حضور انور ایدہ اللہ کا بچپن۔ حضور ایدہ اللہ کی زبانی
جب میں خود اطفال الاحمدیہ میں تھا تو میں پہلے سائق بنا، اُس کے بعد منتظم اطفال کا نائب اور اس کے بعد منتظم اطفال بنا۔ پھر زعیم مجلس کے طور پر کام کیا ، پھر ربوہ میں ناظم عمومی کے طور پر کام کیاپھر نیشنل لیول پر مہتمم کے طور پر خدمت کی۔ بحیثیت ایک عام طفل کے میری ٹریننگ کا آغاز ہوگیاتھا۔
پیارے بچو! آپ کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے بچپن کے بارے میں جاننے کا شوق ہوگا۔ کئی بچے اور بچیاں حتیٰ کہ بڑے بھی اس قسم کے سوالات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے پوچھتے رہتے ہیں۔ تاکہ وہ اپنے بچوں کو بطور مثال یہ واقعات سنا سکیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق ازخود بیان بہت کم فرمایا ہے۔ سوائے اس کے کہ کسی مجلس میں کوئی اکّا دکّا سوال حضور انور سے متعلق ہو جاتا تو حضور انور اس کا مختصر جواب مرحمت فرما دیتے۔لیکن کووڈ 19 کے دوران شروع ہونے والی ورچوئل میٹنگز اور آن لائن ملاقاتوں میں خدام ، لجنات ، اطفال و ناصرات اورواقفین نو کی جانب سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذاتی زندگی سے متعلق کثیر تعداد میں سوالات کیے جاتے رہے۔ اور اس طرح حضور انور سے اطفال اور ناصرات نے جماعتی و دینی سوالات کے علاوہ خصوصاً ذاتی سوالات کی بھرمار کیے رکھی۔ جس کی وجہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی سیرت کا یہ پہلو بھی کھل کرسامنے آیا۔
ذیل میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی زندگی کے حالات اور طرزِعمل سے متعلق ارشادات پیش ہیں۔ ان واقعات و سیرت حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو آپ بیتی بھی کہا جا سکتا ہے۔
نام
٭… دورہ جاپان کے دوران ایک بچی نے سوال کیا کہ میرا نام حضور انور نے رکھا ہے، حضور انور کا نام کس نے رکھا تھا۔ اس پر حضور انور نے فرمایا میرا نام حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے رکھا تھا۔ (11؍دسمبر 2015ء)
برتھ ڈے
٭… نائب مہتمم مال انڈونیشیا نے سوال کیا: ہم برتھ ڈے کیوں نہیں مناتے؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ ہم برتھ ڈے نہیں مناتے۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برتھ ڈے بھی نہیں مناتے بلکہ ہم جلسہ سیرۃالنبیؐ کرتے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر کوئی مجھے یاد کروائے کہ آج میری برتھ ڈے ہے تو مَیں دو رکعت نفل ادا کرتا ہوں اور صدقہ دیتا ہوں اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے زندگی دی ہے اور خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق دی ہے اور دعا کرتا ہوں کہ آئندہ اللہ کا فضل ہمیشہ شاملِ حال رہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: برتھ ڈے کے موقعہ پر موم بتیاں جلانا، کیک کاٹنا اور دعوتوں پر رقم خرچ کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ یہ رقم غرباء کو صدقہ میں دے دو، چیرٹی آرگنائزیشن ہے، اُن کو دے دو۔ وہ غریبوں کی مدد کرتی ہیں، اُن کے کام آجائے گی۔ ہیومینٹی فرسٹ ہے، اس کو بھی دے سکتے ہیں۔ تو اس طرح رقم اِدھر اُدھر ضائع کرنے کی بجائے غرباء کے کام آجائے گی تو خدا کی رضا کی خاطر یہ کام کرکے ہم اپنی برتھ ڈے مناسکتے ہیں۔
