انسان کی قلیل زندگی اور عظیم الشان ذمہ داری
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۴؍جولائی ۱۹۳۹ء لوئر دھرم سالہ)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے احباب جماعت کو مختصر انسانی زندگی کی مثال دیتے ہوئے ان کی عظیم الشان ذمہ داروں کی طرف توجہ دلائی۔قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
ہر انسان نے مرنا ہے گو ہر انسان خیال یہی کرتا ہے کہ اس پر موت نہیں آئے گی۔ پیشتر اس کے کہ وہ اٹل گھڑی آجائے ہمیں اصلاح کی طرف قدم اُٹھانا چاہئے اور اپنے فرائض کو سمجھنا چاہئے اور اُن کی ادائیگی کے لئے پوری طرح کوشاں رہنا چاہئے
تشہّد،تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
اللہ تعالیٰ کے قانون میں ہمیں ہر جگہ ایک بیداری نظر آتی ہے صرف انسان ہی ایک ایسا وجود ہے جس میں سُستی اور غفلت پیدا ہو جاتی ہے اور اس پر اگر ہوشیار بھی ہوتا ہے تو دَورے آتے رہتے ہیں۔ اس کے خلاف ہم دیکھتے ہیں چاند ہے، سورج ہے، ستارے ہیں، درخت ہیں، پودے ہیں، جھاڑیاں ہیں ان چیزوں کے کاموں میں یا اور ہزاروں اور لاکھوں چیزیں ہیں، ان کے کاموں میں کبھی غفلت نہیں آتی۔ انسان کی زندگی دنیا کے مقابلہ میں کتنی حقیر ہے دنیا کی پیدائش کا اندازہ اربوں سال کا لگایا گیا ہے۔ اربوں سال کے مقابل انسان کی ساٹھ ستّر سال کی زندگی کیا حقیقت رکھتی ہے بلکہ ہمارے ملک میں تو ستائیس سال کی اوسط نکلتی ہے بعض ملکوں میں چالیس ہے اور بعض میں پینتالیس ہے۔ اربوں سال کے مقابلہ میں ساٹھ ستّر کیا چیز ہے پھر بچپن کی عمر ایک چوتھائی کے قریب اس میں سے نکل جاتی ہے اور ایک تہائی حصہ عمر کا سونے میں گزر جاتا ہے پھر چھ سات سال کھانے پینے وغیرہ حوائج میں نکل گئے۔ گویا بڑی سے بڑی عمر پانے والوں کو تیس سال کا عرصہ کام والا ملتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ گورنمنٹ پچپن سال پر پنشن دے دیتی ہے تو اس کے بعد کی عمر تو گننی نہیں چاہئے۔ گویا پچیس سال اَور نکل گئے اور عمر کے کام کرنے والے حصہ سے بھی دس سال نکل کر کام کا عرصہ پندرہ بیس سال کا رہ گیا مگر اس میں یہ کتنی دفعہ غلطیاں کرتا ہے، فرائض چھوڑتا ہے، غفلت سے کام لیتا ہے اور دو چار سال گزرتے ہیں تو کہتا ہے میں کتنے عرصہ سے کام کررہا ہوں اب مجھے آرام کرنا چاہئے حالانکہ دوسری چیزوں کے مقابل پر جن کو یہ خادم قرار دیتا ہے اس کا عمل کتنا حقیر ہوتا ہے۔ اگر انسانی عمل کو فوقیت دی جاتی ہے تو اس لحاظ سے کہ اس کا عقل کے ساتھ تعلق ہوتا ہے مگر بیسیوں دفعہ یہ کام کو ٹلا دیتا ہے۔ کبھی وقت پر حاضر نہیں ہوتا، کبھی اس وقت میں دوسرے کام کرنے لگ پڑتا ہے۔ اگر اس غفلت کے زمانہ کو نکال دیا جائے تو درحقیقت پانچ چھ سال کا زمانہ کام والا نکلتا ہے باوجود اس کے
اللہ تعالیٰ نے اسے اشرف المخلوقات بنایا ہے لیکن یہ قدر نہیں کرتا۔
میں سمجھتا ہوں کہ
