خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍اپریل 2026ء
’’دیکھو ہمارے سید و مولیٰ نبیّنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کمزوری کی حالت میں مکہ میں ظاہر ہوئے تھے اور ان دنوں میں ابوجہل وغیرہ کفار کا کیا کچھ عروج تھا اور لاکھوں آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن جانی ہو گئے تھے تو پھر کیا چیز تھی جس نے انجام کار ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح اور ظفر بخشی۔ یقیناًسمجھو کہ یہی راستبازی اور صدق اور پاک باطنی اور سچائی تھی ‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
آپؐ کی سیرت کے واقعات میں آپؐ کی سچائی کے واقعات کی اعلیٰ ترین مثالیں ملتی ہیں کہ دشمن بھی آپؐ کی راست گوئی اور سچائی کے اعلیٰ ترین معیار کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا
آج ہم سب کو اس حوالے سے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ یہ سچائی کے اعلیٰ معیار ہی ہیں جو ہماری زندگی کے ہر لمحے میں کامیابی کی ضمانت ہیں اور ہمارے لیے تبلیغ کے راستے کھولنے والے بھی ہیں
’’ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دیکھتے ہیں کہ آپؐ کے دشمنوں نے اقرار کیا کہ آپؐ صادق اور امین تھے اور آپؐ پر انہوں نے کوئی الزام نہ لگایا بلکہ دشمن سے دشمن نے بھی آپؐ کی طہارت اور پاکیزگی کی شہادت دی ‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)
تم پر سچ فرض ہے کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور کوئی شخص مسلسل سچ بولتا ہے اور سچ کی جستجو میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے ۔اور تم لوگ جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ بدکاری کی طرف لے جاتا ہے اور بدکاری آگ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا چلا جاتا ہے اور جھوٹ بولنے کی جستجو کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں کذّاب لکھا جاتا ہے اور جب کذّاب لکھا جاتا ہے تو وہ آگ کی طرف جاتا ہے(حدیث نبویﷺ)
حضرت ابوبکرؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا :اللہ کی قسم !میں نے کبھی آپ کو جھوٹ بولتے ہوئے نہیں دیکھا ۔آپؐ یقیناًاپنی امانت کی عظمت ،صلہ رحمی اور اچھے افعال کی وجہ سے نبوت کے زیادہ حقدار ہیں۔ اپنا ہاتھ بڑھائیں تا کہ میں آپؐ کی بیعت کروں
ابوجہل جیسا معاند اور سیاہ باطن انسان کا دل بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا کہنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ گویا جھوٹا کہتے ہوئے اس کی ضمیر بھی اسے ملامت کرتی تھی اور اس کا دل بھی دھڑکنے لگتا تھا کہ میں کیسی قبیح حرکت کر رہا ہوں مگر اس نے بہانہ یہ بنایا کہ میں تو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تعلیم کو جھٹلا رہا ہوں۔ آپ کو تو جھوٹا نہیں کہہ رہا۔ یہ ’’عذر گناہ بدتر از گناہ ‘‘والی بات ہے (حضرت مصلح موعودؓ)
کہتے ہیں ’’جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے۔‘‘ محمد ؐکا یہ کتنا بڑا جادو ہے کہ آپؐ کے اپنے دشمنوں سے بھی اپنی صداقت اور راستبازی تسلیم کروالی (حضرت مصلح موعودؓ)
جب میں نے آپؐ کا چہرہ اچھی طرح دیکھا تو مَیں نے پہچان لیا کہ آپؐ کا چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں(ایک روایت)
مَیں نے محمد سے معاہدہ کیا ہوا ہے اور میں ہرگز اس معاہدے کو توڑنے والا نہیں ہوں اور میں نے آپ سے وفاداری اور صدق کے سوا کچھ نہیں دیکھا (ایک مخالف یہودی سردار)
ہلاکت ہے اس شخص پر جو بات کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے تا کہ اس کی وجہ سے لوگ ہنس پڑیں۔ اس کے لیے ہلاکت ہے ۔اس کے لیے ہلاکت ہے(حدیث نبویﷺ)
اس ذات کی قَسم! جس کے ہاتھ میںمیری جان ہے اس سے حق اور سچ کے سوا اَور کچھ نہیں نکلتا(حدیث نبویﷺ)
’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی مقام تو سچ کے متعلق اتنا بالا تھا کہ آپ کی قوم نے آپؐ کا نام ہی صدیق رکھ دیا تھا۔ آپؐ اپنی جماعت کو بھی سچ پر قائم رہنے کی ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے۔اورایسے اعلیٰ درجہ کے سچ کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش فرماتے تھے جو ہر قسم کے جھوٹ کے شائبوں سے پاک ہو ‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)
جہاں آپؐ نے سچائی اور صاف گوئی کے معیار قائم فرمائے کہ دشمن بھی اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے وہاں آپؐ نے اپنے ماننے والوں کو بھی سچائی کے اعلیٰ معیار کو حاصل کرنے کی تلقین فرمائی ہے
آج ہر احمدی کا کام ہے کہ ہم اپنے جائزے لے لیں کہ ہمارے سچائی کے معیار کیا ہیں اور جو کمزوریاں ہیں انہیں ہم نے دور کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے
آنحضرتﷺ کے خُلق صداقت ،سچائی اورراستبازی کے حوالے سے سیرت النبی ﷺ کا ایمان افروز تذکرہ
حضرت مسیح موعودؑ کی نواسی، حضرت نواب عبد اللہ خان صاحبؓ اور حضرت صاحبزادی نواب امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ ؓکی بیٹی مکرمہ شاہدہ احمد صاحبہ اہلیہ مکرم مرزا نسیم احمد صاحب مرحوم کی وفات پر مرحومہ کاذکر خیر اور نماز جنازہ غائب
بعض دفعہ لوگوں کی ایسی نیکیاں ہوتی ہیں جو عموماً چھپی رہتی ہیں لیکن جن سے کی ہوئی ہوں بعد میں ان سے پتہ چلتا ہے۔ یہ بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھیں
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍اپریل 2026ء بمطابق 17؍شہادت1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ (اور) تُو (انہیں) کہہ کہ اگر اللہ کی (یہی) مشیت ہوتی (کہ اس کی جگہ کوئی اور تعلیم دی جائے) تو مَیں اسے تمہارے سامنے پڑھ کر نہ سناتا اور نہ وہ (ہی) تمہیں اس (تعلیم) سے آگاہ کرتا۔ چنانچہ اس سے پہلے میں ایک عرصہ دراز تم میں گزار چکا ہوں کیا پھر (بھی) تم عقل سے کام نہیں لیتے۔پھر (تم ہی بتاؤ کہ) جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کے نشانات کو جھٹلائے اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا (غرض) یہ یقینی بات ہے کہ مجرم لوگ کامیاب نہیں ہوتے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کا ذکر ہو رہا ہے۔ آج آپؐ کے خُلق صداقت ،سچائی ،راستبازی کے بارے میں ذکر ہو گا۔ آپؐ کی سیرت کے واقعات میں آپؐ کی سچائی کے واقعات کی اعلیٰ ترین مثالیں ملتی ہیں کہ دشمن بھی آپؐ کی راست گوئی اور سچائی کے اعلیٰ ترین معیار کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
آپؐ کی سچائی کے اس معیار کو ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے جو میں نے تلاوت کی ہے۔ اور یہ اعلان آپؐ سے کروایا کہ ان کو کہو کہ مَیں نے کبھی کسی بھی صورت میں جھوٹ نہیں بولا۔ سچائی کا دامن نہیں چھوڑا اور تم لوگ اس کے گواہ ہو۔ تو کیا خدا تعالیٰ پر میں جھوٹ بولوں گاکہ مَیںایک ایسا دین لے کے آیا ہوں جو خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا ۔اور اس کے ساتھ ہی آپؐ نے اپنے ماننے والوں کو بھی یہ تلقین فرمائی کہ اب تم جو میری اتّباع میں آئے ہو،میری پیروی کرنے کا عہد کیا ہے تو سچائی کے اعلیٰ معیار قائم کرو۔ پس
آج ہم سب کو اس حوالے سے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ یہ سچائی کے اعلیٰ معیار ہی ہیں جو ہماری زندگی کے ہر لمحے میں کامیابی کی ضمانت ہیں اور ہمارے لیے تبلیغ کے راستے کھولنے والے بھی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ لکھا یا خطبے میں فرمایا کہ
’’ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دیکھتے ہیں کہ آپؐ کے دشمنوں نے اقرار کیا کہ آپؐ صادق اور امین تھے اور آپؐ پر انہوں نے کوئی الزام نہ لگایا بلکہ دشمن سے دشمن نے بھی آپؐ کی طہارت اور پاکیزگی کی شہادت دی ۔
چنانچہ مکہ میں ایک مجلس ہوئی کہ باہر سے جب لوگ مکہ میں آئیں گے اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )کے متعلق پوچھیں گے تو ان کو کیا جواب دیں گے۔ سارے مل کر ایک جواب بنا لو تا کہ اختلاف نہ ہو۔ آگے ہی ہم بدنام ہو رہے ہیں کہ ایک کچھ کہتا ہے اور دوسرا کچھ کہتا ہے۔ اس لیے حج پر جو لوگ آئیں گے انہیں کہنے کے لیے ایک بات کا فیصلہ کر لو۔ اس پر ان میں سے ایک نے کہا یہ کہہ دینا کہ جھوٹ کی عادت ہے۔ جو کچھ کہتا ہے سب جھوٹ ہے۔ یہ سن کر ایک شخص جس کا نام نضر بن حارث تھا کھڑا ہوا اور اس نے کہا یہ بات نہیں کہنی چاہیے۔ اگر یہ کہو گے تو کوئی نہیں مانے گا اور لوگ جواباً کہیں گے کہ …محمد‘‘صلی اللہ علیہ وسلم ’’ نے تم میں جوانی کی عمر بسر کی ہے اور اس وقت وہ تم سب سے زیادہ نیک سمجھا جاتا تھا اور سب سے زیادہ سچا سمجھا جاتا تھا اور سب سے زیادہ امانت کا پابند تھا یہاں تک کہ جب اس کی کنپٹیوں میں سفید بال آ گئے اور وہ تمہارے پاس وہ تعلیم لایا جو وہ لایا ہے’’ یعنی اسلام کی تعلیم ‘‘تو تم کہنے لگ گئے کہ وہ جھوٹا ہے۔ خدا کی قَسم !ان حالات میں وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اس شخص کے اس جواب پر سب نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور اس اعتراض کی بجائے اَور بات سوچنے لگے۔ کیسی سچی بات تھی جو اس شخص نے پیش کی۔ اگر پہلے کبھی رسول کریم ؐکی طرف انہوں نے جھوٹ منسوب کیا ہوتا تو اب کوئی مان سکتا تھا لیکن جب پہلے وہ ساری عمر آپؐ کو صادق کہتے رہے تھے تو پھر یکدم جھوٹ کے الزام کو کون سچا مان سکتا تھا۔
اسی طرح ہرقل نے جب ابوسفیان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا کہ انہوں نے کبھی جھوٹ بولا ہے تو اس نے کہا آج تک تو نہیں بولا اور کہا کہ آج تک کا لفظ میں نے اس لیے لگایا تا کہ شبہ پڑ سکے کہ شاید آئندہ بولے۔
اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ پر چڑھ کر لوگوں کو بلایا۔’’ پہلے بھی یہ واقعہ مَیں نے بیان کیا ہے اور اب یہ سچائی کے حوالے سے ہے۔‘‘اور جب وہ جمع ہو گئے تو فرمایا کیا اگر میں تمہیں کہوں کہ فلاں وادی میں ایک فوج جمع ہے جو تم پر حملہ کرنے والی ہے تو مان لو گے؟ انہوں نے کہا ہاں مان لیں گے۔ حالانکہ مکہ والوں کی بے خبری میں اس قدر فوج اس قدر قریب جمع نہیں ہو سکتی تھی۔ پس ان لوگوں کا اس قسم کی بات بھی جو بظاہر ناممکن الوقوع ہو’’ یعنی واقع ہو ہی نہیں سکتی ،ممکن ہی نہیں ہے‘‘ آپؐ کے منہ سے سن کر ماننے کے لیے تیار ہو جانا بتاتا ہے کہ آپؐ کی صداقت پر ان لوگوں کو اس قدر یقین تھا کہ وہ یہ ناممکن خیال کرتے تھے کہ آپ جھوٹ بول سکیں یا دھوکہ دے سکیں۔‘‘
(ہستی باری تعالیٰ، انوار العلوم جلد 6 صفحہ 309، 310)
