حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ کینیڈا مقامی ریجن کی مجلس عاملہ کی ملاقات

لوگوں کی ہمت بنانی پڑے گی کہ ایسے حالات میں اَور زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکو۔ یہی خدام کا کام ہے۔ جب کرائسز آتے ہیںتو بجائے ہمت ہارنے کے اور ڈپریشن میں جانے کے اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ جھکیں، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں تا کہ اللہ تعالیٰ ہمت دے اور اس کرائسز سے آرام سے گزر سکیں

مورخہ ۵؍ اپریل۲۰۲۶ء ، بروز اتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ کینیڈا کے مقامی ریجن کی مجلس عاملہ کے اُنتالیس (۳۹) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے کینیڈا سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

بعدازاں تمام شاملینِ مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنے شعبہ جات اور مفوّضہ ذمہ داریوں کی بابت مختصر تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

ناظم تعلیم سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ ناظم تعلیم کا کیا کام ہوتا ہے؟اس پر انہوں نے عرض کیا کہ خدام کو جماعتی کُتب اور قرآنِ کریم پڑھنےکی طرف توجہ دلانا۔

یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ اچھا! تو آپ نے خود کتنی کُتب پڑھ لی ہیں؟اس پر عرض کیا گیا کہ انہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ساٹھ کُتب پڑھی ہوئی ہیں۔

اس کاوش کو سراہتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ اچھا! تم نے کمال کر دیا۔ نیز استفسار فرمایا کہ عاملہ کو بھی کہتے ہیں پڑھیں؟ حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ پہلے تو عاملہ کو توجہ دلائیں، عاملہ کو پڑھا دیں، پھرخدام بھی پڑھ لیں گے۔

ناظم تجنید سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ تجنید پوری up to date ہے؟اس پر انہوں نے عرض کیا کہ وہ اس حوالے سے کوشش کر رہے ہیں۔

پھر حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ جو نئے آتے ہیں یا اطفال سے شامل ہوتے ہیں ان کو کس طرح شامل کرتے ہیں؟

جس پر عرض کیا گیا کہ ہمیں نیشنل سے updateآتی ہے۔

یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے مجالس کی سطح پر ڈیٹا اکٹھا کرنے اور نیشنل شعبے کو فیڈنگ کی بابت توجہ دلائی کہ نیشنل کو تو گراس روٹ لیول سے فیڈ کرنا چاہیے،آپ جو مجالس ہیں، ان کو نیشنل کو فیڈ کرنا چاہیے نہ کہ نیشنل آپ کو فیڈ کرے۔ آپ نے انفارمیشن ان کو دینی ہے، گھر میں تو آپ بیٹھے ہوئے ہیں اور باہر والوں سے انفارمیشن مانگ رہے ہیں ، تو وہاں سے ہر گھر میں جا کے آپ اپنا ڈیٹا update کیا کریں ۔

مزیدبرآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور معاشی بحران کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔اس سلسلے میں راہنمائی کی درخواست ہےکہ ہم بطور خدام اس صورتحال کے لیے خود کو کس طرح تیار کریں؟

اس پر حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ تمہارے پاس نہ تو کوئی oil rig ہے، نہ oil wells ہیں، نہ refinery ہے اور نہ آپ کے پاس ایسا ملک ہے کہ جس کیoilکیcomplete ownership ہو۔ یہ oilوالے riskکا سوال نہیں ہے۔ یہ تو انٹرنیشنل جو inflationہونی ہے اور دنیا نے ڈپریشن اور recession میں جانا ہے۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ Oil Rig ایک بڑا صنعتی ڈھانچہ یا پلیٹ فارم ہوتا ہے جو زمین یا سمندر کی تہ سے خام تیل اور قدرتی گیس نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سمندری علاقوں میں اسے عموماً آف شور رِگ کہا جاتا ہے جو پانی کے اندر موجود تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنے کے لیے خاص طور پر تعمیر کیا جاتا ہے۔ آئل رِگ میں جدید مشینری، ڈرلنگ کا نظام اور عملے کے رہنے کی سہولیات بھی موجود ہوتی ہیں کیونکہ بعض اوقات یہ سمندر میں خشکی سے دُور کام کرتا ہے۔ یہ توانائی کی پیداوار میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔]

