تاریخ کا آئینہ: روشن یادوں کی بازگشت(قسط اوّل)
مکرم ومحترم مبارک احمد انصاری سابق پروفیسر تعلیم الاسلام کالج ربوه و جامعہ احمدیہ کینیڈا
میں نے حضورؓ کو پہلی بار دیکھا جس کی دھندلی سی یاد ابھی تک میرے تصوّر میں باقی ہے۔ اس وقت میری عمر کم و بیش چار سال تھی۔ مجھے میری والدہ صاحبہ نے بتایا کہ حضورؓ فرش پر احباب جماعت کے ساتھ بیٹھے تھے اور ایک ہاتھ سے فرش کا سہارا لیا ہوا تھا کہ تمہیں نیندآگئی اور نیند میں اپنا سر حضورؓ کے اس ہاتھ پر رکھ دیا۔ تمہارے والد تمہیں اٹھانے لگے تو حضورؓ نے بہت شفقت سے کہا کہ بچےکو اسی طرح رہنے دو
(مکرم و محترم مبارک انصاری صاحب نے یہ مضامین مختلف اوقات میں، مختلف حصوں میں اورمختلف ضروریات کے تحت لکھے تھے۔ خاکسار محمد سلطان ظفر، کینیڈا کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ ان متعدد مضامین اور تقاریر کو یکجا کرکے،نیز مکرم انصاری صاحب سے مزید معلومات حاصل کرکے سوانح عمری کے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کرے۔ وباللہ التوفیق)
خاکسار کی پیدائش ۵؍مارچ ۱۹۲۹ء کو محترم قاضی محمد رشیدصاحب اور محترمہ امۃالحمید صاحبہ کے ہاں بمقام فیروزپور (انڈیا) ہوئی۔ ہم چار بھائی اور پانچ بہنیں تھے جن میں میرا دوسرا نمبرہے۔ میری پیدائش کے کچھ عرصہ بعد میرے والد صاحب کی تبدیلی راولپنڈی ہوگئی جہاں وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ منتقل ہوگئے۔
میری ہوش کا زمانہ۱۹۳۳-۳۴ء سے شروع ہوتا ہے جب میری عمر چار پانچ سال تھی۔ اسی زمانہ کا ذکر ہے کہ ان دنوں میرے والد صاحب ’’خان صاحب‘‘ قاضی محمد رشید صاحب جماعت احمد یہ راولپنڈی کے امیر جماعت تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ راولپنڈی تشریف لائے۔ ان دنوں مقامی جماعت کا ہیڈ کوارٹر جو’’انجمن‘‘ کہلاتا تھا کرائے کے ایک کشادہ اور دو منزلہ مکان میں تھا۔ اوپر کی منزل میں ہماری رہائش تھی اور نچلی منزل کا ایک بڑا کمرہ بطور مسجد استعمال ہوتا تھا۔ جماعت کی میٹنگز بھی اسی کمرے میں ہوتی تھیں۔ نیچے کی منزل کے دیگر کمرے دوسرے کاموں میں لائے جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک وقت میں ان کمروں میں تین احمدی نوجوان جو گورڈن کالج میں پڑھتے تھے وہاں مقیم تھے۔ اور میرے والد صاحب ان کے نگران تھے۔ ان میں سے دو کے نام تو مجھے یاد ہیں لیکن تیسرے کا علم نہیں۔ مجھے ان دو کے ناموں کا اس طرح معلوم ہوا کہ میرے والد صاحب کئی دفعہ انہیں اوپر سے اختر اور جعفر کہہ کر آواز دیا کرتے تھے۔ ان میں سے جعفر کواُن دنوں چیچک نکل آئی تھی اور ہمیں احتیاطاً نیچے جانے سے منع کیا گیا تھا۔ بہت بعد میں مجھے اپنے والد صاحب سے علم ہوا کہ اختر نامی نوجوان بعد میں جنرل اختر حسین کہلائے اور جنہیں چیچک نکلی ہوئی تھی وہ بعد میں اٹک شہر میں ملک جعفر ایڈووکیٹ کے نام سے مشہور ہوئے۔ مؤخر الذکر اختر حسین صاحب کے کزن تھے اور بعد میں بہنوئی ہوئے۔ افسوس ہے کہ بعد میں یہ جماعت کے سخت مخالف ہوگئے۔ یہاں تک کہ جماعت کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی جس کا نام غالباً ’’احمد یہ تحریک‘‘ تھا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ یہی صاحب وفاقی پاکستانی حکومت میں وزیر مذہبی امور بھی بن گئے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ جب راولپنڈی تشریف لائے اور انجمن کے اسی کمرے میں احباب جماعت کے ساتھ تشریف فرما تھے جس میں نمازیں وغیرہ ادا کی جاتی تھیں اور یہ مکان مری روڈ پر واقع تھا۔ یہاں میں نے حضورؓ کو پہلی بار دیکھا جس کی دھندلی سی یاد ابھی تک میرے تصوّر میں باقی ہے۔ اس وقت میری عمر کم و بیش چار سال تھی۔ مجھے میری والدہ صاحبہ نے بتایا کہ حضورؓ فرش پر احبابِ جماعت کے ساتھ بیٹھے تھے اور ایک ہاتھ سے فرش کا سہارا لیا ہوا تھا کہ تمہیں نیندآگئی اور نیند میں اپنا سر حضورؓ کے اس ہاتھ پر رکھ دیا۔ تمہارے والد تمہیں اٹھانے لگے تو حضورؓ نے بہت شفقت سے کہا کہ بچےکو اسی طرح رہنے دو۔اسی اثنا میں تمہاری آنکھ کھل گئی اور تمہارے والد نے تمہیں وہاں سے اٹھا لیا۔
مجھے راولپنڈی کے ایک اسکول میں داخل کروادیا گیا۔ وہاں میرے ساتھ ہی دو اَور احمدی بھی داخل ہوئے۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ دونوں طالب علم بعد میں چار مختلف شہروں میں میرے ہم جماعت رہے۔ یعنی راولپنڈی، فیروزپور، قادیان اور لاہور۔ ان میں ایک شیخ محمد اکرم صاحب ہیں (مکرم مبشر لطیف احمد صاحب ایڈووکیٹ کے کزن) اور انہوں نے ایم ایس سی کرنے کے بعد پہلے تو Michelکمپنی رینالہ خورد میں ملازمت کی اور بعد میں ’’شیزان‘‘ منتقل ہوگئے اور وہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔ دوسرے محمد سعید احمد صاحب ہیں (تعلیم الاسلام کالج کے استاد مکرم مبارک احمد عابد صاحب کے کزن) اور انجینئر کا امتحان پاس کرنے کے بعد ملٹری کے شعبہ ایم ای ایس سے منسلک ہوئے اور وہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دوستوں کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ آمین
ہمارے دادا جان کا نام حکیم محمد اعظم صاحب تھا جنہوں نے قادیان کے محلہ دارالبرکات میں غالباً ۱۹۲۶ء میں رہائش اختیار کی۔ میں ۱۹۳۵ء میں ان کے پاس قادیان آگیا تھا۔ میری عمر اس وقت چھ سال تھی۔