اسی حوالے سے مزید بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی چیز تھی جو مخالفین پر اثر کرتی تھی ؟وہ قرآن کریم سے ابتداءًمتاثر نہیں ہوئے۔قرآن کریم کی تعلیم تو انہیں متاثر نہیں کر سکی جو آپؐ کی تعلیم پر عمل کروانے کے لیے یا آپؐ کی بیعت میں لانے کے لیے ذریعہ بنتی بلکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زندگی تھی ۔آپؐ ان میں رہے ۔آپؐ کی دیانت ،آپؐ کی راستبازی اور ہمدردیٔ خلائق اور ایثار تھا جو ان پر اثر کرتا تھا۔ دعویٰ سے پہلے آپؐ ان کو شرک سے منع نہیں کرتے تھے کیونکہ حکم خداوندی نہ تھا لیکن آپؐ خود مشرک نہ تھے۔ آپؐ کے طور طریقے کی خوبی ہی تھی جس کا اثر تھا اور یہ اثر اندر ہی اندر کھاتا جاتا تھا۔ یعنی لوگوں پہ اثر کر رہا تھا یہ۔ آپؐ کی نیکی کی جو کیفیت تھی، جو آپؐ کا اسوہ تھا وہ لوگوں پہ بہرحال اثر کر رہا تھا اور وہ اس کے مقابلے میں آنکھیں نہیں اٹھا سکتے تھے جیسا کہ پہلے بھی واقعہ میں نے بیان کیا ہے کہ مکہ میں پہاڑی پر چڑھ کر آپؐ نے جب لوگوں کو بلایا کہ اگر یہ کہوں کہ سارا لشکر ہے تو تم مان لو گے؟ حالانکہ یہ ممکن نہیں تھا لیکن پھر بھی لوگوں نے یہی کہا کہ ہاں !ہم مان لیں گے اور اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ آپؐ نے کبھی غلط بات نہیں کی اور یہی کہا کہ ہم نے کبھی تجھ کو جھوٹ بولتے نہیں سنا اور تُو ہمیشہ دیانتدار رہا ہے ۔ہمیشہ سچ بولتا رہا ہے ۔اس لیے اس بات کو بھی ہم مان لیں گے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ اچھا !اگر تو یہ بات ہے تو مَیں پھر ایک اَور سچی بات تمہیں بتاتا ہوں اور وہ سچی بات یہ ہے کہ خدا ایک ہے اور شرک بُری چیز ہے۔ ایک خدا کی عبادت کرو ۔شرک چھوڑ دو ورنہ تم پہ عذاب آئے گا۔ اس بات نے ان پر اثر نہیں کیا ۔آپؐ کی زندگی نے اثر کیا تھا ۔آپؐ کے عمل نے اور آپؐ کی سچائی نے ،آپؐ کی راستبازی نے ،آپؐ کی نیکی نے ان پر اثر کیا تھا۔لیکن یہ دعویٰ جب پیش کیا تو اس نے اثر نہیں کیا اور انہوں نے اس کا انکار کر دیا۔ پس اصل چیز یہ ہے کہ انسان کا اسوہ ایسا ہونا چاہیے ،اس کا عمل ایسا ہونا چاہیے کہ جو لوگوں کو متاثر کر سکے ۔اور جب یہ ہوگا تو کسی نہ کسی وقت پھر اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ جب تبلیغ کے راستے بھی کھل جاتے ہیں اور وہی لوگ جو مخالف ہوتے ہیں وہ پھر اسلام کی آغوش میں بھی آنے لگ جاتے ہیں اور حقیقی اسلام کو جاننے بھی لگ جاتے ہیں۔
(ماخوذ از خطبات محمود جلد 7 صفحہ 374، 375)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :’’خدا تعالیٰ نے ہمارے سیّد و مولیٰ، نبی آخرالزمان کو جو سیّد المتقین تھے انواع اقسام کی تائیدات سے مظفر اور منصور کیا۔ گو اوائل میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی طرح داغِ ہجرت آپ کے بھی نصیب ہوا مگر وہی ہجرت فتح اور نصرت کے مبادی اپنے اندر رکھتی تھی۔ سواَے دوستو!یقیناًسمجھو کہ متقی کبھی برباد نہیں کیا جاتا۔ جب دو فریق آپس میں دشمنی کرتے ہیں اور خصومت کو انتہا تک پہنچاتے ہیں تو وہ فریق جو خدا تعالیٰ کی نظر میں متقی اور پرہیز گار ہوتا ہے آسمان سے اس کے لیے مدد نازل ہوتی ہے اور اس طرح پر آسمانی فیصلہ سے مذہبی جھگڑے انفصال پا جاتے ہیں۔‘‘ یعنی مذہبی جھگڑوں کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔
’’دیکھو ہمارے سید و مولیٰ نبیّنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کمزوری کی حالت میں مکہ میں ظاہر ہوئے تھے اور ان دنوں میں ابوجہل وغیرہ کفار کا کیا کچھ عروج تھا اور لاکھوں آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن جانی ہو گئے تھے تو پھر کیا چیز تھی جس نے انجام کار ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح اور ظفر بخشی۔ یقیناًسمجھو کہ یہی راستبازی اور صدق اور پاک باطنی اور سچائی تھی ‘‘جس کی وجہ سے یہ کامیابیاں ہوئیں۔
(راز حقیقت، روحانی خزائن جلد 14صفحہ 155-156)
پھر آپؑ فرماتے ہیں :’’اللہ جلشانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔… یعنی تُو ایک بزرگ خلق پر قائم ہے۔ سو اسی تشریح کے مطابق اس کے معنے ہیں یعنی یہ کہ تمام قسمیں اخلاق کی سخاوت، شجاعت، عدل، رحم، احسان، صدق، حوصلہ وغیرہ تجھ میں جمع ہیں۔ غرض جس قدر انسان کے دل میں قوّتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ادب، حیا، دیانت، مروّت، غیرت، استقامت، عفّت، زہادت، اعتدال، مؤاسات یعنی ہمدردی۔ ایسا ہی شجاعت، سخاوت، عفو، صبر، احسان، صدق، وفا وغیرہ جب یہ تمام طبعی حالتیں عقل اور تد بر کے مشورہ سے اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہوگا۔‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10صفحہ 333)
پس
اخلاق صرف یہ نہیں ہے کہ کسی سے خوش اخلاقی سے مل لیا یا سلام کر لیا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق تو ساری جو نیکیاں ہیں اور لوگوں سے جو معاملات ہیں ان میں ان کا اظہار جو ہے وہ اعلیٰ اخلاق ہیں جس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سچائی کو دنیا میں پھیلانے کے لیے آئے تھے ۔اس لیے
مختلف موقعوں پر آپؐ پر ایمان لانے والوں کو بھی آپؐ نے سچائی پر قائم رہنے کی تلقین فرمائی۔
چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم پر سچ فرض ہے کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور کوئی شخص مسلسل سچ بولتا ہے اور سچ کی جستجو میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے ۔اور تم لوگ جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ بدکاری کی طرف لے جاتا ہے اور بدکاری آگ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا چلا جاتا ہے اور جھوٹ بولنے کی جستجو کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں کذّاب لکھا جاتا ہے اور جب کذّاب لکھا جاتا ہے تو وہ آگ کی طرف جاتا ہے۔
پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔
(جامع الترمذی کتاب البر و الصلۃ باب ما جاء فی الصدق والكذب، حدیث 1971)
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بےشک جھوٹ کسی حال میں درست نہیں نہ سنجیدگی میں اور نہ مذاق میں۔
لوگ بعض مذاق میں کہتے ہیں کہ جی ہم نے مذاق کیا تھا جھوٹ بولا تھا۔ یہ مذاق میں بھی جائز نہیں ہے۔
اور نہ یہ کہ کوئی شخص اپنے بچے سے وعدہ کرے پھر اسے پورا نہ کرے۔ یقیناً سچائی نیکی کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اور بےشک جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی آگ یعنی جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔ سچے شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ کہا اور نیکی کی اور جھوٹے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا اور برائی کی۔
(الجامع لشعب الایمان بیھقی جلد 6 صفحہ 441 حدیث:4453مکتبۃ الرشد)
سورہ توبہ کی آیت ایک سو انیس کہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ کہ اَے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ اس آیت کی تشریح میں علامہ رازی ؒکہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مَیں ایسا شخص ہوں کہ جو چاہتا ہے کہ اپنی برائیوں سے بچے لیکن مجھے شراب، زنا، چوری اور جھوٹ بہت پسند ہیں۔ یہ عادتیں ایسی ہیں جو میرے میں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپؐ ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ اب میں ایمان تو لے آیا ہوں، لانا چاہتا ہوں لیکن آپؐ کہتے ہیں یہ چیزیں حرام ہیں اور مجھ میں یہ بہت زیادہ ہیں اور مجھے پوری طاقت نہیں کہ ان سب کو چھوڑوں۔ اگر آپؐ صرف ایک پر قناعت کریں ایک بات مجھے بتادیں کہ جس کو میں چھوڑوں تو میں آپؐ پر ایمان لے آؤں گا۔ آپؐ نے فرمایا پھر ٹھیک ہے پھر جھوٹ چھوڑ دو۔ اس نے یہ قول کر لیا اور مسلمان ہو گیا۔ پھر جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلا تو اس کو شراب پیش کی گئی۔ اس نے کہا کہ اگر میں پیتا ہوں اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پوچھیں اور مَیں جھوٹ بولوں تو میں بدعہدی کا مرتکب ہوں گا اور اگر سچ کہوں تو مجھ پر حد لگائی جائے گی۔ اس پر اس نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر زنا پیش کیا گیا۔ پھر سب کچھ اس کے ذہن میں آیا اس نے اسے بھی ترک کر دیا اور اسی طرح چوری کو بھی۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا :
جو آپؐ نے کیا وہ کیا ہی عمدہ تھا۔ جب آپؐ نے مجھے جھوٹ سے روکا تو باقی تمام گناہوں کے دروازے میرے لیے بند ہو گئے اور اس طرح اس نے ہر برائی سے توبہ کر لی۔
(التفسیر الکبیر امام رازی جزء 16 صفحہ 227 تفسیر سورۃ التوبۃ زیر آیت119۔ دار الفکر بیروت 1981ء)
حضرت ابوبکرؓ کے قبول اسلام کے بارے میں
لکھا ہے۔ امّ المومنین حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گہرے اور مخلص دوست تھے۔ جب آپؐ مبعوث ہوئے تو قریش کے لوگ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے اور کہا کہ اے ابوبکر !تمہارا یہ ساتھی دیوانہ ہو گیا ہے ۔نعوذ باللہ۔ حضرت ابوبکر ؓنے کہا کہ ان کا کیا معاملہ ہے ؟تو لوگوں نے کہا کہ وہ مسجد حرام میں لوگوں کو توحید یعنی خدائے واحد کی طرف بلاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓنے کہا یہ بات انہوں نے کہی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں !اور وہ یہ بات مسجد حرام میں کہہ رہے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے اور آپؐ کے دروازے پر دستک دی ۔آپؐ کو باہر بلایا۔ جب آپؐ ان کے سامنے آئے تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ اے ابوالقاسم !مجھے آپ کے متعلق کیا بات پہنچی ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر !تمہیں میرے متعلق کیا بات پہنچی ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ اللہ کی توحید کی طرف بلاتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اے ابوبکر! یقیناًمیرے ربّ عزّوجلّ نے مجھے بشیر اور نذیر بنایا ہے اور مجھے ابراہیم کی دعا بنایا ہے اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا ہے۔
حضرت ابوبکرؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا :اللہ کی قسم !میں نے کبھی آپ کو جھوٹ بولتے ہوئے نہیں دیکھا ۔آپؐ یقیناًاپنی امانت کی عظمت ،صلہ رحمی اور اچھے افعال کی وجہ سے نبوت کے زیادہ حقدار ہیں۔ اپنا ہاتھ بڑھائیں تا کہ میں آپؐ کی بیعت کروں۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کی بیعت کی اور آپؐ کی تصدیق کی اور اقرار کیا کہ آپؐ جو لے کر آئے ہیں وہ حق ہے۔ پس اللہ کی قَسم !جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کواسلام کی طرف بلایا تو حضرت ابوبکرؓ نے کوئی توقّف اور تردّد نہیں کیا۔
