خطاب حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزبرموقع سالانہ نیشنل اجتماعات مجلس انصار اللہ برطانیہ، کینیڈا اور برکینا فاسو فرمودہ مورخہ 28؍ستمبر2025ء
نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ کا جو آپ نعرہ لگاتے ہیں وہ حقیقت میں ایسا نعرہ ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے مشن کو پورا کرنے والے لوگوں کا نعرہ ہے
آپ یعنی انصار وہ لوگ ہیں جو اپنی عمر ،سوچوں اور تجربے کے لحاظ سے انتہائی بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ جماعت کے لیے آپ کو ایک رول ماڈل اور نمونہ ہونا چاہیے
آپ کے نمونے دیکھ کر ہی اگلی نسلوں نے اپنی اصلاح کرنی ہے یا اپنی کمزوریوں کو دیکھنا ہے
ہمیشہ غور کریں کہ کیا ہم ہر طرح کے مخفی شرک سے پاک ہیں ؟کیا ہمارا ہر عمل اور فعل خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہے ؟کیا ہر عمل ہمارا تقویٰ پر چلنے والا ہے؟
ایک احمدی کو، ایک مومن کو جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت کی ہے اس طرف خاص توجہ دینی چاہیے کہ ہمیں کس قدر جھوٹ سے نفرت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ہمیں شرک کے قریب لے کر جا رہا ہے
اگرہمارے اندر کوئی برائی ہو گی، انصار کی عمر کو پہنچنے والوں کے اندر کوئی برائی ہو گی تو اگلی نسل میں بھی برائیاں پید اہوتی جائیں گی
ہم احمدی ہوئے ہم نے بیعت بھی کی ،خواہ نئے آنے والے ہوں یا پرانے ،ہم بیعت کرتے ہیں اور شرائط بیعت کے پابند رہنے کا عہد کرتے ہیں۔ ان شرائط میں بہت ساری چیزیں ہیں جن کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے
آپ جو انصار کہلاتے ہیں ان کے لیے تو سب سے اوّل اس بات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ آپ نے اصلاح کرنی ہے آپ نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہم آپؑ کے انصار ہیں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مددگار ہیں اور مددگار تو وہی ہو سکتا ہے جو ان سب باتوں پر عمل کرنے والا ہو جس کا انہوں نے عہد کیا ہے کہ ہم ہمیشہ مددگار رہیں گے یہ بہت ضروری ہے کہ ہر قسم کے بغاوت کے طریقوں سے بچا جائے۔ کسی قسم کی بغاوت ہماری فطرت یا ہمارے کاموں میں نہیں ہونی چاہیے۔ اطاعت کا جذبہ سب سے بڑھ کر ہونا چاہیے خواہ وہ جماعتی نظام کے اندر اطاعت کا جذبہ ہو یا حکومت کے قانون کی اطاعت کا معاملہ ہو ہر صورت میں مکمل اطاعت ہونی چاہیے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو نماز کو چھوڑتا ہے وہ کفر اور شرک کے قریب ہو جاتا ہے۔ ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہم نمازیں چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انذار کی لپیٹ میں تو نہیں آ رہے۔ پس بہت خوف کا مقام ہے
جائزہ لیں کہ آپ انصار اللہ کی عمر کو پہنچے ہوئے کتنے لوگ ہیں جو تہجد کی نماز پڑھتے ہیں؟ چالیس سال سے اوپر کے لوگوں کو تو خدا تعالیٰ کی یاد آنی چاہیے اور انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ تہجد پڑھیں
آجکل کے حالات میں درود کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔ اسی سے ہم ان مشکل حالات سے گزر سکتے ہیں۔ آجکل دنیا جن باتوں میں ڈوبی ہوئی ہے اور تباہی کی طرف جا رہی ہے اس تباہی سے بچنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم درود پڑھیں اور پھر دعائیں کریں تو اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں سنے گا
درود کے ساتھ استغفار بھی پڑھنا چاہیے اور انصار کو اس کے لیے ایک نمونہ بننا چاہیے بلکہ مہم چلانی چاہیے کہ نہ صرف انصار بلکہ گھروں میں بھی درود اور استغفار کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہو
آجکل دنیا کے جو حالات ہیں خاص طور پر مسلمان دنیا کے، یہ بھی اس بات کا تقاضا کرتے ہیں اور ان کی ہمدردی یہ چاہتی ہے اور بیعت کی شرط بھی یہ تقاضا کر رہی ہے کہ ہم ان کے لیے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے اور یہ جو تکلیفوں میں مبتلا ہیں ان کو اللہ تعالیٰ تکلیفوں سے نکالے اور یہ راستی کی طرف چلنے والے ہوں اور زمانے کے امام کو ماننے والے ہوں تا کہ ان کی دنیاوی تکلیفیں بھی ختم ہوں اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہونے والے بن جائیں۔ پس اس طرف خاص توجہ دینی چاہیے اور اس کے لیے دعا کرنی چاہیے
ہمارے بہت سارے احمدی جنہیں تکلیفیں پہنچتی ہیں۔ انہیں آپؑ نے فرمایا کہ ان باتوں سےدلگیر مت ہو۔ اللہ تعالیٰ کا پَلُّو پکڑے رکھو ،دامن پکڑے رکھو تو ان شاء اللہ تعالیٰ کبھی ضائع نہیں ہو گے اور یہ نصیحت پاکستان والوں کے لیے بھی ہے۔یہ نصیحت آپ کے لیے بھی ہے
شرائط بیعت کا وقتاً فوقتاً مطالعہ کرتے رہنا چاہیے۔ خاص طور پر انصار کو جگالی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ان کو اپنی نسلوں کی تربیت کرنے میں آسانی رہے
مجلس انصار اللہ برطانیہ، کینیڈا اور برکینا فاسو کے سالانہ اجتماعات سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا پُر معارف اختتامی خطاب فرمودہ مورخہ 28؍ستمبر2025ء بروز اتوار بمقام اجتماع گاہ، ہُک لین، Puttenham، گلفورڈ، یوکے
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
پہلے تو میں یہ بتا دوں کہ
آج ہمارے ساتھ کینیڈا کی مجلس انصار اللہ اور برکینا فاسو کی مجلس انصار اللہ کا بھی اجتماع ہو رہا ہے اور وہ بھی آج براہ راست یہاں شامل ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی جماعت میں یعنی جماعت احمدیہ میں
آپ یعنی انصار وہ لوگ ہیں جو اپنی عمر ،سوچوں اور تجربے کے لحاظ سے انتہائی بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ جماعت کے لیے آپ کو ایک رول ماڈل اور نمونہ ہونا چاہیے۔
پس غور کریں کہ کیا آپ وہ نمونہ ہیں جنہوں نے بیعت کے حقیقی معیاروں کو حاصل کر لیا ہے یا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر نہیں تو یہ بڑی قابل فکر بات ہے کیونکہ
آپ کے نمونے دیکھ کر ہی اگلی نسلوں نے اپنی اصلاح کرنی ہے یا اپنی کمزوریوں کو دیکھنا ہے۔ پس یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو انصار پر ہے اور اس کی بنیادی شرط تقویٰ ہے۔
