حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار الله امریکہ کے سینٹرل ایسٹ ریجن سے تعلق رکھنے والےاحباب کے ایک وفد کی ملاقات

مختلف جماعتوں میں مرکزی طور پر ایک سے زیادہ سیکرٹری رشتہ ناطہ بھی بنا دیےگئے ہیں اور رشتہ ناطہ کمیٹیاں بھی ہیں اور اس کے لیے آپ کی انصار اللہ اور لجنہ اور خدام اور جماعت کے سیکرٹریان کی کمیٹی بھی ہے۔ تو یہ سارے مل کے اگر کام کریں تو پوری ایکconcertedکوشش ہو اور آپس میںcollabortionاور co-operation ہو، تو صحیح طرح کام ہو سکتا ہے

مورخہ ۶؍ اپریل ۲۰۲۶ء ، بروزپیر، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار الله امریکہ کے سینٹرل ایسٹ ریجن سے تعلق رکھنے والے احباب کے تئیس (۲۳) رکنی ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے امریکہ سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو تمام شاملینِ مجلس نے آپ کی خدمتِ اقدس میں السلام علیکم کا عاجزانہ نذرانہ پیش کیا۔

بعدازاں تمام شاملینِ مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف کرانے کا موقع بھی ملا۔

مزیدبرآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ آج کل بہت سے لڑکے اور لڑکیاں شادی میں تاخیر کر رہے ہیں یا اس سے انکار کر رہے ہیں۔اس تناظر میں عاجزانہ درخواست کی کہ مجلس انصار اللہ کے ممبران کی حیثیت سے ہم ایسے نوجوانوں کو کیا مؤثر نصیحت اور راہنمائی فراہم کر سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے والدین کی ابتدائی تربیت اور بچپن سے احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ مَیں نے تو ہر ایک کو advise دی ہوئی ہے، انصار اللہ کا کیا سوال ہے، as a parentآپ کو ان کو بچپن سے ہی بتانا چاہیے ۔ جس طرح حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ امّاں جان رضی الله عنہا بچوں کو کہا کرتی تھیں، لڑکیوں کو نصیحت کرتی تھیں کہ اپنے نیک نصیب ہونے کی بچپن سے ہی سات آٹھ سال کی عمر میں ہی دعا کرو۔

حضورِ انور نے گھریلو تربیت، تعلیمی ترجیحات اور بدلتے معاشرتی رجحانات کے اثرات کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ بچپن میں اگر گھروں میں ماں باپ کی تربیت ہو ، تو ان کو صحیح احساس پیدا ہوتا رہتا ہے کہ ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں اور دعا بھی کرتی رہتی ہیں اور یا تو پھر یہ ہے کہ کسی profession میں چلی گئیں اورکچھ زیادہ پڑھ لکھ لیں، تو پھر ان کولڑکے پڑھے لکھے نہیں ملتے ہیں۔ اور لڑکے جو ہیں، ان کی اپنی مختلف قسم کی ڈیمانڈز ہیں، ان کو لڑکیاں پسند نہیں آتیں ، آزادی زیادہ ہو گئی ہے۔

اسی طرح حضورِ انور نے انصار، خدام اور جماعتی نظام کے باہمی تعاون کے ذریعے منظّم تربیتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ انصار اللہ کو چاہیے کہ اپنے گھروں کے ماحول میں تربیت کریں۔ خدام الاحمدیہ سے شروع کریں اور پھر انصار بھی تربیت کریں تا کہ ان میں احساس پیدا ہو کہ اصل ذمہ داری کیا ہے۔ تو اس کے لیے مختلف جماعتوں میں مرکزی طور پر ایک سے زیادہ سیکرٹری رشتہ ناطہ بھی بنا دیےگئے ہیں اور رشتہ ناطہ کمیٹیاں بھی ہیں اور اس کے لیے آپ کی انصار اللہ اور لجنہ اور خدام اور جماعت کے سیکرٹریان کی کمیٹی بھی ہے۔ تو یہ سارے مل کے اگر کام کریںتو پوری ایکconcertedکوشش ہو اور آپس میںcollabortionاور co-operation ہو، تو صحیح طرح کام ہو سکتا ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے والدین کی عملی راہنمائی، نوجوانوں کے ماحول اور دینی تربیت کے تسلسل کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ گھروں کی تربیت، parents کو پہلے یہ گائیڈ کریں کہ وہ اپنے گھروں میں بچوں کو شروع سے ہی احساس دلائیں ۔ یہاں بچے کالج میں جاتے ہیں، یونیورسٹیز میں جاتے ہیں ، وہاں جا کے اپنا ایک آزاد ماحول ہوتا ہے۔ گھر میں والدین اپنے کاموں میں اور پیسہ کمانے میں مصروف ہیں، بچوں کے ساتھ ان کا بیٹھنا اُٹھنا نہیں ہے۔ اب آپ ریٹائر ہوگئے ہیں، آپ تو وقت دے دیتے ہوں گے، لیکن اس سے پہلے نہیں دے سکتے تھے ۔ اگر آپ نے شروع میں ایساکیا ہو، احساس دلایا ہو، تو ٹھیک ہے۔ بعض دفعہ رشتے نہیں ملتے، بعض پڑھے لکھے رشتے نہیں ملتے، لڑکے یا لڑکیاں غیروں میں رشتہ کرنا چاہتی ہیں۔ تو اس کےلیے پھر ان کو بتا دیں کہ اگر کوئی مسلمان ہے تو بعض دفعہ بلکہ اکثر دفعہ اجازت مل بھی جاتی ہے ، لیکن تم نے اپنے دین پر قائم رہنا ہے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے دعا، مسلسل کوشش اور مؤثر تربیت کے ذریعے مسائل کے حل کی تلقین کرتے ہوئےفرمایاکہ اگر تربیت صحیح طرح ہو ، دین کی اہمیت ہے، تو اتنے مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ اور یہ مسائل ہر جگہ ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فضل کرے۔ دعا بھی کریں ، کوشش بھی کریں، انصار اللہ کا یہی کام ہے۔ مَیں تو کہتا رہتا ہوں۔

