خادمِ خلافت ڈاکٹر عبدالحنان طاہر
جلسہ سالانہ قادیان کا ایک رشتہ تودّد
سیرالیون کے جس گھر میں اس وقت خاکسار کی رہائش ہے اس میں اس سے قبل چند ڈاکٹرز کی فیملیز رہ چکی ہیں۔ جن میں سے ایک ڈاکٹر عبدالحنان طاہر صاحب بھی تھے۔سیرالیون میں دوست کو padiکہتے ہیں۔ ایک رات مشن ہاؤس سے واپسی پر ایک پڑوسی نے کہا کہ doctor! say salam to me padi, I pray fo em کہ ڈاکٹر، میرے دوست کو سلام کہنا اور کہنا کہ میں اس کے لیے بہت دعا کرتا ہوں۔ لیکن اگلے روز ہی ڈاکٹر صاحب کی وفات کی خبر آگئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

ڈاکٹر صاحب سے جلسہ سالانہ قادیان ۲۰۱۳ء میں رابطہ ہوا۔ ڈاکٹر صاحب سے جلسہ کے دوران اکثر ملاقات ہوجاتی۔ نمازیں ہم اکثر اکٹھے پڑھتے۔ وہ بڑے پُرسوز طریق پر نماز ادا کرتے۔ ۲۰۱۳ء میں دارالمسیح میں جناب حمید کوثر صاحب عرب اور قزاخستانی احمدی احباب کے ایک وفد کو بزبان عربی تعارف کروا رہے تھے ایک رشین خاتون اپنے وفد کے لیے رشین ترجمہ کر رہی تھیں۔ ہم بھی ساتھ ہو لیے۔ میں عربی میں اسے سمجھنے کی کوشش کررہا تھا اور ڈاکٹر صاحب رشین میں۔ کیونکہ وہ وہاں تعلیم کے لیے رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے پُرسکون اور دھیمے لہجے نے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ ہر بات میں اللہ تعالیٰ پر توکل، خلافت اور دعا کا کہتے۔
پھر اسی سال مسجد مبارک ربوہ میں اچانک ایک دن ڈاکٹر صاحب سے ٹکراؤ ہو گیا۔ میں اس وقت شعبہ تخصّص میں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ افریقہ میں خدمت میں بہت لذت اور آرام ملتا ہے۔ یہاں واپس آکر کام میں وہ مزا نہیں ملتا۔ سیکرٹری صاحب نصرت جہاں کی تحریک پر اب دوبارہ میعادی وقف کے لیے درخواست دی ہے۔ گھانا کی منظوری آئی ہے۔ میڈیکل کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ چند دن ڈاکٹر صاحب سے ملاقات رہی۔ بعد میں گھانا جانے سے قبل خدا حافظ کہنے اور دعا کے لیے فون آیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد گھانا سے فون پر انہوں نے بتایا کہ وہ بیمار ہیں اور جمعہ کی نماز میں بے ہوش ہو کر گر پڑے تھے۔ حسبِ سابق دعا کی درخواست پر بات ختم ہوئی۔ پھر علاج کے سلسلہ میں واپس پاکستان آگئے۔
ڈاکٹر صاحب جب اپنے عرصۂ وقف کے دوران ہی گھانا سے واپس پاکستان پہنچے تو ابتدائی معائنہ کے بعد ان کے دماغ میں رسولی کا انکشاف ہواا ور ان کا آپریشن تجویز ہوا جو کراچی سے متوقع تھا۔ آپریشن کے لیے ایک خطیر رقم ان کی استطاعت میں نہ تھی۔ اور مجلس کے بعض قواعد کی رُو سے ان کے علاج پر اتنی بڑی رقم کی فوری ادائیگی ممکن نہ تھی۔ جب یہ معاملہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمتِ اقدس میں پیش ہوا تو حضور انور ایدہ اللہ نے ازراہِ شفقت اجازت مرحمت فرمائی اور آپ کے آپریشن و علاج کے لیے مجلس کی جانب سے ادائیگی کی گئی۔ اور ساؤتھ سٹی ہسپتال کراچی میں آپ کے سر کے ٹیومر کا آپریشن ہوا۔

جب معاملہ زیرِ کارروائی تھا تو ایک رات کو آپ کی کال آئی کہ معاملہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھجوایا گیا ہے۔ دعا کریں اگر کچھ سبیل ہو جائے ورنہ گھانا جاتے ہوئے تو میں سب کچھ دے دلا گیا تھا۔ پھر جب منظوری آئی تو بیماری کی تکلیف بھلا کر خلافت کی نعمت کا شکر ادا کیا۔ اور بارہا اس نعمت مترقبہ کا شکرکرتے نظر آئے۔