(ریاض النضرۃ مترجم جلد 1 صفحہ 154تا 156، چشتی کتب خانہ لاہور 2017ء)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں: ’’جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہارِ نبوت فرمایاتو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شام کی طرف گئے ہوئے تھے جب واپس آئے تو ابھی راستہ ہی میں تھے کہ ایک شخص ان سے ملا۔ اس سے مکہ کے حالات پوچھے اور کہا کہ کوئی تازہ خبر سناؤ۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان سفر سے واپس آتا ہے تو اگر کوئی اہل وطن مل جاوے تو اس سے وطن کے حالات پوچھتا ہے۔ اس نے کہا کہ نئی بات یہ ہے کہ تیرے دوست محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے۔آپ نے سنتے ہی کہا اگر اس نے یہ دعویٰ کیا ہے تو بیشک وہ سچا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ پر کس قدرحسن ظن تھا۔ ‘‘یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت ابوبکر ؓکو کتنا حسن ظن تھا۔ ’’معجزے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی اور حقیقت یہ ہے کہ معجزہ وہ شخص مانگتا ہے جو حالات سے واقف نہ ہو اور جہاں غیریت ہو اور وہ تسلّی پانے کے لیے کہتا ہو لیکن جس کو انکار ہی نہیں ہے اس کو معجزہ کی کیا ضرورت ؟ غرض حضرت ابو بکر صدیق راستہ ہی میں سن کر ایمان لے آئے اور جب مکہ پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ کیا آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں درست ہے۔ اس پرحضرت ابو بکر صدیق نے کہا کہ آپ گواہ رہیں میں آپ کا پہلا مصدّق ہوں۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 337، ایڈیشن 2022ء)
پھر ایک دوسری جگہ آپؑ نے اس رنگ میں بیان فرمایا کہ اس بات کوسمجھنا سعادت ہے جس نے اوّل زمانہ میں نہیں پایا اس کی کوئی قابلیت اور خوبی نہیں۔ جو شروع میں پیغام سن کے بیعت کر لے ،قبول کر لے ،وہی قابل انسان ہے ۔وہی حقیقت میں اس کی سعید فطرت ہے۔ جو حیل و حجت کرتا ہے اس کی تو کوئی قابلیت نہیں ہے ۔کوئی خوبی نہیں ہے۔ لیکن جب خدانے کھول دیا اس وقت تو پتھر اور درخت بھی بولتے ہیں۔ یعنی جب سارا کچھ واضح ہو جائے، ہر چیز واضح ہو جائے ۔نشانات ظاہر ہونے لگ جائیں۔ پھر اگر قبول کر لیا تو پھر تو ہر چیز ہی قبول کرتی ہے۔ زیا دہ قابل ِقدر وہ شخص ہے جو اوّل قبول کرتا ہے جیسے حضرت ابو بکرؓ نے قبول کیا۔ آپؓ نے کوئی معجزہ نہیں مانگا اور آپؐ کے منہ سے ابھی نہیں سنا تھا کہ ایمان لے آئے۔ یعنی کوئی دعویٰ بھی نہیں سنا تھا کہ ایمان لے آئے۔ لکھا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اپنی تجارت پر گئے ہوئے تھے۔ یہ سارا واقعہ آپؑ نے بیان کیا کہ راستہ میں شخص ملا۔ اس سے پوچھا، تازہ خبر پوچھی تو اس نے بتایا کہ آپ کے دوست نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سن کے یہ کہا کہ اگر نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو وہ سچا ہے۔
آپؑ فرماتے ہیں اب غور سے دیکھو کہ حضرت ابو بکرؓ نے اس وقت کوئی نشان یا معجزہ نہیں مانگا بلکہ سنتے ہی ایمان لے آئے اور دعویٰ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے بھی نہیں سنا بلکہ ایک اَور شخص کی زبانی سنا اور فوراً تسلیم کر لیا۔ یہ کیسا زبردست ایمان ہے۔ روایت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے سن کر۔ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے سن کر اس میں جھوٹ کا احتمال نہیں سمجھا۔ یہ روایت سنی کہ آپؐ نے دعویٰ کیا ہے تو اس پر ایمان لے آئے کیونکہ پتہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ نہیں بول سکتے۔ دیکھو! حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی نشان نہیں مانگا۔ یہی وجہ تھی کہ آپؓ کا نا م صدیق ہوا۔ سچائی سے بھرا ہوا۔ صرف منہ دیکھ کر ہی پہچان لیا کہ یہ جھوٹا نہیں ہے۔ پس صادقوں کی شناخت اور ان کو تسلیم کرنا کچھ مشکل امر تو نہیں ہوتا۔ ان کے نشانات ظاہر ہو تے ہیں۔
(ماخوذ ازملفوظات جلد4صفحہ122-123، ایڈیشن 2022ء)
حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ اس بارے میں ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ میں خدیجہ ؓکی شہادت سے چشم پوشی نہیں کر سکتا جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دعویٰ نبوت میں دی ہے۔ حضور علیہ السلام نے جب ندائے الٰہی سنی اور دیکھا کہ تمام دنیا اس وعظ کی مخالفت کرے گی جب آپؐ نے فرمایا :خدیجہ! مجھے اپنی جان پر خوف بن گیا تو وہ کہتی ہیں کہ خوش ہو۔ پس خدا کی قَسم !کبھی تجھے اللہ ذلیل نہیں کرے گا۔
حضرت خدیجہؓ نے کہا :لوگ جو مرضی کہتے رہیں آپؐ خوش ہو جائیں ۔اگر یہ بات ہے تو اللہ آپ کو ذلیل نہیں کرے گا کیونکہ آپؐ تو ہمیشہ صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچ بولتے ہیں اور دکھ والے کا دکھ برداشت کرتے ہیں اور مفلس کو دیتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور بھلے کاموں میں وقتاً فوقتاً مدد کرتے ہیں۔
حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں
غور کرو پچپن سالہ بی بی آپؐ کی ہم شہر، ہم قوم جو پندرہ سال سے آپؐ کے بیاہ میں ہے کیا گواہی دیتی ہے۔ خدیجہ ؓکی گواہی ایسے وقت میں جبکہ آپؐ غمگین اور مضطرب تھے غور کے قابل ہے۔ اگر آپؐ میں یہ صفات نہ ہوتے تو خدیجہ ؓکا یہ بیان اس وقت ہرگز تسلّی کا موجب نہ ہوتا۔
(ماخوذ از ارشادات نور جلد 2 صفحہ 330-331و حاشیہ )
شعب ابی طالب میں محصوری کی حالت میں جب تیسرا سال ہونے کو آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر اپنے چچا ابو طالب کو اطلاع دی کہ بنو ہاشم سے بائیکاٹ کا جو معاہدہ خانہ کعبہ میں لٹکایا گیا تھا اس کی ساری عبارت کو اللہ کے ذکر کے سوا دیمک کھا گئی ہے۔
