خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 02؍جنوری 2026ء

’’ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوب صورتی اس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔ یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ مَیں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں ۔ کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لیے لوگوں کے کان کھلیں‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

اس زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے عمل اور اپنے آقا کی متابعت میں، اتباع میں اس محبت الٰہی کی جھلک ہمیں نظر آتی ہے

’’میرا تو یہ حال ہے کہ اگر مجھے صاف آواز آوے کہ تو مخذول ہے اور تیری کوئی مراد ہم پوری نہ کریں گے تو مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اس عشق اور محبت الٰہی اور خدمت دین میں کوئی کمی واقع نہ ہو گی۔ اس لیے کہ میں تو اسے دیکھ چکا ہوں ‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

’’اپنے سب سے بڑھ کر محبوب ذات باری تعالیٰ کا عشق بھی جو آپؑ کے روح و تن کے ذرّے ذرّے میں موجزن تھا آپؑ کے ہر ہر قول و فعل سے ہر وقت نمایاں نظر آتا تھا۔ میں نے بغیر اوقات نماز کے بھی آپ کو اپنے رب کریم کو تڑپ تڑپ کر پکارتے سنا ہے۔‘‘(روایت حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ)

آپؑ نے اپنے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں بچپن اور جوانی سے ہی خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنا وقت گزارا ہے

’’جب کبھی ڈلہوزی جانے کا مجھے اتفاق ہوتا تو پہاڑوں کے سبزہ زار حصوں اور بہتے ہوئے پانیوں کو دیکھ کر طبیعت میں بےاختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کا جوش پیدا ہوتا اور عبادت میں ایک مزا آتا۔ میں دیکھتا تھا کہ تنہائی کے لیے وہاں اچھا موقع ملتا ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)


’’اللہ تعالیٰ کی ذات پاک سے آپ کا عشق صادق ہر وقت نظر آتا تھا۔ میں نے ایک بار آپ کو دعا کرتے اور روتے دیکھا۔ بہت درد سے اپنے مولیٰ، اپنے محبوب کو پکار رہے تھے اورباربار ’’میرے پیارے اللہ۔ میرے پیارے اللہ‘‘ آپ کی زبان پر جاری ہوتا تھا… آپ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ عاشق تھے اپنے ربّ اعلیٰ کے۔ آپؑ کے چہرے پر اسی کا عشق کا نور تھا۔ آپؑ کی زبان پر وہی نور جاری تھا۔ آپؑ کی زبان سے اسی نور کے چشمے جاری تھے مگر آنکھوں کے اندھے دیکھ نہ سکے ‘‘ (روایت حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ)

’’میں تو دیکھتا ہوں کہ جب لوگ دنیا سے غافل ہو جاتے ہیں ،جب میرے دوستوں اور دشمنوں کو علم تک نہیں ہوتا کہ میں کس حالت میں ہوں ،اس وقت تُو مجھے جگاتا ہے اور محبت سے، پیار سے فرماتا ہے کہ غم نہ کھا۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ تو پھر اے میرے مولیٰ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس احسان کے ہوتے ہوئے پھر بھی مَیں تجھے چھوڑ دوں۔ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں۔ ‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی محبت الٰہی

سالِ نو کی مناسبت سے احباب جماعت کو دعاؤں کی تحریک

دعا کریں یہ سال ہمارے لیے بےشمار برکتوں کا سال ہو۔ اللہ تعالیٰ مخالفین اور دشمنوں کے منصوبے خاک میں ملا دے اور جماعت کو ترقیات سے پہلے سے بڑھ کر نوازے

حضرت مسیح موعودؑکی پڑپوتی مکرمہ ریحانہ باسمہ صاحبہ اہلیہ سیّد سید احمد صاحب ناصر، مکرمہ عفت حلیم صاحبہ نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ لائبیریا اور مکرم عبدالعلیم البربری صاحب آف مصرکا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 02؍جنوری 2026ء بمطابق 02؍صلح 1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

گذشتہ خطبہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ ’’محبت الٰہی‘‘ کے حوالے سے کچھ بیان ہوا تھا۔

اس زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے عمل اور اپنے آقا کی متابعت میں، اتباع میں اس محبت الٰہی کی جھلک ہمیں نظر آتی ہے۔

یہ مثالیں آج بھی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت کے جو اعلیٰ معیار ہیں اور اس کے نتیجہ میں جو اللہ تعالیٰ کے فضل آپؑ پر ہوئے اور جو خدا تعالیٰ سے آپؑ کی محبت تھی اس کو لوگ بھی محسوس کرتے تھے لیکن بہرحال میں باقی کچھ واقعات بیان کرنے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے اپنے الفاظ میں اس محبت کا ذکر کرتا ہوں۔ ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں:

’’میں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ میرا کون سا عمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایتِ الٰہی شاملِ حال ہوئی۔ صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطرتاً میرے دل کو خداتعالیٰ کی طرف وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے جو کسی چیز کے روکنے سے رک نہیں سکتی۔ سو یہ اسی کی عنایت ہے۔‘‘

(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد13صفحہ195-196حاشیہ)

جو اللہ تعالیٰ کے مجھ پر احسانات ہیں۔

جیسا کہ میں نے گذشتہ خطبہ میں بھی ذکر کیا تھا کہ آپؑ نے اس بات کا بھی اظہار کئی جگہ فرمایا ہے کہ یہ سب کچھ مجھے اس لیے ملا کہ میں اللہ تعالیٰ کے محبوب اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرنے والا اور آپؐ سے محبت کرنے والا ہوں اور اس کے نتیجہ میں پھر اللہ تعالیٰ کی محبت کے دروازے بھی مجھ پر کھلتے چلے گئے اور اس کا ادراک بھی مجھے پیدا ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش مجھ پر برستی چلی گئی۔ اسی دلی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے آپؑ کی سیرت بیان کرتے ہوئے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ

’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے لکھا ہے کہ

اَلْمَسَاجِدُ مَکَانِیْ وَالصَّالِحُوْنَ اِخْوَانِی وَذِکْرُ اللّٰہِ مَالِیْ وَخَلْقُ اللّٰہِ عَیَالِیْ۔ میرا مکان مسجدیں ہیں۔ اور صالحین میرے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر میرا مال و دولت ہے۔ اس کی مخلوق میرا کنبہ ہے۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ حصہ سوم صفحہ 402)

یعنی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے گرد ہی گھوم رہا ہے جو آپؑ نے بیان فرمایا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

’’ہم ہر ایک شے سے محض خدا تعالیٰ کے لئے پیار کرتے ہیں۔ بیوی ہو، بچے ہوں دوست ہوں سب سے ہمارا تعلق اللہ تعالیٰ کے لئےہے۔ ‘‘

(ملفوظات جلد1صفحہ423، ایڈیشن 2022ء)

یہی وہ تعلیم ہے جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس تعلیم کو پھیلاؤ اور اس کا سب سے زیادہ اظہار اس زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے عمل کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں :

’’صادق تو ابتلاؤں کے وقت بھی ثابت قدم رہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ آخر خدا ہمارا ہی حامی ہوگا اور یہ عاجز اگرچہ ایسے کامل دوستوں کے وجود سے خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہے لیکن باوجود اس کے یہ بھی ایمان ہے کہ اگرچہ ایک فرد بھی ساتھ نہ رہے اور سب چھوڑ چھاڑ کر اپنا اپنا راہ لیں تب بھی مجھے کچھ خوف نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ اگر میں پیسا جاؤں اور کچلا جاؤں اور ایک ذرّے سے بھی حقیر تر ہو جاؤں اور ہر ایک طرف سے ایذاء اور گالی اور لعنت دیکھوں تب بھی میں آخر فتح یاب ہوں گا۔ مجھ کو کوئی نہیں جانتا مگر وہ جو میرے ساتھ ہے۔ میں ہرگز ضائع نہیں ہوسکتا۔ دشمنوں کی کوششیں عبث ہیں اور حاسدوں کے منصوبے لاحاصل ہیں۔

