گلدستہ معلومات
حکایتِ مسیح الزماںؑ
ریا حسنات کو جلا دیتی ہے
حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
یہ بات یاد رکھو کہ ریا حسنات کو ایسے جلا دیتی ہے جیسے آگ خس و خاشاک کو ۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس مرد سے بڑھ کر مردِ خدا نہ پاؤ گے جو نیکی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کسی پر ظاہر نہ ہو۔
ایک بزرگ کی حکایت لکھی ہے کہ اسُے کچھ ضرورت تھی ۔ اُس نے وعظ کہا اور دوران وعظ میں یہ بھی کہا کہ مجھے ایک دینی ضرورت پیش آگئی ہے۔ مگر اُس کے واسطے روپیہ نہیں ہے۔ ایک بندہ خدا نے یہ سن کر دس ہزار روپیہ رکھ دیا۔ اس بزرگ نے اٹھ کر اُس کی بڑی تعریف کی اور کہا کہ یہ شخص بڑا ثواب پائے گا۔ جب اُس شخص نے اُن باتوں کو سنا تو وہ اٹھ کر چلا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا اور کہا کہ یا حضرت مجھ سے اس روپیہ کے دینے میں بڑی غلطی ہوئی ۔ وہ میرا مال نہ تھا بلکہ میری ماں کا مال ہے۔ اِس لیے وہ واپس دے دو۔ اس بزرگ نے تو اسے روپیہ دے دیا مگر لوگوں نے بڑی لعن طعن کی اور کہا کہ یہ اس کی اپنی بد نیتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے پہلے وعظ سن کر جوش میں آگیا اور روپیہ دے دیا اور اب اس روپیہ کی محبت نے مجبور کیا تو یہ عذر بنالیا ہے۔ غرض وہ روپیہ لے کر چلا گیا اور لوگ اسے برا بھلا کہتے رہے اور وہ مجلس برخواست ہوئی ۔ جب آدھی رات گذری تو وہی شخص روپیہ لئے ہوئے اُس بزرگ کے گھر پہنچا اور آکر انہیں آواز دی ۔ وہ سوئے ہوئے تھے انہیں جگایا اور وہی دس ہزار روپیہ رکھ دیا اور کہا حضرت میں نے یہ روپیہ اُس وقت اِس لیے نہیں دیا تھا کہ آپ میری تعریف کریں۔ میری نیت تو اور تھی۔ اب میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ مرنے تک اس کا ذکر نہ کریں ۔ یہ سُن کر وہ بزرگ رو پڑے۔ اس نے پوچھا کہ آپ روئے کیوں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے رونا اِس لیے آیا ہے کہ تو نے ایسا اخفا کیا ہے کہ جب تک یہ لوگ رہیں گے تجھے لعن طعن کریں گے۔ غرض وہ چلا گیا اور آخر خدا تعالیٰ نے اِس امر کو ظاہر کر دیا۔
(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ 216 ایڈیشن2022ء)
(مشکل الفاظ کے معانی: حسنات: (حسنہ کی جمع)نیکیاں، بھلائیاں، خوبیاں، کارِ خیر اور ثواب، خس و خاشاک: گھاس پُھوس، تِنکے، کوڑا کرکٹ، لعن طعن: مذمت، جھڑکی، برا بھلا کہنا)
سوال جواب
ریڈشٹاٹ (Riedstadt)جرمنی سے ایک چھوٹی بچی نے معصومانہ انداز میں سوال کیا کہ احمدی بچیوں کو کب سے حجاب لینا شروع کرنا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے پُر شفقت انداز میں حجاب کے آغاز کے لیے عمر اور جسمانی کیفیت کے فرق اور تدریجی اصول کی وضاحت فرمائی کہ ابھی تو تم بہت چھوٹی سی ہو! تمہیں تو ضرورت کوئی نہیں، جب تم بڑی ہو جاؤ گی ، کم از کم تیرہ،چودہ سال کی عمر میں اور تمہیں لگے کہ تم بڑی لڑکی لگنے لگ گئی ہو تو اس وقت پھر تم حجاب لے لینا ۔بعض تیرہ، چودہ سال میں لے لیتی ہیں اور اگر بہت زیادہ بڑی لگنے لگ جائیں تو بارہ ،تیرہ سال میں لے لیتی ہیں۔ اگر تمہاری جیسی بالکل چھوٹی چھوٹی سی لگتی ہوں تو پندرہ،سولہ سال میں جا کے لیتی ہیں۔ تو ہر ایک پر depend کرتا ہے۔
حضورِ انور نے بصیرت افروز انداز میں راہنمائی فرمائی کہ ہاں! اصل چیز یہ ہے کہ تمہارے دل میں ایک شرم ہونی چاہیے کہ مَیں مسلمان احمدی بچی ہوں ، مَیں نے کوئی غلط کام نہیں کرنا، سب سے بڑا حجاب یہ ہے ۔
مزید برآں حضورِ انور نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عورتوں اور لڑکیوں کے لیے پردے کے حکم کی وضاحت کرتے ہوئے مناسب لباس اور جسم کو ڈھانپ کر رکھنے اور عمر کے مطابق پردے کے تقاضے پورے کرنے کی بابت توجہ مبذول کروائی کہ اور اس کے بعد پھر جو اللہ تعالیٰ کا حکم عورتوں اور لڑکیوں کو ہے کہ اپنے آپ کو ڈھانک کے رکھنا چاہیے۔اس لیے مَیں اپنا سر اور چہرہ ڈھانپ کے رکھوں ، جسم ڈھانپ کے رکھوں ، ایسے کپڑے نہ پہنوں جو ننگے ہوں، لمبی قمیض ہو، ٹراؤزر ہو، سر ڈھکا ہو ۔ جو بڑی ہو جاؤ تو چہرےکا پردہ بھی ہو، بالوں کاپردہ بھی ہو۔ وہ لڑکیاں جو بڑی ہو جاتی ہیں تو وہ کرتی ہیں۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نےسوال کرنے والی بچی کی کم عمری کو مدِّنظر رکھتے ہوئے مناسب وقت آنے پر حجاب کو بتدریج اختیار کرنے کی نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ ابھی تو تم بہت چھوٹی سی ہو، تو میرا خیال ہے کہ اگر تم اس طرح ہی رہی جس طرح چھوٹی سی ہو تو بارہ؍ تیرہ سال تک تمہیں حجاب کی ضرورت کوئی نہیں، اس کے بعد سوچنا ۔(الفضل انٹرنیشنل 23؍اپریل 2026ء)
نظم
(یہ نظم ایک ایسی بچی کی طرف سے لکھی گئی ہےجس کے نانا اور نانی بیرون ملک ہیں اور وہ صرف ایک بار اپنے نانا اور نانی سے ملی ہے لیکن اس کو یقین ہے وہ اپنے نانا اور نانی سے ایک دن ضرور ملے گی۔)
کیسی ہیں مری نانو جی
سب سے اچھی نانو جی
نانا ابو کیسے ہیں؟
یاد مجھے کیا کرتے ہیں؟
آپ کو مِس میں کرتی ہوں
ماما سے میں کہتی ہوں
لے چل ماما نانو گھر
جی نہیں لگتا میرا اِدھر
اِک دن ملنے آؤں گی
خوب مٹھائیاں کھاؤں گی
پر ہوں دور بہت نانو
بات مری اتنی مانو
یادوں سے جی بھر لینا
یاد دعا میں کر لینا
(سید طاہر احمد زاہد)