اگر ہم میں تقویٰ ہو تو ہم بہت ساری برائیوں سے بچنے والے بھی ہوں گے اور اس بیعت کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں گےجس کا عہد ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے جڑنے کے بعد کیا ہے۔ اپنے عہد کو بھی نبھانے والے تبھی ہم ہوں گے۔ تقویٰ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں :
’’تقویٰ اختیار کرو۔ تقویٰ ہر چیز کی جڑ ہے۔ تقویٰ کے معنے ہیں ہر ایک باریک در باریک … گناہ سے بچنا۔ تقویٰ اس کو کہتے ہیں کہ جس امر میں بدی کا شبہ بھی ہو اس سے بھی کنارہ کرے۔‘‘
فرمایا: ’’دل کی مثال ایک بڑی نہر کی سی ہے جس میں سے اور چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں… دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں مثلاً زبان… ’’ہےیا اسی طرح باقی اعضاء ہیں۔‘‘ اگر چھوٹی نہر… کا پانی خراب اور گندہ اور میلا ہو تو قیاس کیا جا تا ہے کہ بڑی نہر کا پانی بھی خراب ہے۔ پس اگر کسی کو دیکھو کہ اس کی زبان یا دست و پا وغیرہ میں سے کوئی عضو ناپاک ہے تو سمجھو کہ اس کا دل بھی ایسا ہی ہے۔‘‘ یعنی پاک نہیں ہو سکتا۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 215۔ ایڈیشن2022ء)
پس یہ ہے وہ معیار تقویٰ کا جس کو ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور جب ہم یہ معیار اپنے سامنے رکھیں گے تو ہم اپنے عہد بیعت کو بھی نبھانے والے ہوں گے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں گے۔ پس ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کس حد تک ہم اس کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں اور جب ہم یہ کر رہے ہوں گے تو پھر ہم جیسا کہ میں نے کہا دوسروں کے لیے ایک نمونہ یا رول ماڈل بن رہے ہوں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ہم سے جو بیعت لی اس میں بہت ساری شرائط تھیں جن میں سے
پہلی اور سب سے بڑی شرط ایک یہ تھی کہ شرک سے پرہیز کیا جائے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 189۔ ایڈیشن1986ء)
شرک ایک ایسی چیز ہے جو بعض دفعہ شیطان ایسے راستوں سے ہمارے دلوں میں پیدا کرتا ہے جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا۔ پس
باریکی سے یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ہم کسی بھی طرح کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا نہ ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا ہے کہ
’’توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا الہ الا اللّٰہ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر ایسا بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہیے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہیے ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔ بت صرف وہی نہیں ہیں جو سونے یا چاندی یا پیتل یا پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے اور ان پر بھروسہ کیا جاتا ہے بلکہ ہر ایک چیز یا قول یا فعل جس کو وہ عظمت دی جائے جو خدا تعالیٰ کا حق ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگہ میں بت ہے۔‘‘
(سراج الدین عیسائی کےچار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 349)
پس شرک کی یہ وہ باریک تعریف ہے جس کو ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور اس پر غور کرنا چاہیے۔ آجکل کی دنیا میں اس کے ماحول میں ملوث ہو کر اور دنیا کی فکروں میں ڈوب کر ہم بہت ساری ایسی باتیں کرجاتے ہیں جو مخفی شرک کہلاتی ہیں۔ پس ہر ایک احمدی کو عمومی طور پر اور ہر ناصر کو خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی عمر ایسی ہے جہاں وہ اپنی عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی عمر کے آخری حصہ میں شامل ہو رہے ہیں ،داخل ہو رہے ہیں جس کے بعد پھر اگلا جہان ہی ہے۔ اس لیے
ہمیشہ غور کریں کہ کیا ہم ہر طرح کے مخفی شرک سے پاک ہیں ؟کیا ہمارا ہر عمل اور فعل خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہے ؟کیا ہر عمل ہمارا تقویٰ پر چلنے والا ہے؟
پس یہ بنیادی چیز ہے جس کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے۔
پھر آپؑ نے بیعت کرنے والوں کو یہ بھی فرمایا کہ
جھوٹ سے بچنا ہے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159۔ ایڈیشن1986ء)
جھوٹ ایک بہت بڑی برائی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ۔(الحج: 31)یعنی بتوں کی پلیدی سے احترازکرو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔ ایک حدیث میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :چار باتیں ایسی ہیں جس میں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے اور اگراس میں نفاق کی ایک خصلت بھی پائی جائے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے تو پھر ہی وہ نفاق سے پاک ہو گا۔ اور چارباتیں یہ ہیں۔ نمبر ایک کہ جب وہ گفتگو کرتا ہے تو کذب بیانی سے کام لیتا ہے۔ یعنی اپنی باتوں میں جھوٹ ملا رہا ہوتا ہے۔ جب معاہدہ کرتا ہے تو غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ بہت سارے لوگ خود جائزہ لیں کہ ہم کتنے معاہدے کرتے ہیں اور پھر ان پر عمل نہیں کر رہے ہوتے۔ مقدمے چل رہے ہوتے ہیں ۔تیسری بات کہ جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔یہ بھی جھوٹ کی قسم ہے۔ ایک تو پہلے معاہدے ہو گئے جو تحریری معاہدے ہو رہے ہوتے ہیں ،کاروباری معاہدے ہو رہے ہوتے ہیں ،تجارتوں میں ہوتے ہیں یا اور بعض معاملات میں ہوتے ہیں اور بعض وعدے انسان کر رہا ہوتا ہے جو بظاہر معمولی ہوں لیکن بہت اہم ہیں۔ دونوں ہی ایسی چیزیں ہیںجو منافقت کی طرف لے جاتی ہیں۔ پھر فرمایا کہ جب جھگڑتا ہے تو گالی گلوچ سے کام لیتا ہے۔ چوتھی بات یہ ہے۔
(صحیح البخاری کتاب الایمان باب علامۃ المنافق حدیث نمبر 33، 34)
ان ساری باتوں کا تعلق جھوٹ سے ہے۔ جھوٹا انسان ہی ہے جو اس قسم کی حرکتیں کر رہا ہوتا ہے۔ پس ہمیں باریک سے باریک باتوں میں بھی سچائی کی تلاش کرنی چاہیے۔ باریک سے باریک رنگ میں سچائی کی تلاش کرنی چاہیے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سچائی نیکی کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے اور نافرمانی جہنم تک پہنچا دیتی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی فرمایا کہ