اے نادانو اور اندھو مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہوا جو میں ضائع ہو جاؤں گا۔ کس سچے وفادار کو خدا نے ذلّت کے ساتھ ہلاک کر دیا جو مجھے ہلاک کرے گا۔ یقیناًیاد رکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونے والی روح نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔ مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ ہیچ ہیں۔ میں کسی کی پرواہ نہیں رکھتا۔ میں اکیلا تھا اور اکیلا رہنے پر ناراض نہیں۔ کیا خدا مجھے چھوڑ دے گا کبھی نہیں چھوڑے گا۔ کیا وہ مجھے ضائع کر دے گا کبھی نہیں ضائع کرے گا۔ دشمن ذلیل ہوں گے اور حاسد شرمندہ اور خدا اپنے بندہ کو ہر میدان میں فتح دے گا۔ میں اس کے ساتھ وہ میرے ساتھ ہے۔ کوئی چیز ہمارا پیوند توڑ نہیں سکتی اور مجھے اس کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس سے زیادہ کوئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اس کے دین کی عظمت ظاہر ہو۔ اس کا جلال چمکے اور اس کا بول بالا ہو۔ کسی ابتلاء سے اس کے فضل کے ساتھ مجھے خوف نہیں اگرچہ ایک ابتلاء نہیں کروڑ ابتلاء ہو… ابتلاؤں کے میدان میں اور دکھوں کے جنگل میں مجھے طاقت دی گئی ہے۔‘‘ فارسی میں آپؑ ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ

’’مَن نَہْ آنَسْتُم کہ رُوزِ جنگ بِینی پُشتِ مَن

آں مَنَمْ کَانْدَرِمیَانِ خاک و خُوں بِینی سَرِے‘‘

یعنی مَیں وہ نہیں کہ جنگ کے دن تم میری پیٹھ دیکھو بلکہ میں وہ ہوں کہ تم میرا سر خاک اور خون کے درمیان دیکھو گے۔ آپؑ ہمیں فرماتے ہیں کہ یہ میری حالت ہے خدا تعالیٰ کی محبت میں۔ جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’پس اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا تو مجھ سے الگ ہو جائے‘‘۔ تکلیفیں تو آئیں گی۔’’ مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پُرخار بادیہ درپیش ہیں جن کو میں نے طے کرنا ہے۔‘‘ پھر فرماتے ہیں :’’کیا ہم زلزلوں سے ڈر سکتے ہیں۔ کیا ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں ابتلاؤں سے خوفناک ہو جائیں گے۔ کیا ہم اپنے پیارے خدا کی کسی آزمائش سے جدا ہو سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں ہو سکتے۔‘‘

(انوارالاسلام، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 23-24)

ایک روایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں۔ جس میں

اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کے دین کی خاطر قربانی کے جذبہ

کا ذکر کرتے ہوئے مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ

مجھے مولوی سرور شاہ صاحب نے بتایا۔ یہ روایت دی ہے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کے ساتھ مقدمہ تھا اور مجسٹریٹ نے تاریخ ڈالی ہوئی تھی اور حضرت صاحبؑ قادیان آئے ہوئے تھے تو حضور ؑنے تاریخ سے دو روز پہلے مجھے گورداسپور بھیجا تا کہ میں جا کر وہاں بعض حوالے نکال کر تیار رکھوں کیونکہ اگلی پیشی میں حوالے پیش ہونے تھے۔ حضورؑ نے میرے ساتھ شیخ حامد علی اور عبدالرحیم باورچی کو بھی گورداسپور بھیجا۔ جب ہم گورداسپور مکان پر آئے تو نیچے سے ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب مرحوم کو آواز دی۔ وہ وہاں تھے کہ وہ نیچے آئیں اور دروازہ کھولیں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف اس وقت مکان میں اوپر ٹھہرے ہوئے تھے۔ ہمارے آواز دینے پر ڈاکٹر صاحب نے بے تاب ہوکر رونا اور چلّا نا شروع کر دیا۔ ہم نے کئی آوازیں دیں مگر وہ اسی طرح روتے رہے آخر تھوڑی دیر بعد وہ آنسو پونچھتے ہوئے نیچے آئے۔ ہم نے سبب پوچھا تو انہوں نے بتایاکہ میرے پاس محمد حسین منشی آیا تھا۔ یہ غیر احمدی عدالت میں ایک منشی تھا۔ مولوی صاحب کہتے تھے کہ محمد حسین مذکور گورداسپور میں کسی کچہری میں محرر یا پیش کار تھا اور سلسلہ کا سخت مخالف تھا اور مولوی محمد حسین بٹالوی کے ملنے والوں میں سے تھا۔ خیر ڈاکٹر صاحب نے بیان کیا۔ یعنی ڈاکٹر صاحب جب نیچے آئے تو انہوں نے بتایا کہ محمد حسین منشی آیا اور اس نے مجھے کہا کہ آج کل یہاں آریوں کا جلسہ ہوا ہے۔ بعض آریہ اپنے دوستوں کو بھی جلسہ میں لے گئے تھے۔ چنانچہ اسی طرح میں بھی وہاں چلا گیا کسی آریہ دوست کے ساتھ۔ جلسہ کی کارروائی کے بعد انتظامیہ نے اعلان کیا کہ اب جلسہ کی کارروائی ہو چکی ہے اب عام لوگ جو ہیں چلے جائیں۔ ہم نے کچھ پرائیویٹ باتیں کرنی ہیں۔ چنانچہ سب غیر لوگ اٹھ گئے۔ مَیں بھی جانے لگا مگر میرے آریہ دوست نے کہا کہ اکٹھے چلیں گے آپ ایک طرف ہو کر بیٹھ جائیں یا باہر انتظار کریں۔ چنانچہ میں وہاں ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا۔ محمد حسین صاحب یہ غیر احمدی ہیں یہ کہتے ہیں۔ پھر آریوں میں سے ایک شخص اٹھا اور مجسٹریٹ کو مرزا صاحب کا نام لے کر کہنے لگا کہ یہ شخص ہمارا سخت دشمن اور ہمارے لیڈر لیکھرام کا قاتل ہے۔ اب وہ آپ کے ہاتھ میں شکار ہے اور ساری قوم کی نظر آپ کی طرف ہے اگر آپ نے اس شکار کو ہاتھ سے جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہوں گے۔ اس شخص نے اسی قسم کی جوش دلانے کی باتیں کیں۔ اس پر مجسٹریٹ نے جواب دیا کہ میرا تو پہلے سے خیال ہے کہ ہو سکے تو نہ صرف مرزا کو بلکہ اس مقدمہ میں جتنے بھی اس کے ساتھی اور گواہ ہیں سب کو جہنم میں پہنچا دوں مگر کیا کیا جائے کہ مقدمہ ایسی ہوشیاری سے چلایا جارہا ہے کہ کوئی ہاتھ ڈالنے کی جگہ نہیں ملتی لیکن اب میں عہد کرتا ہوں کہ خواہ کچھ ہو اس پہلی پیشی میں ہی عدالتی کارروائی عمل میں لے آؤں گا۔ مولوی صاحب کہتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب بیان کرتے تھے کہ محمد حسین مجھ سے کہتا تھا کہ آپ نہیں سمجھ رہے ہوں گے کہ عدالتی کارروائی سے کیا مراد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مجسٹریٹ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ شروع یا دوران مقدمہ جب چاہے ملزم کو بغیر ضمانت قبول کیے گرفتار کر کے حوالات میں دے دے۔ محمد حسین نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کے سلسلہ کا سخت مخالف ہوں۔ مولوی محمد حسین کا پیرو تھا ،مخالف بھی تھا ،نام بھی وہی تھا مگر مجھ میں یہ بات ہے کہ میں کسی معزز خاندان کو ذلیل و برباد ہوتے خصوصاً ہندوؤں کے ہاتھ سے ذلیل ہوتے نہیں دیکھ سکتا اور میں جانتا ہوں کہ مرزا صاحب کا خاندان ضلع میں سب سے زیادہ معزز ہے۔ پس میں نے آپ کو یہ خبر پہنچادی ہے کہ آپ اس کا کوئی انتظام کر لیں۔ میرے خیال میں اس نے پھر اپنا خیال بھی ظاہر کیا کہ دو تجاویزہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ چیف کورٹ میں یہاں سے مقدمہ تبدیل کرانے کی کوشش کی جائے۔ ہائی کورٹ کو اس زمانے میں چیف کورٹ کہتے تھے۔ اور دوسرے یہ کہ خواہ کسی طرح مرزا صاحب اس آئندہ پیشی میں عدالت میں حاضر نہ ہوں اور ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ پیش کر دیں۔ مولوی صاحب نے بیان کیا کہ جب ڈاکٹر صاحب نے یہ واقعہ سنایا تو ہم سب بھی سخت خوف زدہ ہو گئے اور فیصلہ کیا کہ اسی وقت قادیان کوئی آدمی روانہ کر دیا جائے جو حضرت صاحبؑ  کو یہ واقعات سنا دے۔ رات ہو چکی تھی ہم نے یکہ تلاش کیا۔ سواری تلاش کی ٹانگے کی یا گھوڑے کی اور گو کئی یکے موجود تھے مگر مخالفت کا اتنا جوش تھا کہ کوئی یکہ نہ ملتا تھا۔ سواری کوئی نہیں مل رہی تھی۔ کسی نے حامی نہیں بھری۔ سب انکار کرتے تھے۔ ہم نے چار گنے کرایہ دینے کا کہا مگر کوئی یکہ والا راضی نہ ہوا۔ آخر ہم نے شیخ حامد علی اور عبدالرحیم باور چی اور ایک تیسرے شخص کو قادیان پیدل روانہ کیا۔ وہ صبح کی نماز کے وقت قادیان پہنچے اور حضرت صاحبؑ سے مختصر اًعرض کیا۔ حضورؑ نے بے پروائی سے فرمایا خیر ہم بٹالہ چلتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو فرمایا کہ خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب لاہور سے واپس آتے ہوئے ہمیں وہاں مل لیں گے۔ خواجہ صاحب مولوی محمد علی صاحب لاہور سے وہاں آ رہے ہیں۔ وہیں ملاقات ہوگی۔ ان سے ہم یہ ساری بات جو بتا رہے تھے ذکر کریں گے اور وہاں پتہ لگ جائے گا کہ تبدیل مقدمہ کی کوشش کا کیا بنا۔ مجسٹریٹ کی جانبداری کو بھانپ کر ہمارے وکلاء نے پہلے ہی کسی دوسری عدالت میں مقدمہ منتقل کرنے کی چیف کورٹ میں درخواست دی ہوئی تھی۔

