متفرق مضامین

گھڑی کی سوئی اور انسانی زندگی

مارچ کا مہینہ شمالی امریکہ میں صرف موسم کی تبدیلی نہیں لاتا، یہ وقت کی رفتار میں بھی ایک علامتی موڑ بن جاتا ہے۔ جیسے ہی مارچ کی دوسری اتوار آتی ہے، لاکھوں لوگ رات کے دو بجے اپنی گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کر دیتے ہیں۔ ۲۰۲۶ء میں یہ تبدیلی ۸؍مارچ کو ہوئی۔ ایک ایسا لمحہ جو بظاہر معمولی ہے، مگر اس کے اثرات انسانی زندگی کے کئی پہلوؤں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

وقت کو آگے بڑھانے کا خیال کہاں سے آیا؟: دن کی روشنی کے بہتر استعمال کا تصوّر نیا نہیں۔ ۱۷۸۴ء میں امریکی مفکر بینجمن فرینکلن نے طنزیہ انداز میں لکھا تھا کہ اگر لوگ سورج کے ساتھ جاگیں تو موم بتیوں کی بچت ہوسکتی ہے۔ اس وقت یہ محض ایک خیال تھا، مگر پہلی عالمی جنگ نے اسے حقیقت میں بدل دیا۔۱۹۱۶ء میں جرمنی اور آسٹریا نے پہلی بار ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ کیا۔ مقصد سادہ تھا: توانائی کی بچت۔ جنگ کے دباؤ نے برطانیہ اور فرانس کو بھی اسی راستے پر چلنے پر مجبور کیا۔برطانیہ نے اسی سال Daylight Saving Time کو اپنایا اور اسے British Summer Time کا نام دیا۔

مگر دوسری جنگِ عظیم کے دوران یہ معاملہ مزید آگے بڑھا۔ توانائی کی شدید ضرورت نے حکومت کو Double Summer Time نافذ کرنے پر مجبور کیا یعنی گھڑی دو گھنٹے آگے کردی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب برطانوی عوام کے لیے دن لمبے اور راتیں مختصر ہو گئیں، مگر جنگ کی ضرورتیں اس سے بھی زیادہ طویل تھیں۔

یورپ میں DST کی تاریخ سیدھی لکیر نہیں بلکہ اتارچڑھاؤ سے بھری ایک ٹائم لائن ہے۔ ۱۹۱۶ء میں جرمنی، آسٹریا، برطانیہ اور فرانس نے یہ نظام اپنایا۔ جبکہ کئی ممالک نے جنگ کے بعد اسے ختم کردیا۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی میں توانائی کے بحران نے اسے دوبارہ زندہ کیا۔ جبکہ ۱۹۹۶ء میں یورپی یونین نے تاریخیں یکساں کردیںیعنی مارچ کے آخری اتوار کو گھڑیاں آگے اوراکتوبر کے آخری اتوار کو گھڑیاں پیچھے۔

یورپ کے بعد یہ نظام شمالی امریکہ پہنچا۔ آج امریکہ اور کینیڈا کے بیشتر علاقے مارچ سے نومبر تک DST پر عمل کرتے ہیں۔

اس کے برعکس دنیا کے دیگر براعظموں میں صورتِ حال یکساں نہیں۔ ایشیا کے بیشتر ممالک، خصوصاً چین، بھارت، جاپان اور جنوب مشرقی ایشیا، گھڑی کی اس موسمی چھیڑ چھاڑ سے گریز کرتے ہیں۔ خطِ استوا کے قریب واقع علاقوں میں دن اور رات کی طوالت میں نمایاں فرق نہ ہونے کے باعث وقت بدلنے کی ضرورت بھی شدت سے محسوس نہیں کی جاتی۔ افریقہ میں بھی یہی کیفیت ہے؛ چند ایک ممالک کے سوا پورا براعظم تقریباً ایک ہی معیاری وقت پر قائم رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ جنوبی امریکہ میں کہیں کہیں یہ تجربہ کیا گیا، مگر اکثر ممالک نے اسے ترک کر دیا، جبکہ آسٹریلیا اور اوشیانا میں یہ نظام محدود جغرافیائی علاقوں تک ہی نافذ رہا ہے۔

پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں گھڑی کی سوئی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کبھی مستقل روایت نہیں بن سکی۔ توانائی کے بحران کے پس منظر میں۲۰۰۲ء، پھر ۲۰۰۸ء اور ۲۰۰۹ء میں دن کی روشنی سے فائدہ اٹھانے کے لیے گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کی گئیں۔ مقصد یہ تھا کہ بجلی کی بچت ہو اور قومی وسائل پر دباؤ کم کیا جا سکے، مگر عملی زندگی میں اس تبدیلی نے الجھنیں زیادہ اور سہولتیں کم پیدا کیں۔ نمازوں کے اوقات، دفتری معمولات اور سماجی نظم و ضبط میں پیدا ہونے والا انتشار اس قدر نمایاں تھا کہ متوقع فوائد پس منظر میں چلے گئے۔ چنانچہ ۲۰۰۹ء کے بعد یہ تجربہ ختم کردیا گیا اور پاکستان دوبارہ اپنے معیاری وقت پر لوٹ آیا۔

