الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
محترم چودھری نور احمد عابد صاحب
روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ ۸؍مارچ ۲۰۱۴ء میں مکرم چودھری نور احمد عابد صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
محترم چودھری نوراحمد عابد صاحب ۳؍اپریل۱۹۱۹ء کو علی پور ضلع لاہور (حال ضلع قصور) میں پیدا ہوئے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کا نام رکھا۔ اپنے بہن بھائیوں میں آپ کا نمبر دسواں تھا۔ آپ کے والد حضرت میاں محمد ابراہیم صاحبؓ کا تعلق خودپورمانگا سے تھا جو نقل مکانی کرکے ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں میں آباد ہوگئے۔ وہاں سے ہی عابد صاحب نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر آپ کو مدرسہ احمدیہ قادیان میں داخل کروادیا گیا۔ ۱۹۳۷ء میں حضرت مصلح موعودؓ کی اس تحریک پر کہ ’’نوجوان خدمت دین کے لیے باہر جائیں، خود کمائیں اور تبلیغ کریں‘‘ آپ عازمِ سندھ ہوئے۔ کئی مقامات پر مقیم رہے، معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ریلوے سٹیشن پر قُلی کا کام بھی کیا، اُبلے چنے فروخت کیے، چوڑیاں پگھلاکر میناکاری سیکھی، ٹیوشن پر بچے پڑھائے اور کچے چمڑے کی خریدوفروخت جیسے کام کیے۔ اسی دوران حضرت مصلح موعودؓ ایک دفعہ سندھ تشریف لے گئے تو حیدرآباد ریلوے سٹیشن کے بنگلہ میں آپ کو بھی شرفِ میزبانی بخشا۔
پھر آپ فوج میں بھرتی ہوگئے۔ آغاز میں وائرلیس آپریٹر کے طور پر کام کیا۔ پھر حوالدار کلرک کے طور پر دوسری جنگ عظیم میں سنگاپور اور برما کے محاذ پر رہے۔ بعد ازاں مختلف شہروں میں متعین رہے اور ۶؍جون۱۹۶۲ء کو کوئٹہ سے ریٹائر ہوئے۔ دورانِ ملازمت کارکردگی کی بنیاد پر چند سرٹیفکیٹس اور تمغوں سے بھی نوازے گئے۔ دورانِ ملازمت آپ نے بی اے کرلیا اور ادیب عالم اور منشی فاضل بھی کرلیا۔ اسی طرح رومن اردو، انگلش، ایجوکیشن انسٹرکٹر اور طب یونانی کا امتحان بھی پاس کرلیا۔ آپ کو مطالعہ کا ازحد شوق تھا۔ دو ہی مشغلے تھے مطالعہ اور شکار۔ حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت مصلح موعودؓ کی کتب ہمیشہ زیرمطالعہ رکھتے۔
ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی آپ نے اپنے اہل خانہ کی رہائش کا انتظام احمدنگر نزد ربوہ میں کیا ہوا تھا۔ ریٹائر ہونے پر آپ نے فضل عمر ریسرچ انسٹیٹیوٹ ربوہ میں ملازمت کرلی۔ چند ماہ بعد ربوہ میں ٹاؤن کمیٹی کے قیام کی منظوری ہوئی تو آپ نے بھی جھنگ جاکر انٹرویو دیا جس پر ڈپٹی کمشنر نے آپ کو ٹاؤن کمیٹی ربوہ کا سیکرٹری مقرر کردیا۔ ۲۵؍اکتوبر۱۹۶۲ء سے ۱۰؍اکتوبر۱۹۶۸ء تک آپ اس خدمت پر مامور رہے۔ ٹاؤن کمیٹی ربوہ کے آپ پہلے اور آخری احمدی سیکرٹری تھے۔ اہل ربوہ کے لیے سوئی گیس اور صاف پانی کی سپلائی آپ کے دور میں ہی شروع ہوئی۔ سڑکوں کے کنارے سایہ دار درخت بھی لگوائے۔ ربوہ کے علاوہ آپ کئی شہروں میں بطور ٹیکسیشن آفیسر تعینات رہے۔ ۱۹۷۹ء میں اس سرکاری ملازمت سے باعزت ریٹائر ہوگئے۔
