صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۹)(قسط ۱۴۴)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

کالچیکم
Colchicum
(Meadow Saffron)

اس کے نمایاں اثرات میں شدید قسم کا گاؤٹ اور گاؤٹ کے دردوں کا جگہ بدلنا، کھانے کی بو سے سخت متلی اور انتڑیوں کا شدید تشنج ملتے ہیں۔ اس کے مریض کو سخت بودار اسہال بھی لگ جاتے ہیں۔ تمام عوارض اخراجات کے رکنے سے بہت شدید ہو جاتے ہیں۔ ٹھنڈے نم دار موسم میں تکلیفیں بڑھتی ہیں۔ خصوصاً اگر گردوں پر اثر پڑے اور پیشاب کی مقدار کم ہو جائے۔ اس طرح خارجی اثرات سے پسینہ بند ہونے کا بھی عوارض پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ نم دار سردی یا بالکل خشک گرمی میں تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ آنکھوں میں بھی گاؤٹ کے آثار ملتے ہیں اور دانتوں میں بھی خصوصاً دانتوں میں گاؤٹ کے مادے اکٹھے ہو جانے کی وجہ سے دانتوں کے اردگرد مسوڑھوں میں سخت درد شروع ہو جاتا ہے۔ (صفحہ۳۱۹)

ہاتھ پاؤں بازو اور ٹانگیں بائی یا گنٹھیا کے دردوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن سے جوڑوں میں سختی پیدا ہو جاتی ہے۔ بائی کی درد یں جگہ بدلتی رہتی ہیں اور عموماً رات کو بڑھتی ہیں۔ اس کے گاؤٹ یعنی گنٹھیا میں پاؤں کے انگوٹھے اور اس کے اردگرد کے عضلات متاثر ہوتے ہیں۔ جلد سرخ، سخت متورم، چمکیلی اور انتہائی زود حس ہو جاتی ہے۔ اتنی زیادہ کہ کپڑے کا لمس تک نا قابل برداشت ہو تا ہے۔ ایسے مریض اپنے بوٹوں کے چمڑے کو انگوٹھے کے اردگرد سے کٹوا لیتے ہیں تا کہ اگر چل کر باہر جانا ہو تو دردبرداشت کے دائرے میں رہے۔(صفحہ۳۲۱)

پیشاب: جب بھی پیشاب گہرے رنگ کا اور خون کی آمیزش والا یا نسواری سیاہی مائل اور تھوڑا ہو گا تو بائی کے دردمیں اور گنٹھیا کی تمام علامتیں زیادہ شدید ہو جائیں گی۔(صفحہ۳۲۱)

دل: اگر تیز دواؤں سے اسہال دبا دیے جائیں تو دل پر گنٹھیا کا حملہ ہو جاتا ہے اور تنفس کی سختی بھی محسوس ہوتی ہے۔ (صفحہ۳۲۱)

کولوسنتھ
Colocynthis

کولو سنتھ روز مرہ کی اچانک پیدا ہونے والی بیماریوں مثلاً پیٹ درد وغیرہ میں بہت مفید ہے۔(صفحہ۳۲۳)

کولو سنتھ میں درد دورے کی شکل میں آتا ہے۔ ہر دورہ پہلے دورہ سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔ درد آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ کولو سنتھ دینے سے فوراً آرام آتا ہے۔(صفحہ۳۲۳)

کولو سنتھ میں درد لہردر لہر اٹھتے ہیں۔ ہر اگلی لہر پہلی لہر سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے یہاں تک کہ مریض کی چیخیں نکل جاتی ہیں اور ہسٹیریا کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ کولوسنتھ کی چند گولیاں منہ میں رکھتے ہی سکون محسوس ہوتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں یہ خوبی ہے کہ یہ جلد آنے والی روز مرہ کی بیماری میں فوراً آرام پہنچاتی ہے۔ درد جس سرعت سے آتی ہے کولوسنتھ ہومیو پیتھک پوٹینسی میں دینے سے اس سرعت سے غائب ہو جاتی ہے۔ یہ کولو سنتھ کے دردوں کے عمومی مزاج ہیں۔ ٹکور اور دباؤ سے آرام۔ ایسے درد جسم میں کہیں بھی واقع ہوں ہر جگہ بلا توقف کولو سنتھ استعمال کریں۔ جب یہ دوا اثر کرتی ہے تو فوری سکون کے نتیجہ میں مریض سو جاتا ہے۔(صفحہ۳۲۴)

