خطبہ عید الاضحی سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ27؍مئی 2026ء
آج کی عید ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرانے والی ہونی چاہیےکہ ہم نے اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنا ہے
یہ قربانیاں یاد دلاتی ہیں کہ جس طرح ایک جانور نے اپنی جان تمہارے لیے قربان کی ہے تم بھی اسی طرح اپنی جان خدا تعالیٰ کے لیے قربان کرو اور اس کے احکامات پر عمل کے لیے اپنی پوری صلاحیتوں کو استعمال کرو
اللہ تعالیٰ کو تمہاری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے اور حقیقت میں خدا تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ مغز چاہتا ہے
آج ہم عید الاضحی منا رہے ہیں جسے قربانیوں کی عید بھی کہتے ہیں ۔یہ اس لیے ہے کہ ان ظاہری قربانیوں کاہماری روح پر بھی اثر ہو اور ہم حقیقت میں اس تعلیم پر عمل کرنے والے بن جائیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے عطا فرمائی ہے۔ اور ہم اپنی حالتوں کو بہتر کریں ۔اور اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادقؑ کو جو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کے ذریعے نئے سرے سے تجدید دین ہو اور ہماری اصلاح ہو۔اس پر ہم عمل کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیےتقویٰ ضروری ہے
صرف بکرے قربان کرنے سے اللہ تعالیٰ کا عید الاضحی منانے کا مقصد پورا نہیں ہو جاتا۔ ایک بندے کا مقصد پورا نہیں ہو جاتا اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا نہیں بن جاتا۔ ہاں !بکرا ایک ظاہری عمل ہے جو انسان کو اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ تم نے بھی قربانی کر کے اپنی اصلاح کرنی ہے۔ تقویٰ پر چلنا ہے ۔اپنی روح کو پاک صاف کرنا ہے اور ان باتوں پر عمل کرنا ہے، کرنے کی کوشش کرنی ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے اور اسی سے پھر انسان ایک حقیقی مومن بن سکتا ہے اور اس حقیقی مقصد کو پا سکتا ہے جو قربانی کی عید کا مقصد ہے
اگر ہماری قربانیوں کا ہماری روحانیت پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ،اگر ہماری قربانیوں کا ہمارے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ،اگر ہماری قربانیوں کا ہمارے تقویٰ کے معیار کو بلند کرنے میں کوئی اثر نہیں پڑ رہا، اگر ہماری قربانیوں کا اسلام کی تعلیم پر مکمل طور پر عمل کرنے میں کوئی اثر نہیں پڑ رہا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں
تقویٰ یہی ہے کہ نمازوں کی ان کے وقت پر صحیح ادائیگی کی جائے
تقویٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرنا ہے اور اس کے بندوں کا حق بھی ادا کرنا ہے
حقوق العباد کے حوالے سے تقویٰ کی تعریف یہ ہے کہ ایک دوسرے سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ کسی پر غرور نہ کرو ۔کسی کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھو۔ کسی کا چڑ کر نام نہ لو اور کسی سے غلط قسم کے جھگڑے نہ کرو۔ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کرو
جب ہم نے یہ عہد کر لیا کہ ہم نے مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے اور اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو حق جانا ہے اور ہم اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ آپؑ ہی وہ مسیح موعود ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں دنیا کی اصلاح کے لیے آنا تھا تو پھر ہمیں اپنی اصلاح بھی کرنی ہوگی۔ اپنی عبادتوں کے معیار بھی بلند کرنے ہوں گے۔ اس کے لیے دنیا داری کو پیچھے کر کے ایک قربانی کے جذبے کے ساتھ اور دین کو دنیا پر مقدّم رکھتے ہوئے اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اسی طرح اپنے اخلاق بلند کرنے کی کوشش کرنی ہو گی کیونکہ یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں
اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ دلوں میں پاکیزگی پیدا ہو۔ اگر دلوں میں پاکیزگی نہیں ہے تو پھر اس زندگی اور ان قربانیوں کی عید منانے کا کوئی فائدہ نہیں
تقویٰ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی تم سے سختی کرتا ہے تو اسے ملاطفت اور نرمی سے جواب دو اور انتقامی طور پر جبر و تشدّد نہ کرو کیونکہ یہ باتیں تقویٰ سے دُور لے جانے والی ہیں
اعلیٰ اخلاق پیدا کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اگر اچھے اخلاق پیدا ہو جائیں تو ہمارے اندر ایک عظیم اور محبت کرنے والا معاشرہ پیدا ہو سکتا ہے
جس کی اب زمانے کے ساتھ ساتھ کمی ہوتی جا رہی ہے ۔اس کی طرف ہمیں خاص کوشش کرنی چاہیے
تقویٰ یہ ہے کہ ہر قسم کے ظاہری یا مخفی بتوں سے اپنے دل اور سینے کو پاک کرو۔ اس کے بغیر انسان تقویٰ حاصل نہیں کر سکتا
دینی علم حاصل کرو اور پھر اس کو پھیلاؤ کیونکہ یہ بھی تقویٰ ہے
جہاں تک اللہ تعالیٰ کے خوف کا تعلق ہے تو اس کے لیے جہاں فرض نمازوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے وہاں نوافل اور تہجد کی طرف بھی توجہ کرو۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کی روحانی حالت کو بہتر کرتی ہیں اور جب روحانی حالت بہتر ہوگی تو وہی قربانی کا اصل مقصد ہے جسے انسان حاصل کر سکتا ہے
اگر ہم جلد از جلد فتح چاہتے ہیں تو ہمیں متقی بننا ہوگا۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔ اپنے اخلاق اور باہمی تعلقات کی حفاظت کرنی ہوگی
اور دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرنا ہوگا۔ خاص طور پرپاکستان میں اور دوسرے ملکوں میں جہاں جماعتی افراد پر ظلم ہو رہے ہیں
ان کو خاص طور پہ اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ جھکیں
بکروں اور جانوروں کی ظاہری قربانیاں کرتے ہو تو انہیں دیکھ کر تمہیں بھی خیال پیدا ہونا چاہیے کہ تم لوگ اپنی جانیں بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ اگر دین کو دنیا پر مقدّم رکھنا ہے تو اس کے لیے قربانی کی بھی ضرورت ہے۔ یہی وہ روح اور فلسفہ ہے جسے اگر ہم سمجھ لیں تو ہم حقیقی طور پر عید اور قربانی کی عید منانے کے حقدار ہیں ۔ورنہ پھر صرف باتیں ہیں
متقی کا عمل تو یہ ہے کہ وہ خالصةً اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر تکلیف کو برداشت کرنے والا ہو اور حوصلہ ہمّت دکھانے والا ہو۔ اس میں وسعتِ حوصلہ بہت زیادہ پائی جاتی ہے
