ربوہ کا موسم(۲۲تا۲۸؍مئی ۲۰۲۶ء)
۲۲؍مئی جمعۃ المبارک کو نماز فجر کے وقت آسمان صاف تھا اورہلکی ٹھنڈی ہوا رواں دواں تھی جس کی وجہ سے صبح کے وقت خنکی بنی ہوئی تھی، تاہم آسمان بادلوں سے خالی تھا اسی وجہ سے دن بھر دھوپ خوب چمکتی رہی اور گرمی اپنے جوبن پر تھی۔ رات کے وقت اچانک بادلوں نے آسمان کو اپنے گھیرے میں لے لیا ایسے لگتا تھا کہ یہ بادل اب برسے کہ اب برسے۔ لیکن وہ بنا بارش کے ہی اپنی منزل کو سدھار گئے۔ ہفتہ کی صبح کو ہوا بند ہونے کی وجہ سے حبس محسوس ہوتا تھا لیکن خنکی کی موجودگی میں موسم ٹھیک تھا، دن بھر جم کے گرمی پڑی۔ دوپہر کے وقت تیز لُو چلتی رہی، شام کے وقت یہی ہوا ٹھنڈی بن گئی۔ اتوار کو فجر کے وقت ہلکی رفتار سے ہوا چل رہی تھی جو سات بجے تک خوشگوار رہی، اس کے بعد آہستہ آہستہ گرم ہوتی چلی گئی اور آخر کار دوپہر کے وقت لُو بن گئی۔ اب مئی کی گرمی اپنے جوبن پر آچکی ہے۔ اس انتہائی گرم موسم کے بد اثرات سے بچنے کے لیے لوگوں کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جارہا ہے۔ شام کے وقت گرم ہوا پہلے آہستہ ہوئی پھر رُک گئی۔ لیکن مغرب کی نماز کے بعد کچھ دیر کے لیے آندھی آئی، مٹی بکھیرنے کے بعد رات کو اس ہوا کا ٹمپریچر نیچے آگیا یعنی ٹھنڈ ی بن گئی۔ سوموار کو بادلوں کا نام و نشان نہ تھا، سورج آگ برسا رہا تھا، دوپہر کے وقت لُو بھی چل رہی تھی، تاہم شام کو یہ ہوا بھی بند ہوگئی۔ منگل اور بدھ کے دن کافی گرم تھے۔ تیزدھوپ نے گرمی میں اضافہ کردیا ساتھ لُو بھی چلتی رہی۔ بدھ ۲۷؍مئی کو لوگوں نے گرم دن میں عید الاضحی پڑھی اور اپنے وقت پر پانچ نمازیں ادا کیں۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں دن کے وقت گرمی کی وجہ سے زیادہ گہما گہمی دیکھنے میں نہ آئی۔ البتہ شام کو بازار میں رونق تھی۔ اس سے قبل عید سے ایک دن پہلے بھی لوگوں نے شام کے وقت ہی گلیوں، بازاروں اور مارکیٹوں میں نکل کر انجوائے کیا۔ کچھ لوگ اپنے کاموں کی غرض سے، کچھ سیر کے لیے اور کچھ کھانے پینے کی خاطر گھروں سے نکلے تھے۔ جمعرات کو آسمان صاف ہونے کی وجہ سے گرمی پڑتی رہی ساتھ لُو نے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلائے رکھا۔ شام کے وقت تیز ہوا چلنا شروع ہوئی اور رات گئے تک جاری رہی جس کی وجہ سے موسم اچھا ہوگیا۔ اس ہفتہ میں اوسط ٹمپریچر زیادہ سےزیادہ ۴۲؍ اور کم سے کم ۲۸؍درجہ سینٹی گریڈ رہا۔ (ابو سدید)