تعلیم الاسلام پرائمری اسکول کی دوسری جماعت میں میرے استاد محترم ماسٹر شاہ دین صاحب تھے جبکہ تیسری جماعت کے استاد محترم ماسٹر عبدالعزیز صاحب تھے۔ نہایت محبت اور شفقت سے پڑھاتے تھے۔ اس زمانے میں استاد اپنے شاگردوں پر کثرت سے چھڑی کا استعمال کرتے تھے مگر ان کو میں نے شاذ ہی ایسا کرتے دیکھا۔
اس زمانے میں دوسری جماعت سے جغرافیہ کا مضمون پڑھایا جاتا تھا۔ نیز دوسری اور تیسری جماعت میں اپنے ضلع کا جغرافیہ پڑھایا جاتا تھا۔ چونکہ قادیان ضلع گورداسپور میں تھا اس لیے ہمیں گورداسپور کا جغرافیہ پڑھایا جاتا تھا۔ میں نے اس وقت جو پڑھا تھا اس کا کچھ حصہ معلومات کے لیے پیشِ خدمت کرتا ہوں۔
ضلع گورداسپور کی قدرتی تقسیم پانچ حصوں میں ہوتی ہے: ۱۔ بیٹ ۲۔بانگر ۳۔ ریاڑکی ۴۔ بھرڑی ۵۔ اندھڑ
قادیان ریاڑکی کے حصہ میں واقع ہے۔ ریاڑکی کے ماش بہت مشہور تھے اور غالباً یہی وجہ ہے کہ جلسہ سالانہ پر جو دال پکائی جاتی تھی وہ ماش اور چنے کی دال ہوتی تھی۔ اب اس کے نسخہ میں مسور کی دال کا بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔
ضلع گورداسپور میں تین دریا: ’’بیاس‘‘، ’’راوی‘‘ اور ’’چکّی‘‘ بہتے ہیں جبکہ اس میں تین ندیاں تھیں جن کے نام ’’بَیں ندی‘‘، ’’بسنتر ندی‘‘ اور’’کریڑ ندی‘‘ تھے۔ نیز دو جھیلیں: ’’کاہنووان کی جھیل‘‘ اور ’’مگرمودیاں کی جھیل‘‘ بھی تھیں۔
اس ضلع میں دھاری وال میں گرم کپڑے کے کا رخانے، بٹالہ میں زراعتی سامان کے لوہے کی ڈھلائی اور صابن بنانے کے کارخانے، سوجاں پور میں شراب کا کارخانہ جبکہ قادیان میں شیشے کے سامان تیارکرنے اور ہوزری کا کارخانہ (اسٹارہوزری) قائم تھے۔
ضلع کچہری گورداسپور کی عمارت میں ’’جھولنا محل‘‘ نامی ایک دیوار ہے جو دھکا دینے سے گرتی نہیں بلکہ ہلتی ہے۔
جس طرح ملتان کے متعلق مشہور ہے ’’چہار چیز است تحفہ ملتان: گرد، گرما، گدا وگورستان‘‘اسی طرح بٹالہ کے متعلق مشہور تھا ’’سہ چیز است تحفہ بٹالہ : ہانڈی، ڈوئی، ریشمی نالا‘‘
حضورؓ کو جلسہ سالانہ کے موقع پر دیکھنے کا اتفاق ہوتا رہا البتہ ایک موقع ایساہے جو ابھی تک یاد ہے وہ یکم جنوری ۱۹۳۳ء کا روز تھا اور مقام قادیان کا ایک وسیع کچا ہموار میدان تھا اور ہوا یوں کہ ایک ہندو دوست جن کا نام غالباً مسٹر چاولہ تھا اور انہوں نے ہوائی جہاز اڑانے کی تربیت لے کر اپنا ذاتی جہاز لے رکھا تھا۔ انہوں نے حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو جہاز میں سیر کی دعوت دی جو حضورؓ نے قبول کرلی اور تاریخ اور وقت طے ہو گیا۔چنانچہ اس دن اور وقت مقررہ پر جہاز کے اترنے کے میدان پر حضورؓ تشریف لے آئے۔ ابھی جہاز نہیں پہنچا تھا۔ کچھ دیر بعد ہوائی جہاز کی آواز سنائی دی اور جہاز نے فضا میں دو تین چکر لگائے اور پھر وہ لینڈ کر گیا۔ میدان میں قادیان کے کافی لوگ جمع تھے جن میں مرد، عورتیں اور بچے شامل تھے جنہوں نے میدان کے ارد گرد گھیرا بنا رکھا تھا۔ مجھے میرے چچا اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ انہوں نے مجھے اپنے کندھوں پر سوار کر رکھا تھا ورنہ میں سارا نظارہ نہ کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی جزا دے۔ جہاز جب اس زمین پر اترا تو چاولہ صاحب نے جہاز سے نکل کر حضورؓکی پیشوائی کی اور حضورؓ کو ساتھ لے کر جہاز میں سوار کروایا۔ اس وقت دُور سے جہاز مجھے کچھ یوں لگا جیسے کوئی موٹر سائیکل ہے جس کے ساتھ سائیڈکار لگی ہوئی ہے۔
اتنے میں جہاز نے زمین پر چکر لگائے اور پھر فضا میں بلند ہو گیا اور کچھ دیر فضا میں دکھائی دینے کے بعد نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ اس پر لوگوں میں تو ایک کہرام سامچ گیا۔ لوگ زار و قطار رو رہے تھے۔ کچھ دیر بعد جس کا مجھے اندازہ نہیں جہاز پھر نمودارہوا۔ اور لوگوں کی جان میں جان آئی۔ مجھے اس وقت سمجھ نہیں آرہی تھی کہ لوگ رو کیوں رہے ہیں؟ بعد میں مَیں نے اپنے چچا سے اس بارے میں دریافت کیاتو انہوں نے بیان کیا کہ لوگ اس لیے رو رہے تھے کہ انہیں حضورؓ سے بہت محبت ہے اور وہ یہ خیال کر رہے تھے کہ نہ جانے یہ شخص جو ہندو ہے حضورؓ کو کہاں لے گیا ہے۔ اور اب جہاز کی واپسی سے ان کی تسلی ہو گئی ہے۔ حضورؓ جہاز سے اتر کر اپنے گھر، دفتر یا جہاں بھی جانا تھا تشریف لے گئے۔
خلافت جو بلی کے جلسے پر بہت خوشی منائی گئی۔ کئی قسم کے بیج بھی تیار کیے گئے۔ ایک سفید بیک گراؤنڈ پر سیاہ رنگ میں لوائے احمدیت کی تصویر بنی تھی اور اس کے ساتھ کچھ یوں عبارت لکھی تھی:
’’لوایِ ما پَنَه ہر سعید خواهد بود
ندایِ فتح نمایاں به نامِ ما باشد‘‘
ترجمہ: ہماری پناہ میں ہر سعادت مند آئے گا، اور فتح کی آواز ہمارے نام سے ظاہر ہوگی۔
منارة المسیح کو بھی خوب سجایا گیا تھا اور گھروں میں بھی دیئے جلا کر چراغاں کیا گیا تھا۔