صرف قربانیاں کرنا بھی اس بات کا کوئی معیار نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو گیا ہے بلکہ اصل چیز یہ ہے کہ ان قربانیوں کے ساتھ ہمارے اندر وہ روح پیدا ہو جائے کہ ہم اپنی جان، مال، وقت اور عزّت کو قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں اور دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے والے ہوں
عید قربان ہمیں یہ سبق دے کہ ہم نے حقیقت میں دین کی خاطر ہر قربانی کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ کوشش کرنی ہے۔ ہم نے اپنی عبادتوں کے معیار بھی بڑھانے ہیں اور اپنے اخلاق کے معیار بھی بڑھانے ہیں۔ اپنے دوسروں سے تعلقات بھی بہتر کرنے ہیں اور دشمنوں کو بھی اپنے اعلیٰ اخلاق سے اپنا گرویدہ کرنا ہے
پاکستان کے احمدیوں ، اسیرانِ راہ مولیٰ، شہدائے احمدیت کی نسلوں اورعمومی طور پر کُل احبابِ جماعت احمدیہ عالمگیر کے لیے دعاؤں کی تحریک
بعض جگہوں پر عید کے موقع پر مشکل حالات بھی ہیں لیکن اس کے باوجود کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کی خاطر یہ عید منا رہے ہیں
اس لیے ہمیں ان قربانیوں کو بھی خوشی سے قبول کرنا چاہیے اور جب ہم انہیں خوشی سے قبول کریں گے تو اللہ تعالیٰ بھی ہماری قربانیوں کو قبول فرمائے گا
مَیں سب کو عید مبارک بھی کہتا ہوں
خطبہ عید الاضحی سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ27؍مئی 2026ءبمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، (سرے) یوکے
(خطبہ عید کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾
لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمۡ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٮکُمۡ ؕ وَبَشِّرِالۡمُحۡسِنِیۡنَ ۔ (الحج:38)
اس آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ (یاد رکھو کہ) ان قربانیوں کے گوشت اور خون ہرگز اللہ تک نہیں پہنچتے لیکن تمہارے دل کا تقویٰ اللہ تک پہنچتا ہے (درحقیقت) اس طرح اللہ نے ان قربانیوں کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے تا کہ تم اللہ کی ہدایت کی وجہ سے اس کی بڑائی بیان کرو۔ اور تُو اسلام کے احکام کو پوری طرح ادا کرنے والوں کو بشارت دے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ
’’قانونِ قدرت قدیم سے ایسا ہی ہے کہ یہ سب کچھ معرفتِ کاملہ کے بعد ملتا ہے۔‘‘ پوری معرفت حاصل ہو تبھی تقویٰ کا یہ اعلیٰ مقام ملتا ہے اور’’ خوف اور محبت اور قدر دانی کی جڑھ معرفت کاملہ ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا خوف بھی اور اس کی محبت بھی اس وقت صحیح طرح حاصل ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ کے مقام کا صحیح ادراک پیدا ہو۔ صحیح معرفت پیدا ہو۔’’پس جس کو معرفتِ کاملہ دی گئی‘‘ آپؑ نے فرمایا ’’اس کو خوف اور محبت بھی کامل دی گئی اور جس کو خوف اور محبت کامل دی گئی اس کو ہر ایک گناہ سے جو بیباکی سے پیدا ہوتا ہے نجات دی گئی۔‘‘ پس بعض چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہوتی ہیں گناہ ہوتے ہیں وہ نہیں لیکن انسان بے باک ہو جائے، اپنے گناہوں کو دہراتا چلا جائے تو اس سے پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ بھی ہوتی ہے۔’’پس ہم اِس نجات کے لئے‘‘ آپؑ نے فرمایا کہ ’’نہ کسی خون کے محتاج ہیں اورنہ کسی صلیب کے حاجتمند اور نہ کسی کفارہ کی ہمیں ضرورت ہے بلکہ ہم صرف ایک قربانی کے محتاج ہیں جو اپنے نفس کی قربانی ہے ۔جس کی ضرورت کو ہماری فطرت محسوس کر رہی ہے۔ ایسی قربانی کا دوسرے لفظوں میں نام اسلام ہے۔ اسلام کے معنے ہیں ذبح ہونے کے لئے گردن آگے رکھ دینا یعنی کامل رضا کے ساتھ اپنی روح کو خدا کے آستانہ پر رکھ دینا…۔ ذبح ہونے کے لئے اپنی دلی خوشی اور رضا سے گردن آگے رکھ دینا کامل محبت اور کامل عشق کو چاہتا ہے۔‘‘ بغیر عشق اور محبت کے یہ کام نہیں ہو سکتا ’’اور کامل محبت کامل معرفت کو چاہتی ہے۔‘‘ اور یہ محبت اسی وقت مل سکتی ہے جب انسان کو خدا تعالیٰ کے مقام کی معرفت بھی ہو۔ ’’پس
اسلام کا لفظ اِسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حقیقی قربانی کے لیے کامل معرفت اور کامل محبت کی ضرورت ہے نہ کسی اَور چیز کی ضرورت۔…‘‘
جیسا کہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو نہ تمہاری قربانیوں کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ خون بلکہ اس تک تو صرف قربانی پہنچتی ہے اور وہ قربانی کیا ہے ’’کہ تم مجھ سے ڈرو ‘‘مجھ سے محبت کرو’’اور میرے لئے تقویٰ اختیار کرو۔‘‘
(لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 151-152)
آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’دلوں کی پاکیزگی سچی قربانی ہے۔ ‘‘دل پاکیزہ ہو جائیں تو یہی سچی قربانی ہے۔’’ گوشت اور خون سچی قربانی نہیں۔ جس جگہ عام لوگ جانوروں کی قربانی کرتے ہیں خاص لوگ دلوں کو ذبح کرتے ہیں ۔ مگر خدا نے یہ قربانیاں بھی‘‘ یعنی بکروں اور جانوروں کی قربانیاں اس لیے ’’بند نہیں کیں تا معلوم ہو کہ ان قربانیوں کابھی انسان سے تعلق ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 424)
یہ ظاہری قربانیاں بھی انسان کو بتانے کے لیےہیں۔
یہ قربانیاں یاد دلاتی ہیں کہ جس طرح ایک جانور نے اپنی جان تمہارے لیے قربان کی ہے، تم بھی اسی طرح اپنی جان خدا تعالیٰ کے لیے قربان کرو اور اس کے احکامات پر عمل کے لیے اپنی پوری صلاحیتوں کو استعمال کرو۔
جان قربان کرنا کیا ہے ؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان پہ عمل کرنا ،حقیقی مسلمان بننا تاکہ اللہ تعالیٰ کا پیار بھی حاصل ہو اور اس کی محبت کا بھی اظہار ہو۔
پھر اسی بات کو بیان کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ
’’خدا تعالیٰ نے شریعت اسلام میں بہت سے ضروری احکام کے لئے نمونے قائم کئے ہیں۔ چنانچہ انسان کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنی تمام قوّتوں کے ساتھ اور اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو۔ پس ظاہری قربانیاں اسی حالت کے لئے نمونہ ٹھہرائی گئی ہیں لیکن اصل غرض یہی قربانی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ ۔ یعنی خدا کو تمہاری قربانیوں کاگوشت نہیں پہنچتا اور نہ خون پہنچتا ہے مگر تمہاری تقویٰ اس کو پہنچتی ہے۔ یعنی اس سے اتنا ڈرو کہ گویا اس کی راہ میں مر ہی جاؤ اور جیسے تم اپنے ہاتھ سے قربانیاں ذبح کرتے ہو اسی طرح تم بھی خدا کی راہ میں ذبح ہو جاؤ۔ جب کوئی تقویٰ اس درجہ سے کم ہے تو ابھی وہ ناقص ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت,روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 99 حاشیہ)
