امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لجنہ اماءاللہ برطانیہ کے سالانہ نیشنل اجتماع 2025ء کے موقع پر بصیرت افروز خطاب کا خلاصہ
ہر احمدی عورت اور لڑکی کو ہمیشہ اپنی روحانی اور اخلاقی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے
٭…اس دور میں ایک احمدی عورت کو فخر کرنا چاہیے کہ اُسے آج نہیں بلکہ چودہ سو سال قبل ہی اسلام کے ذریعہ یہ تمام حقوق اور آزادی مل چکی ہے۔وہ کسی مرد کی محتاج نہیں جو اسے یہ حقوق دلوائے بلکہ خود خدا تعالیٰ نے اسے حقیقی آزادی، انصاف اور مساوات سے نوازا
٭…اگر آپ صبر کے ساتھ دین پر قائم ہیں اور نیکیاں بجالا رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کیا ہوا ہے کہ وہ آپ کو اپنے فضلوں اور انعامات سے ایسے طور پر نوازے گاجو آپ کے وہم و گمان سے کہیں بڑھ کر ہیں
٭…انقلاب صرف باتوں سے نہیں آتے بلکہ عمل سے آتے ہیں۔ اس کے لیے سستی اور کاہلی کو ختم کر کے مجاہدہ کا جہاد کرنا پڑتا ہے
٭…سورۃ الاحزاب آیت ۳۶ کی روشنی میں مومن مردوں اور عورتوں کی صفات کا بصیرت افروز بیان
(۲۷؍ستمبر ۲۰۲۵ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۷؍ستمبر۲۰۲۵ء بروز ہفتہ لجنہ اماء اللہ و ناصرات الاحمدیہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع (منعقدہ ۲۶تا۲۸؍ستمبر ۲۰۲۵ء) سے انگریزی زبان میں بصیرت افروز خطاب ارشاد فرمایا۔ یہ خطاب ایم ٹی اے کے مواصلاتی رابطوں کے توسّط سے پوری دنیا میں براہ راست دیکھا اور سنا گیا۔ امسال ذیلی تنظیموں کے اجتماعات گلفورڈ میں واقع Hook Lane پر موجود پچاس ایکڑ زمین پر منعقد ہورہے ہیں۔ مقام اجتماع اسلام آباد ٹلفورڈ سے گاڑی پر پندرہ منٹ کی مسافت پر ہے۔ امسال اجتماع کا مرکزی موضوع ’’وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا‘‘ تھا۔

سوا چار بجے کے قریب حضور پُر نور ایدہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیز والہانہ نعروں کی گونج میں لجنہ کی اجتماع گاہ میں تشریف لائے، کرسیٔ صدارت پر رونق افروز ہوئے اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ عنایت فرمایا۔ بعد ازاں اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ رضوانہ طاہر صاحبہ نے سورت آل عمران کی آیات ۱۰۳تا۱۰۵ تلاوت کیں۔ متلو آیات کا انگریزی زبان میں ترجمہ لبیدہ بھٹی صاحبہ کو پیش کرنے کی سعادت ملی۔ بعد ازاں حضور انور کی اقتدا میں تمام حاضرین نے لجنہ اماء اللہ کا عہد دہرایا۔ اس کےبعد رضوانہ شمس صاحبہ نے حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ؓ کا منظوم کلام ’’مولا مرے قدیر مرے کبریا مرے ‘‘ میں سے منتخب اشعار پیش کیے۔ اِن اشعار کا انگریزی زبان میں ترجمہ بریرہ طاہر صاحبہ نے پیش کیا۔ بعدہٗ مکرمہ ڈاکٹر قرۃ العین عینی رحمان صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ برطانیہ نے اجتماع کی رپورٹ پیش کی جس کے اختتام پر اجتماع کی جھلکیوں پر مشتمل ویڈیو دکھائی گئی۔
چار بج کر ۳۴؍ منٹ پر حضور انور نے کرسیٔ صدارت پر ہی تشریف رکھتے ہوئے لجنہ اماء اللہ سے خطاب کا آغاز فرمایا۔
خلاصہ خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ
تشہد،تعوذاور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا:
اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ سب آج اپنی علمی، اخلاقی اور روحانی استعدادوں کو بڑھانے کے لیے یہاں جمع ہوئی ہیں۔ بلا شبہ لجنہ اماء اللہ کی تنظیم کا قیام احمدی مستورات اور لڑکیوں پر حضرت مصلح موعودؓ کا ایک بہت بڑا احسان ہے تاکہ احمدی خواتین خدا تعالیٰ سے تعلق میں بڑھ سکیں اور مردوں کی مداخلت کے بغیر وہ ترقیات حاصل کر تے ہوئے اپنی نیکی، علم اور غیرمحدود استعدادوں سے دنیا کو بھی منوّر کر سکیں۔