کونیم میکولیٹم
Conium maculatum
(Poison Hemlock)

کو نیم غدودوں کی سختی اور گانٹھوں کو تحلیل کرنے میں بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ جب تک یہ علامتیں بڑھ کر کینسر میں تبدیل نہ ہو جائیں عموماً ان غدودوں میں درد محسوس نہیں ہوتا۔ معدے کے کینسر میں کو نیم گو غیر معمولی اہمیت کی دوا ہے مگر وہاں بھی یہی مشکل پڑتی ہے کہ جب تک کینسر نہ بن جائے، معدہ میں پیدا ہونے والا کوئی درد کو نیم کی نشاندہی نہیں کرتا۔ اگر دیر ہو جائے تو کونیم صرف وقتی آرام دیتی ہے۔ اس کے دینے سے زندگی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے مگر اس وقت یہ کینسر کو جڑوں سے نہیں اکھیڑ سکتی۔ ہاں بعض دفعہ اتنا نمایاں فرق پڑتا ہے کہ لگتا ہے جیسے کینسر غائب ہو گیا ہو لیکن وہ غائب نہیں ہو تا بلکہ کچھ دیر کے لیے دب جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تین سے چار سال تک آرام کے دوران پھر ظاہر ہو جا تا ہے اور جان لیوا ثابت ہو تا ہے۔ اس لیے معدے کی علامتوں سے اس کی شناخت کی کوشش نہ کریں۔ ہاں کسی مریض میں کو نیم کی عمومی علامتیں پائی جائیں مثلاً کو نیم سے مشابہ چکر تو اسے بلا تاخیر شروع کر دینا چاہیے۔ اس کے نتیجہ میں کینسر کے حملہ کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہتا۔ کو نیم میں ٹھنڈ سے تکلیف بڑھتی ہے۔ جو غدود سوج جائے وہ وہیں اسی حالت میں رہ جاتا ہے، واپس اپنی پہلی حالت کی طرف نہیں لوٹتا۔ بعض دفعہ پیٹ میں ایسے درد کی لہریں دوڑتی ہیں جیسے چاقو سے کاٹا جا رہا ہو۔ زخموں کے اردگرد چھالے بن جاتے ہیں۔ گردن کے دونوں طرف سوجے ہوئے غدودوں کا سلسلہ پہلوؤں پر نیچے تک اتر تا جا تا ہے۔ ان میں ایسا مواد پیدا ہو تا ہے جو غدودوں کو سخت کر دیتا ہے اور بیماری بڑھتی رہتی ہے۔ اگر وہ ٹھیک بھی ہو جائے تو غدود پہلی حالت پر واپس نہیں آتے۔ بغلوں کے غدود بھی سوج جاتے ہیں اور ان میں زخم بننے کا رجحان ہو تا ہے۔ عورتوں کے سینے میں بھی چھوٹی چھوٹی گانٹھیں اور ابھار سے بننے لگتے ہیں۔ کو نیم میں ایک علامت برائیٹا کارب سے مشابہ بھی پائی جاتی ہے۔ برائیٹا کا رب میں جلد کے اندر چربی کی گلٹیاں بنتی ہیں جو بڑی ہو کر بہت بھدی اور بد زیب دکھائی دیتی ہیں۔ اگر وہ برائیٹا کارب سے ٹھیک نہ ہوں تودوسری دواؤں کی طرف توجہ کرنی چاہیے جن میں سے ایک کو نیم بھی ہے۔ کینسر کی گٹھلیاں جو جلد پر ظاہر ہو کر پھٹ جائیں ان کا بہترین مقامی علاج شہد کا لیپ کرنا ہے۔ شہد پر ہونے والی جدید تحقیق اس کی پر زور تائید کرتی ہے۔ قرآن کریم میں شہد میں پائی جانے والی جس غیر معمولی شفا کا ذکر ہے، شہد پر ہونے والی نئی تحقیق اس کے نئے نئے مشاہدات پیش کر رہی ہے۔جسم پر لرزہ، تشنجی جھٹکے، کمزوری اور چکر کو نیم کی عام تصویر پیش کرتے ہیں۔(صفحہ۳۲۶-۳۲۷)