پھر آپؑ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ظاہری نماز اور روزہ اگر اس کے ساتھ اخلاص اور صدق نہ ہو کوئی خوبی اپنے اندر نہیں رکھتا۔ جوگی اور سنیاسی بھی اپنی جگہ بڑی ریاضتیں کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنے ہاتھ بھی سکھا دیتے ہیں اور بڑی مشقتیں اٹھاتے ہیں۔ اپنے آپ کو مشکلات اور مصائب میں ڈالتے ہیں لیکن یہ ظاہری تکلیفیں ان کو کوئی نور نہیں بخشتیں اور نہ کوئی سکینت اور اطمینان ان کو ملتا ہے بلکہ اندرونی حالت ان کی خراب ہوتی ہے اور اس سے ان کی روحانیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
پس
اللہ تعالیٰ کو تمہاری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے اور حقیقت میں خدا تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ مغز چاہتا ہے۔
یہاں لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کو قربانیاں نہیں پہنچتیں تو پھر ان قربانیوں کاحکم کیوں دیا؟ اس کے جواب میں بھی آپؑ نے فرمایا کہ اسی طرح لوگ کہتے ہیں کہ روزہ اگر روح کا ہے تو پھر ظاہر کی کیا ضرورت ہے؟ پھر اسی طرح سوال کرتے ہیں کہ نمازیں اگر دل سے ہیں تو پھر ظاہری نمازوں کی کیا ضرورت ہے؟آپؑ نے فرمایا کہ اس کا جواب یہی ہے کہ یہ بالکل پکی بات ہے کہ جو لوگ جسم سے خدمت لینا چھوڑ دیتے ہیں ان کو روح نہیں مانتی۔ جو خدمت لینا چھوڑ دیتے ہیں تو پھر روح پر بھی ان کی نیکیوں کا اثر نہیں ہوتا۔ روح اور جسم کا بھی ایک تعلق ہے اور روح اور جسم کے تعلق کے لیے ضروری ہے کہ ظاہری عبادتیں بھی کی جائیں ۔اور ظاہری عبادتوں میں روزہ ہے، نماز ہے اور یہ قربانی کا ایک ظاہری طور پر اظہار ہے جس کا روح پر بھی اثر پڑتا ہے۔ عید پر بکروں کی قربانی ہے ،جانوروں کی قربانی ہے۔ بہرحال آپؑ نے فرمایا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ جسم اور روح کا کوئی تعلق نہیں ہے وہ خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں۔ فرمایا جسمانی اور روحانی سلسلے دونوں برابر چلتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جب روح میں عاجزی پیدا ہوتی ہے تو پھر جسم میں بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے جب روح میں واقع میں عاجزی اور نیاز مندی ہو تو جسم میں اس کے آثار خود بخود ظاہر ہو جاتے ہیں۔ روح آدمی کی عاجز ہوتو انسان پھر جھکتا بھی ہے ،سجدے بھی کرتا ہے ،رکوع بھی کرتا ہے اور اس کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے۔ اور ایسا ہی جسم پر ایک الگ اثر پڑتا ہے تو روح بھی اس سے متاثر ہو جاتی ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 4صفحہ 78-79، ایڈیشن 2022ء) اور پھر جب جسم ایسی حرکات کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے مطابق چل رہا ہوتا ہے اس کی طرح عاجزی دکھا رہا ہوتا ہے۔ تو پھر اس کا اثر ضرور پڑتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چل رہی ہوتی ہیں۔
پس یہ ہے وہ فلسفہ جس کی خاطر ہم بقرعید پر یا عید الاضحی پر قربانیاں کرتے ہیں۔
آج ہم عید الاضحی منا رہے ہیں جسے قربانیوں کی عید بھی کہتے ہیں ۔یہ اس لیے ہے کہ ان ظاہری قربانیوں کاہماری روح پر بھی اثر ہو اور ہم حقیقت میں اس تعلیم پر عمل کرنے والے بن جائیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے عطا فرمائی ہے۔ اور ہم اپنی حالتوں کو بہتر کریں ۔اور اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو جو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کے ذریعے نئے سِرے سے تجدید دین ہو اور ہماری اصلاح ہو۔اس پر ہم عمل کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیےتقویٰ ضروری ہے۔
جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار فرمایا کہ اس کے لیےتقویٰ ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بھی فرمایا ہے کہ تمہارا خون اور گوشت اللہ کو نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے۔
صرف بکرے قربان کرنے سے اللہ تعالیٰ کا عید الاضحی منانے کا مقصد پورا نہیں ہو جاتا۔ ایک بندے کا مقصد پورا نہیں ہو جاتا اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا نہیں بن جاتا۔ ہاں !بکرا ایک ظاہری عمل ہے جو انسان کو اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ تم نے بھی قربانی کر کے اپنی اصلاح کرنی ہے۔ تقویٰ پر چلنا ہے ۔اپنی روح کو پاک صاف کرنا ہے اور ان باتوں پر عمل کرنا ہے، کرنے کی کوشش کرنی ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے اور اسی سے پھر انسان ایک حقیقی مومن بن سکتا ہے اور اس حقیقی مقصد کو پا سکتا ہے جو قربانی کی عید کا مقصد ہے۔
پس ان دنوں میں ہم اچھے کپڑے بھی پہن لیتے ہیں۔ بعض جو صاحبِ حیثیت ہیں وہ بکرے بھی خریدتے ہیں، بڑے بڑے جانور خریدتے ہیں اور قربانیاں کرتے ہیں لیکن اگر اس میں تقویٰ نہیں تو پھر ان کی حالت ویسی ہی ہے جیسا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک جوگی ہے جو مشقّت کرتا ہے ،ورزش کرتا ہے ۔ایک جگہ کئی کئی گھنٹے اپنا ہاتھ کھڑا رکھ کر اپنا ہاتھ بھی سکھا لیتا ہے لیکن اس کا اس کی روحانیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
پس
اگر ہماری قربانیوں کا ہماری روحانیت پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ،اگر ہماری قربانیوں کا ہمارے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ،اگر ہماری قربانیوں کا ہمارے تقویٰ کے معیار کو بلند کرنے میں کوئی اثر نہیں پڑ رہا، اگر ہماری قربانیوں کا اسلام کی تعلیم پر مکمل طور پر عمل کرنے میں کوئی اثر نہیں پڑ رہا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
اس کے لیےہمیں اپنے جائزہ لینے ہوں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب ہم نے مانا ہے تو آپؑ تو اس مقصد کے لیےآئے تھے کہ اب جبکہ دنیا اسلام کی حقیقی تعلیم سے دُور ہٹ رہی ہے اسے اسلام کی حقیقی تعلیم کے قریب لائیں اور ان کو حقیقی مسلمان بنائیں اور ان میں تقویٰ پیدا کریں۔پس