چنانچہ اسی دن حضورؑ بٹالہ آگئے۔ گاڑی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب بھی مل گئے انہوں نے خبر دی کہ تبدیل مقدمہ کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ چیف کورٹ میں مقدمہ ٹرانسفر کرنے کی جو درخواست دی تھی اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ پھر حضرت صاحب ؑگورداسپور چلے آئے اور راستہ میں خواجہ صاحب اور مولوی صاحب کو اس واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں دی۔ آپ نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی کہ وہ کیا خبر پہنچی ہے۔ جب آپ گورداسپور مکان پر پہنچے جہاں ٹھہرنا تھا تو حسب عادت حضرت مسیح موعود علیہ السلام الگ کمرے میں چار پائی پر چلے گئے۔ جا لیٹے۔ مگر مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت ہمارے بدن کے رونگٹے کھڑے تھے کہ اب کیا ہوگا؟ مجسٹریٹ نے بڑا پکا وعدہ کیا ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ حضورؑ نے تھوڑی دیر کے بعد مجھے، مولوی صاحب کو بلایا۔ کہتے ہیں مَیں گیا تو اس وقت حضرت صاحبؑ نے اپنے دونوں ہاتھوں کے پنجے ملا کر اپنے سر کے نیچے دیئے ہوئے تھے اور چت لیٹے ہوئے تھے۔ (سیدھے لیٹے ہوئے تھے۔) میرے جانے پر ایک پہلو پر ہو کر کہنی کے بل اپنی ہتھیلی پر سر کا سہارا دے کر لیٹ گئے اور مجھ سے فرمایا: میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ وہ سارا واقعہ سنوں کہ کیا ہے؟ اس وقت کمرے میں اَور کوئی آدمی نہیں تھا۔ صرف دروازے پر میاں شادی خان کھڑے تھے۔ میں نے سارا واقعہ سنایا کہ کس طرح ہم نے یہاں آکر ڈاکٹر اسماعیل خان صاحب کو روتے ہوئے پایا۔ پھر کس طرح ڈاکٹر صاحب نے منشی محمد حسین کے آنے کا واقعہ سنایا اور پھر محمد حسین نے کیا واقعہ سنایا۔ حضورؑ خاموشی سے سنتے رہے۔ جب میں شکار کے لفظ پر پہنچا۔ یعنی اس نے کہا تھا ناںکہ شکار میرے ہاتھ میں ہے تو

یکلخت حضرت صاحبؑ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ آپؑ کی آنکھیں چمک اٹھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا اور آپؑ نے فرمایا:

میں اس کا شکار ہوں ؟ میں شکار نہیں ہوں۔ میں شیر ہوں اور شیر بھی خدا کا شیر۔ وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ ایسا کرکے تو دیکھے۔

یہ الفاظ کہتے ہوئے آپؑ کی آواز اتنی بلند ہوگئی کہ کمرے کے باہر بھی سب لوگ چونک اٹھے اور حیرت کے ساتھ متوجہ ہو گئے مگر کمرے کے اندر کوئی بھی نہیں آیا۔ حضورؑ نے کئی دفعہ خدا کے شیر کے الفاظ دہرائے اور اس وقت آپ کی آنکھیں جو ہمیشہ جھکی ہوئی اور نیم بند رہتی تھیں واقعی شیر کی آنکھوں کی طرح کھل کر شعلہ کی طرح چمکتی تھیں اور چہرہ اتنا سرخ تھا کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔ بات کرنے کے بعد پھر آپؑ نے فرمایا کہ

مَیں کیا کروں۔

مَیں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہننے کو تیار ہوں۔

یعنی ہتھکڑیاں مجھے لگ جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ زنجیریں پہننے کے لیے تیار ہوں کچھ نہیں ہوتا بلکہ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا مگر وہ کہتا ہے یعنی

اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ نہیں۔ میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا۔

پھر آپؑ نےمحبت الٰہی پر تقریر فرمائی اور قریبا ًنصف گھنٹہ تک جوش کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت میں بولتے رہے۔

(ماخوذ از سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 107)

اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت میں قربانی کا ایک عجیب تصوّر ہے۔ آپؑ کو کتنا بھروسہ تھا اللہ تعالیٰ کی ذات پر اور یہ بھروسہ ہونا محبت الٰہی کا نتیجہ تھا اور یہ یقین تھا کہ چونکہ مَیں اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہوں اور اس کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار ہوں اس لیے اللہ تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا۔

اسی طرح کا ایک اَور واقعہ ہے۔ ایک بار جب سپرنٹنڈنٹ پولیس کیپٹن لِیْمَارچَنْد لیکھرام کے قتل کے شبہ میں اپنے سپاہیوں کے لاؤ لشکر کے ساتھ اچانک قادیان آیا اور حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو وہ سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس گئے اور رندھی ہوئی آواز میں بمشکل عرض کیا کہ سپرنٹنڈنٹ وارنٹ گرفتاری کے ساتھ ہتھکڑیاں لیے ہوئے آرہا ہے۔ حضرت اقدسؑ اس وقت اپنی کتاب نورالقرآن تصنیف فرما رہے تھے۔ سر اٹھا کر اطمینان سے مسکراتے ہوئے آپؑ نے فرمایا کہ

میر صاحب! لوگ خوشیوں میں چاندی سونے کے کنگن پہنا کرتے ہیں تو ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لیے۔ پھر ذرا تامّل کے بعد فرمایا مگر ایسا نہیں ہو گا کیونکہ خدا تعالیٰ کی اپنی گورنمنٹ کے مصالح ہوتے ہیں۔ وہ اپنے خلفاء و مامورین کی ایسی رسوائی نہیں کرتا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔

(ماخوذاز الحکم جلد 39مورخہ7جون1936ء صفحہ 3)

(ماخوذاز الحکم جلد3مورخہ 10جولائی 1899ء صفحہ1-2)

اسی طرح ایک روایت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ نے تحریر کی ہے۔ کہتے ہیں کہ

’’ایک دفعہ آپ نے جالندھر کے مقام میں فرمایا۔ ابتلاء کے وقت ہمیں اندیشہ اپنی جماعت کے بعض ضعیف دلوں کا ہوتا ہے۔‘‘جماعت کے جو ضعیف دل لوگ ہیں ان کی مجھے فکر ہوتی ہے۔ یعنی ابتلاتو آتے ہیں مقدمات بھی ہوتے ہیں اور مخالفتیں بھی ہوتی تھیں آپ کی بھی اور آپ کی جماعت کے افراد کی بھی تو ایسے وقت میں آپؑ نے فرمایا کہ ہمیں اندیشہ اپنی جماعت کے بعض ضعیف دلوں کا ہوتا ہے۔ بعض کمزور ایمان والوں کاہوتا ہے۔ پھر فرمایا :

’’میرا تو یہ حال ہے کہ اگر مجھے صاف آواز آوے کہ تو مخذول ہے اور تیری کوئی مراد ہم پوری نہ کریں گے تو مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اس عشق اور محبت الٰہی اور خدمتِ دین میں کوئی کمی واقع نہ ہو گی۔‘‘تب بھی میں اللہ کو نہیں چھوڑوں گا۔ محبت کم نہیں ہوگی۔ ’’اس لیے کہ میں تو اسے دیکھ چکا ہوں۔ ‘‘

