جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ 2025ء کے موقع پر دوسرے دن بعد دوپہر کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایمان افروز اور دل نشین خطاب (حصہ دوم)
24-2025ء میں جماعت احمدیہ پر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں اور تائید و نصرت کے عظیم الشان نشانات میں سے بعض کا ایمان افروز تذکرہ
24-2025ء میں جماعت احمدیہ پر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں اور تائید و نصرت کے عظیم الشان نشانات میں سے بعض کا ایمان افروز تذکرہ
جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ 2025ء کے موقع پر دوسرے دن بعد دوپہر کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایمان افروز اور دل نشین خطاب (حصہ دوم)
(فرمودہ 26؍جولائی 2025ء بروز ہفتہ بمقام حدیقۃ المہدی (جلسہ گاہ) آلٹن ہمپشئر۔ یوکے)
(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
اب میں بعض واقعات بیان کر دیتا ہوں۔
سارے تو بیان نہیں کر سکتا چند ایک جس کی وجہ سے لوگوں کا احمدیت کی طرف رجحان ہوایا اس کی وجہ سے بیعتیں ہوئیں یا احمدیت کے مخالفین کے ساتھ جوسلوک ہوا اس سے ماحول پہ اچھا اثر پڑا۔
سینیگال
کے ریجنل مبلغ زنگاشورکہتے ہیں۔ مَیں یہاں کے گاؤں میں تبلیغ کے لیے گیا۔ گاؤں کے امام نے باقیوں کو بھی بلا لیا اور کہتے ہیں ہم نے ان کو بتایا کہ امام مہدی آ گئے ہیں اور ان کو قبول کرنے کی اہمیت بتائی۔ جماعت کے قیام کے مقصد کا بتایا کہ جماعت اس طرح تبلیغ کر رہی ہے۔ گاؤں کو آباد ہوئے کہتے ہیں اسّی سال ہو چکے ہیں لیکن گاؤں کی تاریخ میں آج تک یہاں اس گاؤں میں کبھی جمعہ نہیں ہوا۔ مسلمان گاؤں ہے کیونکہ گاؤں کے امام کو صرف نماز پڑھانی آتی تھی جمعہ پڑھانا نہیں آتا تھا۔ دوسرے ان کا خیال تھا کہ جمعہ صرف شہر کی جامع مسجد میں ہو سکتا ہے گاؤں میں نہیں ہو سکتا۔ یہ غلط تصور عام طور پہ غیر از جماعت میں بعض علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تو اس کے امام نے کہا کہ میری عمر پچھتر سال ہو چکی ہے میں نے کبھی جمعہ نہیں پڑھا اور اس دوران میں کہتے ہیں نزدیکی شہروں سے یہاں بہت سے امام علماء بھی آئے اور پھر ان کو جمعہ کی نماز کی طرف توجہ دلائی گئی، جمعہ پڑھایا گیا، سوال جواب ہوئے اس میں، سکولز کے ٹیچر اور کالج کے پروفیسر بھی بعض شامل تھے۔امام مہدی کے ثبوت اور سچا ہونے کے متعلق سوال ہوئے۔ ان کو ان کا جواب دیا گیا۔ یہ جواب سن کر امام سمیت گاؤں کے وہاں 128؍افراد نے بیعت کر لی اور جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے اور حضرت مسیح موعود ؑکی صداقت کا اعلان کیا اور اب بھی وہاں تبلیغ کا کام جاری ہے۔

گنی گناکری
سے لوکل مشنری کہتے ہیں کہ گاؤں فولاوا میں جب تبلیغ کے لیے گئے تو گاؤں کے کچھ لوگ جن کا تعلق فولانی قبیلے سے تھا کہنے لگے کہ ان لوگوں کی بات مت سننا کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ یہ پروپیگنڈا پاکستانی مولویوں کی طرف سے بھی ہوتا ہے اور مختلف مولویوں کی طرف سے بھی ہوتا ہے۔ یہ اَور کام کریں نہ کریں وہاں جا کے یہ پروپیگنڈا ضرور کرتے ہیں۔ اس پر مجمع سے ہی ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ یہی اعتراض شروع میں اسلام پر لگایا جاتا تھا جبکہ میں اس جماعت کو بہت عرصے سے جانتا ہوں اور میں نے ہمیشہ ان لوگوں کو حقیقی اسلام پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ لہٰذا آپ میں سے جو بھی اسلام احمدیت قبول کرنا چاہتا ہے بلاخوف کرے کوئی ڈرنے کی ضرورت نہیں اور اس وجہ سے پھر وہاں امام سمیت 440؍لوگ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔
پھر
خوابوں کے ذریعے سے لوگ احمدی ہوتے ہیں
اس کے بھی واقعات ہیں۔ایک دو میں سنا دیتا ہوں۔
کانگوکنشاسا
کے لوکل مشنری مالالہ حمید صاحب کہتے ہیں۔ گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون زبیبو (Zabibu Babingwa) صاحبہ نے بیان کیا کہ انہوں نے دو مرتبہ خواب میں دیکھا کہ وہ جھیل کے کنارے ایک باغ میں ہیں اور وہاں سے ایک کشتی گزرتی ہے جس پر ایک گندم گوں شخص کی تصویر ہے۔ ان کو کہاجاتا ہے کشتی پر سوار ہو جائیں مگر وہ انکار کرتی ہیں۔ انہی دنوں میں ان کو بچے جو احمدیہ مسجد میں جاتے رہتے تھے انہوں نے اصرار کیا کہ وہ مسجد بھی چلیں اس پر حامی بھرتے ہوئے انہوں نے جانے کا ارادہ کر لیا۔ جب وہ مسجد میں داخل ہوئیں اور ٹی وی پر انہوں نے مجھے دیکھا تو کہنے لگی کہ یہ وہی شخص ہے جس کو میں نے کشتی پر دیکھا تھا اس کے بعد لوکل مشنری صاحب سے چند سوالات پوچھے اور بیعت کر لی۔
بیلجیم