آپ کے معالج سرجن ڈاکٹر عطاء العلیم صاحب بھٹی ایک زیرک اورماہر سرجن ہیں۔ AMAکی ایک کانفرنس پر خاکسار الفضل کے نمائندہ کے طور پر شامل تھا۔ دار الضیافت میں عشائیہ کے بعد ڈاکٹر بھٹی صاحب سے گفتگو میں بعض حیرت انگیز کیسز پر بات چل پڑی۔ الفضل کا سن کر انہوں نے ایک کارکن کا حال پوچھا جن کا اس وقت حال ہی میں آپریشن ہوا تھا اور خاکسار کی ان کی جگہ عارضی تقرری تھی۔ بر سبیل تذکرہ ڈاکٹر حنان صاحب کا ذکر بھی آیا۔ انہوں نے اپنے فون پر ایک پریزنٹیشن کھولی اور ڈاکٹر حنان صاحب کے آپریشن کے دوران کی بعض تصاویر دکھائیں۔ انہوں نےبتایا کہ یہ ان کے لیے ایک خاص اور پیچیدہ کیس تھا تاہم معجزانہ طور پر آپریشن کے بعد ریکوری ہوئی۔ ایسے پیچیدہ آپریشن سے ریکوری کے چند فیصد امکانات ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ان دونوں کیسز کو کئی ممالک میں اپنی پریزنٹیشنز میں پیش کر چکے ہیں۔ڈاکٹر بھٹی صاحب نے کہا کہ ان دونوں کیسز میں حضور انور ایدہ اللہ کی دعائیں ان کے ساتھ تھیں۔
آپریشن کے بعد ڈاکٹر صاحب نے کچھ عرصہ کسی دوردراز علاقے میں سرکاری نوکری کی۔ جہاں کچھ مخالفت کا سامنا بھی تھا۔ پھر بچوں کو اچھا مستقبل دینے کے لیے بیرون ملک ڈنمارک شفٹ ہوگئے۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب سے ملاقات نہ ہوئی۔ صرف فون پر رابطہ رہا۔
پھر اتفاق سے میں بھی مجلس نصرت جہاں میں آگیا۔ سیکرٹری صاحب مجلس نصرت جہاں مختلف ڈاکٹرز اور اساتذہ کے میدانِ عمل کے واقعات سناتے۔ اکثر ڈاکٹر صاحب کا ذکر ہوتا اور اچھا ذکر ہوتا۔

پہلی بار آپ کے وقف کا بھی واقعہ دلچسپ ہے۔ آپ پاکستان میں ۲۰۰۵ء کےہیبت ناک زلزلہ کے سروائیور تھے۔ زلزلے کے دوران آپ اپنے گھر میں ملبے تلے دب گئے تھے۔ آپ نے بتایا کہ اس کے بعد ہی آپ کو بطور ڈاکٹر اپنے آپ کو جماعت کے لیے پیش کرنے کی تحریک ہوئی۔ آپ کا تعلق مظفر آباد سے تھا اور آپ کے والد مکرم عبد المنان صاحب امیر جماعت ہائے مظفر آباد تھے۔ وہ بھی نہایت اعلیٰ خوبیوں کے مالک انسان تھے۔
آپ ۷؍جولائی ۲۰۰۶ء کو سیرالیون تشریف لائے۔ یہاں سیرالیون میں جب آپ کو کچھ کشائش ہوئی تو آپ نے اپنے والد مرحوم کی جانب سے ہسپتال کے احاطہ میں مسجدمنان بنوائی۔ جس کا سنگ بنیاد۳۱؍اکتوبر جبکہ افتتاح ۳؍دسمبر ۲۰۱۰ء کو عمل میں آیا۔ اس کی دلچسپ رپورٹ الفضل ربوہ ۲۴؍جنوری ۲۰۱۱ء میں شائع ہوئی تھی۔
جب میں پہلی بار ہسپتال میں آیا تو ڈاکٹر صاحب کو اس مسجد کی تصویر بھجوائی۔ تو انہوں نے کہا کہ ان کی طرف سےدو نوافل ادا کر کے ان کے والدین کے لیے دعا کر دیں کیونکہ یہ مسجد ان کے نام پر بنوائی گئی تھی۔ سیرالیون کے جلسوں اور دیگر تقاریب کی تصاویر دیکھ کرکہتے کہ اگر صحت نے اجازت دی تو وہ ضرور کسی جلسے پر آئیں گے۔
گزشتہ سال ہی عید کے موقع پر کہا کہ دل کرتا ہے کہ اس مسجد کو اَور وسیع کیا جائے لیکن اس وقت حالات اتنے اچھے نہیں ہیں۔ نوکری بھی نہیں اور بیماری بھی ہے۔ جب نوکری لگے گی تو کرواؤں گا۔