ایک ناصر بھائی نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی مساجد میں بعض اوقات مسجد کی حدود کے اندر چندہ جمع کرنے کی سرگرمیاں دیکھنے میں آتی ہیں، اگرچہ یہ سٹالز کبھی بھی مسجد کے مرکزی نماز کے حصّے میں قائم نہیں کیے جاتے، تاہم خصوصاً سردیوں کے مہینوں میں یہ چندہ جمع کرنے والے سٹالز نماز کی اضافی جگہوں اور مسجد کی حدود میں واقع ہالز میں لگائے جاتے ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے مسجد کے اندر نماز کے مقام اور purpose-builtنماز ہال میں چندہ اکٹھا کرنے کے انتظام کی ممانعت اور اس کے درست مقام کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جہاں جو نماز کاprayer hallہے، جوpurpose built mosqueہے، وہاں اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ غلط ہے۔باہر جو ہوتا ہے، اگر کوئی کمرہ ہے، کوئی لابی ہے یا جگہ ہے، اس میں آپ چندے کے لیے organizeکر سکتے ہیں۔ لیکن مسجد میں نمازی آ رہے ہیں اور اس وقت آپ نے وہاں سٹال رکھا ہو تو وہ ٹھیک نہیں۔

مزید برآں حضورِ انور نے عملی مثال کے ذریعے چندہ جمع کرنے کے درست طریقہ اور مسجد کے اندر و باہر کے فرق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اب دیکھیں غیر احمدی بھی اپنا چندوں کا اعلان مسجدوں میں کرتے ہیں، ان کی مسجدوں میں جاکے دیکھیں تو انہوں نے باہر ڈبّے بنائے ہوتے ہیں اور لوگ جاتے جاتے اس میں ڈال دیتے ہیں۔ کیونکہ آپ لوگوں نے رسید دینی ہوتی ہے، اس لیےentranceکے اُوپر یا دیواروں کے باہر آپ لکھا ہوا لگا سکتے ہیں کہ چندہ دو، لیکن مسجد کے اندر ایک میز لگائی ہوئی ہے اور چندہ اکٹھا کر رہے ہیں، وہ نہیں ہونا چاہیے۔سوائے اس کے کہ کسی دن تھوڑی دیر کے لیے کوئی خاص طور پرorganizeکیا ہو اور نمازوں کاوقت اس میں نہیں ہے۔پھرتو ٹھیک ہے تھوڑی دیر کے لیے کر سکتے ہیں، otherwiseنہیں۔

اس پر سائل نے وضاحت کرتے ہوئے عرض کیا کہ وہ اس بازار نما انتظام کی بات کر رہے ہیں جو خواتین کے لیےقائم کیا جاتا ہے اور جہاں مہندی، چوڑیاں اور کپڑے وغیرہ فروخت کیے جاتے ہیں۔

سوال کی مزید وضاحت پیش کیے جانے کے بعد حضورِانور نے مسجد کے اندر ایسے دنیاوی اور تجارتی انتظامات کی سختی سے ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو غلط ہے، مسجد کے اندر تو ایسا ہونا ہی نہیں چاہیے، ہاں! مسجد کے premises میں باہر کرنا ہے تو کریں اور اگر سردیاں ہیں، winter seasonہے تو چھوٹا سا کسی نے اپناکوئی ٹینٹ لگا کے، کوئی gazebo لگا کے یا کسی طرح کر کے کرنا ہے تو وہ کرے، لیکن مسجد کے اندر نہیں۔ باہر کا بازار ہے تو ٹھیک ہے باہر رکھیں۔ بعض لوگ ایساکرتے ہیں ۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہGazebo ایک چھوٹا سا خوبصورت چھپر یا شیڈ ہوتا ہے، جو کہ عموماً باغ یا پارک میں بنایا جاتا ہے، اس کے نیچے لوگ بیٹھ کر آرام کرتے ہیں اور قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ مکمل کمرہ نہیں ہوتا ، بلکہ کھلا اور ہوا دار ہوتا ہے، صرف چھت اور چند ستون ہوتے ہیں۔]