سے مبلغ انچارج کہتے ہیں ایک ابراہیم صاحب ہیں ان کا تعلق لبنان سے ہے۔ تین ہفتے قبل جلسہ سالانہ بیلجیم میں شامل ہوئے انہیں جماعت کا تعارف کروایا گیا۔ موصوف مسلسل رو رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چند سال قبل میں نے خواب میں ہو بہو یہی جگہ دیکھی تھی اور دیکھا کہ غیر عرب لوگ اس جگہ پر اسلام کی خدمت کر رہے ہیں اور بہت بڑا اسلام کا اجتماع ہو رہا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی اجتماع میں موجود ہیں اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کر رہا ہوں۔ موصوف نے خواب سنانے کے بعد کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے یہاں لے کر آیا ہے۔ اب میں فوری بیعت کر کے جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ موصوف کوسمجھانے کی کوشش کی گئی کہ آپ لٹریچر پڑھیں، دعا کریں لیکن موصوف نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جماعت کے اجتماع میں شامل ہوں وہ جماعت کبھی جھوٹی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ وہ اسی وقت بیعت فارم فِل کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔
یہاں
اسلام آباد یوکے
سے رومانہ صاحبہ ہیں۔ یہ بھی کہتی ہیں کہ میرا احمدیت کے سفر کا آغاز تیئس سال کی عمر میں ہوا۔میںکٹر سنی گھرانے کے ساتھ رہ رہی تھی۔ بچپن سے یہی سنایا سکھایا گیا تھا کہ سنیت یا سنی جماعت ہی واحد سچا راستہ ہے اور سنی مدارس میں تعلیم حاصل کرتی رہی۔ 2019ء میں یہ سب بدل گیا جب میں نے یونیورسٹی میںداخلہ لیا۔ وہاں قریب ہی مجھے ایک خوبصورت مسجد، مسجد ناصر نظر آئی جو ایک احمدی مسجد ہے۔ میں نے گھر والوں کو آ کے بتایا کہ اس طرح میں نے مسجد دیکھی جو احمدی مسجد کہلاتی ہے۔ کہتی ہیںان کا رد عمل بڑا حیران کن تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں نہ جانا وہ تو کافر لوگ ہیں۔ اس سے مجھے اَور تجسّس پیدا ہوا۔ میں نے خاموشی سے تحقیق شروع کر دی اور جو سوالات میرے ذہن میں برسوں سے موجود تھے میں نے یوٹیوب پر ویڈیو دیکھیں۔ احمدیہ ویب سائٹ دیکھی، مضامین پڑھے، احمدی طلبہ سے بات کی۔ آہستہ آہستہ میرا دل ماننے لگا کہ شاید احمدیت ہی اصل اسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ سے میں راہنمائی طلب کرتی رہی۔ کہتی ہیں ایک دن خواب میں مَیں نے خلیفةالمسیح الرابع ؒکو ایک تیز بہتے دریا کے پار دیکھا۔ مجھے دریا پار کرنے سے ڈر لگا کہ میں ڈوب جاؤں گی۔ اسی لمحے حضرت صاحب کی آواز آئی خدا تعالیٰ اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا اور دریا غائب ہو گیا اور میں دوسری طرف پہنچ گئی۔ اسی طرح انہوں نے ایک خواب میں مجھے بھی دیکھا اور اس سے بھی ان کے ایمان میں مضبوطی پیدا ہوئی۔ اس طرح ایک خواب میں انہوں نے اپنی مرحوم دادی کو دیکھا جو اسلام آباد کے بارے میں کچھ کہہ رہی تھیں۔تو کہتی ہیں یہ ساری باتیں میرے لیے اطمینان کا باعث بنیں اور پھر میں نے تبلیغ ڈیسک کے ذریعہ سے بیعت کر لی۔
مالی
کے ریجن سکاسو (Sikasso)سے مبلغ لکھتے ہیں کہ لامین بیلو صاحب کو بیعت کرنے کی توفیق ملی۔ جب بیعت کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ریڈیو احمدیہ پر امام مہدی کا ذکر روز سنتے تھے مگر بیعت کی طرف دل مائل نہیں ہوتا تھا۔ایک روز ریڈیو احمدیہ سنتے ہوئے ان کی آنکھ لگ گئی اور انہوں نے خواب میں دیکھا کہ لوگوں کا ایک مجمع ہے جو نماز کا انتظار کر رہا ہے اور نماز کی امامت کے لیے امام مہدی تشریف لائے ہیں۔ اس کے بعد نماز کا اعلان ہوتا ہے اور انہوں نے بھی امام مہدی علیہ السلام کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ اس کے ساتھ ہی ان کا دل احمدیت کے متعلق بالکل مطمئن ہو گیا اور انہوں نے آ کے بیعت کر لی۔
مالی
کے ریجن سکاسو کے مبلغ یہ کہتے ہیں کہ ایک بزرگ عالم دین ابوبکر تراؤرے صاحب کو بیعت کی توفیق ملی۔ایک لمبے عرصے سے ریڈیو احمدیہ کو شوق سے سن رہے تھے۔ ایک شادی کی تقریب میں ان کی احمدی احباب سے ملاقات ہوئی۔ احمدیت کا مزید تعارف ہوا اور احمدیوں نے کہا ہم آپ کے گھر آئیں گے، تعارف ہو گیا ہے۔ ابوبکر صاحب بتاتے ہیں میں نے خواب میں دیکھا کہ ان کا گھر کچھ عرصے میں نور سے بھرنے والا ہے۔ اس خواب کے دو دن بعد احمدی احباب عمر معاذ صاحب مبلغ سلسلہ کے ہمراہ ابوبکر صاحب کے گھر گئے اور چند سوالات کے بعد ابوبکر صاحب کا دل احمدیت کی طرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالکل مطمئن ہو گیا اور مائل ہو گیا اور انہوں نے اپنے گھر والوں کے ساتھ بیعت کرلی۔
دہریہ لوگ بھی جماعت احمدیہ سے رابطہ کر کے پھر خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین رکھتے ہیں۔
ساؤ تومے
سے مبلغ انچارج کہتے ہیں۔ خون کے عطیہ کے حوالے سے پرنسپ جزیرے پر ایک تقریب منعقد ہوئی۔اس تقریب میں جماعت کے مبلغ کو تقریر کے لیے مدعو کیا گیا۔ تقریر کا عنوان تھا عطیہ خون اور خدمت خلق کے کاموں میں مذہب کا کردار۔ اس تقریب کے بعد عطیہ خون کی تنظیم کا صدر جو ایک دہریہ تھا مبلغ سلسلہ کے پاس آیا اور کہا کہ پہلی دفعہ میرے دل نے یہ محسوس کیا ہے کہ مذہب انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے۔ آج سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ مذہب صرف لوگوں کو بے وقوف بنانے کا نام ہے۔ میں مذاہب کو انسانیت کا دشمن سمجھتا تھا۔ اس لیے خدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ آج کی تقریر سننے کے بعد میرے دل میں شدید تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ اگر خدا ایسا ہے جو اسلام احمدیہ پیش کرتی ہے تو ایسے خدا پر ایمان لانا بہت ضروری ہے اس لیے میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔مبلغ نے انہیں سمجھایا کہ صرف تقریر پہ جذباتی نہ ہو جائیں کچھ پڑھ لیں لیکن انہوں نے کہا میں نے فیصلہ کر لیا اب میںنے بیعت کرنی ہے۔