آج مغربی دنیا میں کثرت سے عورتوں کی آزادی اور ان کے حقوق کے حوالے سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ جہاں اس معاشرے میں عورتوں کو کمزور سمجھا جاتا تھا وہاں اب عورتیں اپنے حقوق مانگنے لگ گئی ہیں۔ بعض مرد بھی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے مرد محض ایک فیشن کے طور پر ایسا کر رہے ہیں اور انہیں اصل میں عورتوں کو بااختیار بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اب تو بعض اہل علم اور دانشور خواتین خود اس کا اعتراف کر رہی ہیں کہ ایسے مردوں کی مداخلت خودغرضی پر مبنی ہے۔
اس دور میں ایک احمدی عورت کو فخر کرنا چاہیے کہ اسُے آج نہیں بلکہ چودہ سو سال قبل ہی اسلام کے ذریعہ یہ تمام حقوق اور آزادی مل چکی ہے۔ وہ کسی مرد کی محتاج نہیں جو اسے یہ حقوق دلوائے بلکہ خود خدا تعالیٰ نے اسے حقیقی آزادی، انصاف اور مساوات سے نوازا۔
خدا نے مرد اور عورت کے برابر حقوق رکھ کر بتا دیا کہ نہ کسی کو عورت کے حق مارنے اورنہ ان کی حق تلفی کرنے کی اجازت ہے۔ اگر کوئی مرد اس کی پروا نہیں کرتا تو وہ خدا کے ہاں مجرم ہے۔
خدا تعالیٰ نے جہاں عورتوں کو حقوق سے نوازا وہاں اُن پر بعض ذمہ داریاں بھی ڈالی ہیں جس کے مطابق آپ کو اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔ اگر آپ ایسا کریں تو ہی خدا تعالیٰ کے انعامات کی وارث بن سکتی ہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے تقویٰ کے اصول بیان فرمائے ہیں۔ کبھی مجموعی طور پر مومنین کو مخاطب فرمایا ہے جبکہ بعض اوقات مومن مردوں اور مومن عورتوں کو علیحدہ علیحدہ ان کے دینی فرائض کے حوالے سے مخاطب کیا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الۡمُسۡلِمِیۡنَ وَالۡمُسۡلِمٰتِ وَالۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ وَالۡقٰنِتِیۡنَ وَالۡقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِیۡنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیۡنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالۡخٰشِعِیۡنَ وَالۡخٰشِعٰتِ وَالۡمُتَصَدِّقِیۡنَ وَالۡمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآئِمِیۡنَ وَالصّٰٓئِمٰتِ وَالۡحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمۡ وَالۡحٰفِظٰتِ وَالذّٰکِرِیۡنَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّالذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّاَجۡرًا عَظِیۡمًا۔(الاحزاب:۳۶)ترجمہ:یقیناً مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں، اللہ نے اِن سب کے لئے مغفرت اور اجرِعظیم تیار کئے ہوئے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ اس آیت میں مردوں اور عورتوں دونوں کو کامل مومن بننے کے لیے ایک ہی طرح کے نیک اعمال بتائے ہیں۔ جب ایک عورت حقیقی مومنہ بنے گی تو نہ صرف اپنی اصلاح کرے گی بلکہ وہ ایک مومن مرد، شوہر، بھائی اور بیٹے کو بنانے والی بھی ہو گی۔
حضور انور نے فرمایا کہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ کسی بھی عظیم مقصد کے حصول کے لیے قربانی کرنا لازم ہے۔ جتنا عظیم مقصد ہو اتنی ہی بڑی قربانی کرنی ہو گی۔ اس لیے