آج کی عید ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرانے والی ہونی چاہیےکہ ہم نے اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم مجھ سے منسلک ہو تو ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ ایک نمونہ بنانا چاہتا ہے۔اگر تم نمونہ نہیں بن رہے، اگر تمہارے حقوق اللہ کی ادائیگی کے معیار بلند نہیں ہو رہے، اگر تمہارے حقوق العباد کی ادائیگی کے معیار بلند نہیں ہو رہے، اگر تمہیں عبادتوں کی طرف خاص رغبت اور شغف پیدا نہیں ہو رہا، اگر تمہاری سچائی کے معیار بلند نہیں ہو رہے ،اگر تمہارے دوسرے اخلاق کے معیار بلند نہیں ہو رہے تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ تقویٰ سے دُور باتیں ہیں۔
آپؑ نے بار بار اس بات کی تلقین فرمائی ہے کہ حقیقی احمدی وہ ہے اور قربانیوں کا اصل مقصد تب پورا ہوتا ہے جب تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ متقی کو پیار کرتا ہے۔پس تم خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے سب ترساں رہو۔ خوفزدہ رہو ۔اللہ سے ڈرو اور ڈر محبت کی وجہ سے ہو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ کرتے رہو۔ یہ نہیں کہ دنیاوی کاموں میں ڈوب کر اللہ کی عبادت اور اس کا مقصد بھول جاؤ۔ لوگ لکھتے ہیں کہ ہمیں نمازیں پڑھنی ہو ںیا ان کے وقت یاد نہیں رہتے۔ یا بعض اوقات ہماری نمازیں مِس (miss) ہو جاتی ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا خوف ہو ،اس کی محبت ہو اور تقویٰ دلوں میں ہو تو پھر ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ تب انسان قربانی دے کر بھی اپنی نمازوں کی حفاظت کرتا ہے اور اپنے دنیاوی کاموں کو پیچھے کر دیتا ہے۔
آپؑ نے حقوق العباد کی طرف بھی توجہ دلائی کہ تمہاری طرف سے کسی پر ظلم نہیں ہونا چاہیے۔ تبھی تم میری جماعت کے فرد ہونے کا حقیقی حق ادا کرنے والے بن سکو گے۔ آپؑ نے تو یہاں تک نصیحت فرمائی ہے کہ
میری جماعت کے لوگ سارے غموں اور فکروں سے بڑھ کر جو فکر اپنے اوپر طاری کریں وہ یہ ہونی چاہیےکہ ان میں تقویٰ ہے یا نہیں۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ8و30، ایڈیشن 2022ء)
اگر یہ فکر نہیں اور دنیا کی فکریں زیادہ ہیں اور تقویٰ کی کمی ہے تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔اور تقویٰ کیا ہے؟
تقویٰ یہی ہے کہ نمازوں کی ان کے وقت پر صحیح ادائیگی کی جائے۔
نمازیں پڑھتے ہوئے اگر توجہ اِدھر اُدھر ہو جائے تو پھر خاص طور پر اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے دوبارہ نماز کی طرف توجہ پھیری جائے اور انسان جو الفاظ ادا کر رہا ہے خواہ وہ مسنون دعائیں ہیں یا قرآن کریم کی آیات ہیں جیسے سورہ فاتحہ ہے ان پر غور کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے مانگے کہ اسے بھی ان سے فیض یاب کرے تبھی تقویٰ کے معیار بھی حاصل ہوں گے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا
تقویٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرنا ہے اوراس کے بندوں کا حق بھی ادا کرنا ہے۔
پھر حقوق العباد کے ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔
حقوق العباد کے حوالے سے تقویٰ کی تعریف یہ ہے کہ ایک دوسرے سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ کسی پر غرور نہ کرو ۔کسی کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھو۔ کسی کا چِڑ کر نام نہ لو اور کسی سے غلط قسم کے جھگڑے نہ کرو۔ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کرو۔
آپؑ نے فرمایا کہ خدا کے کلام سے یہی پایا جاتا ہے کہ متقی وہ ہوتے ہیں جو حلیمی اور مسکینی سے چلتے ہیں۔ وہ مغرورانہ گفتگو نہیں کرتے بلکہ ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے سے گفتگو کر رہا ہوتا ہے۔ چھوٹا شخص جو ہے یا بچہ جو ہے بڑے سے آرام سے ملتا ہے ۔ادب سے ملتا ہے ۔لحاظ سے ملتا ہے۔ اسی طرح ہر ایک کے ساتھ تمہاری گفتگو ہونی چاہیے۔ آپؑ نے نصیحت فرمائی کہ ہمیں ہر حال میں ایسی باتیں کرنی چاہئیں جن سے ہماری فلاح ہو، جو ہمارے لیے دینی اور دنیاوی بہتری کا ذریعہ بن جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے ۔یعنی اللہ تعالیٰ پر کوئی قبضہ کر کے نہیں بیٹھ جاتا کہ اللہ تعالیٰ میری ملکیت ہے۔ اللہ تعالیٰ تو خاص تقویٰ کو چاہتا ہے اور جو تقویٰ اختیار کرے گا وہ اعلیٰ مقام پر پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ کا قرب پائے گا اور تقویٰ جیسا کہ پہلے بھی میں نے بیان کیا ہے یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کیا جائے۔ آپؑ نے فرمایا کہ
تمام انبیاء اسی بات سے مقام حاصل کرتے ہیں کہ ان میں تقویٰ ہوتا ہے اور یہی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر تمام انبیاء نے اپنے ماننے والوں میں پیدا کی ۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 31-32،ایڈیشن 2022ء)
اور یہی وہ بات ہے جس کے متعلق آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مَیں اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتا ہوں۔
بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ چونکہ ہمارے باپ دادا بڑے نیک تھے ہمیں بھی شاید ان کی نیکیوں کا اجر مل جائے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ کسی کو کسی کے باپ دادا کے اجر سے اجر نہیں ملے گا بلکہ ہر ایک کا اپنا مؤاخذہ ہوگا اور جو اللہ تعالیٰ کے جتنا قریب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے اتنا ہی زیادہ سوال جواب بھی کرے گا۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 38،ایڈیشن 2022ء)
اس لیے
جب ہم نے یہ عہد کر لیا کہ ہم نے مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے اور اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو حق جانا ہے اور ہم اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ آپؑ ہی وہ مسیح موعود ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں دنیا کی اصلاح کے لیے آنا تھا تو پھر ہمیں اپنی اصلاح بھی کرنی ہوگی۔ اپنی عبادتوں کے معیار بھی بلند کرنے ہوں گے۔ اس کے لیے دنیا داری کو پیچھے کر کے ایک قربانی کے جذبے کے ساتھ اور دین کو دنیا پر مقدّم رکھتے ہوئے اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اسی طرح اپنے اخلاق بلند کرنے کی کوشش کرنی ہو گی کیونکہ یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ
اگر تم لوگ ہمیشہ کی فلاح چاہتے ہو، یہ چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سے راضی ہو جائے اور تمہیں ترقیات بھی دے اور تم یہ چاہتے ہو کہ تمہیں فتح بھی حاصل ہو تو پھر قرآن کریم کو پڑھو ۔اس کے اوپر عمل کرو ۔اور اس کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرو۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 57،ایڈیشن 2022ء)
فتح یونہی نہیں مل جاتی ۔کامیابیاں یونہی نہیں مل جاتیں۔ محنت کرنی پڑتی ہے ۔صرف ایک دن بکرے کی قربانی سے تمہیں اپنے اعمال کا نتیجہ نہیں مل جائے گا بلکہ یہ نتیجہ حاصل کرنے کے لیے ان ہدایات پر چلنا پڑے گا ۔اور پھر آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ’’ سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 56،ایڈیشن 2022ء)
پس اگر صحیح عقل حاصل کرنی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کےحکموں پر عمل کیا جائے جیسا کہ پہلے بھی کہا۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کی پیدا کردہ مختلف چیزوں پر غور کیا جائے اور پھر نیک نتائج کے حصول کے لیے اس سے دعا بھی کی جائے۔ آپؑ نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دوسروں پر بھی اثر ہو، دوسرے تم سے متاثر ہوں اور تمہاری تبلیغ کا کام بھی پھیلے۔ تبلیغ یونہی تونہیں ہو جاتی۔ اگر تبلیغ کا کام پھیلانا ہے تو پھر اپنے اندر عملی طاقت پیدا کرو کیونکہ عمل کے بغیر تمہاری باتیں کسی کو فائدہ نہیں دے سکتیں۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 57،ایڈیشن 2022ء)
باتیں کرنے والے تو ہزاروں لوگ ہیں ۔اب لاکھوں لوگ قربانیاں کرتے ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں کوئی اعلیٰ مقام عطا فرما دیا ہے؟ بلکہ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ لاکھوں کے حج قبول نہیں ہوئے اور صرف ایک ہی شخص کا حج قبول ہوا جس کی وجہ سے پھر باقیوں کے حج بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائے۔
(ماخوذ از تذکرۃ الاولیاءصفحہ171 ،ناشر رحمان بک ہاؤس کراچی اشاعت2005ء)
اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ دلوں میں پاکیزگی پیدا ہو۔ اگر دلوں میں پاکیزگی نہیں ہے تو پھر اس زندگی اور ان قربانیوں کی عید منانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
پس
اصل چیز تقویٰ ہے ۔اور تقویٰ کے لیے یہی اصول ہے کہ اپنے اعلیٰ اخلاق پیدا کرو۔
بار بار اس کو دہرایا گیا۔ اپنی عبادتوں کے معیار بھی بلند کرتے چلے جاؤ اور حقوق العباد کے معیار بھی بلند کرتے چلے جاؤ۔
تقویٰ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی تم سے سختی کرتا ہے تو اسے ملاطفت اور نرمی سے جواب دو اور انتقامی طور پر جبر و تشدّد نہ کرو کیونکہ یہ باتیں تقویٰ سے دُور لے جانے والی ہیں۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 87،ایڈیشن 2022ء)
اپنے نفس کا جائزہ لیتے رہو کہ ہم کس حد تک اللہ کے حکموں پر چلنے والے ہیں۔ یہی وہ اصل چیز ہے جو تقویٰ کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور یہی بار بار ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مختلف جگہوں پر فرماتے ہیں۔
پھر آپؑ نے فرمایا کہ قبولیت دعا کا سرور بھی تمہیں تبھی ملے گا۔ کہتے ہیں جی قبولیت دعا کا سرور نہیں ملتا۔ دعائیں کرنے کامزہ نہیں آتا۔ہم نماز پڑھتے ہیں بس جلدی سے پڑھ کے فارغ ہو جاتے ہیں وہ دلی کیفیت طاری نہیں ہوتی۔ آپؑ نے فرمایا کہ
سرور بھی تمہیں تبھی ملے گا جب تم اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والے ہوگے۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 93،ایڈیشن 2022ء)
یہ شکوہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں حالانکہ ہم تو قربانیاں بھی کرتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تک تم تقویٰ کی راہوں پر قدم نہیں مارو گے تب تک تم اپنی دعاؤں کی قبولیت کا فائدہ نہیں اٹھا سکو گے اور نہ اس کا اثر دیکھ سکو گے اور تقویٰ کی راہیں یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور اس کے بندوں کے حقوق بھی پورے ادا کرو۔ آپؑ نے فرمایا کہ اپنی پوری کوشش کرو کہ تم نے اپنے اخلاق کو اچھا کرنا ہے ۔اخلاق بھی بہت ضروری ہیں تقویٰ کے لیے۔ صرف نمازیں پڑھنا تقویٰ نہیں اور زبانی کہہ دینا کہ ہم حق ادا کر دیں یہ نہیں ہے بلکہ اپنے اخلاق اچھے کرنے پڑیں گے اور اچھے اخلاق کا پتہ لگتا ہے جب انسان کا دوسروں سے واسطہ پڑتا ہے اور دوسرے کہتے ہیں ہاں! واقعی اچھے اخلاق والا ہے۔ اس کے بغیر نہ تم تقویٰ حاصل کر سکتے ہو نہ خدا تعالیٰ کاقرب حاصل کر سکتے ہواور نہ کسی نیکی کے زمرے میں آ سکتے ہو کہ ہم نے کوئی نیکی کی ہے۔
پس
اعلیٰ اخلاق پیدا کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اگر اچھے اخلاق پیدا ہو جائیں تو ہمارے اندر ایک عظیم اور محبت کرنے والا معاشرہ پیدا ہو سکتا ہے جس کی اب زمانے کے ساتھ ساتھ کمی ہوتی جا رہی ہے ۔اس کی طرف ہمیں خاص کوشش کرنی چاہیے۔
آپؑ نے فرمایا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ تقویٰ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے تو
تقویٰ کس طرح اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے؟
اس آیت میں یہی آیا ہے ناں کہ خدا تعالیٰ تک تو تقویٰ پہنچتا ہے۔ تمہارا خون اور گوشت نہیں پہنچتا۔ فرمایا کہ اپنے اخلاق ہمسایوں سے بھی درست کرو۔ تقویٰ تب پہنچتا ہے جب تمہارے اخلاق اپنے ہمسایوں سے درست ہوں گے۔
’’ جو شخص اپنے ہمسایہ کو اپنے اخلاق میں تبدیلی دکھاتا ہے کہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے وہ گویا ایک کرامت دکھاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 126،ایڈیشن 2022ء)
اس سے نہ صرف اس کے تقویٰ کا معیار بلند ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی بیعت کا حق ادا کرنے والا بھی بن رہا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے وہ ایک نیک نتیجہ پیدا کرتا ہے کیونکہ اس کا ہمسائے پر اعلیٰ درجے کا اثر پڑتا ہے۔
