کلام حضرت مسیح موعود ؑ

ضرورتِ الہام

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)

اے در انکار ماندہ از الہام

کرد عقل تو عقل را بدنام


اے وہ شخص جو الہام کا منکر ہے تیری سمجھ نے تو عقل و دانش کو بھی بدنام کر دیا


از خدا رو بخویش آوردی

ایں چہ آئین و کیش آوردی


خدا کو چھوڑ کر تو نفس پرستی میں مبتلا ہو گیا۔بھلا یہ کونسامذ ہب اور طریقہ ہے


تا نہ کس سر ز خویشتن تابد

راز توحید را چہ سال یابد

جب تک کوئی شخص تکبر کو نہیں چھوڑتا تب تک وہ توحید کا راز کس طرح پاسکتا ہے


تا نہ بر فرق نفس پا بزنی

کے بہ پاک و پلید فرق گنی


جب تک تو اپنے نفس کو کچل نہیں دیتاتب تک پاک اور نا پاک میں کس طرح فرق کر سکتا ہے


ہر کہ شد تابعِ کلامِ خدا

رست از اتباع حرص و ہوا


جو شخص خدا کے کلام کا فرمانبردار ہو گیا وہ حرص و ہوا کی پیروی سے آزاد ہو گیا


از خود و نفس خود خلاص شدہ

مہبطِ فیض نورِ خاص شدہ


اپنے آپ اور اپنے نفس سے اُس نے رہائی پائی اور نور خداوندی کے فیض کا مظہر بن گیا


برتر از رنگ ایں جہاں گشتہ

آنچہ ناید بوہم آں گشتہ

وہ اس دنیا کے رنگ سے اونچا ہو گیا اور ایسا بن گیا کہ اُس کا درجہ خیال میں بھی نہیں آ سکتا


ما اسیرانِ نفسِ امّارہ

بے خدائیم سخت ناکارہ

ہم جو نفس امارہ کے قیدی ہیں خدا کے بغیر ہم بالکل ہی ناکارہ ہیں

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۶۲-۱۶۳ بحوالہ درثمین فارسی جلد اول مترجم ۷۴و۷۵)

مزید پڑھیں: قرآن کریم

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button