ابوطالب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر ایسا یقین تھا کہ انہوں نے پہلے اپنے بھائیوں سے آپؐ کی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خدا کی قسم !محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا۔
چنانچہ وہ ان کے ساتھ سرداران قریش کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ میرے بھتیجے نے مجھے یہ بتایا ہے اور اس نے مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاہدے پر دیمک کو مسلط کر دیا ہے اور وہ اس میں سے سوائے اللہ کے ذکر کے سب کچھ کھا گئی ہے۔ اگر میرا بھتیجا سچا نکلا تو تمہیں اپنے بائیکاٹ کے فیصلے سے ہٹنا ہو گا اور اگر وہ جھوٹا ثابت ہوا تو میں اسے تمہارے حوالے کر دوں گا۔ چاہو تو اسے قتل کرو اور چاہو تو زندہ رکھو۔ انہوں نے کہا بالکل یہ انصاف کی بات ہے۔ پھر جب معاہدے کو دیکھا گیا تو وہ ایسا ہی تھا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔چنانچہ قریش اپنی قوم کے سامنے شرمندہ ہو گئے۔
(الوفاء باحوال المصطفیٰ جلد 1صفحہ315-316 المؤسسۃ السعیدیۃ، ریاض)
قریش نے ایک دفعہ اپنے ایک سردار عتبہ کو نمائندہ بنا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا ۔اس نے کہا کہ آپ ہمارے معبودوں کو کیوں بُرا بھلا کہتے ہیں اور ہمارے آباء کو کیوں گمراہ قرار دیتے ہیں ؟آپ کی جو بھی خواہش ہے ہم پوری کرتے ہیں۔ آپ ان باتوں سے باز آ جائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تحمل اور خاموشی سے ان کی باتیں سنتے رہے۔ جب وہ سب کہہ چکا تو آپؐ نے سورة حٰم فصلت کی چند آیات تلاوت کیں اور جب آپؐ اس آیت پر پہنچے کہ ’’مَیں تمہیں عاد اور ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں ‘‘تو عتبہ نے آپؐ کو روک دیا کہ اب بس کریں اور عتبہ اٹھ کر اپنے ساتھیوں کے پاس آ گیا۔ اس نے قریش کو جا کر کہا کہ
میں جانتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جب کوئی بات کہتا ہے تو وہ ہرگز جھوٹ نہیں کہتا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم پر وہ عذاب نہ آ جائے۔
(السیرۃ الحلبیۃ جلد اوّل صفحہ428۔429مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)
ابوجہل کی گواہی بھی ملتی ہے۔ حضرت علیؓ نے بیان فرمایا کہ ابوجہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں جو آپ لے کر آئے ہیں ۔یعنی آپؐ کے دین کو جھٹلاتے ہیں۔
(جامع الترمذی کتاب تفسیر القرآن باب و من سورۃ الانعام حدیث 3064)
ایک روایت میں ہے۔اَخْنَسْ بن شَرِیْق بدر کے دن ابوجہل سے ملا۔ اس نے کہا اے ابوالحکم!یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی نہیں ہے جو ہماری بات سن رہا ہو۔ مجھے محمد کے بارے میں سچ سچ بتاؤ کیا وہ سچے ہیں یا جھوٹے؟ ابوجہل نے جواب دیا :اللہ کی قَسم !محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) یقینا ًسچے ہیں اور محمد نے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا۔
(شرح الشفا جلد1صفحہ303-304دارالکتب العلمیۃ2001ء)
حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کر رہے ہیں۔ یعنی یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ انہوں نے چالیس سال تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپؐ کے اخلاق اور عادات کا انہوں نے مشاہدہ کیا اور انہوں نے اپنی عینی شہادات سے اس امر کو تسلیم کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت راستباز انسان ہیں ۔مگر جب اس راستباز انسان نے یہ کہا کہ مَیں خدا کی طرف سے تمہاری ہدایت کےلیے مبعوث کیا گیا ہوں تو اس کی مخالفت کےلیے کھڑے ہو گئے۔ اگر کوئی غیر شخص یہ بات کہتا تو وہ معذور سمجھا جا سکتا تھا اور اس کے متعلق خیال کیا جا سکتا تھا کہ چونکہ اس نے محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا اس لیے وہ آپ کی طرف یہ بات منسوب کر رہا ہے کہ آپ نے خدا تعالیٰ پر افترا کیا ہے لیکن مکہ کے رہنے والے جن کے سامنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح تھی آپ کو کس طرح مفتری قرار دینے لگ گئے…‘‘یہ کس طرح ممکن تھا کہ آپؐ کو جھوٹا کہتے حالانکہ دل میں مانتے تھے کہ آپؐ سچے ہیں۔ ’’ابوجہل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا شدید دشمن تھا۔‘‘ ابھی پہلے بھی ایک گواہی ملی ہے۔ ’’مگر اس نے بھی ایک موقعہ پر کہہ دیا‘‘ جو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان کیا ہے’’ کہ اے محمد!(ﷺ) ہم تجھ کو تو جھوٹا نہیں کہتے۔ ہم تو اس تعلیم کی تکذیب کرتے ہیں جسے تُو پیش کر رہا ہے۔ گویا
ابوجہل جیسا معاند اور سیاہ باطن انسان کا دل بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا کہنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ گویا جھوٹا کہتے ہوئے اس کی ضمیر بھی اسے ملامت کرتی تھی اور اس کا دل بھی دھڑکنے لگتا تھا کہ میں کیسی قبیح حرکت کر رہا ہوں مگر اس نے بہانہ یہ بنایا کہ میں تو محمد رسول اللہ‘‘صلی اللہ علیہ وسلم ’’کی تعلیم کو جھٹلارہا ہوں۔ آپ کو تو جھوٹا نہیں کہہ رہا۔ یہ ‘‘عذر گناہ بدتر از گناہ ‘‘والی بات ہے
مگر بہرحال
اس سے اُس اثر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو شدید ترین معاندین کے دلوں پر بھی آپؐ کی صداقت اور راستبازی کی وجہ سے قائم ہو چکا تھا۔