قادیان سے دو ڈھائی میل کے فاصلے پر ایک گاؤں تھا جس کا نام تتلہ تھا۔ تتلہ سے ایک نہر گزرتی تھی جو مادھوپور کے مقام سے دریائے راوی سے نکالی گئی تھی اور تِبڑی اور سٹھیالی سے ہوتی ہوئی یہاں آتی تھی۔ اس کا پانی انتہائی خنک ہوتا تھا اور رنگت میں سیاہی مائل۔ نہر کی ریت موٹی اور اس کا رنگ گہرا سیاہ تھا۔ ریت کے باریک سیاہ ذرات کی موجودگی کی وجہ سے ہی پانی کا رنگ سیاہی مائل تھا۔ نہر کے اندر زیادہ دیر ٹھہرنا مشکل ہوتا تھا ورنہ جسم کی قلفی بن جاتی۔ نہر کے اطراف میں کنوؤں کا پانی بہت ٹھنڈا ہوتا تھا اور پینے کے لیے اسی کو استعمال کیا جاتا تھا۔ قادیان کے اداروں میں تعطیل جمعہ کے روز ہوتی تھی اور ہر مہینےکی آخری جمعرات کو بھی چھٹی ہوتی تھی۔ اس لیے گرمیوں کے موسم میں قریباً ہر آدمی اس روز پکنک منانے کے لیے نہر پر پہنچ جاتا تھا وہاں اس پکنک کو ٹرپ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ اور پورے دن کا کھانا گھر سے لے جاتے تھے۔
خاکسار جب کچھ بڑا ہوا تو مجھے بھی وہاں جانے کا موقع ملتا رہا۔ دو یا تین بار حضورؓ کو بھی وہاں اس موقع پر دیکھا۔ حضورؓ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہت دُور تک تیرتے ہوئے چلے جاتے۔ بعض اوقات تیراکی کے مقابلے اور پانی کی کھیلیں بھی نہر میں ہوتیں۔
نہر میں نہانے کے لیے جسم پر بار بار تیل ملنا ضروری ہوتا ورنہ ریت کے باریک ذرّے مساموں میں داخل ہو کر بہت تکلیف دیتے۔ نہر پر باجماعت نماز کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔
جب مجلس خدام الاحمدیہ کی ابتدا ہوئی اور وقار عمل منائے جانے لگے تو میں نے دو مرتبہ حضورؓ کو وقار عمل میں حصہ لیتے ہوئے بھی دیکھا۔مقام ریتی چھلہ کے ساتھ واقع ڈھاب تھی۔ حضورؓ نے کدال سے مٹی بھی کھودی اور ٹوکری میں بھر کر خاص مقام تک بھی لے گئے اور وہاں مٹی ڈال دی۔ جب حضورؓ وقارعمل میں حصہ لے رہےہوتے تو حضورؓ کو دیکھ کر سب لوگوں میں ایک خاص جوش پیدا ہوجاتا تھا۔اور وہ بھی وقار عمل میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے۔محلہ جات میں بھی ان دنوں وقار عمل کثرت سے کیے جاتے تھے۔
تعلیم الاسلام پرائمری اسکول قادیان میں دوسری جماعت محترم ماسٹر شاہ دین صاحب سے اور تیسری جماعت محترم ماسٹر عبدالعزیز خان صاحب ایمن آبادی جو ہیڈ ماسٹر بھی تھے سے پڑھیں۔ ان کا گھر محلہ دارالفضل کے شمال مغربی حصہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ کے مکان کے قریب تھا اور انہوں نے اس کے ایک حصے میں ایک عجائب گھر بنا رکھا تھا جس میں مختلف ممالک کی طب سے تعلق رکھنے والی اشیا جمع کررکھی تھیں اور اس کا نام ’’طبیہ عجائب گھر‘‘ رکھا ہوا تھا۔ تعلیم الاسلام پرائمری اسکول کے جو اساتذہ مجھے یاد ہیں ان میں ماسٹر محمد بخش سولنگی صاحب، ماسٹر حسن محمد صاحب اور ماسٹر نواب دین صاحب ہیں۔
چوتھی اور پانچویں جماعتیں فیروز پور کے خالصہ مالوہ مڈل اسکول میں پڑھیں جہاں میں نے گورمکھی بھی سیکھی جو مجھے اب تک یاد ہے۔ ایک دن میرے والد صاحب نے مجھے سکول کے حالات کے متعلق پوچھا تو میں نے جہاں اَور مضامین کے متعلق بتا یا وہاں یہ بھی بتایا کہ سکول میں ایک مضمون گورمکھی کا بھی ہے جو سکھوں اور ہندوؤں کے لیے تو لازمی ہے لیکن ہم مسلمان اس پیریڈ میں کھیلتے رہتے ہیں۔ یہ سن کر میرے والد صاحب نے فرمایا کہ یہ بھی تو علم ہے اور مسلمان پر تو علم حاصل کرنا فرض ہے۔ میں ان کا مطلب سمجھ گیا اور اگلے دن ہی گورمکھی کے پیریڈ میں حاضر ہوکر گورمکھی کے استاد جن کا نام پریتم سنگھ تھا سے یہ کہا کہ میں بھی گورمکھی پڑھنا چاہتا ہوں۔ مجھے آج بھی استاد کا خوشی سے تمتماتا ہوا چہرہ نہیں بھولتا۔ گویا کہ انہوں نے ایک مسلمان کو سکھ بنالیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے کلاس کو تو پڑھانا چھوڑ دیا اور ان کو خوشخطی کا کام دے کر میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھے قاعدہ کی دو سطریں پڑھا دیں۔ میں یہاں بتا دوں کہ گورمکھی حروف تہجی میں کل پینتیس حروف ہیں اور سات سطریں ہوتی ہیں۔ دو سطریں پڑھانے کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تھوڑا اورپڑھادوں میں نے جواب دیا پڑھا دیں۔ سو انہوں نے دو سطریں اور پڑھا دیں اس کے بعد میں نے کہا کہ مجھے اور پڑھا دیں۔ اسی طرح کرتے کرتے میں نے پہلے روز ہی پورے پنجابی حروف سے بھی واقفیت حاصل کرلی۔ اس کے بعد انہوں نے میرے اوپر خاص توجہ دینی شروع کردی۔ ایک دن مجھ سے پوچھا کہ گرنتھ صاحب پڑھوگے؟ میں نے کہا ہاں پڑھوں گا۔چنانچہ استاد صاحب نے مجھے گرنتھ صاحب کے ابتدائی چند صفحات پڑھا دیے جو مجھے اب تک یاد ہیں کیونکہ سکول کی کمیٹی کو چیک کرنے کے لیے جب کبھی انسپیکشن کمیٹی آتی تو اسے بتایا جاتا کہ ایک مُسْلا گرنتھ صاحب پڑھتا ہے اگر کہیں تو پیش کیا جائے اور ان کی طرف سے اثبات میں جواب پر مجھے ان کے پاس بھیج دیا جاتا۔ اس طرح دو تین دفعہ سنانے سے مجھے وہ شبدیاد ہو گئے اور اب تک یاد ہیں۔ اور وہ ہیں :’’ایک اونکار ست نام کرتا پُرکھ نِربَھو نِروَیراکال مُورَتْ اَجُونِی صیب گورپَرساد۔ آد سچ جُگاد سچ ہے بھی سچ ہوسی بھی سچ۔ سوچے سوچ نہ ہوئی جے سوچی لکھ بار‘‘
چھٹی جماعت میں پھر قادیان آگیا۔ جب داخلےکی غرض سے میں اپنے والد صاحب کے ساتھ ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ جو بعد میں خلیفۃالمسیح الثالث ہوئے موجود تھے۔ آپؒ نے مجھے داخلہ دیا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے آپؒ کو بعض حکمتوں کے تحت قریباً چھ ماہ کے لیے ہائی سکول کا ہیڈماسٹر مقرر فرمایا تھا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحبؓ جو انگلستان سے واپس آئے تھے سکول کے ہیڈماسٹر مقرر ہوئے۔ محترم قاضی صاحب یکے از۳۱۳؍صحابہ میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے والد حضرت قاضی ضیاالدینؓ بھی اور ان کا یادگاری کتبہ، مزار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احاطے میں نصب ہے۔
