آنحضورﷺ کی بے مثل شکرگزاری۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۷؍جولائی ۲۰۲۶ء
٭… سب سے بڑھ کر شکرگزاری کا نمونہ ہمارے آقاحضرت اقدس محمد مصطفیٰﷺ نے دکھایا
٭… ایمان دو حصوں پر مشتمل ہے۔ آدھا صبر میں اور آدھا شکر میں ہے
٭… جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو خیروبرکت عطا کرنا چاہتا ہےتو ان کی عمریں بڑھادیتا ہے اور انہیں شکر الہام کرتا ہے یعنی شکر ادا کرنے کی توفیق دیتا ہے
٭… آنحضرتﷺ اورآپؐ کے صحابہؓ بارش کے پہلے قطروں کو اپنے سروں پر لیتے اور آپؐ فرماتے کہ یہ ہمارے بلندو بالا رب کی طرف سے تازہ نعمت آئی ہے، یوں بارش پر شکر کیا کرتے
٭… آپؐ کھاناکھانے لگتے تو اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے، نیا کپڑا پہنتے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے،غرض کوئی موقع ایسا نہ تھا جب آپؐ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کرتے اور حمد و ثنا بیان نہ کرتے
٭… چار چیزیں ایسی ہیں جسے یہ عطا کردی گئیں اسے دنیا و آخرت کی بھلائی عطا کردی گئی۔ شکرگزار دل، ذکرِ الٰہی کرنےوالی زبان، آزمائش کے وقت صبر کرنے والا بدن اور ایسی بیوی جو نہ اپنی عصمت و عفّت کے معاملے میں اور نہ شوہر کے معاملے میں اس سے خیانت کرے
٭… اگلےجمعے سے ان شاء اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہورہا ہے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اسے ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۷؍جولائی ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۷؍وفا ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۱۷؍جولائی ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا تو اس سے پہلے اس کے فائدے کے لیےبےشمار نعمتیں پیدا کیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل یقیناً اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ بندہ اس کا شکر ادا کرے۔ ہرنبی نے اپنے ماننے والوں کو یہ نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے شکرگزار بندے بنو۔
سب سے بڑھ کر شکرگزاری کا نمونہ ہمارے آقاحضرت اقدس محمد مصطفیٰﷺ نے دکھایا۔
آنحضورﷺ کے اسی اسوہ، دعاؤں اور طریقے کا آج ذکر کروں گا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ
ایمان دو حصوں پر مشتمل ہے۔ آدھا صبر میں اور آدھا شکر میں ہے۔
حضورانور نے فرمایاکہ اگر دیکھا جائے تو صبر بھی شکر کا ہی ایک پہلو ہے۔ پھر نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ سراسر خیر ہےا ور یہ مومن کے علاوہ اور کسی کے لیے نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے ساتھ بندوں کی بھی شکر گزاری کا آپؐ نے ارشاد فرمایا۔ اگر اس پر عمل ہو تو حقیقی اسلامی معاشرہ قائم ہوسکتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ جو تھوڑے پر شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکرگزار نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کرنا بھی شکر ہے فرمایا جماعت رحمت ہے اور تفرقہ عذاب ہے۔
حضرت اسامہ بن زیدؓنے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جس سے کوئی نیکی کی گئی اور اس نے اس کے کرنے والے سے کہا جزاک اللہ خیراً تو اس نے تعریف کا حق ادا کردیا۔ فرمایا کہ
جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو خیروبرکت عطا کرنا چاہتا ہےتو ان کی عمریں بڑھادیتا ہے اور انہیں شکر الہام کرتا ہے یعنی شکر ادا کرنے کی توفیق دیتا ہے۔
رسول اللہﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ اے معاذ! بخدا مَیں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ مَیں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تم ہر نماز کے بعد ہرگز نہ چھوڑنا کہ تم کہو کہ اے اللہ! میری مدد فرمااپنے ذکر کے لیے،اپنے شکر کے لیے اور اپنی عبادت کی خوبصورتی کےلیے۔
ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے صحابہ ؓکو یہ دعا سکھائی کہ اے اللہ! مَیں ہر عمل میں تجھ سے ثبات طلب کرتا ہوں اور تجھ سے ہدایت کی پختگی مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری نعمت کا شکر مانگتا ہوں اور تیری عبادت کا حسن اور تجھ سے سچ بولنے والی زبان مانگتا ہوں، اور قلبِ سلیم میں تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس شر سے جو تُو جانتا ہے اور اس خیر سے جو تُو جانتا ہے اور تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔
آنحضرتﷺ سے سوال کیا گیا کہ نماز میں کرنے کے لیے کون سی دعاسب سے بہتر ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا:اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں اور سارا شکر تیرے لیے ہے اور ساری بادشاہی تیرے لیے ہے اور ساری مخلوق تیری ہے اور ہر معاملہ تیری طرف لوٹتا ہے ہم تجھ سے ہر طرح کی بھلائی مانگتے ہیں اور ہر شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
