حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ویسٹ کوسٹ امریکہ کے خدام کے ایک وفد کی ملاقات

مَیں ہمیشہ والدین سے کہتا ہوں کہ بچپن میں یا چودہ یا پندرہ سال کی عمر تک بھی لڑکیاں ہوں یا لڑکے وہ جماعت سے خوب وابستہ رہتے ہیں، لیکن پھر پندرہ یا سولہ سال کے بعد وہ اس حد تک جماعت سے وابستہ نہیں رہتے کہ جتنا وہ پہلے ہوتے تھے، اس لیے آپ کو ان کے ساتھ باقاعدگی سے باہم مل کر نشستیں منعقدکرنی چاہئیں اور ان سے بات چیت کرنی چاہیے تاکہ وہ جماعت کے ساتھ جُڑے رہیں اور جماعت سے وابستہ رہیں

مورخہ ۱۱؍ جنوری ۲۰۲۶ء ، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ویسٹ کوسٹ امریکہ کے خدام کے سترہ(۱۷) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےامریکہ سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

ملاقات کے آغاز میں امیرِ قافلہ نے وفد کا تعارف کرواتے ہوئے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ یہ خدام، مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ کے دو ریجنز ساؤتھ ویسٹ اور نارتھ ویسٹ سے تعلق رکھتے ہیں، جو کہ San Diego ،Sacramento ،Seattle ،Silicon Valley ،Phoenix جیسے شہروں کی نمائندگی کر رہے ہیں اورزیادہ ترLos Angeles سے ہیں۔

بعد ازاں تمام شاملین ِمجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔

دورانِ تعارف ایک انڈونیشیائی نژاد خادم نے اُردو میں اپنا تعارف پیش کیا، تاہم یہ بھی عرض کیا کہ اُردو زبان پر اسے مکمل عبور حاصل نہیں ہے، اس پر حضورِ انور نے خادم کی حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ اُردو زبان سیکھ سکتا ہے۔

گردوں کے ماہر ایک ڈاکٹر سے گفتگو کے دوران حضورِ انور نے نصیحت فرمائی کہ وہ جماعت کے کسی ہسپتال میں وقفِ عارضی کے لیے وقت دیں۔ اسی طرح لاس اینجلس جماعت کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے والے ایک اَور خادم نے اپنی پوری جماعت کی جانب سے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں محبت بھرا سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی، جس پر حضورِ انور نے ازراہِ شفقت ’’وعلیکم السّلام ورحمۃ اللہ ‘‘ کے دعائیہ کلمات سے نوازا۔

مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت اقدس میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک خادم نے اپنی ذاتی آزمائش کا ذکر کرتے ہوئےعرض کیا کہ دو مرتبہ اسقاطِ حمل کے باعث وہ اور ان کی اہلیہ بے حد صدمے اور شدیدتکلیف کا شکار ہیں۔ اگرچہ وہ دونوں نوجوان اور صحت مند ہیں لیکن اس کے باوجود دوبارہ کوشش کرنے سے خوف محسوس کرتے ہیں، نیز اس سلسلے میں راہنمائی کی درخواست کی کہ وہ اپنے اندر دوبارہ امیداور حوصلہ کس طرح پیدا کر سکتے ہیں؟

حضورِ انور نے خادم کی بات نہایت توجہ اور شفقت کے ساتھ سماعت فرمائی اور اس ضمن میں مزید تفصیلات دریافت کیں، نیز حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ آیا ان کے کوئی بچے ہیں یا نہیں؟ اس پر خادم نے نفی میں جواب عرض کیا۔ مزید برآں جب طبّی علاج کے بارے میں دریافت فرمایا گیاتو خادم نے اس کی تصدیق کی۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ ایسا صدمہ خصوصاً ماں کے لیے برداشت کرنا انتہائی مشکل اَمر ہوتا ہے۔ تاہم حضورِ انور نے نہایت محبّت سے حوصلہ بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ کبھی ہمت نہ ہاریں اور نہ ہی اُمید کا دامن چھوڑیں۔ مزید برآں حضورِ انور نے دعا کرنے کی تلقین فرماتے ہوئے تسلّی دی کہ ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ مدد فرمائے گا۔

