ہنسنامنع ہے!
سوٹ کا کلر
پولیس چور سے: تم نے ایک ہی دکان سے مسلسل تین دن چوری کی ہے۔
چور: میں نے صرف ایک دن اپنی بیوی کے لیے سوٹ چوری کیا تھا ۔باقی دو دن تو کلر تبدیل کرنے گیا تھا۔
شہر۔اِدھر اُدھر
باپ: یہ بتاؤ! لاہور اور دہلی کہاں ہیں؟
بیٹا: ابو جان مُنی سے پوچھیں، وہی چیزیں اِدھر اُدھر رکھ دیتی ہے۔
سبزی یا مار؟
سلیم: آج کل بچوں کو سبزی پسند نہ آئے تو ماں اتنے آپشنز دیتی ہے۔ پیزا، برگر، شوارما، پاستہ، نوڈلز۔
کلیم: بالکل! اور ہمارے دور میں دو ہی آپشنز تھیں سبزی کھانی ہے یا مار!
ننگےسر کھانا کھانا
دو بزرگ کھانا کھا رہے تھے۔ گرمی کی وجہ سے انہوں نے دستار سر سے اتار کر رکھ لی۔ ایک بزرگ کا منڈا ہوا سر دیکھ کر دوسرے بزرگ کو شرارت سوجھی اور ہاتھ بڑھا کر سرپر ٹھونگ ماری۔
پہلے بزرگ نے جلدی سے دستار سر پر رکھ لی اور کہنے لگے کہ سبحان اللہ۔بچپن میں بزرگوں سے سنا کرتے تھے کہ جو لوگ ننگے سر کھانا کھاتے ہیں ،شیطان اُن کے ٹھونگیں مارتا ہے آج معلوم ہوا کہ وہ بات سچی تھی۔
واحد دولت
اُردو زبان کے ایک مشہور شاعر کی عادت تھی کہ جب گھر سے باہر جاتے تو تمام دروازے کھلے چھوڑ دیتے تھے اور واپس آتے تو بند کرلیتے تھے۔
کسی نے وجہ دریافت کی تو جواب دیا: میں ہی تو اس گھر کی واحد دولت ہوں۔
ملاقات
آپریشن کے بعد ڈاکٹر نے کہا: آپ کل اپنے گھر والوں سے ملاقات کر سکیں گے۔
مریض: میں تو بالکل اکیلا ہوںخاندان کے تمام افراد انتقال کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر سانس چھوڑتے ہوئے: جی مجھے معلوم ہے۔ اسی لیے بتا رہا ہوں۔
آم
ایک صاحب گلی میں بیٹھے آم کھا رہے تھے، ان کے پاس ایک دوست بھی بیٹھا تھا جو آم نہیں کھاتا تھا۔ اس وقت وہاں سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو ان صاحب نے آم کے چھلکے گدھے کے آگے پھینک دیے۔ گدھے نے چھلکوں کو سونگھا اور چلتا بنا تو ان کے دوست نے سینہ پھلا کر کہا دیکھا جناب! گدھے بھی آم نہیں کھاتے۔
تو ان صاحب نے بڑے اطمینان سے کہا کہ جی ہاں دیکھ رہا ہوں گدھے ہی آم نہیں کھاتے۔