آپ نے ساری زندگی خلیفۂ وقت سے گہرا تعلق رکھا۔ ایک بار برما کے محاذ سے آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں خط ارسال کیا تو اُنہی دنوں آپ کی چھٹی منظور ہوگئی۔ آپ سیدھے قادیان پہنچے تو حضورؓ نے ملاقات میں پوچھا کہ آپ تو برما میں تھے۔ آپ نے عرض کیا کہ رخصت پر آیا ہوں، گاؤں جانے سے پہلے سوچا کہ اپنے آقا سے ملاقات کرلوں۔ اسی طرح سنگاپور سے بھی آپ قادیان حضورؓ کی خدمت میں پہنچے۔ مسجد مبارک میں اعلان ہوا کہ اگر کوئی دوست سنگاپور سے آیا ہے تو حضور نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھ سے مل کر جائے۔ چنانچہ آپ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضورؓ نے ارشاد فرمایا کہ اپنا چندہ سنگاپور میں دیا کریں۔
ربوہ میں خدمت کے دوران حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ سے مسلسل راہنمائی حاصل رہی اور ربوہ کی بہبود کے کاموں کی سرانجام دہی کا موقع ملتا رہا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الربعؒ سے بھی خلافت سے بہت پہلے عزت اور محبت کا رشتہ تھا۔ ۱۹۷۹ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کو ربوہ میں پراپرٹی کنسلٹنسی کے لیے دکان کی تلاش تھی۔ معلوم ہوا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کی گولبازار میں ایک دکان خالی ہے۔ آپ نے دفتر وقف جدید اور حضور کے اکاؤنٹنٹ ضیاءالرحمٰن صاحب سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ محترم میاں صاحب نے فرمایا تھا کہ اب دکان کسی کو نہیں دینی۔ لیکن اگلے ہی دن وہ آئے اور آپ کو بتایا کہ مَیں نے برسبیل تذکرہ میاں صاحب سے یہ بات کی تھی تو آپ نے برجستہ فرمایا کہ اگر عابد صاحب نے دکان مانگی ہے تو اُن کو دے دیں۔
محض حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ سے ملاقات کی خاطر آپ ایک بار لندن بھی آئے۔ خلافتِ خامسہ کے انتخاب سے دو ماہ قبل آپ کو مسلسل دو رات نماز تہجد سے قبل الہام ہوتا رہا: ’’انتخاب خلافت، انتخاب خلافت۔‘‘
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی خواہش شدید تھی لیکن بڑھاپا اور کمزوری آڑے آتی رہی۔ ایک خط میں حضورانور کی خدمت میں آپ نے لبیدؔ کا شعر لکھا: (ترجمہ) لبید کے دیار سے میرا آپ کو سلام کیونکہ مَیں آپ تک پہنچنے کی سعی سے عاجز ہوں۔ یہ میرا خط میرے وہاں نہ پہنچنے کی وجہ سے میری نیابت میں ہے کیونکہ پانی کی عدم موجودگی تیمّم کو جائز کردیتی ہے۔
اپنی زندگی کی آخری نصیحت مجھے آپ نے یہی کی:خلیفۂ وقت کو بلاجواز خط لکھتے رہا کرو۔
آپ شاعری بھی کرتے تھے جس میں قادیان اور خلفاء کی محبت نمایاں تھی۔ ایک شعر یوں ہے ؎
زندگی گزرے تو گزرے سایۂ محمودؔ میں
اور گر مر جاؤں تو مدفن ہو میرا قادیاں
اسی طرح حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی وفات پر کہا ؎
اے جانے والے طاہرِ عزت مآب جا
