خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 27؍مارچ 2026ء
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی موقع پر ،کسی مجلس میں ،کسی طبقہ میں اس بات کو اُمّت کے دلوں میں بٹھانے کا موقع نہیں چھوڑا کہ جہاں آپؐ نے خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی عظمت کو قائم کرنے کی نصیحت نہ فرمائی ہو
اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کے قیام کے لیے مشرکینِ مکہ جیسی ایک طاقتور قوم کا مقابلہ کیا اور آخر کارخانہ کعبہ کو تین سو ساٹھ بتوں سے پاک کر دیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام قبول کرنے والوں کے دلوں میں بھی توحید قائم کرنے کے لیے ایک عظیم بابرکت جہاد فرمایا اور اپنی قوت قدسیہ کے طفیل توحید سے پیار کرنے والی ایک جماعت قائم فرما دی
لوگوں سے کوئی بھی مفاد اٹھانے کے لیے دکھاوے کا اظہار اور خوشامد کرنا اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر کسی کو لانا اور یہ شرک ہے جو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے
اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی چیز پر انحصار شرک ہے۔
باریکی میں جا کر ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہم میں کوئی شرک کا پہلو تو نہیں کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور تربیت نے صحابہ ؓکو بھی توحید کا راستہ دکھانے کا ایک مینار بنا دیا تھا
’’درحقیقت قرآن کریم کا کام توحید کو ثابت کرنا اور غلط عقائد کو مٹانا ہے۔ پس جب اس سورة [اخلاص]نے نہایت جامع مانع الفاظ کے ساتھ مختصر طور پر وہ مضمون ادا کر دیا جس سے غلط عقائد کا ابطال ہوتا ہےاور توحید کی حقیقت کو بیان کر دیا تو یہ سورۃ ثلث قرآن کیا بلکہ سارے قرآن کے برابر ہو گئی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سورة کو ثلث قرار دینا مبالغہ نہیں بلکہ اس کے مضمون کی اہمیت کے پیش نظر ہے‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)
یہ مہینہ مارچ کا مہینہ ہے جس میں سے ہم گزر رہے ہیں اور 23؍مارچ کی مناسبت سے ‘‘یوم مسیح موعود‘‘ کے جلسے بھی ہم کرتے ہیں ۔وہ اس لیے کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کو اللہ تعالیٰ نے جو اپنے وعدے کے مطابق بھیجا ہے تو توحید کے قیام کے لیے بھیجا ہے۔ پس جب آپؑ نے جماعت قائم فرمائی تو اس کی بیعت میں آ کر ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم بھی ہمیشہ توحید پر قائم رہیں گے اور حقیقی توحید کا حق تبھی ادا ہوگا جب ہم میں سےہر ایک خود اپنے اندر بھی ،اپنی فیملی کے اندر بھی، اپنے معاشرے میں بھی توحید کے قیام کے لیے کوشش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو بھی توفیق دے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس بھیجے ہوئے کو قبول کرکے توحید کا قیام کریں اور یاجوج ماجوج اور دجالی فتنوں کو توڑیں جو آج کل بڑی شدت سے حملہ آور ہیں
جس وقت سے اس [آنحضرتﷺ]نےنبوت کا اعلان کیا ہےاس وقت سے لے کر موت کے وقت تک ایک ہی لفظ اس کی زبان پر رہا اور وہ اللہ کا لفظ تھا۔ گویا اسے ایک دھن تھی اور جنون تھا کہ خدا کو منوانا ہے اور اسے دنیا میں ظاہر کرنا ہے(ایک فرانسیسی مؤرخ)
’’آپؐ کی اور تمام انبیاء کی دنیا میں آنے کی غرض یہی ہوتی ہے کہ شرک مٹائیں اور خداتعالیٰ کو منوائیں۔ اس کی وحدانیت کو دنیا میں پھیلا دیں‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)
قوم کو آخری نصیحت اور آخری سبق جو آپؐ نے دیا وہ یہی تھا کہ مجھے مشرکانہ مقام نہ دینا اور اگر تم نے یہ کیا تو یہ نہ سمجھنا کہ مَیں اس سے خوش ہوں گا بلکہ میری روح ایسا کرنے والوں پر لعنت کرے گی
ہم جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ماننے والے ہیں ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم توحید کی حقیقت کا ادراک پیدا کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے توحید کے قیام کے لیے درد کو سمجھ کر اس کے لیے پوری کوشش کر کے حقیقی موحد بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے
توحیدِ الٰہی کی تڑپ میں سیرت نبویﷺ کا ایمان افروز تذکرہ نیز مشرق وسطیٰ میں جنگی حالات کے پیش نظر دعاؤں کی تحریک
دشمن ان حالات سے فائدہ اٹھا کر بے چینی پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ مسلمان ملک کبھی ایک دوسرے کے مددگار نہ بن سکیں۔ اس لیے بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس لحاظ سے بھی دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسلامی ملکوں کو وحدت کی لڑی میں پرونے کی بھی توفیق عطا فرمائے
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 27؍مارچ 2026ء بمطابق 27؍امان1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾ اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے توحید کا ذکر ہو رہا تھا
فتح مکہ کے وقت بتوں کو گرانے کی تفصیل گذشتہ خطبات میں بیان ہو چکی ہے۔ یہ سب کچھ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی توحید کے اعلان کے طور پر کیا تھا کہ جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو ان کا تو یہ حال ہے۔ چنانچہ ہم نے دیکھا مکہ کے ارد گرد مشرکین کے سب بڑے بڑے بت جیسے منات ،عُزّٰی، سُواع وغیرہ کو منہدم کر دیا گیا۔ اس حوالے سے
اہلِ طائف کے بت لات کے بارے میں ایک روایت یوں ملتی ہے۔
اہل طائف نے اپنے بت لات کے بارہ میں جسے وہ رَبَّہ یعنی دیوی کہتے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عرض کیاکہ تین سال تک اسے توڑا نہ جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرتِ توحید نے یہ مداہنت قبول نہیں فرمائی۔ اہلِ طائف نے پھر عرض کیا کہ ایک سال تک ہی اسے نہ گرائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی انکار کیا۔ انہوں نے کہا چلیں ایک ماہ تک اسے نہ گرانے کی اجازت دے دیں تاکہ لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں اور بے وقوف لوگ اور عورتیں اسے گرانے کی وجہ سے اسلام سے دور نہ ہوں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی رخصت نہیں دی اور حضرت ابو سفیانؓ اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو بھجوا کر اس بت کو گروا دیا۔
آپؐ کی توحید کے لیے غیرت نے یہ گوارا نہیں کیا کہ کسی صورت میں بھی یہ بت رہنے دیے جائیں جبکہ اب اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے۔
