خطاب حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ہیو مینٹی فرسٹ کے تیس سال مکمل ہونے پر اس کی خصوصی انٹرنیشنل کانفرنس سے بصیرت افروز خطاب کا خلاصہ

آپ کا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے انسانیت کی خدمت میں برق رفتاری سے آگے بڑھنا ہے

٭… ہیومینٹی فرسٹ کا امتیاز یہ ہے کہ یہ جماعت احمدیہ سے وابستہ تنظیم ہے اور جب تک یہ خود کو جماعت کے ساتھ منسلک رکھے گی اس کا امتیاز قائم رہے گا۔ ہیومینٹی فرسٹ نظامِ جماعت کے تابع ہے۔ ہم سب کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ ہم نے بلا تفریق انسانیت کی خدمت کرنی ہے

٭… جب تک ہیومینٹی فرسٹ خلافتِ احمدیہ کے تابع اور محض خدا کی رضا کی خاطر کام کرے گی اس کے کاموں میں برکت جاری رہے گی

٭… آپ کا اصل طرّہ امتیاز وہ روح ہے جو خدمتِ انسانیت کے لیے آپ میں پائی جاتی ہے۔ ہمارے محدود وسائل ہیں اس لیے آپ اپنے سرمائے کو احتیاط سے خرچ کریں، بعض جگہ صرف کلینک ہی کافی ہوتے ہیں وہاں بڑے بڑے ہسپتالوں پر پیسہ خرچ نہیں کرنا چاہیے، ہاں!جہاں ضرورت ہے وہاں بڑے بڑے ہسپتال ضرور قائم کیے جائیں

(۳۰؍نومبر ۲۰۲۵ء، اسلام آباد، ٹلفورڈ، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ میں قائم کردہ ہر ادارہ خلافت احمدیہ کے زیرِ سایہ ترقیات کی منازل طے کرتا چلا جا رہا ہے۔ ان اداروں میں سے ایک ادارہ ہیومینٹی فرسٹ ہے۔ اس ادارے کی بنیاد حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے رکھی اور روز افزوں ترقی کرتے ہوئے خلافت خامسہ کے دور میں اس ادارے نے غیر معمولی وسعت اختیار کر لی ہے۔ ۱۹۹۵ء میں اسے ایک فلاحی تنظیم کے طور پر برطانیہ میں رجسٹر کیا گیا اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ دنیا کے ۶۷؍ ممالک میں قائم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس ادارے نے اپنے قیام سے لے کر اب تک ۱۶.۷؍ملین افراد کو مدد فراہم کی ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔

امسال ہیومینٹی فرسٹ کے تیس سال مکمل ہونے پر برطانیہ میں ’’امن، شفقت اور انسانیت‘‘ کے مرکزی عنوان پر تین روزہ تاریخی کانفرنس منعقد کی گئی جس کے ابتدائی دو روز مسجد بیت الفتوح میں پروگرام منعقد ہوئے جبکہ اس کانفرنس کا اختتامی اجلاس ایوان مسرور اسلام آباد، ٹلفورڈ میں منعقد ہوا۔

اس کانفرنس میں شمولیت کے لیے دنیا بھر سے ہیومینٹی فرسٹ کے ممبران برطانیہ تشریف لائے۔ اکثر مہمانوں کے قیام کا انتظام مسجد بیت الفتوح میں تھا لیکن اس کانفرنس کی وجہ سے اسلام آباد میں گذشتہ چند دنوں سے رونق میں غیر معمولی اضافہ دکھائی دیا ہے۔ حضور انور کی اقتدا میں نماز فجر ادا کرنے کے لیے کانفرنس کے شرکاء مسجد مبارک اسلام آباد آنے کی کوشش کرتے۔

تشریف آوری حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ

آج اس کانفرنس کے اختتامی اجلاس کے لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ایوان مسرور اسلام آباد میں پانچ بج کر ۲۲؍ منٹ پر کرسیٔ صدارت پر رونق افروز ہوئے۔ حضورِ انور کے تشریف فرما ہونے کے بعد اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تلاوت قرآن کریم ڈاکٹر شبیر احمدبھٹی صاحب نے سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۷۸ سے کی۔ ڈاکٹر حبیب یقین صاحب نے متلوّ آیت کا انگریزی زبان میں ترجمہ پیش کیا۔ بعد ازاں چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ انٹرنیشنل سید احمد یحییٰ صاحب نے کانفرنس کی رپورٹ پیش کی۔ اس کے بعد ایک ڈاکومنٹری دکھائی گئی جس میں ہیومینٹی فرسٹ کی تیس سالہ کاوشوں کی ایک جھلک دکھائی گئی۔