(سیرت مسیح موعودؑ از حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ صفحہ 53)

میرا تو اللہ تعالیٰ پر توکّل اور یقین ہے میرے میں تو محبت کی کوئی کمی نہیں ہو گی چاہے جو مرضی ہوجائے۔

اسی طرح نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ ایک روایت بیان فرماتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ

’’اپنے سب سے بڑھ کر محبوب ذات باری تعالیٰ کا عشق بھی جو آپؑ کے روح و تن کے ذرّے ذرّے میں موجزن تھا آپؑ کے ہر ہر قول و فعل سے ہر وقت نمایاں نظر آتا تھا۔ میں نے بغیر اوقات نماز کے بھی آپ کو اپنے رب کریم کو تڑپ تڑپ کر پکارتے سنا ہے۔‘‘

صرف نمازوں کے وقت میں نہیں بلکہ عام حالات میں بھی تڑپ تڑپ کر دعا میں پکارتے سنا ہے اور آپؑ کیا کہتے تھے کہ ’’’’میرے پیارے اللہ۔ میرے پیارے اللہ ‘‘ میرے پیارے اللہ۔اس آواز سے پکارتے جاتے تھے اور یہ’’کی آواز گویا‘‘ آپؓ کہتی ہیں کہ میں ’’اس وقت بھی سن رہی ہوں ‘‘میرے کانوں میں گونج رہی ہے ’’اور آپؑ کے آنسو بہتے دیکھ رہی ہوں۔ ‘‘مَیں۔ یہ نظارہ میرے سامنے ہے۔ آپ نے اس وقت کا ایک نقشہ کھینچاہے’’اپنے پیارے ازلی ابدی خدا تعالیٰ کے لیے غیرت کا ایک نمونہ چشم دید پیش کرتی ہوں۔ ‘‘ آپؓ فرماتی ہیں کہ یہ تو دعاؤں کی حالت تھی جو میں نے دیکھی تھی لیکن ایک واقعہ بھی پیش کر دیتی ہوں۔ لکھتی ہیں کہ’’ آپؑ حجرہ میں تھے باہر جانے کو تیار تھے‘‘ کہیں جا رہے تھے باہر۔ ’’میں آپ کے پاس تھی… ہماری تائی صاحبہ کی خادمہ خاص( جو تائی صاحبہ کے قریباً ساتھ ہی احمدی بھی ہو گئی اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہے) حضرت اماں جان کے پاس آئی اور اپنی طرف سے عزیز داری سمجھ کر آپ کے پاس ہمارے چچا مرزا امام الدین کی وفات پر اظہار افسوس کرنے لگی۔ جس وقت اس کے منہ سے یہ لفظ نکل رہے تھے کہ’’بڑا ہی چنگا بندہ سی…‘‘‘‘پنجابی میں کہا۔‘‘حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام باہر نکلے۔ آپؑ کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا۔ آپ نے اپنا عصا زمین پر مار کر کہا

’’ بدبخت تُو میرے گھر میں میرے خدا کے دشمن کی تعریف کرتی ہے۔‘‘’’مرزا امام الدین صاحب تو اسلام سے برگشتہ تھے اور اللہ تعالیٰ کا استہزا کیا کرتے تھے۔ آپؑ کی غیرت نے برداشت نہیں کیا کہ گھرمیں بیٹھ کر اس کا ذکر ہو۔ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ لکھتی ہیں کہ’’ ایسا جلال آپؑ کی آواز میں تھا کہ وہ وہاں سے سرپٹ بھاگی۔

مرزا امام الدین صاحب دہریہ تھے۔ آپ کب گوارا کر سکتے تھے کہ آپ ؑکے گھرمیں ایک دہریہ کی اس قدر تعریف ہو۔ ‘‘

(تحریرات مبارکہ صفحہ 223-224)

آپؑ نے اپنے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں بچپن اور جوانی سے ہی خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنا وقت گزارا ہے۔

ایک روایت میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ  لکھتے ہیں کہ

ایک’’ سکھ زمیندار کا بیان ہے جس نے حضرت مسیح موعودؑ کو ہمارے دادا کی طرف سے نوکری کا پیغام لاکر دیا تھا کہ ایک دفعہ ایک بڑے افسر یا رئیس نے ہمارے دادا صاحب سے پوچھا کہ سنتا ہوں کہ آپ کا ایک چھوٹا لڑکا بھی ہے مگر ہم نے اسے کبھی دیکھا نہیں۔ دادا صاحب نے،‘‘حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد نے ‘‘مسکراتے ہوئے فرمایاکہ

ہاں میرا ایک چھوٹا لڑکا تو ہے مگر وہ تازہ شادی شدہ دلہنوں کی طرح کم ہی نظر آتا ہے۔ اگر اسے دیکھنا ہو تو مسجد کے کسی گوشہ میں جا کردیکھ لیں۔ وہ تو مسیتڑ ہے۔‘‘

(سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے صفحہ 9-10)

اس روایت کو معراج دین صاحب عمر نے بھی مزید وضاحت سے لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ’’مسجد میں جا کر سقاوا کی ٹونٹی میں تلاش کرو۔‘‘ وہاں جو وضو کرنے کی جگہ ہے، پانی کی ٹینکی ہے، ٹوٹیاں ہیں وہاں جا کے تلاش کرو۔’’ اگر وہاں نہ ملے تو مایوس ہو کر واپس مت آنا۔ مسجد کے اندر چلے جانا اور وہاں کسی گوشہ میں تلاش کرنا۔‘‘اگر وہاں بھی نہ ملے تو پھر بھی ناامید ہوکر لوٹ مت آنا۔ کسی صف میں دیکھنا کہ کوئی اس کو لپیٹ کر کھڑا کر گیا ہو گا کیونکہ وہ تو زندگی میں مرا ہوا ہے’’ کیونکہ فنا فی اللہ ہونے کی اتنی حالت ہو چکی ہے کہ’’اور اگر کوئی اسے صف میں لپیٹ دے تو وہ آگے سے حرکت بھی نہیں کرے گا۔‘‘

(حضرت مسیح موعودؑ کے مختصرحالات از معراج الدین عمرصاحب صفحہ 67)

پتہ بھی نہیں لگے گا۔

اسی طرح مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے ایک اور روایت بیان کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ

’’بیان کیا مجھ سے حاجی عبدالمجید صاحب لدھیانوی نے کہ ایک دفعہ حضورؑ لدھیانہ میں تھے۔ میرے مکان میں ایک نیم کا درخت تھا چونکہ برسات کا موسم تھا اس کے پتے بڑے خوشنما طور پر سبز تھے۔ حضورؑ نے مجھے فرمایا حاجی صاحب اس درخت کے پتوں کی طرف دیکھئے کیسے خوشنما ہیں۔ حاجی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اس وقت دیکھا کہ آپؑ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ ‘‘

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 95)

اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی محبت آپ کو یاد آ گئی اور اس وجہ سے اس وقت آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

’’یہاں ایک شخص تھے بعد میں وہ بہت مخلص احمدی ہو گئے اور حضرت صاحبؑ سے ان کا بڑا تعلق تھا مگر احمدی ہونے سے قبل حضرت صاحبؑ ان سے بیس سال تک ناراض رہے۔ وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحبؑ  کو ان کی ایک بات سے سخت انقباض ہو گیا اور وہ اس طرح کہ ان کا ایک لڑکا مر گیا۔ حضرت صاحبؑ اپنے بھائی کے ساتھ ان کے ہاں ماتم پرسی کے لیے گئے‘‘ افسوس کرنے گئے۔’’ ان میں قاعدہ تھا کہ جب کوئی شخص آتا اور اس سے ان کے بہت دوستانہ تعلقات ہوتے تو اس سے بغل گیر ہو کر روتے اور چیخیں مارتے تھے۔ اسی کے مطابق انہوں نے حضرت صاحبؑ کے بڑے بھائی سے بغل گیر ہو کر’’گلے مل کر ‘‘روتے ہوئے کہا کہ خدا نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے۔ یہ سن کر حضرت صاحبؑ  کو ایسی نفرت ہو گئی کہ ان کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ بعد میں خدا نے انہیں توفیق دی اور وہ’’شخص ‘‘ان جہالتوں سے نکل آئے‘‘۔

(تقدیر الٰہی، انوارالعلوم جلد4 صفحہ606-607)

اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے ایک اَور روایت بیان کی ہے۔