(السیرۃ الحلبیہ جلد 3 صفحہ 304 تا 305 دارالکتب العلمیۃ، بیروت )
ابو الْہَیَّاج اَسَدِی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے حضرت علی بن ابی طالبؓ نے کہا: کیا مَیں تمہیں اس کام یعنی مہم پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا کہ تم کوئی مورتی نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور نہ کوئی ابھری ہوئی قبر چھوڑنا مگر اسے برابر کر دینا۔
کیوں؟ کیونکہ یہ توحید کی نفی کرنے والی چیزیں ہیں اور اسلامی حکومت میں اس کو کسی طرح بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔لیکن افسوس ہے کہ آج کل مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد قبروں کے پوجنے اور سجدے کرنے اور خدا تعالیٰ سے مانگنے کی بجائے ان قبروں میں دفن بزرگوں سے مانگتے ہیں اور اس بارے میں انتہائی مبالغہ کرتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کے قیام کے لیے مشرکینِ مکہ جیسی ایک طاقتور قوم کا مقابلہ کیا اور آخر کارخانہ کعبہ کو تین سو ساٹھ بتوں سے پاک کر دیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام قبول کرنے والوں کے دلوں میں بھی توحید قائم کرنے کے لیے ایک عظیم بابرکت جہاد فرمایا اور اپنی قوتِ قدسیہ کے طفیل توحید سے پیار کرنے والی ایک جماعت قائم فرما دی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کی اتنے لطیف اور عمدہ انداز میں تربیت فرمائی کہ شرک کا شائبہ تک بھی کسی کی سوچ میں پیدا نہ ہونے پایا اور اس کے لیے
صحابہؓ کو اس بات سے بھی منع فرمایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں مبالغہ کریں۔
حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت عمر ؓکو منبر پر کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسے نصاریٰ نے ابن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا تھا۔ مَیں تو صرف اس کا بندہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور تم کہو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔
(صحیح البخاری کتاب:احاديث الانبياء ،باب قول الله تعالىٰ: واذكر في الكتاب مريم حدیث نمبر: 3445)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب ؓسے آ ملے۔ وہ ایک قافلے میں جا رہے تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
سنو! اللہ تمہیں منع فرماتا ہے کہ تم اپنے باپ دادوں کی قسمیں کھاؤ۔ جس نے قسم کھانی ہو تو وہ اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے۔
(صحیح البخاری کتاب الایمان والنذور باب لا تحلفوا بآبائكم حدیث6646)
آپؐ کو برداشت نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے مقابل پر ہلکا سا بھی کسی چیز کو رکھا جائے۔
توحید کا کلمہ پڑھنے والے کے مقام
کے بارے میں ایک روایت میں یوں بیان ہوا ہے۔ عُبَید اللہ بن عَدِی بن خِیَار نے بیان کیا کہ حضرت مِقداد بن عَمرو کِندیؓ نے اور بنو زُہرہ کے حلیف نے اور وہ بنو زہرہ کے حلیف تھے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے۔ ان کو بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ بتائیں اگر کفار میں سے کسی شخص سے میرا مقابلہ ہو جائے اور ہم دونوں لڑ پڑیں اور وہ میرے دونوں ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ پر تلوار کا وار کرے اور اسے کاٹ دے۔ پھر مجھ سے ایک درخت کی اوٹ میں ہو جائے یعنی چھپ جائے اور کہے میں اللہ کی خاطر مسلمان ہو گیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !جب اس نے یہ کہہ دیا، کلمہ پڑھ لیا تو اس کے بعد کہ اس نے ایسی بات کہی ہے، کیا اب میں اس کو مار ڈالوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم اسے قتل نہ کرو۔ حضرت مقدادؓنے کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا ہے اور اس کو کاٹنے کے بعد پھر یہ کہا ہے کہ لا الہ الا اللّٰہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اسے قتل نہ کرو کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہو جائے گا جو تم کو اُسے قتل کرنے سے پہلے حاصل تھا اور تم اس کے مقام پر ہو جاؤ گے جو اس کو اس کلمے کے کہنے سے پہلے حاصل تھا جس کو اس نے کہا تھا۔
(صحیح البخاری کتاب المغازی باب (12)، حدیث نمبر4019)
پس چاہے جتنے پرانے صحابہؓ جو تھے انہوں نے بھی اگر کوئی ایسی حرکت کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت برا منایا۔ لیکن آج کل کے علماء کا حال دیکھیں۔
پاکستان میں احمدیوں کو کلمہ پڑھنے کے باوجود جس ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس کی انتہا کوئی نہیں۔ ان ظلم کرنے والوں کا فیصلہ اس روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے۔ بہرحال اب یہ لوگ جو ہیں جو ان شدت پسند مولویوں کے پیچھے چل رہے ہیں ان کو غور کرنا چاہیے۔
پھر اسی حوالے سے ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر بھیجا۔ صبح کے وقت ہم جُہَینہ کے حُرُقَاتْ میں پہنچے۔ حُرُقَات جُہَینہ قبیلے کے علاقے میں ایک گاؤں کا نام تھا۔ وہاں ایک شخص کو مَیں نے جا لیا۔ اس نے کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ مگر میں نے اسے نیزہ مارا۔ پھر اس سے میرے دل میں خلش پیدا ہوئی کیونکہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہا تھا اور میں نے پھر بھی اس کو مار دیا تو مَیں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا اس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہکہا اور تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا یارسول اللہؐ! یہ تو اس نے ہتھیار کے ڈر سے کہا تھا۔ فرمایا :تم نے کیوں اس کا دل نہ چیرا تاکہ تم جان لیتے کہ اس نے یہ دل سے کہا تھا یا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ خواہش کی کہ کاش !مَیں نے اس دن ہی اسلام قبول کیا ہوتا۔
پھر ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !جنت اور جہنم واجب کرنے والی دو چیزیں کون سی ہیں؟ آپؐ نے فرمایا :جو اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کا شریک کسی چیز کو نہیں بناتا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص فوت ہوا جبکہ وہ اللہ کا شریک بناتا تھا تو وہ آگ میں داخل ہوگا۔