۱۹۴۵ءمیں تعلیم الاسلام کالج میں مَیں داخل ہوا تب اس کالج کے آغاز کو ایک سال ہوچکا تھا۔ ۱۹۴۷ء میں تقسیمِ ہند کے وقت ہم قادیان سے ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ ہمارا کالج، ڈی اے وی کالج کی بلڈنگ میں لاہور منتقل ہوا اور میں نے پنجاب یونیورسٹی سے کیمسٹری میں ایم ایس سی مکمل کیا۔
تعلیم الاسلام کالج قادیان میں تھرڈ ایئر کی کلاس جو شروع کی جا چکی تھی، اس کے سائنس کے سیکشن میں مجھے صرف حضرت میرداؤد احمد صاحب کو دیکھنا یاد ہے۔ اس کے علاوہ کالج کی دوسری منزل تعمیر کر کے اس میں سائنس لیبارٹری فضل عمرریسرچ انسٹی ٹیوٹ تعمیر کی گئی تھی جس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد الاحد صاحب تھے جو یہاں آنے سے قبل لائلپور (موجودہ فیصل آباد) کے زراعتی کالج میں جو بعد میں زرعی یونیورسٹی بنا، میں تھے۔فضل عمر ریسرچ کا افتتاح نیشنل انڈین فزیکل لیبارٹریز کے ڈائریکٹر سرشانتی سروپ بھٹناگر نے کیا جو سائنسدان ہونے کے علاوہ اردو کے ادیب اور شاعر بھی تھے اور افتتاح کے بعد انہوں نے اپنی ایک نظم بھی پڑھی جو علامہ اقبال کے شکوہ و جواب شکوہ کے پیرائے میں تھی۔ اور اس میں پہلے ایک بات کہی جاتی تھی اور اس کے آخر میں اس سے نتیجہ نکالتے ہوئے یہ مصرع آتا تھا ’’خدا نہیں ہے۔ خدا نہیں ہے‘‘ اس نظم کے کئی بند تھے اور ہر بند کے بعد میں یہ نتیجہ دہرایا جاتا تھا۔ ہم طالب علموں کوریسرچ کےہال کی اوپر والی منزل میں تو جانے کی اجازت نہیں تھی لیکن ساری تقریب کو لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ بڑ کے درخت کے نیچے جو مسجد نور کے پچھواڑے تھا بیٹھے سن رہے تھے لیکن نظم کے آخر پر جب یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ’’ خدا یہیں ہے ، خدا یہیں ہے ‘‘ تو ہمارا غصہ خوشی اور تعریف میں بدل گیا۔
اس وقت تعلیم الاسلام کالج قادیان کی دو مجالس زیادہ مشہور تھیں ایک تو سٹوڈنٹ یونین جس کے صدر عبد الواسع عمر جو حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کے پوتے اور مولوی عبدالسلام عمر کے بیٹے تھے۔ اس کے علاوہ ایک سائنس سوسائٹی تھی۔ دونوں مجالس کے اجلاس بڑی باقاعدگی سے ہوتے تھے۔ ہماری کلاس جو اس کالج کی دوسری کلاس تھی اس میں قادیان کے متصل ایک گاؤں رجادہ میں آریوں کا Dianand Anglo Vernacular DAV سکول قائم تھا، کے آٹھ دس ہندو سکھ اور ایک غیر احمدی لڑکا بھی تھے وہ بھی تعلیم الاسلام کا لج میں داخل ہوئے ان میں سے ایک لڑکے کا نام حکومت رائے تھا۔اس سے تو میری ملاقات ۱۹۴۶ء میں ہوئی اور ایک جس کا نام بھگت سنگھ سندھو تھا اور جو پارٹیشن کے بعد سپیشل پولیس میں بھرتی ہو گیا تھا اور تھری ناٹ تھری ہاتھ میں لیے ہوئےاور جو کتا پھرتا نظر آتا اس پر فائر کرتے ہوئے اپنے نشانہ کی مشق کر رہا تھا جب ہمارے گھر میں داخل ہوا تو میرا ہم جماعت ہونے کے ناطے مجھے ایک زوردار چپت لگانے پر اکتفا کرتے ہوئے گھر کی کچھ اشیا جو اسے پسند آئیں لیتے ہوئے چلا گیا۔ بعد میں مجھے حکومت رائے نے بتایا کہ وہ جلد ہی جوانی میں مرگیا تھا۔ باقی کسی کا مجھے کچھ یاد نہیں کہ کون کون تھے اور بعد میں ان کا کیا ہوا۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو احمدی نوجوانوں کی تعلیم کا بہت خیال رہتا تھا۔ چنانچہ ۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک کے بعد گو کہ مالی مشکلات بہت تھیں پھر بھی تعلیم الاسلام کالج کا دوبارہ اجرا کر دیا گیا۔ اس کے لیے ایک ڈیری فارم کی بلڈنگ الاٹ ہوئی۔ اور اسی مناسبت سے اس میں جانوروں (گائے بھینسوں کے لیے کثیر تعداد میں پختہ کھرلیاں تعمیرتھیں اور جانوروں کی رہائش کی جگہیں بھی تھیں۔ اس کے علاوہ ایک دو کمرے ان کی دواؤں اور سٹور کے لیے تھے جہاں اس کے امور کے لیے دو دفتر کے لیے بھی تھے۔ یہ نہر کے کنارے کینال پارک میں واقع تھی اب یہ علاقہ گلبرگ میں شامل ہو گیا ہے)۔ اس جگہ کو کالج کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت یہ تھی کہ اس کے ساتھ ایف سی کالج کی عمارت تھی جس کے اکثر ا ستاد تقسیم ہند کی وجہ سے ہندوستان جا چکے تھے۔ صرف فزکس کے ایک استاد Dr. Stere موجود تھے۔ اور اب باقی مضامین کا آرٹس کا کچھ عملہ تو تھا لیکن سائنس کے پڑھانے کے لیے عملہ موجود نہ تھا۔ اورہمارے پاس سائنس کے استادتو تھے لیکن لیبارٹریاں، لائبریری، کامن روم نہ تھے۔ چنانچہ ایف سی کالج کے ساتھ معاہدہ کر لیا گیا کہ ان کی عمارت کی سہولیات لیبارٹریاں اور کلاس روم وغیرہ میں سہولیات ان کی اور اساتذہ ہمارے کے ساتھ مشترکہ کلاسیں ہوا کریں۔ مجھے یاد ہے کہ ان کے کیمسٹری کے ایک طالب علم کی نوٹ بک پر طالب علم کا نام کچھ اس طرح پر لکھا تھا Eisen Oscar Kazmi جسے پڑھ کر میں نے اسے عیسائی سمجھا لیکن جب کیمسٹری کے مضمون کی بنیاد Structure of atom پر رکھ کر تعلیم شروع ہوگئی تو اس کی کتاب کے پہلے صفحہ پر یہ نام اس طرح لکھا ہوا پایا ’’احسن اصغر کا ظمی‘‘ تو مجھے اپنے ہم جماعت کا خیال آیا اور پتا چلا کہ و ہ عیسائی نہیں بلکہ مسلمان ہے۔
