گلدستہ معلومات
حکایتِ مسیح الزماںؑ
تبلیغ کی ضرورت
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ
قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے کہا ہے کہ سارے مسلمانوں کو تبلیغ کرنی چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ۔(آل عمران:111)- تم سب سے بہتر اُمت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہو۔ اور اس خیر امت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تم لوگوں کو تبلیغ کرتے ہو، امر بالمعروف کرتے ہو اور بُری باتوں سے روکتے ہو۔ گویا مسلمانوں کے سب سے اچھے ہونے کے معنی یہی ہیں کہ وہ سب دنیا کو تبلیغ کرتے ہیں ، اچھی باتوں کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں اور بری باتوں سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ یعنی اُن باتوں کی تعلیم دیتے ہیں جو قرآنی نقطہ نگاہ سے پسندیدہ ہیں اور اُن باتوں سے روکتے ہیں جو قرآنی نقطہ نگاہ سے ناپسندیدہ ہیں۔ یہ تین چیزیں ہیں جو ہمیں خیر امت بناتی ہیں۔ مگر ہم شرطی جملہ میں سے صرف ایک بات لے لیتے ہیں اور دوسرے کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یا یوں کہو کہ ہم جزا کو لے لیتے ہیں اور شرائط کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہماری حالت بالکل اُس شخص کی سی ہے جسے کہا تو یہ جاتا ہے کہ کام کرو تو تمہیں مزدوری ملے گی۔ مگر وہ کام کرتا نہیں اور مزدوری کا مطالبہ شروع کردیتا ہے۔ ہم بھی اپنے آپ کو خیر امت کہتے ہیں مگر تین باتیں جو قرآن کریم نے بتائی ہیں اُن پر عمل نہیں کرتے۔ گویا ہماری مثال اُس بے وقوف نوجوان کی سی ہے جس کا باپ مر گیا تو اُسے اور اُس کی ماں کو فاقے آنے شروع ہو گئے۔ ایک دن اُس کی ماں نے اسے کہا کہ بیٹا ! باہر جاؤ اور کماؤ یہ حالت آخر کب تک رہے گی۔ جب وہ تیار ہو کر باہر جانے لگا تو ماں نے اسے کہا دیکھنا بیٹا ! اپنی ساری تنخواہ مجھے بھیج دینا۔ اس نے کہا اگر میں ساری تنخواہ بھیج دوں گا تو خود کیا کروں گا ؟ ماں نے کہا ملازمین کو وقتاً فوقتاً انعامات بھی ملا کرتے ہیں تم ان انعاموں کی رقوم سے گزارہ کر لیا کرنا۔ اس نے کہا مجھے کیا معلوم کہ انعام کس طرح ملا کرتا ہے؟ ماں نے کہا اگر اچھی طرح کام کرو گے تو تمہیں ضرور انعام ملے گا۔ اور اگر نہ ملے تو جب تم دیکھو کہ تمہارا آقا خوش ہے تو اُس وقت اُس سے خود بھی انعام مانگ لیا کرنا۔ بیٹے نے کہا مجھے یہ کس طرح پتہ لگے گا کہ اس وقت میرا آقا خوش ہے؟ ماں نے کہا جب آقا کسی بات پر ہنس پڑے تو تم سمجھ لینا کہ وہ خوش ہے۔ تعلیم لے کر وہ گھر سے نکل کھڑا ہوا اور کہیں جا کر ملازم ہو گیا۔ ایک دفعہ اس کا آقاکسی سفر کے لئے گیا تو اس لڑکے کو بھی اس نے اپنے ساتھ لے لیا۔ راستہ میں ایک جگہ ٹھہرے تو رات کو کچھ دیر جاگنے کے بعد آقا نے کہا کہ دیا گل کر دو کیونکہ روشنی میں مجھے نیند نہیں آتی۔ لڑکے نے کہا حضور ! آپ کو روشنی میں نیند نہیں آتی اور مجھے اندھیرے میں نیند نہیں آتی۔ آپ اپنے سر پر لحاف ڈال لیں تو دونوں کا کام بن جائے گا۔ آپ کے لئے اندھیرا ہو جائے گا اور میرے لئے روشنی رہے گی۔ ایک لڑکے کی زبان سے یہ جواب سن کر آقا نے مزید کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا اور سر پر لحاف ڈال کر لیٹ رہا۔ تھوڑی دیر گزری تو بارش شروع ہوگئی۔ کچھ وقفہ کے بعد اس نے یہ پتہ لگانا چاہا کہ بارش ابھی تک برس رہی ہے یا تھم چکی ہے۔ کیونکہ صبح اس نے سفر پر جانا تھا۔ چنانچہ اس نے لڑکے سے کہا۔ ذرا د یکھنا تو سہی بارش ہو رہی ہے یا رک گئی ہے؟ لڑکے نے کہا حضور ! بارش ہو رہی ہے۔ آقا نے کہا تمہیں کس طرح پتہ لگا ؟ اس نے کہا ابھی ایک بلی میرے سرہانے کے پاس سے گزری تھی۔ میں نے اسے ہاتھ لگایا تو وہ گیلی تھی جس سے میں سمجھتا ہوں کہ بارش ہو رہی ہے۔ پھر آقا نے کچھ دیر کے بعد کہا۔ ٹھنڈی ہوا آرہی ہے ذرا اٹھ کر دروازہ بند کر دو۔ لڑکے نے جواب دیا حضور ! دو کام میں نے کئے تھے اب ایک کام آپ کر لیں۔ آقا یہ جواب سن کر ہنس پڑا۔ اس پر وہ جھٹ کھڑا ہو گیا اور آقا سے کہنے لگا حضور ! مجھے انعام دیجئے کیونکہ میری ماں نے کہا تھا کہ جب آقا خوش ہو تو اُس سے انعام مانگ لیا کرنا۔
یہ کہانی کتنی ہی دفعہ ہماری مجلس میں سنائی گئی ہوگی۔ میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ کہانی سنی۔ لیکن ہم بار بار یہ کہانی سننے کے باوجود پھر بھی اس لڑکے کی حماقت پر ہنس پڑتے ہیں۔ مگر کیا یہی حال ہمارا نہیں ؟ کیا قرآن کریم نے کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ وَلَوۡ اٰمَنَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ مِنۡہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَاَکۡثَرُہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۔ میں یہ صراحت نہیں کی کہ تم خیر امت تب ہو جب یہ تین چیزیں تمہارے اندر پائی جائیں؟ مگر ہم تبلیغ اسلام کرتے نہیں۔ اور ہم لوگوں کو نیک باتوں کی تلقین نہیں کرتے۔ اور ہم انہیں بری باتوں سے روکتے نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمانِ کامل کا ثبوت نہیں دیتے۔ لیکن جب کوئی ہم سے پوچھے تو ہم بڑے جوش سے کہتے ہیں کہ ہم خیر امت ہیں۔ حالانکہ جس کام کے صلہ میں ہمیں خیر اُمت کہا گیا تھا وہ کام ہم کرتے نہیں۔ قرآن کریم نے ہم کو صراحتاً بتایا تھا کہ ہماری طرف سے تم کو یہ مزدوری یا یہ انعام اس لئے ملے گا اور تم اس لئے دوسری قوموں سے بہتر قرار دیئے جاؤ گے کہ تم تین کام کرو گے۔ مگر ہم نتیجہ اپنی طرف منسوب کر لیتے ہیں اور شرط کو بھول جاتے ہیں۔ پس ہماری جماعت کو اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے تبلیغ کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ کرنی چاہیئے اور تبلیغ ایسی ہونی چاہیے جو اندرونی بھی ہو اور بیرونی بھی۔
(خطباتِ محمود جلد 28 صفحہ 348-350)
ہم خلافت ڈے کیوں مناتے ہیں؟
حضرت مصلح موعودؓ مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کے اختتام خطاب میں فرماتے ہیں:
’’میں خدام کو نصیحت کر تا ہوں کہ وہ خلافت کی برکات کو یا د رکھیں۔ اور کسی چیز کو یا د رکھنے کے لئے پرانی قوموں کا یہ دستور ہے کہ وہ سال میں اس کے لئے خاص طور پر ایک دن مناتی ہیں۔ مثلاًشیعوں کو دیکھ لو ، وہ سال میں ایک دفعہ تعزیہ نکا ل لیتے ہیں تا قوم کو شہادت حسینؓ کاواقعہ یاد رہے۔ اسی طرح میں بھی خدام کو نصیحت کرتا ہو ں کہ وہ سا ل میں ایک دن ’’خلا فت ڈے‘‘کے طور پر منایا کریں۔ اس میں وہ خلافت کے قیا م پر خدا تعا لیٰ کا شکریہ ادا کریں۔ اوراپنی پرانی تاریخ کو دہرا یا کریں… اگر سال میں ایک دفعہ خلافت ڈے منا لیا جایا کرے تو ہر سال چھوٹی عمر کے بچوں کو پرانے واقعات یاد ہو جایا کریں گے۔ پھر تم یہ جلسے قیامت تک کرتے چلے جاؤ تا جماعت میں خلافت کا ادب اور اس کی اہمیت قائم رہے… اسی طرح وہ رویاءو کشوف بیان کئے جایا کریں جو وقت سے پہلے خدا تعالیٰ نے مجھے دکھا ئے اور جن کو پوراکرکے خداتعالیٰ نے ثابت کردیا کہ اُس کی برکا ت اب بھی خلافت سے ساتھ وابستہ ہیں‘‘۔
(الفضل ربوہ۔یکم مئی 1957ء )
