بچوں کا الفضل

احمدی بچے اور مالی قربانی

اللہ تعالیٰ کی دی گئی نعمتوں کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس کی محبت کی خاطر خرچ کرنا متقیوں کی ایک بڑی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ۔(آل عمران : 93) ترجمہ: تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہاں تک کہ تم اُن چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔

خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی بچوں کو بچپن سے ہی مالی قربانی اور انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت و برکات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ جماعتی جلسے ہوں یا ذیلی تنظیموں کے اجلاس ان امور کی طرف خصوصی توجہ دلائی جاتی ہے۔ اسی حوالے سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’یہ زمانہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ ہے اس میں ایک جہاد مالی قربانیوں کا جہاد بھی ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ اسلام کے دفاع میں لٹریچر شائع ہو سکتا ہے، نہ قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہو سکتے ہیں، نہ یہ ترجمے دنیا کے کونے کونے میں پہنچ سکتے ہیں۔ نہ مشن کھولے جا سکتے ہیں، نہ مربیان، مبلغین تیار ہو سکتے ہیں اور نہ مربیان، مبلغین جماعتوں میں بھجوائے جا سکتے ہیں۔ نہ ہی مساجد تعمیر ہو سکتی ہیں۔ نہ ہی سکولوں، کالجوں کے ذریعہ سے غریب لوگوں تک تعلیم کی سہولتیں پہنچائی جا سکتی ہیں۔ نہ ہی ہسپتالوں کے ذریعہ سے دکھی انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے۔ پس جب تک دنیا کے تمام کناروں تک اور ہر کنارے کے ہر شخص تک اسلام کا پیغام نہیں پہنچ جاتا اور جب تک غریب کی ضرورتوں کو مکمل طور پر پورا نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ مالی جہاد جاری رہنا ہے۔ اور اپنی اپنی گنجائش اور کشائش کے لحاظ سے ہر احمدی کا اس میں شامل ہونا فرض ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ 31؍مارچ 2006ء)

ایک موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے مستورات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :’’ …جب میں نے مراکز کیلئے تحریک کی تو احمدی بچیوں نے جو چھوٹی چھوٹی کُجیاں بنا رکھی تھیں۔ عجیب نظارہ تھا کہ گھر گھر میں وہ کُجیاں ٹوٹنے لگیں۔ اور دیواروں سے مار مار کے کُجیاں توڑ دیں۔ چند پیسے، چند ٹکے جو انہوں نے اپنے لئے بچائے تھے وہ دین کی خاطر پیش کر دئے۔ ہمارا رب بھی کتنا محسن ہے، کتنا عظیم الشان ہے !بعض دفعہ بغیر محبت اور ولولے کے کروڑوں بھی اس کے قدموں میں ڈالے جائیں تو وہ رد کردیتا ہے، ٹھوکر بھی نہیں مارتا ان کی کوئی حیثیت نہیں مگر ایک مخلص ایک غریب پیارو محبت کے ساتھ اپنی جمع شدہ پونجی چند کوڑیاں بھی پیش کر ے تو اسے بڑھ کر پیار اور محبت سے قبول کرتا ہے۔ جیسے آپ اپنے محبت کرنے والے اور محبوبوں کے تحفوں کو لیتی اور چومتی ہیں۔ خدا کے بھی چومنے کے کچھ رنگ ہوا کرتے ہیں۔ اور میں جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ان معنوں میں خدا نے ان چند کوڑیوں کو ضرور چوما ہوگا۔‘‘(جلسہ سالانہ مستورات قادیان خطاب فرمودہ 27دسمبر 1991ء الفضل آن لائن 2؍اگست2022ء)

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز احمدی بچوں کو عیدی میں سے چندہ کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’اپنے بچوں میں بھی اِس قربانی کی عادت ڈالیں تاکہ جب وہ بڑے ہوں تو اُن کی خواہشات کی جو ترجیحات ہیں اُن میں اللہ کی خاطر مالی قربانی سب سے اوّل نمبر پر ہو۔ اِس سے ایک تو شاملین کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا اور جوعَفْو کے مَعیار ہیں وہ ترجیحات بدل جانے سے بدل جائیں گے۔ جو لوگ بچوں کو بھی جب جیب خرچ دیتے ہیں تو اُن کو اُس میں سے چندہ دینے کی عادت ڈالیں۔ عیدی وغیرہ میں سے چندہ دینے کی عادت ڈالیں، اِن مغربی ممالک میں مَیں نے اندازہ لگایا ہے جیسا کہ پہلے بھی مَیں کہہ چکا ہوں کہ بازار سے کھانا برگر وغیرہ جو ہیں اور بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں اور جو مزے کے لیے کھائے جاتے ہیں، ضرورت نہیں ہے۔ اگر مہینے میں صرف دو دفعہ یہ بچا کر وقفِ جدید کے بچوں کے چندے میں دیں تو اِسی سے وصولی میں 25سے 30فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے‘‘۔(خطبہ جمعہ 12؍جنوری 2007ء)