ہر احمدی عورت اور لڑکی کو ہمیشہ اپنی روحانی اور اخلاقی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ تبھی آپ حقیقی معنوں میں خدا تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرسکتی ہیں
حضور انور نے فرمایا کہ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ دنیا ہی آپ کا مقصود نہیں۔ اکثر اوقات لڑکیاں یا خواتین اپنی پریشانیوں اور مشکلات کا میرے سے ذکر کرتی ہیں اور سوال کرتی ہیں کہ اُن کے نیک اعمال اور دعاؤں کا فوری نتیجہ کیوں نہیں نظر آتا؟
یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہر نیک عمل اور خلوص سے کی جانے والی دعا کا اجر عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے۔ لیکن بعض انعامات کا حصول صبر کا تقاضا کرتے ہیںاور وہ اپنے مقررہ وقت پر ہی ملتے ہیں۔خواہ وہ اس دنیا میں یا اگلے جہان میں ملیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ حقیقی مومنین اس دنیا کو ہی سب کچھ نہیں سمجھتے بلکہ اُن کی نظر آخرت کی دائمی زندگی پر ہوتی ہے۔ اس لیے
اگر آپ صبر کے ساتھ دین پر قائم ہیں اور نیکیاں بجالا رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کیا ہوا ہے کہ وہ آپ کو اپنے فضلوں اور انعامات سے ایسے طور پر نوازے گا جو آپ کے وہم و گمان سے کہیں بڑھ کر ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ ان امور کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اب میں بعض ایسی نیکیوں کا ذکر کروں گا جو ایک مومن کا وصف ہونی چاہئیں۔
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم کوشش کریں کہ اپنے ایمان کو کامل کریں اور حقیقی مسلمان بنیں۔
صرف منہ سے کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ دل میں خدا تعالیٰ کے ہر حکم کی پیروی کرنے کا پختہ عزم ہونا چاہیے۔
افسوس کہ بعض جلد باز یہ کہہ دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول نہیں کی اور ہماری مشکل کو دُور نہیں کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ تو سب سے زیادہ پیار کرنے والا ہے۔ ایک مومن کو خدا پر کبھی بھی بدظنی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنی پیدائش سے قبل سے آج تک اگر خدا کے انعامات کو یاد کریں تو شکر کے جذبات پیدا ہوں گے اور کبھی بھی گلے شکوے پیدا نہیں ہوں گے۔
حضور انور نے فرمایا کہ حقیقت میں اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے اور ایمان کو پختہ کرنے کے لیے یہ لازم ہے کہ ہر احمدی عورت باقاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کرے، اس کے مطالب سمجھنے اور اس کی ہدایات کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے۔
بدقسمتی سے ہماری جماعت میں بھی کئی لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ کہ چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبّیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ جیسا کہ میں نے کہا
ایمان کو مضبوط کرنے کا بنیادی ذریعہ قرآن کریم کا مطالعہ کرنا ہے۔
اس کے ساتھ اس کے احکامات کو تلاش کر کے ان پر تدبر کرنا ہے۔ قرآن میں سات سو سے زیادہ احکامات ہیں۔ اگر ہم ان پر عمل کریں گے تو ہی انعامات کے وارث ہوں گے۔
حضور انور نے فرمایا کہ نوجوانوں میں یہ بات کہنے کا رواج ہے کہ میں نے کچھ عرصہ دعا کی لیکن کچھ نہیں ہوا۔ حالانکہ وہ اس بات کو نہیں دیکھتے کہ وہ خود خدا تعالیٰ کی باتوں کو نہیں مانتے۔ لیکن جنہیں حقیقی ایمان نصیب ہے وہ جانتے ہیں کہ غلطی ان کی اپنی ہے۔ اِس لیے ہر احمدی کو اپنے ایمان اور دعاؤں کے معیار کو بلند کرنا چاہیے۔ اس کے لیے لجنہ کے عہد پر غور کرتی رہیں۔
