الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
محترم راجہ محمد نواز صاحب آف ڈلوال
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۰؍اپریل۲۰۱۴ء میں مکرم راجہ مسعود احمد صاحب نے اپنے والد محترم راجہ محمد نواز صاحب کے چند ایمان افروز واقعات پیش کیے ہیں۔ مرحوم کا تفصیلی ذکرخیر قبل ازیں الفضل انٹرنیشنل ۷؍جولائی۲۰۲۵ء کے ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ میں شائع ہوچکا ہے۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ جب مَیں تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں زیرتعلیم تھا تو گرمیوں کی چھٹیوں میں چکوال اپنے گھر گیا۔ معلوم ہوا کہ والد صاحب اُن دنوں ایک ریگستانی علاقے میں بطور سرکاری ٹھیکیدار کام کروارہے تھے اور قیام بھی وہیں تھا۔ ایک رات جب آپ وہاں ایک مجلس لگائے بیٹھے تھے تو ایک کاریگر نے کہا کہ تعمیری کام کے لیے پانی ختم ہوچکا ہے اس لیے ٹرک ڈرائیور کو کہہ دیں کہ صبح نماز کے وقت چشمے سے پانی بھر لائے۔ آپ نے کہا کہ جب بھی پانی ختم ہوجاتا ہے، میرا اللہ بارش کردیتا ہے۔ کاریگر کہنے لگا کہ کیا اللہ نے اس کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے؟ آپ نے جواباً فرمایا: ہاں۔ اُس کاریگر نے دوبارہ کہا کہ ڈرائیور سے پانی منگوالیں کیونکہ آسمان صاف ہے اور بارش کے کوئی آثار نہیں۔ آپ کا جواب پھر بھی وہی تھا۔ اللہ کی شان تھی کہ فجر کی اذان سے قبل اچانک بادل آیا اور اتنے زور سے برسا کہ ہر طرف جل تھل ہوگیا۔
۱۹۷۴ء میں ایک پہاڑ کے دامن میں ایک بہت اونچی اور چوڑی دیوار بنانے کا ٹھیکہ کوئی نہیں لے رہا تھا کیونکہ سرکاری ریٹس پر کام کرنا ناممکن تھا۔ چونکہ والد صاحب کے پہلے ٹھیکے مکمل ہوچکے تھے اور بیکار بیٹھنا آپ گناہ سمجھتے تھے۔ آپ نے دیوار کا ٹھیکہ لینے پر رضامندی ظاہر کی تو سرکاری افسران نے آپ سے کہا کہ آپ ہمارے بزرگ ہیں، یہ بہت نقصان والا کام ہے، آپ کو ٹھیکہ دے کر ہم ظلم نہیں کرسکتے۔ آپ نے کہا کہ میرا کام محنت کرنا ہے اور میرا ایمان ہے کہ اللہ رزق دیتا ہے اور کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ لیکن اُن افسران نے پھر بھی انکار کردیا۔ تب آپ ڈپٹی کمشنر سے ملے جن کے ساتھ دوستی بھی تھی۔ اُنہیں ٹھیکہ دینے کے لیے کہا لیکن انہوں نے بھی یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ اس میں نقصان بہت زیادہ ہے۔ لیکن پھر آپ کے اصرار پر وہ مان گئے۔ بعد میں احساس ہوا کہ بظاہر نقصان والے اس کام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لیے غیرمعمولی منافع پوشیدہ تھا۔ سوائے سیمنٹ کے باقی تمام میٹیریل جائے تعمیر پر مفت مل گیا۔ حتّٰی کہ ریت بھی قریب ہی ایک کھائی میں مل گئی۔ جب پانی کی ضرورت پڑتی تو بارش ہوجاتی چنانچہ آپ کو صرف سیمنٹ اور لیبر کی قیمت ادا کرنی پڑی اور اس کام میں اس قدر منافع ہوا کہ آپ نے پہلی مرتبہ نئی کار خریدی۔