حضورِ انور نے معاشی بحران کے تناظر میں خدام کی ذہنی تربیت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ اس کے لیے خدام کو تیار کریں، ٹریننگ دیں کہ کس طرح ان کوmentallyتیار ہوناچاہیے۔ کرائسز میں آ کے خدام ہمت نہ ہار بیٹھیں ۔

مزید برآں حضورِ انور نے معاشی بحران کے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے متبادل روزگار کی تلاش کی بابت توجہ دلائی کہ اور بہت سارے دنیا والے ہیں جن کاجو پیسہ ڈوب جائے گا اور پھر ان کے پاس کچھ نہیں ہوگا، تو بعض suicideکرنے کی کوشش کریں گے،بعض bankrupt ہو کے گھروں میں بیٹھ جائیں گے اور ڈپریشن میں چلے جائیں گے ۔ recession ہوگا تو ڈپریشن ہوگا۔ وہ جو کسی economistنےکہا تھا، مذاق بنایا ہوا ہے کہ جب اِکنامک کرائسزآتا ہے، تو دنیا کے لیے آئے تو recessionہے اور جب میرے پر آئے تو ڈپریشن ہے۔ تو یہ پڑھانا پڑے گا۔ باقی ہم کیا کر سکتے ہیں؟اس لیے کوئیalternative jobتلاش کرنی چاہیے کہ کام کیا ہم کر سکتے ہیں۔ صرف اسی کے اُوپر نہ رہیں۔ آپ کے کون سے ایسے کاروبار لوگ کر رہے ہیں جس کیbaseآئل انڈسٹری ہے۔ چند ایک ہی ہوں گے۔باقی دنیا کی انڈسٹری کاجس طرح نقصان ہونا ہے وہ احمدیوں کو بھی اسی طرح برداشت کرنا پڑے گا۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے مشکل حالات میں رجوع الی اللہ کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ بس لوگوں کی ہمت بنانی پڑے گی کہ ایسے حالات میں اَور زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکو۔ یہی خدام کا کام ہے۔ جب کرائسز آتے ہیںتو بجائے ہمت ہارنے کے اور ڈپریشن میں جانے کے اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ جھکیں، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں تا کہ اللہ تعالیٰ ہمت دے اور اس کرائسز سے آرام سے گزر سکیں۔

ایک خادم نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ بعض خدام vaping (الیکٹرانک سگریٹ کا استعمال) کرتے ہیں اور یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ یہ حرام نہیں ہے، نیز اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست کی کہ حضورِ انور اس بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے دینی وابستگی میں پائی جانے والی کمزوری کو اس مسئلے کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے چند اہم اُمور کی بابت نشاندہی فرمائی کہ اللہ سے دُور ہو رہے ہیں، جماعت سے تعلق نہیں، نمازوں پر آنا نہیں، تو پھر اس قسم کی حرکتیں ہی ہوں گی۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر زیادہ وقت ضائع کرنا اور غلط قسم کی سوسائٹی میں جانا ہے۔

حضورِ انور نے نوجوانوں کی اصلاح کے لیےشعبہ تربیت کے فعّال کردار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تو پھر پہلے تو یہ تربیت کا کام ہے کہ اگر تربیت کا ڈیپارٹمنٹactive ہو جائے اور ایسے لوگوں پر نظر رکھے جو اس قسم کی غلط سوسائٹی میں پڑے ہوئے ہیں، ان کو سمجھاؤ اور ان سے بجائے نفرت کرنے کے انہیں قریب لاؤ ۔ اور ایسے جو مضبوط ہوں، اپنے ایمان میں بھی مضبوط ہیں ، ان لوگوں کی ان کے ساتھ دوستی بنانے کی کوشش کریں تا کہ وہ ان کی اصلاح کریں۔ تو یہی طریقے ہیں۔