’’ قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رجس قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے‘‘جومیں نے ابھی آیت پڑھی بھی تھی کہ ’’فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ (الحج:31) دیکھو یہاں جھوٹ کو بت کے مقابل رکھا ہے اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بت ہی ہے ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔ جیسے بت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بجز ملمع سازی کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہاں تک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔ اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جائے تو جلدی سے دور نہیں ہوتا۔ مدت تک ریاضت کریں تب جا کر سچ بولنے کی عادت ان کو ہو گی۔‘‘
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 350،ایڈیشن 1984ء)
بہت محنت کرنی پڑتی ہے ۔
پس جن کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے ان کے بارے میں آپؑ نے فرمایا کہ اگر وہ کبھی سچی بات بھی کر لیں تو ان کو بھی لوگ جھوٹ سمجھتے ہیں ۔پس
ایک احمدی کو، ایک مومن کو جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت کی ہے اس کو اس طرف خاص توجہ دینی چاہیے کہ ہمیں کس قدر جھوٹ سے نفرت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ہمیں شرک کے قریب لے کر جا رہا ہے۔
پھر برائیوں سے بچنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپؑ نے فرمایا کہ تب ہی تم حقیقی بیعت کرنے والے شمار ہو گے جب برائیوں سے بچو گے اور
برائیوں میں ایک زنا ہے ۔
اس کے بارے میں کہ زنا کی تعریف کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ زنا کی راہ بہت بری ہے یعنی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کیلئے سخت خطرناک ہے۔ ‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 342)
پس یہ ایک معیار ہے جسے انصار کو حاصل کرنا چاہیے کیونکہ
اگرہمارے اندر کوئی برائی ہو گی، انصار کی عمر کو پہنچنے والوں کے اندر کوئی برائی ہو گی تو اگلی نسل میں بھی برائیاں پید اہوتی جائیں گی۔
پس انصار کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ گو ایک عمر کے بعد تو اس طرح خیال نہیں آتے لیکن چالیس سے ساٹھ سال تک کی عمر کے جو انصار ہیں وہ بعض دفعہ بعض برائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں ۔اس لیے انہیں اپنی حالتوں کی طرف نظر رکھنی چاہیے اور فرمایا کہ ان باتوں سے دور رہو جس سے خیال بھی پیدا ہو سکتا ہو۔اور آجکل بہت ساری شکایات آتی ہیں لوگوں کی بیویوں کی طرف سے شکایات آتی ہیں کہ انصار کی عمر کو پہنچ چکے ہیں لیکن ٹی وی پروگراموں میں یا انٹرنیٹ پر ایسے غلط پروگرام دیکھتے ہیں جو برائیوں کی طرف لے جانے والے ہیں جو ایک قسم کا زنا ہی ہے۔ پس اس سے بھی بچنے کی ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے۔ اگر پانچ دس فیصد بھی ہمارے اندر ایسے لوگ ہیں تو وہ بھی ایک بہت خطرناک نسبت ہے جس سے ہمیں بچنا چاہیے۔
اسی طرح بدنظری سے بچنے کے لیے آپؑ نے فرمایا کہ
بدنظری سے بھی بچنا چاہیے یہ بھی تمہارے احمدی ہونے کے لیے ایک شرط ہے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 189۔ ایڈیشن1986ء)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ
’’قرآن شریف نے (جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر حسب ِحال تعلیم دیتا ہے ) کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔‘‘ فرمایا’’ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ وَیَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ ؕ(النور:31) کہ تو ایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہو گا۔ فروج سے مراد شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک سوراخ جس میں کان وغیرہ بھی شامل ہیں اور اس میں اس امر کی مخالفت کی گئی ہے کہ غیر محرم عورت کا راگ وغیرہ سنا جاوے۔ ‘‘جو غلط قسم کے گانے سنتے ہیں ’’پھر یاد رکھو کہ ہزار در ہزار تجارب سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے آخر کار انسان کو ان سے رکنا ہی پڑتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 135،ایڈیشن1984ء)
اگر نہیں رکے گا تو پھر برائیوں میں مبتلا ہو گا۔ پس
اس بات کو بہت غور کرنے اور سمجھنے کی ضرور ت ہے کیونکہ ہمارے نمونے ہی پھر اگلی نسلوں میں قائم ہونے ہیں۔
پھر
آپؑ نے ایک احمدی کے لیے یہ شرط بھی قرار دی کہ وہ فسق و فجور سے بچے گا ۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 189۔ ایڈیشن1986ء)
اور فسق ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فسق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ فاسق دوزخی ہے۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فساق کون لوگ ہیں اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ شکرگزاری نہیں کرتے اور جب ان پر آزمائش آتی ہے صبر نہیں کرتے وہ فاسق ہوتے ہیں۔ اس میں آپؐ نے عورتوں کی بھی مثالیں دی ہیں ۔اب صرف یہ بات عورتوں میں ہی نہیں بلکہ مرد بھی ایسے ہیں جو باتیں کرتے ہیں اور فاسق ہیں۔
(المستدرک علی الصحیحین جزء 3 صفحہ 1048، کتاب النکاح حدیث 2773۔ مکتبہ نزار المصطفیٰ الباز ، ریاض 2000ء)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے یہ تنبیہ فرمائی کہ
’’ظالم فاسق کی دعا قبول نہیں ہوا کرتی‘‘ کیوں ؟ ’’کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے لاپروا ہے ۔‘‘اور خدا تعالیٰ بھی اس سے لاپروا ہے۔’’ایک بیٹا اگر باپ کی پروا نہ کرے اور ناخلف ہو تو باپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تو خداکو کیوں ہو ۔‘‘
(ملفوظات جلد4 صفحہ402،ایڈیشن1984ء)
پھر