پھر اسی احاطے میں عائشہ میٹرنٹی ہسپتال کی عمارت بن کر تیار ہو گئی۔ اس کی تصاویر دیکھ کر خوش ہوتے کہ اس چھوٹے سے کلینک کے جلو میں اتنی شاندار عمارت بن گئی ہے۔ گزشتہ سال مسجد منان کو باہر اور اندر سےٹائل کیا گیا۔ جس سے مسجد کا روپ اَور بھی نکھر گیا۔ گزشتہ سال عید کی نماز وہاں پڑھانے کی ڈیوٹی لگی تو ڈاکٹر صاحب کو اس کی تصویر بھجوائی۔ تو تصویر دیکھ کر عش عش کر اٹھے۔ اور اس مسجد کی رینیویشن اور ایک ایک ٹائل لگانے والے کے لیے ڈھیروں دعائیں کیں۔ اور وہی آخری پیغام آڈیو کی صورت میں خاکسار کے پاس محفوظ ہے۔
سیرالیون مرکز میں ’’لال پری‘‘ نام سے موسوم ایک پرانی لال گاڑی کھڑی ہے۔ کبھی ٹھیک چلتی نظر آتی ہے کبھی کسی دیوار کے ساتھ لگی رہتی ہے۔ وہ ڈاکٹر صاحب کے دور میں خریدی گئی اور ان کے زیر استعمال رہی اور اب تک ان کے نام سے ہی جڑی ہے۔ ایک بار مرکز کی کسی تصویر میں انہیں نظر آ گئی تو کہنے لگے کہ کیا یہ ابھی تک چلتی ہے؟
دو سال قبل اس اپارٹمنٹ میں رہائش ملی تو ڈاکٹر صاحب کو ازراہِ تفنن کہا کہ ڈاکٹر صاحب ہم بھی آپ کے پیچھے پیچھے آرہے ہیں۔ تو کہنے لگے کہ اللہ نہ کرے کسی واقفِ زندگی کو مجھ جیسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔ جماعت کا بھی کافی نقصان ہوتا ہے۔ پھر انہوں نے یہاں کچھ پڑوسیوں کا بتایا اور انہیں سلام بھجوایا۔ ان کو بتایا کہ آپ ڈاکٹرز کی وجہ سے مجھے یہاں محلے والے ڈاکٹر ہی کہتے ہیں۔ تو کہنے لگے کہ ہم ڈاکٹر جسمانی بیماریوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرہیں اور مبلغین روحانی بیماریوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر ہوتے ہیں۔
ہجرت کے کچھ عرصہ بعد آپ کو پھر ٹیومر کی شکایت ہوئی اور ایک بار پھر ڈنمارک میں آپریشن ہوا۔ اور کچھ عرصے بعد یہی شکایت پھر ہو گئی تاہم اب آپریشن ممکن نہ تھا۔ ریڈیو تھراپی کے تکلیف دہ مرحلہ سے گزرے۔ کہتے کہ تین دن ٹھیک رہتا ہوں۔ پھر سائیڈ افیکٹ آ جاتے ہیں۔ سردرد، متلی، جسم درد، بےچینی، بےخوابی اور نجانے کیا کیا۔
پھر بیماری کا ممکنہ تکلیف دہ علاج جاری رہا۔ کبھی کوئی سائیڈ افیکٹ تو کبھی کوئی نئی تکلیف نظر آجاتی لیکن ڈاکٹر صاحب کی زبان پر شکوہ نظر نہیں آتا تھا۔ انہی تکالیف اور بیماری کے دوران زبان کے کورسز جاری رہے۔اسائلم کی متعدد پیشیاں۔ ہر بار دعا کا پیغام موصول ہوتا۔
ڈاکٹر صاحب کی ہر بات ’’اللہ کا شکر ہے‘‘ سے شروع ہوتی اور ’’جو اللہ کی رضا ‘‘پر ختم۔ ڈنمارک میں کیس پاس نہ ہوا تو ہالینڈ چلے گئے۔ یہاں بھی مستقل بیمار رہے اور دعا کے پیغامات وٹس ایپ پر بھجواتے رہتے۔ یہاں Herpes zoster نامی وائرل انفیکشن کے سبب بھی سخت تکلیف میں رہے۔ کبھی بچوں کے لیے تقریر، کبھی اپنے لیے تقریر لکھنے کی اس شرط کے ساتھ درخواست کرتے کہ اگر یہ باقی کاموں میں ہرج نہ کرے تو بھجوائیں ورنہ نہ بھجوائیں۔
مجھے یاد ہے کہ الفضل انٹرنیشنل روزنامہ ہوا تو اس کی مجلس ادارت میں شامل نام دیکھ کر فون کیا اور دعاؤں اور مبارکباد کا ایسا عاجزانہ اظہار کیا کہ میں شرم سے پانی پانی ہوگیا۔ آیا اتنی خدمت ہوتی بھی ہے یا نہیں جتنی ڈاکٹر صاحب نے دعائیں دے ڈالی ہیں۔