گورنمنٹ آف پنجاب کے وزیراعلیٰ اس وقت میاں ممتاز دولتا نہ تھےجو ہمارے کالج کے پرنسپل حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ کے لندن میں کلاس فیلو رہ چکے تھے۔ جب بھی صاحبزادہ صاحب کسی پلاٹ کی الاٹمنٹ کا کہتے تو کوئی عمارت دینے کا وعدہ کر دیتے مگر وعدہ خلافی کرتے۔ایک دفعہ اسی طرح ہمیں سکھ نیشنل کالج کی عمارت الاٹ بھی کی اور ہماری کلاسیں بھی چار پانچ روز ہوتی رہیں اور ہمیں یہ عمارت بہت پسند آئی اور کچھ اس لیے بھی کہ تعلیم الاسلام کالج قادیان کی عمارت ہندوستان میں سکھ نیشنل کالج کو الاٹ کر دی گئی۔ یہ عمارت جس کو ہم نے بہت موزوں پایا تھا اس وقت کے انجینئرنگ کالج جس کا اس وقت نام’’میکلینگن کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ تھا اس کالج کا انیکسی بلاک کہلایا۔ اب تو یہ کالج یونیورسٹی میں ترقی پا چکا ہے اور اس کا موجودہ نام ’’پنجاب انجنیئرنگ یونیورسٹی‘‘ ہے۔
چنانچہ چار پانچ دن خوشی کے دن گزار کر ہم واپس اپنی پرانی جگہ کینال پارک کی کھرلیوں والی عمارت میں آگئے اور FC کالج میں کافی عرصہ تک مشترکہ انتظام کے ساتھ رہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب پہلے دن ہم اس کھرلیوں والی عمارت میں آئے تھے تو اس عمارت کے چھت پر دو صفیں بچھا دی گئی تھیں اور ہر صف کے آگے ایک ایک کرسی استاد کے لیے رکھ دی گئی تھی۔ سائنس کے طلبہ ایف سی کالج میں تاروں کا جنگلا پھاند کر مشترکہ کلاسوں کے لیے چلے جاتے اور علم کا حصول دونوں کا لجوں میں جاری رہا۔ بورڈرز کے لیے کیا سامان کیا گیا تھا، میرا خیال ہے ایف سی کالج والوں نے ہی ان کی میزبانی کی۔
غالباً ایک دو سال بعد ہمیں D.A.V. College کی عمارت الاٹ کی گئی جو اس سے پہلے ہندوستان کے کیمپ کے طور پر استعمال ہوتی تھی اور کیمپ اس عمارت میں ہونے کے باعث کھانا پکانے کے لیے ہر قسم کی لکڑی،کیمپ میں مقیم افراد نے تو جلالی تھی۔ حتیٰ کہ الماریاں ،کھڑکیاں، روشندان،کلاس تھیٹر بلکہ جب یہ نہ رہے تو کئی کمرے گرا کر ان کی لکڑی بھی ایندھن کا حصہ بن گئی تھی۔ پتہ نہیں دوبارہ ٹھیک کرنے کا خرچ کس نے اٹھایا جماعت نے یا حکومت نے مدد کی۔ بہر حال کالج کسی حد تک اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا تھا۔
حضورؓ کو ہمیشہ یہ خیال رہتا تھا کہ لوگ بےکار نہ رہیں۔ اور اگر تعلیم حاصل نہ کر سکے ہوں تو کوئی نہ کوئی پیشہ ضرور اپنائیں۔ جس کے ذریعہ روزی کمائیں۔ اس غرض سےحضورؓ نے قادیان میں ایک ادارہ کی بنیاد رکھی جس کا نام دارالصناعت تجویز فرمایا۔ یہ ادارہ ایک وسیع و عریض دو منزلہ عمارت میں قائم کیا گیا تھا جو حضرت حکیم فضل الرحمٰن صاحب مبلغ مغربی افریقہ کی ملکیت تھا اور محلہ دار الفضل میں واقع احمد یہ فروٹ فارم کے قریب تھا۔ احمد یہ فروٹ فارم کا انتظام حضرت صاحبزادہ مرز ابشير احمد صاحبؓ کے سپرد تھا۔ یہ سب بھائیوں کی مشترکہ ملکیت تھا۔ اس فارم میں قسما قسم کے قلمی آموں کے درخت تھے جن کاپھل ہر سال نیلام ہو کر بڑے بڑے شہروں کو جاتا تھا۔ ان آموں کے درختوں کے درمیان دورانِ سال برسیم چاره بودیا جاتا تھا جو ایک دفعہ کاٹنے کے بعد پھر بڑھ جاتا تھا اور اس طرح چھ سات فصلیں کاٹی جاتی تھیں۔
آج کل یہ حکومتِ ہندکی ملکیت ہے اور یہاں آموں کی مختلف قسموں پر ریسرچ کی جاتی ہے۔
میرے نانا حضرت مولوی محمد عبد الله بوتالویؓ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور ان کے دو بیٹےمولوی عبدالرحمٰن انور صاحب اور حافظ قدرت اللہ صاحب مبلغ انگلستان، ہالینڈ و انڈونیشیا اور داماد محترم ابو العطاء صاحب جالندھری واقف زندگی تھے۔ نیز بڑے داماد خان صاحب قاضی محمد رشید صاحب کو بھی وقف کی توفیق بطور وکیل المال ثالث حاصل ہوئی۔ حضرت مولوی محمد عبد اللہ بوتا لویؓ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضور نےدار الصناعت کے ہاسٹل کا سپرنٹنڈنٹ مقرر فرمایا تھا۔
دارالصناعت میں جن کاموں کو سکھایا جاتا تھا وہ تین تھے۔ ایک شعبہ میں جفت سازی کا کام سکھایا جاتا تھا۔ جس کے لیے ایک ماہر کاریگر کو آگرہ یا کانپور سے ٹریننگ دینے کی غرض سے بلایا گیا تھا جن کا نام ’’خوشحالی رام‘‘ تھا۔ بہت با مذاق آدمی تھے۔ طرز اور رہن سہن، پور بیوں والا تھا۔ قدرے نیچے کو جھکی ہوئی بڑی بڑی مونچھیں، دبلا پتلا جسم ، ناریل کا حقہ یا چِلَم پیتے تھے۔ چونکہ یہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اس لیے مجھ سے اپنے بیٹے ’’گھاسی رام‘‘ کو خط لکھوایا کرتے تھے۔ یہ نام عجیب ہونے کی بنا پر یاد رہا۔ان کی رہائش بھی ہاسٹل میں ہی تھی۔
دوسرے شعبہ میں لکڑی کا کام اور فرنیچر بنانا سکھایا جاتا تھا۔ اس شعبہ کے انچارج میاں نذیر محمد صاحب تھے جو لکڑی کے کام کے بہت اچھے کاریگر تھے۔جب ۱۹۵۴ء میں ربوہ میں تعلیم الاسلام کالج کی عمارت تعمیر ہوئی تو لیبارٹریوں کی میزیں، فرنیچر اور لکڑی کا دوسرا کام انہی کی زیر نگرانی کیا گیا جو بہت معیاری اور عمدہ تھا۔ میاں نذیر محمد صاحب منور احمد میاں صاحب (حال کینیڈا) کے والد محترم تھے۔ دار الصناعت قادیان میں عام بڑھئی کے کام کے علاوہ فرنیچر کی تیاری کا کام بھی سکھایا جاتا تھا اور وہاں نہایت اعلیٰ درجہ کا فرنیچر بھی تیار ہوتا تھا جس کی تیاری میں دیار، شیشم اور ساگوان کی لکڑی استعمال کی جاتی تھی۔اسی شعبہ میں کرسی وغیرہ بید سے بُننا اور فرنیچر پالش کا کام میاں غلام قادر صاحب کیا کرتے تھے۔