اُمَیّہ ابنِ خَلَف بھی آپؐ کا ایک شدید معاند تھا مگر ایک موقعہ پر اس کی زبان سے بھی یہ الفاظ نکل گئے کہ خدا کی قسم !جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بات کرتا ہے تو سچی ہی کرتا ہے جھوٹ نہیں بولتا۔
کہتے ہیں ’’جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے۔‘‘ محمد ؐکا یہ کتنا بڑا جادو ہے کہ آپؐ کے اپنے دشمنوں سے بھی اپنی صداقت اور راستبازی تسلیم کروالی۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 363-364، ایڈیشن 2023)
حضرت عبداللہ بن سلام نے بیان کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ تیزی سے آپؐ کی طرف گئے اور لوگ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ تین دفعہ یہ کہا گیا۔ کہتے ہیں مَیں بھی لوگوں میں ہو کر آیا تا کہ دیکھوں۔
جب میں نے آپؐ کا چہرہ اچھی طرح دیکھا تو مَیں نے پہچان لیا کہ آپؐ کا چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں۔
اور پہلی بات جو آپؐ نے بیان فرمائی اور مَیں نے سنا آپؐ نے فرمایا: اے لوگو !سلام کو رواج دو ۔کھانا کھلاؤ اور رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو اور رات کے وقت نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
(سنن ابن ماجہ، کتاب الأطعمۃ باب اطعام الطعام، حديث 3251)
مدینہ کے یہودی بھی گواہی دینے لگے۔ ان کی بھی گواہی ملتی ہے۔
مسلمانوں اور یہودی قبیلہ بنو قریظہ کے درمیان باہمی تعاون کا معاہدہ تھا۔ جنگِ احزاب کے دوران بنونضیر کا سردار حُیَیّ بن اَخْطَب بنو قریظہ کے ساتھ سردار کعبِ بن اسد قرظی کے پاس گیا اور اسے مسلمانوں سے معاہدہ توڑنے اور قریش کی مدد کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلمانوں کو شکست سے دوچار کیا جائے۔ اس موقع پر کعب بن اسد جو بنو قریظہ کا سردار اور مسلمانوں کا دشمن تھا کہہ اٹھا :
مَیں نے محمد سے معاہدہ کیا ہوا ہے اور میں ہرگز اس معاہدے کو توڑنے والا نہیں ہوں اور میں نے آپ سے وفاداری اور صدق کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔
(البدایۃ والنہایۃ جلد 6 صفحہ 35-36مطبوعہ دار ھجر للطباعۃ والنشر 1997ء)
اسی طرح ایک روایت ہے۔ عُبَید بن عُمَیر بیان کرتے ہیں انہوں نے ایک شخص کو حضرت ابن عمرؓ سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میں مزاح ضرور کرتا ہوں مگر اس میں بھی صرف سچی بات کرتا ہوں ۔انہوں نے جواب دیا۔ ہاں۔
(المعجم الكبير للطبراني جلد 12صفحہ391، حدیث: 13443،مکتبہ ابن تیمیہ )
بَھْز بن ِحکیم اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ہلاکت ہے اس شخص پر جو بات کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے تا کہ اس کی وجہ سے لوگ ہنس پڑیں۔ اس کے لیے ہلاکت ہے ۔اس کے لیے ہلاکت ہے۔ پس ہلکے سے بھی جھوٹ سے آپؐ نے سختی سے منع فرمایاہےاور بڑی تنبیہ فرمائی۔
(سنن ابو داؤد، کتاب الادب باب التشدید فی الکذب، حديث: 4990)
حضرت عبداللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں کہ میں جو بات بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا اسے لکھ لیتا ۔مَیں اسے یاد رکھنا چاہتا تھا۔ پھر مجھے قریش نے روک دیا اور کہا کہ کیا تم ہر چیز لکھ لیتے ہو جو تم سنتے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بشر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں بھی کلام فرماتے ہیں اور خوشی میں بھی ۔چنانچہ مَیں تحریر کرنے سے رک گیا۔ پھر میں نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپؐ نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا تم لکھا کرو۔ پس اپنے منہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا :
اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میںمیری جان ہے اس سے حق اور سچ کے سوا اَور کچھ نہیں نکلتا۔
(سنن ابو داؤد، کتاب العلم باب کتابۃ العلم، حديث: 3646)
سچائی اور حق ہی اس منہ سے نکلے گا۔ اس لیے بےشک لکھا کرو۔
بڑی باریکی سے آپؐ جھوٹ کے خلاف نصیحت کیا کرتے تھے۔
پہلے بھی ذکر آیا ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے بیان کیا کہ ایک روز مجھے میری والدہ نے بلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے۔ میری والدہ نے کہا ادھر آؤ میں تمہیں کچھ چیز دوں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا :تم نے اسے کیا چیز دینے کا ارادہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ مَیں اسے کھجور دوں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ا:گر تم اسے کوئی چیز نہ دیتی تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا۔ یہ باریکی ہے۔
(سنن ابو داؤد،کتاب الادب باب التشدید فی الکذب، حديث: 4991)
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں :
’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی مقام تو سچ کے متعلق اتنا بالا تھا کہ آپ کی قوم نے آپؐ کا نام ہی صدیق رکھ دیا تھا۔ آپؐ اپنی جماعت کو بھی سچ پر قائم رہنے کی ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے۔‘‘
اپنا مقام تو تھا لیکن جماعت کو بھی سچائی پر قائم رہنے کی نصیحت فرماتے تھے
’’اورایسے اعلیٰ درجہ کے سچ کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش فرماتے تھے جو ہرقسم کے جھوٹ کے شائبوں سے پاک ہو۔
آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ سچ ہی نیکی کی طرف توجہ دلاتا ہے اور نیکی ہی انسان کو جنت دلاتی ہے اور سچ کا اصل مقام یہ ہے کہ انسان سچ بولتا چلا جائے یہاں تک کہ خدا کے حضور بھی وہ سچا سمجھا جائے۔
ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص قید ہو کر آیا جو بہت سے مسلمانوں کے قتل کا موجب ہو چکا تھا۔ حضرت عمر ؓسمجھتے تھے کہ یہ شخص واجب القتل ہے اور وہ باربار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف دیکھتے تھے کہ اگر آپؐ اشارہ کریں تو اسے قتل کر دیں۔ جب وہ شخص اٹھ کر چلا گیا تو حضرت عمر ؓنے کہا۔ یا رسول اللہ!’’ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘یہ شخص تو واجب القتل تھا۔ آپؐ نے فرمایا۔ واجب القتل تھا تو تم نے اسے قتل کیوں نہ کیا؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہؐ !آپ اگر آنکھ سے اشارہ کر دیتے تو میں ایسا کر دیتا۔ آپؐ نے فرمایا نبی دھوکے باز نہیں ہوتا۔ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ میں منہ سے تو اس سے پیار کی باتیں کر رہا ہوتا اور آنکھ سے اسے قتل کرنے کا اشارہ کرتا۔‘‘
(دیباچہ تفسیر القرآن، انوارالعلوم جلد20صفحہ 418)
یہ نہیں ہو سکتا ۔یہ تو ویسے ہی دھوکہ ہے اور میرے سے یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ پس
جہاں آپؐ نے سچائی اور صاف گوئی کے معیار قائم فرمائے کہ دشمن بھی اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے، وہاں آپ نے اپنے ماننے والوں کو بھی سچائی کے اعلیٰ معیار کو حاصل کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔
پس
آج ہر احمدی کا کام ہے کہ ہم اپنے جائزے لے لیں کہ ہمارے سچائی کے معیار کیا ہیں اور جو کمزوریاں ہیں انہیں ہم نے دور کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
نماز کے بعد
ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا
جو
شاہدہ احمد صاحبہ کا ہے۔ یہ مرزا نسیم احمد صاحب (مرحوم) کی اہلیہ تھیں۔
گذشتہ دنوں اکانوے (91)سال کی عمر میں فوت ہوئی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی نواسی ،حضرت نواب عبداللہ خان صاحبؓ اور حضرت صاحبزادی امة الحفیظ بیگم صاحبؓہ کی بیٹی تھیں۔ ان کے چار بیٹے تھے۔
ان کے بڑے بیٹے نعمان نے لکھا ہے کہ ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ مجھ سے یہ بہت پیار کرتی تھیں۔ بڑا اچھا حسن سلوک تھا ان کا لوگوں کے ساتھ۔ پھر گھر کی بات کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہر وقت گھر میں لوگ ہوں یہ ان کی خواہش ہوتی تھی اور مہمان نوازی کا بڑا شوق تھا بلکہ ان کو افسوس تھا کہ مجھے توفیق ہو تو میں گھر اَور بڑا کر لوں تا کہ گھروں میں مہمان آتے رہیں اور ان کے لیے کمرے میسر آ جائیں۔
اسی طرح ان کے چھوٹے بیٹے رضوان نے لکھا ہے کہ وہ بڑی خوبیوں کی مالک تھیں۔ امیر ،غریب، چھوٹے ،بڑے لوگوں کے اب ان کی وفات پہ پیغام آ رہے ہیں کہ کس طرح انہوں نے سب سے اپنا پیار بانٹا اور ذاتی تعلق قائم کیا اور ان کی بے ساختہ طبیعت تھی۔ محبت کرنے والی تھیں اور سب کے دلوں میں گھر کر جاتی تھیں۔ خاص طور پر جو لوگ کسی بھی وجہ سے کسی پریشانی یا مصیبت میں ہوتے تھے ان کا وہ خاص طور پر خیال رکھتی تھیں۔ کمزور کے ساتھ وہ ہمیشہ کھڑی رہیں۔ کہتے ہیں ہمیں بھی، بچوں کو بھی تلقین کرتی تھیں کہ کمزور کا ہمیشہ ساتھ دو۔ قوّتِ ارادی اور ہمت بہت تھی ۔
یہ تو مَیں نے بھی دیکھا ہے ماشاء اللہ۔ بڑی با ہمت اور قوّتِ ارادی والی تھیں۔
ان کی ہمشیرہ فوزیہ شمیم صاحبہ جو لاہور میں صدر لجنہ بھی رہی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر چند الفاظ میں بیان کروں تو کہوں گی کہ قربانی، صبر، ہمت اور محبت کا مرقع تھیں۔
ان کی بہو امة الوکیل کہتی ہیں کہ ان کا مہمان نوازی کا وصف بہت نمایاں تھا۔ یہ تو سارے بچوں نے بھی لکھا ہے اَور لوگوں نے بھی مجھے لکھا ہے کہ مہمان نوازی کا طریق بالکل تکلّف سے عاری ہوتا تھا۔ آخری عمر میں یہ گر گئی تھیں۔ ان کے کولہے میں چوٹ بھی لگ گئی تھی۔ وہیل چیئر پہ چلی گئی تھیں لیکن نہایت صبر اور شکر سے بیماری کو بھی گزارا اور کبھی ہلکا سا بھی شکوہ نہیں کیا۔ کہتی ہیں بڑی ہمت والی مریضہ تھیں اور کبھی ہمیں تنگ نہیں کیا۔
ان کی پوتی خدیجہ ہیں وہ کہتی ہیں وہی مہمان نوازی کا تعلق تو انہوں نے لکھا ہی ہے۔ لیکن یہ کہ پیارکرنے والی ،شفقت کرنے والی خاتون تھیں اور گذشتہ چند سالوں سے تو قرآن کریم کا دور دو تین دفعہ مہینے میں ختم کرتی تھیں۔ غریبوں کی بڑی ہمدرد تھیں اور کہتی ہیں ہمیں بھی نصیحت کیا کرتی تھیں کہ غریبوں کے لیے دعا کیا کرو۔
ان کی بھانجی کی بیٹی عزیزہ Nehaہے۔ یہاں رہتی ہیں۔کہتی ہیں ہر حال میں مثبت سوچ رکھتی تھیں۔ زندگی کے ہر لمحے کی قدر کرتی تھیں اور گھر میں کام کرنے والے ملازمین کا بھی بہت خیال رکھتی تھیں جیسا کہ وہ اپنے ہوں۔ بہرحال یہ میں نے بھی دیکھا ہے اور یہ بھی مثبت سوچ رکھنے والی بات ہے کہ عموماً اس بات سے بچ کے رہتی تھیں کہ کسی کے متعلق کوئی منفی بات کریں یا جذبات کو تکلیف پہنچانے والی بات کریں۔ لوگوں کے جذبات کا بہت خیال رکھا کرتی تھیں۔
کہتی ہیں کہ ایک بار ان کی ایک ملازمہ شادی کی وجہ سے گھر سے رخصت ہو رہی تھیں تو افسردہ ہوئیں جس طرح اپنی بیٹیوں کے رخصت ہونے پر لوگ افسردہ ہوتے ہیں کہ اب گھر بے رونق ہوجائے گا۔
بعض دفعہ لوگوں کی ایسی نیکیاں ہوتی ہیں جو عموماً چھپی رہتی ہیں لیکن جن سے کی ہوئی ہوں بعد میں ان سے پتہ چلتا ہے۔ یہ بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 10؍اپریل 2026ء




