دادی جان کا آنگن

اپنے ماحول کو صاف رکھیں

22؍اپریل کو دنیا بھر میں یوم ارض (Earth Day) منایا جاتا ہے۔ ناظم صاحب اطفال نے بچوں کو اپنے گھروںپر پودے لگانے کی ترغیب دلائی تھی۔ ابو جان بھی بہت ساری پھولوں کی پنیریاں اور چند ایک پھلدار پودے لے کر گھر آئے۔ بچوں کی خوشی دیدنی تھی۔ ان سب کو دادی جان کے ساتھ مل کر اپنے باغیچے کو ان پنیریوں اور پودوں سے آراستہ کرنا تھا۔ اب بھی تینوں بہن بھائی ابو جان کی مدد کررہے تھے جبکہ دادی جان انہیں ہدایات دے رہی تھیں۔

احمد :دادی جان! یہ درخت کتنے اچھے ہوتے ہیں۔ گرمی میں سایہ بھی دیتے ہیں اور ہوا بھی ٹھنڈی کر دیتے ہیں۔

دادی جان مسکرائیں اور بولیں:بالکل بیٹا! درخت تو ماحول کی صفائی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے پیارے رسول کریمﷺ نے درخت لگانے کی بہت تاکید فرمائی ہے۔

محمود نے حیران ہو کر پوچھا:دادی جان! کیا درخت لگانا بھی نیکی ہے؟

دادی جان نے محبت سے جواب دیا:جی ہاں بیٹا! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جومسلمان بھی کوئی پودا لگاتا ہے یا کھیتی بوتا ہے اور پھر اُس سے کوئی پرندہ یا انسان یا چوپایہ کھاتا ہے تو یہ (کھیتی اور درخت) اس کے لیے ثواب کا موجب بن جائے گا۔

گڑیا خوش ہو کر بولی:تو پھر ہمیں اور بھی درخت لگانا چاہئیں۔

دادی جان :بالکل! انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک ایسا پودا ضرور لگائے جو بڑا ہو کر سایہ دار یا پھلداردرخت بن جائے۔

احمد :دادی جان! کچھ لوگ درخت کاٹ دیتے ہیں، کیا یہ ٹھیک ہے؟

دادی جان نے سنجیدگی سے کہا:بیٹا! بلا ضرورت درخت کاٹنا اچھا نہیں۔ ہمارے نبی ﷺ نے تو جنگوں میں بھی پھول اور پھل دار پودے، کھیتوں اور درختوں کو کاٹنے اور آباد زمین کو برباد کرنےسے منع فرمایا۔

محمود :دادی جان! ہم ماحول کو اور کیسے صاف رکھ سکتے ہیں؟

دادی جان :ہمیں گاڑیوں کا استعمال کم کرنا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو سائیکل چلائیں، پیدل چلیں یا کار پولنگ کریں تاکہ دھواں کم ہو اور ہوا صاف رہے۔

گڑیا:اور بجلی کیسے صاف طریقے سے بن سکتی ہے؟

دادی جان:آج کل سورج کی روشنی سے بجلی بنانے کے لیے سولر پینلز استعمال ہوتے ہیں۔ یہ ماحول کے لیے بہت فائدہ مند ہیں کیونکہ اس سے آلودگی نہیں پھیلتی۔

احمد:دادی جان! لوگ گلی میں کچرا کیوں پھینک دیتے ہیں؟

دادی جان :بیٹا! یہ بہت غلط بات ہے۔ ہمارے نبیﷺ نے صفائی کی بہت تاکید فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔

محمود :تو ہمیں اپنے گھر،گلی، محلے کو بھی صاف رکھنا چاہیے۔

دادی جان:بالکل! رسول کریم ﷺ نے ہمیں ایسے تمام کاموں سے منع فرمایا، جن سے زمینی، فضائی اور آبی آلودگی پھیلے، جیسا کہ گھروں کے آگےاورگلی کوچوں میں کوڑا کرکٹ پھینکنا۔ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاص طو رپر سڑکوں کی صفائی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر سڑک پر جھاڑیاں یا پتھر اور کوئی گندی چیز ہو تو اُسے ہٹا دیا کرو۔ بلکہ آپ کا عمل یہ تھا کہ اگر کوئی گندی چیز ہوتی تو آپؐ اُسے خود اٹھا کر ایک طرف کر دیتے اور فرماتے کہ جوشخص سڑکوں کی صفائی کا خیال رکھتا ہے خدا اس پر خوش ہوتا ہے اور اُسے ثواب عطا کرتا ہے۔ اسی طرح آپؐ فرماتے تھے کہ رستے کو روکنا نہیں چاہیے، راستوں پر بیٹھنایا اس میں ایسی چیز ڈال دینا کہ مسافروں کو تکلیف ہو یا راستہ میں قضائے حاجت وغیرہ کرنا یہ خداتعالیٰ کو ناپسند ہے۔

اسی دوران احمد نے پوچھا: دادی جان! کیا حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کے لئے کوئی نصائح فرمائی ہیں ؟