اسی طرح حضورِ انور نے جاری تربیتی پالیسی کے نتیجے میں اچھے نتائج کے حصول کی طرف توجہ دلاتے ہوئے خدام کی اصلاح اور حدودِ کار کے حوالے سے عملی راہنمائی عطا فرمائی کہ باقی جو آپ لوگوں نے پالیسی بنائی ہوئی ہے، اس پر کام کر رہے ہیں، تو ٹھیک کر رہے ہیں۔ اب اچھے رزلٹ نکالیں۔ آپ کہتے ہیں کہ چند ایک اٹھارہ اُنیس لڑکے ٹھیک ہو گئے، ان سے آپ آگے کام لے رہے ہیں، ان کو اچھے کام کےلیے آگے دوسرے شہروں میں بھی بھیج سکتے ہیں یا دوسروں کو وہاں سے اپنے پاس منگوا سکتے ہیں ۔ اور ان کی اصلاح آپ کرسکتے ہیں۔جو خود اصلاح کرنا چاہتا ہے، جو چاہتا ہی نہیں اصلاح کروانا، اس کو آپ زبردستی نہیں کر سکتے۔سوائے اس کے کہ قانوناًvapingمنع ہو۔

پھر حضورِ انور نے عمر کی حدّ سے متعلق دریافت فرمایا کہ ایک عمر کے بعدallowہے کہ بچپن سے ہی جو مرضیvapingکر لے؟اس پر عرض کیا گیا کہ کینیڈا میں اُنیس سال کی عمر سے اس کی قانوناً اجازت ہے۔یہ سماعت فرما کرحضورِ انور نے تلقین فرمائی کہ بس پھر اس سے پہلے سمجھائیں اورنظر رکھیں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نےتربیتی مسائل کےپس منظر میں گھریلو حالات اور شعبہ تربیت کے مربوط کردار کی بابت بھی نشاندہی فرمائی کہ ماں باپ کے گھر کے حالات ٹھیک نہیں ہوتے تو تب ایسی باتیں ہوتی ہیں۔ تو وہ بھی تربیت کے شعبے کا کام ہے ۔ جماعت کی تربیت، خدام الاحمدیہ کی تربیت، انصار اللہ کی تربیت اور لجنہ کی تربیت۔ یہ سارا co-ordinated کام ہوتا ہے توتبھی کام ہو سکتا ہے۔

ایک شریک مجلس نے عرض کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنّت ہے۔ اس ضمن میں راہنمائی کی درخواست ہے کہ بطور خدام ہمارے لیے اس قید خانے کا کیا مفہوم ہے اور ہم اس دنیا کو جنّت سمجھنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

اس پرحضورِانور نے قرآنِ کریم کی روشنی میں دنیا و آخرت کا تصوّر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مومنوں کے لیےprisonہے، اس لیے کہ یہ جو دنیا کی عیاشیاں ہیں ، ان سے بچ کے رہنا ہے۔ تو وہ یہی ہے کہ جس طرح ہمیں جیل میں ڈال دیا ہے۔ قرآنِ شریف میں بھی آتا ہے کہ قیامت والے دن یا مرنے کے بعد دو گروہ آئیں گے، جو لوگ اس دنیا میں خوش ہوں گے، وہ اگلے جہان میں جا کے تو مشکل میں پڑے ہوں گے اور جو لوگ اس دنیا میں مشکل میں ہوں گے، وہ اگلے جہان میں خوش ہوں گے کہ جو اللہ تعالیٰ کی بات مانتے ہیں، اللہ کے حکموں پر عمل کرتے ہیں اورخدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے:اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ۔کہ میرا ذکر، میری عبادت ، نیک کام ، اچھے کام اور اچھے اخلاق تمہارے دلوں کو اطمینان دیتے ہیں۔