اس بات پر پختہ یقین رکھیں کہ اگر آپ خدا کی خاطر اپنا عہد پورا کریں گی اور اپنا ایمان کامل کریں گی تو جنت کے دروازے آپ پر کھلیں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی آپ پر بارش ہوگی۔
میں نے اپنے خطبات اور خطابات میں کئی خواتین کے واقعات بیان کیے ہیں جو ہر مشکل کے باوجود اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے اللہ کے انعامات کا مشاہدہ کرتی ہیں۔
لجنہ کا قیام بھی اسی لیے ہوا تھا تا کہ آپ اپنی روحانی حالت کو بہتر کریں اور اس میں ترقی کریں ۔لجنہ کے پروگرام اخلاقی اور روحانی ترقی پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس لیےجو بھی اس میں اس نیت سے شامل ہو گی تو وہ اس میں لازمی ترقی دیکھے گی مگر اطاعت شرط ہے ۔
آپ میں سے جو مائیں ہیں یا مستقبل میں بننے والی ہیں وہ صرف اپنی نہیں بلکہ اپنی نسل کو بھی مومن بنانے کی ذمہ دار ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ
مومنہ عورت کی ایک صفت سچائی پر قائم رہنا ہے۔
جب ایک احمدی عورت سچائی پر قائم رہتی ہے اور جھوٹ سے بچتی ہے تو وہ ایک روحانی جہاد پر روانہ ہوتی ہے۔ یہ جہاد اسے نہ صرف ہر قسم کے شرک سے بچاتا ہے بلکہ وہ اپنی اولاد اور دیگر معاشرے کے لیے بھی ایک نمونہ قائم کرتی ہے جو انہیں جھوٹ سے پرہیز کرنے اور شرک کو مٹانے کا سبق دیتا ہے۔ جو شخص سچائی کو قائم کرتا ہے اور دوسروں میں بھی یہ وصف پیدا کرتا ہے وہ یقیناً معاشرے کو خوبصورت بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کررہا ہوتا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ جھوٹ فساد پیدا کرنے نیز گھروں اور معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کنجی ہے۔ چونکہ احمدیت کی اگلی نسل آپ کی گود میں پروان چڑھ رہی ہے اس لیے ضروری ہے کہ آپ ہمیشہ سچائی پر قائم رہیں۔
مجھ سے جب بھی مائیں اس غیر اسلامی ماحول میں بچوں کی اچھی تربیت کے لیے راہنمائی لیتی ہیں تو میرا یہی جواب ہوتا ہے کہ اپنا عملی نمونہ اسلامی تعلیمات کے مطابق بنائیں۔ کیونکہ بچہ چھوٹی عمر سے ہی ماں کے پاس زیادہ ہوتا ہے اور اُسے دیکھ کر اس کی نقل کرتا ہے اِس لیے احمدی ماؤں کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے سے شرک کو مٹائیں اور سچائی کو قائم کریں۔اسی طرح لجنہ اماء اللہ کو اجتماعی طور پر معاشرے میں سچائی قائم کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
اللہ نے جھوٹ کو شرک کے برابر گردانا ہے اور ایک احمدی کے لیے یہ بات کافی ہونی چاہیے کہ وہ اس سے بچ کررہے۔
اگرمائیں بچوں کو جھوٹ سے بچا لیں تو وہ ایک ایسی نسل کو پروان چڑھائیں گی جو کہ بہادر اور حق کی بات کرنے والی ہو گی اور پھر اسی جرأت کے نتیجے میں وہ دنیا کو خدا کے دین کی طرف بلانے والی ہو گی۔
ایک مومن عورت کا تیسرا وصف جو بیان ہوا ہے وہ صبر ہے۔ مشکلات میں صبر اختیار کرنا ہی اللہ کے انعامات کا وارث بناتا ہے۔ صبر کی کمی ہی گھروں میں چھوٹی باتوں کو بہت بڑھا کر آخر بربادی کا باعث بنتی ہے۔ صبر اور دعا کے ذریعہ اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں اور اپنے رشتوں کو مضبوط کریں۔ یہی میں اکثر احمدی عورتوں کو نصیحت کرتا ہوں جب وہ میرے سے راہنمائی چاہتی ہیں۔ اگر خدا نخواستہ صورت حال بہت زیادہ بگڑ جائے تو نظام جماعت سے رجوع کیا جا سکتا ہے تا کہ وہ صلح کی کوشش کر سکیں۔ مومن عورتیں خواہ وہ مائیں، بیٹیاں، بہنیں یا سسرالی ہوں وہ اگر صابر اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والی ہوں تو وہ اپنے گھروں کے ماحول کو جنت نظیر بنانے والی ہوں گی۔
