بچوں کا الفضل

گلدستہ معلومات

حکایتِ مسیح الزماںؑ

نجات اور اعمال

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’نجات کے واسطے اعمال کی ضرورت ہے صدق اور عاجزی کام آتی ہے مگر یہ کسی کا اختیار نہیں ہے کہ کسی کو ہاتھ ڈال کر سیدھا کر دیوے ہر ایک انسان کی نجات کے واسطے اُس کے اپنے اعمال کا ہونا ضروری ہے۔ بوستان میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک اہلُ اللّٰہ کو کہا کہ میرے لیے دعا کرو کہ میں اچھا ہو جاؤں اس نے جواب دیا کہ میرے ایک کی دعا کیا کام کرے گی جبکہ ہزاروں بے گناہ قیدی تیرے لیے بد دعا کرتے ہیں اُس نے یہ سُن کر تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا‘‘۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 141 ایڈیشن2022ء)
(مشکل الفاظ کے معانی: اہلُ اللّٰہ: ولی اللہ، بزرگ، پاک،زاہد لوگ)

سوال جواب

ایک شریکِ مجلس نے حضورِ انور کے ایک ارشاد کی روشنی میں سوال کیا کہ حضور نے فرمایا تھا کہ جو واقفین جماعت میں خدمت نہیں کر رہے اُنہیں اپنے متعلقہ شعبہ جات میں مہارت حاصل کرنی چاہیے اور بہترین نمونہ دکھانا چاہیے، تو کچھ شعبہ جات ایسےبھی ہیں کہ جو کافی وقت طلب ہیں، جیسے کہ تحقیق اور طبّ، تو جو واقفین اِن شعبوں میں کام کر رہے ہیں، اُن کے لیےآپ کی کیا ہدایت ہے؟

اس پر حضور انور نے عبادت اور تلاوتِ قرآنِ کریم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئےتلقین فرمائی کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ نمازیں نہیں چھوڑنی، عبادت نہیں چھوڑنی، عبادت کرنی چاہیے۔ صبح اُٹھتے ہو تو کوشش کرو کہ قرآنِ شریف کی تلاوت کرو اور قرآن شریف کا ترجمہ پڑھو، تفسیر پڑھو تاکہ قرآنِ شریف کا مطلب سمجھ آئے۔

پھر حضورِ انور نے دیگر مصروف پیشوں والے واقفین کو بھی جماعتی خدمت جاری رکھنے کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اگر وہاں ان کو وقت نہیں مل رہا، تو وِیک اینڈ پر کوئی چھٹی کے دن، دو ایک دن تو مل ہی جاتے ہیں، سائنٹسٹ کو بھی مل جاتے ہیں، نہیں تو اپنے حلقے میں ہی تبلیغ کر سکتا ہے، تو وہ بھی جماعتی خدمت ہے۔

مزید برآں حضور ِانور نے عملی مثال کے ذریعے قرآنی تعلیم اور تبلیغ کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ ڈاکٹر سلام صاحب سارا دن مصروف رہتے تھے اور ساتوں دن کام کرتے تھے، تب بھی انہوں نے ہر ایک کو بتایا ہوا تھا کہ مَیں نے قرآن پڑھا اور قرآن میں سے یہ تفسیریں نکالیں، مَیں احمدی ہوں، اور اس طرح یہ تشریح اور تفسیر ہے۔ تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بھی قرآن کے نکات بیان کر دیے۔

جواب کےآخر میں حضورِ انور نے جماعتی خدمت کی وسعت کے حوالے سے اِس اَمر پر زور دیا کہ جماعتی خدمت صرف یہی تو نہیں ہے کہ تم خدام الاحمدیہ کے جاکے کام کرو تو کرو۔ جماعتی خدمت یہ ہے کہ لوگوں کو تبلیغ کرو اور بتاؤ کہ اسلام کیا ہے، یہ بھی خدمت ہے۔

ایک شریکِ مجلس نے دریافت کیا کہ واقفین بچوں کو وفا کیسے سکھائیں؟

اس پر حضورِ انور نے عہد کی حقیقی روح اور اس کی پابندی کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اُن کو بتاؤ کہ تم وقفِ نَو ہو، تو اپنا وقفِ نَو کا عہد پورا کرو، نہیں تو چھوڑ دو۔ اگر وقف کیا ہے تو وفا کے ساتھ کرو۔ نہیں تو دو عملی ہے۔ پھر تو منافقت ہو گئی۔ وفا تو نہ ہوئی۔ وفا یہی ہے کہ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدّم رکھیں گے، تو وقف ِنَو سب سے زیادہ اپنے آپ کو اس عہد کا پابند کریں کہ ہم نے دوسروں سے زیادہ دین کو دنیا پر مقدّم رکھنا ہے۔ تبھی ہم قربانی کر سکتے ہیں اور وفا کے ساتھ یہ کام کریں گے، تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوگا اور ایک بندے کے اپنے اعلیٰ اخلاق کا بھی پتا لگتا ہے۔

بعد ازاں حضورِانور نے وعدہ پُورا کرنے کی دنیاوی مثال دے کر بات کو مزید واضح فرمایا کہ ایک عام آدمی دنیا میں بھی دیکھ لو کہ اگر کوئی وعدہ کرتا ہے تو اس کو پُورا کرتا ہے۔ اگر وعدہ پورا نہ کرے تو لوگ اس کے خلاف ہوتے ہیں۔ عدالت میں مقدمہ چلا جائےتو عدالت کہتی ہے کہ تم نے وعدہ کیا تھا اور وعدہ اگر تحریر میں لکھا ہو تو اور بھی زیادہ پکّا ہو جاتا ہے۔

آخر میں حضورِانور نے وقفِ نَو کے عہد کی سنجیدگی اور اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ان کو یہ بتاؤ کہ یہاں تو انہوں نےbondبھی لکھ کے دیا ہوا ہے، پہلے والدین نے لکھا، پھر بچوں نے پندرہ سال کی عمر میں bond لکھا اورپھر اکیس سال کی عمر میںbondلکھا، تو پھر بھی وفا نہ کریں گے تو پھر عہد خلافی کریں گے۔ پھر کورٹ تو سزا دیتا ہے، ہم سزاتو نہیں دیتے، لیکن اللہ تعالیٰ ضرور پوچھے گا۔

(الفضل انٹرنیشنل 26؍فروری 2026ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button