پس
تقویٰ یہی ہے کہ اپنے غصّے کو بھی دباؤ۔ لوگوں سے اعلیٰ اخلاق سے پیش آؤ اور لوگوں کے حق مارنے سے بھی بچو۔ لڑائی جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے اگر معمولی نقصان اٹھانے کے ساتھ اپنے کچھ حقوق چھوڑنے پڑیں تو چھوڑ دینے چاہئیں ۔کوئی حرج نہیں ہے۔
چھوٹا موٹا اگر نقصان ہوتا ہے تو معاملہ اگر عدالت یا منصفوں کے پاس لے جانا ہے تو وہاں سے پھر جو فیصلہ ہو جائے اسے مان بھی لینا چاہیے۔ بعض لوگ ضد میں آ کے پھر مانتے بھی نہیں۔ اپیلوں پہ اپیلیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ اپنا جائزہ لیں کہ تقویٰ کے رُوسے ہم کیا کر رہے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ تم میرے سے تعلق رکھتے ہو تو تعلق صرف ظاہری باتوں سے نہیں ہوگا بلکہ ایک نمایاں تبدیلی اپنے اندر پیدا کرو۔ دنیا کو نظر آ رہا ہو کہ تمہاری عبادتوں کے بھی معیار بلند ہیں۔ تمہارے اخلاق کے بھی معیار بلند ہیں۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد1صفحہ130،ایڈیشن2022ء) اور جب یہ چیزیں ہوں گی تبھی تم ایک حقیقی احمدی بن سکتے ہو ۔تبھی ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہو جو حقیقی قربانی کا حق ادا کرنے والے ہیں۔
اسی طرح آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ
تقویٰ یہ ہے کہ ہر قسم کے ظاہری یا مخفی بتوں سے اپنے دل اور سینے کو پاک کرو۔ اس کے بغیر انسان تقویٰ حاصل نہیں کر سکتا۔
دل میں بھی کبھی کسی کی بڑائی کا کوئی خیال نہیں آنا چاہیے کہ فلاں سے ہمیں فائدہ پہنچ رہا ہے یا ہمیں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ہاں! اسباب ہیں وہ استعمال کرنے چاہئیں۔
(ماخوذ از کشتی نوح،روحانی خزائن جلد19صفحہ12،ماخوذ از ملفوظات جلد4صفحہ288و ماخوذ از ملفوظات جلد1صفحہ232ایڈیشن2022ء)
آپؑ نے فرمایا کہ
دینی علم حاصل کرو اور پھر اس کو پھیلاؤ کیونکہ یہ بھی تقویٰ ہے۔
دینی علم حاصل کرنا بھی تقویٰ ہے۔ پھر
جہاں تک اللہ تعالیٰ کے خوف کا تعلق ہے تو اس کے لیے جہاں فرض نمازوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے وہاں نوافل اور تہجد کی طرف بھی توجہ کرو۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کی روحانی حالت کو بہتر کرتی ہیں اور جب روحانی حالت بہتر ہوگی تو وہی قربانی کا اصل مقصد ہے جسے انسان حاصل کر سکتا ہے۔
آپؑ نے فرمایا کہ لوگ باتیں کرتے ہیں کہ فتح نہیں ہوئی، فتح نہیں ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ
اگر تم فتح چاہتے ہو تو پھر متقی بن جاؤ کیونکہ متقی بنے بغیر تمہاری فتح نہیں ہو سکتی۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد1صفحہ 214وماخوذ ازملفوظات جلد9صفحہ55ایڈیشن 2022ءو)
پس
اگر ہم جلد از جلد فتح چاہتے ہیں تو ہمیں متقی بننا ہوگا۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔ اپنے اخلاق اور باہمی تعلقات کی حفاظت کرنی ہوگی اور دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرنا ہوگا۔ خاص طور پر پاکستان میں اور دوسرے ملکوں میں جہاں جماعتی افراد پر ظلم ہو رہے ہیں ان کو خاص طور پہ اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ جھکیں۔
آپؑ نے فرمایا کہ
ایک بات یہ بھی یاد رکھو کہ تقویٰ اس کو بھی کہتے ہیں کہ ہم اپنے اخلاق اور اعمال میں ترقی کریں کہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور محبت کا فیض ہمیں ملے۔
اپنے اخلاق اور اعمال میں ترقی کرو تو خدا تعالیٰ کی محبت کا اور نصرت کا فیض ملے گا۔ اگر فتوحات چاہتے ہو تو پھر یہ بھی کرو ۔اس کے بغیر گزارہ نہیں۔ صرف نمازیں پڑھنے سے یابکرے قربان کرنے سے گزارہ نہیں ہوگا۔ پھر
خدا کی مدد کو لے کر ہمارا فرض ہے اور ہر ایک ہم میں سے جو کر سکتا ہے اس کو لازم ہے کہ وہ ان حملوں کا جواب دینے میں کوئی کوتاہی نہ کرے جو اسلام پر اور جماعت پر ہوتے ہیں۔
یہ تقویٰ پیدا کرو ۔پھر تبلیغ کا کام بھی ہے۔ لوگوں کے اعتراضوں کے جواب بھی دو لیکن وہ بھی اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے ۔بعض لوگ بد اخلاقی دکھاتے ہیں۔ غلط قسم کے الفاظ استعمال کر دیتے ہیں اور وہ باتیں کر جاتے ہیں جو ہماری تعلیم کے خلاف ہیں تو وہ تقویٰ نہیں ہے ۔نہ ان کی اس تبلیغ کا کوئی اثر ہوگا۔ ہاں! الٹا نقصان ضرور ہوتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بات بھی تقویٰ سے دُور ہے کہ انسان صرف ذاتی انا کی وجہ سے جواب دینے لگ جائے۔ نہیں! بلکہ فرمایا کہ نیت یہ ہونی چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد1صفحہ215 ،ایڈیشن2022ء)
آپؑ نے فرمایا کہ
اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ فرمایا کہ مجھ تک صرف تقویٰ پہنچتا ہے تو یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی نصرت متقی جماعت کے شامل حال ہوتی ہے۔
اگر جماعت متقی ہے تو اللہ تعالیٰ کی نصرت شامل ہو گی۔ اگر متقی نہیں ہو تو اللہ تعالیٰ کی نصرت شامل نہیں ہوسکتی۔ اس لیے یہ کہنے سے پہلے کہ جماعت کی ترقیات نہیں ہو رہیں اپنی حالت دیکھو کہ تمہارے اپنے اندر تقویٰ کس حد تک قائم ہے ؟تم کس حد تک اللہ تعالیٰ کے حق ادا کر رہے ہو اور کس حد تک بندوں کے حق ادا کر رہے ہو ؟اور اگر یہ حق ادا کر رہے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ تمہاری دعاؤں کو بھی قبول کرے گا اور تمہیں فتوحات بھی عطا فرمائے گا۔
آپؑ نے فرمایا کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے’’بہت دفعہ خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ تم لوگ متقی بن جاؤ۔‘‘ بار بار الہام ہوا ہے کہ تمہاری جماعت کے افراد متقی بن جائیں۔تم متقی بن جاؤ ’’اور تقویٰ کی باریک راہوں پر چلو تو خدا تمہارے ساتھ ہوگا۔‘‘ آپؑ نے ’’فرمایا ۔اس سے میرے دل میں بڑا درد پیدا ہوتا ہے کہ مَیں کیا کروں کہ ہماری جماعت سچی تقویٰ و طہارت اختیار کر لے۔‘‘ اس وقت جبکہ بہت سے صحابہؓ تھے ،بہت نیک لوگ بھی تھے آپؑ کی یہ حالت تھی۔وہ معیار بھی آپؑ کو کم لگتا تھا۔ آج ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ ہمارے کیا معیار ہیں۔ ’’پھر فرمایا کہ
مَیں اتنی دعا کرتا ہوں کہ دعا کرتے کرتے ضعف کا غلبہ ہو جاتا ہے اور بعض اوقات غشی اور ہلاکت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔‘‘