جہاں کہیں بھی کونیم کی تکلیفیں پائی جائیں گی وہاں جلد کے سونے کا احساس بھی ضرور پایا جائے گا۔(صفحہ۳۲۸)

کروٹیلس ہری ڈس
Crotalus horridus
(Rattle Snake)

ہر قسم کے سانپوں کے زہر کے اثرات عموماً مزمن ہوتے ہیں اور یہ بہار کے موسم میں اپنا اثر دکھاتے ہیں سانپ بھی اس موسم میں جاگتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں آرام کرنے کے بعد تازہ دم ہو کر اٹھتا ہے تو بہت زہریلا ہو چکا ہو تا ہے۔ اگر اس کا کاٹا ہوا مریض بچ جائے اور زہر پوری طرح اس میں سرایت نہ کر سکا ہو تو اسی موسم میں جس موسم میں اسے کاٹا گیا ہو اس کا زہر پھر جاگ اٹھتا ہے اور بار بار ہر سال اپنا اثر دکھاتا ہے۔ بہار کے موسم میں وہ پرانے زخم بھی ہرے ہوجاتے ہیں جہاں کبھی سانپ نے کاٹا ہو اور وہ بیماریاں جو سانپوں کےزہر سے تعلق رکھتی ہیں سر اٹھانےلگتی ہیں۔بہار میں کئی قسم کی الرجیاں پیدا ہوجاتی ہیں جن کے علاج کے لیے لیکیسس(Lachesis)جو سانپ کے زہر سے تیار کی جانے والی دوا ہےفائدہ مند ہوتی ہے۔یہ دوا ہرایک مریض پر یکساں طور پر کام نہیں کرتی بلکہ بعض اور دواؤں کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔الیومینا اور سبا ڈیلا کے علاوہ کروٹیلس بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے لیکن لیکیسس اس اثر میں بہت نمایاں ہے۔(صفحہ۳۳۱-۳۳۲)

معمولی حرکت سے تھکاوٹ ہوجاتی ہے،فالجی کمزوریاں نمایاں ہوجاتی ہیں،خون کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور ہر اس جگہ سے نکلتا ہےجہاں بیرونی جلد اور اندورنی جھلیوں کے جوڑ آپس میں ملتے ہیں۔امراض اچانک بڑھ جاتی ہیں مثلاً فالج کا حملہ اچانک ہوجانا یا جسم کے کسی حصہ سےخون بہنے لگنا سانپ کے زہرکی یاد دلاتا ہے۔خون سیاہی مائل اور مائع صورت میں ہوتا ہے،جمتا نہیں ہے حالانکہ جسم کے اندر خون کی رگوں میں خون پھٹ کردہی کی پھٹکیوں کی طرح ہوجاتا ہے۔پس جو خون باہر نکلتا ہےوہ میلا کچیلا خون ملا پانی ہوتا ہے۔دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہےکہ بعض سانپوں کا زہر خون جماتا نہیں بلکہ پتلا کردیتا ہے۔یہ زہر خون سے زیادہ اعصاب اور نروس سسٹم (Nervrous System)پر حملہ آور ہوتا ہے۔(صفحہ۳۳۲)

جب بھی کسی خاص مرض کا حملہ ہو تو جسم پر موجود زخموں سے کالے رنگ کا بدبودار خون بہنے لگتا ہے۔خاص طور پر بہار کے موسم میں یہ کیفیت ہوتو کروٹیلس ہی دوا ہوگی۔(صفحہ۳۳۳)