کہتے ہیں: منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلویؓ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دوران سر کا عارضہ تھا۔ چکروں کی تکلیف تھی۔ ایک طبیب کے متعلق سنا گیا کہ وہ اس میں خاص ملکہ رکھتا ہے۔ اس بیماری کا علاج کرتا ہے۔ اسے بلوایا گیا کرایہ بھیج کر اور کہیں دور سے۔ اس نے حضور ؑکو دیکھا اور کہا کہ دودن میں آپ کو آرام کر دوں گا۔ میں آپ کو ٹھیک کر دوں گا۔ یہ سن کر حضرت صاحبؑ اندر چلے گئے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب ؓکو رقعہ لکھا کہ

اس شخص سے مَیں علاج ہرگز نہیں کرانا چاہتا۔ یہ کیا خدائی کا دعوی کرتا ہے۔ اس کو واپسی کرایہ کے رو پیہ اور مزید پچیس روپے دے کر بھیج دیں

اور اپنے اندر سے بھیجا کہ یہ اس کو دے دیں اور اس کو رخصت کر دیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ آپؑ نے فرمایا

یہ کہتا ہے کہ میں ٹھیک کر دوں گا۔ خدا تعالیٰ کے علاوہ کون ہے ٹھیک کرنے والا۔ اصل شافی تو خدا تعالیٰ کی ذات تھی۔

(ماخوذاز سیرت المہدی جلد دوم روایت نمبر 1038)

اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلویؓ کی ایک اَور روایت بیان کرتے ہیں کہ ’’چوہدری رستم علی خاں صاحب مرحوم انسپکٹر ریلوے تھے۔ ایک سو پچاس روپیہ ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔ بڑے مخلص اورہماری جماعت میں قابل ذکر آدمی تھے۔ وہ بیس روپیہ ماہوار اپنے پاس رکھ کر باقی کل تنخواہ حضرت صاحب ؑکو بھیج دیتے تھے۔ ہمیشہ ان کا یہ قاعدہ تھا۔ ان کے محض ایک لڑکا تھا۔ وہ بیمار ہوا تو وہ اسے قادیان لے آئے مع اپنی اہلیہ کے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان میں قیام پذیر ہوئے۔ حضرت اقدسؑ نے ایک دن فرمایا کہ رات میں نے رویاء دیکھا کہ میرے خدا کو کوئی گالیاں دیتا ہے۔ مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا۔ جب آپؑ نے رویاء کا ذکر فرمایا تو اس سے اگلے روز چوہدری صاحب کا لڑکا فوت ہو گیا کیونکہ ایک ہی لڑکا تھا۔ اس کی والدہ نے بہت جزع فزع کی اور اس حالت میں اس کے منہ سے نکلا۔ ارے ظالم! تُو نے مجھ پر بڑا ظلم کیا۔‘‘ یعنی خدا کو مخاطب کیا۔ ’’ایسے الفاظ وہ کہتی رہی جو حضرت صاحبؑ نے سن لیے۔ اسی وقت آپؑ باہر تشریف لائے اور آپؑ کو بڑا رنج معلوم ہوتا تھا اور بڑے جوش سے آپؑ نے فرمایا کہ اسی وقت وہ مرد و عورت میرے گھر سے نکل جائے۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ؓکی والدہ جو بڑی دانشمند اور فہمیدہ تھیں انہوں نے چوہدری صاحب کی بیوی کو سمجھایا اور کہا کہ حضرت صاحب ؑسخت ناراض ہیں۔ اس نے توبہ کی اور معافی مانگی اور کہا کہ اب میں رونے کی بھی نہیں۔ میر صاحب ؓکی والدہ نے حضرت صاحبؑ سے آکر ذکر کیا کہ اب معافی دیں۔ وہ تو بہ کرتی ہے اور اس نے رونا بھی بند کر دیا ہے۔ حضرت صاحبؑ نے فرمایا کہ اچھا اسے رہنے دو اور تجہیز وتکفین کا انتظام کرو۔ ‘‘

(سیرت المہدی جلد دوم روایت نمبر 1119)

شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے تاثرات تحریر فرماتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تاثرات ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں۔ عرفانی صاحب ؓنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الفاظ میں لکھا ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ

’’جب کبھی ڈلہوزی جانے کا مجھے اتفاق ہوتا تو پہاڑوں کے سبزہ زار حصوں اور بہتے ہوئے پانیوں کو دیکھ کر طبیعت میں بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کا جوش پیدا ہوتا اور عبادت میں ایک مزا آتا۔ میں دیکھتا تھا کہ تنہائی کے لیے وہاں اچھا موقع ملتا ہے۔‘‘

(حیات احمد جلد اول حصہ اول صفحہ 85)

اسی طرح اس لذّت اور عشق و محبت کا ذکر کرتے ہوئے آپؑ نے ایک جگہ فرمایا:

’’ایک لذیذ محبت الٰہی جو لذّتِ وصال سے پرورش یاب ہے ان کے دلوں میں رکھی جاتی ہے۔ اگر ان کے وجودوں کو ’’یعنی کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کو، اگر ان کے وجودوں کو‘‘ ہاونِ مَصَائب میں پیسا جائے اور سخت شکنجوں میں دے کر نچوڑا جائے تو ان کا عرق بجز حُبِّ الٰہی کے اَور کچھ نہیں۔ ‘‘

(سرمہ چشم آریہ،روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 79حاشیہ)

یعنی ایسی محبت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ سے محبت کرے والوں کے دلوں میں کہ چاہے ان کو ہاون میں پیسو، جو پیسنے والا کنڈی ڈنڈا ہے یا گرائنڈر میں رکھ کر پیس دو ،چاہے ان کو نچوڑ دو،ان کا رس نچوڑو،کسی شکنجے میں ڈال دو لیکن وہاں محبت الٰہی کے علاوہ کچھ تمہیں نظر نہیں آئے گا۔

ایک اَور روایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے ملک مولا بخش صاحب سے بیان کی ہے کہ

’’صاحبزادہ مبارک احمد صاحب مرحوم جب بیمار تھے تو ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشویش اور فکر کا علم ہوتا رہتا تھا۔ جب صاحبزادہ صاحب فوت ہو گئے تو سردار فضل حق صاحب اور ڈاکٹر عباد اللہ صاحب مرحوم اور بندہ ’’یعنی کہ وہ خود ‘‘بخیال تعزیت قادیان آئے۔ لیکن جب حضورؑ مسجد میں تشریف لائے تو حضورؑ حسب سابق بلکہ زیادہ خوش تھے‘‘ نظر آ رہے تھے ہمیں۔ ‘‘ صاحبزادہ مرحوم کی وفات کا ذکر آیا تو حضورؑ نے فرمایا کہ

مبارک احمد فوت ہو گیا۔ میرے مولا کی بات پوری ہوئی۔ اس نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ یہ لڑکا یا تو جلد ی فوت ہو جائے گایا بہت باخدا ہو گا۔ پس اللہ نے اس کو بلا لیا۔ ایک مبارک احمد کیا اگر ہزار بیٹا ہواور ہزار ہی فوت ہو جائے مگر میرا مولیٰ خوش ہو۔ اس کی بات پوری ہو میری خوشی اسی میں ہے۔

یہ حالات دیکھ کر ’’کہتے ہیں ہم افسوس کرنے گئے تھے‘‘ ہم میں سے کسی کو افسوس کے اظہار کی جرأت نہ ہوئی۔‘‘

(سیرت المہدی جلد دوم روایت نمبر 1191)

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ؓلکھتی ہیں

’’اللہ تعالیٰ کی ذات پاک سے آپ کا عشق صادق ہر وقت نظر آتا تھا۔ میں نے ایک بار آپ کو دعا کرتے اور روتے دیکھا۔ بہت درد سے اپنے مولیٰ، اپنے محبوب کو پکار رہے تھے اوربار بار’’میرے پیارے اللہ۔ میرے پیارے اللہ‘‘ آپ کی زبان پر جاری ہوتا تھا۔

یہ میرا دیکھا ہوا ہے خود…

آپ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ عاشق تھے اپنے ربّ اعلیٰ کے۔ آپؑ کے چہرے پر اسی کے عشق کا نور تھا۔ آپؑ کی زبان پر وہی نور جاری تھا۔ آپؑ کی زبان سے اسی نور کے چشمے جاری تھے مگر آنکھوں کے اندھے دیکھ نہ سکے۔ ‘‘

(تحریرات مبارکہ صفحہ 312-313)

لدھیانہ کے معروف صوفی بزرگ حضرت منشی احمد جان صاحب حج پر جانے لگے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے انہیں حج پر جانے سے قبل ایک خط لکھا۔ اس میں لکھتے ہیں کہ