ایک مرتبہ اپنے ایک عزیز دوست کے ہاں گئے۔ کھانے کا وقت ہوا تو انہوں نے بتایا کہ گھر میں پکی ہوئی دال اور ساگ حاضر ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ آج میرے نصیب میں دال نہیں دعوت ہے۔ پھر آپ اپنے ایک اَور دوست کے ہاں گئے جنہوں نے آپ کی دعوت کی ہوئی تھی لیکن کسی ایمرجنسی کی وجہ سے اُنہیں شہر سے باہر جانا پڑا۔ چنانچہ آپ واپس اپنے پہلے دوست کے پاس آئے تو انہوں نے مذاقاً کہا کہ میری بات مان لیتے۔ آپ کہنے لگے کہ میرے نصیب میں آج دال نہیں دعوت ہے۔ اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی تو معلوم ہوا کہ کسی اَور کے ملازم نے دعوت کا کھانا پلاؤ، روسٹ مرغ، دو تین سالن اور سویٹ ڈش بھجواتے ہوئے بتایا کہ صاحب نے آج دوستوں کی دعوت کی تھی لیکن آپ کو بلانا بھول گئے اور اب دعوت کا کھانا بھجوایا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے دعوت کے کھانے کا انتظام کردیا۔
تعلیم سے فراغت کے بعد مَیں بھی والد صاحب کے ساتھ کاروبار میں شامل ہوگیا۔ پہلے ایک مہینے میں ہی مَیں نے دیکھا کہ آپ نے تین مختلف ضرورت مندوں کے کام کروانے کے لیے تین مختلف اعلیٰ افسران سے ملاقات کی۔ وہ تینوں آپ کو نہیں جانتے تھے لیکن جیسے بھی آپ نے اُن سے کہا انہوں نے آرڈر جاری کردیے۔ میرے لیے یہ حیران کُن بات تھی۔ مَیں نے اس حیرانی کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا: ’’میرا زندگی بھر یہ معمول رہا ہے کہ جب بھی کسی افسر سے ملنے کے لیے جاتا ہوں تو دعا کرتا ہوں یاباری تعالیٰ! اس افسر کے دل میں میرا احترام ڈال دے، جس کام کے لیے آیا ہوں عزت اور وقار سے میرا کام کردے۔ دعا کرنے کے بعد درودشریف پڑھنا شروع کردیتا ہوں۔ میرا زندگی کا تجربہ ہے کہ جب مَیں متعلقہ افسر کے کمرے میں داخل ہوتا ہوں اور اُس کی نظر مجھ پر پڑتی ہےتو مجھے فوراً محسوس ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کا دل جھکادیا ہے۔ پھر جس طرح مَیں عرض کرتا ہوں وہ اُسی طرح کردیتا ہے۔‘‘ دراصل یہ سب کچھ حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لانے اور خلافت کی غلامی کی برکت کے نتیجے میں تھا۔
………٭………٭………٭………
محترم محمود احمد بشیر صاحب
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم اپریل ۲۰۱۴ء میں مکرم مسعود احمد صاحب کے قلم سے اُن کے والد محترم محمود احمد بشیر صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
مکرم محمود احمد بشیر صاحب موضع جانیوال ضلع فیصل آباد میں ۵؍دسمبر۱۹۲۴ء کو مکرم چودھری عبدالواحد صاحب مولوی فاضل (آف دھاریوال) کے ہاں پیدا ہوئے جو وہاں کے مڈل سکول میں ٹیچر تھے اور واجبی سی زرعی زمین بھی تھی۔ ابتدائی تعلیم دلاکر آپ کو قادیان کے مدرسہ احمدیہ میں داخل کروادیا گیا جہاں سے پرائمری پاس کرنے کے بعد آپ کو آپ کے بھائی اپنے ہمراہ لاہور لے آئے۔ آپ کے دونوں بڑے بھائی میٹرک کرکے لاہور میں ملازم تھے۔