ازاں بعد عزّت مآبStephen Lecce, Member of Provincial Parliament, Ontario, Canada نے مختصر کلمات پیش کیے۔ اس کے بعد Sir Ed Davey, Leader of the Liberal Democrats Party کا ایک ویڈیو پیغام دکھایا گیا جس میں انہوں نے ہیومینٹی فرسٹ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ بعد ازاں حضور انور نے ہیومینٹی فرسٹ کے بعض خوش قسمت رضاکاران کو انعامات سے نوازا۔ پانچ بج کر ۴۹؍ منٹ پر حضور انور منبر پر تشریف لائے اور انگریزی زبان میں خطاب کا آغاز فرمایا۔

خلاصہ خطاب حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ

تشہد، تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

معزز مہمانانِ کرام! السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ یہاں ہیومینٹی فرسٹ کے تیس سال مکمل ہونے کی کانفرنس میں شامل ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آج آپ نے اللہ تعالیٰ کے شکر اور خدمتِ انسانیت کے اپنے عہد کا اعادہ کرنا ہے۔

ہیومینٹی فرسٹ کا آغاز حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ کی دُور اندیش سوچ کا نتیجہ تھا جس کا مقصد بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب انسانیت کی خدمت ہے۔ پس آپ نے ہمیشہ اس تنظیم کے مقصد کو یاد رکھنا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کی توحید کے قیام کے بعد حقیقی خدمتِ انسانیت ہی در اصل حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی بعثت کا مقصد تھا، آپؑ نے ہمیشہ یہی تعلیم دی کہ ضرورت مند کی مدد کی جائے۔ قرآن کریم بھی یہی تعلیم دیتا ہے جیسا کہ فرمایا کہ وہ خدا کی محبت کی خاطر یتیموں، مسکینوں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اسلام کی رحم دلی کی اُس تعلیم پر عمل کرو جو کسی اورمذہب میں موجود نہیں۔ اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں بار بار انسانیت کی خدمت کی تعلیم دی گئی ہے۔ حضورِاکرمﷺ نے باربار اسی تعلیم کے قیام کا اعلان فرمایا ہے۔

وہ لوگ جو خود کو حضرت مسیح موعودؑ سے وابستہ قرار دیتے ہیں، انہیں چاہیے کہ ہمیشہ اپنے اس فرض کو یاد رکھیں کہ انہوں نے انسانیت کی خدمت کرنی ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ انسانیت کی خدمت کرو، یہ بہت بڑی عبادت ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ باربار یہ تعلیم دیتا ہے کہ بلا تفریق مذہب و ملت ہر ایک کی خدمت کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بھوکے کو کھانا کھلانے کا حکم دیا ہے، مقروض کا قرض اتارنے کی تلقین کی ہے۔ ان باتوں کو اپنے پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ قرآن کریم نے جو خدمتِ انسانیت کی تعلیم دی اس کا بہترین اظہار رسول اللہﷺ کی زندگی میں ہمیں ملتا ہے۔

ہیومینٹی فرسٹ کا مقصد کوئی دکھاوا کرنا نہیں بلکہ یہ خالص خدا کی رضا کی خاطر مخلوق کی ہمدردی پرقائم ہے۔

ہیومینٹی فرسٹ کا امتیاز یہ ہے کہ یہ جماعت احمدیہ سے وابستہ تنظیم ہے اور جب تک یہ خود کو جماعت کے ساتھ منسلک رکھے گی اس کا امتیاز قائم رہے گا۔ ہیومینٹی فرسٹ نظامِ جماعت کے تابع ہے۔ ہم سب کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ ہم نے بلا تفریق انسانیت کی خدمت کرنی ہے۔

گذشتہ تیس سالوں میں ہیومینٹی فرسٹ نے بہت ترقی کی ہے اور یہ سب خدا کے فضل کا نتیجہ ہے۔ آغاز میں ہیومینٹی فرسٹ کا کُل بجٹ شاید چند ہزار پاؤنڈ یا ڈالر ہوگا مگر اب ہیومینٹی فرسٹ کا بجٹ کئی ملین پاؤنڈ ہے۔بےشک دنیا میں موجود دیگر تنظیموں کا بجٹ اس سے بہت زیادہ بھی ہوگا مگر آپ یہ دیکھیں کہ خدا نے آپ کے تھوڑے بجٹ میں کتنی برکت ڈالی ہے۔ کتنے پراجیکٹس آپ کم بجٹ میں چلا رہے ہیں۔ یہ سب خدا کے فضل اور حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی اُن دعاؤں کا نتیجہ ہے جو آپؑ نے خدمتِ خلق کرنے والوں کے لیے کی ہیں۔