محمود بن لبیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ شرکِ اصغر ہے۔ صحابہ ؓنے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ! شرکِ اصغر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ریاء ۔ دکھاوا۔ قیامت کے دن جب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ جن لوگوں کے لیے تم دنیا میں دکھاوا کرتے تھے۔ جو تمہارے دکھاوے کے کام تھے، انہی کے پاس جاؤ اور دیکھو کیا تمہیں ان کے پاس کوئی بدلہ ملتا ہے۔ اب بخشش مانگنی ہے تو ان سے مانگو۔ پھر دیکھو تمہیں کیا ملتا ہے۔
(مسند الامام احمد بن حنبل جلد 7 صفحہ 799 حدیث:24030عالم الکتب 1998ء)
پس
لوگوں سے کوئی بھی مفاد اٹھانے کے لیے دکھاوے کا اظہار اور خوشامد کرنا اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر کسی کو لانا اور یہ شرک ہے جو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔
حضرت عبداللہؓ نے بیان کیا جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے مخلوط نہیں کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے کہا :ہم میں سے کس نے ظلم نہیں کیا؟ ہم میں تو بہت سارے ہوں گے۔ ہمیں پتہ بھی نہیں لگتا اور ہم ظلم کر جاتے ہیں تو اللہ عزّوجلّ نے نازل فرمایا: اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ ۔یعنی شرک یقینا ًبہت بڑا ظلم ہے۔
(صحیح البخاری کتاب الایمان باب ظلم دون ظلم حدیث32)
یہ جواب پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ گیا کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ پس
اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی چیز پر انحصار شرک ہے۔ باریکی میں جا کر ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہم میں کوئی شرک کا پہلو تو نہیں کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے۔
بخاری کی شرح میں جو ہماری چھپی ہوئی ہے۔ حضرت ولی اللہ شاہ صاحب نے جو شرح کی ہے اس میں لکھا ہے کہ ’’اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ۔ ظلم کے معنے وَضْعُ الشَّیْیِ ٔ فِیْ غَیْرِ مَوْضِعِہٖ۔ کسی چیز کو بے محل رکھنا۔ ہر اک قسم کی بد اخلاقی اور ناجائز باتیں ظلم کے مفہوم میں شامل ہیں۔ کُفْرٌ دُوْنَ کُفْرٍ کے عنوان کے ماتحت شرک کو سب سے بڑا کفر قرار دیا گیا ہے اور معمولی بداخلاقی کو بھی کفر قرار دیا گیا ہے۔‘‘ یہ ہے باریکی اس کی ’’پھر اس کے بعد ظُلْمٌ دُوْنَ ظُلْمٍ کے عنوان کے ماتحت شرک کو سب سے بڑھ کر ظلم قرار دے کر بتلایا کہ وہ کیوں گناہ عظیم ہے؟ اس لیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے صفات خاصہ الوہیت دوسروں کی طرف منسوب کر دیے جاتے ہیں۔ عبادت یعنی محبت و اطاعت جو دراصل اللہ تعالیٰ کا حق ہے اس میں غیروں کو شریک بنا لیا جاتا ہے انسان جو اس کا بندہ تھا اور اس کی مرضی پوری کرنے کے لیے آیا تھا اپنے نفس کا یا اپنے جیسے انسان کا یا ادنیٰ ادنیٰ ہستیوں کا بندہ بن کر اپنے آپ کو اس مقام سے بہت نیچے گرا دیتا ہے جس پر کھڑا ہونے کے لیے اسے پیدا کیا گیا۔ حقوق العباد میں ناجائز تصرف جس قدر ظلم ہے‘‘ یہ بھی ظلم ہے۔ ’’حقوق اللہ میں ناجائز تصرف اس سے بدرجہا بڑھ کر ظلم ہے۔‘‘ حقوق العباد میں جو ظلم ہے وہ تو ہے لیکن اللہ کے جو حقوق ہیں اس میں ادائیگی کو صحیح طرح ادا نہ کرنا یہ بھی ظلم ہے۔ ’’یہ ظلم کا مفہوم ہے جو شرک میں پورے طور پر پایا جاتا ہے۔ شرک دراصل انسان کے غایہ کمالیہ کو برباد کرنے والا ہے… آیت و حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام بخاریؒ نے یہ بتلایا ہے کہ ایمانِ کامل وہ ہے جو شرک کی ملونی سے بکلی پاک ہو۔اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ۔(الانعام:83) کامل امن اور ہدایت ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہے جن کے ایمان میں کسی قسم کے شرک اور ظلم کی ملونی نہ ہو۔ ایمان اس وقت تک کامل نہیں جب تک کہ ایک طرف اعمال صالحہ اس کے ساتھ نہیں اور دوسری طرف وہ ہر قسم کے ظلم سے خالی نہیں کیونکہ شرک اور گناہ اور ہر قسم کا کفر اس کو ناقص کرتا رہتا ہے۔‘‘
(صحیح البخاری جلد 1 صفحہ79 نظارت اشاعت)
پس
یہ توحید پر قائم ہونے اور شرک سے پاک ہونے کا معیار ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا۔
ابو ہریرہ ؓنے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے مجھے جھٹلایا اور اس کے لیے مناسب نہیں تھا ۔اور اس نے مجھے گالی دی اور اس کے لیے مناسب نہیں تھا۔ اور جو اس کا مجھے جھٹلانا ہے اس کا یہ کہنا ہے کہ میں اس کو ہرگز دوبارہ پیدا نہیں کروں گا۔ دوبارہ یعنی جو اگلے جہان کے بعد ہے اس کا انکارکر رہا ہے تو یہ اللہ کو جھٹلانا ہے جس طرح کہ میں نے اس کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا۔ اور جو اس کا مجھے گالی دینا ہے تو اس کا یہ کہنا ہے کہ اس نے ایک بیٹا بنا لیا ہے حالانکہ میں بے نیاز ہوں۔ مَیں نے نہ جنا اور نہ جنا گیا اور نہ ہی کوئی میرا ہمسر ہے۔نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے اور اس کی صفات میں اس کا کوئی بھی شریک کار نہیں۔
(صحیح البخاری کتاب تفسیر القرآن باب قوله (اللّٰهُ الصَّمَدُ) حدیث:4975)
اس سورت، سورہ اخلاص کی وضاحت کرتے ہوئےایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام یہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہاَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ اللہ وہ ہستی ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں:
’’اس اقلّ عبارت کو‘‘ یہ جو چھوٹی سی عبارت ہے ’’جو بقدر ایک سطر بھی نہیں دیکھنا چاہیے کہ کس لطافت اور عمدگی سے ہر یک قسم کی شراکت سے وجود حضرت باری کا منزہ ہونا بیان فرمایا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے شرکوں سے اس نے پاک کر دیا۔ ’’اس کی تفصیل یہ ہے کہ شرکت از روئے حصر عقلی چار قسم پر ہے۔‘‘ عقل کے لحاظ سے دیکھیں تو چار قسم کی باتوں پہ شرکت ہو سکتی ہے۔ ’’کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے۔‘‘ تعداد میں ایک، دو، تین ہوں ’’اور کبھی مرتبہ میں‘‘ ہوتی ہے۔ کسی کا مرتبہ بلند ہوتا ہے ’’اور کبھی نسب میں‘‘ ہوتی ہے خاندانی نسب ہے۔ ’’اور کبھی فعل اور تاثیر میں۔‘‘ کام کے لحاظ سے اور اس کے نتائج کے لحاظ سے ہے۔ ’’سو اس سورۃ میں ان چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دو یا تین نہیں اور وہ صمد ہے یعنی اپنے مرتبہ وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد‘‘ ہے۔ جو اس کا مقام ہے، اس کی جو ضرورت ہے اور اس کا کسی کا محتاج ہونا جو ہے اس میں وہ بالکل پاک ہے ’’اور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور ہالک الذات ہیں۔‘‘ جو اپنی ذات میں ختم ہونے والی ہیں۔ ہلاک ہونے والی ہیں۔ لیکن وہ ہے ہمیشہ رہنے والا۔ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ’’جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں‘‘ تمام دنیا کی چیزیں جو فانی ہیں وہ اسی کی محتاج ہیں ’’اور وہ لَمْ یَلِدْ ہے یعنی اس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے اور وہ لَمْ یُوْلَدْ ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا شریک بن جائے اور وہ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں تا باعتبار فعل کے اس کا شریک قرار پاوے۔ سو اس طور سے ظاہر فرما دیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزّہ ہے اور وحدہ لا شریک ہے۔‘‘