مخالفین کے پروپیگنڈے کے نتیجہ میں بیعتیں
ہوتی ہیں۔
مربی سلسلہ
لائبیریا
ناصر صاحب کہتے ہیں کہ اپنے لوکل معلم ابراہیم صاحب کے ساتھ ایک نئے علاقے میں تبلیغ کے لیے گیا۔ ہم ایک گاؤں میں پہنچے۔یہ سارا گاؤں مسلمانوں کا تھا۔ امام مسجد کو اپنے آنے کا مقصد بتایا۔ انہوں نے سب گاؤں والوں کو اکٹھا کر لیا۔ ہم نے جماعت کا تعارف، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی آمد اور مقصد نیز جماعت کی خدمات و ترقیات کے متعلق تفصیل سے بتایا۔ اس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا جو دیر تک جاری رہا۔ آخر میں اس گاؤں کے امام محمد سریوس صاحب کھڑے ہوئے اور بتایا کہ آپ لوگوں کے آنے سے پہلے ہم نے جماعت احمدیہ کے بارے میں بہت سی منفی رنگ میں باتیں سنی ہوئی تھیں۔ آج آپ نے آ کے جماعت کا جو تعارف پیش کیا ہے یہ ایک بالکل مختلف چیز ہے۔ اس لیے میں سب لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے بارے میں نہ صرف وہ منفی باتیں جھوٹ پر مبنی تھیں بلکہ اس وقت اگر کوئی جماعت اسلام کی حقیقی تعلیمات پیش کرتی ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہی ہے۔ یہ بتاتے ہوئے وہ کچھ جذباتی بھی ہو گئے۔ چنانچہ انہوں نے نہ صرف اپنے سارے گاؤں کے ساتھ جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ قریب کے دو اَور گاؤں بھی جمعہ پڑھنے ان کی مسجد میں آتے ہیں اس لیے میں آپ کے ساتھ جاتا ہوں۔ وہاں بھی جا کے تبلیغ کروں گا اور بڑے جوش جذبے سے انہوں نے وہاں جاکے تبلیغ کی۔ اس طرح چھ سو کے قریب لوگ بیعت کر کے شامل ہوئے اور اب وہ اس علاقے میں مستقل جماعت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔
قرغیزستان
سے نو مبائع تیمر بیک خاماز (Temirbek Khamaz) صاحب ہیں۔کہتے ہیں میں احمدیت کی طرف اس لیے نہیں آیا کہ کسی نے مجھے مجبور کیا یا قائل کیا۔ میں نے اس کے لیے خود تحقیق کی ہے۔ مجھے شروع سے ہی یہ جاننے کا اشتیاق تھا کہ اصل حقیقت کہاں ہے۔ میں نے اس بارے میں پڑھا، سنا، سوال کیے۔ روایتی اسلام میں بہت سی باتیں مجھے سمجھ نہیں آتی تھیں۔ مثلاً ہم کیوں اب بھی یہ انتظار کر رہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے؟ حالانکہ قرآن میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ تمام انبیاء عام انسان تھے اور وفات پا چکے ہیں۔ آج اسلام اتنے فرقوں میں کیوں تقسیم ہے اور ہر جگہ جھگڑے ایک دوسرے پر تنقید اور اختلافات ایک دوسرے سے خوف کیوں ہے؟ جب میں نے احمدیت کو جاننا شروع کیا تو سب کچھ سمجھ آتا ہے۔ میں نے سمجھا کہ احمدی جو کہتے ہیں وہ منطقی ہے۔ قرآن اور حدیث پر مبنی ہے اور ساتھ ہی عقل سلیم کے خلاف نہیں۔ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی تعلیم جنہوں نے مہدی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا وہ بالکل ویسی نہیں تھی جیسی دشمن اکثر پیش کرتے ہیں۔ آپ کی تعلیم میں کوئی انتہا پسندی نہیں بلکہ اس میں امن کا پیغام ہے۔ اپنے نفس کے خلاف جہاد، انسانیت کی خدمت کی تعلیم ہے۔ مجھے یہ سمجھ آیا کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور آمد ثانی کوئی آسمانی معجزہ نہیں بلکہ ایک شخص ہے جس نے ایک مشن کے ساتھ آنا ہے اور ہماری روحانیت کو سنوارنے آنا ہے۔ ایک اَور چیز جس نے مجھے بہت متاثر کیا وہ خلافت ہے اور زندہ حقیقی خلیفہ روحانی راہنما جو نفرت نہیں پھیلاتا بلکہ محبت، صبر اور ایمانداری کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ محض نظریہ یا لفاظی نہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ دنیا بھر کے احمدی واقعی بہتر بننے کی کوشش کرتے ہیں، دوسروں کی مدد کرتے ہیں،ایمان کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ ان سب باتوں نے مجھے یقین دلایا کہ ہاں !یہی وہ سچائی ہے جس کی میں تلاش کر رہا تھا۔ میں احمدی اس لیے بنا کہ یہاں ایمان اور عقل میں ٹکراؤ نہیں۔ اس لیے کہ یہاں صرف اللہ کے بارے میں بات نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ احمدیت قبول کرنے کے بعد کےمیرے احساسات بہت اچھے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اللہ میری سنتا ہے اور زندگی میں میری مدد کرتا ہے اور اس بات پر میں اللہ کا شکر گزار ہوں۔

بعض لوگ احمدیوں کا نمونہ دیکھ کے بیعتیں
کرتے ہیں۔ اس کا بھی ایک واقعہ بتا دیتا ہوں۔
تنزانیہ
ریجن کے معلم کہتے ہیں جب ہم احمدیہ مسجد کی افتتاح کی تیاریوں میں مصروف تھے اور چٹائیاں بچھا رہے تھے تو وہاں ایک آدمی آیا اور جماعت کے بارے میں معلومات لینے کے بعد بیعت کرنے کی خواہش کی۔ جب اس سے پوچھا کہ آپ احمدی کیوں ہونا چاہتے ہیں تو اس نے کہا کہ جماعت کے افراد کے درمیان پایا جانے والا اخوت اور تعاون بہت غیر معمولی بات ہے جومجھے بہت پسند آیا ہے۔ معلم صاحب مزید لکھتے ہیں کہ اس گاؤں میں مسجد کے افتتاح کے پروگرام میں یہ جماعت احمدیہ کے تعارف کا ایک بہت ہی موثر ذریعہ بنا ہے۔ اب یہاں لوگ باقاعدگی سے نماز پڑھنے آتے ہیں اور اظہار کر رہے ہیں کہ وہ جماعت میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس طرح صرف ابتدائی تقریب کی برکت سے ہی دو نوجوان اس وقت موقع پر جماعت میں شامل ہوئے۔