اسی طرح حضورِ انور نے ازراہِ شفقت خادم کو ہدایت فرمائی کہ آئندہ جب ان کی اہلیہ حاملہ ہوں تو حضورانور کو مطلع کریں، اور اگر وہ چاہیں تو ہومیوپیتھک دوا بھی بھجوا دی جائے گی۔ جواب کے اختتام پر حضورِ انور نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت مند اور لمبی عمر پانے والی نیک اولاد سے نوازے۔

ایک خادم نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ اسے بحیثیت قائد مجلس Phoenix خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔ یہ سماعت فرما کرحضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آیا وہ طالب علم ہے یا کسی ملازمت سے وابستہ ہے؟خادم نے عرض کیا کہ وہ طالب علم نہیں بلکہ پیشہ ورانہ طور پر Arizona کی ایک بڑی الیکٹرک یوٹیلٹی کمپنی میں senior risk analyst کے طور پر کام کررہےہیں۔ اس پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اچھا! تو پھر اس وقت امریکہ میں سب سے بڑا خطرہ کیا ہے، کیا وہ آپ کے صدر ہیں؟ خادم نے عرض کیا کہ یہ ایک بہت اچھا سوال ہے۔ جس پر حضورِ انور نےدوبارہ مسکراتے ہوئے تبصرہ فرمایا کہ اس وقت سب سے بڑا خطرہ آپ کے صدر ہی ہیں۔ حضورِ انور کے اس برجستہ تبصرے پر تمام شاملینِ مجلس بھی مسکرا دیے اور خوب لُطف اندوز ہوئے۔

بعد ازاں اسی خادم نے چند سال قبل اپنے والدصاحب کی وفات کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ والدصاحب بیماری کے ایام میں بھی جماعت سے گہرا اور مضبوط تعلق رکھتے تھے، اسی طرح کہا کہ وہ اپنے والدصاحب کو بے حد یاد کرتا ہے اور اکثر دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش !ان سے تبادلۂ خیال کا موقع مل سکتا۔ اس ضمن میں حضورِ انور سے راہنمائی کی درخواست کی کہ ایسے غم اور اداسی کے جذبات سے کس طرح بہتر طور پر نمٹا جا سکتا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے والد کی جدائی کے فطری غم کے حوالے سے خادم کو حکمت اور شفقت کے ساتھ تسلّی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ اپنے والد کے کردار سے بخوبی واقف ہیں، آپ کو ان کا کردار پسند تھا اور آپ جماعت کے لیے ان کی گرانقدر خدمات کو بھی جانتے ہیں۔ آپ ان کے دوسروں کے ساتھ حُسنِ سلوک کے رویّے سے آگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اپنے بچوں کے بارے میں ان کی کیا خواہشات اور توقعات تھیں۔ لہٰذا آپ کو چاہیے کہ ان خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور ان کے کردار اور اخلاق کے نقشِ قدم پر چلیں۔ اس طرح آپ حقیقت میں جنّت میں ان کی روح کو سکون پہنچا سکتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے لیے دعا بھی کرتے رہیں۔

پندرہ سالہ دسویں جماعت کے ایک طالبعلم خادم نے حضورِ انور کی خدمت ِاقدس میں عرض کیا کہ وہ اپنی پانچ وقت کی نمازیں پابندی کے ساتھ ادا کرتا ہے، باقاعدگی سے قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہے، مسجد جاتا ہے اور طاہر اکیڈمی میں خدمت بھی انجام دیتا ہے۔ تاہم فطرتاً چونکہ وہ کم گو ہے لہٰذا اسے سکول اور مسجد میں لوگوں سے بات چیت اور میل جول کرنے میں دُشواری محسوس ہوتی ہے۔

اس پر حضورِ انور نے خادم کے مافی الضّمیر کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ تو آپ شرمیلے بہت ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ کو یہ کام پسند نہیں ہیں، آپ کو پسند ہیں، لیکن آپ شرمیلے بھی ہیں۔