میں نے کسی کو لمبی بیماری کاٹتے دیکھا نہیں صرف سنا ہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو بھی صرف سنا اور سن کر مشاہدہ کیا۔ آپ نے کس طرح لمبی بیماری کو ہنستے مسکراتے گزارا۔ خلافت کو اپنی جان کہتے، ادب کرتے اور دعا کو آخری امید قرار دیتے۔ بیماری کو لمبا عرصہ جھیلا۔ ہمیشہ بس مسکراتے ہوئے دعا کا کہتے۔ الفضل میں سلسلہ اطلاعات و اعلانات شروع ہوا تو کہنے لگے میرے لیے بھی دعا کا لکھیں۔ چنانچہ آپ کی جانب سے چند اعلانات شائع ہوئے۔ اعلان چھپنے کے بعد کہتے کہ الفضل واقعی جماعت کو جوڑنے والا اخبار ہے۔ فجی سے امریکہ کینیڈاتک پوری دنیا سے فون موصول ہوئے۔ کہتے کہ اعلان پڑھ کر مجھے ایسے دوست احباب، رشتے داروں کے فون بھی موصول ہوئے ہیں جن سے لمبے عرصے سے رابطہ نہ تھا۔ الفضل نے رابطہ بحال کروا دیا۔ اگلے دعائیہ اعلان میں آپ نے تمام قارئین الفضل کا شکریہ بھی ادا کیا۔ الفضل کے بھی باقاعدہ قاری تھے۔ میری کوئی تحریر ان کی نظر سےگزرتی تو سکرین شاٹ بھجواتے کہ میں نے پڑھ لیاہے۔
ایک روز میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ اب تو تھک گئے ہوں گے۔ تو کہنے لگے کہ بہرحال انسان ہوں تھک تو جاتا ہوں۔ ہم تو راضی ہیں جس حال میں و ہ جیسا رکھے۔ پھر کہتے کہ بس اللہ ہی ہے۔ اور پھر حضور دعائیں کر دیتے ہیں ہم غریبوں کے لیے۔ میں صرف خلافت کی وجہ سے زندہ ہوں۔ورنہ تو کب کا مر گیا ہوتا۔
گزشتہ سال ایک اَور ٹیومر بنا اور اب کے بار تو ڈاکٹرز نے بالکل جواب دے دیا۔ اورپھر اسی سبب سے کومے میں چلے گئے۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ مشکل ہے اس کومے سے باہر آئیں۔ لیکن خدا کے فضل سے کومے سے باہر آگئے۔ ہومیو علاج جاری رہا۔ لیکن پھر خدا کی تقدیر غالب آئی اور ۱۳؍جولائی ۲۰۲۵ء کو اسی بیماری میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
ایک ہیبت ناک زلزلے سے معجزانہ طور پر زندہ نکل آنے والا، مستقل بیمار شخص جو عرصہ دراز سے مختلف عوارض سے نبرد آزما ہو، اس کا یوں خدا پر توکل اور یقین کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا اور خلافت احمدیہ کی دعاؤں پر کامل یقین رکھنا واقعی ہر احمدی کے لیے نمونہ ہے۔
میں نے آپ کو صحت مند دیکھا، جماعت کی خدمت کے لیے زندگی وقف کرتے دیکھا۔ اس وقف کی برکات اٹھاتے دیکھا۔اور پھر خدا تعالیٰ کی آزمائش میں صابر اور قانع بھی دیکھا۔ یہاں سیرالیون میں ہر ایک کو آپ کے لیے رطب اللسان پایا، ہر کوئی آپ کا گرویدہ اور صبر و تحمل کی داد دیتا نظر آیا۔
حضرت مسیح موعودؑ نے جلسہ سالانہ کے مقاصد میں فرمایا ہے کہ رشتہ تودّد و تعارف ترقی پذیر ہوگا۔ جلسہ سالانہ قادیان ۲۰۱۳ء کی برکات کا مصداق یہ جماعت احمدیہ کے افراد کا ایک رشتہ دوستی آج اختتام پذیر ہوا۔ انسان کی زندگی میں بعض لوگ تھوڑے عرصے کے لیے آتے ہیں لیکن اپنے اخلاق اور رویے کے سبب ایک گہری چھاپ چھوڑ جاتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب بھی ایسے ہی تھے ۔ ڈاکٹر صاحب ہم آپ کو دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔ اور مسجد منان کے ذریعہ عبادت کا لطف اٹھانے والوں کا ثواب برابر آپ کو بھی پہنچتارہے گا۔ ان شاء اللہ العزیز
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۸؍اکتوبر ۲۰۲۵ء کو اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں ڈاکٹر صاحب کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: رسول اللہ ﷺ کے جانشین ۔ قرآن کی پیشگوئیاں