لاکھوں دلوں کی دھڑکنوں کے ہم رکاب جا
خُلدِ بریں ہے روحِ مقدّس کا منتظر
دنیا و آخرت ہے تری کامیاب جا
قادیان میں ۱۹۳۱ء میں جلسہ سیرۃالنبیﷺ میں آپ کو بھی تقریر کرنے کا موقع ملا جب آپ صرف بارہ سال کے تھے۔ ۱۹۳۷ء میں حیدرآباد میں میلادالنبیؐ کے ایک جلسے میں بھی آپ نے تقریر کی۔ جلسے کے صدر ایک غیرازجماعت پیر صاحب تھے جنہوں نے آپ کی تقریر کے بعد آپ کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔
آپ کو مختلف مقامات سے مجلس شوریٰ میں بطور نمائندہ شمولیت کی توفیق ملتی رہی۔ ۱۹۵۳ء کے فسادات کے دوران آپ مغلپورہ لاہور کی مجلس کے قائد خدام الاحمدیہ تھے۔ وہاں نمازوں اور جمعہ پڑھانے کی توفیق بھی ملتی رہی۔ ۱۹۸۶ء میں آپ کے ایک بیٹے کو پشاور کی ایک احمدیہ مسجد میں نماز عشاء پڑھانے کا موقع ملا تو مقتدیوں میں ایک نابینا حافظ قرآن بھی شامل تھے۔ نماز کے بعد انہوں نے پہچان لیا کہ نماز پڑھانے والا عابد صاحب کا بیٹا ہے اور بتایا کہ ۱۹۵۳ء میں انہوں نے گنج مغلپورہ میں عابد صاحب کی اقتدا میں نمازیں ادا کی ہوئی ہیں۔ یہ بات سن کر احباب کو خوشی کے ساتھ محترم حافظ صاحب کی سماعی پہچان پر حیرت بھی ہوئی۔
تحریک جدید مجاہدین کی کتاب میں بھی آپ کا نام گنج مغلپورہ کی فہرست میں پہلے نمبر پر درج ہے۔
۱۹۶۲ء میں فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد جب آپ احمدنگر میں رہائش پذیر ہوئے تو حضرت مصلح موعودؓ کی منظوری سے احمدنگر جماعت کے صدر نامزد کیے گئے۔ بعد میں مسلسل دو بار صدر جماعت منتخب ہوکر خدمت کرتے رہے۔ پھر آپ ربوہ منتقل ہوگئے تو ۱۹۸۲ء میں آپ مرکزی قاضی مقرر ہوئے اور ۲۰۰۴ء تک اس خدمت پر مامور رہے۔ محلّہ کی مسجد میں قریباً پچیس سال امام الصلوٰۃ بھی رہے۔ نماز تہجد بالالتزام ادا کرتے جس میں طوالت اور گریہ و زاری کا حسن نمایاں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سادہ مگر سحر انگیز لحن عطا فرمایا تھا۔ عابدؔ نام کے اعتبار سے اسم بامسمیٰ تھے۔ محلے میں بطور سیکرٹری وصایا اور زعیم انصاراللہ نیز دیگر خدمات کی توفیق لمبا عرصہ ملتی رہی۔
ایسے سرکاری محکموں میں رہنے کے باوجود جہاں رشوت لینا معمول تھا، آپ نے نہایت دیانتدارانہ زندگی گزاری جس کا اعتراف غیر بھی کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سرکاری مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی۔ آپ کے ایک داماد نے آپ کو ایک بار دفتر آکر بتایا کہ اُنہیں بینک میں اس شرط پر ملازمت مل جائے گی اگر پانچ لاکھ روپے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروادوں۔ اُس وقت آپ کے پاس ٹیکس کے سلسلے میں ایک بڑی پارٹی بیٹھی ہوئی تھی۔ انہوں نے پیشکش کی کہ وہ پانچ لاکھ روپے جمع کروادیتے ہیں بشرطیکہ اُن کا ٹیکس دو فیصد کم کردیا جائے۔ آپ نے جواب دیا گورنمنٹ کو ایک پیسے کا بھی نقصان نہیں ہونے دوں گا بےشک میرا داماد فارغ پھرتا رہے۔
