہی ہے اگر وہ بھی فرض کر کے اللہ تعالیٰ سے دعائیں شروع کر دیویں تو نتائج حسنہ پالیویں گے۔
ایمان بالغیب کی حقیقت کو حضرت احمد مرسل یزدانی مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتاب ’’ آئینہ کمالات اسلام‘‘ کے صفحہ ۳۳۶ میں اور اپنی دوسری مقدس تالیفات میں بھی دکھایا ہے وہاں دیکھ لیا جاوے کہ انسانی نجات کے واسطے کس قدر ضرورت ایمان بالغیب کی ہے اور اگر یہ نہ ہو تو پھر دنیا میں کوئی بھی ایسا عمل ہر گز نہیں ہے کہ جس کے ذریعے سے انسان انعامات الہی کا مستحق ہو سکے کیونکہ جیسے انسان دور سے ایک دھواں دیکھ کر یہ گمان کرتا ہے کہ وہاں آگ ہو گی اور اس وقت اس کا ایک ظنّی علم ہوتا ہے جب تک وہ اس دھوئیں کی طرف قدم بڑھا کر نہ چلے اور اس آگ میں ہاتھ ڈال کر نہ دیکھ لیوے تب تک یقینی علم کا مرتبہ نہیں حاصل کر سکتا۔در اصل ایسی علمی حالت کا نام ایمان ہے۔اسی طرح بعض قرائن مرجحہ سے اس کو ایک ظنّی علم خدا کی ہستی کا پیدا ہوتا ہے وہ اس کے دل میں ایک جوش اس ہستی کا یقینی علم حاصل کرنے کے لئے پیدا کرتا ہے جو کہ اس کی ترقیات کا موجب ہوتا ہے۔
ظنی امور سے یقینی امور کی طرف آنے کے لئے چونکہ انسان کو ضرور کچھ نہ کچھ محنت کرنی پڑتی ہے اور اس کے دل میں ایک اضطراب ہوتا ہے اس لئے متقی کی دوسری صفت یہ فرمائی یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وہ نماز کو قائم کرتے ہیں۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱، ۲ مورخہ ۳۰،۲۳ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۵)۔ ‘‘(حقائق الفرقان جلد ۱، صفحہ ۵۵ تا ۵۷)
’’ ایمان لاتے ہیں اس حالت میں کہ وہ لوگوں سے غائب ہوتے ہیں جیسا فرمایا ہے وَخَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ (يٰس:۱۲) جو ڈرا الرحمن سے غائب ہونے کی حالت میں۔اور فرمایا۔يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ (الانبیاء : ۵۱) ڈرتے ہیں اپنے رب سے پوشیدہ ہونے کی حالت میں۔پس اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السّلام کا قول قرآن مجید میں منقول ہے کہ لِيَعْلَمَ اَنِّی لَم اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ (يوسف:۵۳) تا کہ وہ جان لے کہ غائبانہ حالت میں میں نے اس کی خیانت نہیں کی۔تو ان معنوں کے رُو سے مطلب یہ ہوگا کہ متقی لوگ ان لوگوں کی مانند نہیں ہوتے کہ جن کے حق میں آیا ہے۔اِذَا لَقُوا الَّذِينَ اٰمَنُوا قَالُوا اٰمَنَّا وَاِذَا خَلَوْا إِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ قَالُوا اِنَّا مَعَكُمْ (البقرة : ۱۵) جب مومنوں کو ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کو اکیلے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں بلکہ جیسے وہ لوگوں کے سامنے ایمان لاتے ہیں ان اشیاء ( اللہ اور نبوت، رسالت، کتاب اللہ کے منجانب اللہ ہونے اور قیامت وغیرھا) پر جو کہ لوگوں سے غائب ہیں۔پس بالغیب یہاں پر ایسا ہے جیسا کہ بِاللّٰہ۔ اٰمَنَّا بِاللّٰہ میں ہے۔اور دلائل بیہقی میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا اَلَا إِنَّ اَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَىَّ اِيْمَانًا قَوْمٌ يَكُونُونَ بَعْدَ كُمْ يَجِدُونَ صُحُفًا فِيهَا كُتُبٌ يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهِ۔ہاں ! سب مخلوق سے مجھے زیادہ پسند ان لوگوں کا ایمان ہے جو کہ تم سے پیچھے آئیں گے تو کچھ صحیفے پائیں گے کہ جن میں کتابیں ہوں گی اور وہ ان پر ایمان لائیں گے۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد۱ نمبر۴۔اکتوبر۱۹۰۶ء صفحہ ۱۵۰)۔‘‘(حقائق الفرقان جلد ۱ صفحہ ۶۳،۶۲)