جب تک ہیومینٹی فرسٹ خلافتِ احمدیہ کے تابع اور محض خدا کی رضا کی خاطر کام کرے گی اس کے کاموں میں برکت جاری رہے گی۔

ہیومینٹی فرسٹ کا کام اب بہت وسیع ہوچکا ہے، کئی پراجیکٹس بیک وقت دنیا بھر میں جاری ہیں۔ خواہ وہ صاف پانی کی فراہمی ہو یا ہسپتال اور سکولوں کا قیام اور انہیں جاری رکھنا، خواہ آسمانی آفات کی تباہ کاریاں ہوں یا دیگر مصائب ہر مشکل اور تکلیف میں ہیومینٹی فرسٹ کو صفِ اوّل میں خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔ گوئٹے مالا میں ۲۰۱۸ء میں ہسپتال قائم کیا گیا تھا اور اب آئیوری کوسٹ میں بھی ایک ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

آپ کا اصل طرّہ امتیاز وہ روح ہے جو خدمتِ انسانیت کے لیے آپ میں پائی جاتی ہے۔ ہمارے محدود وسائل ہیں اس لیے آپ اپنے سرمائے کو احتیاط سے خرچ کریں، بعض جگہ صرف کلینک ہی کافی ہوتے ہیں وہاں بڑے بڑے ہسپتالوں پر پیسہ خرچ نہیں کرنا چاہیے، ہاں! جہاں ضرورت ہے وہاں بڑے بڑے ہسپتال ضرور قائم کیے جائیں۔

ہیومینٹی فرسٹ جرمنی نے افریقہ میں یتیم خانے قائم کیے ہیں جو بہت اچھا اقدام ہے۔ اسی طرح آنکھوں کے علاج کے لیے کام کیا جارہا ہے ، جو بہت قابلِ تعریف کام ہے۔ گذشتہ دو سالوں کے درمیان غزہ کے مظلوموں کی جس خدمت کا ہیومینٹی فرسٹ یوکے کو موقع ملا ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے بڑے مشکل حالات میں لوگوں کی مدد کی ہے۔

ہیومینٹی فرسٹ کی خواتین ممبرات بھی بہت محنت اور جذبے سے کام کرتی ہیں۔ آپ کا دائرہ کار اور کام بہت وسعت اختیار کرتا جارہا ہے اور ان شاء اللہ جلد اس کا بجٹ اربوں میں پہنچ جائے گا۔

یاد رکھیں! مالی ضروریات تو اللہ تعالیٰ خود پوری کرے گا مگر ہیومینٹی فرسٹ کے ہر ہر ممبر نے بےلوث خدمتِ انسانیت کی روح کواپنے اندر ہمیشہ قائم اور تروتازہ رکھنا ہے۔ آپ کا ہر کام دعاؤں اور عاجزی اور انکسار سے بھرپور ہو۔ دنیاوی طاقت، اقتدار اور ستائش کی تمنا آپ میں کبھی نہ آئے۔ اللہ کی رضا آپ کا مقصد ہو۔ آپ قرآن کریم، رسول اکرمﷺ اور حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہوں۔ تیس سال مکمل ہونے کے بعد آپ نے اب آرام سے بیٹھ نہیں جانا بلکہ آپ نے ہمیشہ آگے سے آگے دیکھنا ہے۔ یہ وقت اگلے تیس سال کی منصوبہ بندی کا وقت ہے، ایک بڑے اور دُور رس منصوبے کے ساتھ اس سے بہت بڑھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے جو آپ نے آج تک کیا ہے۔ آپ کا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے انسانیت کی خدمت میں برق رفتاری سے آگے بڑھنا ہے اور اپنے کام کو وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جانا ہے۔

دنیا اس وقت جس غیریقینی اور بےچینی کا شکار ہے، دنیا کی معاشی اور سیاسی صورتِ حال نہایت ابتر ہے۔ ہر طرف لڑائیاں اور جنگیں جاری ہیں اور ایک ہولناک عالمی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ جب ایسی جنگ ہوگی تو ظاہری اسباب اور روپے پیسے کی اہمیت ختم ہوجائے گی۔ پس