پھر حضورِ انور نے دنیا دار اور مومن کی سوچ میں پائے جانے والے امتیازی فرق کو واضح کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ دنیا کی نظر میں وہ سمجھتے ہیں۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ خود مومن سمجھ رہا ہوتا ہے کہ مَیں جیل میں آ گیا ، بلکہ یہ کہ دنیا سمجھ رہی ہوتی ہے کہ نیکیوں کے کام کر کے دیکھو! نہ یہ ڈانس کر رہا ہے، نہ شراب پی رہا ہے، نہ vapingکر رہا ہے، نہ کسی اورaddictionمیںinvolveہے، نہ اس نے girlfriends بنائی ہوئی ہیں، نہ یہ اور بدمعاشیاں کر رہے ہیں اور نہ یہ کلبوں میں جاتے ہیں، تو ان کے لیےتو پھر دنیا جیل ہی ہوگی ۔ ان کی بہت ساریrestrictions ہیں ۔

حضورِ انور نےایک مومن کے لیے دنیا کی قیود اور اجر آخرت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تو اصل میں چیز یہ ہے کہ دنیا کی نظر میں وہ جیل ہے، لیکن مومن کی نظر میں جیل نہیں ہے، مومن اس بات پر خوش ہے۔ مومن کب کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ اس جیل سے آزادی دے اور مَیں بھی عیاشیاں کروں۔ اس کو پتا ہے کہ یہ جیل جو مَیں نے اپنے اُوپر خود طاری کی، الله تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے restrictions طاری کی ہوئی ہیں ، تو اگلے جہان میں جا کے اس کا بھی رِیوارڈ ملے گا۔ اور دنیا والے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس دنیا میں جو عیاشیاں کر لیں تواگلے جہان میں بھی ہمیں یہی کچھ ملے گا، تو وہاں جاکےتو پھر سزا ملے گی۔

اسی طرح حضورِ انور نے انبیاء و صالحین کی آخرت سے محبّت اور دنیا دار کے طرزِ فکر کو بیان کرتے ہوئے فرمایا تو اس سےمیری مراد یہ ہے کہ مومن کبھی یہ نہیں سمجھتا۔کبھی کسی نبی نے کہا ہے کہ میرے لیے جیل بن گئی ، اللہ تعالیٰ مجھے اس جیل سے آزاد کر؟ وہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں خوش ہوتا ہے، ہاں! اللہ تعالیٰ سے ملنے کا شوق ضرور ہوتا ہے۔ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے وقت کہا کہ الرفیقِ الاعلٰی الرفیقِ الاعلٰی کہ اللہ تعالیٰ جو میرا دوست ہے، میرا سب سے اچھا دوست ہے، میرا ساتھی ہے، اس کے پاس مَیں جاؤں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانے میں بھی یہی کہا اور سب نیک لوگ اسی بات پر ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بخشے اور انجام بخیر ہو ۔ لیکن جو دنیا دار ہے، اس کو اس قسم کا خیال ہی نہیں آتا، وہ تو یہ سمجھتا ہے کہ میرےلیے یہ جنّت بن گئی ۔جس طرح فارسی میں بابر کا ایک شعر لوگ کہتے ہیں؂

