مطالعہ کتب کی اہمیت
دوپہر کا وقت ہے سب گھر والے اپنے اپنے کمروں میں تھے ۔
محمود: (موبائل ہاتھ میں لیے) ارےاحمد بھائی! آؤ گیم کھیلتے ہیں، دادی جان شاید سو رہی تھیں میں ان کا فون اٹھا لایا ۔
احمد: اوہ! تم بتائے بغیر فون لے آئے بچو! اب تمہیں پکی پکی ڈانٹ پڑنے والی ہے (اتنے میں دادی جان آجاتی ہیں)۔
دادی جان:ہاں بھئی! یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ میرا فون لاؤنج میں کیا کررہا ہے ؟دادی جان نے آتے ہی سوال کیے۔
احمد: کچھ بھی نہیں دادی جان، نیند نہیں آرہی تو بس ایسے ہی وقت گزار رہے تھے ۔محمود آپ کا موبائل لے آیا کہ گیم کھیلیں ۔بس میں اسی سے بات کررہا تھا کہ آپ آگئیں ۔
دادی جان :ہاں بھئی محمود میاں آپ نے موبائل مجھ سے پوچھ کر لیا تھا ؟
محمود معصوم سی شکل بنا کر : کیسے پوچھتا آپ تو شاید سو رہی تھیں۔
دادی جان قدرے خفگی کے ساتھ : تو آپ نے موقع غنیمت سمجھا اور فون اُچک لیا ۔
محمود: سوری دادی جان ،آئندہ آپ سے پوچھ کر لوں گا ۔
دادی جان: شاباش! اب بتائیں کہ فارغ کیوں بیٹھے تھے ، کوئی کتاب ہی پڑھ لیتے ؟
محمود: دادی جان، ہم سوچ رہے تھے بعد میں پڑھ لیں گے۔
دادی جان: (مسکراتے ہوئے) بیٹا، کتابیں صرف سبق نہیں دیتیں، یہ تمہیں سوچنا، سمجھنا اور آگے بڑھنا سکھاتی ہیں۔
گڑیا بھی ان کی باتوں کی آواز سن کر لاؤنج مین داخل ہوتے ہوئے بولی:مگر پہلے وقت میں تو کتابیں نہیں ہوا کرتی تھیں تو کیسے پڑھتے تھے ؟
دادی جان :ہاں پہلے زمانوں میں کتابی شکل میں کتابیں نہیں ہوا کرتی تھیں مگر اس وقت کے لوگوں کو خدا تعالیٰ نے بہت ہی اچھا حافظہ عطا کیا ہوا تھا یہی وجہ تھی کہ اسلام کے ابتدائی دور میں تحصیل علم کا ایک ذریعہ علمی مجالس ہوا کرتی تھیں جن سے مسلمانوں کے اندر حصول علم کا ایک ایسا جذبہ پیدا ہوگیا جس نے نہ صرف یہ کہ اُن کی کایا پلٹ دی بلکہ دنیا بھر کے علوم کا اُن کو بانی بنا دیا۔مسلم نوجوانوں کو قرآن سیکھنے کا اس قدر شوق تھا کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے کسی خاص غرض کے ماتحت حفاظ کی مردم شماری کرائی۔ تو معلوم ہوا کہ فوج کے ایک دستہ میں تین سو سے زائد حفاظ تھے۔ (بخاری کتاب فضائل القرآن)
محمود :پھر کتابیں کیسے چھپیں ؟
دادی جان :نبی کریم ﷺ کے وصال کے 17، 18سال بعدقرآن پاک کا پہلا مکمل نسخہ حضرت عثمانؓ نے اپنے عہد خلافت میں سات مسلم ممالک کے گورنروں کو بھجوایا اور فرمایا کہ اب اس کی نقلیں تیار کر کے رواج دیں۔ اُس زمانہ میں گنتی کے چند صحابہ و صحابیات لکھ پڑھ سکتے تھے۔ اِسی لیے حفظ پر زور تھا، ہزاروں حفاظ قرآن تھے۔ خلیفہ مامون کے زمانہ میں نسبتاً بہتر کاغذ عرب میں پہنچا۔ حضرت مولانا حکیم نورالدین، خلیفہ اول کے زمانہ تک حالت یہ تھی کہ مسلمان بخاری کو دیکھنے کو ترستے تھے۔ قرآن کریم اور حدیثوں کے ہاتھ سے لکھے ہوئے قلمی نسخے ہوتے تھے۔ اس زمانے میں لائبریریوں میں ایک ایک نسخہ رکھوادیاجاتا تھا اور لوگ اُن سے استفادہ کرتے تھے۔یہ انقلاب تو لیتھوپرنٹنگ پریس 1796ء کی ایجاد سے آیا ، یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش سے صرف 39سال پہلے۔اس پریس پر کتب، اخبارات اور رسائل کروڑوں کی تعداد میں چھپنے لگے۔
احمد: دادی جان، تو پھر اب لوگ حفظ کیوں نہیں کرتے ؟
دادی جان : اچھا سوال ہے ۔اس لئے کہ اب لوگوں نے اپنے آپ کو اور بہت سے غیر ضروری مشاغل میں الجھا دیا ہے ۔ابھی بھی بہت سے لوگ قرآن کریم حفظ کرتے ہیں حدیث میں اور دوسرے دینی علوم میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ زبانی بھی یاد کرتے ہیں ۔خاص طور پر طلبہ جامعہ کو تو بہت کچھ یاد بھی کرنا ہوتا ہے ۔
گڑیا : پھر کتابیں کیسے فائدہ مند ہوئیں ؟
دادی جان: میں نے اپنی زندگی میں جو کچھ سیکھا، کتابوں ہی سے سیکھا۔ کتاب انسان کی سچی دوست ہوتی ہے۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مطالعہ کتب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’سب دوستوں کے واسطے ضروری ہے کہ ہماری کتب کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھ لیا کریں، کیونکہ علم ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے۔‘‘(ملفوظات جلد4 صفحہ361)
محمود: وہ کیسے دادی جان ؟
دادی جان:وہ میں بتاتی ہوں مگر شرط یہ ہے کہ کل سے روز تھوڑا سا مطالعہ ضرور کرو گے۔
احمد اور محمود: (اکٹھے بولے) جی دادی جان! وعدہ!
دادی جان: شاباش! یاد رکھو، جو شخص کتابوں سے دوستی کرتا ہے، وہ کبھی اکیلا نہیں رہتا۔حُسنِ اتفاق ہے کہ میں الفضل میں ایک مضمون پڑھ رہی تھی کہ آنکھ لگ گئی اور محمود میاں کو موقع مل گیا ۔( دادی جان نے شرارت بھری نظر سے محمود کو دیکھا ۔اور محمود جزبر ہوکر نیچے دیکھنے لگا ۔)ہاں تو میں بتا رہی تھی پہلے لوگوں میں کس قدر مطالعہ کا شوق ہوا کرتا تھا اس بات کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا کہ آپ 1150صفحات روزانہ پڑھتے تھے اور میں 950 صفحات روزانہ پڑھتا ہوں۔ اسی لیے خلافت لائبریری کی ہزاروں کتب پر حضرت مصلح موعودؓ کے نوٹس اب بھی موجود ہیں۔ عربی کتب، انگریزی کتب، فارسی کتب، اردو کتب، پنجابی کتب، ناول، جاسوسی ناول، Books of Fiction، تفاسیر قرآن کریم، اور شروحِ احادیث پر آپؓ کے نوٹس ہیں، جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپؓ کو کس قدر مطالعہ کا شوق تھا۔