حضور ِانور نے ایک احمدی ہونے کے ناطے لوگوں تک پیغام پہنچانے اور فریضۂ تبلیغ کی ادائیگی کے حوالے سےاپنے اندر خوداعتمادی پیدا کرنے کو ضروری قرار دیتے ہوئے ارشادفرمایا کہ یہ ہے تو اپنے اندر confidence پیدا کرو۔احمدی کو تو بڑاconfidentہونا چاہیے تا کہ لوگوں کو احمدیت کے بارے میں بتائے۔ اگر ہم confident نہیں ہوں گے تو ہماراexposureصحیح نہیں ہوگا اور اگر لوگوں سےinteractنہیں ہو گا تو پھر تبلیغ کس طرح ہوگی؟

جواب کے آخر میں حضور ِانور نے دعا کی جانب توجہ دلاتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ نمازیں پڑھ رہے ہو، اللہ کا حق ادا کر رہے ہو، یہ بڑی اچھی بات ہے۔ لیکن نمازوں میں اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ میرے میں یہ جو بھی کمی ہے یا کمزوری ہے، تُو اس کو بھی دُور کردے اور میں صحیح طرحconfidentہو کے لوگوں سے بات کر سکوں۔

ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ کیا انبیاء یا خلفاء کی حکمت کا موازنہ البرٹ آئن سٹائن جیسے سائنسدانوں کے آئی کیو لیول سے کیا جا سکتا ہے اور ہم یہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ خلیفہ کی حکمت دنیاوی ذہین لوگوں سے زیادہ ہے؟

اس پر حضورِ انور نے انبیاء اور خلفاء کی حکمت کے موازنے کی بابت تفصیلی اور بصیرت افروز راہنمائی عطا فرمائی کہ آپ انبیاءؑ اور خلفاء کے IQ لیول کا موازنہ نہیں کرسکتے، انبیاء ؑکو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی راہنمائی حاصل ہوتی ہے، لیکن خلفاء کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہوتا۔بعض اوقات وہ غلطی کر سکتے ہیں، لیکن اگر معاملات جماعتی نوعیت کے ہوں اور ان معاملات میں خلیفۂ وقت کوئی غلطی کرتا ہے تو اس سے جماعت کو نقصان نہیں پہنچتا۔ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا سامان پیدا فرمادیتا ہے کہ جس سے معاملہ سلجھ جاتا ہے اور افرادِ جماعت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑنے دیتا۔

حضورِ انور نے محنت اور دماغی صلاحیت کے ثمرات پر روشنی ڈالی کہ جہاں تک سائنسدانوں کا تعلق ہے، کوئی بھی شخص جو محنت کرتا ہے، جو اپنا دماغ استعمال کرتا ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سائنسدان کو اچھے ذہن سے نوازا ہے اور اسے محنتی بنایا ہے اور وہ ہمیشہ مختلف باتوں یا اُمور پر غور و فکر کرتا رہتا ہے کہ جس کے نتیجے میں پھر اللہ تعالیٰ مثبت نتائج مرتّب فرماتاہے۔

حضور ِانور نے روحانیت اور دنیاوی سوچ کے فرق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ جہاں تک روحانیت کا تعلق ہے، یہ سائنسدان جو مذہبی سوچ نہیں رکھتے وہ صرف ایک لائن یا ایک راہ پر چل کر کام کر رہے ہیں یعنی دنیاوی لحاظ سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اپنے دماغ کا استعمال کر رہے ہیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔جب وہ محنت سے کام کرتے ہیں اور اپنا دماغ استعمال کرتے ہیں تو وہ ان کی محنت اور دماغ کے استعمال کا نتیجہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں اچھے نتائج سے نوازتا ہے اور وہ مختلف باتیں ثابت کرتے ہیں۔