بابر بہ عیش کوش کہ عالَم دوبارہ نیست

بابر عیش کرو یہ دنیا دوبارہ نہیں ملنی۔یہ دنیا تو نہیں ملنی ، اگلے جہان میں تو جہنّم ملنی ہے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے سوال کے نفسِ مضمون کے تناظر میں اس اَمر کا اعادہ فرمایا کہ اس لیے بظاہر جو دنیا کی نظر میں جیل ہے، وہ مومن کے لیےجیل نہیں ہے، کیونکہ اس کو پتا ہے کہ ultimately مجھے ایک ایسا reward ملنا ہے جو میرے لیے جنّت ہے۔ اور جو دنیا دار ہے وہ سمجھتا ہے کہ مَیں اس دنیا میں عیاشی کر رہا ہوں تو اگلے جہان میں بھی عیاشی کروں گا۔تو وہ تو اللہ تعالیٰ قرآنِ شریف میں بھی کہتا ہے کہ پھر اگلے جہان میں جا کے وہ پوچھے گا کہ مَیں دنیا میں تو بڑی عیاشی کرتا تھا،یہاں مجھے کیوں عذاب میں ڈال دیا، مجھے یہاں بھی تو آسانیاں ملنی چاہئیں تھیں، وہ سمجھتا ہے لیکن نہیں ملیں گی۔ تو یہ اس سے مراد ہے۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض کیا جاتا ہے کہ ظہیرالدین محمد بابر مغلیہ سلطنت کے بانی اور برصغیر کے پہلے مغل بادشاہ تھے۔ وہ ۱۴۸۳ء میں فرغانہ (موجودہ اُزبکستان) میں پیدا ہوئے اور تیمور کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ ۱۵۲۶ء میں پانی پت کی پہلی جنگ میں ابراہیم لودھی کو شکست دے کر انہوں نے ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔ بابر نہ صرف ایک بہادر فاتح اور مدبّر حکمران تھے بلکہ فارسی اور چغتائی زبان کے صاحبِ ذوق شاعر اور ادیب بھی تھے۔ ان کی مشہور خودنوشت بابرنامہ تاریخ کی اہم اور مستند کتب میں شمار ہوتی ہے۔ ان کا انتقال ۱۵۳۰ء میں تقریباً بعمر ۴۷؍ سال ہوا اور ان کے بعد ان کے بڑے بیٹے ہمایوں تخت نشین ہوئے،ابتدا میں انہیں آگرہ میں دفن کیا گیا، مگر ان کی خواہش کے مطابق بعد میں ان کا جسدِ خاکی باغِ بابر، کابل (افغانستان) منتقل کر کے وہاں دفن کیا گیا، جہاں آج بھی ان کا مزار موجود ہے۔]

ایک سوال حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں یہ پیش کیا گیا کہ تیسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد دنیا کے لیےکون سے ہنر یا پیشے سب سے زیادہ مفید ثابت ہوں گے؟

اس پر حضورِ انور نے تعلق بالله کو بنیاد قرار دیتے ہوئے عملی نمونے کے ذریعے دنیا کی اصلاح کی جانب توجہ دلائی کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ خود اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے پیدا کریں تاکہ لوگوں کو پھر صحیح راستے پر آپ چلائیں۔ لوگوں کو بتائیں کہ دیکھو! تیسری جنگِ عظیم تمہاری دنیا کے جھگڑوں، دنیا کی خواہشات اور غلط قسم کے کاموں کی وجہ سے ہوئی اور تم نے تباہی دیکھ لی۔ اب اللہ کی طرف آؤ اور اللہ کی طرف لانے کے لیے تمہیں اپنا نمونہ دکھانا ہوگا ۔

حضورِ انور نے ایمان کی مضبوطی اور مہارتوں کی ازسرِنو تنظیم و اطلاق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلی بات تو یہی ہے کہ کسی بھی skillکے سیکھنے سے پہلے خود اپنا ایمان مضبوط کریں اور اللہ کے ساتھ تعلق پیدا کریں۔پھر دوبارہ جب دنیا کو قائم کریں گے، نظام کو پھر ٹھیک کریں گے، سارا سسٹم دوبارہ ٹھیک کریں گے تو پھر ساری چیزیں دوبارہ وہی کام آئیں گی کہ آپ کے پاس جوskillہے، وہی ہوگی،نئے سرے سے اس کو اور ہر چیز کوestablishکرنا ہو گا۔ آپ نے سیکھا تو ہوا ہے، آپ کو پتا ہے کہ ٹیکنالوجی کیا چیز ہے، آپ کو پتا ہے کہ آئی ٹی کیا چیز ہے اور انجینئرنگ کیا چیز ہے اور میڈیسن کیا چیز ہے، تو ہر چیز میں آپ کے پاس جو بھی expertise ہیں، اس وقت پھر اس کو ان حالات کے مطابق دوبارہ re-organiseکرنا پڑے گا۔ اسی طرح ہے وہ کریں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے ماضی کی عالمی جنگوں کے تناظر میں تعمیرِ نو کے حوالے سے احمدیوں کی دو بنیادی ذمہ داریوں کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ Second World War اور First World Warکے بعد کیا ہوا تھا۔ دنیا نے اپنے آپ کو دوبارہestablishکر ہی لیا تھا۔ جاپان میں ہیروشیما اور ناگا ساکی میں جو ایٹم بم گرےتھے اب وہاں شہر آباد ہیں۔ ان شہریوں نے ہمت کی، آباد کر لیا ، اسی طرح آپ لوگوں کو بھی ہمت کر کے لوگوں کی ہمت بڑھانی بھی پڑے گی اور لوگوں کو سیدھا راستہ بھی دکھانا پڑے گا ، تو احمدی کےدو کام ہوں گے۔