میٹنگ کے آخر پر صدر صاحب سنگاپور نے بتایا کہ برتھ ڈے کے ذکر سے مجھے یاد آیا کہ آج میری برتھ ڈے ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ دو نفل پڑھو اور صدقہ دو اور اپنی عاملہ کو اپنے ساتھ لے کر میرے ساتھ تصویر بنواؤ۔(18؍اکتوبر2013ء)
والدین
٭…ایک واقفہ نونے سوال کیا کہ حضور انور بچپن میں زیادہ اپنی امی کے قریب تھے یا اپنے ابو کے زیادہ قریب تھے؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:دونوں کے ہی قریب تھا۔ ہمارے زمانے میں جو پرانے بزرگ تھے وہ ایک barrierر کھا کرتے تھے لیکن کھانے وغیرہ کا خیال دونوں ہی کیا کرتے تھے۔ جب بیمار ہوتا تھاتو ابا کہتے تھے چھٹی کرلو،سکول نہیں جانا۔ اُس وقت ہمیں ابااچھے لگا کرتے تھے۔ کھانے کا خیال رکھنا اور دوسری چیزوں میں دونوں کاہی مجھ سے اچھا سلوک تھا۔
اس پر اس بچی نے عرض کیا کہ آپ کو زیادہ ڈر کس سے لگتا تھا؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ ڈر تو کسی سے بھی نہیں لگتا تھا۔ ہاں یہ ضرور ہوتا تھا کہ کوئی غلط بات کر دیں گے تو ڈانٹ پڑے گی جو دونوں سے پڑ سکتی تھی۔(26؍نومبر 2019ء)
بچپن کا ایک واقعہ
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:جب میں چھوٹا بچہ تھا تو میں نے ایک انگور کی شکل جیسا لوہے کا گول ٹکڑا منہ میں ڈالا اور اسے نگل لیا۔ شکر ہے کہ سانس بند نہیں ہوا اور نہ ہی وہ میرے گلے میں پھنسا بلکہ سیدھا میرے معدے میں چلا گیا۔ والد صاحب نے ہر ممکنہ کوشش کی کہ وہ کسی طرح نکل آئے۔ مجھے الٹا سیدھا کیا۔ قے کرنے کو کہا تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا وہ نکلا بھی ہے کہ نہیں۔ اب اِس واقعہ کو 60 سال یا شاید 65 سال گزر چکے ہیں۔ یہ ربوہ میں میرے بچپن کی بات ہے۔ امید ہے کہ وہ چھوٹا سا ٹکڑا اب وہاں موجود نہیں ہو گا۔(10؍ستمبر 2021ء)
ختم قرآن اور آمین
ناصرات الاحمدیہ آئر لینڈ کی ملاقات میں ایک بچی نے سوال کیا کہ حضور انور نے کس عمر میں قرآن کریم ختم کیا تھا؟ اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا : مجھے عمر تو یاد نہیں ہے۔ بچپن میں کرلیا تھا۔
حضور انور نے فرمایا: بچیاں چھ، سات سال کی عمر میں قرآن کریم ناظرہ مکمل کرلیں تو بڑی اچھی بات ہے۔(7؍نومبر2014ء)
٭… ناصرات الاحمدیہ ہا لینڈ کی ملاقات میں ایک ناصرہ نے حضورِانور سے دریافت کیا کہ آپ نے اپنی آمین (کی تقریب) پر کیا کیا تھا؟
حضور انورنے اس کے جواب میں مسکراتے ہوئے فرمایا کہ مَیں نے تو کوئی آمین نہیں کروائی۔ شاید میری جو پڑھانے والی ٹیچر تھی، اس نے سُن لیا اور بس ختم ہو گیا۔ کوئی فنکشن نہیں کیا،کوئی دعوت نہیں کی، کچھ نہیں کیا۔بعض لوگ ہمارے زمانے میں بھی آمین کرتے تھے، میرے بعض کزن بھی کرتے تھے، مَیں نے تو کوئی نہیں کی اور نہ ہی مجھے کبھی کوئی خیال آیا کہ مَیں نے ضرور آمین کرنی ہے۔(2؍جنوری 2025ء)
دورانِ تعلیم دعا
حضورِ انور سے سوال ہوا کہ کیا آپ کو کبھی کوئی ایسی مشکل پیش آئی جس کا سامنا کرنے میں آپ بے حد پریشان ہوئے ہوں اور کس طرح اس پریشانی سے نجات ملی؟