پھر آپؐ کی ایک دعا یوں ملتی ہے کہ اے میرے ربّ! میری مدد کر اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر اور میری نصرت فرما اور میرے خلاف کسی کی نصرت نہ فرما اور میرے لیےتدبیر کر اور میرےخلاف تدبیر نہ کر اور مجھے ہدایت دے اور میرے لیے میری ہدایت آسان کردے اور میری مدد کر اس کے خلاف جس نے مجھ پر زیادتی کی۔ اے اللہ! مجھے اپنا شکرگزار بنا، اپنا ذکر کرنے والا، تجھ سے ڈرنے والا، تیرا فرمانبردار، تیری بہت اطاعت کرنے والا، تیری طرف بہت زیادہ جھکنے والا بنا، اے میرے ربّ! میری توبہ قبول کر، اور میری دعا قبول فرمااور میری حجت قبول کراور میرے دل کو ہدایت دے اور میری زبان کو سیدھا کر، اور میرے دل سے کینہ دُور کردے۔
پھر ایک اور دعا ہے کہ اے اللہ! مجھے ایسا بنا دے کہ مَیں تیرا بہت زیادہ شکر کروں اور کثرت سے تیرا ذکر کروں، اور تیری نصیحت کی پیروی کروں، اور تیرے تاکیدی حکموں کو یاد رکھوں۔
حضورِانور نے فرمایا کہ یہ دعا انسان روز کرے تو غلط قسم کے خیالات بھی پیدا نہیں ہوں گے۔ غلط قسم کے کام بھی انسان نہیں کرے گا۔
آنحضرتﷺ اورآپؐ کے صحابہؓ بارش کے پہلے قطروں کو اپنے سروں پر لیتے اور آپؐ فرماتے کہ یہ ہمارے بلندو بالا رب کی طرف سے تازہ نعمت آئی ہے، یوں بارش پر شکر کیا کرتے۔
بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے تو آنحضورﷺ یہ دعا کرتے کہ تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جس نے مُضر چیز مجھ سے دُور کردی اور مجھے تندرستی عطا کی۔
جب رات کو اپنے بستر پر لیٹتے تو یہ دعا کرتے اے اللہ! تیرے نام سے ہی مَیں مرتااور جیتا ہوں۔ جب آپؐ جاگتے تو دعا کرتے کہ سب حمد اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا بعد اس کے کہ ہمیں مارا اور اسی کی طرف ہم نے لوٹ کرجانا ہے۔
آپؐ کھاناکھانے لگتے تو اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے، نیا کپڑا پہنتے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے،غرض کوئی موقع ایسا نہ تھا جب آپؐ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کرتے اور حمد و ثنا بیان نہ کرتے۔
آنحضورﷺ کے سامنے ایک شخص آیا جس کے پراگندہ بال تھے، آپؐ نے فرمایا کہ کیا یہ کوئی چیز نہیں پاتا جس سے اپنے بالوں کو درست کرے۔ ایک دوسرے آدمی کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپؐ نے فرمایا کیا اسے پانی میسر نہیں جس سے اپنے کپڑے دھولے۔
آپؐ نے فرمایا:جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرّہ برابر بھی تکبر ہے۔ ایک آدمی نے کہا کہ انسان پسند کرتا ہےکہ اُس کا لباس اچھا ہو، اس کا جوتا اچھا ہو۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں! تکبر یہ ہے کہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے حق کا انکار کرے اور لوگوں کو حقیرجانے۔
جنگِ بدر کے موقعے پر کفار کی ہلاکت اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی فتح پر آپؐ نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیا۔اسی طرح فتح مکہ کے موقعے پر آپؐ کی شکرگزاری کی دعاؤں کا ذکر ملتا ہے۔ اس موقعے پر آپؐ نے حضرت امِ ہانیؓ کے گھر پرآٹھ رکعت چاشت کی نماز ادا کی۔
حجة الوداع کے موقعے پر آنحضورﷺ کی ایک دعا کا ذکر یوں ملتا ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں،بادشاہت اسی کی ہے، اسی کی تعریف ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور لشکر کو اکیلے پسپا کردیا۔
رسول اللہﷺنےفرمایا کہ دو خصلتیں ایسی ہیں جس میں وہ پائی جائیں اللہ تعالیٰ اسے صابر شاکر لکھ لیتا ہے۔ پہلی یہ کہ جو شخص اپنے دین کے معاملے میں اس کی طرف دیکھے جو اس سے بلند ہو اور اس کی پیروی کرے اور دوسری یہ کہ جو اپنی دنیا کے معاملے میں اُس کی طرف دیکھے جو اُس سے کم تر ہو اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرے۔
آپؐ نے فرمایا اس کی طرف دیکھو جو تم سے نیچے ہےاور اس کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہے، یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ کی نعمت کی تحقیر نہ کرو۔
فرمایا :
چار چیزیں ایسی ہیں جسے یہ عطا کردی گئیں اسے دنیا و آخرت کی بھلائی عطا کردی گئی۔ شکرگزار دل، ذکرِ الٰہی کرنےوالی زبان، آزمائش کے وقت صبر کرنے والا بدن اور ایسی بیوی جو نہ اپنی عصمت و عفّت کے معاملے میں اور نہ شوہر کے معاملے میں اس سے خیانت کرے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے تمام اوقات میں ذکرِالٰہی کیا کرتے تھے۔ آنحضرتﷺ نے اپنی امت کے سامنے اپنے شکرگزاری کے اعلیٰ ترین نمونے قائم فرمائےا ور ہمیں شکر گزاری کی نصیحت فرمائی۔
خطبے کے اختتام پر حضورِانور نے فرمایا کہ
اگلےجمعے سے ان شاء اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہورہا ہے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اسے ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔ ہر طرح اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ موسم کی شدت، گرمی کی وجہ سے بعض خطرات بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ ڈیوٹی دینے والے کارکنان جنہیں بعض دفعہ گرمی میں کھڑے ہوکر ڈیوٹی دینی پڑتی ہے، سخت ڈیوٹیاں بھی ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں بھی احسن رنگ میں اپنے فرائض اداکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
٭…٭…٭
