بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۴)

(مرتبہ:ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

٭… بیس سال پہلے میرے خاوند نے مجھے بار بار طلاق کہا اور ایک بار لکھ کر بھی دیا۔ لیکن جب میں نے کہا کہ اب تو مجھے طلاق ہو گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ طلاق ایسے نہیں ہوتی، ہماری جماعت کا طریق مختلف ہے۔ طلاق کہنے کے بعد رجوع کر لیا جائے تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ راہنمائی فرمائیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟

٭… کسی نے مجھے بتایا ہے کہ حدیث میں ہے کہ خواتین اپنے مخصوص ایام میں اپنے بالوں کو نہیں دھو سکتیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟

٭… وصیت فارم پر دو گواہوں کی گواہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں کوئی عورت کیوں گواہی نہیں دےسکتی۔ اگر عورتوں کی گواہی کے لیے دو خواتین کا ہونا ضروری ہے تو فارم پر ایسی کوئی شرط کیوں درج نہیں؟ نیز فارم پر خواتین کی گواہی کے لیے دو عورتوں کی جگہ مختص کیوں نہیں کی گئی؟

٭… ایک دوست نے غزوہ احد کے لیے حضور ﷺ کے گھر سے نکلنے کے وقت کے بارے میں حضور انور کے خطبہ جمعہ میں بیان فرمودہ امور اور قرآن کریم کی سورت آل عمران کی آیت نمبر ۱۲۲ میں بیان وقت کے بارے میں بظاہر تناقض کا اظہارکیا اور اس کے حل کے لیے تین صورتیں بیان کر کے مزید تحقیق کروانے کا مشورہ دیا۔

٭… کیا عورتوں سے مصافحہ حرام ہے۔ اگر حرام ہے تو رشتہ داروں میں سے کس کس سے مصافحہ کرنا حرام ہے؟

سوال:کینیڈا سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ بیس سال پہلے میرے خاوند نے مجھے بار بار طلاق کہا اور ایک بار لکھ کر بھی دیا۔ لیکن جب میں نے کہا کہ اب تو مجھے طلاق ہو گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ طلاق ایسے نہیں ہوتی، ہماری جماعت کا طریق مختلف ہے۔ طلاق کہنے کے بعد رجوع کر لیا جائے تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ راہنمائی فرمائیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۰؍فروری ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب: میں نے پہلے بھی آپ کو لکھا تھا کہ اپنے اس مسئلہ کی ساری تفصیل بتا کر مفتی صاحب سےاپنے اس مسئلہ کے بارے میں فتویٰ لیں۔

باقی جہاں تک طلاق کے بارے میں اسلامی تعلیم ہے تو اسلام میں ایک شخص کے لیے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے تین مواقع ہوتے ہیں۔ پہلے دو موقعوں میں رجوع کی گنجائش رکھی گئی ہے جب کہ تیسری مرتبہ طلاق دینے کے بعدرجوع کا حق نہیں رہتا۔

پھر بعض لوگ ایک ہی وقت میں ’’تین طلاق‘‘ یا طلاق، طلاق، طلاق کے الفاظ استعمال کر کے سمجھتے ہیں کہ اس طرح انہوں نے تینوں حق استعمال کر لیےہیں۔ یہ طریق درست نہیں اور اس طرح تین طلاقیں واقع نہیں ہوتیں بلکہ ایک طلاق ہی شمار ہوتی ہے۔ جس کا ثبوت حدیث سے بھی ملتا ہے۔(سنن ابی داؤد کتاب الطلاق باب نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس بارے میں ہماری راہنمائی فرمائی ہے۔چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں: اگر تین طلاق ایک ہی وقت میں دی گئی ہوں تو اس خاوند کو یہ فائدہ دیا گیا ہے کہ وہ عدت گذرنے کے بعد بھی اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے کیونکہ یہ طلاق ناجائز طلاق تھا اور اللہ و رسول کے فرمان کے موافق نہ دیا گیا تھا۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۱۴ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

نیز فرمایا: طلاق ایک وقت میں کامل نہیں ہو سکتی۔ طلاق میں تین طہر ہونے ضروری ہیں۔ فقہاء نے ایک ہی مرتبہ تین طلاق دے دینی جائز رکھی ہے مگر ساتھ ہی اس میں یہ رعایت بھی ہے کہ عدت کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو وہ عورت اسی خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور دوسرے شخص سے بھی کر سکتی ہے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۱۷،۱۶، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

البتہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور عدّت کے تین ماہ کے عرصہ میں ہر طہر پر علیحدہ علیحدہ طلاق دے تو اس صورت میں تیسری طلاق دینے کے بعد یہ عورت اس مرد پر حرام ہو جائے گی۔ اس طریق طلاق کو فقہی اصطلاح میں طلاق حسن کہا جاتا ہے۔ اس طریق طلاق کی دلیل حدیث نبوی ﷺ سے ملتی ہے۔ (سنن دار قطنی کتاب الطلاق والخلع والایلاء وغیرہ حدیث نمبر۴۰۱۹)

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: اور چاہیے کہ جن عورتوں کو طلاق دی گئی وہ رجوع کی امید کے لیے تین حیض تک انتظار کریں اور ان تین حیض میں جو قریباً تین مہینے ہیں دو دفعہ طلاق ہوگی یعنی ہر یک حیض کے بعد خاوند عورت کو طلاق دے اور جب تیسرا مہینہ آوے تو خاوند کو ہوشیارہو جانا چاہیے کہ اب یا تو تیسری طلاق دے کر احسان کے ساتھ دائمی جدائی اور قطع تعلق ہے اور یا تیسری طلاق سے رک جائے اور عورت کو حسن معاشرت کے ساتھ اپنے گھر میں آباد کرے اور یہ جائز نہیں ہوگا کہ جو مال طلاق سے پہلے عورت کو دیا تھا وہ واپس لے لے۔ اور اگر تیسری طلاق جو تیسرے حیض کے بعد ہوتی ہے دیدے تو اب وہ عورت اس کی عورت نہیں رہی اور جب تک وہ دوسرا خاوند نہ کرلے تب تک نیا نکاح اس سے نہیں ہو سکتا (یعنی ایسے شخص کی سزا یہی ہے جو باوجود ہدایت متذکرہ بالا کے پھر نہ سمجھے اور چونکہ یہ عورت اب اس کی عورت نہیں رہی اس لیےوہ خاوند کرنے میں اختیار کلّی رکھتی ہے)۔(آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد۱۰صفحہ۵۳،۵۲)

علاوہ ازیں فقہاء نے ایک اورطلاق کے طریق کا بھی ذکر کیاہے جسے طلاق احسن کہتے ہیں۔ اس طریق طلاق کی بنیاد صحابہ کرام ؓ کا اسے پسندکرنا ہے اور اس کا طریق یہ ہے کہ عورت کو ایک طلاق دی جائے اور پھر اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ تین حیض آجائیں۔چونکہ اس میں فریقین کے لیے زیادہ سہولت ہے اس لیےفقہاء اسے طلاق احسن کا نام دیتے ہیں۔

سیدنا حضرت مصلح موعودؓ اس طریق طلاق کے بارے میں فرماتے ہیں: قرآن کریم کے الفاظ اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰن بالکل واضح ہیں اور اس سے پہلی آیت وَالۡمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ ؕ وَلَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنۡ یَّکۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیۡۤ اَرۡحَامِہِنَّ اِنۡ کُنَّ یُؤۡمِنَّ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَبُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ اِنۡ اَرَادُوۡۤا اِصۡلَاحًا واضح کرتی ہے کہ زمانہ طلاق تین قروء تک جاتا ہے۔ اس عرصہ میں انسان بغیر نکاح کے رجوع کر سکتا ہے اور اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ کے چند آیات بعد کی آیت وَاِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوۡہُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحۡنَ اَزۡوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوۡا بَیۡنَہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ (البقرۃ:۲۳۳) بتاتی ہے کہ طلاق کی مدت گذر جانے کے بعد خاوند دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔ درمیانی آیت اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰن اس پہلی قسم کی طلاق کی طرف اشارہ کرتی ہے اور پہلی قسم کی طلاق یہی ہے کہ تین قروء تک رجوع جائز ہے اور تین قروء کے بعد نکاح جائز ہے۔