اسی تناظر میں حضورِ انور نے مذہبی فکر رکھنے والے سائنسدانوں کی مثال دیتے ہوئے مشہور و معروف پہلے نوبیل انعام یافتہ احمدی مسلم سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالسلام صاحب کا ذکرِ خیر فرمایا کہ ڈاکٹر عبدالسلام جیسے کچھ سائنسدان ہیں کہ جو مذہبی سوچ کے مالک تھے، وہ محض سائنسدان ہی نہیں تھے بلکہ انہیں نوبیل پرائز بھی ملا تھا لیکن وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے قرآن کریم سے راہنمائی ملی۔ اور وہ کہتے تھے کہ قرآنِ کریم میں سینکڑوں آیات ہیں جنہوں نے تحقیق کے سلسلے میں میری راہنمائی کی۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے نظامِ عالَم میں جاری دو قوانین کی بابت لطیف پیرائےمیں روشنی ڈالی کہ تو دو قوانین عمل میں ہوتے ہیں۔ ایک قانونِ شریعت اور دوسرا قانونِ قدرت۔قانونِ قدرت کہتا ہے کہ اگر آپ اپنا ذہن استعمال کر رہے ہیں، محنت کر رہے ہیں، تو آپ کو نتیجہ ملے گا۔قانونِ شریعت کہتا ہے کہ اگر آپ اپنا ذہن استعمال کر رہے ہیں تو آپ کو دو برکتیں ملیں گی۔ ایک تو یہ کہ آپ کو اپنے دین کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی برکت ملتی ہے اور دوسری یہ کہ آپ کو اپنے ذہن کا استعمال اور اپنی کوشش سے مثبت نتائج حاصل کرکے برکت ملتی ہے۔

ایک خادم نے سوال کیا کہ جب کسی کا انتقال ہو جاتا ہے تو کیا اللہ ان کے متعلق فیصلہ فوراً کر دیتا ہے یا انہیں قیامت کے دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے؟

اِس پر حضورِ انور نے بعد از وفات جزا و سزا کے فوری طور پر جاری ہونے والے نظام کے بارے میں حکیمانہ انداز میں راہنمائی عطا فرمائی کہ دیکھیں! جب بھی کوئی شخص نیک اعمال کر تا رہا ہو اور پھر جب وہ وفات پا جائے تو وہ سیدھا جنّت میں جائے گا، یعنی جنّت کے ابتدائی درجہ میں داخل ہوگا اوروہ جنّت کے اعلیٰ درجہ میں نہیں داخل ہوگا۔ اور جو بُرے اعمال کرتے رہے ہیں وہ جہنم میں جائیں گے اور انہیں ان کی سزا ملے گی۔ایسا نہیں ہے کہ موت کے بعد آپ کو ایک انتظارگاہ یعنی عالمِ برزخ میں چھوڑ دیا جائے گا تاکہ آپ قیامت کے دن تک انتظار کریں جو کہ ایک لاکھ سال بعد شاید آئے یا جب بھی آئے، ہمیں تو نہیں معلوم۔ پھر تو نیک اعمال بجالانے کا کیا مقصد ہو گا؟ اگر آپ کو طویل عرصے تک انتظار کرنا پڑے اور اپنا انعام فوراً نہ ملے پھر انسان نیک اعمال کیوں بجالائے؟