یوں دیکھا جائے تو گھڑی کی سوئی کا آگے پیچھے ہونا محض وقت کی تبدیلی نہیں، بلکہ انسانی زندگی کی رفتار، نظم اور ذہنی ہم آہنگی پر اثر انداز ہونے والا ایک گہرا عمل ہے۔ کچھ معاشرے اسے قبول کر چکے ہیں اور کچھ نے اسے اپنی فطری زندگی کے خلاف سمجھ کر ردّ کر دیا ہے۔ وقت، بظاہر ایک ہی رہتا ہے، مگر ہر خطے میں اس کے ساتھ انسان کا رشتہ الگ الگ صورت اختیار کر لیتا ہے۔

باقی دنیا کے اعتبار سے کینیڈا میں صورت حال بہت مختلف ہے۔ رقبہ کے لحاظ سے کینیڈا دُنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس کے اپنے چھ مختلف ٹائم زونز ہیں۔ اور اگر ایک شہر میں ظہر کی نماز ہورہی ہے تو بہت ممکن ہے کہ کسی دوسرے شہر میں افطاری کا وقت ہورہا ہو۔ ان حالات میں مختلف صوبوں کا گھڑیوں کے اوقات تبدیل کرنا یا کچھ کا نہ کرنا واقعی دردِ سر بن جاتا ہے۔

کینیڈا کے زیادہ تر صوبے اس روایت کا حصہ ہیں، اگرچہ کچھ مقامی علاقے اس سے مستثنیٰ بھی ہیں۔ سب سے اہم فیصلہ اس سال صوبہ برٹش کولمبیا نے کیا ہے کہ ۸؍مارچ ۲۰۲۶ء کو ڈے لائٹ سیونگ کے تحت آخری بار وقت تبدیل کیا گیا ہےاور مستقبل میں ڈے لائٹ سیونگ ہی پورا سال برقرار رہے گا۔یعنی اب نومبر۲۰۲۶ء میں اور اس کے بعد بھی وقت تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ سسکاچوان پہلے ہی معیاری وقت کے مطابق پورا سال کام کرتا ہے جبکہ یوکان ٹیریٹری نے بھی وقت میں تبدیلی ۲۰۲۰ء سے ختم کردی ہوئی ہے۔

بہت سے لوگ ان تبدیلوں کے حق میں ہیں جبکہ بہت سے اس کے مخالف۔ حامیوں کے مطابق:

٭… شام کے وقت زیادہ روشنی لوگوں کو باہر نکلنے پر آمادہ کرتی ہے۔

٭… خریداری، کھیل اور تفریح میں اضافہ ہوتا ہے۔

٭… کاروبار اور سیاحت کو فائدہ پہنچتا ہے۔

کاروباری حلقے اسے ایک طرح کی معاشی سرگرمیوں کی ’’روشنی‘‘ سمجھتے ہیں۔لیکن انسانی جسم کیا کہتا ہے؟ یہاں سے بحث کا دوسرا رخ شروع ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انسان کا جسم Circadian Rhythm کے تحت کام کرتا ہے یعنی انسان میں ایک قدرتی حیاتیاتی گھڑی ہوتی ہے۔ مشینی گھڑی کی سوئی تو ایک لمحے میں آگے بڑھ جاتی ہے، مگر جسم کو اس تبدیلی کے مطابق ڈھلنے میں وقت لگتا ہے۔تحقیقات بتاتی ہیں کہ DST کے بعد چند دنوں تک:

٭… نیند متاثر ہوتی ہے

٭… ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے

٭… بعض علاقوں میں حادثات کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

وقت کی یہ مصنوعی تبدیلی انسانی جسم کے لیے ہمیشہ اتنی آسان نہیں ہوتی۔ڈے لائٹ سیونگ ٹائم ایک انتظامی فیصلہ ضرور ہے مگر اس کے اثرات تاریخ، معیشت، صحت اور انسانی رویوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

یورپ سے شروع ہونے والی یہ روایت آج بھی دنیا کے کئی ممالک میں جاری ہے، مگر جدید تحقیق اس پر نئے سوال اٹھا رہی ہے۔ مستقبل میں ممکن ہے دنیا اس نظام پر دوبارہ غور کرے۔مگر ایک حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ وقت کبھی نہیں رکتا صرف گھڑیاں رکتی ہیں۔انسان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ وقت کے ساتھ چلتا ہے یا وقت اسے پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔

جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ امریکی مفکر بینجمن فرینکلن نے اٹھارھویں صدی میں طنزیہ انداز میں لکھا تھا کہ اگر لوگ سورج کے ساتھ جاگیں تو موم بتیوں کی بچت ہوسکتی ہے۔ جبکہ حقیقت میں یہ نظام آج سے چودہ سو سال پہلے متعارف کروایا گیا تھا اور پوری اسلامی دُنیا اور مسلمان اس پر آج بھی قائم ہیں۔ روزانہ پنج وقتہ نمازوں اور رمضان المبارک کے روزوں کے اوقاتِ کار کو سورج کے طلوع و غروب سے متعین کیا جاتا ہے۔ اسلامی نظامِ عبادات صدیوں سے سورج کی روشنی کے مطابق وقت کی تنظیم کی ایک عمدہ عملی مثال پیش کرتا ہے۔

(محمد سلطان ظفر۔ کینیڈا)

مزید پڑھیں: کک پائن درخت جھکا ہوا کیوں اُگتا ہے؟

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button