غرض آیت اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰن بتاتی ہے کہ ایسی طلاق دو دفعہ ہوسکتی ہے۔ جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ طلاق کے بعد عدت گذر جانے کی صورت میں خاوند کو دو دفعہ دوبارہ نکاح کا حق حاصل ہے۔ ایسے دو واقعات کے بعد اگر پھرانسان طلاق دیدے تو اس کو نکاح کا حق حاصل نہیں رہتا بلکہ اسے عرصہ عدت میں رجوع کا بھی حق حاصل نہیں۔ پھر یہ حق اس کو تبھی حاصل ہو گا جبکہ وہ عورت کسی دوسرے شخص سے باقاعدہ نکاح کرے اور وہ مرد اس کو کسی وجہ سے طلاق دیدے۔ (تفسیر کبیر جلد سوم صفحہ۳۵۴،۳۵۳، مطبوعہ یوکے ۲۰۲۳ء)

ہر دو طریق طلاق مستندہیں۔ پس جو شخص ان میں سے کسی بھی طریق کو اختیار کرتے ہوئے اپنی بیوی کو طلاق دے گا، رجوع اور عدت کے بارے میں احکامات بھی اسی طریق طلاق کے مطابق اس پر لاگو ہوں گے۔

سوال: امریکہ سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ کسی نے مجھے بتایا ہے کہ حدیث میں ہے کہ خواتین اپنے مخصوص ایام میں اپنے بالوں کو نہیں دھو سکتیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۰ فروری ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب: مجھے تو کسی ایسی حدیث کا علم نہیں جس میں یہ ذکر ہو کہ خواتین اپنے مخصوص ایام میں سر کے بال نہیں دھو سکتیں۔ باقی ممکن ہے کہ اس حالت میں طبّی لحاظ سے زیادہ ٹھنڈے پانی کا استعمال کسی قدر نقصان کا باعث ہوتا ہو۔ لیکن اس بارے میں بھی ڈاکٹر یا حکیم ہی بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔

سوال: کینیڈا سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ وصیت فارم پر دو گواہوں کی گواہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں کوئی عورت کیوں گواہی نہیں دےسکتی۔ اگر عورتوں کی گواہی کے لیے دو خواتین کا ہونا ضروری ہے تو فارم پر ایسی کوئی شرط کیوں درج نہیں ، نیز فارم پر خواتین کی گواہی کے لیے دو عورتوں کی جگہ مختص کیوں نہیں کی گئی؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۰؍فروری ۲۰۲۴ء میں ان سوالوں کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: مالی لین دین کے معاملات میں چونکہ مردوں کا زیادہ عمل دخل ہوتا ہے، اس لیےان معاملات میں مردوں کی گواہی کو ترجیح دی گئی ہے۔ ہاں اگر کہیں پر گواہی کے لیے مرد میسر نہ ہوں اور معاملہ فوری نوعیت کا ہو تو اسلام نے ایسی مجبوری کی صورت میں عورت کی گواہی لینے کی بھی اجازت دی ہے، لیکن اس صورت میں احتیاط کے طور پر گواہ عورت کے ساتھ ایک دوسری عورت کو رکھا گیا ہے تا کہ گواہ عورت کے بھولنے کی صورت میں دوسری عورت اسے اصل معاملہ یاد کروا سکے۔

وصیت فارم پر پہلے مردوں کی گواہی ہی ڈلوائی جاتی تھی اور اگر کسی جگہ عورت کو بطور گواہ شامل کرنا پڑتا تو اس کے ساتھ مزید ایک اور عورت کے بھی دستخط کروائے جاتے تھے، لیکن اب اس میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور اگر کسی جگہ مرد میسر نہ ہوں تو عورتوں کے معاملہ میں ایک عورت کی گواہی بھی ایک مرد کے برابر ہی متصور ہوتی ہے۔

باقی ہر معاملہ میں الجھاؤ پیدا کر کے بلاوجہ اسے شریعت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ فارم پُر کرنا کوئی شرعی حکم نہیں ہے۔ بلکہ آنحضور ﷺ کے زمانہ میں تو نکاح کے لیے بھی کوئی فارم وغیرہ نہیں ہوتے تھے بلکہ زبانی طور پر ہی ایجاب و قبول ہوتا تھا اور زبانی طور پر ہی گواہوں کی گواہی ہوتی تھی۔ پھر لوگوں کی سچائی، تقویٰ اور دیانتداری کا معیار بھی بہت بلند تھا۔ چنانچہ ایک عورت نے حضور ﷺ کے پاس آ کر اپنے خاوند سے خلع کی درخواست کی اور خود ہی یہ بھی بتایا کہ جو کچھ اس کے خاوند نے اسے دیا تھا وہ اس کے پاس ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس صورت میں اسے خاوند سے لیا ہوا حق مہر واپس کرنا پڑے گا تو اس عورت نے کہا کہ وہ اس سے بھی زیادہ دینے کو تیار ہے۔ جس پر حضورﷺ نے فرمایا کہ زیادہ نہیں بس جتنا تم نے لیا ہے وہ واپس کردو۔ (صحیح بخاری کتاب الطلاق بَاب الْخُلْعِ وَكَيْفَ الطَّلَاقُ فِيهِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى۔سنن ابی داؤد کتاب الطلاق باب الخلع۔السنن الکبریٰ للبیہقی كتاب الخلع والطلاق باب الوجه الذى تحل به الفدية۔ جزء۷ صفحہ ۳۱۴)