اسی تناظر میں حضورِ انور نے بروزِ قیامت حتمی فیصلوں کے صادر فرمائے جانے اور مزید جزا و سزا کے تصوّر کو بھی واضح فرمایا کہ اللہ کہتا ہے کہ تم نیک کام کرو، تو مَیں تمہیں جنّت میں بھیجوں گا، لیکن قیامت کے دن پھر اللہ تعالیٰ تمام روحوں کو دوبارہ اکٹھے جمع کرے گااور پھر وہ اپنا فیصلہ صادر فرمائے گا۔پھر وہ لوگ جنہوں نے اس دنیا میں نیک اعمال کیے ہوں گے، انہیں جنّت کے ابتدائی درجہ میں انعام دیا جائے گا اور پھر انہیں جنّت کے اگلے درجہ میں اس سے بھی بہتر انعامات دیے جائیں گے۔وہ لوگ جنہوں نے بُرے اعمال کیے ہوں گے اور جنہیں جہنّم میں ڈالا گیا ہوگا، جب وہ اللہ کی مرضی کے مطابق جہنّم میں اپنی سزا کاٹ چکے ہوں گے تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمادے گااور انہیں جنّت میں ڈال دے گا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اتنے بُرے اعمال کیےہوں، جنہیں مزید سزا دیےجانے کی ضرورت ہو تو اللہ تعالیٰ پھرانہیں جہنّم کے دوسرے درجہ سے گزارے گا۔ تو جیسے ہی انسان وفات پاتا ہے اسے جزا یا سزا ملتی ہے ، لیکن قیامت کے دن اس کے متعلق دوبارہ فیصلہ کیاجائے گااور پھر اس وقت اللہ تعالیٰ یا تو اسے اَور بہتر انعام دے گا، یا زیادہ سزا دے گا، یا وہ لوگ جو جہنّم میں اپنی سزا کاٹ چکے ہوں گے انہیں معاف فرماکر جنّت میں بھیج دے گا۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے موت کے بعد جزا و سزا کے فلسفے کی بہتر تفہیم حاصل کرنے کی بابت’’ اسلامی اُصول کی فلاسفی ‘‘اور الحکم میں شائع شدہ حضورِ انور کی راہنمائی سے استفادہ کرنے کی بھی تلقین فرمائی کہ اس فلسفے کو سمجھنے کے لیے میرا خیال ہے کہ آپ کو’’ اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کتاب میں، میرا خیال ہے کہ دوسرے یا تیسرے سوال کے ضمن میں اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ آپ وہ پڑھ کراسے بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ مَیں نے کچھ لوگوں کو اس سوال کا تفصیلی جواب بھی دیا ہے اور وہ الحکم میں شائع ہو چکا ہے اور آپ اسے وہاں سے بھی پڑھ سکتے ہیں۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض کیا جاتا ہےکہ حضورِ انور کے ارشاد کی روشنی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصنیفِ لطیف’’ اسلامی اُصول کی فلاسفی‘‘ میں سوال نمبر دو: ’’ موت کے بعد انسان کی کیا حالت ہوتی ہے؟‘‘ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جو روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحات ۳۹۶ تا ۴۱۳ پر موجود ہے]

ایک خادم نے سوال کیا کہ جب آپ دنیا بھر کے بچوں کے خطوط پڑھتے ہیں تو اُن کی باتوں کا کون سا پہلو آپ کو سب سے زیادہ خوشی اور مسرت دیتا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے چھوٹے اور بڑے بچوں کے خطوط کی نوعیت کے بارے میں مسکراتے ہوئے بیان فرمایا کہ بعض اوقات مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، بس ان کے خطوط ہوتے ہیں اور صرف ان کی حوصلہ افزائی کے لیے مَیں کہہ دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ پرفضل فرمائے۔ لیکن بہرحال مجھے خوشی ہوتی ہے کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو مجھے لکھتے ہیں اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ یعنی وہ بچے جنہیں کچھ سمجھ ہے۔اور کچھ چھوٹے بچے بھی ہیں، وہ بس کچھ لکیریں ڈال دیتے ہیں اور پھر ان کے والدین ان کی وضاحت پیش کردیتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ جو تشریح والدین نے بیان کی ہے وہ والدین کی اپنی سوچ ہے یا بچے کی سوچ ہے کہ جو بچے نے والدین کے ذریعے سے ظاہر کی ہوتی ہے ۔

حضورِ انور نے اِس اَمر پر اظہارِ خوشنودی فرمایا کہ لیکن بہرحال مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ کم از کم بچے ایسے ہیں، جو جماعت سے وابستہ ہیں اور جو خلافت سے وابستہ ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں اور پھر وہ دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے جماعت اور خلافت سے وابستگی کے حوالے سے والدین پر عائد ہونے والی ذمہ داری کی جانب بھی توجہ مبذول کروائی کہ تو اسی لیے مَیں ہمیشہ والدین سے کہتا ہوں کہ بچپن میں یا چودہ یا پندرہ سال کی عمر تک بھی لڑکیاں ہوں یا لڑکے وہ جماعت سے خوب وابستہ رہتے ہیں، لیکن پھر پندرہ یا سولہ سال کے بعد وہ اس حد تک جماعت سے وابستہ نہیں رہتے کہ جتنا وہ پہلے ہوتے تھے، اس لیے آپ کو ان کے ساتھ باقاعدگی سے باہم مل کر نشستیں منعقدکرنی چاہئیں اور ان سے بات چیت کرنی چاہیے تاکہ وہ جماعت کے ساتھ جُڑے رہیں اور جماعت سے وابستہ رہیں۔