پھر حضرت مولوی غلام حسینؓ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مطالعہ سے عشق تھا ۔آپ جب قادیان جاتے تو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی لائبریری میں جاکرکتابیں پڑھنا شروع کر دیتے۔ حضرت مصلح موعودؓ کےفرمان کے مطابق وہ بڑے عالم اور نیک انسان تھے۔ حضرت خلیفہ اولؓ اور وہ گویا کتابوں کا کیڑا تھے بلکہ مولوی غلام حسین صاحبؓ کو حضرت خلیفہ اولؓ سے بھی زیادہ کتابوں کا شوق تھا۔ان کا حافظہ اتنا زبردست تھا کہ حضرت خلیفہ اولؓ نے ایک کتاب انہیں پڑھنے کے لیے دی۔ انہوں نے جلد جلد ورق الٹنے شروع کیے۔ ایک صفحہ پر نظر ڈالتے اور اسے الٹ دیتے۔ اتنی جلدی وہ ورق الٹ رہے تھے کہ حضرت خلیفہ اولؓ کو خیال آیا کہ شاید وہ کتاب پڑھ نہیں رہے۔ چنانچہ حضورؓ نے کہا کہ مولوی صاحب! پڑھیں بھی تو سہی۔ انہوں نے کہاکہ آپ مجھ سے اس کتاب میں سے کوئی بات پوچھ لیں۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے کوئی بات پوچھی تو کہنے لگے کہ وہ اس کتاب کے فلاں صفحے پر فلاں سطر میں لکھی ہے اور فی الواقعہ ایسا ہی تھا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے ایک دفعہ ان سے کہا کہ مجھے موقع دیں کہ میں آپ کی کیا خدمت کروں۔ کچھ سوچ کر کہنے لگے: ’’دل چاہتا ہے کہ میرے لیے ایسا مکان بنا دیا جائے جس کی دیواریں کتابوں کی بنی ہوں، جس کے اندر مجھے بٹھا دیا جائے۔ پھر مجھ سے کوئی نہ پوچھے کہ روٹی کھائی ہے کہ نہیں۔ میں کتابیں پڑھتا جاؤں اور اتارتا جاؤں۔ جب رستہ بن جائے تو باہر نکل آؤں۔‘‘(ملخص از:لاہور تاریخ احمدیت صفحہ 85تا90مؤلفہ حضرت شیخ عبدالقادر سابق سوداگر مل)
گڑیا :ہائے اللہ اتنا شوق تھا وہ بھی کتابیں پڑھنے کا ؟
دادی جان : جی بالکل
صرف یہی نہیں اور بھی بہت سے صحابہؓ تھے جنہیں نہ صرف مطالعہ کا خاص شوق تھا بلکہ اس قدر غیرمعمولی ذہانت کے مالک اور حافظ قرآن تھے کہ انہیں Moving Encyclopaedia of Islam کہا جاتا ہے اُن میں ایک کا نام حافظ روشن علی صاحبؓ کا تھا ۔1924ء میں لندن جاتے ہوئے دمشق میں حضرت مصلح موعودؓ کو تبلیغ کے لیے حضورؑ کی ایک عربی کتاب کی ضرورت پڑی۔ حضورؑ نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہم یہ کتاب نہیں لائے۔ حضرت مولانا روشن علیؓ نے وہ کتاب زبانی حضورؓ کو سنانی شروع کر دی۔
ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ حافظ صاحب! کیا آپؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’اعجاز المسیح‘‘ پڑھی ہے۔ آپؓ نے فرمایا: کتاب کھولو۔ اس نے کتاب کھولی تو آپؓ نےاس کے 35صفحات زبانی سنا دیئے۔
احمد: محمود، آؤ دادی جان کے ساتھ بیٹھ کر کتاب پڑھتے ہیں۔
محمود: ہاں! اب مجھے بھی کتابوں سے دوستی کرنی ہے۔
دادی جان: (خوش ہو کر) یہی ہے میرے بچوں کی کامیابی۔
(درثمین احمد، جرمنی)