ایک خادم نے راہنمائی کی درخواست کی کہ ایک مومن self-doubt سے کس طرح بچ سکتا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ اِستغفار زیادہ پڑھا کرو۔ نیز سمجھایا کہ بدّظنی ہی ہوتی ہے، self-doubtکیا ہے کہ underestimateکر لیا۔

حضورِ انور نے توکّل علی اللہ، خود اعتمادی اور علم کے مؤثر استعمال کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ پرتوکّل کرو۔اپنے آپ کوunderestimateنہ کرو۔تم نے جو پڑھا ہے،اس کو اور اپنے علم کو پوری طرحutilizeکرو اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ مجھے confidence دے اور مجھے ہمت دے کہ مَیں سیکھوں اور جو بھی پڑھائی کی ہے، اس میں علم کو مزید بڑھاؤ، self-doubtآہستہ آہستہ دُور ہوجاتا ہے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے دنیا کی قیادت کرنے کے عظیم مقصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے اندرخود اعتمادی پیدا کرنے کی بابت بصیرت افروز انداز میں راہنمائی عطا فرمائی کہ اپنے اندرconfidenceپیدا کرو۔ ہم نے دنیا کو لیڈ کرنا ہے، جب یہ ایک ٹارگٹ رکھو گے کہ دنیا کو لیڈ کرنا ہے، توself-doubtختم ہو جائے گا اورconfidenceپیدا ہو جائے گا۔ ڈرتے کیوں ہوں؟

ناظم تعلیم کو بھی ایک سوال کے ذریعے حضورِ انور سے اس اَمر میں راہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا کہ ہم اپنے اندر جماعتی کُتب کے مطالعہ کا شوق اور محبّت کس طرح پیدا کر سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے اوّل الذکر گفتگو کے تناظر میں انتہائی پُر شفقت انداز میں مسکراتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح آپ نے ساٹھ کتابیں پڑھ کے کر لی ۔

جس پر انہوں نے خدام کے حوالے سے کچھ نصیحت کرنے کی عاجزانہ درخواست کی تو حضورِ انور نے خدام میں جماعتی لٹریچر کے مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کے لیے مختصر، دلچسپ اور موضوعاتی مواد کے مؤثر ابلاغ کی حکمتِ عملی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ خدام کے لیے مَیں نے بتایا تھا کہ چھوٹے چھوٹے جو ان کے interestکےtopic ہیں، وہ نکال کے جو آپ کی ویب سائٹ ہے، سوشل میڈیا آپ نے کوئی رکھا ہوا ہے یا ویب سائٹ رکھی ہوئی ہے، اس میں میسج بھیجا کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےquotesہیں، قرآنِ کریم کی آیتیں ہیں، حدیثیں ہیں، ان سے ان کا interest develop ہو اور اس کیdetailجاننے کے لیے پھر تھوڑے تھوڑےpassageجو ایک ایک دو دو منٹ کے پڑھنے کے لیےہیں یا میسج ہیں، وہ دیں، پھر ان کو بتادیں کہ یہ فلاں کتاب میں لکھا ہوا ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے عصرحاضر کےموضوعات اور دینی تعلیمات کی روشنی میں دلچسپی پیدا کرنے اور فیڈ بیک کے ذریعے مؤثر راہنمائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ مثلاًاللہ ہے۔اب تو یہ ویسے بھی جماعت نے The Essence of Islam کی پانچ چھ جلدیں شائع کر دی ہیں ، اس پر مختلف topicsہیں مختلف لوگوں کے۔ بتا دیں کہ یہ یہtopicsہیں اور یہاں یہاںavailableہیں اور کبھی کبھی ان کےpassagesنکال نکال کے سوشل میڈیا پر دیتے رہا کریں، وہ اس طرح مستقل سرکولیٹ کریں اورtopicدیکھیں ۔ پھر دیکھیں اور لوگوں سے فیڈ بیک لیں کہ لوگوں کےinterestکیا ہیں، کس قسم کےtopicآجکل وہ سوچ رہے ہیں، کیا contemporary issuesہیں، کس کا ہم نے کس طرحsolutionنکالنا ہے۔ اس کے اُوپر جماعت کا کیا نظریہ ہے، قرآنِ کریم کا کیا نظریہ ہے، حدیث کیا کہتی ہے، قرآن و حدیث کی تعلیم کیا ہے؟ اس سے پھر دین کی طرف آنے کاinterest develop ہوگا ۔

