حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کابچپن
قسط۔ پنجم
مجھے یاد ہے بچپن میں ایک دفعہ بڑھئی ہمارے گھر میں کام کر رہے تھے…
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں بعض آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے اپنے بچپن کے دلچسپ واقعات بیان فرمائے ہیں۔ حضور رضی اللہ عنہ کے بچپن کے واقعات اور متعلقہ آیات کی تفسیر کے کچھ حصے افادۂ عام کی غرض سے پیش کیے جارہے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ وَالسَّبِحٰتِ سَبْحًا۔فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا(النّازعات:۴ -۵)کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”یہ لازمی بات ہے کہ جو شخص محنت سے کام لیتا ہے وہ آخر فن کا ماہر ہوجاتا ہے اور جب کوئی شخص فن کا ماہر ہوجائے تو اس کے لیے کام میں سہولت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہی کام جو ایک پیشہ ور لوہار کرتا ہے اگر ہمیں اس کی جگہ کرنا پڑے تو ہم بڑی محنت سے آہستہ آہستہ اس کام کو کرسکیں گے اور پھر بھی وہ کام خراب ہوجائے گا۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ایک دفعہ بڑھئی ہمارے گھر میں کام کر رہے تھے مجھے ان کا کام بڑا پسندآیا اور مَیں نے سمجھا کہ یہ معمولی بات ہے اس کام کو تو مَیں بھی کر لوں گا۔ میری عمر اس وقت نو دس سال کی تھی جب وہ کھانا کھانے چلے گئے تو مَیں نے تیشہ اٹھایا اور ایک لکڑی کو چھیلنے کے لیے اس پر مارا مگر وہ بجائے لکڑی پر پڑنے کے سیدھا میرے ہاتھ کے انگوٹھے پر لگا جس سے گہرا زخم ہو گیا اور اس کا نشان آج تک موجود ہے۔دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ بڑھئی جو کچھ کررہا ہے معمولی بات ہے اور اس طرح مَیں بھی کرسکتا ہوں مگر جب کام کا وقت آتا ہے تب معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام کتنا مشکل ہے۔ مگر بڑھیوں کو اس کام کے کرتے وقت کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ایک لمبے عرصہ کی مشق کی وجہ سے وہ اس کام میں تیراکوں کی طرح ہوجاتے ہیں یہی خوبی اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کی اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ اب تو انہیں نیکیوں کےحصول میں بڑی محنت اور مشقت سے کام لینا پڑتا ہے لیکن ایک زمانہ آئے گا جب یہ ان کاموں میں تیراکوں کی طرح ہوجائیں گے اور ایک طبعی رغبت اور نشاط ان میں پیدا ہوجائے گا اور ایک دن یہ روحانی سمندر کے تیراک ہوجائیں گے جس طرح ایک ماہر تیراک دُور دُور تک تیرتا چلا جاتا ہے اور اُسے کوئی مشکل محسوس نہیں ہوتی اسی طرح وہ نیکیوں پر ایسا غلبہ حاصل کرلیں گے کہ ایک طبعی رغبت اور نشاط ان میں پیدا ہوجائے گااور نیکیوں کے بجا لانے میں انہیں سرور محسوس ہوگا۔ لوگوں کو جھوٹ سے بچنے کے لیے بڑی بڑی کوششیں کرنی پڑتی ہیں مگر اُن کے لیے جھوٹ چھوڑ دینا کوئی بڑی بات نہیں۔لوگوں کو صداقت پر قائم رہنا بڑا مشکل ہوتا ہے مگر اُن کے لیے صداقت سے کام لینا ایسا ہی ہے جیسے صداقت کی طرف ایک طبعی میلان اُن کے اندر پایا جاتا ہے۔ یہی حال دوسری نیکیوں کا ہے کہ اُن کے کرتے وقت انہیں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے نیکیوں سے ان کی فطرت کو طبعی مناسبت پیدا ہوچکی ہے اور اب وہ کسی اور طرف جاہی نہیں سکتے۔ گویا ہر نیکی انہیں یوں معلوم ہوتی ہے جیسے ماں کا دودھ ہے جس طرح بچہ اُس دودھ کو آسانی سے پی لیتا ہے اور اُسے کوئی بوجھ محسوس نہیں ہوتا اسی طرح کسی نیک بات پر بھی عمل کرنا اُن کے لیے بوجھ نہیں رہے گا۔ بلکہ وہ دلی شوق اور نشاطِ خاطر سے اس میں حصہ لیں گے۔
فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا جب اُن میں نشاط پیدا ہوجائے گا تو اس کے بعد نیکی کی طرف ان کا ایک اور قدم اٹھے گااور اُن میں یہ شوق پیدا ہوجائے گا کہ ہم اس میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں ۔ گویا وہ صرف یہ نہیں دیکھیں گے کہ وہ اچھی طرح اور نشاطِ خاطر سے کام کررہے ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی بھی کوشش کریں گےاورقوت مسابقت کوحرکت میں لائیں گے۔سخاوت ہریک کوآسان معلوم ہوگی مگراس کےبعدوہ یہ کوشش کریں گے کہ ہم دوسروں سے زیادہ سخاوت کریں ۔ عفّت ہر ایک کو آسان معلوم ہوگی مگر اس کے بعد ہر شخص کے اندر یہ جوش پیدا ہوگا کہ مَیں دوسروں سے زیادہ عفیف بنوں ۔ خوش خلقی ہر ایک کو آسان معلوم ہوگی مگر اس کے بعد ہر شخص کے اندر یہ جذبہ موجزن ہوگا کہ مَیں دوسروں سے زیادہ خوش خلق بنوں ۔ رحم کرنا ہر ایک کو آسان معلوم ہوگا مگر اس کے بعد ہر شخص کے دل میں یہ جوش پیدا ہوگا کہ مَیں دوسروں سے زیادہ رحم کا نمونہ دکھاؤں ۔ گویا نیکیوں کے میدان میں اُن کا مقابلہ شروع ہوجائے گا اور ہر شخص کوشش کرے گا کہ مَیں دوسروں سے بڑھ جاؤں ۔ جب وہ اس مقام پر پہنچیں گے تو فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا یہ زائد بات بھی اُن میں پیدا ہوجائے گی کہ اُن میں سے ہر شخص اپنے آپ کو قوم کا ذمہ وار سمجھے گا ۔ یہ نہیں دیکھے گا کہ یہ کام فلاں کا ہے اور یہ کام فلاں کا۔ بلکہ ہر شخص سمجھے گا کہ مَیں ہی ساری جماعت کا ذمہ وار ہوں ۔ ہندوستان میں بئے کی مثال مشہور ہے جو ایک چھوٹا سا جانور ہوتا ہے بعض یہی بات پِدّے کے متعلق کہتے ہیں کہ رات کو وہ اُلٹا سوتا ہے ایک دفعہ اس سے کسی نے پوچھا کہ تُو الٹا کیوں سوتا ہے تو اُس نے جواب دیا کہ رات کو ساری دنیا سورہی ہوتی ہے اگر آسمان گر پڑے تو اُسے کون سنبھالے گا مَیں اس لیے اُلٹا سوتا ہوں کہ اگر آسمان گرا تو دنیا کو بچالوں گا۔ یہ بظاہر ایک مضحکہ خیز مثال ہے لیکن انسانوں کے متعلق واقعہ یہی ہے کہ جو شخص کمال نیکی کو پہنچ جاتا ہے وہ ساری دنیا کی ذمہ واری اپنے اوپر لے لیتا ہے وہ یہ نہیں کہتا کہ اس کی ذمہ واری فلاں پر ہے اور اس کی ذمہ واری فلاں پر ۔بلکہ وہ اپنے آپ کو ہی واحد ذمہ وار سمجھتا ہے جب یہ خوبی کسی قوم کے افراد میں پیدا ہوجائے تو وہ قوم کبھی تباہ نہیں ہوسکتی ۔ ایک سوجائے تو دوسرا اُس کو جگانے کے لیے موجود رہے گا۔ آخر تمام لوگ ایک وقت میں تو سو نہیں سکتے لازماً کچھ حصہ سوئے گا اور کچھ حصہ بیدار رہے گا اور جب کچھ حصہ بیدار رہے گا تو اس کے یہ معنے ہیں کہ قوم کو بچانے والے افراد موجود رہیں گے اور وہ تباہی سے اُسے محفوظ رکھیں گے ۔ غرض جس قوم میں بھی یہ نیکیاں پیدا ہوجائیں اس قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا وہ بڑھتی چلی جاتی ہے اورساری دنیا پر غالب آجاتی ہے ۔ “
(تفسیر کبیر جلد ۱۱۔سُوْرَۃُالنَّازِعَاتِ:۴،صفحہ ۱۵۸-۱۵۷،ایڈیشن ۲۰۲۳ء مطبوعہ یوکے)
حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ آیت کریمہ:فَکُّ رَقَبَۃٍ(الْبَلَدِ:۱۴)(چوٹی پر چڑھنا غلام کی) گردن چھڑانا ہے۔کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”اس آیت کے دو معنے ہیں۔ ایک تو یہ کہ انہیں چاہیے تھا وہ غلام آزاد کروانے کی کوشش کرتے۔ اگر یہ ان غلاموں کو جو ان کے پاس ہیں آزاد کروانے کی کوشش کرتے تو یہ خود بھی قومی لحاظ سے آزادی حاصل کرسکتے تھے۔ مگر یہ الٹا غلامی کو اور بھی رائج کرنے لگیں گے اور مسلمان غلاموں پر ظلم ڈھانے لگ جائیں گے۔ درحقیقت غلاموں کی آزادی کا اسلام نے شروع سے ہی اس لئے حکم دیا ہے کہ قومی ترقی کے لئے غلاموں کا آزاد کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ مساوات قائم کئے بغیر اور چھوٹوں بڑوں کا امتیاز مٹائے بغیر دنیا میں کبھی کوئی قوم ترقی نہیں کیا کرتی۔ جب تک یہ امتیاز دنیا میں نظر آتا رہے گاکہ ایک چھوٹا ہے اور ایک بڑا اُس وقت تک دنیا حقیقی ترقی نہیں کرسکتی۔ کبھی کوئی پائدار امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک دنیا میں یہ فتنے موجود رہیں گے اور جب تک ان کے انسداد کے لئے متحدہ مساعی عمل میں نہیں لائی جائیں گی اس وقت تک ترقی کی تمام تدابیر بے کار ثابت ہوں گی۔ اسی امتیاز کا نتیجہ غلامی ہے جس کی بیخ کنی اسلام کا اولین مقصد ہے اور جس کے خلاف وہ شروع دن سے اپنی آواز کوبلند کررہا ہے اگر ان امتیازات کو قائم رہنے دیا جائے تو بڑے آدمی اپنے لئے اور عزت چاہتے ہیں۔ پھر اور عزت کے طلب گار ہوتے ہیں۔ پھر اور عزت کا حصول ان کو بے قرار رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک دن ایسا آتا ہے جب وہ اپنے سوا کسی اور کو بڑا سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔
مَیں نے دیکھا ہے ہندوستان کے ایک بہت بڑے لیڈر ہیں۔ میں ان کا نام نہیں لیتا۔ ان کے دماغ میں یہ خیال سمایا ہوا ہے کہ ان سے بڑا لیڈر اور کوئی نہیں۔ یہی دُھن انہیں آٹھوں پہر رہتی ہے اور اپنی بڑائی اور اعزاز کا خیال انہیں ہر وقت دامنگیر رہتا ہے۔ ایک دفعہ شملہ میں ہندوستان کے بڑے بڑے لیڈروں کی ایک مجلس منعقد ہوئی۔ مجھے بھی تار دے کر بلایا گیا۔ گاندھی جی نے اس وقت مرن برت رکھا ہوا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ اگرہندومسلم اتحاد نہ ہوا تو مَیں بھوکا مرجاؤں گاچونکہ یہ بڑا بھاری مسئلہ تھا۔ سارے ہندوستان سے مختلف اقوام کے لیڈرشملہ میں جمع ہوئے۔ میں سمجھتا ہوں ان کی تعداد سو ڈیڑھ سو کے قریب ہوگی۔ کوئی بمبئی سے آیا، کوئی مدراس سے، کوئی سی پی سے، کوئی بنگال سے، کوئی بہار سے، کوئی اڑیسہ سے، کوئی سرحد سے، کوئی ریاستوں سے۔ غرض ایک اچھا خاصہ اجتماع ہندوستان کے تمام لیڈروں کا شملہ میں جمع ہوگیا۔ جب ان لیڈر صاحب نے اتنا بڑا مجمع دیکھا تو چونکہ انہیں صرف اپنی لیڈری کو ظاہر کرنے کی عادت تھی۔ کسی اور لیڈر کو لیڈر سمجھنا وہ اپنی ہتک سمجھتے تھے۔ اس لئے جب وہ تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو میں نے دیکھا کہ وہ بار بار کہتے کہ ایسے اہم مسائل کے متعلق کبھی ہجوم فیصلہ نہیں کیا کرتے۔
We leaders of leaders
جو کچھ کہیں گےوہی آخری اور قطعی فیصلہ ہوگا۔ یعنی ہم جو راہنماؤں کے راہنما ہیں اصل کام ہمارا ہے۔ اتنے زیادہ لیڈروں کاکام نہیں کہ اکٹھے ہوکر فیصلہ کر دیں۔
غرض میں نے دیکھا کہ ان پر یہ امر بڑا گراں گزرا کہ اتنی تعداد میں لوگوں کو کیوں لیڈر قرار دیا گیا۔ حالانکہ وہاں کسی ایک قوم کے لیڈر جمع نہیں تھے۔ بلکہ ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں سب کے نمائندے تھے۔ جس طرح افراد کا دماغ بعض دفعہ اس رنگ میں بگڑ جاتا ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ قوموں میں بڑائی شروع ہوجاتی ہے اور پھر ان کی تسلی نہیں ہوتی جب تک تمام قوموں کو اپنے مقابلہ میں غلام اور اچھوتوں سے بھی بدتر قرار نہ دے دیں۔
ابھی چند دن ہوئے اخبارات میں بڑا شور اٹھا کہ پہلے تو اقبال جیسے لوگوں کو علامہ لکھا جاتا تھا۔ مگر اب یہ حالت ہے کہ ہر وہ آدمی جو اردو بھی صحیح پڑھ نہیں سکتا۔ اس کے نام کے ساتھ علامہ لکھ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ لدھیانہ میں ایک جلسہ ہوا تو ہر مقرر کے نام کے ساتھ لکھا گیا کہ یہ فلاں علامہ تھے اور وہ فلاں علامہ تھے حالانکہ حالت یہ تھی کہ وہ صحیح طور پر اردو بھی نہیں جانتے تھے۔ اس قسم کی وبا کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ جو لوگ واقعہ میں علامہ ہوتے ہیں۔ ان کے لئے کوئی اور لفظ تجویز کیا جاتا ہے اور دوسروں کو ان کے مقابل میں گرانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس طرح نہ صرف منافرت کی ایک وسیع خلیج چھوٹوں اور بڑو ں میں حائل ہوجاتی ہے۔ بلکہ ذہنیتیں اس قسم کی ہوجاتی ہیں کہ کچھ لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم بڑے ہیں اور باقی لوگ ہمارے غلام ہیں۔
ہم جب بچے تھے۔ تو مَیں نے اور میر محمد اسحٰق صاحب مرحوم نے حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ سے پڑھنا شروع کیا۔ استاد کا یوں بھی دلوں میں زیادہ اعزاز ہوتا ہے۔ مگر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو تو جماعت میں بھی ایک خاص پوزیشن حاصل تھی اس وقت جب بھی یہ بات کہی جاتی کہ مولوی صاحب نے یہ کہا ہے تو اس سے مراد یا حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ ہؤا کرتے تھے۔ یا حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مراد ہوا کرتے تھے۔ جب بھی کسی نے کہنا مولوی صاحب نے یہ بات کہی ہے۔ تو سننے والا کہتا کون مولوی صاحب۔ اور وُہ کہتا حضرت خلیفہ اولؓ یا کہتا مولوی صاحب نے یہ بات کہی ہے۔ اور سننے والا کہتا کہ کون مولوی صا حب تو وہ کہتا مولوی عبدالکریم صاحب۔چند دن تک تو میر محمد اسحٰق صاحب یہ سنتے رہے مگر ایک دن ان کو بڑا غصہ آیا۔ کہ یہ کیا بات ہے کہ یہ مولوی صاحب اور وہ بھی مولوی صاحب اِن کا نام آئے تب بھی لوگ کہتے ہیں مولوی صاحب نے یہ کہا اور اُن کا نام آئے تب بھی لوگ کہتے ہیں کہ مولوی صاحب نے یہ کہا، یہ بالکل غلط طریق ہے۔آئندہ مولوی عبدالکریم صاحب کی کوئی بات ہو گی تو میں کہوں گا مولوی صاحب نے یہ کہا ہے۔ اور خلیفہ اولؓ کی کوئی بات ہو گی تو میں کہوں گا چولوی صاحب نے یہ کہا ہے۔ گویا انہوں نے امتیاز کا یہ نرالا طریق نکالا کہ ایک کو مولوی صاحب کہا جائے۔ اور دوسرے کو چولوی صاحب کہا جائے یہ ہے تو بچپن کی ایک حماقت۔ لیکن واقعہ یہی ہے کہ جب کسی کو کوئی خاص اعزاز حاصل ہو جائے تو اس کے مقابل میں دوسروں کو کہا جاتا ہے کہ تم چھوٹے درجہ کے ہو پھر ان کو اور چھوٹا کیا جاتا ہے پھر اور چھوٹا کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ مکمل غلام بن جاتے ہیں۔ پس غلام کی آزادی درحقیقت قوم کی آزادی ہے۔ یہ دس یا بارہ آدمیوں کا سوال نہیں۔ بلکہ قوم کا کیر یکٹر تبھی بلند ہوتا ہے جب غلط اصول پر قائم شدہ امتیازات کو مٹا دیا جائے۔ اسی طرح خدا کی خوشنودی بھی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب غلاموں کو آزاد کیا جائے یا غلاموں کو آزاد کرانے کی سرگرم کوشش کی جا ئے۔“ (تفسیر کبیر جلد ۱۲صفحہ ۳۴۸-۳۴۶، ایڈیشن ۲۰۲۳ء مطبوعہ یوکے)
مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعود ؓ ۔ نوجوان نسل کے روحانی معلّم – الفَضل انٹرنیشنل