اس غم میں کہ جماعت میں تقویٰ پیدا ہو۔
’’جب تک کوئی جماعت خدا کی نگاہ میں متقی نہ بن جائے خدا کی نصرت اس کے شامل حال ہو نہیں ہو سکتی۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 276،ایڈیشن 2022ء)
پس یہ وہ باتیں ہیں جنہیں ہمیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے ۔
اگر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا حق ادا کرنا ہے تو اپنی اس تکلیف کو بھی دُور کرنا ہوگا ۔اور وہ تکلیف یہی ہے کہ ہم حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کریں۔ اگراس میں کمی ہے تو اس کو ہمیں تکلیف سمجھنا چاہیے اور اس کے لیے پھر کوشش کرنی چاہیے۔ جس طرح ہمیں جسمانی تکلیف ہو سر درد ہو جسموں میں درد ہو دوائیاں کھاتے ہیں تو اس کے لیے پھر دوائی یہی ہے کہ تقویٰ پیدا کریں اور اس کے احکامات پر، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کریں تبھی ہماری قربانیاں فائدہ مند ہوں گی ورنہ بےفائدہ ہیں۔ اگر ہم محض چند بکرے یا گائے ذبح کر دیتے ہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
آپ علیہ السلام تقویٰ کے بارے میں مزید نصیحت کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں ۔صرف اتنی بات پر مغرور نہ ہو جاؤ کہ ہم نماز روزہ ادا کرتے ہیں یا زنا اور چوری وغیرہ جرائم نہیں کرتے۔ یہ خوبیاں تو اکثر غیرمسلموں بلکہ مشرکوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 173،ایڈیشن 2022ء)
بہت سے ایسے ہیں جن میں اعلیٰ اخلاقی نیکیاں ہیں اور اچھائیاں پائی جاتی ہیں۔ اعلیٰ یا کم از کم بہتر اخلاق پائے جاتے ہیں تو یہ کوئی بڑی نیکی نہیں ہے کہ ہم نے یہ کام نہیں کیا۔ اصل چیز تو یہ ہے کہ تم تقویٰ کی حقیقت کو سمجھو۔ خدا تعالیٰ کی ذات پر ہمیشہ یقین رکھو اور اس کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار ہو جاؤ۔
بکروں اور جانوروں کی ظاہری قربانیاں کرتے ہو تو انہیں دیکھ کر تمہیں بھی خیال پیدا ہونا چاہیے کہ تم لوگ اپنی جانیں بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ
اور اس کے لیےگردن پر چھری پھیرنا ضروری نہیں ہے۔جان قربان کرنے کے لیے ضروری نہیں ہے گردن پر چھری پھیری جائے بلکہ یہ ہے کہ دنیاوی چیزوں کو پسِ پشت ڈال کر اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حاصل کرنا ہے اسے حاصل کرو اور اس کے لیے انسان کو ہمیشہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے نہ یہ کہ نمازوں کو بھی بھول جائیں یا کسی سے جھگڑا ہو، بحث ہو تو اخلاق سے نیچے گر جائیں۔ تبھی ہم اپنے عہد میں یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم دین کو دنیا پر مقدّم رکھیں گے ۔پس
اگر دین کو دنیا پر مقدّم رکھنا ہے تو اس کے لیے قربانی کی بھی ضرورت ہے۔ یہی وہ روح اور فلسفہ ہے جسے اگر ہم سمجھ لیں تو ہم حقیقی طور پر عید اور قربانی کی عید منانے کے حقدار ہیں ۔ورنہ پھر صرف باتیں ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’تقویٰ والے پر خدا کی ایک تجلّی ہوتی ہے ۔وہ خدا کے سایہ میں ہوتا ہے مگر چاہیے کہ تقویٰ خالص ہو اور اس میں شیطان کا کچھ حصہ نہ ہو ورنہ شرک خدا کو پسند نہیں اور اگر کچھ حصہ شیطان کا ہو تو خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ سب شیطان کا ہے۔ خدا کے پیاروں کو جو دکھ آتا ہے وہ مصلحتِ الٰہی سے آتا ہے ورنہ ساری دنیا اکٹھی ہو جائے تو ان کو ایک ذرّہ بھر تکلیف نہیں دے سکتی ۔چونکہ وہ دنیا میں نمونہ قائم کرنے کے واسطے ہیں۔‘‘ یہ تکلیفیں اس لیے بھی آتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ آزمانا چاہتا ہے کہ آیا تمہارے اندر قربانی کی روح ہے بھی یا نہیں اور یہی تقویٰ ہے ۔اس لیے آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’اس واسطے ضروری ہوتا ہے کہ خدا کی راہ میں تکالیف اٹھانے کا نمونہ بھی وہ لوگوں کو دکھائیں…‘‘ یعنی انبیاء اور نیک ولی اللہ ورنہ خدا تعالیٰ تو تقویٰ کرنے والوں، اپنے پیاروں کے بارے میں فرماتا ہے ’’ کہ مجھے کسی بات میں اس سے بڑھ کر تردّد نہیں ہوتا کہ اپنے ولی کی قبضِ روح کروں۔ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے ولی کو کوئی تکلیف آوےمگر ‘‘آپؑ نے فرمایا کہ ’’ضرورت اور مصالح کے واسطے وہ دکھ دئیے جاتے ہیں ‘‘اور یہ بتانے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار ہیں اور جانوروں کی یہ قربانیاں انہیں یہی سبق دینے والی ہیں اور فرمایا کہ ’’اور اس میں خود ان کے لئے نیکی ہے کیونکہ ان کے اخلاق ظاہر ہوتے ہیں…‘‘ اعلیٰ اخلاق کامظاہرہ ہی اس وقت ہوتا ہے جب وہ قربانی کر رہے ہوتے ہیں۔ آپؑ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دی ہے فرمایا کہ ’’دیکھو جنگِ احدمیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے ۔اس میں یہی بھید تھا کہ آنحضرتؐ کی شجاعت ظاہر ہوجبکہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کے مقابلہ میں اکیلے کھڑے ہو گئے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ ایسا نمونہ دکھانے کا کسی نبی کو موقع نہیں ملا۔‘‘
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 172-173،ایڈیشن 2022ء)
پس آپؑ نے فرمایا کہ ہم اپنی جماعت کو کہتے ہیں کہ صرف اتنے پر مغرور نہ ہو جاؤ کہ ہم نماز روزہ کرتے ہیں یاموٹے موٹے جرائم مثلاً زنا چوری وغیرہ نہیں کرتے۔ جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی بتایا ان خوبیوں میں تو اکثر غیرلوگ بھی یہاں تک کہ مشرک وغیرہ بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں ۔وہ بھی یہ جرائم نہیں کرتے۔ تقویٰ کامضمون باریک ہے ۔اس کو حاصل کرو۔ خدا کی عظمت دل میں بٹھاؤ۔ تقویٰ یہ ہے کہ خدا کی عظمت دل میں بٹھاؤ۔ جس کے عمل میں کچھ بھی ریاکاری ہو خدا اس کے عمل کو واپس لوٹا دیتا ہے۔ کوئی دکھاوا نہیں ہونا چاہیے۔کوئی ریاکاری نہ ہو۔ اگر ریاکاری اور دکھاوا ہے تو وہ تقویٰ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ اسے واپس کر دیتا ہے ۔اسے قبول نہیں کرتا۔ متقی ہونا مشکل ہے۔ مثلاً اگر کسی پر ذرا سا الزام لگے، کسی کے ذرا سا الزام لگانے پر غصے میں آ جاؤ، کسی نے تمہارے پہ الزام لگا دیا اور تم غصے میں آگئے تو یہ تقویٰ سے دُور باتیں ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر طیش میں آ جانا ،لڑائی جھگڑے کر لینا،بحثوں مباحثوں میں پڑجانا یہ چیزیں تقویٰ سے دور لے جانے والی ہیں۔ پس آپؑ نے فرمایا کہ متقی کا عمل اس طرح نہیں ہوتا۔