’’ اس عاجز ناکارہ کی ایک عاجزانہ التماس یاد رکھیں کہ جب آپ کو بیت اللہ کی زیارت بفضل اللہ تعالیٰ میسر ہو تو اس مقام محمود مبارک میں اس احقر عباداللہ کی طرف سے انہی لفظوں سے مسکنت و غربت کے ہاتھ بھنور دل اٹھا کر گزارش کریں کہ

’’اے ارحم الراحمین! ایک تیرا بندہ عاجز و ناکارہ، پُرخطا اور نالائق غلام احمد جو تیری زمین ملک ہند میں ہے اس کی یہ عرض ہے کہ اے ارحم الراحمین تُو مجھ سے راضی ہو اور میرے خَطِیَّات اور گناہوں کو بخش کہ تُو غفورا ور رحیم ہے اور مجھ سے وہ کرا جس سے تُو بہت ہی راضی ہو جائے۔ مجھ میں اور میرے نفس میں مشرق اور مغرب کی دوری ڈال اور میری زندگی اور میری موت اور میری ہر ایک قوت جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کر اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار اور اپنے ہی کامل محبّین میں اٹھا۔ اے ارحم الراحمین! جس کام کی اشاعت کے لیے تُو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لیے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچااور عاجز کے ہاتھ سے حجت اسلام مخالفین پر اور ان سب پر جو اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر اور اس عاجز اور مخلصوں اور ہم مشربوں کو مغفرت اور مہربانی کےحمایت میں رکھ کر دین اور دنیا میں ان کا متکفل ہوجا اور سب کو اپنے دارالرضا میں پہنچا اور اس کے آل و اصحاب پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام اور برکات نازل کر۔ ‘‘

(سیرت مسیح موعودؑ از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓ صفحہ541-542)

میں نے پوری دعا کے بعض حصے پڑھے ہیں۔ شاید بیچ میں سے رہ بھی گئے ہیں۔ بہرحال حضرت منشی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے حکم کے مطابق اپنی جماعت کے ساتھ اس سال حج اکبر کے موقع پر بیت اللہ اور عرفات میں یہ دعا کی۔

ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح اس کا ایک ایک لفظ آپؑ کی محبت الٰہی سے رنگین ہے۔ خدائے واحد سے محبت کا اظہار ہوتا ہے اور آپؑ کا خدا سے عشق الفاظ کے روئیں روئیں سے پھوٹتا نظر آتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں :’’میں کہتا ہوں کہ اگر مجھے اس امر کا یقین دلا دیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزا دی جاوے گی تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ ان تکلیفوں اور بلاؤں کو ایک لذّت اور محبت کے جوش اور شوق کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہے اور باوجود ایسے یقین کے جو عذاب اور دکھ کی صورت میں دلایا جاوے کبھی خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری سے ایک قدم باہر نکلنے کو ہزار بلکہ لا انتہا موت سے بڑھ کر اور دکھوں اور مصائب کا مجموعہ قرار دیتی ہے۔ ‘‘

(ملفوظات جلد 2 صفحہ 517، ایڈیشن 2022ء)

پھر فرمایا:

’’کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔

ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔ یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ مَیں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔ کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لیے لوگوں کے کان کھلیں۔

اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقیناًسمجھو کہ خداتمہارا ہی ہے۔ تم سوئے ہوئے ہوگے اور خدا تعالیٰ تمہارے لیے جاگے گا۔ تم دشمن سے غافل ہوگے اور خدا اسے دیکھے گا اور اس کے منصوبے کو توڑے گا۔ تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں اور اگر تم جانتے تو تم پر کوئی ایسا دن نہ آتا کہ تم دنیا کے لیے سخت غمگین ہو جاتے۔ ایک شخص جو ایک خزانہ اپنے پاس رکھتا ہے کیا وہ ایک پیسہ کے ضائع ہونے سے روتا ہے اور چیخیں مارتا ہے اور ہلاک ہونے لگتا ہے۔ پھر اگر تم کو اس خزانہ کی اطلاع ہوتی کہ خدا تمہارا ہر ایک حاجت کے وقت کام آنے والا ہے تو تم دنیا کے لیے ایسے بے خود کیوں ہوتے۔ خدا ایک پیارا خزانہ ہے اس کی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر ایک قدم میں تمہارا مددگار ہے تم بغیر اس کے کچھ بھی نہیں اور نہ تمہارے اسباب اور تدبیریں کچھ چیز ہیں۔ ‘‘

(کشتیٔ نوح، رو حانی خزائن جلد 19 صفحہ21-22)

پھر خدا سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے بڑے پیارے انداز میں آپؑ نے فرمایا’’او میرے‘‘ خدا میرے ’’مولیٰ! میرے پیارے مالک! میرے محبوب! میرے معشوق! دنیا کہتی ہے‘‘ یعنی اپنے آپ کو کہہ رہے ہیں کہ دنیامجھے کہتی ہے کہ’’ تُو کافر ہے مگر کیا تجھ سے پیارا مجھے کوئی اور مل سکتا ہے۔ اگر ہو تو اس کی خاطر تجھے چھوڑ دوں لیکن

میں تو دیکھتا ہوں کہ جب لوگ دنیا سے غافل ہو جاتے ہیں ،جب میرے دوستوں اور دشمنوں کو علم تک نہیں ہوتا کہ میں کس حالت میں ہوں ،اس وقت تُو مجھے جگاتا ہے اور محبت سے پیار سے فرماتا ہے کہ غم نہ کھا میں تیرے ساتھ ہوں۔ تو پھر اے میرے مولیٰ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس احسان کے ہوتے ہوئے پھر بھی مَیں تجھے چھوڑ دوں۔ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ ‘‘

(سیرت حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ تقریر از مولانا شریف امینی صاحب صفحہ 23-24)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ’’میں ان نشانوں کو شمار نہیں کرسکتا جو مجھے معلوم ہیں۔ میں تجھے پہچانتا ہوں کہ تُو ہی میرا خدا ہے۔‘‘ آپؑ نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اس لئے میری روح تیرے نام سے ایسی اُچھلتی ہے جیسا کہ شیر خوار بچہ ماں کے دیکھنے سے لیکن اکثر لوگوں نے مجھے نہیں پہچانا اور نہ قبول کیاہے۔ ‘‘

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15صفحہ 511)

پس یہ محبت الٰہی اور عشق الٰہی تھا جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو اپنے آقا کی اتباع میں اللہ تعالیٰ سے پیدا ہوا اور اس کی تلقین آپؑ نے اپنی جماعت کو بھی فرمائی۔ آپؑ نے فرمایا کہ ہر قربانی کے لیے تیار رہو۔ جب تم اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کرو گے ،اس سے محبت کا اظہار کرو گےاور اس کا حق ادا کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی تم سے ایسی ہی محبت کرے گا کہ ہر دشمن سے تمہیں بچائے گا، ہر تکلیف سے تمہیں بچائے گا اور اس کی رضا کی خاطر تم جو بھی کام کرو گے اس پر اللہ تعالیٰ تمہیں بےشمار نوازے گا اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اللہ تعالیٰ کا ایسا محبوب بنائے، محبت کرنے والا بنائے۔

لوگ جانتے ہیں کہ

کل سے نیا سال شروع ہو چکا ہے

ایک دوسرے کو مبارکبادیں بھی دے رہے ہیں۔

دعا کریں یہ سال ہمارے لیے بےشمار برکتوں کا سال ہو۔ اللہ تعالیٰ مخالفین اور دشمنوں کے منصوبے خاک میں ملا دے اور جماعت کو ترقیات سے پہلے سے بڑھ کر نوازے۔

ہم جو باہر کے ملکوں میں ہیں خاص طور پر آزاد ملکوں میں آزاد ہیں اور نئے سال کی خوشیاں منا رہے ہیں بلکہ پاکستان وغیرہ میں بھی لوگ منا رہے ہیں۔ ایسے وقت میں

اسیر بھائیوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

پاکستان کی جیلوں میں جیسا کہ گذشتہ دنوں میں نے مبارک ثانی صاحب کا بتایا تھا ان کو عمر قید کی سزا دی اور دوسرے اسیر ہیں جو قید و بند کی حالت میں ہیں۔ اس حال میں بھی وہ نئے سال میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہوئے داخل ہو رہے ہیں۔ انہیں کوئی شکوہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رضاکی خاطر انہوں نے لوہے کے کڑے پہنے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی رہائی کے جلد سامان پیدا فرمائے۔ ہمیں بھی اور ان اسیروں اور مشکل میں گرفتار سب احمدیوں کو اللہ تعالیٰ کی محبت کا ادراک پہلے سے بڑھ کر حاصل ہو۔ مشکلات کی وجہ سے ہماری اللہ تعالیٰ سے محبت میں کمی ہونے کی بجائے پہلے سے زیادہ اس میں اضافہ ہو۔ مظلوموں کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کے تمام مظلوموں کو ظالموں کے پنجے سے چھڑائے اور دنیا میں امن قائم ہو۔