حضورِ انور نے بچوں کی جانب سے پیش کی جانے والی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :

’’بچے بھی کس طرح قربانی کا شعور رکھتے ہیں۔ ایسے بچے جو غریب ممالک میں ہیں اور ایسا شعور ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے بچوں کو، پڑھے لکھے بچوں کو بھی بعض جگہ یہ شعور نہیں ہے۔ اس کا واقعہ یوں ہے کہ حسین یوسف صاحب زنجبار کے علاقے کے مبلغ کہتے ہیں۔ بچے مسجد سے باہر کھیل رہے تھے تو ایک بزرگ وہاں سے گزرے انہوں نے خوش ہو کر بچوں کو ٹافیاں خریدنے کے لیے چودہ سو شلنگ دیے۔ بچے پیسے لے کر ایک احمدی دکاندار کے پاس گئے اور ان پیسوں کے سکے تبدیل کروا لیے۔ چھوٹا چینج کروا لیا۔ اور اپنے اپنے حصوں کے پیسے بجائے ٹافیاں خریدنے کے چینج کرا لیے۔ نوٹ تڑوا لیا اور سب بچے سکے لے کر مسجد آئے اور اپنے اپنے حصے کے پیسوں میں سے ایک ایک سو شلنگ چندہ ادا کیا اور بڑی خوشی سے اپنی اپنی رسید اپنے پاس رکھی۔ جب احمدی دکاندار کو علم ہوا کہ بچوں نے چندہ ادا کرنے کے لیے سکے تبدیل کروائے تھے تو اس کی بھی حیرت کی انتہا نہیں رہی۔ اور یہی بچے ہیں جو ان شاء اللہ جماعت احمدیہ کی مضبوط بنیادیں بن جائیں گے۔

پھر بچوں کی قربانی کا ایک اور عجیب نظارہ ہے۔ یہ بھی تنزانیہ کا ہی ہے۔ اس کے بارے میں سموئے(Samuye) کے معلم لکھتے ہیں کہ جماعت میں تین بچے ہیں جو چوتھی جماعت میں پڑھتے ہیں، باقاعدگی سے مسجد میں تعلیمی اور تربیتی کلاسز میں شامل ہوتے ہیں۔ تینوں بچوں کے گھرانے مالی لحاظ سے غریب ہیں۔ کوئی مستقل آمدنی کا ذریعہ نہیں۔ گذشتہ ماہ سے یہ آپس میں مقابلہ کرتے تھے اور مقابلے میں چندہ تحریک جدید ادا کرنے کی طرف ان کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔ ہر ایک علیحدگی میں اپنا چندہ لاتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ جتنی بھی رقم اس کے پاس موجود ہے وہ ادا کرے اور اس طرح انہوں نے کسی نے پانچ سو، کسی نے چار سو، سات سو شلنگ جو بھی ان کے پاس تھا دیا اور کہتے ہیں کہ جب ایک دفعہ میں نے ان سے پوچھا کہ تم جو یہ چندہ تحریک جدید لاتے ہو، یہ پیسے کہاں سے لے کے آتے ہو؟ ایک نے بتایا کہ اپنی والدہ کے ساتھ جنگل میں لکڑیاں کاٹنے میں مدد کرواتا ہوں تو جیب خرچ کے طور پر جو پیسے ملتے ہیں اس میں سے چندہ تحریک جدید کے لیے رکھ لیتا ہوں اور کہتے ہیں کہ جب سے میں نے چندہ ادا کرنا شروع کیا ہے ہمیشہ لکڑیوں کے گاہک فوری طور پہ مل جاتے ہیں اور کبھی نقصان نہیں ہوا۔ دوسرے بچے نے بتایا کہ وہ بھی اپنی جیب خرچ میں سے چندے کی رقم علیحدہ کرتا ہے۔ تیسرے بچے نے بتایا کہ اس کے گھر کے قریبی درختوں پر پھل وغیرہ لگتے ہیں۔ کبھی کبھار وہ اپنے کھانے کے لیے پھلوں سے زائد کو بیچ بھی دیتا ہے جس سے حاصل ہونے والی رقم سے چندہ ادا کر دیتا ہے۔ ان تینوں بچوں نے چندے کی برکات کا بھی بیان کیا کس طرح چندہ کی ادائیگی سے ان کی زندگی میں سکون محسوس ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان بچوں کو ایمان و اخلاص میں بڑھاتا چلا جائے۔ یہ ہے ایمان جس سے ہمارے بچے بھی مزہ لوٹتے ہیں۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ 5؍نومبر 2021ء)

پس یہ مالی قربانی ایک ایسی تجارت ہے جس کا ہمیں ہی فائدہ ہے اس لیےہمارا فرض بنتا ہے کہ قربانی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی حتی الوسع کوشش کریں تا کہ اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

(درثمین احمد۔ جرمنی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button