متقی کا عمل تو یہ ہے کہ وہ خالصةً اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر تکلیف کو برداشت کرنے والا ہو اور حوصلہ ہمّت دکھانے والا ہو۔ اس میں وسعتِ حوصلہ بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔
آپؑ نے فرمایا کہ جب تک واقعی طور پر انسان پر بہت سی موتیں نہ آ جائیں وہ متقی نہیں بنتا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کو بہت ساری خوابیں آ گئیں یا الہامات ہو گئے تو وہ متقی ہو گیا ۔آپؑ نے فرمایا کہ تم الہامات اور رؤیا کے پیچھے نہ پڑو بلکہ حصول تقویٰ کے پیچھے لگو۔ تقویٰ حاصل کرنا ہے یہ بات دیکھو۔ یہ نہیں کہ مجھے اتنی خوابیں آگئی ہیں یاایسی خوابیں آ گئی ہیں۔ جو متقی ہے اس کے الہامات بھی صحیح ہیں اور اگر تقویٰ نہیں ہے تو الہامات بھی قابل اعتبار نہیں۔ ان پہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں شیطان کا حصہ ہے۔ اگر تقویٰ ہی نہیں ہے تو شیطانی خوابیں بھی آ سکتی ہیں۔
(ماخوذا ز ملفوظات جلد 2 صفحہ 173، ایڈیشن 2022ء)
پس کسی کو خوابیں آنے سے سمجھ لینا کہ وہ بڑا متقی ہے یہ کوئی معیار نہیں ہے بلکہ اصل معیار اس کا تقویٰ ہے جو اس کے ظاہری اعمال سے نظر آتا ہے۔ اگر وہ اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کر رہا ہے تو پھر ہی اس کی باتوں کو پرکھا جائے گا۔ پتہ چلے گا کہ واقعی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔
پس
یہ چند باتیں ہیں جو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیں اور یہی وہ سبق ہے جو عید قربان ہمیں دیتی ہے ۔اگر ہم ان باتوں کی طرف توجہ نہیں دیں گے تو یہ قربانی کی عید یا بکروں کی قربانیاں، گائیوں کی قربانیاں یا اونٹوں کی قربانیاں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں۔
جس طرح مَیں نے پہلے بھی مثال دی کہ لاکھوں کا حج قبول نہیں ہوا لیکن صرف ایک ایسے شخص کی وجہ سے جس نے حج نہیں کیا تھا اور اس میں تقویٰ تھا اور نیکی تھی باقیوں کا حج بھی قبول ہو گیا۔ اسی طرح
صرف قربانیاں کرنا بھی اس بات کا کوئی معیار نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو گیا ہے بلکہ اصل چیز یہ ہے کہ ان قربانیوں کے ساتھ ہمارے اندر وہ روح پیدا ہو جائے کہ ہم اپنی جان، مال، وقت اور عزّت کو قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں اور دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے والے ہوں۔
اور
عید قربان ہمیں یہ سبق دے کہ ہم نے حقیقت میں دین کی خاطر ہر قربانی کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ کوشش کرنی ہے۔ ہم نے اپنی عبادتوں کے معیار بھی بڑھانے ہیں اور اپنے اخلاق کے معیار بھی بڑھانے ہیں۔ اپنے دوسروں سے تعلقات بھی بہتر کرنے ہیں اور دشمنوں کو بھی اپنے اعلیٰ اخلاق سے اپنا گرویدہ کرنا ہے۔
تبلیغ کے میدان میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہی ہدایت ہے کہ اگر تم صحیح طریق پر اخلاق دکھاؤ گے اور دشمنوں سے بھی نیک سلوک کرو گے تو وہ بھی تمہارے دوست بن سکتے ہیں۔
پس ہمیں ان باتوں کی طرف توجہ دینی چاہیے اور صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہیے کہ ہم نے قربانی کر لی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی عید منانے کی توفیق عطا فرمائے اور قربانیوں کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اعلیٰ اخلاق پر قائم ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر لحاظ سے ہمیں وہ لوگ بننے کی توفیق دے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ہمیں اسلام کی تعلیم کی روشنی میں بنانا چاہتے ہیں۔ ہم ہر حالت میں تقویٰ پر چلنے والے ہوں۔
اب ہم دعا بھی کریں گے۔ دعا میں سب سے پہلے
پاکستان کے ان احمدیوں کے لیے دعا کریں جو ظالمانہ قانون کی وجہ سے جان اور مال کی قربانیاں تو دے رہے ہیں لیکن ان کی عبادتوں پر بھی روکیں ہیں اور پابندیاں ہیں ۔
عبادتیں وہ کھل کے کر نہیں سکتے ۔عید پڑھنے پر بھی پابندیاں ہیں۔ وہ جانوروں کی قربانیاں بھی نہیں دے سکتے۔ وہ تو خیر دور کی بات ہے گھر میں چار دیواری کے اندر عید کی نماز بھی نہیں پڑھ سکتے۔ اس پر بھی روک ہے۔ جن کو توفیق ہے قربانیاں دینے کی وہ بھی اس سے محروم ہیں۔ چاہے گھر کے اندر ہی قربانی دے رہے ہوں ۔یہ بھی ان کے لیے ایک بہت بڑا جرم ہے اور انتظامیہ ان کے اس فعل پر حرکت میں آجاتی ہے اور پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے۔ پولیس کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں جیسے انہوں نے کوئی بہت بڑا جرم کر لیا ہو اور وہاں جو اصل مجرم ہیں جنہوں نے ملک میں فساد پیدا کیا ہوا ہے انہیں پکڑنے والا کوئی نہیں اور وہ آزادانہ طور پر اپنی من مانیاں کرتے پھر رہے ہیں۔ بہرحال
اللہ تعالیٰ پاکستانی احمدیوں کے حالات بہتر کرے۔ انہیں ان ظلموں سے نجات دے اور ان کی قربانیاں قبول فرمائے۔
اسی طرح
اسیران کے لیے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جلد ان کی رہائی کے سامان پیدا فرمائے۔
وہ لوگ بھی بڑی قربانیاں دے رہے ہیں۔
شہداء کی نسلوں کے لیے بھی دعا کریں ۔
اللہ تعالیٰ انہیں اپنے باپ دادا کی قربانیوں کا پاس رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
کُل دنیا کے احمدیوں کے لیے دعا کریں
اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ایمان کو مضبوط کرے اور ہمارے تقویٰ کے معیار بڑھاتا چلا جائے۔ اس کے ساتھ ہی
مَیں سب کو عید مبارک بھی کہتا ہوں۔
بعض جگہوں پر عید کے موقع پر مشکل حالات بھی ہیں لیکن اس کے باوجود کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کی خاطر یہ عید منا رہے ہیں اس لیے ہمیں ان قربانیوں کو بھی خوشی سے قبول کرنا چاہیے اور جب ہم انہیں خوشی سے قبول کریں گے تو اللہ تعالیٰ بھی ہماری قربانیوں کو قبول فرمائے گا۔
آج پاکستان میں بھی عید ہوئی ہے لیکن بہت ساری جگہوں پر احمدیوں کو گھروں میں چھپ کے عید پڑھنی پڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان ظلموں کو دُور کرے اور ہم حقیقی قربانیاں دینے والے ہوں۔
٭٭٭خطبہ ثانیہ، دعا٭٭٭