دادی جان:جی ہاں بیٹا!ذرا بھاگ کر اندر سے میرا ٹیبلٹ لاکردیں مجھے زبانی تو نہیں یاد مگر میں نے پڑھا ضرور تھا۔ گڑیا جلدی سے اندر سے ٹیبلٹ لے آتی ہے اور دادی جان اس میں چند لمحے سرچ کرتی ہیں اور پھر کہتی ہیں۔ مل گیا اقتباس میں آپ کو پڑھ کر سنادیتی ہوں کہ پیارے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس حوالے سے کیا فرماتے ہیں۔ حضور انور نے خطبہ جمعہ فرمودوہ 23؍ اپریل 2004ء میں فرمایا تھا کہ بدقسمتی سے مسلمانوں میں جس شدت سے صفائی کا احساس ہونا چاہیے وہ نہیں ہے اور اسی طرح اپنے اپنے ماحول میں احمدیوں میں بھی جو صفائی کے اعلیٰ معیار ہونے چاہئیں وہ مجموعی طور پر نہیں ہیں۔ بجائے ماحول پر اپنا اثر ڈالنے کے ماحول کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ پاکستان اور تیسری دنیا کے ممالک میں اکثر جہاں گھر کا کوڑا کرکٹ اٹھانے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں ہے، گھر سے باہر گند پھینک دیتے ہیں حالانکہ ماحول کو صاف رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اپنے گھر کو صاف رکھنا۔ ورنہ تو پھر اس گند کو باہر پھینک کر ماحول کوگندا کر رہے ہوں گے اور ماحول میں بیماریاں پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہوں گے۔ اس لیے احمدیوں کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ کوئی ایسا انتظام کرنا چاہیے کہ گھروں کے باہر گند نظر نہ آئے۔ ربوہ میں، جہاں تقریباً 89 فیصد احمدی آبادی ہے، ایک صاف ستھرا ماحول نظر آنا چاہیے… حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا تھا کہ دلہن کی طرح سجاکے رکھو۔ یہ سجاوٹ اب مستقل رہنی چاہیے۔ مشاورت کے دنوں میں ربوہ کی بعض سڑکوں کو سجایا گیا تھا۔ تزئین ربوہ والوں نے اس کی تصویریں بھیجی ہیں، بہت خوبصورت سجایا گیا لیکن ربوہ کا اب ہر چوک اس طرح سجنا چاہیے۔ اسی طرح قادیان میں بھی احمدی گھروں کے اندر اور باہر صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ یہاں یورپ میں بھی میں نے دیکھا ہے، جن گھروں میں بھی گیا ہوں پہلے کبھی یا اب، کہ جو بھی چھوٹے چھوٹے آگے پیچھے صحن ہوتے ہیں ان کی کیاریوں میں یا گھاس ہوتا ہے یا گند پڑا ہوتا ہے۔ کوئی توجہ یہاں بھی اکثر گھروں میں نہیں ہو رہی، چھوٹے چھوٹے صحن ہیں کیاریاں ہیں، چھوٹے سے گھاس کے لان ہیں اگر ذرا سی محنت کریں اور ہفتے میں ایک دن بھی دیں تو اپنے گھروں کے ماحول کو خوبصورت کر سکتے ہیں۔ جس سے ہمسایوں کے ماحول پہ بھی خوشگوار اثر ہو گا اور آپ کے ماحول میں بھی خوشگوار اثر ہو گا۔ اور پھر آپ کو لوگ کہیں گے کہ ہاں یہ لوگ ذرا منفرد طبیعت کے لوگ ہیں، عام جوایشینز(Asians)کے خلاف ایک خیال اور تصور گندگی کا پایا جاتا ہے وہ دُور ہو گا۔ مقامی لوگوں میں کچھ نہ کچھ پھر بھی شوق ہے وہ اپنے پودوں کی طرف توجہ دیتے ہیں جبکہ ہمارے گھر کا ماحول ان لوگوں سے زیادہ صاف ستھرا اور خوشگوار نظر آنا چاہیے اور یہاں تو موسم بھی ایسا ہے کہ ذرا سی محنت سے کافی خوبصورتی پیدا کی جا سکتی ہے۔

گڑیا:تو ہم بھی خلیفۂ وقت کی بات مانیں گے۔

احمد:اور ہم اپنے دوستوں کو بھی بتائیں گے کہ زمین اور ماحول کی حفاظت کرنی چاہیے۔

دادی جان:بالکل! تم بچوں کو چاہیے کہ اپنے اردگرد کے لوگوں خصوصاً بچوں میں زمین اور قدرتی ماحول کی محبت پیدا کرو تاکہ سب مل کر اس خوبصورت زمین کی حفاظت کریں۔

گڑیا :چلیں ہم سب مل کر ایک نیا پودا لگاتے ہیں۔

احمد اور محمود بھی خوشی سے:جی دادی جان! ہم درخت بھی لگائیں گے اور اپنے ماحول کو صاف بھی رکھیں گے۔

دادی جان:اللہ تم سب کو زمین کی حفاظت کرنے والا بنائے اور تمہیں نیک کام کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

(درثمین احمد۔ جرمنی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button