ایف اے کرنے کے بعد آپ انڈین آرمی میں بھرتی ہوگئے۔ پھر اپنے والدین کی وفات کے بعد اپنے ماموں ڈاکٹر چودھری محمد صدیق صاحب کے ہمراہ اٹھوال ضلع گورداسپور چلے گئے جن کا وسیع کاروبار تھا۔ اپنی ملازمت کے ساتھ اُن کے کاروبار میں بھی ہاتھ بٹاتے رہے۔ پھر اُن کی بڑی بیٹی سے آپ کی شادی ہوگئی اور ۱۹۴۶ء میں خاکسار (مضمون نگار) کی پیدائش ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد ہمارا خاندان ضلع سیالکوٹ کے گاؤں جامکے چیمہ میں رہائش پذیر ہوگیا جہاں واجبی سی زمین بھی مل گئی۔ والد صاحب بطور سویلین اکاؤنٹنٹ پاکستان کی مختلف چھاؤنیوں میں ۴۵؍سال نہایت دیانتداری اور دلیری سے ملازمت کرتے رہے۔
خاکسار نے سیالکوٹ سے میٹرک کرلیا تو مزید تعلیم کے لیے ہمارا گھرانہ مستقل رہائش کے لیے ربوہ آبسا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد والد صاحب بھی ربوہ آگئے اور مختلف دفاتر میں دس سال اعزازی خدمت کی توفیق پائی۔ میں نے گریجوایشن کے بعد ۲۶سال تحریک جدید میں ملازمت کرکے پنشن پائی۔
میری شادی کی تو مجھ سے پوچھا کہ کیا ہم میاں بیوی کو آپ نے کبھی تکرار کرتے دیکھا ہے؟ میرا جواب نفی میں پاکر کہا کہ یہی طریقہ تم نے اپنانا ہے، تمہاری بیوی میری اکلوتی ہمشیرہ کی بیٹی ہے، اس کا بہت خیال رکھا کرو۔
آپ نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن کریم کرتے اور پھر ذکرالٰہی میں مصروف رہتے۔ خلیفہ وقت کا ذکر زبان پر آتا تو آبدیدہ ہوجاتے۔ آپ دعاگو اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ میرا بڑا بیٹا منڈی بہاؤالدین میں اور دونوں چھوٹے بیٹے لاہور میں ملازم تھے۔ ایک بار مَیں نے اُن دونوں کے لیے خاص دعا کی درخواست کی تو دو تین دن بعد بتایا کہ تمہارے دونوں چھوٹے بیٹوں کو جرمنی میں دیکھتا ہوں۔ پھر خداتعالیٰ نے غیب سے دونوں بیٹوں کے جرمنی پہنچنے کا انتظام فرمادیا۔ ۱۹۹۳ء میں ہماری والدہ محترمہ کی وفات ہوئی تو والد صاحب اپنے چھوٹے بیٹے کے پاس کینیڈا چلے گئے اور وہاں بھی اعزازی طور پر اکاؤنٹس کے شعبہ میں دس سال خدمات سرانجام دیں۔ اس دوران آپ کو حج بیت اللہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
آپ موصی تھے۔ ہمیشہ نمازباجماعت اور چندہ جات کی ادائیگی کے لیے بےحد فکرمند رہتے۔ ۲۰۰۷ء میں حصہ جائیداد کی مکمل ادائیگی کرکے بےحد خوش اور پُرسکون ہوگئے۔ بوقت وفات آپ کا اداشدہ چندہ فاضلہ تھا۔ آپ ۱۸؍ستمبر۲۰۱۳ء کو وفات پاکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئے۔ آپ نے دو بیٹے اور تین بیٹیاں یادگار چھوڑے ہیں۔
………٭………٭………٭………
محترم ملک محمد اسلم صاحب
روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ ۱۲؍مارچ ۲۰۱۴ء میں محترم ملک محمد اکرم صاحب مربی سلسلہ اپنے برادر اکبر مکرم ملک محمداسلم صاحب ولد مکرم ملک پیرمحمد صاحب کا مختصر ذکرخیر کرتے ہیں جو ۲۸؍نومبر۲۰۱۳ء کو فضل عمر ہسپتال ربوہ میں وفات پاکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئے۔