حضور انور نے فرمایاکہ اللہ کے فضل سے کوئی ایسی مشکل پیش نہیں آئی جس سے میں کہوں بہت پریشان ہوں۔ طالب علمی کے زمانہ میں، ایک طالب علم کو یہی ہوتا ہے ناں کہ میں پاس ہوجاؤں …تو ایسا ہی ہوا، جب اللہ کے سامنے جھکے، اللہ سے رو رو کر دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ایسے راستے اور سبیل پیدا کردی کہ اس مشکل میں سے گزار دیا۔ میرے ساتھ تو یہی تجربہ ہوا اور جب بھی کوئی پریشانی آتی تھی تو اللہ تعالیٰ کی مدد سے پڑھائی کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا تھا…آپ لوگوں کو بھی اگر کوئی ایسی مشکلات پیش آجائیں تو اللہ تعالیٰ سے مانگیں، جب خالص ہوکر اللہ تعالیٰ کے سامنے انسان جھکتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو قبول بھی کر لیتا ہے۔ دعا اور صدقہ و خیرات مشکلات کو دور کردیتے ہیں۔ یہی ہمیں اسلام کی تعلیم نے سکھایا ہے، میں نے تو اسی پر عمل کیا ہے جب کوئی چھوٹی موٹی مشکلات پیش آئی ہیں۔(25 جون 2021ء)
دعا سے پاس ہو گیا
٭… ایک احمدی طالب علم نے سوال کیا جب حضور پڑھائی کیا کرتے تھے اور امتحان دینے جاتے تھے تو پھر کن دعاؤں کی طرف توجہ دیا کرتے تھے؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں پڑھائی میں بڑا نکما تھا اور دعا ہی کرتا اور دعاؤں سے پاس ہوگیا۔(17 جولائی 2015ء)
فضلِ عمر سکول
٭… ایک بچی نے سوال کیاکہ حضور جب آپ چھوٹے تھے تو کس اسکول میں پڑھتے تھے؟
حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: وہ سکول اب بند ہو چکا ہے۔ اب تم وہاں نہیں جا سکتی۔ اُس زمانہ میں ربوہ میں ایک نیا ’فضلِ عمر‘ سکول کھلا تھا۔ربوہ میں تھوڑے سے گھرہوتے تھے۔ وہ جماعتی اسکول تھا۔ میں اس میں پڑھتا تھا اور میرے خیال میں مَیں اس اسکول کاپہلا اسٹوڈنٹ تھا۔ پھر بعدمیں وہ اسکول بند ہو گیاتھا کیونکہ گورنمنٹ نے Nationalize کر لیا تھااور وہ دوسرے سکول میں Merge ہو گیا۔(16؍اگست2013ء)
پسندیدہ مضمون
٭…ایک طالب علم نے سوال کیا کہ حضور جب سکول میں تھے تو حضور کا پسندیدہ مضمون کون سا تھا؟
اس پر حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:میں تو پڑھائی میں اتنا اچھا نہیں تھا۔ بہر حال عملی طور پر مجھے زراعت پسند تھی، جو میں نے پڑھی تو نہیں لیکن آخر جب میں یونیورسٹی گیا تو میں نے Deficiency Courses کئے۔ لیکن جتنا میں نے پڑھا تھا اس سے زیادہ میری عملی تعلیم تھی۔(30؍ اگست 2013ء)
بڑے ہوکر کیابنیں گے؟
٭… ایک بچےنے سوال کیا کہ حضور جب آپ چھوٹے تھے تو آپ کا کیا دل کرتا تھا کہ آپ بڑے ہوکر کیا بنیں گے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ ’جو میرا دل کرتا تھا وہ تو میں نہیں بنا۔‘(15 فروری 2019ء)
٭… ایک واقفہ نو نے حضور انور سےسوال کیا کہ آپ بچپن میں کیسے پڑھائی کرتے تھے اور تب آپ کا مقصد کیا تھا یعنی آپ بڑے ہو کر کیا بنناچاہتے تھے اور ہمارے لیے آپ کی ہدایت کیا ہے؟