احمدیہ ریڈیو کے ذریعے سے جماعت میں لوگ شامل ہو رہے ہیں۔
جب
مالی
کے ایک صاحب ساجو (Saju) نے بیعت کی تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے احمدی ہونے کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری عمر پینتالیس سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔ میں نے دیکھا کہ احمدی مشنریز جب ریڈیو پروگرام کرتے تھے وہ اپنے تمام دلائل قرآن کریم و حدیث سے بیان کرتے ہیں جبکہ میں پہلے تیجانی جماعت میں شامل تھا جب اپنے لوگوں سے کسی بات کا پوچھتا تھا تو کہتے کہ بس یہ ایسا ہی ہے ہمارے بانی نے ایسا کہا ہے اور قرآن و حدیث کا کوئی حوالہ نہ دیتے۔ جبکہ جماعت احمدیہ کے لوگ تمام باتیں قرآن کریم اور حدیث سے کرتے ہیں۔ میں چار سال تحقیق کرنے کے بعد آج بیعت کر رہا ہوں۔ اس طرح نیک فطرت لوگ ہیں اگر عقل ہو، سمجھ ہو تو لوگ سمجھتے ہیں اور بیعتیں کرتے ہیں۔
کیمرون
کے شہر مروہ سے علی عمران بیان کرتے ہیں کہ 2004ء میں مَیں پرائمری سکول میں پڑھتا تھا۔ ہمارے اسلامیات کے استاد ہمیں پڑھاتے تھے کہ امام مہدی کا زمانہ آگیا ہے اور کسی وقت بھی ظہور امام مہدی ہو سکتا ہے۔ امام مہدی اسی طرح آ کر جہاد شروع کریں گے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار کے ذریعے سے جہاد کیا تھا۔ یہ بھی غلط الزام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر لگایا جاتا ہے۔ آپ نے اسلام پھیلانے کے لیے بالکل جہاد نہیں کیا تھا۔ کہتے ہیں اگرچہ میں بچہ تھا لیکن میں نے استاد کی پُرجوش باتیں سن کے دل میں ارادہ کر لیا کہ اگر امام مہدی علیہ السلام میری زندگی میں ظاہر ہوئے تو میں ضرور ان کے ساتھ مل کر جہاد کروں گا،یعنی جہاد بالسیف۔ کہتے ہیں تیرہ سال بعد مروہ شہر میں ایک پروگرام میں ان کی ملاقات معلم ابوبکر سے ہو گئی۔ معلم صاحب نے اتفاقاً میرے محلے میں گھر لیا۔ معلم صاحب نے مجھے تبلیغ کی، جماعت کا پیغام پہنچایا کہ امام مہدی علیہ السلام آ چکے ہیں اور فوت بھی ہو چکے ہیں اور اب ان کی پانچویں خلافت جاری ہے۔ معلم ابوبکر نے مجھے تفصیل سے سمجھایا کہ جہاد سے کیا مراد ہے۔ تلوار کا جہاد نہیں بلکہ علمی اور تبلیغ کا جہاد ہے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام نے کیا اور اب بھی یہ جہاد جاری ہے۔ اس پر میں نے معلم صاحب سے کہا کہ نوٹ کر لیں کہ میں احمدی ہوں اور میرے بچپن کی مراد اب پوری ہوئی ہے۔ مَیں نے غور سے شرائط بیعت پڑھیں اور پھر میں نے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی اور اب کہتے ہیں میں معلم صاحب کے ساتھ تبلیغ کے لیے جاتا ہوں اور نو مبائعین بچوں کی کلاسیں بھی لیتا ہوں۔ اس سے میرے علم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقے میں جماعت کا تعارف بھی مزید بڑھ رہا ہے۔
نومبائعین میں غیر معمولی تبدیلی
کس طرح ہوئی۔ اس کا ایک واقعہ بیان کر دیتا ہوں۔
بینن
کے ایک ریجن کے مبلغ مرزا فرحان صاحب کہتے ہیں: دیفالے (Defale) گاؤں میں متعدد انفرادی اور اجتماعی تبلیغی پروگرامز کاانعقاد کیا گیا۔ ان اجتماعی پروگرامز کا گاؤں کی اکثریت پر نہایت گہرا اثر پڑا۔ ایک پروگرام کے اختتام پر گاؤں کے چیف نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم لامذہب لوگ ہیں اور ہم اپنے گذشتہ اعمال پر شرمندہ ہیں کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ جو کام ہم کرتے آئے ہیں وہ ٹھیک نہیں جن میں سرفہرست شراب نوشی ہے۔ میرے نزدیک یہ سب برائیوں کی جڑ ہے۔ آج آپ کی آمد پر ہم نے اسلام کی خوبصورت تعلیمات کا بیان سنا جس نے ہمیں ہمت دی اور میں آج سب کے سامنے برملا اعلان کرتا ہوں کہ آج کے بعد شراب نوشی نہیں کروں گا اور وہ سب جو سمجھ گئے ہیں کہ یہ شراب ہمیں ہلاک کر رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے ان سے کہا کہ وہ بھی وعدہ کریں کہ ہم آج کے بعد اس بری عادت کو ہمیشہ چھوڑ دیں گے اور جماعت احمدیہ میں داخل ہوں گے۔چنانچہ اللہ کے فضل سے وہاں بھی اس طرح جماعت قائم ہو گئی۔
اسی طرح بعض لوگوں کی بیعت کرنے کے بعد نمازوں کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔ پہلے مسلمان ہونے کے باوجود نمازیں نہیں پڑھتے تھے۔
اسی طرح
ساؤتومے
سے مبلغ لکھتے ہیں کہ یَروَازیُو (Gervasio) صاحب ہیں جنہوں نے جنوری 2025ء میں بیعت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اسلام کے بارے میں بہت غلط خیالات پائے جاتے ہیں لیکن جماعت احمدیہ کے پروگرام دیکھنے کے بعد خدا کے تصور کا ادراک ہوا ہے۔ جماعت احمدیہ کے خیالات اور اخلاق مختلف ہیں۔ محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں عملی طور پر نظر آتا ہے۔ ہم عیسائیت میں مسیح کی آمد ثانی کے منتظر تھے۔ یہ عیسائی تھے جب علم ہوا کہ مسیح موعود علیہ السلام آ چکے ہیں تو عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی کہ ہم تو آسمان کی طرف نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ پیشگوئیوں پر جب غور کیا اور جماعت احمدیہ کی تشریح سنی تو دل جماعت احمدیہ کی طرف مائل ہو گیا لیکن شراب نوشی اور دوسری برائیاں راستہ میں حائل تھیں۔ مبلغ سلسلہ نے جب چندہ جات کی تحریک کی تو میں نے چندہ دینا شروع کیا۔ چندہ دینے اور نماز پڑھنے کی برکت سے نہ صرف میری شراب کی عادت چھٹ گئی بلکہ میرے مال اور کاروبار میں بہت برکت پڑی۔ اس طرح یہ بھی تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔ اس طرح کے اَور بے شمار واقعات ہیں جو قبول احمدیت کے بعد نومبائعین میں ہوئے۔ آہستہ آہستہ کبھی بیان ہوتے جائیں گے۔