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے مسجد کے اندر دینی مقاصد کے علاوہ کسی بھی قسم کے دنیاوی یا تجارتی اعلانات و سرگرمیوں کی ممانعت کو اصولی طور پر واضح کرتے ہوئے فرمایا: لیکن مسجد کے لیے چندہ بھی مَیں کہہ رہا ہوں کہ اس طرح اندر نہیں ہونا چاہیے، وہ بھی سارا سسٹم ذرا باہر رکھنا چاہیے۔ ہاں! اعلان کر سکتے ہیں کیونکہ وہ دینی خدمت ہے۔ یہی حکم ہے کہ سوائے دینی مقاصد کے لیے مسجدوں میں کوئی کسی بھی قسم کے اعلان نہیں ہونے چاہئیں۔ دنیاوی اعلان مسجدوں میں نہیں ہونے چاہئیں۔ تو جب اعلان نہیں ہونے چاہئیں تو کاروبار بھی نہیں ہو سکتا۔

ایک سائل نے عرض کیا کہ ایشیا سے تعلق رکھنے والے بہت سے انصار کے ریٹائرمنٹ کے بعد زیادہ مشاغل نہیں ہوتے۔اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست کی کہ یہ وقت کس طرح بہترین اور بامقصد طریقے سے گزارا جا سکتا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے ریٹائرمنٹ کے بعد انصار کے ممکنہ مشاغل اور عمر رسیدگی کے باوجود فعّال رہنے کے پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ہر ایک کا ریٹائرمنٹ کے بعد کوئیinterest تو ہوتا ہو گا ۔ اوّل تو آپ ریٹائرمنٹ لیتے کوئی نہیں۔ اسّی سال کی عمر تک آپ کہتے ہیں کہ جب تک گھٹنے سلامت ہیں تو ٹھیک ہے۔ اسی ضمن میں حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے شرکائے مجلس میں سے ایک صاحب کی جانب نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ ان ڈاکٹر صاحب نے کہا ہےکہ میرا گوڈا کام نہیں کر رہا ، تو اب گوڈے نے چھوڑا ہے، تو انہوں نے کام چھوڑا ہے۔ اس پر تمام شاملینِ مجلس بھی کھل کرمسکرا دیے۔ نیز سلسلۂ  کلام کو جاری رکھتے حضورِ انور نے فرمایا کہ نہیں تو آپ لوگ کام کرتے رہتے ہیں ۔ امریکہ میں تو آپ اس پر عمل کر ہی نہیں سکتے، مَیں نے دیکھا ہے کہ کوئی ریٹائرمنٹ نہیں لیتا، کیونکہ وہاں پر یہاں کی طرح سوشل ہیلپ تو ملتی کوئی نہیں ۔

[قارئین کے لیے درج کیا جاتا ہے کہ’’گوڈا‘‘پنجابی زبان کا لفظ ہے، جسے اُردو میں’’گھٹنا ‘‘کہا جاتا ہے، یعنی ٹانگ کا وہ جوڑ جس سے ٹانگ کو موڑنے اور سیدھا کرنے میں مدد ملتی ہے۔]

حضورِ انور نے انصار کی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کے مطابق جماعتی خدمات لینے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے یہ دیکھ لیں کہ آپ کےinterestکیا ہیں۔ اس کے مطابق پھر ایسے جو لوگ ہیں ان کوجماعتی کاموں میں utilizeکریں ۔ فارغ ہیں اوراگر ان کا کوئیsource of incomeہےتو وہ پھر اس کو تو گھر کے لیے استعمال کریں یا بالکل گھر ان کےfreeholdہو گئے ہیں اور کوئیmortgageوغیرہ نہیں ہے، تو پھر بھی وہ affordکر سکتے ہیں ۔نہیں تو گھر بیچ کے پھر وہ چھوٹے سے گھر میں رہیں گے۔ لیکن جہاں بھی رہیں اور کام بالکل نہیں کر سکتے، لیکن اس قابل ہیں کہ چھوٹا موٹا دماغی کام کر لیں یا بیٹھ کے کام کر لیں تو جماعت کو ان سے کام لینا چاہیے تا کہ مصروف رہیں۔ اور کچھ نہیں تو ان کو علم ہے، تو ترجمہ ٹرانسلیشن وغیرہ پر لگا دیں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے جماعتی کمیٹیوں کے مؤثر کردار، گذشتہ فرمودہ ہدایات پر عمل درآمد اور عمر رسیدہ افراد کے لیے دینی خدمت کو بہترین سرمایۂ آخرت بنانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تو یہ آپ کی جوکمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں، اس لیے بنائی ہوئی ہیں کہ سوچیں کہ ان کو کس طرح آپ نے استعمال کرنا ہے اور اس کے لیے بے شمار گائیڈنس پہلے بھی ملی ہوئی ہے۔ مَیں نے بیس سال پہلے کہا تھا، لیکن ہمارا پیغام پہنچا نہیں جو اصل پیغام تھا۔تو پھر اس کام میں لگائیں ۔ تو انہیں استعمال کریں۔ بڈّھے اور کچھ نہیں کر سکتے تو یہی کریں، ثواب ہے۔اگلے جہان کے لیے پیسے کما لیں۔ یہاں تو کما لیے جو کمانے تھے، اب اگلے جہان کی کمائی یہی ہے کہ دین کا کام کریں۔جو اللہ تعالیٰ نے تھوڑی سی زیادہ عمر دے دی ہے اس کو پھر صحیح استعمال کریں، جو صحیح مقصد ہے۔