(براہینِ احمدیہ حصہ چہارم ، روحانی خزائن جلد 1صفحہ 518 بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کسی سریہ پر امیر بنا کر بھیجا اور وہ اپنی نماز میں اپنے ساتھیوں کے لیے قراءت کرتے اور قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ قراءت پر ختم کرتے یعنی آخر میں سورہ اخلاص پڑھتے۔ جب وہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اس سے پوچھو کہ ایسا کس وجہ سے کرتا تھا ؟چنانچہ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ کیونکہ یہ رحمان کی صفات پر مشتمل ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ اس کو پڑھوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو بتا دو کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان ہے تو پھر سن لو کہ اللہ بھی تمہارے سے محبت کرتا ہے۔
صحابہ ؓکی بھی اللہ تعالیٰ سے محبت اور توحید سے پیار کی معرفت سے بھری ہوئی مثالیں ملتی ہیں۔
ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا۔ انصار میں سے ایک شخص مسجد قبا ءمیں ان کی امامت کراتا تھا۔ جب کبھی وہ نماز میں ان کے لیے کوئی سورت پڑھتا تو وہ قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ سے آغاز کرتا تھا یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوتا پھر اس کے ساتھ دوسری سورة پڑھتا اور وہ یہ ہر رکعت میں کرتا تھا۔ پہلا قصہ تو کسی مہم پہ بھیجے ہوئے قافلے کا تھا۔ یہ ہے کہ ایک علاقے کے امام مستقل یہ کیا کرتے تھے۔ تو اس کے ساتھیوں نے اس سے بات کی انہوں نے کہا کہ تم یہ سورۃ پڑھتے ہو پھر یہ خیال کرتے ہو کہ تمہارے لیے کافی نہ ہوں گی یہاں تک کہ تم ایک دوسری سورۃ پڑھتے ہو ۔یا تو تم صرف اسے پڑھو یعنی سورۃ اخلاص کو پڑھو یا اسے چھوڑ دو اور دوسری سورۃ کو پڑھا کرو۔ اس نے کہا میں اسے چھوڑنے والا نہیں۔ اگر تم لوگ پسند کرتے ہو کہ میں تمہاری امامت اس کے ساتھ کروں تو میں کرتا ہوں اور اگر تم اس سورة کو پڑھنا ناپسند کرتے ہو تو میں تم لوگوں کو چھوڑ دیتا ہوں یعنی امامت کی مجھے ضرورت نہیں ہے اور وہ اسے اپنے میں سے سب سے افضل خیال کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ جو تھے اس شخص کو اپنے میں سےسب سے بہتر خیال کرتے تھے اور وہ ناپسند کرتے تھے کہ اس کے علاوہ کوئی ان کی امامت کرائے۔ بہرحال جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی کہ یہ شخص اس طرح پڑھتا ہے سورۃ اخلاص ہر رکعت میں پڑھتا ہے اور ہر سورۃ سے پہلے۔ آپؐ نے فرمایا :اے فلاں !جس بات کا تمہارے ساتھی تمہیں کہتے ہیں اس پر عمل کرنے سے کیا بات تمہیں روکتی ہے اور کیا چیز تمہیں آمادہ کرتی ہے کہ تم ہر رکعت میں یہ سورۃ پڑھو؟ اس نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مَیں اس سے محبت کرتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
یقینا ًاس کی محبت نے تمہیں جنت میں داخل کر دیا۔ یعنی سورہ اخلاص کی محبت نے تمہیں جنت میں داخل کر دیا۔
(جامع ترمذی کتاب فضائل القرآن باب ما جاء فی سورۃ الاخلاص حدیث 2901)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی اور تربیت نے صحابہ ؓکو بھی توحید کا راستہ دکھانے کا ایک مینار بنا دیا تھا۔
بخاری کی ایک روایت میں اس طرح بھی ہے کہ
اس سورۃ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ثلث القرآن قرار دیا ہے یعنی قرآن کا تیسرا حصہ۔
(صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن،باب فضل قل ھواللہ احد،روایت نمبر5013)
اس کی تفسیر میں حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ ’’اس سورة کے ثلثِ قرآن ہونے سے یہ مراد نہیں کہ یہ سورة قرآن کریم کے حجم کا تیسرا حصہ ہے بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ اس کا مضمون خاص اہمیت رکھتا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں دو بڑے فتنے پیدا ہونے والے تھے ایک دجالی فتنہ اور دوسرا یاجوج و ماجوج کا فتنہ اور ان دونوں فتنوں نے یکے بعد دیگرے اسلام کے ساتھ ٹکر لینی تھی۔ ایک فتنہ خدائے واحد کی بجائے تین خداؤں کا عقیدہ لیے ہوئے ہے یعنی خدا باپ، خدا بیٹا، خدا روح القدس اور دوسرا فتنہ دہریت کا ہے ۔یعنی وہ سرے سے خدا کا منکر ہے۔ قرآن کریم نے ان ہر دو فتنوں کے عقائد کی تردید کی ہے اور صحیح عقائد کو بیان فرمایا ہے۔ قرآن کریم خدا باپ کی تعریف سے بھرا ہوا ہے اور اسی طرح سے خدا باپ کے ربّ ہونے اور ایک ہونے کی تائید کرتا ہے‘‘ یعنی خدائے واحد اللہ تعالیٰ کی تعریف ہے اور وہ ایک ہے۔ اسی کی تائید قرآن کریم کرتا ہے ’’اور خدا روح القدس اور خدا بیٹے کی نفی پورے زور سے کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اس چیز سے انکار کرتا ہے کہ دو خدا دوسرے بھی ہیں ’’گویا قرآن کریم نے خدا باپ کی خدائی کو قائم کیا ہے اور خدا بیٹے اور خدا روح القدس کی تردید کی ہے۔ اس لیے یہ صاف بات ہے کہ چونکہ خدا باپ کی تائید قرآن کریم کا تیسرا حصہ ہے، اس لیے سورة اخلاص بھی قرآن کریم کا تیسرا حصہ ہے۔
درحقیقت قرآن کریم کا کام توحید کو ثابت کرنا اور غلط عقائد کو مٹانا ہے۔ پس جب اس سورة نے نہایت جامع مانع الفاظ کے ساتھ مختصر طور پر وہ مضمون ادا کر دیا جس سے غلط عقائد کا ابطال ہوتا ہے‘‘ جھوٹ ثابت ہوتے ہیں ’’اور توحید کی حقیقت کو بیان کر دیا تو یہ سورۃ ثلث قرآن کیا بلکہ سارے قرآن کے برابر ہو گئی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سورة کو ثلث قرار دینا مبالغہ نہیں بلکہ اس کے مضمون کی اہمیت کے پیش نظر ہے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد 15 صفحہ 372، 373،جدید ایڈیشن)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں :
’’یقیناًسمجھو کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دہریوں اور بدمذہبوں کو ہزارہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل کر دیا اور اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل پیروی کرنے والے ان نشانوں کو دہریوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بات یہی سچ ہے کہ جب تک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اس کے دل میں سے نہیں نکلتا اور نہ سچی توحید اس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور نہ یقینی طور پر خدا کی ہستی کا قائل ہو سکتا ہے اور یہ پاک اور کامل توحید صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہی ملتی ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 121)
آج اس زمانے میں توحید سے عملاً خدا تعالیٰ کو ایک ماننے والوں نے بھی اپنی آنکھیں پھیر لی ہیں جو بظاہر یہی کہتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں۔ واحد مانتے ہیں۔
یاجوج ماجوج اور دجال کے فتنے تو علیحدہ ہیں، ایک بیرونی فتنے ہیں۔ مسلمانوں کے اندر بھی حقیقی توحید کا ادراک نہیں رہا۔پس ایسے حالات میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام نے مسیح موعود اور مہدی موعودکی صورت میں آنا تھا اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق وہ آیا اور توحید کے خلاف ہر حملے کا مقابلہ کیا۔
پس
حقیقی بیعت کا حق تبھی ہم ادا کر سکتے ہیں جب ہم حقیقی توحید کے ماننے والے ہوں۔
اپنی جماعت کا جب آپؑ نے 23؍مارچ کو قیام فرمایا۔
یہ مہینہ مارچ کا مہینہ ہے جس میں سے ہم گزر رہے ہیں ۔اور 23؍مارچ کی مناسبت سے یوم مسیح موعود کے جلسے بھی ہم کرتے ہیں ۔وہ اس لیے کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کو اللہ تعالیٰ نے جو اپنے وعدے کے مطابق بھیجا ہے تو توحید کے قیام کے لیے بھیجا ہے۔ پس جب آپؑ نے جماعت قائم فرمائی تو اس کی بیعت میں آکر ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم بھی ہمیشہ توحید پر قائم رہیں گے اور حقیقی توحید کا حق تبھی ادا ہوگا جب ہم میں سےہر ایک خود اپنے اندر بھی، اپنی فیملی کے اندر بھی، اپنے معاشرے میں بھی توحید کے قیام کے لیے کوشش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو بھی توفیق دے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس بھیجے ہوئے کو قبول کر کے توحید کا قیام کریں اور یاجوج ماجوج اور دجالی فتنوں کو توڑیں جو آج کل بڑی شدت سے حملہ آور ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسراء کے حوالے سے ایک روایت یوں بیان ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَیں ابراہیم سے ملا اس رات جب مجھے اسراء ہوا۔ انہوں نے کہا :اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !میری طرف سے اپنی اُمّت کو سلام کہیں اور انہیں بتا دیں کہ جنت پاکیزہ مٹی والی ہے۔شیریں پانی والی ہے اور وہ وسیع میدان ہے اور اس کے پودے سبحان اللہ اور الحمدللہ اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اور اللہ اکبر ہیں۔
(جامع الترمذی کتاب الدعوات باب 59 حدیث3462)
پس ایک مومن کو ان اذکار کا ذکر اسی گہرائی میں جا کر اور مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی توحید کا ادراک حاصل کر کے کرنا چاہیے تبھی کامیابی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کو واحد و یگانہ سمجھتے ہیں۔
ایک روایت میں یہ حدیث قدسی بیان ہوئی ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا اے ابن آدم !تُو نے جو مجھ سے دعا کی اور مجھ سے امید رکھی میں نے تجھے بخش دیا اس کے باوجود جو تم میں ہے اور مَیں پرواہ نہیں کرتا ۔یعنی ابھی بھی تمہارے اندر کمزوریاں اور کمیاں ہوں گی لیکن مَیں تمہیں بخش دیتا ہوں اس لیے کہ تم مجھ سے دعا کر رہے ہو۔ اے ابن آدم !اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جائیں پھر تم مجھ سے بخشش طلب کرو تو مَیں تجھے بخش دوں گا اور مَیں پروانہیں کرتا کہ کتنے گناہ ہیں۔ مَیں بخشوں گا اور کوئی پرواہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ مالک ہے بخش سکتا ہے۔ فرمایا کہ اے ابن آدم !اگر تم میرے پاس زمین کے برابر خطائیں لے کر آؤ پھر تم مجھ سے ملو۔ میرے ساتھ ایسی حالت میں ملو کہ تم نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو مَیں اس کے برابر تیرے پاس مغفرت لاؤں گا۔ زمین کے برابر خطائیں بھی ہوں ،گناہ بھی ہوں لیکن اگر شرک نہیں کیا اور مجھ سے خوف ہے اور میری توحید کا اعلان کرتے ہو اور عمل کرنے کی کوشش کرتے ہو تو مَیں تمہیں بخشوں گا۔ مغفرت دوں گا۔
(جامع الترمذی کتاب الدعوات باب، حدیث3540)
پس
ساری خطائیں، سارے گناہ اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے جب انسان اس کے پاس عاجز ہو کر جائے مگر شرط یہ ہے کہ شرک نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کا حق ادا کیا ہو یہ بھی ضروری ہے۔ صرف مان لینا جیسا پہلے میں نے مثال میں کہا کہ ماننا کافی نہیں۔ عملاً اپنے ہر فعل سے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ خدا تعالیٰ واحد ہے۔
اسی طرح توحید کے اعلیٰ مقام کے بارے میں ایک روایت یوں بیان ہوئی ہے ۔حضرت ابو سعید خدریؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت موسیٰؑ نے عرض کیا :اے میرے ربّ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دے جس کے ذریعے مَیں تیرا ذکر بھی کروں اور تجھ سے دعا بھی کروں ۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :اے موسیٰ !کہو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ۔ حضرت موسیؑ نے عرض کی کہ اے میرے خدا !تیرے سب بندے یہی کہتے ہیں ۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ تو سب کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا کہ یہی کہو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ۔حضرت موسیٰؑ نے کہا :تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اے میرے ربّ! مَیں تو کوئی ایسی چیز، بات چاہتا ہوں جو خاص میرے لیے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :اے موسیٰ! اگر میرے سوا ساتوں آسمان اور ان کے رہنے والے اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں۔ میرے سوا جو باقی ساری دنیا ہے ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ان سب پر بھاری ہو جائے گا۔ یعنی