’’اَلَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ۔اس آیت شریفہ میں کامیابی کے تین اصول بتلائے گئے ہیں۔ایمان بالغیب، د عا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔دراصل ہر ایک کام جس کو انسان اختیار کرے اس میں انسان تب ہی کامیاب ہو سکتا ہے جبکہ یہ تین کام کرے۔سب سے اوّل غیب سے کام لیا جاتا ہے۔تمام ریاضی کی بنیاد غیب پر ہے۔نقطہ، دائرہ اور خط سب فرضی ہوتے ہیں اور اسی پر سب ریاضی کا علم بنتا ہے۔علم حساب بھی فرضی باتوں سے شروع ہوتا ہے۔لڑکوں کو سوال حل کرنے کے لئے دیا جاتا ہے کہ ایک شخص کے پاس دس ہزار روپیہ ہے۔وہ تجارت کرتا ہے اس بھاؤ خریدتا ہے اُس بھاؤ بیچتا ہے۔بتلاؤ کیا منافع ہوگا۔یہ سب فرضی باتیں ہیں نہ کوئی شخص ہے، نہ کچھ روپیہ ہے، نہ کوئی تجارت ہے لیکن اسی سے بچہ بڑا حساب دان بن جاتا ہے۔پولیس بھی غیب سے کام چلاتی ہے۔اس کو پکڑو، اس کی تلاشی لو، آخر مقدمہ نکل ہی آتا ہے۔‘‘(حقائق الفرقان جلد ۱ صفحہ ۸۶)
ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ متقی بن کر قرآن کی غذا ہضم ہو سکتی ہے
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’اس زمانہ میں مومن اگر ترقی کر سکتے ہیں تو قرآن کریم پر چل کر ہی اور اگر یہ غذا ہضم نہ ہو سکے تو پھر کیا فائدہ اور اگر اسے ہضم کرنا چاہتے ہو تو متقی بنو۔ ابتدائی تقویٰ جس سے قرآن کریم کی غذا ہضم ہو سکتی ہے وہ کیا ہے وہ ایمان کی درستی ہے۔ تقویٰ کے لئے پہلی ضروری چیز ایمان کی درستی ہی ہے۔ قرآن کریم نے مومن کی علامت یہ بتائی ہے کہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَیب۔ ہر شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میں متقی کیسے بنوں۔
متقی کی پہلی علامت ایمان بالغیب ہے
پس اس کی پہلی علامت ایمان بالغیب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ملائکہ، قیامت اور رسولوں پر ایمان لانا۔ پھر اس ایمان کے نیک نتائج پر ایمان لانا بھی ایمان بالغیب ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ، ملائکہ، قیامت اور رسالت نظر نہیں آتی۔ اس لئے اس کے دلائل قرآن کریم نے مہیا کئے ہیں اور وہ دلائل ایسے ہیں کہ انسان کے لئے ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا مگر کئی لوگ ہیں جو غور نہیں کرتے۔ آج کل ایمان بالغیب پر لوگ تمسخر اڑاتے ہیں۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں بعض لوگ ان کا تمسخر اڑاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تم تعلیم یافتہ ہو کر خدا کو مانتے ہو۔ پھر قیامت اور مرنے کے بعد اعمال کی جزا سزا پر بھی لوگ تمسخر اڑاتے ہیں۔ ملائکہ بھی اللہ تعالیٰ کا پیغام اور دین لانے والے ہیں اور یہ سب ابتدائی صداقتیں ہیں مگر لوگ ان سب باتوں کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ یہ سارا ایک ہی سلسلہ ہے اور جس نے اس کی ایک کڑی کو بھی چھوڑ دیا۔ وہ ایمان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
نیک نتائج پر ایمان لانا بھی ایمان بالغیب میں شامل ہے