ایک ناصر نے عرض کیا کہ آج کل صحت کے شعبے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس(AI) کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے، بطور معالج مَیں آپ کی راہنمائی اور ہدایت چاہتا ہوں کہ مستقبل میں اخلاقی طور پر کس پر زیادہ اعتماد کیا جائے؟ چونکہ مَیں متعدی امراض کا ڈاکٹر ہوں اور مثال کے طور پر اگر مَیں کسی مریض کی تشخیص کر کے اسے کوئی اینٹی بائیوٹک دوا تجویز کرتا ہوں، لیکن AI یہ کہے کہ یہ دوائی غلط تجویز ہوئی ہے یا اس مریض کو اینٹی بائیوٹک کی ضرورت ہی نہیں تھی تو ایسی صورت میں ایک ڈاکٹر کو کیا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس(AI) کے ماخذ، انسانی فیڈنگ اور پیشہ ورانہ آرا کے تنوع کی حقیقت واضح کرتے ہوئے فرمایا: بات یہ ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو کس نے فیڈ کیا ہے؟ وہ آپ جیسے ڈاکٹروں نے ہی کیا ہے۔ آپ infectious disease کے ڈاکٹر ہیں ، لیکن اس میں دوسرا جو سپیشلسٹ ہےوہ اس کے لیے ایک اَور دوائی recommendکرتا ہے ۔

حضورِ انور نے کووِڈ کے دوران طبّی فیصلوں، ویکسین کے نتائج اور کامیابی کے تناسب کی بنیاد پر سائنسی و پیشہ ورانہ اندازِ فکر کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جو کووِڈ پھیلا تھا ، اس کےلیے آپ لوگ کہہ رہے تھے کہ ٹیکے لگواؤ اور یہ کرو۔ بعض کمپنیوں نے ایسے ٹیکے بنائے ، جن سے پیسے کمائے، بعض لوگ اس کے خلاف ہو گئے اور اس کا reactionبھی ہوا۔ اس reactionکا جواب آپ کوئی نہیں دیتے، آپ کہتے ہیں کہ جی! اتنے پرسنٹ لوگ کامیاب ہوئے ، اتنے پرسنٹ صرف اچھے resultنہیں آئے۔ اس کا مطلب ہے کہ professionally چونکہ آپ کےseventy percentسے اُوپر رزلٹ آگئے،وہpromising resultsہیں اور جو promising result ہے، اس کا مطلب ہے کہ کامیاب ہے ۔ اب وہ جو thirty percentہے وہ زیادہ شور مچانے والا ہے، seventy percent جو cure ہو گیا اس نے شور نہیں مچانا اور اس نے نہیں بتانا۔ باقی یہ ہے کہ آپ کے اپنے پروفیشن میں بعض ایسے ڈاکٹر ہیں جو اس کے خلاف تھے۔

اسی طرح حضورِ انور نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی حقیقت، اس کے ڈیٹا بیس اور انسانی ذہن کے زیرِ اثر ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ باقی AIتو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ مثلاً دین کا معاملہ ہے ، ہم نے یہاں ایک سوال فیڈ کروایا کہ اس کا جواب کیا ہے؟ AI نے جواب دیا کہ اس کےلیے حدیث یہ ہے اور اس کا اس طرح جواب ملتا ہے۔ تو اس سے سوال کرنے والے نے سوال کر دیا ، ہمارے احمدی ہیں، ان کو مَیں نے کہا تھا کرو کہ یہ تمہارا جواب غلط ہے ، اس کا اصل جواب تو یہ ہے اورحدیث اس کے خلاف جاتی ہے ، تو اس نے کہا کہ ہاں !تم ٹھیک ہو اور میرا جواب غلط تھا، تو AI نے خود مان لیا۔ تو یہی آپ کے میڈیکل پروفیشن میں AI کا حساب ہے ۔ تو اس میں اتنا آپ rely نہیں کر سکتے اور نہ اس پر trust کر سکتے ہیں۔ وہ AIکا اپنا کوئی دماغ تو نہیں ہے ، AI کے پیچھے دماغ تو آپ کا چل رہا ہے۔ایک دفعہ آپ نے فیڈ کر دیا تو اس نے جواب دے دیا۔

مزید وضاحت میں حضورِ انور نے سائنسی ڈیٹا، اجتماعی آرا اور رپورٹنگ سسٹمز کی بنیاد پر AIکے نتائج کی تشکیل کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یا بہت سارے جوviews ہیں، اس کے سامنے آ گئے، اس کی ایک اس نے consolidated رپورٹ بنا کے ایک رزلٹ بنا دیا کہ یہ ہونا چاہیے، اس پر آپ کو وہ رپورٹ دے دیتا ہے۔