زمین و آسمان کی جو کچھ موجودات ہیں، جو آبادیاں ہیں ،جو نیکیاں ہیں ان سب کو ایک طرف رکھ دو اورلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہکو ایک طرف رکھ دو تو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہکا پلڑا بھاری رہے گا۔
(المستدرک علی الصحیحین کتاب الدعاء… جلد 1 صفحہ 710 حدیث:1936 دارالکتب العلمیۃ)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک اعتراض کے جواب میں کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہکی اس حقیقت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مقدس نبوی کی تعلیم یہ ہے کہ لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ۔ کہنے سے گناہ دور ہو جاتے ہیں یہ بالکل سچ ہے اور یہی واقعی حقیقت ہے کہ جو محض خدا کو واحد لا شریک جانتا ہے اور ایمان لاتا ہے کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی قادر یکتا نے بھیجا ہے تو بیشک اگر اس کلمہ پر اس کا خاتمہ ہو تو نجات پا جائے گا۔ آسمانوں کے نیچے کسی کی خود کشی سے نجات نہیں۔ ہرگز نہیں اور اس سے زیادہ کون پاگل ہو گا کہ ایسا خیال بھی کرے مگر خدا کو واحد لاشریک سمجھنا اور ایسا مہربان خیال کرنا کہ اس نے نہایت رحم کر کے دنیا کو ضلالت سے چھڑانے کے لیے اپنا رسول بھیجا جس کا نام محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔یہ ایک ایسا اعتقاد ہے کہ اس پر یقین کرنے سے روح کی تاریکی دور ہو تی ہے اور نفسانیت دور ہو کر اس کی جگہ توحید لے لیتی ہے۔ آخر توحید کا زبردست جوش تمام دل پر محیط ہو کر اسی جہان میں بہشتی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ جیسا تم دیکھتے ہو کہ نور کے آنے سے ظلمت قائم نہیں رہ سکتی ایسا ہی جب لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا نورانی پرتوہ دل پر پڑتا ہے تو نفسانی ظلمت کے جذبات کالمعدوم ہو جاتے ہیں۔ گناہ کی حقیقت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ سرکشی کی ملونی سے نفسانی جذبات کا شوروغوغا ہو‘‘ نفسانی جذبات بھڑک رہے ہوتے ہیں ’’جس کی متابعت کی حالت میں ایک شخص کا نام گناہ گار رکھا جاتا ہے۔‘‘ جب یہ شخص دوسرا عمل کرتا ہےتو وہ گناہگار بن جاتا ہے ’’اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کے معنی جو لغت عرب کے موارد استعمال سے معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ لَامَطْلُوْبَ لِیْ وَلَا مَحْبُوْبَ لِیْ وَلَا مَعْبُوْدَ لِیْ وَلَا مُطَاعَ لِیْ اِلَّا اللّٰہُ۔ یعنی بجز اللہ کے اور کوئی میرا مطلوب نہیں اور محبوب نہیں اور معبود نہیں اور مطاع نہیں‘‘ جس کے پیچھے میں چلوں۔ ’’اب ظاہر ہے کہ یہ معنی گناہ کی حقیقت اور گناہ کے اصل منبع سے بالکل مخالف پڑے ہیں۔ پس جو شخص ان معانی کو خلوص دل کے ساتھ اپنی جان میں جگہ دے گا۔‘‘ یہ بات غور کرنے والی ہے ۔ان باتوں کو جو کہی ہیں خلوص دل کے ساتھ اپنے دل میں جگہ دے گا ’’تو بالضرور ت مفہوم مخالف اس کے دل سے نکل جائے گا‘‘دوسری کوئی بات اس کے اندر نہیں رہے گی کیونکہ پھر وہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرے گا۔ اس کی توحید کا قائل ہوگا ’’کیونکہ ضدین ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔‘‘ دو مخالف چیزیں جو ہیں وہ جمع نہیں ہوتیں۔ ’’پس جب نفسانی جذبات نکل گئے تو یہی وہ حالت ہے جس کو سچی پاکیزگی اور حقیقی راست بازی کہتے ہیں اور خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان لانا جو دوسرے جز کلمہ کا مفہوم ہے اس کی ضرورت یہ ہے کہ تا خدا کے کلام پر بھی ایمان حاصل ہو جائے کیونکہ جو شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ میں خدا کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے فرمانوں پر ایمان بھی لاوے اور فرمان پر ایمان لانا بجز اس کے ممکن نہیں کہ اس پر ایمان لاوے جس کے ذریعہ سے دنیا میں فرمان آیا ہے‘‘ یعنی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیغام بھیجا ہے اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ ’’پس یہ حقیقت کلمہ کی ہے۔‘‘
(نورالقرآن نمبر2،روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 418تا420)
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب فرمایا کہ شرک سے بچو۔ یہ چیونٹی کے نقشِ پا سے بھی باریک تر ہے۔ یعنی چیونٹی کا جوپاؤں ہے اس سے بھی باریک ہے یہ شرک۔ تو کہنے والے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ اے اللہ کے رسول ؐ!ہم اس سے کیسے بچیں جبکہ وہ چیونٹی کے نقش پا سے بھی باریک تر ہے؟ آپؐ نے فرمایا تم یہ دعا کہو:
اَللَّھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَعْلَمُہُ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُ۔
اے اللہ !ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اس بات سے کہ تیرے ساتھ جانتے بوجھتے ہوئے کسی کو شریک ٹھہرائیں اور لاعلمی میں بھی ایسا کرنے سے ہم تجھ سے بخشش کے طلبگار ہیں۔
ہمیشہ مدد مانگتے رہو۔
(مسند الامام احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 614-615، مسند ابو موسیٰ الاشعری حدیث 19835۔ عالم الکتب بیروت 1998ء)
حضرت عبدالرحمان بن اَبْزٰیؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح اٹھتے تھے تو آپؐ یہ دعا کرتے تھے :
اَصْبَحْنَا عَلٰی فِطْرَةِ الْاِسْلَامِ وَعَلٰی کَلِمَةِ الْاِخْلَاصِ وَعَلٰی دِیْنِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وعَلٰی مِلَّةِ اَبِیْنَا اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا مُسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ ہم نے اسلام کی فطرت اور کلمہ اخلاص توحید پر اور اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور اپنے باپ ابراہیم کی ملّت پر جو موحد مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے صبح کی۔
صبح اٹھ کے یہ یاد کرو۔ ہمیشہ پہلے اللہ تعالیٰ کو یاد کرو۔
(مسند الامام احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 294-295، مسند عبد الرحمان بن ابزی، حدیث 15434، عالم الکتب بیروت 1998ء)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے:
اَمْسَیْنَا وَاَمْسَی الْمُلْکُ لِلّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہ۔
ہم نے اور سارے جہان نے اللہ کی خاطر شام کی اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ ایک ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں۔