انسان کو جو اتنی چھوٹی عمر دی گئی ہے تو یہ اس پر احسان کیا گیا ہے کہ اتنے لمبے عرصہ تک اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکتا اور اس کی کمر اس بوجھ سے ٹوٹ جائے گی
حا لانکہ دوسرے جانوروں کی عمریں لمبی ہوتی ہیں۔ امریکہ میں ایک کچھوا ہے جس کی عمر سینکڑوں سال سے زیادہ ہے اور اب تک وہ زندہ ہے۔ کہتے ہیں بعض کچھو وں کی عمر عموماًہزار ہزار سال ہوتی ہے اور بے جان چیزوں کی عمر کا توٹھکانہ ہی نہیں۔ تو
انسان کو اپنے اعمال میں ہمیشہ مدّ نظر رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اس کے ذمہ اہم کام ہیں
پھر کھانے پینے سونے میں عمر کا بہت سا حصہ صَرف ہو جاتا ہے، ایک حصّہ بچپن کا ضائع ہو جاتا ہے اور ایک حصہ بڑھاپے کا۔ گویا مثال مکئی کے پودے کی سی ہے کہ اس کا اوپر کا حصہ بھی ردّی ہوتا ہے اور نچلا حصہ بھی ردّی ہوجاتا ہے اور بیچ میں چند دانے ہوتے ہیں اور اسی طرح درمیان میں انسان کے لئے کام کا وقت آتا ہے اگر اس میں بھی وہ کام نہ کرے تو کتنے افسوس کی بات ہے جب کام کا وقت نکل گیا توسوائے پچھتانے کے اور کیا ہو سکتا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اگر وہ اس عرصہ میں کام کرتا ہے تو بہت عظیم الشان کام کر لیتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶۳سال عمر پائی ہے (بخاری کتاب المغازی باب وفاۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم) جو کہ زیادہ نہیں۔ ہر زمانہ میں سَوسوا سَو سال کی عمر پانے والے سینکڑوں لوگ پائے جاتے ہیں اور میں نے احمدیوں میں بھی کئی ایسے دیکھے ہیں۔ اس لحاظ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر نصف کے قریب بنتی ہے مگر
آپؐ نے اس تھوڑے سے عرصہ میں وہ عظیم الشان کام کیا جس کی نظیر نہیںپائی جاتی
آپ عظیم الشان اس لحاظ سے تھے کہ آپ نے سمجھا کہ میرے ذمہ عظیم الشان کام ہے آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ (المائدہ :۶۸) اور کسی کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے آپ کھڑے ہو گئے دنیا کے بد ترین ظلم جو ہو سکتے تھے آپ پر اور آپ کے صحابہؓ پر تو ڑے گئے۔قریب ترین احساسات ماں باپ کے ہوتے ہیں۔ ایک صحابی جن کی عمر پندرہ سولہ سال کی تھی اکلوتے بیٹے تھے جب ایمان لائے اور ان کی ماں کو پتہ چلا تو وہ روئی پیٹی اور برتن توڑ دئیے اور ان کے کھانے کے برتن الگ کردئیے کہ تمہیں کھانا الگ ملا کرے گا اور کہا کہ میں تمہاری شکل سے بیزار ہوں تم نے ہماری ناک کاٹ دی ہے اور پھر بھی جب اثر نہ ہوا تو انہیں کہا کہ گھر نہ آیا کرو اس پر انہوں نے ماں سے کہا گو مجھے آپ سے محبت ہے لیکن حق کے مقابل پر اس کی کوئی حقیقت نہیں پھر کئی سال باہر رہنے کے بعد واپس آئے لیکن ماں نے پھر بھی یہی کہا کہ میں تب گھر آنے دوں گی جب تم اسلام چھوڑ دو گے اس پر پھر وہ چلے گئے اور پھر ماں کو دیکھنا نصیب نہیں ہوا (انساب الاشراف ۔ الجزء التاسع۔ بنو عبدالدار بن قصی (مصعب بن عمیر)صفحہ ۴۰۶،۴۰۵۔ دارالفکر بیروت لبنان۔ الطبعۃ الاولیٰ۱۹۹۶ء) لیکن اس زمانہ میںجو ہوتا ہے اس کو دیکھو۔