مخالفین کی طرف سے نومبائعین کی مخالفت اور نومبائعین کی جو استقامت ہے، جو ثابت قدمی ہے
اس کے بارے میں بھی ایک واقعہ بیان کر دیتا ہوں۔
کونگو برازاویل
سے معلم نے لکھا کہ گامبوما کے علاقے میں بہت سارے لوگ عیسائیت کوچھوڑ کر جماعت میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہاں کے ایک نوجوان نے چرچ والوں کو جا کر بتایا کہ بہت سے لوگ مسلمان ہو رہے ہیں اگر آپ نے کچھ نہ کیا تو یہاں پر آپ کی جگہ نہیں رہے گی۔ اس پر کیتھولک چرچ والوں نے احمدیوں کے مقابلے پر کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا اور لوگوں میں کھانا اور کافی رقم بھی تقسیم کی اور تمام گاؤں والوں کو طبی امداد بھی دینی شروع کر دی تاکہ وہ احمدیت چھوڑ دیں۔ ان عیسائیوں نے ہمارے ایک داعی الیٰ اللہ یاسین صاحب کو کہا کہ آپ ہمارے لیے کام کریں تو ہم آپ کو بھاری تنخواہ اور رہنے کے لیے رہائش بھی دیں گے۔ یاسین صاحب نے کہا کہ مجھے آپ کے پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے، مجھے آپ دلائل کے ساتھ یسوع کی خدائی ثابت کر دیں تو میں آپ کے ساتھ ہوں۔ جماعت احمدیہ دلائل سے بات کرتی ہے آپ بھی دلائل سے بات کریں۔ اب عیسائیوں نے اس علاقے میں ایک بڑا چرچ بھی بنایا ہے لیکن وہاں پر بھی کوئی جانے والا نہیں ہے سب پادری جو لوگوں کو لالچ دے کر اپنے ساتھ لوگوں کو ملانے والے تھے سب یہاں سے ناکام واپس لوٹے ہیں۔
اسی طرح بعض اَور جگہ ہیں۔
نائیجر
سے امیر صاحب لکھتے ہیں گذشتہ جلسہ یو کے کے موقع پر مارادی شہر کی ایک معلمہ راحیلہ صاحبہ نے میرا اختتامی خطاب سنا تو اس کے بعد اعلانیہ بیعت کا اقرار کیا۔ معلمہ صاحبہ کافی سالوں سے مارادی شہر اور اردگرد دیہات میں عورتوں اور بچیوں کو قرآن پڑھاتی ہیں اور اسلامی تعلیمات سکھاتی ہیں۔ بیعت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ بیعت کرنے کی وجہ سے انہیں مخالفت کا سامنا ہے جس مدرسہ میں وہ پڑھانے جاتی ہیں وہاں غیر احمدی لڑکے ان کے خلاف کافر کافر کے نعرے لگاتے ہیں اور تنگ کرتے ہیں۔ موصوفہ نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ایک مذہبی کانفرنس میں شرکت کی جس میں ایک وہابی مولوی نے اسٹیج پر آ کر ان کا نام لیے بغیر کہا کہ ہماری ایک معلمہ گمراہ ہو گئی ہیں اور کفریہ عقائد اپنا لیے ہیں۔ اس پر موصوفہ سٹیج پر آئیں اور کھل کر مولوی صاحب کی باتوں کا جواب دیا۔ جس پر وہاں موجود نیک فطرت لوگوں نے ان کی بات کی تائید کی۔ مخالفت کی وجہ سے موصوفہ کو کہا گیا کہ کسی قسم کی کوئی مدد درکار ہو تو جماعت کر سکتی ہے۔ جماعت کی طرف سے پیشکش ہوئی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ مجھے صرف مزید اچھی کتابیں دے دیں۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں چاہتی۔ میں نے بیعت اس توقع سے نہیں کی تھی کہ جماعت میرے لیے کچھ کرے بلکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آنے والے مسیح موعود اور امام مہدی کوقبول کیا ہے اور اس پر قائم ہوں اور اللہ کی توفیق سے قائم رہوں گی۔
مخالفین احمدیت کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ہر جگہ ناکام و نامراد کرتا ہے۔ واقعات بہت سارے ہیں۔ایک واقعہ یہ ہے
کیمرون
سے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ شمالی کیمرون کے اَڈَمَاوَا (Adamoua) ریجن کے شہر گاؤنڈیرے (Gaoundere) میں 2024ء میں جماعت کی مسجد مکمل ہوئی جس کا مخالفین کو بہت دکھ تھا۔ یہ مخالفین گورنر صاحب اور سٹیٹ سیکیورٹی کمشنر کے پاس گئے اور جماعت کے خلاف شکایت کی کہ جماعت احمدیہ دہشت گرد ہے،ہمیں ان سے خطرہ ہے اور یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ اس پر کمشنر صاحب نے جماعت کے معلم ابوبکر صاحب کو بلایا کہ 15؍ مئی کو اپنی جماعت کے پندرہ احباب کے ساتھ میرے پاس آئیں اس طرح انہوں نے مخالفین کے بھی پچیس افراد کو بلایا۔ چنانچہ وہاں سب حاضر ہوئے تو کمشنر نے سب کو مخاطب ہو کر کہا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ گورنر صاحب اور میرے پاس جماعت احمدیہ کے خلاف شکایت لے کر آئے تھے اور کہتے ہیں ساتھ میں مجھے رشوت کے طور پر ان کی مقامی کرنسی میں پانچ لاکھ سیفہ رقم بھی دی ہے جسے میں آپ سب لوگوں کے سامنے ان کو واپس کر رہا ہوں ۔ پھر کمشنر صاحب نے کہا کہ میں نے جماعت احمدیہ کے متعلق پوری تحقیق کی ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ جماعت ہمارے علاقوں میں لوگوں کی خدمت کر رہی ہے۔ ہمارے شہر کے ارد گرد پانی کے لیے چار گول ہول بنوا کر دیے ہیں۔ یتیموں کی مدد کر رہی ہے لوگوں کو کھانا مہیا کر رہی ہے۔ ایسے لوگ دہشت گرد نہیں ہو سکتے۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ یہ لوگ اپنی مسجد میں اذان دیتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں۔ یہ باقی مسلمانوں کی طرح مسلمان ہیں میں نے یہ ساری رپورٹ گورنر صاحب کوبھجوانی ہے۔ اس نےسارے مخالفین کو کہا کہ اب میں وارننگ دیتا ہوں کہ جو بھی اب ان کے خلاف بات کرے گا اور میری باتوں کے خلاف ورزی کرے گا کہ فساد پیدا نہیںکرنا تو میں اس کو جیل بھجوا دوں گا اور کہتے ہیں اس کے بعد مخالفین نامراد ہوئے اور اللہ کے فضل سے ہماری مسجد آباد ہے۔