(صحیح مسلم کتاب الذکر و الدعاء باب التعوذ من شر ما عمل و من شر ما لم یعمل ، حدیث2723)
عبداللہ بن بُرَیْدَہ اَسْلَمِی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا۔ وہ دعا کر رہا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ اے اللہ! مَیں تجھ سے مانگتا ہوں اس بات کے ذریعہ کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تُو ہی اللہ ہے۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ تُو اَحَد ہے ،بے احتیاج ہے جس نے نہ کوئی جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: اس کی قَسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعہ مانگا۔ وہ جس کے ذریعہ جب دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعہ مانگا جائے تو وہ دیتا ہے۔
(جامع الترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء فی جامع الدعوات عن رسول اللّٰہ ﷺ حدیث 3475)
حضرت اسماء بنت عمیسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا مَیں تجھ کو ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن کو تُو سختی اور مصیبت کے وقت پڑھا کرے وہ کلمات یہ ہیں:
اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا۔
اللہ اللہ میرا ربّ ہے مَیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔
(سنن ابی داؤد کتاب الوتر باب فی الاستغفار حدیث 1525)
مشکلات میں لوگ پوچھتے ہیں کیا پڑھیں تو یہ بھی ان میں سے ایک دعا ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کے وقت یوں دعا کرتے تھے:
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيْمُ الْحَلِيْمُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ۔
اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت بڑا اور بہت ہی بردبار ہے۔ کوئی معبود نہیں مگر اللہ جو آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے اور عرش عظیم کا ربّ ہے۔
(صحیح البخاری کتاب الدعوات باب الدعاء عند الکرب، حدیث 6345)
کس باریکی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم توحید کے قیام کی تلقین فرمایا کرتے تھے ۔ایک روایت میں آتا ہے ابورِمْثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپؐ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپؐ کے پشت پر ہے یعنی مہر نبوت کیونکہ مَیں طبیب ہوں۔ آپؐ نے فرمایا :
طبیب تو اللہ ہے بلکہ تُو رفیق ہے۔ مریض کو تسکین اور دلاسا دیتا ہے۔ طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے اور وہی اس کو شفا دینے والا ہے۔
(سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب حدیث 4207)
(عون المعبود جلد 11 صفحہ 175۔ کتاب الترجل باب 17 حدیث 4201۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)
حضرت عُبادہ بن صَامِت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :جس نے کہا مَیں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ ایک ہے ،اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ اللہ کا بندہ اور اس کی بندی کا بیٹا ہے اور اس کا کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف القاء کیا اور اس کی طرف سے ایک روح ہے اور یہ کہ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا جنت میں داخل کرے گا۔
عمیر بن ہانی اسی سند سے یہ روایت کرتے ہیں انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا خواہ جو بھی اس کا عمل ہو۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے کہ یہ کہا تھا۔ لیکن یہ نہیں کہا تھا کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے۔ یعنی دوسری روایت میں اس کے آٹھ دروازوں کا ذکر نہیں ہے۔
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علی من مات علی التوحیددخل الجنۃ حدیث:28)
حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے۔ یہ کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے سوا ہر دوسرے کے معبود ہونے کا انکار کیا جائے اور نماز کا قیام اور زکوٰة کی ادائیگی اور بیت اللہ کا حج اور رمضان کے روزے رکھنا۔
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ارکان الاسلام… حدیث:16)
حضرت یَسِیْرَہ ؓسے جو مہاجر خاتون خواتین میں سے تھیں، روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم عورتوں پر لازم ہے کہ تسبیح، تہلیل اور تقدیس کیا کرو اور غفلت نہ کرو کہ اس کے نتیجہ میں توحید کو بھول جاؤ اور انگلیوں پر گنتی کیا کرو کہ کیونکہ بے شک انگلیاں قیامت کے دن پوچھی جانے والی ہیں اور جن سے بولنے کا کہا جائے گا ۔یعنی کہ گن کر بھی ذکر الٰہی کیا کرو۔ اللہ کی تقدیس بیان کرو۔ اللہ کی وحدانیت بیان کرو۔ اس کی تسبیح کرو۔
(المستدرک علی الصحیحین کتاب الدعاء جلد 1 صفحہ 732 حدیث:2007 دارالکتب العلمیۃ)
پس
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی موقع پر ،کسی مجلس میں ،کسی طبقہ میں اس بات کو اُمّت کے دلوں میں بٹھانے کا موقع نہیں چھوڑا کہ جہاں آپؐ نے خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی عظمت کو قائم کرنے کی نصیحت نہ فرمائی ہو۔
اس حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ لکھتے ہیں بلکہ آپؓ نے ایک خطبہ میں ہی بیان کیا ہے کہ
’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق اس قدر جوش تھا کہ آپؐ کے مخالف بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ آپؐ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ہر وقت خدا ہی خدا پکارتے تھے ۔چنانچہ فرانس کا ایک مؤرخ [الفانسو دے لامارٹینی(Alphonse de Lamartine)]لکھتا ہے اور خواہ کچھ کہو اور کوئی بھی الزام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لگاؤ‘‘ وہ یہ کہتا ہے ’’لیکن مجھے تو‘‘ لکھنے والا مؤرخ لکھتا ہے ’’لیکن مجھے تو ایک بات ایسی اس میں نظر آتی ہے‘‘ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ’’کہ جب سے دنیا قائم ہوئی ہے تب سے کسی شخص میں دیکھی نہیں گئی۔‘‘ یہ ایسی بات ہے جو میں نے کسی شخص میں نہیں دیکھی ’’اور وہ یہ ہے کہ
جس وقت سے اس نے نبوت کا اعلان کیا ہے‘‘ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سے نبوت کا اعلان کیا ہے یہ مؤرخ لکھ رہا ہے ’’اس وقت سے لے کر موت کے وقت تک ایک ہی لفظ اس کی زبان پر رہا اور وہ اللہ کا لفظ تھا۔ گویا اسے ایک دُھن تھی اور جنون تھا کہ خدا کو منوانا ہے اور اسے دنیا میں ظاہر کرنا ہے۔
