ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۱۴)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

ہر قوم کو طِبّ سے استفادہ کرنا چاہیے

’’حضرت نے فرمایا کہ مسلمانوں کو انگریزی طبّ سے نفرت نہیں چاہیے۔ الحکمۃ ضالۃ المؤمن۔ حکمت کی بات تو مومن کی اپنی ہے۔ گم ہو کر کسی اور کے پاس چلی گئی تھی۔ پھر جہاں سے ملے جھٹ قبضہ کرلے ۔اس میں ہمارا یہ منشا نہیں کہ ہم ڈاکٹری کی تائید کرتے ہیں بلکہ ہمارا مطلب صرف یہ ہے کہ بموجب حدیث کے انسان کو چاہیے کہ مفید بات جہاں سے ملے وہیں سے لے لے۔ہندی،جاپانی،یونانی،انگریزی ہر طب سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے اور اس شعر کا مصداق اپنے آپ کو بنانا چاہیے ؎

تمتع ز ہر گوشۂ یافتم

زہر خرمنے خوشۂ یافتم

تب ہی انسان کامل طبیب بنتا ہے۔ طبیبوں نے تو عورتوں سے بھی نسخے حاصل کئے ہیں…لیس الحکیم الّا ذو تجربۃٍ لیس الحلیم الا ذو عسرۃ۔

حکیم تجربہ سے بنتا ہے اور حلیم تکالیف اُ ٹھا کر حلم دکھانے سے بنتا ہے اور یوں تو تجربوں کے بعد انسان رہ جاتا ہے کیونکہ قضاءو قدر سب کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔‘‘(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۱۸۹-۱۹۰ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)

تفصیل: یہ شعر شیخ سعدی کا ہے جو کہ آپ کی کتاب بوستان سعدی میں باب بعنوان’’بوستان کے لکھنےکا سبب‘‘ کی ایک نظم میں ہے۔ نظم کے ابتدائی چند اشعار مع اردو ترجمہ جبکہ باقی اشعار کا صرف اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔

در اقصای عالم بگشتم بسی

بہ سر بردم ایام با ھر کسی

میں(سعدی) دنیا میں بہت گھوما پھرا،ہر طرح کے لوگوں سے ملا ۔

تمتع بہ ھر گوشہ ای یافتم

ز ھر خرمنی خوشہ ای یافتم

ہر جانب سے نفع اٹھایا اور ہر کھلوان سے خوشہ چینی کی ۔

چو پاکان شیراز، خاکی نھاد

ندیدم، کہ رحمت براین خاک باد

لیکن شہر، شیراز جیسے نیک طبیعت لوگ مجھے کہیں نہ ملے(اللہ کی ان پر رحمت ہو)

(بقیہ اشعار کا اردو ترجمہ دیا جارہا ہے) اس بابرکت شہر کے لوگوں کی محبت نے مجھے شام و روم جیسے شہر بھلا دیے چنانچہ میں نے مروّت کے خلاف سمجھا کہ شیراز میں خالی ہاتھ واپس چلا جاؤں اور اس قدر محبت کرنے والوں کے لیے کوئی تحفہ بھی نہ لے جاؤں ،میں نے سوچا کہ مصر سے لوگ مصری لاتے ہیں میرے پاس اگرچہ وہ تو نہیں ہے تاہم اس سے زیادہ میٹھی باتیں ضرور ہیں جو دنیا بھر سے میں نے جمع کی ہیں ،مصری تو ایک ہی بار کھا لی جائے گی لیکن میری باتیں اہل دل کاغذوں پہ لکھ کر محفوظ کر لیں گے اور قیامت تک ان سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے۔چنانچہ میں نے کتاب بوستان لکھنا شروع کی اور اس کے دس باب مرتب کیے ہیں ۔

ذیل میں ملفوظات میں آمدہ شعر مع اعراب دیا جاتا ہےجس میں تمتع کے بعد ’’بہ‘‘ کی بجائے ’’ز‘‘ کا حرف ہے ۔

تَمَتُّعْ زِہَرْ گُوْشَۂ یَافْتَمْ

زِہَرْ خِرْمَنِے خُوْشَۂ یَافْتَمْ

لغوی بحث: تَمَتُّعْ(فائدہ) زِ(سے) ہَرْ(ہر) گُوْشَۂ(کونہ/ملک) یَافْتَمْ(میں نےلیا/پایا۔ یافتن(پانا/لینا) مصدر سے ماضی مطلق اول شخص مفرد) زِ(سے) ہَرْ(ہر)خِرْمَنِے(کھلیان /اناج) خُوْشَۂ(خوشہ) یَافْتَمْ(میں نے لیا۔ یافتن(پانا/لینا) مصدر سے ماضی مطلق اول شخص مفرد)

مزید پڑھیں: احمدی عورت کا اہم کردار اور اس کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button