حضور انور نے فرمایا کہ آپ کے لیے ہدایت یہ ہے کہ آپ اچھی اسٹوڈنٹ بنیں۔ آج کل پڑھائی کے بغیر گزارا نہیں ہوسکتا اور واقفہ نو ہیں، آپ لوگوں نے وقف کیا ہوا ہے اس لیے بچپن سے جماعت کا اچھا assetبننے کی، اچھا سرمایہ بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس لیے پڑھائی کر کے، علم حاصل کر کے زیادہ سے زیادہ اپنی زندگی کو بہتر کریں تا کہ پھر آگے اگلی نسلوں کی بھی صحیح طرح تربیت کر سکیں ا ور حفاظت کر سکیں۔
حضورِ انور نے مزید فرمایا کہ جب میں نوجوان تھا تو میرے بہت سے خواب تھے۔ کبھی میں کچھ بننا چاہتا تھا، کبھی کسی اَور چیز کی طرف توجہ چلی جاتی تھی۔ بالآخر کیونکہ میرا شوق زراعت کی طرف تھا تو اُس میں ایک ڈگری حاصل کرلی اور پھر جماعت کی خاطراپنی زندگی وقف کر دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی۔ بہرحال یہ جو وقفِ زندگی کی خواہش تھی یہ بچپن سے میرے دل میں تھی جو اللہ کے فضل سے پوری ہوگئی۔
حضورِ انور نے مزید فرمایا کہ بچپن میں میرے بہت سے ارادے تھے، کبھی میں سوچتا کہ یہ بن جاؤں کبھی کسی اور چیز کے بارے میں سوچتا اور پھر بالآخر میں نے اپنی زندگی وقف کردی۔ میں (ان ارادوں کے مطابق) کچھ بھی نہیں بن سکا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور بالآخر اللہ تعالیٰ مجھے اس پوزیشن (مسند خلافت) تک لے آیا۔ بہر حال میری آپ سب کو یہی نصیحت ہے کہ چونکہ آپ سب نے زندگی وقف کی ہوئی ہے، آپ کو محنت سے کام کرنا چاہیے، خوب محنت سے پڑھائی کریں اور پڑھائی میں اونچے مقام کو حاصل کریں۔ گو بعد میں آپ کو ملازمت نہ کرنی ہو، آپ اپنی تعلیم سے فائدہ اٹھا ئیں گی اور آئندہ نسلوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اسے استعمال کریں گی۔(6؍اکتوبر 2021ء )
٭…ایک واقفہ نوبچی نے سوال کیا کہ حضور کوئی ایسا خواب جو بہت دلچسپ ہو اور حضور کو یادرہاہو ہمیں بتا سکتے ہیں؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: بہت پرانا خواب ہے۔ ایک دفعہ جب میں امتحان دے رہا تھا تو میں نے دیکھا تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے خواب میں دکھایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے: يَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُوْحِیْ اِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَآءِ۔ وہ مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے بتایا اور اس حساب سے اس کے بعد سالوں سے لےکر اب تک اللہ تعالی مدد کرتا رہتا ہے۔(26؍نومبر 2019ء)
بچپن میں حضرت مصلح موعودؓ سے ملاقات
٭… ایک بچی نے سوال کیا کہ حضور انور کے بچپن میں کسی بزرگ یا کسی صحابی کے ساتھ کوئی یاد گار واقعہ ہو تو حضور بتائیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا: ہمارے دادا (حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ) جب فوت ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے، اُس وقت میری عمر گیارہ سال تھی۔ تو دو سال پہلے انہوں نے ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے ملنے جانا تھا۔ وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ تو یہ نہیں کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے چھوٹے بھائی تھے اس لئے گھر کے اندر چلے گئے۔ آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ گھر کے باہر کھڑے رہے اور مجھے اندر بھیجا کہ جا کر بتاؤ کہ مَیں ملنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ مَیں اوپر گیا اور چھوٹی آپا (حضرت مریم صدیقہ صاحبہ مرحومہ) کی وہاں ڈیوٹی تھی۔ میں نے ان کو بتایا کہ وہ ملنے آرہے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ لیٹے ہوئے تھے تو حضورؓ کے Bed کے ایک طرف انہوں نے کرسی رکھ دی۔ پھر میں نیچے آیا اور حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کو اوپر لے گیا۔ چنانچہ آپ نے اوپر جا کر کرسی ایک طرف کر دی اور نیچے فرش پر بیٹھ گئے۔ اُس زمانے میں کارپٹ تو نہیں ہوتے تھے عام دریاں ہوتی تھیں جوفرش پر بچھی ہوتی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے جو باتیں کرنی تھیں کیں۔ میں تو آٹھ، نو سال کا تھا مجھے علم نہیں کہ کیا باتیں ہوئیں۔ بہرحال اس کے بعد بڑے ادب سے اٹھے اور پیچھے ہوتے ہوئے چلے گئے۔ تو وہ ایک سبق میرے ذہن میں ابھی بھی ہے۔ خلافت کا احترام کس طرح کرنا چاہیے۔ خواہ بھائی ہو لیکن خلافت کا ادب و احترام مقدّم ہے۔ اس طرح بعض بزرگوں کی باتیں ہوتی ہیں جو ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔ اُس وقت سے، بچپن سے ہی میرے دماغ میں یہ واقعہ یاد ہے اور یہ یاد ہے کہ خلافت کا احترام کرنا ہے۔(15؍ نومبر2013ء )
مجلس اطفال الاحمدیہ میں بطور سائق
٭… ایک عاملہ ممبر نے عرض کیاکہ ہم سائقین کے نظام کا امریکہ میں صحیح طرح کس طرح اطلاق کرسکتے ہیں؟
اس کے جواب میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:اگر آپ سائقین کے نظام کا اطلاق کریں تو یہ بہت معاونت کرتاہے۔ اگر آپ grass root level والا نظام اپنائیں تو آپ کو خدام الاحمدیہ کے پروگراموں میں ایک بہت بڑی تبدیلی نظرآئے گی۔اطفال الاحمدیہ اور خدام الاحمدیہ کی حاضری میں بھی اضافہ ہوگا۔ جب میں خود اطفال الاحمدیہ میں تھا تو میں پہلے سائق بنا، اس کے بعد منتظم اطفال کا نائب اور اس کے بعد منتظم اطفال بنا۔ پھر زعیم مجلس کے طور پر کام کیا ، پھر ربوہ میں ناظم عمومی کے طور پر کام کیاپھر نیشنل لیول پر مہتمم کے طور پر خدمت کی۔ بحیثیت ایک عام طفل کے میری ٹریننگ کا آغاز ہوگیاتھا۔ یہ نہیں کہ آپ نے نہ کبھی خدام الاحمدیہ کی کلاس میں حصہ لیا ہو اور نہ ہی کسی دوسرے تربیتی پروگرام میں حصہ لیا ہو اور ایک دن صدرمجلس خدام الاحمدیہ آپ کوبلا کرکہیں کہ آپ کو فلاں شعبہ کا مہتمم بنایا جا رہا ہے۔ جب تک آپ نے grass root level پر خود اپنی ٹریننگ نہ کی ہو اُس وقت تک آپ کو اس ٹریننگ کی افادیت کا پتہ نہیں چل سکتا۔ اس لیے اس ٹریننگ کا آغاز نہایت بنیادی سطح سے کریں۔(19؍اپریل 2019ء)
دورہ جات
٭…ایک واقف نو نے سوال کیا کہ آپ نے کتنے ممالک وزٹ کیے ہیں؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: کافی ملک وزٹ کئے ہیں۔ رپورٹس پڑھ کر گنتی کر لینا۔ میں نے 35یا36 ملک وزٹ کیے ہوں گے۔(26؍نومبر 2019ء)
پسندیدہ چیزیں
٭…ایک خادم نے سوال کیا کہ حضور کو کس چیز کی فارمنگ (Farming) پسند ہے اور کونسا پھل پسند ہے؟