یاد رکھیں کہ ایک پُر امن معاشرہ قائم کرنے کے لیے ایک پُر امن گھر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔اس لیے اگر آپ اپنے گھروں میں امن قائم کریں گی تو اس کا اثر سارے معاشرے اور جماعت پر بھی ہو گا۔
آج کل ہر کوئی اپنی بات منوانا یا اپنے حقوق حاصل کرنے پر تُلا ہوا ہے جس سے پھر جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے
اگر ہم اپنے احمدی معاشرے کو نیک بنانا چاہتے ہیں تو مردوں اور عورتوں دونوں کر صبر کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ صبر کمزوری کی علامت نہیں بلکہ ایک اعلیٰ نیکی اور حقیقی طاقت، جرأت اور دانائی ہے۔
آج کل سوشل میڈیا بھی عورتوں کو گمراہ کر رہا ہے کہ آسان حل طلب باتوں میں وکیل کر کے علیحدگی کروا لو حالانکہ اس کا آپ کی اولاد اور نسل پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ کس طرح ٹوٹے ہوئے گھر کے بچےاکثر اوقات اندھیر اور پُر خطر راستوں پر گامزن ہوجاتے ہیں۔اس لیے میں دوبارہ یہ کہتا ہوں کہ
مومن مرد اور عورتوں کو صرفِ نظر اور دعا سے کام لینا چاہیے اور ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان کا گھر جڑا رہے۔
اگر گھر میں معاملات نہیں سدھر رہے تو بہتر ہے کہ نظام جماعت کو بصیغۂ راز اطلاع دی جائے تا کہ متعلقہ شعبے صلح کے حوالے سے مدد کرسکیں ۔
اسی طرح بعض اوقات لوگوں کو اپنے پڑوسیوں یا عہدیداران کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں بھی صبر کا مظاہرہ کرنا ایک اعلیٰ نیکی ہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ اگر کسی عہدیدار نے غلطی کی بھی ہے، عہدیدار غلطی سے پاک نہیں، ان سے بھی غلطی سرزد ہو سکتی ہے۔ لیکن بعض اوقات دوسرے فریق کا رویہ بد تر ہوتا ہے۔ غصہ سے بھرے ہوئے اور صبر کی کمی کی وجہ سے وہ معاملات کو بڑھا چڑھا دیتے ہیں اور غلط الزامات لگاتے ہیں اور خود غلطی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ ایک گناہ دوسرے گناہ میں مبتلا کرتا ہے اور بالآخر پورے معاشرے کے امن کو برباد کر دیتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اگر ہمیں صبر اختیار کرنے کا حکم دیا ہے تو یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ معاشرے کے امن کے لیے یہ ایک بنیادی بات ہے۔
ایک مومن عورت کے لیے ایک اَور اعلیٰ خلق عاجزی اختیار کرنا ہے۔
جو عورتیں خود عاجز ہیں اپنی اولاد میں عاجزی پیدا کرتی ہیں تو وہ ایک ایسی نسل پروان چڑھا رہی ہیں جو دنیا کی امن اور کامیابی کی طرف راہنمائی کرے گی۔ اس طرح آپ دنیا کو تباہی سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہوں گی۔
ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کو مانا جنہیں خدا تعالیٰ نے الہاماً فرمایا کہ تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آئیں۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو حضرت مسیح موعودؑ کے اس مبارک نمونے کی پیروی کرنی ہو گی۔
ایک مومن عورت کا ایک اور وصف یہ ہے کہ
وہ صدقات دیتی ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ مَیں نے بہت مرتبہ احمدی خواتین کی غیر معمولی مالی قربانیوں کے واقعات کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح انہوں نے مساجد کی تعمیر اور دیگر تحریکات میں چندہ دیا۔
ایک اَور اعلیٰ خلق یہ ہے کہ مومن عورتیں