پس وہ لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کام کو جنون کہتے ہیں کہ آپؐ ہر وقت خدا کہتے رہے وہ بھی اس بات کے تو قائل ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اہم، بڑا اور پہلا کام خدا کو اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو منوانا تھا۔ یہ جنون ہی صحیح مگر یہ وہی چیز ہے کہ اس جنون کے رکھنے والے کو بعد کے لوگوں نے کامل سمجھا اور اگر کامل نہ سمجھا تو کم از کم اتنا تو یقین کیا۔‘‘ اگر نہیں بھی مانتے ’’کہ ایسا شخص بُرا نہیں ہوسکتا جو دن رات خدا خدا کرتا رہے اور اس کو اس کی وحدانیت کو اور اس کی صفات کو منوانے کی دھن میں ہر وقت لگا رہے۔ بہرحال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حالت کو دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ
آپؐ کی اور تمام انبیاء کی دنیا میں آنے کی غرض یہی ہوتی ہے کہ شرک مٹائیں اور خداتعالیٰ کو منوائیں۔ اس کی وحدانیت کو دنیا میں پھیلا دیں۔’’
(خطبات محمود جلد 9 صفحہ 260-261)
حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ یہ خیال رکھنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان خواہ کتنی بلند ہو اور آپؐ سے ہمیں خواہ کتنی محبت ہو۔یہ بھی آپؓ نے ایک خطبہ میں بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی شان بہرحال آپؐ کی شان سے بہت بالا ہے۔ خدا تعالیٰ ازلی ابدی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے فیضانوں میں سے ایک بہت بڑا فیضان ہیں اور یہ آپؐ کی ذات سے دشمنی ہو گی کہ ہم آپؐ کو کوئی ایسا مقام دے دیں جس کے دینے سے خدا تعالیٰ کا مقام چھنتا ہو کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کبھی یہ پسند نہیں کرتے تھے (جیسا کہ پہلے میں نے حدیثوں میں بیان کیا ہے) کہ آپؐ کو خدا تعالیٰ سے بڑھ کر مقام دیا جائے اور آپؐ کا ہر عمل اس بات کی کافی دلیل ہے اور جو بھی بڑے بڑے کاموں کی آپؐ کو توفیق ملی وہ بڑی زبردست قوّتوں والے کام تھے جو کسی انسان کے بس میں نہیں تھی۔ بس اللہ تعالیٰ کی طاقت سے ہی ہو سکتے تھے۔ ایسے کام جو مضبوط سے مضبوط انسان بھی نہیں کر سکتا لیکن جب آپؐ کی جان کنی کی حالت تھی اور اس وقت میں بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے تو حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں پہلے سمجھا کرتی تھی کہ جسے جان کنی کی تکلیف زیادہ ہو وہ اچھا آدمی نہیں ہوتا ۔یعنی مرتے وقت آدمی بے چین ہو وہ اچھا نہیں ہوتا ۔مگر جب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اپنی رائے بدلنی پڑی۔ اس انتہائی تکلیف کے وقت بھی آپؐ کو اللہ تعالیٰ کے مقام کا اتنا خیال تھا کہ آپؐ چونکہ جانتے تھے کہ میرے اتباع کو مجھ سے اتنا عشق ہے ،میرے ماننے والوں کو مجھ سے اتنا عشق ہے کہ ممکن ہے کہ میرے مرتبہ کے متعلق غلو سے کام لیں۔ وہ مبالغہ کریں ۔اس لیے اس تکلیف کے وقت میں بار بار آپؐ کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے تھے کہ خدا تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ آپؐ بار بار یہی فرماتے تھے۔ گویا
قوم کو آخری نصیحت اور آخری سبق جو آپؐ نے دیا وہ یہی تھا کہ مجھے مشرکانہ مقام نہ دینا اور اگر تم نے یہ کیا تو یہ نہ سمجھنا کہ مَیں اس سے خوش ہوں گا بلکہ میری روح ایسا کرنے والوں پر لعنت کرے گی۔
پس خواہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوں آپؐ کی طرف ایسا مقام منسوب کرنا جو اللہ تعالیٰ کے درجے کی تنقیص کا موجب ہو آپؐ کے لیے خوشی کا موجب نہیں بلکہ ایسا کرنے والے پر آپؐ کی لعنت ہوتی ہے اور موت کے وقت کی لعنت تو بہت خطرناک ہوتی ہے۔ جو لوگ سچے مذہب کے پیرو نہیں ہوتے مثلاً ہندو ہیں اور وہ بھی موت کے وقت کی بددعا سے بڑا ڈرتے ہیں۔ ماں باپ فوت ہوتے ہیں تو ان کی بد دعاؤںسے بھی لوگ ڈرتے ہیں لیکن جب خدا کا رسولؐ ایسی حالت میں یہ کہے کہ تم پر لعنت ہو۔ جو سب نبیوں کا سردار ہے وہ مرنے کے وقت یہ بددعا کرے تو اس کی کس قدر اہمیت ہونی چاہیے اور یہ کتنی بڑی لعنت ہے۔ اس سے ہمیں بچنا چاہیے لیکن آپؐ کے مزار پر تو نہیں جیسا کہ پہلے بھی میں ایک دفعہ کہہ چکا ہوں لیکن پیروں فقیروں کے مزاروں پر یہی کام کیا جاتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں تو یہ لعنت ہے۔
(ماخوذ ازخطبات محمود جلد 20 صفحہ 600-601)
پس ہم جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ماننے والے ہیں اس بات کا ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ ہم توحید کی حقیقت کا ادراک پیدا کر کے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے توحید کے قیام کے لیے درد کو سمجھ کر اس کے لیے پوری کوشش کر کے حقیقی موحد بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
جنگ کے حالات بھی بدترین سے بدترین ہوتے جا رہے ہیں
امریکہ اور اسرائیل اس کوشش میں ہیں کہ ان کی اجارہ داری ساری دنیا میں اور خاص طور پر مسلم دنیا میں قائم ہوجائے۔ جس طرح کہ اسرائیل کے صدر نے جب فلسطین کی جنگ شروع ہوئی ہے، پہلی دفعہ حملہ کیا تھا تو اس وقت کہا تھا کہ اب اس علاقے کا بلکہ عرب ملکوں کا بھی نقشہ بدلا جائے گا۔ تو یہ نقشہ بدلنے کی کوششیں ہیں۔ مسلمان دنیا کو ابھی بھی سمجھ آ جائے کہ کس طرف یہ لوگ جا رہے ہیں تو ان کا ایک ہونا بہت ضروری ہے۔
پاکستان سنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایران اور ان ملکوں کی صلح کی کوشش کر رہا ہے۔ بہرحال کیونکہ نقصان بیچ میں عرب ملکوں کابھی ہو رہا ہے تو پاکستان اس لحاظ سے کوشش کر رہا ہے۔ اس پر بھی ایران کے بعض حلقوں کو بدظنی ہو گئی ہے کہ یہ بھی غلط ہے بلکہ ایران کے بعض حلقوں نے یہاں تک الزام لگا دیا کہ ایران میں پڑھے لکھے لوگوں میں یا تجزیہ نگاروں میں کہا جانے لگا ہے کہ ایران کی سرحد کے ساتھ پاکستان اپنے علاقے میں امریکی فوجیوں کی تربیت کر رہا ہے۔ ان کو مدد دے رہا ہے یا ایسے لوگوں کی مدد کر رہا ہے جو ایران کے خلاف جنگ کریں۔ بہرحال یہ بالکل غلط بات ہے۔ پاکستان نے اس کی نفی کی ہے
دشمن ان حالات سے فائدہ اٹھا کر بےچینی پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ مسلمان ملک کبھی ایک دوسرے کے مددگار نہ بن سکیں۔ اس لیے بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس لحاظ سے بھی دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسلامی ملکوں کو وحدت کی لڑی میں پرونے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20؍مارچ 2026ء