ایسے وقت کی تیاری کے لیے ضرورت ہے کہ ہیومینٹی فرسٹ ایسا منصوبہ بنائے جس کے مطابق یہ دیکھا جائے کہ جنگ سے تباہ حال علاقوں میں کیسے کام کرنا ہے۔ وہاں موجود معصوم انسانوں کی کس طرح خدمت کرنی ہے۔

سونامی، طوفانوں اور زلزلوں میں خدمت کرنے والوں کو گو کہ ایک تجربہ حاصل ہوگیا ہے مگر ممکنہ عالمی جنگ کی ہولناکیاں بہت شدید اور مختلف ہوں گی اس لیے اس کی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔ وہ ایسی مشکل ہوگی جو آج تک دنیا نے نہیں دیکھی، اس میں ایسی مشکلات اور روکیں ہوں گی جس کا دنیا نے کبھی سامنا نہیں کیا ہوگا۔ اس لیے ایک بہترین منصوبہ بندی اور ٹیم ورک کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے علاقوں اور خطوں کی نشاند ہی کریں جہاں آپ لوگوں کی خدمت کرسکیں گے۔ یہ سرسری منصوبہ بندی سے ہونے والا کام نہیں ،اس کے لیے گہری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

مَیں دعا کرتا ہوں کہ

اللہ تعالیٰ آپ سب کو آپ کی کوششوں اور محنت کا بہترین اجر عطا فرمائے اور ہیومینٹی فرسٹ نے تیس سالوں میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں آئندہ آپ اس سے بڑھ کامیابیاں حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اخلاص کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ کرے کہ ہیومینٹی فرسٹ آئندہ نسلوں کے لیے امید کا روشن مینارہ بن جائے۔ آمین

حضورِ انور کا خطاب چھ بج کر ۱۸؍ منٹ تک جاری رہا۔ بعد ازاں حضور انور نے دعا کروائی۔

تصاویر

بعد ازاں ہیومینٹی فرسٹ کی کانفرنس کے شرکاء کے درج ذیل چھ گروپس کو حضور انور کے ساتھ تصاویر بنوانے کی سعادت ملی:

٭…امریکہ

٭…کینیڈا

٭…جرمنی

٭…یوکے

٭…افریقہ و ایشیا

تصاویر کے بعد حضور انور ایوان مسرور سے تشریف لے گئے۔

خلاصہ کانفرنس رپورٹ

یاد رہے کہ حضورِ انور کے خطاب سے قبل سید احمد یحییٰ صاحب چیئر مین ہیومینٹی فرسٹ انٹرنیشنل نے کانفرنس کی رپورٹ پیش کی جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

ہم اپنے پیارے امام حضرت امیر المومنین کے یہاں ہیومینٹی فرسٹ بین الاقوامی کانفرنس ۲۰۲۵ء میں موجود ہونے پر نہایت عاجزی اور سعادت کے جذبات محسوس کرتے ہیں۔ محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آج ہم ہیومینٹی فرسٹ کے تیس برس مکمل ہونے کی خوشی میں یہاں جمع ہوئے ہیں، ایسی تین دہائیاں جو خدمت خلق، ایمان اور پیارے حضور کی راہنمائی سے عبارت ہیں۔ یہ اجلاس تین روزہ بابرکت پروگرام کے اختتام پر منعقد ہو رہا ہے جو غور و فکر، شکر گزاری اور مستقبل کے لیے نئی امیدوں سے لبریز ہے۔

پچاس ممالک سے پانچ صد سے زائد نمائندگان نے ہر خطے کی نمائندگی کرتے ہوئے یہاں شرکت کی۔ جبکہ بیس سے زائد ممالک آن لائن شامل ہوئے۔ یہاں شاملین نے قدرتی آفات سے نجات، صحت، تعلیم، واٹرفارلائف، غذائی تحفظ اور سماجی بہبود جیسے شعبہ جات کا جائزہ لیا جن کے تحت دنیا بھر میں ایک کروڑ ستّر لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں میں بہتری لائے جا چکی ہے ۔ نمائندگان نے اس غیر معمولی سفر کو بھی یاد کیا جو ۱۹۹۲ء میں حضرت خلیفۃ المسیح رحمہ اللہ تعالیٰ کی دُور اندیش نگاہ سے شروع ہوا اور ہمارے پیارے حضور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مسلسل دعاؤں اور راہنمائی سے پھلتا پھولتا رہا۔