رمضان کے روزے
رکھیں کہ روزہ رکھنا ایک ایسی نیکی ہے جو مزید اور نیکیوں کی طرف لے کر جاتی ہے۔روزہ دار عاجزی اور اطاعت میں بھی بڑھے گا۔
ایک اور بات پاکدامنی ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ پاکدامنی صرف آنکھوں کی حفاظت کرنا نہیں بلکہ ہر لحاظ سے اپنے آپ کو ہربرائی سے بچاکر رکھنا ہے۔ اس میں غلط باتیں اور غلط خیالات ان سب سے بچنا شامل ہے۔
دنیا کے ہر مذہب میں پاکدامنی کی تعلیم ہے مگر آج کی دنیا بےحیائی پر فخر کرتی ہے۔ ایک احمدی عورت کو اس سے بچ کر اسلام میں موجود اعلیٰ حیا کی تعلیم کا عَلَم بلند کرناہو گا۔
اسلام عورت کو گھر کی چار دیواری میں قید نہیں کرتا بلکہ پردہ میں رہ کر تمام ترقیات کے حصول کی تاکید کرتا ہے۔قرآن میں حضرت موسیٰؑ کے واقعہ میں عورتوں کا یہ کہنا کہ مردوں کے چلے جانے کے بعد جانوروں کو پانی پلائیں گی اسی کی طرف راہنمائی کرتا ہے ۔
آج کچھ احمدی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ جماعتی میٹنگز پردہ کی سکرین کے بغیر مکس ہونی چاہئیں۔ اس سلسلہ میں عورتوں کو چاہیے کہ ان مردوں کو یہ باور کروائیں کہ اس سے نہ صرف بے پردگی بڑھے گی بلکہ اخلاقی برائیاں بھی جنم لیں گی۔
پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کو باوقار طور پر حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔
اللہ نے جو یہ باتیں بتائی ہیں ان پر عمل کرنے سے اس دنیا میں بھی ترقی مل سکے گی اور خدا کا قرب بھی ملے گا اس لیے کبھی بھی اس شک میں مبتلا نہ ہوں کہ اسلام ایک پرانا یا پرانی روایات پر مبنی مذہب ہے۔ اسلام کا خدا بہت عطا کرنے والا اور بہت بڑھا کر دینے والا ہے۔ اسلام کسی پر اس کی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا اور جو خدا کی راہ میں کوشش کرے گا خدا اس کو ضرور اجر دے گا۔
انقلاب صرف باتوں سے نہیں آتے بلکہ عمل سے آتے ہیں۔ اس کے لیے سستی اور کاہلی کو ختم کرکے مجاہدہ کا جہاد کرنا پڑتا ہے۔
اس لیے دوسروں کی باتوں کی پروا ہر گز نہ کریں بلکہ ہمیشہ اللہ کی رضا آپ کے مدّ نظر رہے۔ اپنے اس عہد کو ہمیشہ مد نظر ر کھیں کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گی۔
حضور ﷺ کے دَور میں خواتین اتنی پڑھی لکھی نہ تھیں لیکن انہوں نے آپﷺ کی بات نہ صرف سنی بلکہ کامل اطاعت کر کے آسمانِ روحانیت کے ستارے بنیں۔
آج خدا نے ہم میں حضرت مسیح موعودؑ کو بھیجا ہے تا کہ ہم بھی دوبارہ وہ معیار حاصل کر سکیں۔
اللہ آپ کو اس کی توفیق دے۔
نوجوان لڑکیوں کو میں کہوں گا کہ بڑی ہوتے ہوئے اپنے ایمان کی حفاظت کریں، اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اسی طرح سے آپ پہلے دور میں اسلام کی خواتین کی طرح آسمان روحانیت پر چمک سکیں گی۔ یہ واقعات پرانے نہیں بلکہ
ابھی چند سال پہلے برکینا فاسو کے مَردوں اور عورتوں نے حالیہ دَور میں یہ مثال قائم کر دی کہ جان کے جانے کے مشکل مرحلہ پر بھی ان سب نے اپنے ایمان کو اس دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے ایسے بلند معیار قائم کر دیے کہ اُن پر رشک آتا ہے کہ کیسے انہوں نے خدا اور اس کے رسولؐ اور خلافت کی امیدوں پر پورا اتر کر ایک قابل عمل تقلیدی نمونہ پیش کیا ہے۔
آپ کو پہلے خود اپنی اور پھر اپنی اولاوں کی اس طرح تربیت کرنے کی ضرورت ہے تا کہ آپ خدا کی نظر میں مومن بن سکیں اور اس دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی ترقیات بھی حاصل کرنے والی بن سکیں۔ اللہ آپ کو اِس کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