ظلم سے بچنے کی طرف بھی آپؑ نے توجہ دلائی کہ اگر میری بیعت میں شامل ہو رہے ہو تو ہر قسم کے ظلم سے بچو ۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 189۔ ایڈیشن1986ء)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نےجماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ’’میری تمام جماعت… اس وصیت کو توجہ سے سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بدچلنی ان کے نزدیک نہ آ سکے۔ وہ پنج وقت نماز جماعت کے پابند ہوں۔ وہ جھوٹ نہ بولیں ۔وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں۔وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔‘‘ اب یہ بہت بڑی بات ہے کہ خیال بھی دل میں نہ لائیں۔’’غرض ہر ایک قسم کے معاصی اور جرائم‘‘ ایسے جرائم جو’’اور ناکردنی اور ناگفتنی ‘‘ہیں جو کرنے اور کہنے کے بھی لائق نہیں ’’اور تمام نفسانی جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں اور کوئی زہریلا خمیر اُن کے وجود میں نہ رہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 433۔ ایڈیشن 2018ء یوکے)
پس یہ ہر ایک کے لیے بہت سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہم اس زاویے سے اور اس گہرائی سے اپنی حالت کو درست کرنے کے لیے سوچتے ہیں۔
احمدی ہونے کے لیے خیانت سے بچنا بھی ایک شرط ہے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 189۔ ایڈیشن1986ء)
ہم احمدی ہوئے ہم نے بیعت بھی کی ،خواہ نئے آنے والے ہوں یا پرانے ،ہم بیعت کرتے ہیں اور شرائط بیعت کے پابند رہنے کا عہد کرتے ہیں۔ ان شرائط میں بہت ساری چیزیں ہیں جن کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔
اس میں ایک چیز یہ بھی ہے کہ خیانت نہیں کرنی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام خیانت کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ
’’ترک شر کے اقسام میں سے وہ خلق ہے جس کو امانت و دیانت کہتے ہیں۔یعنی دوسرے کے مال پر شرارت اور بدنیتی سے قبضہ کر کے اس کو ایذا پہنچانے پر راضی نہ ہونا۔‘‘ یعنی امانت و دیانت یہ ہے کہ کسی کی چیز پر قبضہ نہیں کرنا ناجائز۔ ’’سو واضح ہو کہ دیانت اور امانت انسان کی طبعی حالتوں میں سے ایک حالت ہے۔ اسی واسطے ایک بچہ شیر خوار بھی جو بوجہ اپنی کم سنی اپنی طبعی سادگی پر ہوتا ہے اور نیز بباعث صغرسنی ابھی بری عادتوں کا عادی نہیں ہوتا اس قدر غیر کی چیز سے نفرت رکھتا ہے کہ غیر عورت کا دودھ بھی مشکل سے پیتا ہے۔‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 344)
تو بچوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی نیچر میں یہ بات رکھی ہے کہ خیانت نہیں کرنی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے ایک حکم ہے اور اگر تم میری بیعت میں آئے ہو تو پھر اس بات کا بھی خیال رکھو کہ کبھی ہلکی سی بھی خیانت نہیں کرنی۔
فساد سے بچنا بھی ایک احمدی کے لیے ضروری ہے
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 189۔ ایڈیشن1986ء)
اور
آپ جو انصار کہلاتے ہیں ان کے لیے سب سے اوّل اس بات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ آپ نے اصلاح کرنی ہے آپ نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہم انصار ہیں آپؑ کے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مددگار ہیں اور مددگار تو وہی ہوسکتا ہے جو ان سب باتوں پر عمل کرنے والا ہو جس کا انہوں نے عہد کیا ہے کہ ہم ہمیشہ مددگار رہیں گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فساد سے بچنے کے بارے میں ایک جگہ فرمایا کہ
’’تمہیں چاہیے کہ وہ لوگ جو محض اس وجہ سے تمہیں چھوڑتے اور تم سے الگ ہوتے ہیں کہ تم نے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے ان سے دنگہ یا فساد مت کرو بلکہ ان کے لیے غائبانہ دعا کروکہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی وہ بصیرت اور معرفت عطا کرے جو اس نے اپنے فضل سے تمہیں دی ہے۔ تم اپنے پاک نمونہ اور عمدہ چال چلن سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ تم نے اچھی راہ اختیار کی ہے۔ دیکھو میں اس امر کے لیے مامور ہوں کہ تمہیں بار بار ہدایت کروں کہ ہر قسم کے فساد اور ہنگامہ کی جگہوں سے بچتے رہو اور گالیاں سن کر بھی صبر کرو۔ بدی کا جواب نیکی سے دو اور کوئی فساد کرنے پر آمادہ ہو تو بہتر ہے کہ تم ایسی جگہ سے کھسک جاؤ اور نرمی سے جواب دو۔ ‘‘
(ملفوظات جلد7 صفحہ 203،ایڈیشن1984ء)
پس یہ نمونہ دکھانے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے سختی سے بچا جائے اور اس کے لیے ہمیں اپنے مخالفین کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔ صرف بچنا نہیں بلکہ دعا بھی ضروری ہے۔
پھر ایک احمدی ہونے کے لیے اور خاص طور پر آپ انصار اللہ یا ان احمدیوں کے لیے جنہوں نے دنیا کی تربیت کرنی ہے اور اپنی نسلوں کی تربیت کرنی ہے
یہ بہت ضروری ہے کہ ہر قسم کے بغاوت کے طریقوں سے بچا جائے۔ کسی قسم کی بغاوت ہماری فطرت یا ہمارے کاموں میں نہیں ہونی چاہیے۔ اطاعت کا جذبہ سب سے بڑھ کر ہونا چاہیے خواہ وہ جماعتی نظام کے اندر اطاعت کا جذبہ ہو یا حکومت کے قانون کی اطاعت کا معاملہ ہو ہر صورت میں مکمل اطاعت ہونی چاہیے۔
ان سب حکموں پر عمل کرنا جو شریعت سے ٹکراتے نہیں ہیں حکومت کے قانون ہیں۔ نفسانی جوشوں سے مغلوب نہ ہونا بھی ایک بنیادی بات ہے جس کو ایک احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور خاص طور پر آپ جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم مسیح موعود علیہ السلام کے مددگار ہیں ہم انصار اللہ ہیں آپ کو تو خاص طور پر ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے کہ
کبھی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے جن سے نفسانی جوشوں کا اظہار ہو۔
دیکھیں جائزہ لیں کیا یہ معیار آپ کے اندر قائم ہیں؟ اگر نہیں تو پھرہمیں اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔
پھر بہت بڑی اور بنیادی چیز ایک احمدی کے لیے خاص طور پر یہ ہے کہ
پانچ وقت کی نمازیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق ادا کرنی ہیں۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 189۔ ایڈیشن1986ء)
اس کا ہم نے وعدہ کیا ہے کہ ہم بیعت میں آئے ہیں تو ہم یہ کریں گے اور ہم جو انصار ہیں ہم تو خاص طور پر یہ کریں گے کیونکہ ہم نے مددگار بننے کا اعلان کیا ہے تا کہ یہ پیغام دنیا کو پہنچا سکیں اور پھیلائیں اور اپنی اور اپنی نسلوں کی تربیت بھی کر سکیں۔ اسی طرح