مساجد کے تعلق سے واقعات
بھی ہیں۔ ایک واقعہ بیان کر دیتا ہوں۔
کونگو برازاویل
سے معلم یوسف صاحب کہتے ہیں گاؤں کے پہلے احمدی مسٹر مالیبا (Maleba) کو عیسائیت چھوڑ کر احمدیت یعنی حقیقی اسلام قبول کرنے کی توفیق ملی۔ کہتے ہیں احمدیہ جماعت ہمارے سامنے اسلام کا حقیقی پیغام پیش کرنے آئی۔ ہمارے گاؤں میں جماعت کی مسجد تعمیر سے بہت سے لوگوں کو جماعت میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ صرف عیسائیت ہی وہ آواز تھی جو خدا کی طرف لے جاتی ہے لیکن جب سے جماعت احمدیہ کا پیغام سنا ہے تو پتہ چلا ہے کہ ہم تو اندھیرے میں رہ رہے تھے۔ جماعت کو قبول کرنے کے بعد ہم میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور ہم نے شراب چھوڑ دی ہے اور اب ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ ہماری زندگی کا کوئی مقصد ہے۔
مساجد کی تعمیر اور نصرت الٰہی کے واقعات
بھی ہیں۔ ایک مختصر واقعہ بیان کر دیتا ہوں۔ انصر عباس صاحب
ساؤ تومے
سے لکھتے ہیں کہ ایک ممبر نیشنل اسمبلی جو پہلے ایک ضلع کے میئر تھے اس وقت انہوں نے جماعت کی پہلی مسجد بنانے کے وقت انکار کر دیا تھا۔ جب میئر تھے اجازت نہیں دی تھی کہ اس ملک میں صرف چرچ بن سکتا ہے کیونکہ عیسائیوں کا ملک ہے۔ پھر جماعت کا تعارف کروانے پر انہوں نے مسجد بنانے کی اجازت دی اور خود آ کر سنگ بنیاد بھی رکھا۔ اب ان کے بیٹے نے اگست 2024ءمیں بیعت کر لی ہے اور بیعت کرنے سے پہلے کہتے ہیں میں نے اس کے والدین کو بتایا کہ ان کا بیٹا مسلمان ہونا چاہتا ہے۔ اس کی ماں نے کہا مجھے جماعت احمدیہ پر اعتماد ہے۔ آج ساری دنیا کو ایسے اسلام کی ضرورت ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارا یہ بیٹا جماعت احمدیہ والے اسلام میں داخل ہو رہا ہے۔
اسی طرح
برکینا فاسو
سے معلم صاحب کہتے ہیں ایک دوست ہیں دابوالحسن صاحب۔ جب بیعت کی تو مخالفت کی وجہ سے گھر میں ہی نماز پڑھنے لگے۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے اپنی مسجد آپ بنانے کا ارادہ کیا تو ان کی بہت مخالفت ہوئی جب مسجد بن گئی اور اذان ہونے لگی تو مخالف سب اکٹھے ہو کر لوکل چیف کے پاس گئے اور کہا کہ اس شخص نے اپنی مسجد بنائی ہے اور ہم اذان کی آواز سے تنگ ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے کہنے پرچیف نے کہا کہ فوراً اذان دینا بند کر دو اور مسجد بھی بند کرو۔ دابوالحسن نے کہا کہ میں قانونی راستہ اپناؤں گا۔ جب تک میں زندہ ہوں نہ ہی اذان بند ہوگی اور نہ ہی یہ مسجد بند ہوگی۔ کچھ دن بعد لوکل چیف کو احساس ہوا کہ اس نے غلط فیصلہ کیا ہے اور اس نے دابوالحسن صاحب کو بلا کر معذرت کی اور نماز اور اذان کی اجازت دے دی۔ لیکن یہ بات حکومت پاکستان کو سمجھ نہیں آتی جو مولوی کہتا ہے ان کی بات مان لیتے ہیں اور ہماری مسجدوں میں اذانیں بند کروائی ہوئی ہیں نمازیں بند کروائی ہوئی ہیں۔ اب تو گھروں میں بھی کہتے ہیں نماز نہ پڑھو اور اس لیے گھروں میں چھاپے مارے جاتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے حوالے سے بعض تاثرات
پیش کرتا ہوں۔
گنی بساؤ
کے مبلغ کہتے ہیں کہ غابو ایریا میں جماعت کی شدید مخالفت ہے۔ اس علاقے کے ایک بڑے گاؤں پچی کے امام مختار بالڈے صاحب جو کہ موریطانیہ سے پڑھ کر آئے ہیں جماعت کے شدید مخالف تھے۔ گذشتہ ایک سال سے ان کو تبلیغ جاری تھی ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی ترجمہ کتب اسلامی اصول کی فلاسفی،کشتی نوح اور دیگر جماعتی کتب اور قول الصریح، التقویٰ وغیرہ پڑھنے کے لیے دی گئیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پاکیزہ کلام کے پڑھنے کے بعد ان کے دل کی کایا پلٹ گئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے گذشتہ نومبر میں احمدیت قبول کر لی۔
مبلغ انچارج
رشیا
بیان کرتے ہیں آئنور ارسلانوو صاحب سابق نائب مفتی بشکرتستان کا کچھ سال قبل میرے سے رابطہ ہوا اور وہ اس وقت سے ہی جماعتی کتب کا مطالعہ کر رہے تھے بلکہ اپنے بیگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبارک تصنیف اسلامی اصول کی فلاسفی بھی رکھی ہوئی تھی جس سے استفادہ کرتے ہوئے لیکچر دیا کرتے تھے۔ موصوف نے یہ کتاب مجھے دکھائی کہ ہر وقت ان کے پاس ہوتی ہے اس کے کچھ عرصہ بعد ان سے ایک لمبی تفصیلی ملاقات ہوئی اور آخر پرکہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ مسیح الزمان کا جو پیغام تھا وہ آپ تک پہنچ چکا ہے اور امام وقت کی کتب بھی پڑھ چکے ہیں تو اب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی راہنمائی کرے۔ اس سے دو تین دن بعد ہی ان کا موبائل پر میسج آیا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحبؑ کو سچا اور خدا کا مرسل مانتے ہیں مگر خواہش ہے کہ میں بیعت خلیفہ وقت کے ہاتھ پر کروں۔ چنانچہ گذشتہ سال اس مقصد کے لیے وہ جرمنی میں آئے لیکن وہاں میں نہیں جا سکا تھا اس لیے دستی بیعت تو نہیں ہوئی لیکن کہتے ہیں کہ ایک دن انہوں نے نماز فجر کے بعد رشین ریاستوں سے آئے ہوئے افراد جماعت کے درمیان کہا کہ وہ خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور اعلان کر دیا اور پھر انہوں نے مجھے بیعت کا خط بھی لکھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو موقع دے کہ وہ دستی بیعت بھی کر لیں۔