لیکن اب چونکہ لوگوں میں سچائی اور تقویٰ کا وہ معیار نہیں رہا اور بہت معمولی معمولی دنیاوی فوائد کے حصول کے لیے بہت سے لوگ غلط بیانی سے کام لے لیتے ہیں۔ اس لیےقانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے فارمز اور تحریری دستاویزات تیار کروائے جاتے ہیں۔ تاکہ اختلاف اور جھگڑے کی صورت میں ان دستاویزات کو بطور ثبوت پیش کیا جا سکے۔

سوال: کینیڈا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں غزوہ احد کے لیے حضور ﷺ کے گھر سے نکلنے کے وقت کے بارے میں حضور انور کے خطبہ جمعہ میں بیان امور اور قرآن کریم کی سورت آل عمران کی آیت نمبر ۱۲۲ میں بیان وقت کے بارے میں بظاہر تناقض کا اظہارکیا اور اس کے حل کے لیے تین صورتیں بیان کر کے مزید تحقیق کروانے کا مشورہ دیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۰؍فروری ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: مجھے آپ کے سوال پر حیرت ہوئی ہے کہ پڑھے لکھے ہونے کے باوجود آپ نے یہ بات کی ہے۔ آپ نے دو الگ الگ باتوں کو ایک سمجھ کر ان میں خود ہی اپنی طرف سے ایک مزعومہ تناقض گھڑ لیا ہے۔

میں نے اپنے خطبہ میں بیان کیا ہے کہ حضورﷺ جمعہ والے دن بعد نماز جمعہ غزوہ احد کے لیے مدینہ سے میدانِ احد کے لیے روانہ ہوئے تھے اور تاریخ کی تمام کتب میں اور خاص طور پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ؓ کی محققانہ تالیف سیرت خاتم النبیینؐ میں یہی لکھا ہےکہ جمعرات کے دن لشکر قریش کی آمد کی خبر مدینہ میں پھیل چکی تھی اور عریض نامی جگہ پر جو قریش کا حملہ ہوا تھا اس کی اطلاع بھی عام ہو چکی تھی۔اس لیےاس رات مدینہ میں سخت خوف اور خطرہ کی حالت تھی اور خاص خاص صحابہؓ نے ساری رات آنحضور ﷺ کے مکان کے ارد گرد پہرہ دیا تھا۔

اگلے روز جو جمعہ کا دن تھا حضور ﷺ نے مسلمانوں کو جمع کر کے ان سے لشکر قریش کے بارے میں مشورہ مانگا کہ آیا مدینہ میں ہی ٹھہرا جائے یا باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے؟نیز حضور ﷺ نے اپنے خواب کا بھی ذکر فرمایا۔پھر نماز جمعہ کے بعد حضورﷺ نے مسلمانوں میں عام تحریک فرمائی کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے اس غزوہ میں شامل ہوں۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمرؓ نے حضور کی جنگی تیاری میں حضورﷺ کی معاونت کی سعادت پائی۔

حضور ﷺ نے مدینہ میں حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ کو امام الصلوٰۃ مقرر فرمایا اور صحابہ کی ایک بڑی جماعت کے ہمراہ نماز عصر کے بعد آپ مدینہ سے نکلے۔احد کا پہاڑ جو مدینہ کے شمال کی طرف قریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے اس کے نصف میں پہنچ کر حضور ﷺ نے شیخین کے مقام پر قیام فرمایا اور لشکر کا جائزہ لیا اور کم عمر بچوں کو مدینہ واپس بھجوایا۔ رات کے پہرہ کے لیے حضور ﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کی ڈیوٹی لگائی جنہوں نے پچاس صحابہ کے ساتھ رات بھر لشکر اسلامی کے ارد گرد پہرہ دیا۔