ہمارے متعدد اہم اجلاسوں میں غزہ ،گیمبیا، بینن، گوئٹے مالا، آئیوری کوسٹ، انڈونیشیا اور فرنچ گیانا میں انجام دی گئی اور جاری خدمات کا جائزہ لیا گیا۔ اسی طرح کانفرنس میں ہیومینٹی فرسٹ کے پانچ سالہ سٹریٹجک ویژن ۲۰۲۶ء تا ۲۰۳۰ء پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

پیارے حضور! آپ کی مسلسل راہنمائی ہمارے شامل حال ہے اور یہ راہنمائی بھی کہ ہمارا کام دنیا میں شہرت حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور قرب کے لیے ہے۔

اب جب کہ یہ تاریخی کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے ہم اللہ تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنی مخلوق کی خدمت کا موقع دیا ۔محبت سے لبریز دلوں کے ساتھ ہم اپنے محبوب امام کی خدمت میں حضور کی دعاؤں، اعتماد اور مستقل حوصلہ افزائی پر اپنی گہری عقیدت پیش کرتے ہیں تمام عہدیداران اور دنیا بھر کے رضاکاروں کے نہایت شکر گزار ہیں جن کی انتھک کاوشیں اس مشن کی گویا ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نیز ہم اپنے عطیہ دہندگان اور معاونین کے بھی شکر گزار ہیں جن کی مسلسل اور غیر متزلزل سخاوت ہمیشہ ہمارا ساتھ دیتی ہے اور ہر اس عاجز وجود کے بھی جس کی بے نام و نشان قربانی ہیومینٹی فرسٹ کی کامیابی کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری ان عاجزانہ کوششوں کو قبول فرمائے۔

انعامات

حضور انور نے خطاب سے قبل ہیومینٹی فرسٹ کے لیے خدمات پر درج ذیل افراد کو اعزازات سے نوازا:

اکبر احمد صاحب(ہیومینٹی فرسٹ کے لیے خدمات)، بابا تراولے صاحب (چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ دی گیمبیا)، Kandali A. Lubis صاحب(چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ انڈونیشیا)، محمد اطہر زبیر صاحب (چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ جرمنی)، محمد حماد فاتح صاحب(ٹرسٹی ہیومینٹی فرسٹ انٹرنیشنل)

درج ذیل مستورات کے انعامات نمائندوں نے وصول کیے: مسز محمودہ سیٹھی صاحبہ(کیئر ٹیکر آرفنیج آف بینن)، نعمانہ مسرت خان صاحبہ (ڈائریکٹر آف آپریشنز ، ہیومینٹی فرسٹ کینیڈا)، ندرت صادق صاحبہ (ڈائریکٹر آف فنانس یوکے)

درج ذیل افراد کو بھی انعامات سے نوازا گیا:منصور احمد شاہ صاحب(یوکے)، منعم نعیم صاحب(چیئر مین ہیومینٹی فرسٹ یو ایس اے)، ڈاکٹر اسلم داؤد صاحب(چیئر مین ہیومینٹی فرسٹ کینیڈا)، ڈاکٹر عزیز حفیظ صاحب (چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ یوکے)، ماجد خان صاحب (ہیومینٹی فرسٹ ہیلتھ کیئر سروسز)، خالد حیات صاحب (چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ بوسنیا)، فضل احمد صاحب (ڈائریکٹر آف آپریشنز ہیومینٹی فرسٹ )، سید طاہر احمد صاحب (ڈائریکٹر آف ایڈمنسٹریشن ہیومینٹی فرسٹ انٹرنیشنل)، ڈاکٹر مسعودالحسن نوری صاحب، نصیر دین صاحب(وائس چیئر بورڈ ہیومینٹی فرسٹ انٹرنیشنل)

ادارہ الفضل ہیومینٹی فرسٹ کو تیس سال مکمل ہونے پر نیز کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضورِ انور کی نصائح پر کما حقہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہیومینٹی فرسٹ کا ادارہ خلافت احمدیہ کے زیرِ سایہ ترقیات کی منازل طے کرتا چلا جائے۔ آمین

مزید پڑھیں: جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برطانیہ 2025ء کے موقع پر مستورات کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطاب

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button