حضورِ انور نے طبّی نظام میںAIپر غیر ضروری اعتماد سے اجتناب برتنے اور ڈاکٹر کے مشاہدے و تجربے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ تو اس لیے آپ لوگوں کو یہ بتائیں کہ AIپر زیادہtrust نہ کرو، اصل ہم تمہیں دیکھ رہے ہیں اور تمہیں بتا رہے ہیں کہ تمہیں یہ یہ بیماری ہے اور یہ تمہارے ٹیسٹ ہیں۔

علاوہ ازیں حضورِ انور نے طبّی نظام میں لیبارٹریز ٹیسٹ اور جدید ٹیکنالوجی پر بڑھتے ہوئے انحصار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اوّل تو یہ ہے کہ آجکل جو ڈاکٹر ہیں وہ ٹیسٹ پر زیادہ relyکرتے ہیں۔ بلڈ ٹیسٹ کرو، یورین ٹیسٹ کرو اور فلاں فلاں ٹیسٹ کرو، ایم آر آئی کرو، سکین کراؤ یا فلاں کراؤ۔ یہی کراتے ہیں ۔ جوپُرانے ڈاکٹر تھے، جس طرح حضرت ڈاکٹر میر اسماعیل صاحب رضی الله عنہ، جو گائنا کالوجسٹ بھی تھے، جنرل سرجن بھی تھے، آرتھو پیڈک سرجن بھی تھے اور ای این ٹی سپیشلسٹ بھی تھے، وہ سارے کام کرتے تھے اور لوگوں کے symptoms دیکھ کے علاج کر دیا کرتے تھے۔یا پُرانے طبیب جو ہوتے تھے، جس طرح حضرت خلیفةالمسیح الاوّل رضی الله عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ نبض دیکھ کے بتاتے تھے کہ کس کو کیا بیماری ہے، وہ تو آپ لوگوں کو پتا کچھ نہیں، جو لیبارٹریز ٹیسٹ ہیں، ان کے اُوپر آپ کا زیادہ انحصار ہوتا ہے۔تو پھر آپ کو بتانا پڑے گا کہ تمہارے لیبارٹری ٹیسٹ یہ کہہ رہے ہیں اور اس کی بنیاد پر مَیں یہ تمہیں recommendکر رہا ہوں۔ اورAI جو ہے، وہ غلط کہہ رہی ہے، اس کے پاس سارے لیبارٹری ٹیسٹ نہیں آئے۔ تو اب تو کیونکہ لوگوں کو بھی اس زمانے میں ٹیسٹوں سے زیادہ تسلی ہوتی ہے اور ڈاکٹر ذرا غور سے stethoscopeلگا کے دیکھ لے تو اسی سے علاج ہو جاتا ہے۔

اسی تناظر میں حضورِ انور نے انسانی اطمینان، نفسیاتی اثرات اور ڈاکٹر کے اعتماد کے مریض پر اثر کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اب ہمارے ربوہ میں ایک خاتون تھیں، وہ بڑی بیمار ہو گئیں۔ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے ان کو دیکھا۔ ان کے گھر میں ہی کام کرنے والی تھیں، بلڈ پریشر وغیرہ دیکھا اور اس کو دوائیں دیں۔ اسے بخار ہوا ہو گا یاکوئی بلڈ پریشر وغیرہ ہائی ہو گا، تو اس کی دوائی دے دی ہو گی۔ تو اگلے دن وہ کہتی کہ میاں صاحب! مجھے وہی ٹیکہ دوبارہ لگائیں جو آپ نے کل لگایا تھا۔ جبکہ کل کوئی ٹیکہ نہیں لگایا تھا ، صرف بلڈپریشر دیکھا تھا، تو یہ نفسیاتی اثر ہوتا ہے۔

[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ، سیّدناحضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پوتے اور حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ اور سیّدہ محمودہ بیگم صاحبہ المعروف سیّدہ اُمِّ ناصر رضی الله عنہا کےفرزندتھے۔

آپ مورخہ یکم فروری۱۹۱۸ء کو قادیان دارالامان میں پیدا ہوئے۔ آپ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سےایم بی بی ایس پاس کرنے کے بعد ڈیڑھ سال تک گلینسی میڈیکل کالج امرتسر میں بطور ڈیمانسٹریٹر کام کیا۔ یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ آپ کوخاندان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مبارک نسل میں سے پہلا ڈاکٹر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔آپ نے بعدازاں خدمتِ دین کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ آپ کا پہلا تقرر نور ہسپتال قادیان میں بطور اسسٹنٹ انچارج؍ میڈیکل آفیسر ہوا۔ قیامِ پاکستان کے بعد جب نئے مرکزِ توحیدربوہ میں فضلِ عمر ہسپتال کا قیام عمل میں آیا تو آپ نے یہاں خدمات بجا لانی شروع کر دیں اور یہیں ۱۹؍ مارچ ۱۹۵۹ء کو آپ کو چیف میڈیکل آفیسر کے فرائض تفویض کیے گئے اور ۱۹۸۳ء تک آپ کو یہ غیر معمولی خدمت سر انجام دینے کی توفیق ملی۔