مریض کو الکحل اور شراب پینے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔عادی شرابیوں کی عادت چھڑوانے کے لیے سلفیورک ایسڈ بہترین دوا ہے۔ایک قطرہ گلاس بھر پانی میں ڈال کردن میں تین دفعہ پلانے سے نمایاں فرق پڑتا ہے۔اگر مریض بہت موٹا ہو، چربی کی تہیں چڑھی ہوں، اسے تیز مصالحوں والی چیزوں کا جنون ہو اور شراب کی عادت بھی ہو تو ایسے مریضوں کی دوا کروٹیلس ہے۔(صفحہ۳۳۳۔۳۳۴)

کروٹیلس صرف عارضی اثر رکھنے والی دوا نہیں ہے بلکہ مزمن بیماریوں کے اثرات میں بھی مفید ہے۔ اگر تمام اعصابی نظام بگڑنے کے نتیجہ میں جسم کمزور ہو جائے، ہاتھ پاؤں کانپنے لگیں، نسبتاً بڑی عمر کے مریضوں کو رعشہ ہو جائے تو اس میں کروٹیلس مفید ہے بلکہ لازم دوا بن جاتی ہے۔کروٹیلس میں دائیں طرف سونے سے تکلیفیں بڑھتی ہیں۔(صفحہ۳۳۵)

کروٹن ٹگلیم
Croton tiglium
(Croton Oil Seed)

کروٹن کی جلدی علامات رسٹاکس سے ملتی جلتی ہیں۔ رطوبت سے بھرے ہوئے چھالے نکلتے ہیں ، خارش کے ساتھ جلن ہوتی ہے۔ کروٹن اور رسٹاکس میں ایک فرق یہ ہے کہ رسٹاکس میں جب ایک جگہ سے ایگزیما ختم ہو جائے تو وہاں صحت مند جلد نکل آتی ہے۔ اگلی دفعہ ایگزیما ہو نے پر دوبارہ وہاں چھالے نہیں بنتے۔ بعد ازاں کسی وقت ایگزیما کا نیا حملہ ہو تو سابقہ ماؤف جگہ پر بھی ہو سکتا ہے لیکن کروٹن میں اس جگہ جہاں جلد صحت یاب ہو چکی ہو دوبارہ چھالے نکل آتے ہیں اور بہت ضدی اور چمٹ جانے والا ایگزیما بن جا تا ہے ۔رسٹاکس اور کروٹن میں انتڑیوں پر اثر مشترک ہے۔ پرانی پیچش اور اسہال میں کروٹن بہت مفید ہے۔ اس کے اسہال کی ایک خاص پہچان جو اسے رسٹاکس اور اسہال کی دو سری ادویہ سے ممتاز کرتی ہے یہ ہے کہ کروٹن کے اسہال اچانک بہت زور سے شروع ہوتے ہیں۔ مثلا ًبچوں کو دودھ پیتے ہی زور کے اسہال آنے لگیں تو غالباً کروٹن ہی دوا ہو گی۔ کروٹن کی متلی اپی کاک سے مشابہ ہوتی ہے۔ اپی کاک میں صرف متلی ہوتی ہے۔ قے نہیں آتی۔ کروٹن میں بھی متلی ہوتی ہے لیکن قے نہیں آتی بلکہ اس کی بجائے اسہال شروع ہو جاتے ہیں۔ کروٹن میں پیٹ میں ہوا بھی ہوتی ہے اور انتڑیوں سے گڑ گڑاہٹ کی آواز بھی آتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اندر پانی بھرا ہوا ہو۔ معدہ میں بھوک اور خالی پن کا احساس ہوتا ہے۔ کروٹن میں جلد اور پیٹ کی علامتیں ایک دوسرے سے ادلتی بدلتی رہتی ہیں۔ (صفحہ۳۳۷۔۳۳۸)

کروٹن کی تکلیفیں گرمی کے موسم میں بڑھ جاتی ہیں۔ (صفحہ۳۳۹)

کروٹن میں ذرا سی چیز کھانے سے یا ماؤف جگہ پر لمس سے نیز رات کے وقت تکلیفوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ (صفحہ۳۳۹)

(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۸)(قسط ۱۴۳)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button