ہماری جماعت میں معمولی کام کو بڑا کام اور معمولی تکلیف کو بڑی تکلیف سمجھنے لگ پڑتے ہیں۔
ایک دفعہ قادیان میں کچھ فساد ہوا اور مَیں نے تحقیق کے لئے ایک دوست کو جو کمہار ہیں ایک بات دریافت کرنے کے لئے بُلایا۔ اُنہوں نے سمجھا کہ مَیں گھبرا گیا ہوں اور مجھے تسلّی دینے کے لئے کہا کہ یہ واقعہ کیا چیز ہے اس سے بہت بڑھ کر مصیبتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ہم پر آئی ہیں۔ ایک دفعہ ہم تالاب سے مٹی اُٹھا رہے تھے کہ مرزا نظام الدین صاحب آئے اور کہا کہ کون ہماری اجازت کے بغیر مٹی اُٹھا رہا ہے؟ ان کو دیکھ کر سب لوگ بھاگ گئے اور صرف مَیں ہی اکیلا وہاں رہ گیا۔ مَیں نے دُعا کی یا اﷲ یہ ایسا ہی وقت ہے جیسا کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر غارِ ثور میں آیا تھا۔ اس طرح وہ مجھے تسلّی دے رہے تھے حالانکہ یہ ان کے نفس کی بزدلی تھی۔ مَیں حیران تھا کہ اس شخص نے کتنے معمولی سے واقعہ کو غارِ ثور جیسے عظیم الشان واقعہ سے تشبیہ دی ہے۔ غرض یہ حالت ہے اس زمانہ کے لوگوں کی کہ چھوٹی چھوٹی ذمہ داری کے کاموں سے گھبرا جاتے ہیں۔ ریلوں وغیرہ سے آرام کی وجہ سے بجائے شکریہ میں بڑھنے کے غفلت میں ترقی ہو رہی ہے اور کام میں بڑھنے کی بجائے اس کی مقدار اور اس کا معیار کم ہو رہا ہے اور کھانے پینے کی چیزوں میں زیادتی کے ساتھ غفلت میں بھی زیادتی ہوتی چلی جاتی ہے اور انسان کو فاقہ رہنے کی مشق کم ہو رہی ہے۔ ان کی زندگی وحوش کی سی ہے بلکہ وحوش کی زندگی ان سے اچھی ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنۡ ہُمۡ اِلَّا کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ (الفرقان: ۴۵) انسان چوری کرتا ہے کسی کا مال اُٹھا کر لے جاتا ہے تو یہ فعل بُرا سمجھا جاتا ہے لیکن ایک کُتّا اُٹھا کر لے جائے تو یہ فعل اس کے لئے بُرا نہیں کیونکہ وہ اس قانون کا پابند نہیں جس کا انسان پابند ہے۔ وحوش بھی کسی قانون کے ماتحت ہیں اور جو باتیں ان کی سرشت میں ودیعت کی گئی ہیں وہ ان کی پابندی کرتے ہوئے جان تک دے دیتے ہیں۔ ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ آبادی سے دُور جنگل میں رہتے تھے۔ ان کو اسی جنگل میں ہمیشہ کھانا پہنچ جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ اﷲ تعالیٰ نے کچھ آزمائش کی اور ان کو تین دن تک کھانا نہ آیا۔ اس پر گھبرا کر وہ شہر کی طرف چل پڑے اور ایک دوست کے مکان پر پہنچے جس نے تین روٹیاں اور سالن دیا۔ وہ لے کر پھر جنگل کی طرف چل پڑے۔ شاید روزہ ہو گا اور روزہ کھول کر کھانا کھانا ہو گا۔ کھانا دینے والے کا کُتّا بھی ساتھ چل پڑا۔ اُنہوں نے دیکھا تو ایک روٹی اور تہائی سالن اُسے ڈال دیا کہ اس کا بھی حق ہے۔ وہ کھا کر پھر پیچھے چل پڑا۔ اُنہوں نے پھر بقیہ کا نصف اسے ڈال دیا۔ وہ پھر کھا کر پیچھے ہو لیا۔ اس پر اُنہوں نے غصّہ سے کہا کہ کیسا بےشرم ہے تین میں سے دو روٹیاں اس کے آگے ڈال چُکا ہوں پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔ ان الفاظ کا ان کے منہ سے نکلنا تھا کہ معاً اُنہوں نے کشفی حالت میں کُتّے کو دیکھا کہ سامنے کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ بے شرم مَیں ہوں کہ تم ہو؟ مَیں لمبے عرصہ سے اپنے مالک کے دروازہ پر پڑا ہوں اور بعض اوقات سات سات روز تک مجھے فاقے پر فاقے آتے ہیں مگر مجھے خیال تک نہیں آتا کہ اس کا دروازہ چھوڑ کر کسی اَور کے دروازے پر چلا جاؤں۔ ایک تم ہو کہ تین دن کھانا نہیں مِلا تو بھاگ کر شہر کی طرف آگئے۔ اس کشف سے وہ ایسے متاثر ہوئے کہ بقیّہ کھانا بھی کُتّے کے آگے پھینک کر خالی ہاتھ جنگل کی طرف چل پڑے۔ یہ خدا تعالیٰ نے اس بزرگ کو سمجھانے کے لئے کیا اور وہ سمجھ گئے۔ واپس گئے تو جیسا اﷲ تعالیٰ ان کے لئے پہلے کھانے کا سامان کر دیا کرتاتھا کسی کے دل میں ڈالا اور وہ کھانا لئے ان کا انتظار کر رہا تھا کہ نہ معلوم آج کدھر چلے گئے۔ سو ان جانوروں کے لئے انسانی قانون نہیں مگر جو قانون ان کے لئے مقرر ہے وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ ان میں وفاداری ہوتی ہے، جان بھی دے دیتے ہیں۔ اِسی لئے اﷲ تعالیٰ نے بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ فرمایا ہے کہ
انسانی زندگی ان جانوروں سے بھی بدتر ہوتی ہے سوائے ان لوگوں کی زندگی کے جو اﷲ تعالیٰ کے احکام پر چلتے ہیں۔
انسان اپنی رنگ رلیوں میں لگا رہتا ہے۔ یہ نہیں سمجھتا کہ اس پر قوم کی کیا ذمہ داری ہے، مُلک کی کیا ذمہ داری ہے اور بحیثیت انسان کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور بحیثیت مخلوق کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
مومن کو سیدھا راستہ اختیارکرنا چاہئے اور بُری عادات چھوڑنی چاہئیں۔
بیشک ایک دن میں انسان کامل نہیں ہو سکتا لیکن صحیح راستہ پر چل رہا ہو تو ایک نہ ایک دن وہ منزل تک پہنچ ہی جائے گا۔
پُرانے بزرگوں نے خرگوش اور کچھوے کی مثال بنائی ہے او اس میں ظاہر کیا ہے کہ خرگوش اپنی دوڑ پر ناز کرتے ہوئے منزل سے پہلے سو گیا اور کچھوا آہستہ آہستہ چلتا گیا اور منزلِ مقصود پر پہنچ گیا جس سے ظاہر ہے کہ
جب انسان صحیح راستہ پر چل پڑتا ہے تو خواہ اس کی چال سست ہو ایک نہ ایک دن گوہرِ مقصود اس کو حاصل ہو ہی جاتا ہے
لیکن جو شخص صحیح راستہ اختیار نہیں کرتا یا کچھ دیر چل کر غافل ہو جاتا ہے اس کے متعلق کس طرح توقع ہو سکتی ہے کہ وہ منزلِ مقصود تک پہنچ جائے گا۔ ہر انسان نے مرنا ہے گو ہر انسان خیال یہی کرتا ہے کہ اس پر موت نہیں آئے گی۔ پیشتر اس کے کہ وہ اٹل گھڑی آجائے ہمیں اصلاح کی طرف قدم اُٹھانا چاہئے اور اپنے فرائض کو سمجھنا چاہئے اور اُن کی ادائیگی کے لئے پوری طرح کوشاں رہنا چاہئے۔
(الفضل ۸؍اگست ۱۹۳۹ء)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: تجسّس کی ممانعت اور نیک ظنّی کا حکم