آپ کی شادی حضرت نواب محمد علی خانصاحب رضی الله عنہ اور حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی الله عنہا کی بیٹی صاحبزادی محمودہ بیگم صاحبہ سے ہوئی اور ان کے بطنِ مبارک سے الله تعالیٰ نے آپ کو چار بیٹوں اور ایک بیٹی کی نعمت سے نوازا۔

انہی میں سے آپ کے ایک بیٹے صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب کو بھی نصف صدی سے زائد عرصہ تک فضلِ عمر ہسپتال ربوہ میں بطور واقف زندگی ماہرِآرتھو پیڈک و جنرل سرجن خدمتِ انسانیت کی توفیق ملی۔

صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب انتہائی منکسرالمزاج، سادہ مگر بارعب، ملنسار اور غریب پرور انسان تھے۔ان کا مسکراتا ہوا روشن چہرہ ان کی خوبصورت اور دلنشین شخصیت کا مستقل حصّہ رہا۔آپ میں مریضوں کی خدمتِ خلق کے حوالے سے ایک طبعی جوش اور ہمدردی پائی جاتی تھی، اسی جذبے کے تحت آپ نے ہسپتال میں مفت علاج اور ادویات کی فراہمی کا نظام بھی قائم کیا اور آپ اپنے مریضوں کے لیے دعا بھی کیا کرتے تھے اور صرف دوا پر بھروسہ کرنے کو شرک کے مترادف گردانتے تھے۔یہاں سے فراغت کے بعد آپ نے گھر میں ہی پریکٹس کا سلسلہ جاری رکھا۔

ان پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آپ کو پانچ سال تک بطور نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ خدمت کی توفیق ملی اور اس دَور میں صدارت حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ کے پاس تھی۔ اس کے علاوہ آپ نےبطور نائب صدر مجلس انصار الله مرکزیہ بھی خدمت کی سعادت پائی۔

۱۹۵۵ء میں آپ کو تاریخی دورۂ یورپ میں حضرت مصلح موعودؓ کی مبارک معیّت کا بھی شرف ملا۔

آپ وہ خوش نصیب بھی ہیں کہ جنہیں حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ الله کے ذاتی معالج کے طور پر بھی خدمت کی توفیق ملی اور انہی کے ذریعے ان دو مقدس اور بابرکت وجودوں کی صحت کی تازہ بتازہ رپورٹ بھی الفضل کو موصول ہوا کرتی تھی۔آپ نے۳۸؍ سال کے طویل عرصے تک بطور واقفِ زندگی خدمتِ دین اورخدمتِ انسانیت کی غیر معمولی توفیق پائی۔

خاندان حضرت بانی سلسلۂ عالیہ احمدیہ کا یہ نافع النّاس وجود مورخہ ۱۹؍ ستمبر۱۹۹۰ء بعمر تقریباً ۷۲؍سال اچانک حرکتِ قلب بند ہو جانے کے باعث ربوہ، پاکستان میں اپنے خالقِ حقیقی کے حضور حاضر ہو گیا۔

آپ کی نمازِ جنازہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظرِ اعلیٰ و امیرِ مقامی ربوہ نے مورخہ۲۰؍ ستمبر ۱۹۹۰ء کو بعد نمازِ مغرب مسجد مبارک ربوہ میں پڑھائی اور اسی روز رات آٹھ بجے آپ کو بہشتی مقبرہ ربوہ کی اندرونی چاردیواری میں سپردِ خاک کر دیا گیا اور تدفین کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے ہی دعا کروائی۔

حضرت خلیفۃ المسیحِ الرابع رحمہ اللہ نے مورخہ ۲۱؍ ستمبر ۱۹۹۰ء کو مسجد فضل لندن میں خطبۂ جمعہ کے دوران آپ کی نمازِ جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ذکرِ خیر فرمایا کہ ’’اب اختتام پر مَیں اپنے ایک بہت ہی پیارے بھائی صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کی وفات کا اعلان کرتے ہوئے یہ بتاتا ہوں کہ نمازِ جمعہ کے بعد ان کی نمازِ جنازہ غائب ہو گی…صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کے متعلق صرف ایک بات کہہ کر اب مَیں اس خطبے کو ختم کروں گا کہ ان میں جو سب سے زیادہ حسین پہلو تھا، وہ خلافت سے ان کا عشق اور وفا کا پہلو تھا، ایسی حیرت انگیز محبّت ان کو خلافت سے تھی اور اس کا احترام ملحوظ تھا کہ جب وہ ملتے تھے تو جس محبّت اور خلوص سے ملتے تھے، مَیں شرم سے پانی پانی ہو جاتا تھا۔ بعض دفعہ طبیعت پر بوجھ ہوتا تھا کہ اب یہ سب کے سامنے آکر اس طرح اظہار کریں گے تو میرا کیا حال ہوگا ۔ بڑے بھائی تھے اور اس سے پہلے کی زندگی میں وہ ناراض بھی ہوا کرتے تھے۔ ان کا بالکل اَور رنگ کا تعلق تھا ، لیکن جب سے خدا تعالیٰ نے خلافت کا منصب عطا کیا ، ان کی کیفیت ہی بدل گئی اور سب بھائیوں میں مَیں نے اس پہلو سے سب سے زیادہ ان میں امتیاز دیکھا ہے ، ایک غیر معمولی امتیازی شان پائی ہے، تو اللہ تعالیٰ انہیں غریقِ رحمت فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی یہ نیکیاں زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

