متفرق

ربوہ کا موسم( ۱۵؍تا۲۱؍مئی ۲۰۲۶ء)

۱۵؍مئی جمعۃ المبارک کو نماز فجر کے وقت آسمان صاف تھا اور ہوا بند تھی تاہم خنکی موجود تھی، تمام دن دھوپ نکلی رہی۔ عصر کے بعد مغرب کی طرف سے بادل نمودار ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر پھیل گئے۔ نماز مغرب کے بعد کچھ دیر کے لیے بارش نے اپنا رنگ جمایا اور ہر طرف چھڑکاؤ کردیا۔ ہفتہ کو آسمان پر بادلوں کی ہلکی تہ موجود تھی جس کی وجہ سے دھوپ زمین پر مکمل نہیں پہنچ رہی تھی، ہوا ہلکی رفتار سے چل رہی تھی لیکن اس کے باوجود گرمی محسوس ہوتی تھی۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کو اچانک بادلوں کی گرج چمک کی وجہ سے معلوم ہوا کہ آسمان بادلوں سے بھر چکا ہے، کافی دیر تک گرج چمک جاری رہی اور کچھ دیر کے لیے بارش بھی ہوئی، رات بھر ہوا بھی چلتی رہی۔ اتوار کا دن صاف تھا اور دھوپ نکلی ہوئی تھی جس کی وجہ سے بہت گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ سوموار کو فجر کے وقت ہلکی ہوا چل رہی تھی آسمان بالکل صاف تھا تمام دن سور ج خوب گرمی برساتا رہا۔ ہلکی رفتار سے چلنے والی یہ ہوا دوپہر کو لُو کی شکل اختیار کر گئی، موسم گرما کا تا حال یہ گرم ترین دن تھا اور لُو بھی پہلے دن ہی رواں ہوئی۔

اُس دن ڈوبتے سورج کی زرد کرنیں منظر کو دیدہ زیب کررہی تھیں اور ساتھ کوئل کی کوک موسم کو مزید دلفریب بنا رہی تھی۔ اس موسم گرما کے آغازمیں اپریل کے شروع میں کوئل کی پہلی مرتبہ آواز سُنی گئی۔ کوئل کی آواز کے ذکر سے استاذی المحترم سید میر محمود احمد صاحب ناصر یاد آگئے۔ آپ ہر موسم گرما کے آغاز میں جامعہ اسمبلی میں طلبہ سے پوچھتے تھے کہ کس نے اس موسم میں کوئل کی آواز سُن لی ہے۔ اگر کوئی طالبعلم کہتا کہ میں نے پہلی مرتبہ سُنی ہے تو بہت خوش ہوتے۔ ہر موسم گرما کے آغاز پر نوٹس بورڈ پر اپنے ہاتھ سے یہ تحریر لکھ کر آویزاں کرتے کہ کل مورخہ…کو کوئل کی پہلی مرتبہ آواز سنی گئی، اس طرح آپ نے پرندوں کے رویّوں، ان کی بولیوں کو سمجھنے اور مختلف علاقوں سے ان کی آمد کے اوقات اور واپس جانے کے موسم سے ہمیں آگاہ کیا، پھر ہم سب کو معلوم ہوگیا کہ کوئل اپریل کے آغاز میں بولنا شروع کرتی ہے اور اکتوبر، نومبر تک اس کی کوک سنائی دیتی رہتی ہے۔ مظاہر فطرت اور حقائق الاشیاءپر غور کرنے کا طریقہ اور سلیقہ انہوں نے ہی سکھایا جس سے اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور بھی پختہ ہوگیا۔

منگل کو بھی صبح کے وقت ہلکی ہوا چل رہی تھی جو سارا دن چلتی رہی اور دوپہر کے وقت قدرے گرم ہوگئی، شام کے وقت اس کا ٹمپریچر نارمل ہوگیا، مغرب کے وقت یہ ہوا تیزی اختیار کر گئی۔ بدھ کو صبح کے وقت ہوا بند تھی اور آسما ن پر کوئی بادل نہیں تھا سارا دن خوب گرمی پڑی۔ جمعرات کا دن بھی گرم ہی تھا۔ دوپہر کے وقت لُو چلتی رہی۔ شام کو مغرب کی طرف سے بادل اُٹھے اور اپنے ساتھ اندھیری بھی لیتے آئے۔ کچھ دیر مٹی بکھیرنے کے بعد یہ اندھیری ٹھنڈی ہوا میں بدل گئی اور رات کو بھی اس نے سرد کردیا۔ اس ہفتہ میں اوسط ٹمپریچر زیادہ سے زیادہ ۳۹؍ اور کم سے کم ۲۷؍ درجہ سینٹی گریڈ رہا۔ (ابو سدید)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button