نماز کے بعد مَیں

جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔

تین جنازے غائب ہیں۔ پہلا ذکر

ریحانہ باسمہ صاحبہ کا ہے جو سیّد سید احمد صاحب ناصرکی اہلیہ

تھیں۔ نوّے سال کی عمر میں گذشتہ دنوں وفات پا گئیں۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی پڑپوتی، حضرت مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پوتی، حضرت مرزا عزیز احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نواسی تھیں۔ شادی کے بعد یہ ایسٹ افریقہ میں اپنے خاوند کے ساتھ چلی گئیں۔ کینیا میں ان کاقیام تھا اور وہاں بھی انہوں نے لجنہ کے کام کیے، خدمت کی اور کافی تنظیمی سطح پر خدمت کرتی رہیں۔ ان کے تین بیٹے ہیں ایک انیس احمد ہیں۔ ان کے دو بیٹے واقف زندگی ہیں۔ سید طاہر احمد ایڈیشنل ناظر اشاعت ہیں انجمن احمدیہ ربوہ میں اور سید مدثر احمد یہ بھی واقف زندگی ہیں نظامت جائیداد میں کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح ان کی بیٹی سلطانہ ڈاکٹر مرزا سلطان احمد کی اہلیہ ہیں۔ اسی طرح فرحانہ ہیں مرزا کلیم احمد صاحب کی اہلیہ ہیں۔صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی بہو ہیں۔

ان کے بیٹے سید طاہر احمد بیان کرتے ہیں کہ قرآن کریم سے بہت زیادہ محبت اور لگاؤ تھا اور قرآن کریم کی تلاوت باقاعدگی اور کثرت سے کیا کرتی تھیں۔ خلافت سے بے انتہا محبت اور عقیدت کا تعلق تھا۔ یہ باتیں ان کے سب بچوں نے لکھی ہیں۔ یہی باتیں انہوں نے اپنے بچوں میں پیدا کی ہیں۔

ان کے بیٹے انیس احمد لکھتے ہیں کہ ہر کسی کی خوشی اور غمی میں ضرور شریک ہوتیں۔ اور ہمیں خاص طور پر چندہ دینے کے متعلق تلقین کرتیں اور پوچھتیں کہ ادا کیا ہے کہ نہیں۔ اسی طرح نفلی روزوں کی طرف بھی توجہ دلاتیں۔

ان کی بیٹی فرحانہ فوزیہ کہتی ہیں کہ مَیں نے بچپن سے ہی اپنی والدہ کو تہجدکا پابند دیکھا ہے۔ نمازوں کی خود بھی پابند تھیں اور بچوں کو بھی وقت پر پڑھنے کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ کہتی ہیں قرآن کریم پڑھنے کی وجہ سے میری امی کو لمبی لمبی سورتیں زبانی یاد تھیں۔ اور ہمیں کہا کرتی تھیں کہ قرآن کریم کی تلاوت بہت بلند آواز سے کیا کرو اور کہتی ہیں کہ قرآن کریم کو بار بار پڑھنے کی وجہ سے، اس کا گہرا مطالعہ کرنے کی وجہ سے ان میں یہ خصوصیت پیدا ہو گئی تھی کہ ہم دور بیٹھے تلاوت میں کوئی غلطی کرتے تو اگر تلاوت سن رہی ہوتیں تو غلطی نکال دیا کرتی تھیں۔ اسی طرح مہمان نواز بہت زیادہ تھیں۔ اب تو خیر بہت سہولتیں ہیں بعض دفعہ سہولتیں نہیں تھیں۔ سردیوں میں گرم پانی گیزر کے ذریعہ سے، بوائلر کے ذریعہ سے، تو نہیں ملتا تھا تو صبح اٹھ کے خود گرم کرنا پڑتا تھا لیکن مہمانوں کے لیے وضو کرنے کے لیے گرم پانی مہیا کیا کرتی تھیں۔

حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ کے ان کے خاوند سید سید احمد صاحب جو حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ کے بیٹے تھے ان سے دوستی بھی تھی ،ان کے گھر کبھی سفر پر جاتے تو وہاں ٹھہرا کرتے تھے تو خلیفةالمسیح الرابع ؒنے خود ذکر کیا کہ صبح صبح اٹھ کے میرے وضو کے لیے گرم پانی کرکے غسل خانے میں رکھ دیا کرتی تھیں۔ ایک دن میں نے ارادہ کیا کہ خودجلدی اٹھوں گا اور خود پانی گرم کروں گا ان کو تکلیف نہ ہو لیکن کہتے ہیں کہ میں اپنی طرف سے بڑی جلدی اٹھا لیکن اس سے پہلے ہی میں نے دیکھا کہ گرم پانی وہاں پڑا ہوا تھا۔ ان کو مالی مشکلات بھی بہت آئیں لیکن سلیقے سے انہوں نے اپنے گھر کو سنبھالا۔

پہلے کینیا میں تھیں جیسا کہ میں نے کہا۔ پھر حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے کہنے پر یہ لوگ پاکستان واپس آ گئے اور یہاں آ کے پہلے جیسے وہ حالات تو نہیں رہے لیکن ہنسی خوشی اور صبر سے انہوں نے سب کچھ برداشت کیا۔

ان کی ہمشیرہ ہیں عتیقہ فرزانہ وہ کہتی ہیں کہ جماعتی غیرت بہت زیادہ تھی۔جماعت کے خلاف کچھ بھی سننا پسند نہیں کرتی تھیں۔

اسی طرح درّشہوار دردانہ ان کی دوسری ہمشیرہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں تہجد کے وقت اٹھنے کی اتنی عادت تھی کہ بغیر الارم کے ہی اٹھ جایا کرتی تھیں۔ میری پانچ بیٹیاں ہیںاور میں بیٹیوں کی وجہ سے پریشان تھی تو کہتی تھیں پرواہ نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ ان کے رشتے بہتر کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے پھر رشتے کروا بھی دیے۔ کہتی ہیں بڑی صابرہ اور شاکرہ اور بہت حوصلے والی تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

اگلا ذکر

مکرمہ عفت حلیم صاحبہ سابق نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ لائبیریا

کا ہے۔ یہ ڈاکٹر عبدالحلیم صاحب واقف زندگی انچارج کلینک منروویا لائبیریا کی اہلیہ تھیں۔ بیمار ہوئیں گذشتہ دنوں تویہ علاج کے لیے ہالینڈ آ گئی تھیں۔ 21؍دسمبر کو ان کی وفات ہوئی ہے انسٹھ (59)سال کی عمر میں۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 3/1حصہ کی موصیہ تھیں۔ ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے پڑدادا مکرم محمد علی صاحب کے ذریعہ ہوا جنہوں نے حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ جولائی 2004ء میں اپنے خاوند کے ساتھ یہ لائبیریا گئیں۔ اکیس سال کا عرصہ انہوں نے لائبیریا میں گزارا اور اس دوران میں آپ لجنہ کی صدر بھی رہیں۔دو تین موقعوں پہ ان کو خدمت کا موقع ملا۔ اور وفات کے وقت بھی صدر لجنہ کے طور پر خدمت کی توفیق پا رہی تھیں۔ تہجد گزار تھیں۔ روزوں کا اہتمام کرنے والی، باقاعدگی سے تلاوت قرآن کریم کرنے والی، خلافت سے بے انتہا تعلق اور محبت کا اظہار رکھنے والی، اپنی تنظیمی ذمہ داریوں کو بڑے اخلاص سے ادا کرتی تھیں۔ مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ صدقہ و خیرات کثرت سے کرتی تھیں۔ مہمان نوازی، ملنساری ،خوش اخلاقی اور دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھیں۔ بہت نیک خاتون تھیں۔ آپ نہ صرف خود قرآن کریم کی شوق سے تلاوت کرنے والی تھیں بلکہ آپ لجنہ کے لیے خصوصی کلاس کا اہتمام بھی کرواتی تھیں اور بچوں کو قرآن کریم پڑھاتی تھیں۔پھر ان کی آمین بھی کرواتی تھیں۔ مہمان نوازی کا ان میں بہت اعلیٰ وصف تھا اور صرف چند دنوں تک مہمان نوازی نہیں کرتی تھیں بلکہ کئی کئی دن ان کے ہاں آکے لوگ مہمان رہتے تھے اور خوشدلی سے یہ مہمان نوازی کیا کرتی تھیں بلکہ رمضان کے مہینے میں جو ضرورتمند لوگ تھے ان کے لیے باقاعدگی سے ہمیشہ سحری اور افطاری کا انتظام کیا کرتی تھیں۔ ہر وہ شخص جو انہیں جانتا تھا آپ کی اس صفت کا ذکر بڑی محبت سے کرتا تھا۔