اس پر حضور انور نے فرمایاکہ فارمنگ تو فائدہ کے لئے ہوتی ہے جو چیز بھی فائدہ پہنچائے وہ اچھی ہے۔ کھانے کے لئے پھل بھی اچھے ہیں۔ پھلوں میں ایک اچھا پھل ہے۔ وہاں یوکے میں تو پاکستان سے آم آتے ہیں۔ بہت اچھے معیار کے ہوتے ہیں۔ وہاں ہم پاکستان سے منگوالیتے ہیں۔ سندھ سے جو ہمارے فارم ہیں وہاں سے آجاتے ہیں۔(28؍جون2013ء)
٭… ایک بچے کے اس سوال پر کہ حضور کا پسندیدہ پھل کون سا ہے۔
حضور انور نے فرمایا : آم ہے۔
٭… ایک بچی نے سوال کیا کہ حضور کا Favourite Planet کون سا ہے۔
حضور انور کے استفسار پر بچی نے عرض کیا کہ اس کا پسندیدہ Planet زمین ہے تو اس پر حضور انور نے فرمایا اسی پر تو رہتے ہیں، وہی کہنا ہے۔ چھوٹی سی تو دنیا ہے۔(13؍ستمبر2013ء)
٭… ایک طفل نے سوال پوچھا کہ بچپن میں آپ کی کیا فیورٹ ڈش (favourite dish)تھی جو آپ کی والدہ بناتی تھیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ ہم نے کبھی نخرے کیے ہی نہیں تمہاری طرح کے۔ جو گھر میں کھانا پک جاتا ہے، دال پکی ہے تو دال کھا لی۔ گوشت پکا ہے تو گوشت کھا لیا۔ آلو گوشت پکا ہے تو آلو گوشت کھا لیا۔ کریلے پکے تو کریلے کھا لیے۔ کدو پکے تو کدو کھا لیے۔ یہ آجکل کے تم لوگوں کے نخرے ہیں ہمارا کوئی ایسا نخرہ نہیں ہوتا تھا۔ اماں ابا کہتے تھے یہ کھانا پکا ہوا ہے بچے کھانا کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو بس۔ ٹھیک ہے۔ یہ نخرے چھوڑ دو۔(14؍ستمبر 2021ء)
٭…ایک واقف نو بچے نے سوال کیا کہ آپ کو گوشت کو نسا پسند ہے؟اس پر حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: مجھے گوشت کوئی زیادہ پسند نہیں ہے۔
٭…اسی واقف نوبچے نے عرض کیا کہ حضور انور کو fish پسند ہے؟
اس پر حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: fish پسند ہے۔ باقی جانوروں کے گوشت کھا کر دانت ہی خراب ہو جاتے ہیں۔ جو زیادہ گوشت کھاتے ہیں ان کے دانت خراب ہو جاتے ہیں اس لیے balance خوراک کھانی چاہیے۔ اس لیے سبزی بھی کھانی چاہیے ، دالیں بھی کھانی چاہئیں، گوشت بھی کھانا چاہیے، گوشت کھانے کےلیے زیادہ نخرے نہ کیا کرو۔(26؍نومبر 2019ء)
٭…ایک بچے نے سوال کیا کہ حضور کی پسندیدہ کھیل کون سی ہے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا اب تو کوئی کھیل نہیں ہے پہلے کرکٹ اور بیڈمنٹن کھیل لیا کرتا تھا۔ اب کوئی نہیں ہے۔(7ءنومبر2014ء)
٭…ایک واقف نوبچے نے عرض کیا کہ حضور انور کو سپورٹس میں کیا پسند ہے؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اب تو میں کھیلتا نہیں لیکن بچپن میں میں کرکٹ بھی کھیلتارہا ہوں، badminton بھی کھیلتارہاہوں۔(26؍نومبر 2019ء)
٭…بچپن میں پسندیدہ کھیل کے بارے میں دریافت کیے جانے پر حضور انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ حضور بچپن میں کرکٹ شوق سے کھیلتے تھے۔(4؍جولائی 2024ء)
٭…ایک بچی نے سوال کیا کہ حضور کو کس ملک میں جانا سب سے زیادہ پسند ہے یا حضور کا دل کرتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا: کہیں بھی جانا پسند نہیں۔ پسند کی بات کر رہی ہو تو ہر وہ ملک جہاں احمدی ہیں ان سے ملنا مجھے پسند ہے۔ اس لئے مَیں آتا ہوں۔ میں سیر کرنے تو آیا نہیں۔ بس اچھی جماعت ہو اور احمدی ہوں۔(15؍نومبر2013ء)
(تمام حوالہ جات الفضل انٹرنیشنل سے لیے گئے ہیں۔)
٭…٭…٭