مکرم محمد اسلم صاحب ضلع جہلم کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ۱۹۴۴ء میں پیدا ہوئے۔ والدین تلاشِ روزگار کے سلسلے میں پہلے سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں اور پھر ضلع گجرات کے ایک گاؤں میں منتقل ہوگئے جہاں مرحوم نے سکول میں داخلہ لیا۔ لیکن ابھی دوسری جماعت میں ہی تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا اور گھر میں موجود مویشیوں کو سنبھالنے اور کاشتکاری کے کام میں مدد کے لیے ان کو سکول سے اٹھالیا گیا۔ بہرحال انہوں نے محنت سے سارے کام کو سنبھالا اور اپنے بڑے بھائی محترم ماسٹر ملک محمد اعظم صاحب اور بعدازاں خاکسار کو بھی تعلیم کے حصول میں ہر طرح معاونت کی۔
۱۹۶۰ء میں محترم ملک محمد اعظم صاحب نے احمدیت قبول کرلی اور پھر ٹیچر ٹریننگ حاصل کرکے ربوہ میں تعلیم الاسلام سکول میں بطور مدرس تعینات ہوگئے۔ اُنہی کی راہنمائی سے خاکسار کو بھی ۱۹۶۲ء میں احمدیت قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ لیکن اسلم بھائی تعلیم یافتہ نہیں تھے اس لیے اُن پر دعوت الی اللہ کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ وہ یہی کہتے تھے کہ تم دونوں نے والدہ صاحبہ کو چھوڑ دیا لیکن مَیں ہرگز نہیں چھوڑوں گا۔
آخر ہماری والدہ محترمہ ربوہ آئیں تو یہاں ماحول کی برکت اور رمضان المبارک کے دوران مسجد مبارک میں علماء کے درس القرآن سن کر اتنی متأثر ہوئیں کہ اَن پڑھ ہونے کے باوجود احمدیت کی طرف مائل ہوگئیں اور چند ماہ بعد بیعت بھی کرلی۔ تاہم اسلم بھائی ربوہ آنے یا کوئی بات سننے کے لیے ہرگز تیار نہ تھے۔بالآخر اللہ تعالیٰ نے خوابوں کے ذریعے اُن پر صداقتِ احمدیت روشن فرمادی اور انہوں نے بھی ۱۹۶۴ء میں بیس سال کی عمر میں بیعت کرلی۔ پھر جلد ہی سب کچھ بیچ کر والدہ محترمہ کے ہمراہ ربوہ منتقل ہوگئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہماری فیملی کو ایک بار پھر اکٹھا کردیا۔
ربوہ آنے کے کچھ عرصے بعد اسلم بھائی کو واپڈا میں حافظ آباد کے مقام پر سرکاری ملازمت مل گئی۔ مگر آپ کے دل میں ربوہ میں قیام کی ایسی تڑپ تھی کہ ایک سال بعد ہی خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے دفتر میں درجہ چہارم کی ایک آسامی کے لیے درخواست دے دی۔ انٹرویو میں پوچھا گیا کہ آپ سرکاری ملازمت اور زیادہ تنخواہ چھوڑ کر معمولی مشاہرہ پرکیوں آنا چاہتے ہیں؟ آپ نے بتایا کہ نیا احمدی ہوں اور اس ماحول میں رہ کر جماعت کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ بہرحال انہیں رکھ لیا گیا اور ایوانِ محمود کا ہر شخص گواہ ہے کہ انہوں نے چالیس سال سے زائد عرصہ اپنے کیے ہوئے عہد کو خوب محنت اور دیانتداری سے نبھایا۔ اپنے محلّے میں بھی حفاظتِ مرکز کی ڈیوٹیاں اور وقارعمل وغیرہ میں شوق سے شامل ہوتے۔ جماعتی خدمات ہوں یا ضرورت مندوں کی مدد ہو، خندہ پیشانی سے ہر قسم کے تعاون کے لیے ہمیشہ تیار رہتے۔ نماز باجماعت کے پابند اور چندوں میں باقاعدہ تھے۔ بہت محنتی تھے۔ بےکار بیٹھنا اُن کے لیے مشکل ہوتا تھا۔ خدمتِ خلق کرنے کی وجہ سے ہردلعزیز تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کی نماز جنازہ میں ایک ہزار سے زیادہ افراد شامل ہوئے۔
………٭………٭………٭………
مزید پڑھیں: قدرت کا ننھا رقاص مکڑا: Peacock Spider