اسی طرح
سربیا
سے مربی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بک فیئر کے موقع پر ایک دن تیونس کی ایک خاتون زینا صاحبہ ہمارے بک سٹال پر آئیں اور بتایا کہ وہ اپنی فیملی میں اکیلی احمدی ہیں۔ انہوں نے مجھے (مربی صاحب کو) اپنے والدین سے ملایا جو کہ پہلے کسی احمدی سے ملنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ کہتے ہیں ان کے والد ہمارے سٹال پر بھی آئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتب اور دیگر جماعتی عربی کتب دیں۔ زینا بلقیس صاحبہ نے بتایا کہ وہ اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھ کر احمدی ہوئی ہیں۔ کہنے لگیں کہ میں نے اسلامی اصول کی فلاسفی کے بارہ صفحات ہی پڑھے تھے تو میرے دل میں ایک خاص احساس جاگا جیسے دل میں کسی چیز کا دھماکا ہوا ہو اور جس سچے اسلام کی عرصہ سے مجھے تلاش تھی وہ مجھے مل گیا مجھے یہ محسوس ہوا اور یہ یقین پیدا ہوا کہ اس کتاب کا لکھنے والا سچا ہے۔ تب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لے آئیں اور یہ خاتون کئی زبانیں جانتی ہیں اور وکیل ہیں، نظم اور نثر بھی لکھتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ثبات قدم عطا فرمائے۔
بک فیئرز اور نمائشیں دیکھ کر بہت سارے لوگ احمدی ہوئے۔
اس میں مختلف ممالک کے لوگ شامل ہیں۔ انڈیا میں بھی اس کا خاص طور پہ اثر ہو رہا ہے۔
لیف لیٹس کی تقسیم کے دوران پیش آنے والے واقعات ہیں۔
اس کے ذریعے سے بہت سارے لوگ احمدی ہوتے ہیں اور احمدیت کا یا اسلام کا ایک صحیح تصور ان میں پیدا ہو جاتا ہے۔ ہمارے یہاں
یو کے سے خدام کا ایک گروپ چلّی گیا
مروان سرور صاحب وہاں ارجنٹائن کے مبلغ ہیں۔ لکھتے ہیں کہ اس وفد نے لٹریچر تقسیم کیا۔ ایک خاتون کو پڑھنے کے لیے دیا اور انہوں نے اس کو پڑھا اور پھر انہوں نے ان لوگوں سے رابطہ کر کے کہا کہ وہ ایک آرگنائزیشن میں ہیں وہاں ایک تقریب منعقد کر رہی ہیں اور انہوں نے ہمارے خدام کے گروپ کو بھی دعوت دی کہ وہ وہاں آئیں تاکہ آپ کا تعارف ہو اور ان کو یہ بتایا جائے کہ دیکھو! یو کے سے اسلام کی تبلیغ کرنے کے لیے ایک گروپ چلّی آیا ہے اور ان کا بنیادی مطمح نظر امن پھیلانا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ چنانچہ وفد نے موصوفہ کی دعوت قبول کی اور یقین دلایا کہ ہم آئیں گے۔ وہاں گئے اور وہاں ساری تقریب ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں لوگوں کو بتایا اور وہ خود بھی پڑھی لکھی عورت ہیں اور جماعت کے بارے میں مزید تحقیق کر رہی ہیں۔ یہ وکیل بھی ہیں۔ تو اس طرح بھی جماعت کا تعارف بڑھ رہا ہے۔ خدام الاحمدیہ کے ذریعے سے جو تبلیغی گروپ جاتے ہیں ان کا فائدہ بھی ہوتا ہے۔
ایم ٹی اے پر خطبہ جمعہ وغیرہ سن کے لوگوں پر اچھا اثر ہوتا ہے۔
ایک رومانین نو احمدی ہیں
رومانیہ
کے مبلغ لکھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ وقت قبل بیعت کی ہے۔ اپنی پڑھائی مکمل طور پر ترک کر چکے تھے۔ ان کے پروفیسر اور والدین ان کو پڑھائی جاری رکھنے کی تلقین کرتے تھے لیکن وہ مایوس ہو گئے وہ ان کی بات نہیں مان رہے تھے۔ ان کے پروفیسر کو جب ان کے احمدی ہونے کا علم ہوا تو وہ اَور بھی ناراض ہو گیا۔ اس نے کہا پہلے تو یہ لڑکا پڑھائی چھوڑ چکا تھا اب احمدی مسلمان ہو گیا ہے اب پتہ نہیں کیا گل کھلائے گا۔ لیکن احمدی ہونے کے بعد یہ ایم ٹی اے پر میرے پروگرام دیکھتے تھے اور وہاں بعض ملاقاتوں میں جب میں احمدی بچوں کو یہ کہتا تھا کہ پڑھائی کرو یا پڑھائی کی طرف توجہ دلاتا تھا تو اس پہ ان کو دوبارہ پڑھائی کرنے کا شوق پیدا ہوا اور پھر انہوں نے امتحان دیا۔ امتحان کا وقت تھوڑا تھا اور یہ وقت شاید اس ہائی سکول کے امتحان کا ہوگا۔ اس میں یہ بہرحال پاس بھی ہوگئے۔ مجھے دعا کے لیے بھی یہ لکھتے رہے۔ بہرحال اللہ نے فضل کیا پاس ہو گئے جب ان پروفیسر کو پتہ لگا تو وہ بڑا حیران ہوا اس نے ہمارے ایک احمدی کو کہا کہ میرا تو خیال تھا یہ بگڑ جائے گا لیکن یہ تو سنور گیاہے۔ کہتا ہے میرا ایک اَور شاگرد ایسا ہی ہے جو اسی طرح آوارہ گرد ہو گیا ہے پڑھائی چھوڑ بیٹھا ہے۔ میرا خیال ہے اس کو بھی میں کہوں کہ احمدی ہو جائے تاکہ وہ کم از کم پڑھائی تو کر لے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے
قبولیت دعا کے اَور بھی بہت سارے واقعات ہیں۔
گنی بساؤ
کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک مخلص دوست اور خلافت احمدیہ سے بے انتہا پیار کرنے والے شریف کانڈے صاحب اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل چوروں نے ان کے سر پر کلہاڑی کا وار کیا جس کے نتیجہ میں سر پر گہرا زخم آیا۔ ان کی یادداشت ختم ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے ان کو ادویات دیں جو وہ استعمال کرتے رہے۔ ایک روز ان کی طبیعت بہت زیادہ بگڑ گئی۔ انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا ڈاکٹروں نے صاف کہہ دیا کہ شاید اب ان کا بچنا مشکل ہے۔ اس پر انہوں نے بہت دعا کی اور اس دوران کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے خواب میں دیکھا اور کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ خلیفة المسیح نے مجھے کہا کہ تم دعا کرو میں بھی تمہارے لیے دعا کرتا ہوں اور انشاء اللہ تمہیں کچھ نہیں ہوگا اور تم پہلے کی طرح صحت یاب ہو جاؤ گے۔ کچھ دن بعد انہوں نے دوبارہ ایک اَور خواب دیکھا جس میں پھر میں نے ان کو یہی کہا کہ دعا کرو لیکن تہجد کی نماز ہرگز نہ چھوڑو۔ تم بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے۔ ایسا انہوں نے تین مرتبہ دیکھا۔ تو ڈاکٹروں نے انہیں جواب دے دیا تھا لیکن کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دعا کے اثر سے اب وہ مکمل صحت یاب ہو گئے ہیں۔ یادداشت بھی واپس آ رہی ہے اور تھوڑا بہت متاثر ہے وہ بھی وہ کہتے ہیں امید ہے ڈاکٹر کہتے ہیں ہم حیران ہیں کہ سب واپس آ رہا ہے انشاء اللہ وہ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔
جماعت کے جلسوں پروگراموں میں شامل ہونے والے غیراز جماعت مہمانوں کی آرا
بھی ہیں جو گو ابھی تک مانتے نہیں لیکن اب ان کی رائے بدل گئی ہے۔
مارادی شہر
کے ایک امام معلم الامین صاحب نے گذشتہ سال میرا یوکے جلسے کا جو خطاب تھا وہ سنا جس میں مَیں نے کہا تھا کہ اگر جماعت خدا کی طرف سے نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کب کا اسے ختم کر دیتا۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ ہیں۔ موصوف امام نے ایک محفل میں جہاں غیر از جماعت احباب موجود تھے ان کو مخاطب ہو کر کہا کہ وہ پندرہ سال سے ازالہ وہابی نظریہ فکر فرقے کے اماموں کو مارادی ریجن میں اپنی تقریروں میں کہتے ہوئے سن رہے ہیں کہ جماعت احمدیہ جھوٹی ہے اور جلد اپنے انجام کو پہنچ جائے گی اور مارادی ریجن سے اس جماعت کا خاتمہ ہو جائے گا حالانکہ جماعت احمدیہ سالوں سے مارادی ریجن میں موجود ہے اور پہلے کرایہ کی جگہ پر تھی شہر میں کوئی مسجد بھی نہیں تھی۔ اب نہ صرف جماعت احمدیہ کو اپنی جگہ مل گئی ہے بلکہ ایک مسجد بھی ہے جو مارادی ریجن میں جماعت احمدیہ کی تبلیغ کا مرکز بن چکی ہے اور دن بدن جماعت احمدیہ نہ صرف مارادی ریجن بلکہ ارد گرد کے علاقوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اس لیے میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی اس بات کا خود گواہ ہوں کہ اگر یہ جماعت کسی انسان کی بنائی ہوتی تو جیسے مولوی کہتے ہیں اس کا خاتمہ ہو چکا ہوتا لیکن یہ جماعت تو دن بدن بڑھ رہی ہے اور تم سب جھوٹے ہو۔
غرباء اور ضرورت مندوں کی مدد سے بھی اچھے تاثرات ملتے ہیں
گذشتہ دنوں مایوٹ میں بڑا سخت طوفان زلزلہ آیا تھا اور اس کی وجہ سے بہت تباہی مچی تھی۔ یہاں سے بھی ہم نے مختلف امداد بھیجی، ہیومینٹی فرسٹ کے بعض گروپ بھی وہاں مدد کے لیے گئے، جرمنی سے بھی گئے۔ مڈل ایسٹ کے لوگوں سے بھی مدد پہنچی۔یہاں سے میں نے فون کر کے وہاں کے مشنری انچارج سے بات بھی کی۔ اس بات پہ وہاں کے لوگ عیسائی مشنری بھی بڑے حیران تھے کہ ہمارے ہاں چرچ تو ہمیں پوچھتا نہیں اور یہاں تباہی پہ تمہارے خلیفہ کو بڑی فکر ہے۔ اس نے فون کرکے تمہارے سے بات کی ہے۔ اس سے بڑا نیک اثر قائم ہوا اور اس کا اثر بھی تبلیغ میں پڑ رہا ہے۔ اللہ کے فضل سے لوگوں کی توجہ احمدیت کی طرف ہو رہی ہے۔
حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:
’’اب یہ لوگ خود سوچ لیں کہ اس سلسلہ کے برباد کرنے کے لیے کس قدر انہوں نے زور لگائے اور کیا کچھ ہزار جان کاہی کے ساتھ ہر ایک قسم کے مکر کیے ہیں۔… پس اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو ضرور ان کی جان توڑ کوششوں سے یہ تمام سلسلہ تباہ ہو جاتا۔ کیا کوئی نظیر دے سکتا ہے کہ اس قدر کوششیں کسی جھوٹے کی نسبت کی گئیں اور پھر وہ تباہ نہ ہوا بلکہ پہلے سے ہزار چند ترقی کر گیا۔ پس کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ کوششیں تو اس غرض سے کی گئیں کہ یہ تخم جو بویا گیا ہے اندر ہی اندر نابود ہو جائے اور صفحہ ٔ ہستی پر اس کا نام و نشان نہ رہے مگر وہ تخم بڑھا اور پُھولا اور ایک درخت بنا اور اس کی شناخت دور دور چلی گئی اور اب وہ درخت اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہزارہا پرند اس پر آرام کر رہے ہیں۔‘‘
(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18صفحہ 383 – 384)
اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق دے کہ ہم آئندہ بھی جماعت کی خدمت کرتے چلے جائیں، اپنے نیک نمونے قائم کریں اور ہر احمدی کا ایک نیک نمونہ جو ہے وہ بھی ایک خاموش تبلیغ ہے جیسا میں ہمیشہ کہتا ہوں۔ اس لیے ہر احمدی کو اپنے حالتوں کو بدلنے کی طرف توجہ دینی چاہیے تاکہ اسلام اور احمدیت کا جھنڈا جلد سے جلد دنیا میں لہرائے۔ جزاک اللہ۔ السلام علیکم ورحمة اللہ
٭…٭…٭