آپ ایک صابرشاکر اور قانع انسان تھے۔ دھیماپن اور درگزر کرنا فطرت ثانیہ تھی۔ کم گو تھے مگر صائب الرائے تھے۔ خودنمائی ناپسند تھی۔ بچوں کو نصیحت کا انداز مؤثر اور شستہ تھا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے چھ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں سے نوازا۔
آپ نے ۱۵؍نومبر۲۰۱۳ء بروز جمعۃالمبارک وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔
………٭………٭………٭………
محترمہ امۃالکریم سیٹھی صاحبہ
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۷؍مارچ ۲۰۱۴ ء میں مکرمہ ص۔مظہر صاحبہ کے قلم سے اُن کی والدہ محترمہ امۃالکریم سیٹھی صاحبہ کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
آپ ۳؍مارچ۱۹۴۷ء کو ایک فدائی احمدی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے چچا مکرم عبدالرشید احمد بٹ صاحب کو ۱۹۷۴ء کے فسادات میں شہید کردیا گیا تھا جبکہ والد مکرم عبدالحمید صاحب آف کنڈیارو (سندھ) ۱۹۸۱ء میں مخالفینِ احمدیت کے قاتلانہ حملہ میں شدید زخمی ہوگئے۔ آپ کی شادی مکرم منظورالحق سیٹھی صاحب آف جہلم سے ہوئی جو حضرت میاں محمد ابراہیم صاحبؓ جہلمی (یکے از۳۱۳ کبار صحابہؓ) کے پوتے اور مکرم عبدالحق سیٹھی صاحب کے بیٹے تھے۔
امی جان کی والدہ اُس وقت وفات پاگئی تھیں جب بچے چھوٹے تھے۔ اس کے بعد امی نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا بہت خیال رکھا اور انہیں بہت پیار دیا۔ پھر ہمارے دادا جان اور دادی جان بھی جہلم سے ہمارے ہاں آگئے تو امی نے اُن کی بھی بہت خدمت کی۔
مرحومہ بہت نیک، تہجدگزار، روزانہ بےشمار نوافل ادا کرنے والی، دعاؤں اور تسبیحات میں مشغول رہنے والی خاتون تھیں۔ مسجد میں سب سے پہلے پہنچنا اور آخر پر باہر آنا معمول تھا۔ کثرت سے نفلی روزے رکھتیں۔ رمضان میں باقاعدہ روزے رکھتیں، تراویح پڑھ کر سو جاتیں اور بارہ بجے اُٹھ کر پھر نوافل اور تلاوت قرآن کریم میں مصروف رہتیں۔ کئی دَور ہر رمضان میں مکمل کرتیں۔ خود بھی ترجمے کے ساتھ سمجھ سمجھ کر قرآن کریم پڑھتیں اور دوسروں کو بھی اس کی نصیحت کرتیں۔
ہر مالی تحریک میں شامل ہوتیں۔ چندہ جات کی ادائیگی میں پہل کے علاوہ صدقات بھی کثرت سے کرتیں۔ غربا کے لیے عیدی کے پیکٹ تیار کرواتیں۔ اپنے پاس آنے والی کسی ضرورتمند کو خالی ہاتھ نہیں جانے دیا۔ گھر میں کام کرنے والیوں کا موسم کے مطابق بہت خیال رکھتیں۔ دو کام والیاں جو میری پیدائش سے پہلے سے ہیں، اُن کو نیچے نہیں بیٹھنے دیتی تھیں۔ وفات سے چند دن قبل ایک خادمہ کا نام لے کر کہا کہ اُس نے آج بہت کام کیا ہے اُسے دو انڈے ابال کر دودھ کے گلاس کے ساتھ دے آؤ۔
خلیفہ وقت سے بہت پیار کرتیں اور خطبات و خطابات بڑے غور سے سنتیں۔ خواہش تھی کہ ان کے سارے بچے واقفین زندگی ہوں۔ خود بھی خدمت دین میں ہمیشہ پیش پیش رہتیں۔ چندہ لینے کی ڈیوٹی لمبا عرصہ دی۔ دعوت الی اللہ ٹیم میں بھی شامل تھیں اور بڑے شوق سے تبلیغ کے لیے جایا کرتی تھیں۔
………٭………٭………٭………