دوسرے دن یعنی ۱۵؍شوال سن ۳ ہجری بمطابق ۳۱؍مارچ ۶۲۴ء بروز ہفتہ سحری کے وقت لشکر اسلامی آگے بڑھا اور راستہ میں نماز فجر ادا کرتے ہوئے صبح ہوتے ہی احد کے دامن میں پہنچ گیا۔ اس موقعہ پر رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ لشکر اسلامی کو چھوڑ کر مدینہ واپس لوٹ گیا۔ لیکن حضورﷺ خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھے اور احد کے دامن میں ایسے طریق پر ڈیرہ ڈال دیا کہ احد کی پہاڑی مسلمانوں کے پیچھے کی طرف آ گئی اور اس پہاڑی میں جو ایک درّہ تھا اس کی حفاظت کے لیے آپ نے حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کی سرداری میں پچاس تیر انداز صحابہ کو وہاں متعین فرمایا اور اسی طرح باقی لشکر کو بھی ترتیب دیا۔

حضور ﷺ نے لشکر کی یہ ساری ترتیب صبح کے وقت فرمائی تھی، جس کی طرف قرآن کریم میں اشارہ کیا گیا ہے کہ وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَہۡلِکَ تُبَوِّیٴُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِؕ وَاللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ۔(آل عمران: ۱۲۲)یعنی اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تُو اپنے اہل کے پاس سے نکل کر صبح صبح اس لیےگیا تھا کہ مومنوں کو جنگ کے لیے ان کی مقررہ جگہوں پر بٹھا دے اور اللہ (تیری دعائیں) بہت سننے والا (اور تم لوگوں کے حالات کو) خوب جاننے والا ہے۔

پس آپؐ نے جمعہ اور ہفتہ کے واقعات کو ملا کر اپنے ذہن میں ایک خود ساختہ تناقض پیدا کر لیا ہے۔ جو حقیقت میں کوئی تناقض نہیں بلکہ دو الگ الگ دنوں کے واقعات ہیں۔ جن کی قرآن کریم اور تاریخ و حدیث کی کتب سے تائید ہوتی ہے۔ اس لیےاس معاملہ میں کسی مزید تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: مراکش سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ کیا عورتوں سے مصافحہ حرام ہے؟ اگر حرام ہے تو رشتہ داروں میں سے کس کس سے مصافحہ کرنا حرام ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۳؍فروری ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: اسلام نے غیر محرم مرد و زن کے باہمی مصافحہ کو جائز قرار نہیں دیا۔ اس لیےایسے مرد و عورت کو باہمی مصافحہ نہیں کرنا چاہیے۔ احادیث میں بھی آتا ہے کہ آنحضور ﷺ غیر محرم عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا کرتے تھے۔ (سنن نسائی کتاب البیعۃ بَابُ بَيْعَةِ النِّسَاءِ)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: ہمارے سید و مولیٰ افضل الانبیاء خیر الاصفیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کا تقوی دیکھئے کہ وہ ان عورتوں کے ہاتھ سے بھی ہاتھ نہیں ملاتے تھے جو پاک دامن اور نیک بخت ہوتی تھیں اور بیعت کرنے کے لیے آتی تھیں بلکہ دور بٹھا کر صرف زبانی تلقین توبہ کرتے تھے۔ (نور القرآن، روحانی خزائن جلد۹ صفحہ۴۴۹)

حضرت مولوی شیر علی صاحب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعودؑ سے عرض کیا کہ میرے ساتھ شفا خانہ میں ایک انگریز لیڈی ڈاکٹر کام کرتی ہے اور وہ ایک بوڑھی عورت ہے۔ وہ کبھی کبھی میرے ساتھ مصافحہ کرتی ہے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضرت صاحب نے فرمایاکہ یہ تو جائز نہیں ہے۔آپ کو عذر کردینا چاہیے کہ ہمارے مذہب میں یہ جائز نہیں۔ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحہ ۳۶۳، روایت نمبر ۴۰۴)

پس غیر محرم عورت و مرد کے باہمی مصافحہ کی اسلام میں ممانعت ہے۔ لیکن محرم رشتوں میں عورت و مرد کے باہمی مصافحہ میں بظاہر کوئی حرج نہیں۔

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۳)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button