ایک حلقے کی صدر عارفہ صاحبہ ہیں وہ کہتی ہیں کہ کبھی انہیں ان کے گھر جانے کا موقع ملتا تو نمازوں کی پابندی کا یہ حال تھا کہ کام کرتے ہوئے اگر نماز کا وقت ہو جاتا تو کہتیں کہ پہلے نماز پڑھیں گے پھر ہم آئندہ کام کو جاری رکھیں گے۔ کسی قسم کا یہ نہیں تھا کہ پہلے کام کر لو پھر نماز پڑھ لو۔ پہلے نماز پھر باقی کام جاری رکھیں گے۔

اسی طرح فرخ شبیر صاحب وہاں کے مبلغ ہیں کہتے ہیں اگر عفت حلیم صاحبہ کی شخصیت کو چند لفظوں میں بیان کرنا ہو تو یہ کہنا کافی ہے کہ وہ احمدیت کا حقیقی چہرہ تھیں۔

اسی طرح آجکل وہاں کے لائبیرین لوکل مبلغ موموکروما (Momo Kromah) صاحب ہیں۔ وہ کہتے ہیں مجھے متعدد موقعوں پر ان سے ملنے اور بات چیت کرنے کا موقع ملا اور ہر بار مجھے یہ محسوس ہوتا تھا جیسے میں ایک ایسی ماں سے گفتگو کر رہا ہوں جس کی اپنی اولاد کے لیے محبت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔

آپ کی اپنی تو کوئی اولاد نہیں تھی۔پسماندگان میں میاں ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو بچے adoptکیے تھے۔ ایک تو اپنے خاوند کے بھائی کی بیٹی ہے اس کو لیا اور پالا پوسا۔ پڑھ رہی ہے چودہ سال کی ہے وہ۔ لیکن ایک اور لائبیرین لڑکا ہے احمد مسرور سنگ با (Singhbah)۔ اس کو بھی چھوٹی عمر میں گود لیا اور اس کی بچوں کی طرح پرورش کی۔ اسے پڑھایا لکھایا۔آجکل وہ جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا میں درجہ خامسہ کا طالبعلم ہے۔ اللہ تعالیٰ ان بچوں کے لیے بھی ان کی دعائیں قبول کرے اور ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

تیسرا ذکر

مکرم عبدالعلیم البربری صاحب آف مصر

کا ہے۔ یہ بھی گذشتہ دنوں چونسٹھ (64)سال کی عمر میں وفات پا گئے۔انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم نیک، مخلص اور فدائی احمدی تھے۔ آپ کی اہلیہ اور بیٹی خدا کے فضل سے احمدی ہیں وہ لکھتی ہیں کہ میرے خاوند کو خدا تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ لگتا تھا کہ جیسے وہ خدا تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ بہت اچھے بااخلاق انسان تھے۔ کبھی کسی کے لیے بری بات نہیں کہی۔ کہتی ہیں ہماری اکتیس سالہ ازدواجی زندگی میں آپ نے مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں دی بلکہ وہ بہترین اور نیک شوہر تھے۔ آپ کی بیٹی نے 2008ء میں ایم ٹی اے العربیہ دیکھنے کے بعد بیعت کی تھی۔ بلکہ خود انہوں نے، عبدالعلیم صاحب نے اور ان کی بیٹی نے 2008ء میں ایم ٹی اے دیکھ کر بیعت کی تھی۔ ان کی یہ بیوی لکھتی ہیں کہ میں نے بڑی شدید مخالفت کی اور ان کے لیے بہت مشکلات پیدا کیں مخالفت میں اور اپنے گھر والوں کو بلا کر ان کی مخالفت کروائی لیکن وہ دونوں باپ بیٹی صبر کرتے رہے۔ خاوند کے بارے میں کہتی ہیں کہ ایک دن میرے خاوند نماز پڑھ کر بلند آواز سے دعا کر رہے تھے۔مَیں نے سنا کہ وہ بار بار میرے بارے میں کہہ رہے تھے کہ یا ربّ !یا تو میری بیوی کو ہدایت دے دے یا پھر اسے مجھ سے کہیں دور لے جا۔ کہتی ہیں کہ میں اس دعا سے بہت متاثر ہوئی لیکن انہیں نہیں بتایا اور میں دعا کرتی رہی۔ آخر ایک ماہ بعد خدا کے فضل سے مجھے انشراح صدر حاصل ہو گیا اور بیعت کی توفیق ملی۔

لوگ جو کہتے ہیں ناں ہمیں راہنمائی نہیں ملتی تو جو لوگ نیک نیتی سے راہنمائی چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی راہنمائی فرماتا بھی ہے۔

بیعت کے بعد آپ کے بھائیوں نے شدید مخالفت کی لیکن وہ ایمان پر ثابت قدم رہے۔ آپ کے بھائیوں نے ایک مشہور مولوی کو بلایا تا کہ وہ آپ کو احمدیت سے برگشتہ کرے لیکن وہ مولوی ناکام رہا کیونکہ ان کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ میرے میاں نے اسے اپنے انداز میں ایک ہی جواب دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی میرے لیے اس قدر واضح ہے اور اس قدر میرے دل میں راسخ ہو چکی ہے کہ میں اپنے ایمان سے نہیں پھر سکتا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ مجھے اللہ تعالیٰ کی سچی معرفت حاصل ہوئی ہے جسے میں کسی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کا یہ اظہار دیکھیں کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لوگوں کے دلوں میں بھی پیدا کیا ہے۔

عبادت کے لیے بہت زیادہ مجاہدہ کرتے۔ کہتی ہیں کہ گیارہ سال بیماری کی تکالیف برداشت کیں لیکن ہمیشہ صابر اور راضی برضا رہے۔ ہمیشہ کہتے تھے کہ جو اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور موت کے آخری دنوں میں بھی اللہ اللہ کے الفاظ ان کے منہ سے نکلتے تھے۔

صدر صاحب جماعت مصر کہتے ہیں کہ میں نے ان میں ہمیشہ جماعت اور خلافت کے ساتھ محبت کا ایک بےساختہ اظہار دیکھا ہے۔ بعض لوگوں نے انہیں فتنہ میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن وہ عہدِ بیعت پر مضبوطی اور وفا سے قائم رہے۔ گاؤں کے سینکڑوں غیر احمدی لوگوں نے احمدیوں کے ساتھ آپ کی نماز جنازہ ادا کی۔ ان کا بیٹا غیر احمدی ہے لیکن اس کو یہ نصیحت کر کے گئے تھے کہ میرا جنازہ احمدی پڑھائیں گے۔ چنانچہ صدر صاحب نے غیراحمدیوں کی مسجد میں جا کے نماز جنازہ پڑھائی اور غیراحمدی اس میں شامل ہوئے۔ بیٹا احمدی نہیں جیسا کہ میں نے کہا لیکن اچھے اخلاق کا مالک ہے اور جماعت کے بارے میں ریسرچ بھی کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

طاہر ندیم صاحب نے بھی ان کے بارے میں لکھا ہے۔ کہتے ہیں چند سال پہلے میں مصر گیا تھا وہاں ان سے ملاقات ہوئی۔کہتے ہیں طاہر ندیم صاحب کہ وہاں انہوں نے مجھے ایک واقعہ سنایا اپنی اہلیہ کی بیعت کا۔ کہتے ہیں میرا ایمان تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر شروع سے ہی پختہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرما کر میری اہلیہ کی بیعت کے ذریعہ میرے ایمان کو مزید پختہ کردیا کیونکہ کوئی تصوّر نہیں کر سکتا تھا کہ وہ بیوی جو میری شدید مخالف ہو گئی تھی اب میرے ساتھ ہر جماعتی اجلاس پر جاتی ہے اور اپنی دلی خوشی سے جماعت کے کام کرتی ہے۔ وہاں لجنہ کے جو کام ہیں صفائی ،کھانا پکانا ہر چیز وہ کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو بھی، بیٹی کو بھی، بیوی کو بھی اخلاص و وفا میں بڑھاتا رہے۔ بیٹے کو بھی جماعت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍ دسمبر2025ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button