ایک خادم نے سوال کیا کہ بحیثیت ِوالد آپ کو اپنے بچوں کی کون سی عمر میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انہیں سنبھالنا مشکل ہے اور بچوں کے ساتھ اس مشکل صورتحال سے کیسے گزرتے تھے؟

اس پر حضور ِانور نے فرمایا کہ مجھے کوئی ایسی مشکل محسوس نہیں ہوئی۔ اگر آپ کا اپنے بچوں کے ساتھ اچھا تعلق ہے تو وہ آپ کی ہدایات پر عمل کریں گے۔

حضورِ انور نے بچوں کی تربیت میں کسی بھی قسم کی دُشواری سے بچنے کے لیے والدین اور بچوں کے درمیان دوستانہ تعلق قائم کرنے اور اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کروائی کہ تو بچوں کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ والدین ہمارے دوست ہیں اور ہم جو بھی کہیں گے وہ سنیں گے اور اگر ہم مشکل میں ہیں تو وہ ہمارا مسئلہ حل کریں گے۔ تو اگر ان میں اتنا اعتماد ہے ، اگر آپ نے ان بچوں میں وہ اعتماد پیدا کیا ہے تو آپ کو مستقبل میں کسی بھی عمر میں ان کی تربیت میں کوئی دُشواری پیش نہیں آئے گی۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے نوجوانوں کی تربیت میں درپیش چیلنجز کی بابت یاددہانی کراتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا ہے کہ پندرہ سال کی عمر کے بعد ماحول کی وجہ سے کافی تعداد میں ایسے بچے ہیں جو بنیادی تعلیم اور اخلاق سے ہٹ جاتے ہیں کہ جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے تو اس عمر میں آپ کو اپنے بچوں پر زیادہ نظر رکھنی چاہیے۔ لیکن پندرہ سال کی عمر کے بعد اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق رکھنے کی کوشش کریں۔

ایک خادم نے حضورِ انور کی خدمت میں راہنمائی کی درخواست کی کہ مَیں ایک نوجوان ہونے کے ناطے ان بُرائیوں سے کس طرح محفوظ رہ سکتا ہوں جن کی طرف انسان آسانی سے مائل ہو جاتا ہے نیز ایسے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے ہم اپنے ایمان پر کس طرح ثابت قدم رہ سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے نیک اور بد اعمال کی شناخت اور نیکی اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کے بنیادی ذرائع کے بارے میں پُر حکمت راہنمائی عطافرمائی کہ آپ کو معلوم ہے کہ کون سے اعمال غلط ہیں اور کون سے نیک، توآپ بد اعمال سے اجتناب کرسکتے ہیں ۔اور اگر آپ قرآنِ شریف کی تلاوت کریں، دینی کُتب کا مطالعہ کریں اور کم از کم ان خطبات کو سنیں جو مَیں ہر جمعہ کے دن دیتا ہوں ، تو آپ کو معلوم ہو گاکہ کون سی باتیں اچھی ہیں اور کونسی بُری اور ہم ان سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔

حضورِ انور نے ہر قسم کی بُرائیوں سے محفوظ رہنے کے حوالے سےپنجوقتہ نمازوں کی خلوصِ دل سے ادائیگی اور سورۃ الفاتحہ میں صراطِ مستقیم پر چلنے کی سکھلائی گئی دعا کو بار بار دُہرانے کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ اگر آپ پنجوقتہ نماز ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی ہے کہ اگر آپ خلوصِ دل سے اپنی نمازیں ادا کریں گے تو مَیں آپ کو تمام بُرائیوں سے محفوظ رکھوں گا۔ باوجود اس کے کہ شیطان نے یہ چیلنج دیا ہے کہ مَیں ہر شخص کو ہر لمحے سیدھے راستے سے بھٹکانے کی کوشش کروں گا، لیکن اگر آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں گے کہ اے اللہ! مجھے سیدھے راستے پر قائم رکھ تو یقینا ًاللہ تعالیٰ آپ کو سیدھے راستے پر ثابت قدم رکھے گا۔اسی لیے ہم ہمیشہ سورة الفاتحہ میں یہ دعا دُہراتے ہیں: اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ کہ اے اللہ! ہمیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے، لہٰذا اگر آپ بار بار اس دعا کو دُہرائیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو بچالے گا۔