صرف پانچ نمازیں نہیں بلکہ آپؑ نے فرمایا کہ تہجد کی طرف بھی توجہ دو۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کو چھوڑنا انسان کو شرک اور کفر کے قریب کر دیتا ہے۔
(صحیح مسلم جلد اول صفحہ 76کتاب الایمان باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ۔ حدیث 108۔ شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)
پس دیکھ لیں جائزہ لے لیں۔
بعضوں سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں جی چار نمازیں پڑھتے ہیں پانچویں نماز نہیں پڑھی جاتی۔ میرے سامنے بھی آ کے اعتراف کرتے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو نماز کو چھوڑتا ہے وہ کفر اور شرک کے قریب ہو جاتا ہے۔ ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہم نمازیں چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انذار کی لپیٹ میں تو نہیں آ رہے۔ پس بہت خوف کا مقام ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہو گیا اور نجات پا لی اور اگر یہ حساب خراب ہوا تو وہ ناکام ہو گیا اور گھاٹے میں رہا۔
(سنن الترمذی کتاب الصلاۃ باب ما جاء ان اول ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ الصلاۃ ، حدیث نمبر 413)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ہم سے کیا امیدیں رکھی ہیں اور آپؑ ہم سے کیا چاہتے ہیں اس حوالے سے آپؑ فرماتے ہیں :
’’اے وے تمام لوگو !جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔ سو اپنی پنج وقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰة کے لائق ہے وہ زکوٰة دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقیناً یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقویٰ سے خالی ہے۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔ ‘‘
(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15)
پس اس طرف ہمیں خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔
نماز کے بارے میں تلقین کرتے ہوئے آپ نے ہمیں خاص طور پر فرمایا کہ
’’نماز کیا چیز ہے وہ دعا ہے جو تسبیح تحمید تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔ سو جب تم نماز پڑھو تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو کیونکہ ان کی نماز اور ان کا استغفار سب رسمیں ہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں لیکن تم جب نماز پڑھو تو بجز قرآن کے جو خدا کا کلام ہے۔‘‘ اور یہ پڑھنا چاہیے ضرور۔ دعائیں پڑھو۔ ’’اور بجز بعض ادعیہ ماثورہ کے کہ وہ رسول کا کلام ہے۔‘‘آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں سکھائی ہیں وہ بھی پڑھو ’’باقی اپنی تمام عام دعاؤں میں اپنی زبان میں ہی الفاظ متضرعانہ ادا کر لیا کرو …کہ تمہارے دلوں پر اس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو۔ ‘‘
(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 68-69)
یہ عاجزی پیدا ہو گی ،رقت پیدا ہو گی تبھی دعاؤں کا مزہ بھی آئےگا اور تبھی دعا بھی قبول ہو سکتی ہے۔ آپؑ نے نمازوں کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا اور انصار اللہ کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ ’’نماز ایسی شئے ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جھک پڑتا ہے۔ نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ میں مر گیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گر پڑی ہے… جس گھر میں اس قسم کی نماز ہو گی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہو گا…‘‘ پس خاص طور پر اس طرف توجہ کی ضرور ت ہے۔ بعض انصار بھی نمازوں کی طرف اس طرح توجہ نہیں دیتے جس طرح دینی چاہیے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا ایک حدیث میں آتا ہے کہ’’اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 6صفحہ 421،ایڈیشن1984ء)
اسی طرح جیسا کہ میں نے کہا پانچ نمازوں کے ساتھ
آپؑ نے نماز تہجد کی طرف بھی توجہ دلائی ہے
کہ میری بیعت میں آئے ہو تو تہجد کی نماز کی طرف بھی توجہ کرو۔
اب جائزہ لیں کہ انصار اللہ کی عمر کو پہنچے ہوئے کتنے لوگ ہیں جو تہجد کی نماز پڑھتے ہیں؟ چالیس سال سے اوپر کے لوگوں کو تو خدا تعالیٰ کی یاد آنی چاہیے اور انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ تہجد پڑھیں۔
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ تمہیں نماز تہجد کا اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ یہ گذشتہ صالحین کا طریق رہا ہے اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہے۔ یہ عادت گناہوں سے روکتی ہے۔ برائیوں کو ختم کرتی ہے اور جسمانی بیماریوں سے بچاتی ہے۔
(سنن الترمذی، کتاب الدعوات باب……حدیث نمبر 3549)
روحانی بیماریاں بھی ہیں، جسمانی بیماریوں سے بھی بچاتی ہے۔ تو اس کے کتنے فائدے ہیں۔
تہجد پڑھنے والا انسان گناہوں سے بھی رک جاتا ہے۔ یہ عادت نہ صرف برائیوں کوروکتی ہے بلکہ انہیں ختم بھی کر دیتی ہے اور پھر انسان کو جسمانی بیماریوں سے بھی بچاتی ہے۔
ڈاکٹر بھی آجکل اس بات کو ثابت کرتے ہیں مانتے ہیں کہ جو صبح جلدی اٹھتے ہیں تہجد کے لیے اٹھتے ہیں ان میں دل کے حملے کا خطرہ کم ہوتا ہے اور صبح کے وقت وہ نماز پڑھ کر پھر فجر کی نماز پڑھ کر جب ایکسرسائز وغیرہ کرتے ہیں تو ان کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ عمر تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو جتنی دینی ہے اس کو دینی ہی ہے لیکن کم از کم جو زندگی ہے وہ صحت مند زندگی ہوتی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں آپؑ نے فرمایا کہ ’’ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں۔ جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لیں کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہرحال مل جائے گا۔ اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے کیونکہ وہ سچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں۔ جب تک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو اس وقت تک ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے؟‘‘ آرام سے سویا ہوا شخص کس طرح اٹھ سکتا ہے۔ درد ہو گا تبھی اٹھے گا اور جب درد ہوگا، اللہ تعالیٰ سے مانگے گا تو پھر اللہ تعالیٰ قبول بھی کرتا ہے۔ ’’پس اس وقت کا اٹھنا ہی ایک درد دل پیدا کر دیتا ہے جس سے دعا میں رقت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 245،ایڈیشن1984ء)
