متفرق مضامین

حضرت مالک بن عوفؓ کے اشعار

(ذیشان محمود۔ مربی سلسلہ سیرالیون)

مالک بن عوفؓ، جو پہلے دشمنِ اسلام تھے پھر آپﷺ کے اخلاق سے اتنا متاثر ہوئے کہ ایمان لے آئے اور اپنی زبان سے آپ ﷺ کی بےمثال عظمت کا اعتراف کیا اور چشم دید شہادت پیش کی۔

فتح مکہ، فتح ھوازن اور اہلِ طائف سے مقابل مہمات کے متعلق مستشرقین کے جوابات میں حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ ایک اور اعتراض مارگولیس نے طائف کے سردار مالک بن عوف نصری کے بارے میں کیا ہے کہ اسے یعنی مالک بن عوف کو جبراً مسلمان بنا لیا گیا تھا۔… مارگولیس کا یہ اعتراض بالکل بے بنیاد ہے اور مستشرقین کے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے متعلق عمومی رویّہ کی مثال ہے کہ کس طرح اس رحمۃ للعالمین کی شفقت کے واقعہ کو بھی جبر کا رنگ دیا جاتا ہے جس کا حقیقت سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل سیرت ابن ہشام میں درج ہے کہ جب حضرت رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد ھوازن کی رحم کی اپیل قبول فرماتے ہوئے ان کے قیدی اور اموال انہیں واپس کر دیے تو جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے آپ کو طائف میں موجود سردار مالک بن عوف کا بھی خیال آیا اور آپ نے ان سے پوچھا کہ مالک بن عوف کا تو بتاؤ کہ اس کا کیا حال ہے؟ عرض کیا گیا وہ ثقیف کے ساتھ طائف میں ہے۔ تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی رحم کا ایک بار پھر مالک بن عوف کے حق میں مظاہرہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا کر اسے خبر کرو کہ اگر وہ اسلام قبول کر لے تو اس کے اہل و عیال اور مال اسے لوٹا دیے جائیں گے۔ اور اسی پر بس نہیں بلکہ فرمایا کہ اسے ایک سو اونٹ بھی دیے جائیں گے۔

یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فاتح ہیں کوئی غرض یا فائدہ مالک بن عوف سے آپؐ کو مطلوب نہیں ہےاور کسی بھی قانون کے تحت مالک بن عوف کے تعلق میں آپؐ ایک ذرّے کے بھی ذمہ دار نہیں ہیں لیکن اپنے ازلی جذبہ رحم کے ساتھ اسے اسلام قبول کرنے کا پیغام بھجواتے ہیں اور اس کے اہل و عیال اور مال اوراونٹ عطا کرنے کا وعدہ فرماتے ہیں۔

ادھر مالک کے دل میں بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام پہلے ہی گھر کر چکا تھا چنانچہ جب اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام ملا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے روانہ ہوا۔ طائف سے چل کر جعرانہ یا مکہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ ملے۔ مالک اب مسلمان ہو گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے اہل اور ان کے اموال اور مزید سو اونٹ عطا فرمائے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرتے وقت انہوں نے اشعار بھی کہے جن میں سے ایک شعر یہ تھا کہ

مَا اِنْ رَاَیْتُ وَلَا سَمِعْتُ بِمِثْلِہٖ

فِی النَّاسِ کُلِّھِمْ بِمِثْلِ مُحَمَّدٍ

کہ میں نے سب لوگوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا شخص نہ کبھی دیکھا ہے اور نہ کبھی اس پائے کے شخص کے متعلق سنا ہے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام صفحہ ۷۹۷ امر اموال ھَوَازِن و سبایاھا…دار الکتب العلمیۃ بیروت ۲۰۰۱ء )(خطبہ جمعہ ۳؍اکتوبر ۲۰۲۵ء)

سیرت ابن ہشام کے مذکورہ بالا حوالے میں کُل چار اشعار موجود ہیں جو حسبِ ذیل ہیں:

مَا إنْ رَأَيْتُ وَلَا سَمِعْتُ بِمِثْلِهِ

فِي النَّاسِ كُلِّهِمْ بِمِثْلِ مُحَمَّدِ

میں نے تمام انسانوں میں سے حضرت محمدﷺ جیسا شخص نہ توکبھی دیکھا ہے نہ ہی کبھی سنا ہے۔

أَوْفَى وَأَعْطَى لِلْجَزِيْلِ إذَا اُجْتُدِيَ

وَمَتَى تَشَأْ يُخْبِرْكَ عَمَّا فِي غَدِ

وہ پورا پور ا اور بڑا عطیہ دیتے ہیں جب بھی آپ کی خدمت میں کسی عطیہ کا مطالبہ کیا جائے اور جب تو چاہے گا وہ تجھے مستقبل یعنی کل کی خبر دیں گے۔