مزید برآں حضورِ انور نے ذاتی شعور کی روشنی میں نیک اعمال بجا لانے اور بُرے اعمال سے کنارہ کشی اختیار کرنے، بُری صحبت سے بچنے اور ضیاعِ وقت کا ذریعہ بننے والی دیگر لغویات سے اعراض کرنے کی بابت تلقین فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زرخیز دماغ عطا فرمایا ہے۔ آپ خود سوچ کر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ یہ آپ کو تو پہلے ہی معلوم ہے ۔آپ کا سوال اس بات کی طرف نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کو اس بات کا شعور حاصل ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا۔پھر اگر آپ کو معلوم ہے تو بُرے اعمال سے کنارہ کشی اختیار کریں اور اچھے اعمال بجا لائیں، اور بُری صحبت سے دُور ہوجائیں۔ اگر آپ کے دوست اچھے نہیں ہیں تو دوبارہ ان کے پاس مت جائیں، اگر آپ کے بعض دوست نشے کی عادت یا دیگر بُرائیوں میں مبتلا ہوں تو ان سے کنارہ کشی اختیار کر لیں۔ اپنے آئی پیڈ، ٹیلی ویژن یا اس قسم کے پروگرام دیکھنے میں بہت زیادہ وقت صَرف نہ کریں ۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا کریں ،قرآنِ شریف کی تلاوت کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو ان تمام بُرائیوں سے محفوظ رکھے۔

ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ ایک وقفِ نَو خادم مبلغ بننے کے علاوہ کون سا پیشہ اختیار کر سکتا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے کسی بھی موزوں پیشے کو اختیار کرتے ہوئے جماعتی خدمت کے جذبے کو مقدّم رکھنے کی بابت پختہ عزم کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ آپ مربی، ڈاکٹر، ٹیچر، انجینئر، وکیل یا کسی بھی ایسے شعبے کا انتخاب کر سکتے ہیں کہ جسے آپ اپنے لیے موزوں سمجھتےہیں۔ آپ جس بھی میدان کا انتخاب کریں جس بھی حیثیت میں ہوں، اگر آپ کاپختہ ارادہ ہو کہ آپ نے جماعت کی خدمت کرنی ہے تو آپ جماعت کی خدمت کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر تعلیم مکمل کرنے، ملازمت حاصل کرنے اور ایک اچھی اور منافع بخش نوکری ملنے کے بعد آپ یہ کہیں کہ اب مَیں اپنے دنیاوی معاملات میں بہت زیادہ مصروف ہوں تو پھر آپ جماعت کی خدمت نہیں کر سکیں گے۔ اس کے برعکس اگر آپ اس بات پر مضبوطی سے قائم ہوں کہ آپ نے جماعت کی خدمت کرنی ہے تو پھر یقیناً آپ کسی بھی پیشے میں رہتے ہوئے ،کسی بھی حیثیت میں ، جماعت کی خدمت کر سکتے ہیں۔

آخر میں امیرِ قافلہ نے مہمان نوازی اور غیر معمولی شفقت و احسان پر حضورِ انور کا تہِ دل سےشکریہ ادا کیا ۔ مزید برآں انہوں نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عاجزانہ درخواست پیش کی کہ پیارے آقا! براہِ کرم امریکہ تشریف لائیں تاکہ ہمیں بھی یہ اعزاز حاصل ہو کہ ہم آپ کی میزبانی کا شرف حاصل کر سکیں۔ اس پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے نظرِ کرم عطافرمائی۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ سویڈن کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button