نیکی کے راستوں پر چلنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے۔ اس بارے میں فرمایا کہ راتوں کو اٹھو اور دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی راہ دکھلائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کی مثال آپؑ نے دی کہ وہ پہلے کیا تھے لیکن جب انہوں نے عبادتیں شروع کر دیں اور راتوں کو اٹھنا شروع کر دیا تو وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 45۔ ایڈیشن 1984ء)
پس انصاراللہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ یہ طریقہ بھی اختیار کیا جائے۔ اسی طرح
درود بھیجنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔
اس طرف میں نے خاص طور پر توجہ بھی دلائی ہوئی ہے۔
آجکل کے جو حالات دنیا کے ہیں اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور درود بھیجنے کی طرف خاص توجہ کریں۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بھی فرماتا ہے کہ
یعنی یقینا ًاللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت اور درود بھیجتے ہیں اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی اس پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو تم بھی وہی الفاظ دہراؤ جو وہ کہتا ہے پھر مجھ پر درود بھیجو جس شخص نے مجھ پر درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس گنا رحمتیں نازل فرمائے گا۔
(صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 135 کتاب الصلاۃ باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ ثم یصلی علی النبی ﷺ… حدیث 569۔ نور فاؤنڈیشن)
پس درود کی طرف خاص طور پر توجہ دیں اور جیسا کہ میں نے کہا
آجکل کے حالات میں درود کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔ اسی سے ہم ان مشکل حالات سے گزر سکتے ہیں۔ آجکل دنیا جن باتوں میں ڈوبی ہوئی ہے اور تباہی کی طرف جا رہی ہے اس تباہی سے بچنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم درود پڑھیں اور پھر دعائیں کریں تو اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں سنے گا
کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بات کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہر جاتی ہے۔ جب تک اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجا جائے اس میں سے کوئی حصہ بھی خدا تعالیٰ کے حضور پیش نہیں کیا جاتا۔ اوپر نہیں جاتا ۔
(سنن الترمذی ،کتاب الوتر، باب ما جاء فی فصل الصلاۃ علی النبی ﷺ حدیث 486)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ
’’انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔ غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اسے قبول کرے۔ اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہو جاؤ۔ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ(الزمر:54)‘‘ یعنی تو کہہ دے اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔’’ اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔ رسول کریم ﷺکے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو۔‘‘
(ملفوظات جلد5 صفحہ 321-322،ایڈیشن1984ء)
درود بھی پڑھو اور نافرمانی بھی نہ کرو۔ یہ نہیں کہ درود پڑھ لیا تو باقی حکموں پر عمل نہ کرو۔ نہیں۔ بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے حکموں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ پھر یہ درود جو پڑھا جائے گا یہ ان برکات کا حامل ہو گا جس سے انسان جو بھی دعائیں کرے گا وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچیں گی۔
پھر
ایک احمدی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ باقاعدگی سے استغفار کرے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 189۔ ایڈیشن1986ء)
میں نے اس طرف بھی کئی مہینے پہلے توجہ دلائی تھی کہ ہمیں خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہیے۔
درود کے ساتھ استغفار بھی پڑھنا چاہیے اور انصار کو اس کے لیے ایک نمونہ بننا چاہیے بلکہ مہم چلانی چاہیے کہ نہ صرف انصار بلکہ گھروں میں بھی درود اور استغفار کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہو۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص استغفار کو چمٹا رہتا ہے یعنی استغفار مستقل کرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے اور اس کی ہر مشکل سے اس کو کشائش کی راہ پیدا کر دیتا ہے اور اسے ان راہوں سے رزق عطا کرتا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔
(سنن ابی داؤد کتاب الوتر باب فی الاستغفار حدیث 1518)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ’’جب خدا سے طاقت طلب کریں یعنی استغفار کریں تو روح القدس کی تائید سے ان کی کمزوری دور ہو سکتی ہے۔ ‘‘یعنی جولوگ خدا تعالیٰ سے طاقت طلب کرتے ہیں استغفار کرتے ہیں ان کی کمزوری دور ہو سکتی ہے ’’اور وہ گناہ کے ارتکاب سے بچ سکتے ہیں۔ جیسا کہ خدا کے نبی اور رسول بچتے ہیں۔ اور اگر ایسے لوگ ہیں کہ گناہگار ہو چکے ہیں تو استغفار ان کو یہ فائدہ پہنچاتا ہے کہ گناہ کے نتائج سے یعنی عذاب سے بچائے جاتے ہیں کیونکہ نور کے آنے سے ظلمت باقی نہیں رہ سکتی۔ اور جرائم پیشہ جو استغفار نہیں کرتے یعنی خدا سے طاقت نہیں مانگتے وہ اپنے جرائم کی سزا پاتے رہتے ہیں۔‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 34)