تیسرے شعبہ میں لوہے کا کام سکھایا جاتا تھا۔ اس کے دو حصے تھے۔ ایک میں عام لوہار کا کام اور دوسرے میں چاقو بنانے سکھائے جاتے تھے۔ چاقوؤں والے حصہ کے انچارج محمد رفیق صاحب تھے جو فیروز پور کے چاقوؤں کے مشہور کارخانہ ’’مستری چراغدین اینڈ سنز ‘‘ میں کام کرتے رہے تھے۔ آپ میرے ہم جماعت محمد سعید احمد صاحب انجینئر کے والد محترم اور تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے اردو کے پروفیسر اور شاعر مبارک احمد عابد صاحب کے چچا تھے۔ دار الصناعت تین چار سال کے بعد بند ہوگیا۔
اسی دار الصناعت کے ذکر میں ایک واقعہ کا بیان دلچسپی سے خالی نہ ہوگا اور وہ واقعہ یوں ہے کہ ایک روز جب میں دارالصناعت میں گیا تو وہاں میں نے ایک سرخ و سفید خوش شکل لڑکے کو دیکھا جو مجھ سے تین چار سال بڑا معلوم ہوتا تھا۔ اس نے عمدہ قطع کا لباس پہن رکھا تھا جو اس پر بہت جچ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ کی انگلی سے خون بہ رہا تھا جس کو بند کرنے کے لیے دوسرے ہاتھ سے دبا رکھا تھا۔ زخم کی وجہ کوئی تیز دھار آلہ تھا۔ کسی نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ تو اس نے عجیب لہجہ میں جواب دیا کہ ’’انگل وڈھی گئی‘‘ مجھے اس کا لہجہ بہت عجیب لگا جو اس کی شکل اور لباس سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ میں کبھی اس کے چہرہ اور لباس کو دیکھتا اور کبھی اس کے لہجہ کی طرف توجہ دیتا تومجھے دونوں میں کوئی مطابقت نہ دکھائی دی۔ مجھے اس وقت تو کچھ معلوم نہ تھا کہ یہ لڑکا کون ہے البتہ یہ راز مجھ پر بہت بعد میں اس وقت کھلا جب پارٹیشن کے بعد مَیں لاہور میں تعلیم الاسلام کالج میں تعلیم حاصل کررہا تھا اور ایک روز ہمارے کالج میں محترم پروفیسر عبد السلام صاحب جو اُس وقت گورنمنٹ کالج لاہور میں ریاضی کے شعبہ کے صدر تھے ایک لیکچر دینے کے لیے تشریف لائے۔ انہیں دیکھتے ہی مجھے احساس ہوا کہ یہ تو وہی لڑکا ہے جس نے کہا تھا ’’انگل وڈھی گئی‘‘۔ بعد میں اس بات کا بھی علم ہوا کہ محترم پروفیسر عبدالسلام صاحب حکیم فضل الرحمٰن صاحب کے بھانجے ہیں جن کی ملکیتی عمارت میں دارالصناعت قائم کیا گیا تھا۔
قادیان میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے قریب مسجد نور تھی۔ اس کے پیچھے جامعہ احمدیہ کی عمارت تھی۔ اس عمارت میں داخل ہونے والا گیٹ بہت سادہ تھا اس کے کوئی کواڑ نہ تھے۔ بس اینٹوں کے دو ستون کھڑے تھے اور ان دو ستونوںکے درمیان ایک نصف دائرہ میں جِستی چادر جوڑ دی گئی تھی جس میں چھینیوں سے کاٹ کر کچھ عبارتیں کندہ کی گئی تھیں در میان میں الجامعة الاحمدیہ تحریر تھا اور اس کے ایک طرف یاتیکَ مِن کُل فجٍّ عمیق اور دوسری طرف یا تون من کِل فَجٍّ عمیق درج تھا۔
ان دِنوں جامعہ احمدیہ کے پرنسپل حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحبؓ تھے اور اکثر ہم انہیں جامعہ میں آتے اور جاتے دیکھا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد وہ ریٹائرڈ ہوگئے اور ان کی جگہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ پرنسپل مقرر ہوئے۔ جب ۱۹۴۴ء میں کالج کی ابتدا ہوئی تو وہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عمارت میں ہوئی اور ہائی سکول کو پرائمری سکول میں منتقل کردیا گیا۔ جامعہ کی عمارت کے متصل خالی زمین پر کچی اینٹوں سے کالج کا ہاسٹل تعمیر کیا گیا کیونکہ جنگ کی وجہ سے پختہ اینٹیں دستیاب نہ تھیں۔
ایک زمانے میں ہندوؤں سے کوئی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ایک آدمی جماعت احمدیہ کا بنارس میں جا کر کچھ عرصہ رہے گا اور ایک آدمی ہندوؤں کا قادیان میں آکرر ہے گا اور ایک دوسرے کی مذہبی تعلیم حاصل کرے گا۔ چنانچہ ہماری طرف سے ایک احمدی دوست جن کا نام مجھے یاد نہیں رہا لیکن ان کا حلیہ ابھی تک یاد ہے، وہ دبلے پتلے تھے اور قادیان کے ایک ملحقہ گاؤں جس کا نام ’’نواں پنڈ‘‘ تھا کے باشندہ تھے بنارس میں گئے اور ہندوؤں کی طرف سے ایک نوجوان قادیان میں آئے اور اسلام کی تعلیم حاصل کی۔ اور جب وہ دونوں اپنی اپنی تعلیم مکمل کر چکے تو جو ہندو دوست قادیان آئے تھے جو مسلمان ہوگئے اور بس قادیان کے ہی ہو گئے اور اسلام کے لیے زندگی وقف کر دی اور وہ مہاشہ محمد عمر کے نام سے مشہور ہوئے۔ اور جو احمدی بنارس گئے تھے وہ جب قادیان پہنچے تو اکیلے نہیں آئے بلکہ اپنے استاد کو بھی جو ان کی تبلیغ سے مسلمان ہو چکے تھے، ساتھ لے کر آئے۔ ان کے استاد کا اسلامی نام حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ’’عبد اللہ بن سلام‘‘ رکھا۔ وہ ادھیڑ عمر کے تھے چہرے پر داڑھی کافی بڑی تھی اور ایک چوغہ پہنا ہوا تھا۔ ان کا قد ذرا چھوٹا تھا۔ کچھ عرصہ تک تو ہم انہیں قادیان میں دیکھتے رہے مگر بعد میں نظر نہیں آئے۔