کیا کیا صورتیں ہیں جو خاک میں پنہاں ہوگئی ہیں یا ہورہی ہیں ۔ یہ صورتیں پچھلی صدی نے پیدا کی تھیں۔خدا کرے کہ اگلی صدی میں ان کے پسماندگان کی گل و لالہ کی شکل میں ان کی خوبیاں زندہ رہیں اور اگلی صدی ان بزرگوں کا یہ ورثہ پائے اور پھر ان کے پنہاں ہونے کے بعد نئے لالہ وگل پھوٹتے رہیں۔

خدا کرے کہ یہ سلسلہ دَوام اختیار کرے اور ہمیشہ اچھی نسلیں ، اچھی نسلیں پیچھے چھوڑ کر جانے والی ہوں!‘‘(خطباتِ طاہر جلدنہم، صفحہ۵۶۳تا۵۶۵)]

پھر حضورِ انور نے مؤخر الذکر مثال کی روشنی میں ڈاکٹر کے مشاہدے، مریض سے براہِ راست گفتگو اور انسانی تسلّی کے ذریعے علاج کی افادیت کو اُجاگر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ تو آپ بھی بلڈ پریشر دیکھ کے دوائی دے دیں، تو وہ کہیں گے ٹھیک ہے، باقی کہہ دیں کہAI غلط ہے۔ یہ دیکھو! مَیں تمہیں بڑے غور سے دیکھ رہا ہوں۔ جب آپ مریض کی غور سے بات سنتے ہیں، تو پچاس فیصد تو اس کو ویسے ہی تسلّی ہو جاتی ہے،AI تسلّی نہیں کرا سکتا۔ ہاں! AIکو بہت زیادہ کوئی ماننے والے تو چند ایک لوگ ہوں گے اوراتنے لوگ تو ہوتے ہی ہیں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے ادویات کے پمفلٹس میں درج احتیاطی معلومات اور ان کے مریضوں پر پڑنے والے نفسیاتی اثرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اہم نکتہ بیان فرمایا کہ اب تو آپ جو دوائی کسی مریض کو دیتے ہیں، مثلاً مجھے ڈاکٹر کوئی دوائی دیتا ہے تو مَیں اس دوائی کا پمفلٹ پہلے پڑھتا ہوں کہ اس میں کیا کیا ہے۔ اور اس میں، جو فارماسیوٹیکل کمپنیاں ہیں ،انہوں نے اپنی بچت کرنے کے لیے تو لکھا ہوتا ہے کہ اس میں یہ یہreactionہو سکتا ہے، اگر اسی کو مریض پڑھ لے تو وہ دوائی ہی نہ کھائے۔

ایک ناصر بھائی نے عرض کیا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی نوجوان خواتین تعلیم میں بہترین کارکردگی دکھا رہی ہیں اور اپنی توجہ برقرار رکھتی ہیں ، جبکہ اس کے مقابلے میں بعض نوجوان لڑکوں میں یہ رجحان نسبتاً کم نظر آتا ہے۔آپ ایسے نوجوان لڑکوں کو کیا مشورہ دیں گے اور انہیں بہتر تعلیم کی طرف راغب کرنے کےلیے کیا راہنمائی فرماتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے مخصوص پس منظر میں خاندانی تربیت میں ترجیحات کے فرق اور اس کے تعلیمی و اخلاقی اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ بہت سارے خاندانوں میں لڑکوں کو زیادہimportance دی جاتی ہے، لڑکیوں کو اتنا زیادہ نہیں دیتے، اس لیے لڑکوں کے دماغ خراب ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم لاڈلے ہیں اور اس لیےہمیں کام کی ضرورت نہیں ہے اور جن فیملیوں میں یہ ہے اور بہت ساری فیملیوں میں ہمارے کلچر میں ہے، یورپین کلچر میں نہیں ہوگا، لیکن ہمارے کلچر میں پاکستانی کلچر کی بیک گراؤنڈ سے آپ بات کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کے ذہن میں وہی ہے۔ تو وہ لڑکیاں پھر محنت کرتی ہیں، پڑھتی ہیں، کیونکہ سمجھتی ہیں کہ ہم نے اپنا future بنانا ہے اور لڑکے لاڈوں میں پڑے رہتے ہیں۔