اسی طرح حضورِ انور نے دلچسپی پیدا کرنے کے لیے منظّم حکمتِ عملی، فیڈ بیک اور معلوماتی تجزیہ کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تک آپ کسی بات میں interest developنہیں کراتے، اس وقت تک تو کسی کوکوئی دلچسپی نہیں ہوگی، تو اس طرح فیڈ بیک بھی لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے مطابق پھر اپنا پلان اورstrategyبنانی چاہیے۔ دنیا میں کوئی بھی بڑے کام کرنے کے لیے ایکstrategyبنانے کے لیےانفارمیشن لینی پڑتی ہے اور اس کا ہر لیول پر فیڈ بیک آنا چاہیے۔اورsociologistجو ہیں، سوشل سائنس کے تحت وہ ایک ڈیٹا collectionکرتے ہیں، دنیا میں گورنمنٹ کا بھی اور اچھے اداروں کا بھی ایک ڈیپارٹمنٹ ہوتا ہے۔

حضورِ انور نے عملی مثال کے ذریعے دلچسپی پیدا کرنے اور مؤثر منصوبہ بندی کے اصول کو بیان کرتے ہوئےارشاد فرمایا کہ کسی کمپنی نے بسکٹ بنانا ہو تو وہ بھی پہلے مختلف جگہوں پر ڈیٹاcollectکرتے ہیں کہ کس قسم کاtasteبچوں میں ہے، کس قسم کا بڑوں میں ہے اور لوگ کس قسم کےtasteوالے بسکٹ پسند کرتے ہیں۔ پھر اس کے وہ اشتہار دیتے ہیں ، اشتہار دے دے کے جو تھوڑی بہت کمی ہے، وہ بھی پوری ہو جاتی ہے ۔ پھر وہ اپنی product کو باہر نکالتے ہیں اورلوگ اس کو لے لیتے ہیں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے خدام میں مطالعہ اور دینی دلچسپی پیدا کرنے کے لیے اسی طرزِ عمل کو اختیار کرنے کی تلقین فرمائی کہ تو اسی طرح اس نہج پر آپ لوگوں کو بھی کام کرنا چاہیے کہ لوگوں کے اندر interest develop کرکے کس طرح ہم کام کر سکتے ہیں ۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورتبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔

بعدازاں حضورِ انور نے نیشنل صدر مجلس خدام الاحمدیہ کینیڈا سے مخاطب ہوتے ہوئے یاد دلایا کہ نیشنل عاملہ کی جو باتیں ہیں ، وہی مقامی عاملہ کے لیےہوتی ہیں، بتاتے نہیں رہتے؟ اثبات میں جواب سماعت فرمانے پر حضورِ انور نے اصولی ہدایت کا اعادہ فرمایا کہ باقی کام کریں، جو آپ کو ملا ہوا ہے، ایک لائحہ عمل ملا ہوا ہے بس اس پر کام کرو۔

یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’السلام علیکم‘‘پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ممبرات لجنہ اماء اللہ و ناصرات الاحمدیہ فن لینڈ کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button