وَإِذَا الْكَتِيْبَةُ عَرَّدَتْ أَنْيَابُهَا

بِالسَّمْهَرِيِّ وَضَرْبِ كُلِّ مُهَنَّدِ

اور جب لشکر اپنے دانت خوب تیز کر لیتا ہے مشہور سمہری نیزوں اور ہندی تلواروں کی ضرب سے یعنی جنگ کے لیے ہتھیار بند ہو جاتا ہے۔

فَكَأَنَّهُ لَيْثٌ عَلَى أَشْبَالِهِ

وَسْطَ الْهَبَاءَةِ خَادِرٌ فِي مَرْصَدِ

(تُو تو اس وقت دیکھے گا ) گویا کہ وہ ایک بہادر شیرہیں جو اپنے بچوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ جو غبار کے درمیان میں بھی موجود ہے اور کچھار میں دشمن کی تاڑ میں بھی ہے۔ (گویا ہر جگہ چوکس ہیں)

یہ اشعار ہی ایک معترض کے لیے کافی و شافی جواب ہیں۔ حضرت مالک بن عوفؓ اسلام لاتے ساتھ ہی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ دنیا کے تمام لوگوں میں نہ کوئی آپ جیسا ہے، نہ کبھی کوئی سنا گیا۔ آپﷺ کی سیرت، کردار، گفتار اور اخلاق سب سے منفرد ہیں۔ یہ پہلا مصرعہ نبیﷺ کی جامع کمالات شخصیت کا اعلان ہے۔

مَا إِنْ رَأَيتُ وَلَا سَمِعْتُ بِمِثْلِهِ

حامي الظَعينَةِ فارِساً لَمْ يُقتَلِ

(https://www.aldiwan.net/poem23998.html)

یہ مصرع اسی قبیلہ ھوازن کے ایک باکمال جاہلی شاعر درید بن صِمَہ کے کلام کا ہے ۔ درید بن صِمَہ ایک عرب شاعر تھے جو قبیلہ بنو جُشم (ھوازن) سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اپنی شجاعت اور عرب کے نامور بہادروں میں شمار کیے جانے کے باعث مشہور تھے اور دورِ جاہلیت کے معمرین میں سے تھے۔ وہ بنوجشم بن معاویہ کے سردار، ان کے گھڑ سوار اور قائد تھے۔ انہوں نے تقریباً سو کے قریب جنگوں میں حصہ لیا اور کبھی شکست نہ کھائی۔ اتنی طویل عمر پائی کہ بھنویں آنکھوں پر گر آئیں۔ اسلام کا زمانہ پایا مگر ایمان نہ لائے اور حالتِ کفر میں غزوہ حُنین میں مارے گئے۔

تاہم مالک بن عوفؓ نے اس مصرعے کو رسول اللہﷺ کی شان میں حقیقی ممدوح کے لیے استعمال کیا۔ اگلے اشعار میں حضرت مالکؓ نے حضورﷺ کی سخاوت، ایفائے عہد اور علم کو سراہا ہے۔ آپﷺ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا، کسی مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹاتے، اور اللہ کے بتانے سے آپﷺ کو مستقبل کی خبریں بھی حاصل ہوتیں۔یعنی وہ آپﷺ کے اخبارِ غیبیہ کے معیار سے آپؐ کی نبوت کا اقرار کرتے ہیں۔ آپؓ اس بات سے متاثر ہیں کہ نبیﷺ نے اُن کے ساتھ وعدہ کیا اور اسے پورا بھی کیا۔وہ آپؐ کی شجاعت کو بھی بیان کرتے ہیں کہ جب جنگ کا وقت آتا، نیزے اور تلواریں چمکتیں، تو آپﷺ سب سے آگے ہوتے۔ دشمن کے مقابلے میں کبھی پیچھے نہ ہٹتے۔ آپﷺ کا مقام صرف رہنمائی کا نہیں بلکہ عملی قیادت کا تھا۔ آپؓ نبیﷺ کو ایک شیر سے نہایت خوبصورت تشبیہ دیتے ہیں کہ وہ بہادر، محافظ، اور اپنے ساتھیوں پر نگاہ رکھنے والے ہیں۔ میدانِ جنگ کے غبار میں بھی وہ پوری ہمت اور تیاری کے ساتھ دشمن پر نظر رکھتے ہیں۔

مالک بن عوفؓ، جو پہلے دشمنِ اسلام تھے پھر آپﷺ کے اخلاق سے اتنا متاثر ہوئے کہ ایمان لے آئے اور اپنی زبان سے آپﷺ کی بےمثال عظمت کا اعتراف کیا اور چشم دید شہادت پیش کی۔ ابتدائی مسلم عرب شعراء اور خصوصاً جاہلی شعراء کے قصائد میں خوشامد نہیں پائی جاتی اس لیے یہ اشعار ہی اس بات کا اقرار ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مالک بن عوف کو جبراً مسلمان نہیں بنایا تھا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: وہ چھاؤں چھاؤں سا اک سلسلہ ہمارے لیے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button