۱۹۴۶ء میں جب ملک میں فسادات شروع ہو رہے تھے قادیان کی حفاظت کے لیے میجر چودھری شریف احمد باجوہ صاحب کو حفاظت کا افسر بنایا گیا۔ وہ حفاظتی تدابیر سکھاتے تھے۔ پریڈ اور کئی قسم کی آگاہی کے لیے تدابیر بھی بتاتے تھے۔ ہر محلہ سے دو دو افراد کی پہرہ قصر خلافت، مرکزی دفاتر اور دارالمسیح کے لیے باری آتی تھی۔ جب میری عمر پندرہ سال ہو گئی اور میں مجلس خدام الاحمدیہ میں شامل ہوگیا تو میری بھی پہرہ کی باری آنے لگ گئی۔ ایک دفعہ آدھی رات کو قصرِخلافت کی اوپر کی منزل کی کھڑکی کھلی اور حضورؓ نے پہریدار کے الفاظ سے مخاطب کرکے کوئی کام بتایا۔چنانچہ وہ کردیا کیونکہ اس وقت میں پہرہ پر تھا۔ جلسہ سالانہ اور جمعہ کے موقع پر حضورؓ کی حفاظت کے لیے خان میر خان صاحب افغان کے علاوہ سردار نذر حسین صاحب بلوچ کو تلوار کے ساتھ اور میاں غلام محمد صاحب اور چودھری اسداللہ خان صاحب کو پستول کے ساتھ پہرہ کے لیے اکثرمیں نے دیکھا ہے۔
حضورؓ کو نوجوانوں کی صحت کی بڑی فکر رہتی تھی۔ اس سلسلےمیں گتکا کو عام کرنے کی کوشش کی۔ گتکا کیا تھا؟ یہ ایک قسم کی تلوار بازی کی مشق تھی۔ فرق بس اتنا تھا کہ تلوار کی بجائے بانس یا بید کا ڈنڈا ہوتا تھا جس کی لمبائی قریباً تین ساڑھے تین فٹ ہوتی تھی۔ سکھانے کے لیے مالا بار کا ایک شخص مقرر تھا۔
اسی طرح نوجوانوں کے لیے نیم فوجی ٹریننگ کے لیے تنظیم ’’احمدیہ نیشنل لیگ کور‘‘ کے نام سے بھی تیار کی جن کی خاکی وردی قمیض اور نیکر، لمبی جرابیں اور سیاہ بوٹوں پر مشتمل تھی۔ نیکر کے اوپر چوڑی پیٹی پولیس والوں کی طرح باندھتے تھے۔ سر پر خاکی رنگ کی پگڑی۔ روزانہ عصر کے بعد بگل بجایا جاتا تھا۔ سب ممبر ا کٹھے ہو جاتے اور پریڈ وغیرہ کرتے۔ دارالواقفین کے لیے غالباً اس میں شامل ہونا ضروری تھا۔ میرے جاننے والے جو اس کور کے ممبر تھے وہ میرے ماموں حافظ قدرت اللہ صاحب، چودھری محمد صدیق صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب حلالپوری تھے۔
سائقوں کے نظام کو بہت بہتر کیا گیا۔ کئی دفعہ صدر خدام الاحمدیہ کو حضورؓ حکم دیتے کہ قادیان کے سب خدام پورے اتنے وقت کے اندر اندر فلاں جگہ اکٹھے ہو جائیں۔ صدر خدام الاحمدیہ فوراً اپنے ماتحتوں کے ذریعے ہر محلہ کے زعیم کو پیغام دیتے۔ زعیم اپنے سب سائقوں کو مطلع کرتا تھا اور تمام سائقین اپنے حزب کو اطلاع دیتے تھے اور قریباً سب خدام اس طرح قریباً قریباً وقت مقرر پر تیز رفتاری سے پہنچ جاتے تھے۔
ایک دفعہ ایک اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ کے موقع پر جب کبڈی کا میچ ہو رہا تھا اور حضورؓ بھی دیکھ رہے تھے۔ایک موقع پر کچھ لوگوں نے داد دینے کے لیے تالیاں بجا دیں تو حضورؓ ناراض ہو کر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور سزا کے طور پر سب شاملین سے تین تین روزے رکھوائے۔
حضورؓ کو سادہ مگر رواں تلاوت قرآن مجید پسند تھی۔ جس میں کوئی تصنع نہ ہو۔حضورؓ کے پسندیدہ احباب محترم ماسٹر فقیر اللہ صاحب، مکرم صوفی غلام محمد صاحب آف ماریشس اور حافظ مسعود احمد صاحب تھے۔
حضورؓ نے اسلامی طرز پر ’’مواخات ‘‘ کا سلسلہ بھی جاری کیا تھا۔ اور تو کسی کا میں جانتا نہیں لیکن ایک جوڑے کو جانتا ہوں جو تاعمر سگے بھائیوں کی طرح رہا۔ اور وہ ہیں میرے ماموں عبدالرحمٰن انور صاحب اور محمد یعقوب صاحب (والد ماجد مکرم خالد سیف الله صاحب سابق نائب امیر آسٹریلیا)
جلسہ سالانہ کے موقع پر دوسرے دن کی تقریر جب شروع ہوتی تو لوگ کھانے کے لیے خشک فروٹ، ریوڑی، مونگ پھلی اور سنگترے وغیرہ لے کر اور ضروریات سے فارغ ہو کر کمبل اور لوئی وغیرہ لے کرآتے تھے تاکہ آسانی سے سیر روحانی کی تقریر دلجمعی سے سن سکیں۔ بہت سے علم دوست احباب کاپی پنسل بھی لاتے تاکہ تقریر کے پوائنٹ لکھ سکیں۔ اپنے والد صاحب کی ہدایت پر میں بھی کاپی پنسل لاتا اور تقریر کے اپنے پسندیدہ نوٹس بھی لکھتا جس سے میرے علم میں کافی اضافہ ہوا۔
حضرت مرزا عزیز احمد صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے انہوں نے اپنے دو بیٹوں مرزاسعید احمد صاحب اور مرزا مبارک احمد صاحب کو اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن بھجوایا ہوا تھا۔ ان میں سے مرزا سعید احمد کی وفات ہو گئی اور ان کا جنازہ لکڑی کے ایک تابوت میں لایا گیا جس کے اوپر جستی چادر چڑھا کر اسے سیل کیا ہوا تھا اور عین چہرہ کی جگہ پر ایک شیشہ کی پلیٹ لگی ہوئی تھی جس سے ان کا چہرہ دیکھا جا سکتا تھا اور اس تابوت کو ایک آموں کے باغ میں رکھ دیا گیا تھا تاکہ جس نے چہرہ دیکھنا ہو وہ وہاں آکر دیکھ لے۔ تابوت میں ایک احتیاط یہ کی جاتی تھی کہ اس سے ہوا نکال کر سیل کر دیا جاتا تھا تاکہ نعش ٹھیک حالت میں رہے کیونکہ ان دنوں کا سفر بحری جہازوں میں ہوتا تھا جن کو برطانیہ سے ہندوستان پہنچنے میں کئی مہینے لگ جاتے تھے۔ چہرہ دیکھنے کے لیے قادیان کے سب محلہ جات سے لوگ پہنچے ہوئے تھے۔ میں بھی ان میں سے کسی کے ساتھ پہنچ گیا۔
اس کے کچھ عرصہ بعد دوسرے بھائی مرزا مبارک احمد صاحب بھی قضائے الٰہی سے وفات پا گئے اور ان کا تابوت بھی اسی طرح قادیان آگیا۔
ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ لاہور گئے ہوئے تھے اور شیخ بشیر احمد صاحب جو لاہور کے امیر جماعت تھے، کے گھر ٹمپل روڈ میں فروکش تھے آپ کواللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت ہوئی کہ آپ ہی وہی مصلح موعود ہیں جن کے بارے میں رسالہ سبز اشتہار میں بشارت دی گئی تھی۔ چنانچہ قادیان پہنچنے کے بعد اگلے جمعہ کے خطبہ میں آپ نے اس بات کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد آپ نے چار شہروں ہوشیار پور۔ لدھیانہ۔ دہلی اور لاہور میں جلسے کیے۔ خوش قسمتی سے مجھے ان جلسوں میں سے ہوشیار پور اور لاہورکے جلسوں میں شمولیت کی توفیق ملی۔ اس کے بعد نوجوانوں کو آپ نے زندگی وقف کرنے کی تحریک کی۔ اللہ تعالیٰ نےمحض اپنے فضل سے مجھے بھی ۴؍جولائی ۱۹۴۴ء کو وقف کرنے اور پھر اس کو نبھانے کی توفیق بخشی۔ فالحمدلله على ذالك۔
قادیان میں مسجد اقصیٰ میں جس خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مصلح موعود ہونے کا اعلان کیا یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں بھی اس جمعہ میں حاضر تھااور میں نے یہ خطبہ سنا۔ اس خطبہ میں جہاں اَور باتیں بیان فرمائیں وہاں نوجوانوں کو وقفِ زندگی کی تحریک بھی کی۔ جس کے بعد آنے والے دنوں میں زندگی وقف کرنے والوں کا ایک تانتا بندھ گیا۔ اسکول کی سینئر کلاسوں کے بہت سے طلبہ نے اپنے آپ کو وقف زندگی کے لیے پیش کردیا اور ہر روز اخبار میں ان وقف کرنے والوں کی فہرست شائع ہونی شروع ہو گئی۔ میرے اندر بھی وقفِ زندگی کی خواہش پیدا ہوئی اور میں نے بھی معابده وقف زندگی کا فارم حاصل کیا۔ لیکن جب غور سے اس کا مطالعہ کیا تو مجھے اس کی شرائط بہت سخت لگیں اور میں کچھ ڈر گیا اور وقف کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ اس کی ایک دوسری وجہ یہ ہوئی کہ میرے علم میں یہ بات آئی کہ بعض لوگ جنہوں نے وقف کیا تھا لیکن بعد میں کسی وجہ سے اس پر قائم نہ رہ سکے تو ان میں سے بعض کو اخراج از جماعت اور بعض کو مقاطعہ کی سزا دی گئی۔ اس دوران میرے والد صاحب اور اساتذہ نے بھی مجھے بہت تحریک کی لیکن میں وقف پر آمادہ نہ ہوا۔ لیکن اس تمام عرصہ میں میرا نفس مجھے ملامت کرتا رہا اور مجھے دعا کا موقع ملا۔ آخر کار محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرا انشراح صدر ہو گیا اور میرے دل نے کہا کہ تم نے وقف کسی دفتر کے لیے نہیں کرنا نہ ہی جماعت کے لیے کرنا ہے اور نہ ہی خلیفہ وقت کے لیے کرنا ہے۔ اگر کرنا ہے تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کرنا ہے۔ مجھے اس خیال سے بہت تقویت ملی اور میں نے وقف کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا اور اس غرض سے دفتر تحریک جدید میں پہنچ گیا۔ وہاں دفتر تحریک جدید کے انچارج میرے ماموں مکرم مولوی عبدالرحمٰن انور صاحب تھے جنہیں بعد میں حضرت خلیفةالمسیح الثانیؓ اور حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری ہونے کا اعزاز و شرف حاصل ہوا۔ ان کی طبیعت میں صاف گوئی بہت تھی اور جس چیز کو صحیح سمجھتے تھے اس کا اظہار برملا کرنے سے نہ گھبراتے تھے۔ جب میں نے ان سے فارم مانگا تو مجھ سے یہ فرمایا کہ یہ نہ سمجھنا کہ یہاں ماموں موجود ہے فیصلہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر کرو۔ مَیں نے کہا کہ میں اچھی طرح سوچنے کے بعد ہی یہاں آیا ہوں اور یہ تاخیر بھی اسی وجہ سے ہوئی ہے۔ یہ سن کر کہا: الحمدللہ اور فارم مجھے دے دیا۔ (ریکارڈ کے مطابق میرا وقف فارم ۱۴؍جولائی ۱۹۴۴ء کا ہے) میرا خیال تھا کہ میں نے وقف کرنے میں بہت زیادہ تاخیر کی تھی لیکن کسی اَور تعلق میں میرے علم میں یہ بات آئی کہ دو تین ماہ سے زیادہ تاخیر نہیں ہوئی۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ واقفین کے ریکارڈ کا جو رجسٹر موجود ہے اس میں میرا نمبر ۴۵؍ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی مشاہدہ کیا کہ میری کلاس کے جتنے لڑکوں نے وقف کیا تھا بعد میں کوئی بھی عملی میدان میں نہ آسکا۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جماعت نے جنگِ عظیم دوم کے اختتام پر دو ہوائی جہاز خریدے تھے۔ ان سے بہت فائدہ اٹھایا گیا۔ تقسیمِ ہند کے وقت گِھرے ہوئے مسلمانوں کو کھانا پہنچانا، ضروری ریکارڈ اور خزانہ وغیرہ کی پاکستان منتقلی انہی جہازوں کے ذریعہ ہوتی تھی۔
محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد مبارک قادیان کی چھت پر روزانہ مغرب کی نماز کے بعد ایک درس جاری کیا جو مجلس عرفان کے نام سے مشہور ہوا۔ میں ان دنوں اپنے سکول تعلیم الاسلام ہائی سکول کی نویں جماعت میں پڑھتا تھا اور میری رہائش سکول کے ہاسٹل، موسومہ بہ ’’ہاسٹل تحریک جدید‘‘ میں تھی جس کے سپرنٹنڈنٹ مکرم صوفی غلام محمد صاحب تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی اور میرے ریاضی کے استاد بھی تھے۔ ہاسٹل کی بڑی کلاسوں کے طلبہ کو اس مجلس عرفان میں شامل کیا جاتا تھا اس لیے مجھے بھی اس مجلس عرفان میں شامل ہونے کا موقع ملتا رہا۔ نماز عشاء کے بعد اس کا اختتام ہوتا تھا جو اکثردیر سے پڑھی جاتی تھی۔
اسی دوران نمازِ مغرب سے پہلے نیچے مسجد میں کبھی جانے کا بھی موقع ملتا تو ایک لڑکے کو نماز میں مصروف پاتا وہ نہایت خشوع و خضوع سے نماز ادا کر رہا ہوتا تھا۔ اس کی نماز کی ایسی حالت دیکھ کر اس پر رشک آتا تھا۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ یہ حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کے صاحبزادے مرزا خورشید احمد صاحب ہیں۔
(جاری ہے)
٭…٭…٭