پس اگر گناہ ہو بھی گئے ہوں اور انسان استغفار کر رہا ہو اور آئندہ عہد کرتا ہو کہ میں گناہ نہیں کروں گا تو اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے اور گناہوں سے پاک کر دیتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبرہوتی ہے اور بعض ایسے کہ گناہ کی خبر بھی نہیں ہوتی۔ انہیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ گناہ کیا بھی ہے کہ نہیں۔ایسی عادت پڑ جاتی ہے کہ احساس ہی نہیں رہتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیےاستغفار کا التزام کر ایا ہے۔ ایسے لوگوں کو جب بھی احساس پیدا ہوتو پھر استغفار کریں اور باقاعدگی سے کریں تو وہ گناہوں سے پاک ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے فرمایا کہ استغفار کا التزام اس لیے کرایا کہ انسان ہر ایک گناہ کے لیے خواہ وہ ظاہر کا ہو یا باطن کا ہو۔ اسے علم ہو یا نہ ہو اور ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا ہے۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد4 صفحہ 275۔ ایڈیشن1984ء)
یعنی ہر ایک برائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ صرف استغفار منہ سے نہیں کہتا بلکہ برائیوں سے رکنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ بعضوں کو علم نہیں ہوتا جیسا کہ میں نے کہاجب حسّ مر گئی ہو، بعضوں کی تو حسّ ہی مر جاتی ہے لیکن جب احساس پیدا ہو تو فوراً اس طرف توجہ کرے، استغفار کرے اور دل سے استغفار کرے تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے استغفارکو سنتا بھی ہے اور گناہوں سے پاک بھی کرتا ہے۔
پھر
اللہ تعالیٰ کی حمد بھی ایک احمدی کے لیے بہت ضروری ہے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 189۔ ایڈیشن1986ء)
جس نے بیعت کا عہد کیا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ یاد رکھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر اس کی تاکید فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ
ہر اہم کام اگر خدا تعالیٰ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ ناقص رہتا ہے۔
(سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب خطبۃ النکاح حدیث 1894)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھاؤ اور خوش رہو اور گالیاں سنو اور شکر کرو اور ناکامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑو۔‘‘یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق نہ توڑو۔
’’ تم خدا کی آخری جماعت ہو سو وہ عمل نیک دکھلاؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔
ہر ایک جو تم میں سست ہوجائے گا وہ ایک گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا اور حسرت سے مرے گا اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ دیکھو مَیں بہت خوشی سے خبر دیتا ہوں کہ تمہارا خدا درحقیقت موجود ہے اگرچہ سب اسی کی مخلوق ہے لیکن وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جو اس کو چنتا ہے وہ اس کے پاس آجاتا ہے جو اس کے پاس جاتا ہے جو اس کو عزت دیتا ہے وہ اس کو بھی عزت دیتا ہے۔تم اپنے دلوں کو سیدھے کر کے اور زبانوں اور آنکھوں اور کانوں کو پاک کر کے اس کی طرف آ جاؤ کہ وہ تمہیں قبول کرے گا۔‘‘
(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15)
آپؑ نے فرمایا کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری بھی کرنی چاہیے اور اپنے ایمانوں کو قائم رکھنے کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف اور حمد بھی کرنی چاہیے۔
پھر
ایک احمدی کے لیے، بیعت کرنے والے کے لیے، بیعت کا حق ادا کرنے والے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مخلوق کی خدمت کرے اور ان کو تکلیفوں سے بچائے۔
صرف یہ نہیں کہ تکلیف دی نہ جائے بلکہ تکلیفوں سے بچانا ضروری ہے اور مسلمانوں کو خاص طور پر تکلیفوں سے بچانا چاہیے۔
(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 189۔ ایڈیشن1986ء)
آجکل دنیا کے جو حالات ہیں خاص طور پر مسلمان دنیا کے یہ بھی اس بات کا تقاضا کرتے ہیں اور ان کی ہمدردی یہ چاہتی ہے اور بیعت کی شرط بھی یہ تقاضا کر رہی ہے کہ ہم ان کے لیے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے اور یہ جو تکلیفوں میں مبتلا ہیں ان کو اللہ تعالیٰ تکلیفوں سے نکالے اور یہ راستی کی طرف چلنے والے ہوں اور زمانے کے امام کو ماننے والے ہوں تا کہ ان کی دنیاوی تکلیفیں بھی ختم ہوں اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہونے والے بن جائیں۔ پس اس طرف خاص توجہ دینی چاہیے اور اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
پھر
یہ بھی ایک بہت بڑا وصف ہے اور اس کا ہم عہد بھی کرتے ہیں کہ ہم عاجزی اور انکساری اپنائیں گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں :’’اے دوستو اس اصول کو محکم پکڑو۔ ہر ایک قوم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔ نرمی سے عقل بڑھتی ہے اور بردباری سے گہرے خیال پیدا ہوتے ہیں۔ اور جو شخص یہ طریق اختیار نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اگر کوئی ہماری جماعت میں سے مخالفوں کی گالیوں اور سخت گوئی پر صبر نہ کرسکے تو اس کا اختیار ہے کہ عدالت کی رو سے چارہ جوئی کرے مگر یہ مناسب نہیں ہے کہ سختی کے مقابل پر سختی کر کے کسی مفسدہ کو پیدا کریں۔ یہ تو وہ وصیت ہے جو ہم نے اپنی جماعت کو کردی اور ہم ایسے شخص سے بیزار ہیں اور اس کو اپنی جماعت سے خارج کرتے ہیں جو اس پر عمل نہ کرے۔‘‘
(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 17)
پس یہ بہت اہم چیز ہے اور
بعض لوگ تبلیغ کے بہانے مخالفین کے اعتراضوں پر جو غلط زبان استعمال کرتے ہیں، اسی طرح کی زبان استعمال کر لیتے ہیں جس طرح کی مخالفین کر رہے ہوتے ہیں اس سے بھی بچنا چاہیے
آپؑ نے اس کی سختی سے مناہی فرمائی ہے۔ بعض لوگ جوش میں آ کر مجھے بھی لکھ دیتے ہیں کہ کیوں نہیں ہم سختی کا جواب سختی سے دیتے۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے۔
ہمارا تو کام ہے حکمت سے، دانائی سے، اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوئے اس کا جواب دیں اور اس طریق پر چلتے ہوئے جواب دیں اور اس ہدایت پر چلتے ہوئے جواب دیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ہمیں فرمائی ہے ۔نہیں تو یہ کوئی تبلیغ نہیں ہے کہ گالیوں کا جواب گالیوں سے دیا جائے۔ ہماری طرف سے نرمی بھی ہونی چاہیے۔ عاجزی اور انکساری بھی ہونی چاہیے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اس طرف بہت توجہ دلائی ہے کہ عاجزی کس طرح پیدا کرو۔ آپؑ نے فرمایا:
’’اس سے پیشتر کہ عذاب الٰہی آ کر توبہ کا دروازہ بند کر دے توبہ کرو جبکہ دنیا کے قانون سے اس قدر ڈر پیدا ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قانون سے نہ ڈریں۔‘‘ آپؑ نے فرمایا کہ’’چاہیئےکہ ہر ایک شخص تہجد میں اٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملا دیں۔ ہر ایک خدا کو ناراض کرنے والی باتوں سے توبہ کریں۔ توبہ سے یہ مراد ہے کہ ان تمام بدکاریوں اور خدا کی نارضامندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی کریں اور آگے قدم رکھیں اور تقویٰ اختیار کریں۔ اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے۔ عادات انسانی کو شائستہ کریں۔ غضب نہ ہو تواضع اور انکسار اس کی جگہ لے لے۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 208،ایڈیشن1984ء)
پھر
اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنااور کامل وفا دار ہونے کی طرف بھی آپؑ نے توجہ دلائی ہے۔ یہ بھی احمدی ہونے کے لیے ایک شرط ہے
اور وفا داری کے ساتھ جب قائم رہیں گے اور ایمان مضبوط کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے بھی وارث بنیں گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ ’’ضرور ہے کہ انواع رنج و مصیبت سے تمہارا امتحان بھی ہو جیسا کہ پہلے مومنوں کے امتحان ہوئے۔ سو خبردار رہو ایسا نہ ہو کہ ٹھوکر کھاؤ۔ زمین تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلق ہے۔ جب کبھی تم اپنا نقصان کرو گے تو اپنے ہاتھوں سے نہ دشمن کے ہاتھوں سے۔ اگر تمہاری زمینی عزت ساری جاتی رہے تو خدا تمہیں ایک لازوال عزت آسمان پر دے گا۔ سو تم اس کو مت چھوڑو اور ضرور ہے کہ تم دکھ دئے جاؤ اور اپنی کئی امیدوں سے بے نصیب کیے جاؤ۔ سو اِن صورتوں سے تم دلگیر مت ہو کیونکہ تمہارا خدا تمہیں آزماتا ہے۔‘‘ یعنی جو سختی کے حالات ہیں ان سے دلگیر مت ہو۔ یہ دیکھو’’کہ تم اس کی راہ میں ثابت قدم ہو یا نہیں۔‘‘
(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15)
بعض لوگ جو یہاں ہیں ان کے رشتہ داروں کو، عزیزوں کو جو پاکستان میں ہیں یا دوسری جگہوں پر ہیں
ہمارے بہت سارے احمدی جنہیں تکلیفیں پہنچتی ہیں انہیں آپؑ نے فرمایا کہ ان باتوں سے دلگیر مت ہو۔ اللہ تعالیٰ کا پَلُّو پکڑے رکھو ،دامن پکڑے رکھو تو ان شاء اللہ تعالیٰ کبھی ضائع نہیں ہو گے اور یہ نصیحت پاکستان والوں کے لیے بھی ہے۔یہ نصیحت آپ کے لیے بھی ہے۔
پس انصار اللہ بننے کا حق ادا کرنے کے لیے اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ آپؑ نے فرمایا کہ میرے قدموں پر چلنے کے لیے پھر ان تکلیفوں میں سے گزرنا ہی پڑتا ہے لیکن کامل وفا اور استقامت دکھاؤ گے تو پھر کوئی تمہیں کچھ نہیں کہہ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا اجر دے گا۔ آپؑ نے فرمایا کہ ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں اور اس کے لیے ضرور ت ہےاخلاص کی، صدق و وفا کی نہ یہ کہ قیل و قال تک ہی ہماری ہمت و کوشش محدود ہو۔ صرف ہماری باتیں نہ رہ جائیں ہمیں وفا دکھانی پڑے گی۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ بھی برکت دیتا ہے اور اپنے فیوض و برکات کے دروازے کھول دیتا ہے۔
پھر
ہوا و ہوس سے باز رہنے کی طرف بھی آپ نے توجہ دلائی کہ یہ بھی ایک احمدی کے لیے بنیادی شرط ہے۔
اگر تم نے بیعت کی ہے تو اس بات کو بھی اپنانا ہو گا کہ تم ہمیشہ اپنے آپ کو رسموں اور ہوا و ہوس سے باز رکھو گے
اور قرآن کریم کی حکومت کُلِّی طور پر اپنے اوپرقبول کرو گے ۔
پس ہوا و ہوس سے رکنا ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ ’’ہوائے نفس کو روکنا یہی فنا فی اللہ ہونا ہے اور اس سے انسان خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے اسی جہان میں مقام جنت کو پہنچ سکتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 414،ایڈیشن1984ء)
پس یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی حالتوں کو بہتر بنائیں۔ ہواو ہوس سے اپنے آپ کو روکیں آجکل کی دنیا کی جو خواہشات ہیں، ہواو ہوس ہے، ماحول ہے اس نے تو بڑوں اور چھوٹوں ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اس سے بچنا انتہائی ضروری ہے اور انصار اللہ کو اس کے لیے بنیادی کردار ادا کرنا ہو گا۔
دنیاوی خواہشات کی طرف نہ جائیں بلکہ دین کو ہمیشہ مقدم رکھیں اور تقویٰ کے راستوں پر چلنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم یہ کریں گے تو ا ن شاء اللہ تعالیٰ ہم وہ لوگ ہوسکیں گے جو نہ صرف اپنی اصلاح کرنے والے ہوں گے بلکہ اپنی نسلوں کی بھی اصلاح کرنے والے ہوں گے بلکہ اس سے بڑھ کر معاشرے اور دنیا کی بھی اصلاح کرنے والے ہوں گے۔
یہ چند باتیں میں نے اختصار کے ساتھ بیان کی ہیں بیعت کی شرائط میں اور بھی بہت ساری باتیں ہیں جن کو سمجھنا اور عمل کرنا ضروری ہے
اس کا وقتاً فوقتاً مطالعہ کرتے رہنا چاہیے۔ انصار کو خاص طور پر جگالی کرتے رہنا چاہیے تا کہ ان کو اپنی نسلوں کی تربیت کرنے میں آسانی رہے۔
اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے اور ہر ناصر کو صحیح ناصر بننے کی توفیق دے اور
نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ کا جو آپ نعرہ لگاتے ہیں وہ حقیقت میں ایسا نعرہ ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے مشن کو پورا کرنے والے لوگوں کا نعرہ ہے
اور اس کے لیے ہر ناصر، مجلس انصار اللہ کا ہر ممبر جماعت کے لیے ایک مفید وجود بن جائے اور اپنی نسلوں کوسنبھالنے والا بھی ہو جائے تا کہ جماعت ترقی کی راہوں پر گامزن رہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ دعا کر لیں۔آمین
٭…٭…٭
دعا کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
حاضری تو صدر صاحب نے بتا دی تھی۔ کینیڈا کے انصار کی حاضری تین ہزار آٹھ سو انتالیس ہے اور پچھلے سال کی نسبت سات سو سے زیادہ لوگ شامل ہوئے ہیں۔ اس سال جو لجنہ اور ناصرات کی حاضری ہے وہ آٹھ ہزار دو سو چوالیس ہے۔ برکینا فاسو کی حاضری نہیں آئی۔ … السلام علیکم ورحمة اللہ