نیک نتائج پر ایمان لانا بھی ایمان بالغیب میں شامل ہے اور یہی تو کل کا مقام ہے۔ ایک شخص اگر دس سیر آٹا کسی غریب کو دیتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا اجرا سے ملے گا۔ تو وہ گو یا غیب پر ایمان لاتا ہے۔ وہ کسی حاضر نتیجہ کے لئے یہ کام نہیں کرتا بلکہ غیب پر ایمان لانے کی وجہ سے ہی ایسا کر سکتا ہے بلکہ جو شخص خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا۔ وہ بھی اگر ایسی کوئی نیکی کرتا ہے۔ تو غیب پر ایمان کی وجہ سے ہی کر سکتا ہے۔ فرض کرو کوئی شخص قومی نقطہ نگاہ سے کسی غریب کی مدد کرتا ہے۔ تو بھی یہی سمجھ کر کرتا ہے کہ اگر کسی وقت مجھ پر یا میرے خاندان پر زوال آیا۔ تو اسی طرح دوسرے لوگ میری یا میرے خاندان کی مدد کریں گے۔ تو تمام ترقیات غیب پر بنی ہیں کیونکہ بڑے کاموں کے نتائج فوراً نہیں نکلتے اور ایسے کام جن کے نتائج نظر نہ آئیں، حوصلہ والے ہی لوگ کرتے ہیں۔
قربانی کا مادہ بھی ایمان بالغیب سے پیدا ہوتا ہے
قربانی کا مادہ بھی ایمان بالغیب ہی انسان کے اندر پیدا کرسکتا ہے۔ گویا قرآن کریم نے ابتداء میں ہی ایک بڑی بات اپنے ماننے والوں میں پیدا کر دی۔ چنانچہ وہ صحابہ جو بدر اور احد کی لڑائیوں میں لڑے، کیا وہ کسی ایسے نتیجہ کے لئے لڑے تھے جو سامنے نظر آرہا تھا ؟ نہیں بلکہ ان کے دلوں میں ایمان بالغیب تھا۔ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر مکہ کے بعض امراء نے صلح کی کوشش کی مگر بعض ایسے لوگوں نے جنہیں نقصان پہنچا ہوا تھا۔ شور مچایا دیا کہ ہرگز صلح نہیں ہونی چاہئے۔ آخر ایک شخص نے کہا کہ کسی آدمی کو بھیجا جائے جو مسلمانوں کی طاقت کا اندازہ کر کے آئے۔ چنانچہ ایک آدمی بھیجا گیا اور اس نے آکر کہا کہ اے میری قوم میرا مشورہ یہی ہے کہ ان لوگوں سے لڑائی نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ تم بتاؤ تو سہی کہ ان کی تعداد کتنی ہے، اور سامان وغیرہ کیسا ہے۔ اس نے کہا کہ میرا اندازہ ہے کہ مسلمانوں کی تعداد ۳۱۰ اور ۳۳۰ کے درمیان ہے اور کوئی خاص سامان بھی نہیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ پھر جب یہ حالت ہے تو تم یہ مشورہ کیوں دیتے ہو کہ ان سے لڑائی نہ کی جائے۔ جب ان کی تعداد بھی ہم سے بہت کم ہے اور سامان بھی ان کے پاس بہت کم ہے۔ اس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھیں ہیں۔ میں نے جو چہرہ بھی دیکھا میں نے معلوم کیا کہ وہ تہیہ کئے ہوئے ہے کہ وہ خود بھی مر جائے گا اور تم کو بھی مار دے گا۔ چنانچہ اس کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ ابو جہل میدان میں کھڑا تھا اور عکرمہ اور خالد بن ولید جیسے بہادر نوجواں اس کے گرد پہرہ دے رہے تھے۔ کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ بیان کرتے ہیں میں نے اپنے دائیں اور بائیں دیکھا تو دونوں طرف پندرہ پندرہ سال کے بچے کھڑے تھے۔ میں نے خیال کیا کہ میں آج کیا جنگ کر سکوں گا۔ جب کہ میرے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ لیکن ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک لڑکے نے آہستہ سے مجھے کہنی ماری اور پوچھا چچا، وہ ابو جہل کون ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دیا کرتا ہے۔ میں نے خدا سے عہد کیا ہے کہ آج اسے ماروں گا۔ ابھی وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ دوسرے لڑکے نے بھی اسی طرح آہستہ سے کہنی ماری اور مجھ سے یہی سوال کیا۔ میں اس بات سے حیران تو ہوا مگر انگلی کے اشارہ سے بتایا کہ ابو جہل وہ ہے جو خَود پہنے کھڑا ہے اور ابھی میں نے انگلی کا اشارہ کر کے ہاتھ نیچے ہی کیا تھا کہ وہ دونوں بچے اس طرح پر جا گرے جس طرح چیل اپنے شکار پر جھپٹتی ہے، اور تلوار یں سونت کر ایسی بے جگری سے اس پر حملہ آور ہوئے کہ اس کے محافظ سپاہی ابھی تلواریں سنبھال بھی نہ سکے تھے کہ انہوں نے ابو جہل کو نیچے گرا دیا۔ ان میں سے ایک کا بازو کٹ گیا مگر قبل اس کے باقاعدہ جنگ شروع ہو، ابو جہل مہلک طور پر زخمی ہو چکا تھا۔ یہ کیا چیز تھی جس نے ان لوگوں میں اتنی جرات پیدا کر دی تھی۔ یہ ایمان بالغیب ہی تھا۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ہر وقت قربانیوں کی آگ میں جھونکنے کے لئے تیار رہتے تھے اور یہ ایمان بالغیب ہی تھا کہ جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں یہ یقین پیدا ہو چکا تھا کہ دنیا کی نجات اسلام میں ہی ہے اور خواہ کچھ ہو ہم اسلام کو دنیا میں غالب کر کے رہیں گے۔
پس مجلس انصار الله، خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کا کام
یہ ہے کہ جماعت میں تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لئے پہلی ضروری چیز ایمان بالغیب ہے۔ انہیں اللہ تعالیٰ، ملائکہ، قیامت، رسولوں اور ان شاندار عظیم الشان نتائج پر جو آئندہ نکلنے والے ہیں، ایمان پیدا کرنا چاہئے۔ انسان کے اندر بزدلی اور نفاق وغیرہ اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب دل میں ایمان بالغیب نہ ہو۔ اس صورت میں انسان سمجھتا ہے کہ میرے پاس جو کچھ ہے یہ بھی اگر چلا گیا تو پھر کچھ نہ رہے گا اور اس لئے وہ قربانی کرنے سے ڈرتا ہے۔
يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ کے ایک معنے امن دینا
يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ کے ایک معنے امن دینا بھی ہے۔ یعنی جب قوم کا کوئی فرد باہر جاتا ہے تو اس کے دل میں یہ اطمینان ہونا ضروری ہے کہ اس کے بھائی اس کے بیوی بچوں کو امن دیں گے۔ کوئی قوم جہاد نہیں کر سکتی، جب تک اسے یہ یقین نہ ہو کہ اس کے پیچھے رہنے والے بھائی دیانت دار ہیں۔ پس ان تینوں مجلسوں کا ایک یہ بھی کام ہے کہ جماعت کے اندر ایسی امن کی روح پیدا کریں۔ ان تینوں مجالس کو کوشش کرنی چاہئے کہ ایمان بالغیب ایک میخ کی طرح ہر احمدی کے دل میں اس طرح گڑ جائے کہ اس کا ہر خیال، ہر قول اور ہر عمل اس کے تابع ہو اور یہ ایمان قرآن کریم کے علم کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ فلسفیوں کی جھوٹی اور پُر غریب باتوں سے متاثر ہوں اور قرآن کریم کا علم حاصل کرنے سے غافل رہیں، وہ ہرگز کوئی کام نہیں کر سکتے۔ پس مجالس انصار اللہ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ کا یہ فرض ہے اور ان کی یہ پالیسی ہونی چاہئے کہ وہ یہ باتیں قوم کے اندر پیدا کریں اور ہر ممکن ذریعہ سے اس کے لئے کوشش کرتے رہیں۔ لیکچروں کے ذریعہ اسباق کے ذریعہ، اور بار بار امتحان لیکر ان باتوں کو دلوں میں راسخ کیا جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو بار بار پڑھایا جائے، یہاں تک ہر مرد عورت اور ہر چھوٹے بڑے کے دل میں ایمان بالغیب پیدا ہو جائے۔‘‘ (سبیل الرشاد جلد اول، صفحہ ۵۳ تا ۵۵)
(جاری ہے)
٭…٭…٭




