شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
آج کل بھی اعتراض ہوتے ہیں کہ ایک کارکن اچھا بھلا کام کررہاتھا اس کو ہٹاکر دوسرے کے سپرد کا م کردیا گیاہے۔خلیفہ ٔوقت یا نظام جماعت نے غلط فیصلہ کیا ہے اور گویا یہ غیر معروف فیصلہ ہے۔ وہ او ر تو کچھ نہیں کرسکتے اس لیے سمجھتے ہیںکہ کیونکہ یہ غیر معروف کے زمرے میں آتاہے(خود ہی تعریف بنا لی انہوں نے)اس لیے ہمیںبولنے کا بھی حق ہے،جگہ جگہ بیٹھ کر باتیں کرنے کا بھی حق ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جگہ جگہ بیٹھ کر کسی کو نظام کے خلاف بولنے کا کوئی حق نہیں۔ اس بارہ میں پہلے بھی مَیں تفصیل سے روشنی ڈال چکاہوں۔تمہارا کام صر ف اطاعت کرناہے اور اطاعت کا معیار کیاہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :وَاَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ لَئِنۡ اَمَرۡتَہُمۡ لَیَخۡرُجُنَّ ؕ قُلۡ لَّا تُقۡسِمُوۡا ۚ طَاعَۃٌ مَّعۡرُوۡفَۃٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ۔ (سورۃ النور:آیت۵۴) اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائیں کہ اگر تو انہیں حکم دے تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔ تو کہہ دے کہ قسمیں نہ کھائو۔ دستور کے مطابق اطاعت (کرو) یقیناً اللہ ، جو تم کرتے ہو، اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔

اس آیت سے پہلی آیات میں بھی اطاعت کا مضمون ہی چل رہا ہے۔اور مومن ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا۔ اور اس تقویٰ کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ٹھہرتے ہیں اور بامراد ہوجاتے ہیں۔ تو اس آیت میں بھی یہ بتایا ہے کہ مومنوں کی طرح سنو اور اطاعت کرو کا نمونہ دکھائو ،قسمیں نہ کھائو کہ ہم یہ کردیں گے وہ کردیں گے۔حضرت مصلح موعود ؓ نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ دعویٰ تو منافق بھی بہت کرتے ہیں۔اصل چیز تو یہ ہے کہ عملاً اطاعت کی جائے۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے لیے فرما رہا ہے کہ جو معروف طریقہ ہے اطاعت کا، جو دستور کے مطابق اطاعت ہے وہ اطاعت کرو۔نبی نے تمہیں کوئی خلاف شریعت اور خلاف عقل حکم تو نہیں دینا۔مثلاً حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے مان لیا ہے تو پنجوقتہ نماز کے عادی بنو۔ جھوٹ چھوڑ دو۔ کبر چھوڑ دو۔ لوگوں کے حق مارنے چھوڑ دو۔ آپس میں پیار محبت سے رہو۔ تو یہ سب طاعت در معروف کے حکم میں ہی آتا ہے۔تو یہ کام تو کرو نہ اور کہتے پھر و کہ ہم قسم کھاتے ہیں کہ آپ جو ہمیں حکم دیں گے کریں گے۔ اسی طرح خلفاء کی طرف سے بھی مختلف وقتوں میں روحانی ترقی کے لیے مختلف تحریکات ہیں۔جیسے مساجد کو آباد کرنے کے بارے میں ، اولاد کی تربیت کے بارے میں، اپنے اندر وسعت حوصلہ پیدا کرنے کے بارے میں، دعوت الی اللہ کے بارے میں یا متفرق مالی تحریکات ہیں۔ تو یہی باتیں ہیں جن کی اطاعت کرنا ضروری ہے یا دوسرے لفظوں میں طاعت درمعروف کے زمرے میں آتی ہیں۔ تو نبی نے یا کسی خلیفہ نے تمہارے سے خلاف احکام الہٰی اور خلاف عقل تو کام نہیں کروانے۔یہ تو نہیں کہنا کہ تم آگ میں کود جائو یا سمندر میں چھلانگ لگا دو۔انہوں نے توتمہیں ہمیشہ شریعت کے مطابق ہی چلانا ہے۔
اطاعت کی اعلیٰ مثال
اطاعت کی اعلیٰ مثال ہمیں قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں میں اس طرح ملتی ہے کہ جب ایک جنگ کے دوران حضر ت عمرؓ نے جنگ کی کمان حضرت خالد بن ولیدؓ سے لے کر حضرت ابوعبیدہؓ کے سپرد کردی تھی۔ تو حضرت ابوعبیدہ نے اس خیال سے کہ خالد بن ولیدؓ بہت عمدگی سے کام کررہے ہیں ان سے چارج نہ لیا۔تو جب حضرت خالد بن ولید ؓکو یہ علم ہوا کہ حضرت عمرؓ کی طرف سے یہ حکم آیاہے تو آپ حضرت ابوعبیدہؓ کے پاس گئے اور کہا کہ چونکہ خلیفۂ وقت کا حکم ہے اس لیے آپ فوری طورپر اس کی تعمیل کریں۔ مجھے ذرا بھی پروا نہیں ہوگی کہ مَیں آپ کے ماتحت رہ کر کام کروں۔اور مَیں اسی طرح آپ کے ماتحت کام کرتارہوںگا جیسے میں بطور ایک کمانڈر کام کررہاہوتاتھا۔ تو یہ ہے اطاعت کا معیار۔کوئی سر پھرا کہہ سکتاہے کہ حضرت عمرؓ کا فیصلہ اس وقت غیرمعروف تھا، یہ بھی غلط خیال ہے۔ہمیں حالات کا نہیں پتہ کس وجہ سے حضرت عمرؓ نے یہ فیصلہ فرمایا یہ آپ ہی بہتر جانتے تھے۔بہرحال اس فیصلہ میں ایسی کوئی بات ظاہراًبالکل نہیں تھی جو شریعت کے خلا ف ہو۔چنانچہ آپ دیکھ لیں کہ حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ کی لاج بھی اللہ تعالیٰ نے رکھی اور یہ جنگ جیتی گئی اور باوجو د اس کے جیتی گئی کہ اس جنگ میں بعض دفعہ ایسے حالات آئے کہ ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میںسو، سو دشمن کے فوجیوں کی تعداد ہوتی تھی۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اپنے آقا کی غلامی میں ، ایسی غلامی جس کی نظیر نہیں ملتی ، حَکَم اورعَدَل کا درجہ ملاہے اس لیے اب اس زمانہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اطاعت اور محبت سے ہی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی اطاعت اور محبت کا دعویٰ سچا ہو سکتاہے اورآنحضرتﷺکی ا تباع سے ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ سچ ہو سکتاہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ(آل عمران: آیت۳۲) تُو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۱۷۶-۱۷۹)
مزید پڑھیں: حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مصروفیات