حضورِ انور نے متوازن اور منظّم خاندانی نظام کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ لیکن بہت سارے لڑکے ایسے بھی ہیں، جہاں فیملیاں organised ہیں، پوری طرح دونوں لڑکے لڑکی کےحق ادا کر رہے ہیں تولڑکے بھی پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ بہت ساری فیملیاں آتی ہیں، لڑکے بھی پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، لڑکیاں بھی پی ایچ ڈی کر رہی ہیں، لڑکے بھی میڈیسن کر رہے ہیں، وہ بھی کر رہی ہیں۔

اسی طرح حضورِ انور نے امتیازی سلوک کے تعلیمی و معاشرتی اثرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ لیکن وہاں جہاں تھوڑی سی بھی discrimination ہوتی ہے، وہاں یہ سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں، تووہ نہ پیدا ہونے دیں اور اس طرح treatکریں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے دینی تربیت میں عدم مساوات کی ایک عملی مثال کے ذریعے معاشرے اور خاندان میں مساوات اور عدم امتیاز کی بنیادی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اب یہ صرف یہی بات نہیں بلکہ دین کے معاملے میں بھی یہی بات ہے۔ اب مجھے چند دن ہوئے کہ کسی لڑکی نے خط لکھا کہ ہمیں امّاں کہتی ہے کہ نماز پڑھو اور ہم نمازیں پڑھ رہے ہیں، ماں بھی میری بڑی اچھی نمازیں پڑھتی ہے اور ہم لڑکیاں بھی پڑھتی ہیں ، لیکن ہمارا بھائی جو ہے وہ اب ایک عمرپر پہنچ کے نمازیں پڑھنا چھوڑ گیا ہے اور کیوں ؟ اس لیےکہ ہمارا باپ جو ہے وہ نمازوں میں ریگولر نہیں ہے اور جب مَیں نے اس کو کہا تم نماز پڑھوتو وہ کہتا ہے نمازیں پڑھنا لڑکیوں کا کام ہے، لڑکوں کا نہیں۔ تو جب یہ حال ہو جائے ، صرف ایک جگہ نہیں، ہر جگہ ایسی situationہو جائے تو پھر آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اس لیےequalityہونی چاہیے، discrimination نہیں ہونی چاہیے۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ آپ ہمیں تحریک فرماتےآ رہے ہیں کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر تین ماہ تک کے لیے خوراک اور ضروری اشیاء کا ذخیرہ کیا جائے، تاہم بدقسمتی سے معاشرے میں ایسے بھی افراد موجود ہیں جو روزمرہ کی بنیاد پر خوراک، گیس اور ادویات کے اخراجات بھی بمشکل پورے کر پاتے ہیں۔ برائے کرم ہماری راہنمائی فرمائیں کہ ایسے حالات میں اس مسئلے کے حل کے لیے ہم کیا عملی طریقہ کار اختیار کریں؟

اس پر حضورِ انور نے استطاعت رکھنے والے افراد اور جماعتی سطح پر خوراک کے ذخائر کے منظّم نظام کی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھیں جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں، انہیں کم از کم تین ماہ کے لیے کافی خوراک ذخیرہ کرنی چاہیے اور جو لوگ استطاعت نہیں رکھتے اور وہ احمدی ہیں تو جماعت کو خوراک کے ذخیرے کے لیے انتظام اور منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ یہاں ہم نے تقریباً تین ماہ کا ذخیرہ کر لیا ہے، چاول آٹا اور دیگر اشیا تا کہ اپنے ضرورت مندوں یا ان لوگوں کو مہیا کیا جا سکے جنہیں اس کی ضرورت ہے اور جو خود اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔پس یہ جماعت کی ذمہ داری ہے ۔

حضورِ انور نے اسلامی نظامِ مؤاخات اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے مبارک عہدِ مدینہ کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تو وہاں کافی تعداد میں ایسے لوگ تھے جو گزربسر یا روزانہ کی روٹی کی استطاعت بھی نہیں رکھتے تھے۔ ان میں سے اکثر بھوکے سوتے تھے۔تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھائی چارے یعنی مؤاخات کا ایک نظام ہونا چاہیے، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ہر مقیم سے کہا کہ وہ مکّہ سے ہجرت کر کے آنے والے ایک شخص کی ذمہ داری اُٹھائے اور اس طرح انہوں نے انتظام کیا۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے باہمی تعاون، معاشرتی ذمہ داری اور اجتماعی کفالت کے بنیادی اصول کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں بھی یہی راہنما اصول اپنانا چاہیے۔ اگر آپ اپنی خوراک کا خرچ اُٹھا سکتے ہیں اور آپ تین ماہ کے لیےخوراک ذخیرہ کر سکتے ہیں تو آپ کم از کم پندرہ یا دس دن کی خوراک اپنے پڑوسی یا اپنے بھائی کو دے سکتے ہیں اور اس شخص کو بھی آپ کی مدد کرنی چاہیے۔ پس اس طرح اگر وہ یہ تمام چیزیں جمع کریں گے تو مجموعی نتیجہ یہ نکلے گا کہ ان کے پاس تین ماہ کی خوراک موجود ہو گی۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ امریکہ اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز اور طبّی ماہرین کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button