حضور انور ایدہ اللہ کا خطاب پانج بج کر ۲۶؍ منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضور انور نے دعا کروائی۔ دعا کے بعد ناصرات و لجنہ اما ء اللہ کی ممبرات نے گروپس کی صورت میں ترانے پیش کیے۔ پانچ بج کر ۳۲؍ منٹ پر حضور انور اجتماع گاہ سے تشریف لے گئے۔
رپورٹ صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ برطانیہ
جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے حضور انور کے خطاب سے قبل صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ برطانیہ نے اجتماع کی رپورٹ پیش کی جو حسب ذیل ہے:
خاکسار لجنہ اماء اللہ برطانیہ کی طرف سے حضور انور کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہے کہ حضور انور نے ہم پر شفقت فرماتے ہوئے ہمارے اجتماع کو رونق بخشی۔
اللہ کے فضل سے آج ہم اجتماع کے دوسرے روز کے اختتامی اجلاس میں موجود ہیں۔ امسال کے اجتماع کا مرکزی موضوع حضور انور ایدہ اللہ نے قرآن کریم کی آیت وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا (آل عمران: ۱۰۴)یعنی اور اللہ کی رسّی کو سب کے سب مضبوطی سے پکڑ لو، عنایت فرمایا تھا۔ اس موضوع سے متعلق مختلف تقاریر اور پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔
ناصرات کے علمی مقابلہ جات میں مقابلہ تلاوت قرآن کریم، نظم، اردو و انگریزی تقاریر، شامل تھے جو ناصرات کی اجتماع گاہ میں منعقد ہوئے۔ تعلیمی میدان میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والی لجنہ ممبرات ،جن کے نام امسال جلسہ سالانہ پر پڑھے گئے ، میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ باقی انعامات کل تقسیم کیے جائیں گئے۔
اسی طرح اجتماع کے موقع پر احمدیہ مسلم ریسرچ ایسو سی ایشن(AMRA) نے مذہب، سائنس اور صحت سے متعلق بعض پریزنٹیشنز کا اہتمام کیا تھا ۔
امسال ناصرات کے لیے جو نئی چیزیں شامل کی گئی تھیں اُن میں قرآن مجید میں مذکور جانوروں پر گفتگو اور پالتو جانوروں کو پالنے سے متعلق مشق شامل تھی۔ اس کے علاوہ خلفائے احمدیت کے ارشادات پر مبنی ایک نمائش شامل تھی۔
اسی طرح بہترین کارکردگی پیش کرنے والی چھوٹی، درمیانی اور بڑی مجالس کے لحاظ سے انعامات تقسیم کیے گئے جن کے نام درج ذیل ہیں: برمنگھم ساؤتھ، کنگسٹن (Kingston)و مورڈن دونوں اور رچمنڈ پارک۔ ناصرات میں Mosque ایسٹ، کنگسٹن، روہیمپٹن۔
امسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاضری ۷۴۹۶؍رہی جو گذشتہ سال۷۱۳۰؍تھی۔
خاکسار ناظمہ اعلیٰ اجتماع مکرمہ نادیہ سہیل صاحبہ اور تمام ڈیوٹی دینے والی ممبرات کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہے۔ نیز مجلس خدام الاحمدیہ، مجلس انصار اللہ اور جماعت احمدیہ برطانیہ کے بھر پور تعاون اور مدد پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہے۔
ہم حضور انور کی مسلسل راہنمائی پر بے حد ممنون ہیں اور دعا کی درخواست کرتی ہیں کہ لجنہ اماءاللہ حضور انور کی منشا کے مطابق خدمت کرنے کی توفیق پاتی رہے۔ آمین
ادارہ الفضل انٹرنیشنل محترمہ صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ برطانیہ، انتظامیہ اجتماع اور ممبرات لجنہ اماء اللہ و ناصرات الاحمدیہ برطانیہ کو اس کامیاب اجتماع پر مبارک باد پیش کرتا ہے نیزدعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ احباب جماعت کو حضور انور کی زریں نصائح پر کما حقہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12؍ستمبر2025ء




