خطاب حضور انور

جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برطانیہ 2025ء کے موقع پر دوسرے دن بعد دوپہر کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایمان افروز اور دل نشین خطاب (حصہ اوّل)

24-2025ء میں جماعت احمدیہ پر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں اور تائید و نصرت کے عظیم الشان نشانات میں سے بعض کا ایمان افروز تذکرہ

اس عرصے میں 2 لاکھ 49؍ ہزار 408؍افرادکی احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں شمولیت
111؍ممالک سے تقریباً پانچ سو سے زائد اقوام احمدیت میں داخل ہوئیں

دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے احمدیت یعنی حقیقی اسلام قبول کرنے کے ایمان افروز واقعات

356؍نئی جماعتوں کا قیام، 1529؍نئے مقامات پر پہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے

134؍مساجداور86؍مشن ہاؤسز اور تبلیغی مراکز کا اضافہ

اب تک کُل 78؍زبانوںمیں تراجم قرآن کریم کی اشاعت

دوران سال 374؍مختلف کتب پمفلٹس اور فولڈرز وغیرہ 48؍زبانوں میں 18؍لاکھ 51؍ہزار کی تعداد میں طبع ہوئے

10؍ہزار 500؍بک سٹالز اور بک فیئرزکے ذریعے لاکھوں کا لٹریچر تقسیم

عربک، رشین، بنگلہ، فرنچ،ٹرکش،انڈونیشین، فارسی،چینی، سواحیلی اورسپینش ڈیسکس کے تحت متعدّد کتب کی تیاری و اشاعت

دنیا بھر میں اسلام کے پُر امن اور حقیقی پیغام کی ترویج و اشاعت کے لیے ایم ٹی اے کے تمام چینلز کی بھرپور اور بے مثال خدمات کا تذکرہ

واقفین نو کی کُل تعداد 85؍ہزار سے زائد ہوچکی ہے

109؍ممالک میں مجموعی طور پر 80؍لاکھ 16؍ہزار لیف لیٹس کی تقسیم کے ذریعے 2؍کروڑ 55؍لاکھ کے قریب افراد تک احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا

الفضل انٹرنیشنل کے ذریعہ 3؍کروڑ سے زائد افراد تک پیغام حق پہنچا

پریس اینڈ میڈیا آفس نے190؍خبریں اور مضامین شائع کروائے جن کے ذریعہ 30؍ملین سے زائد لوگوں تک جماعت کا پیغام پہنچا

مجلس نصرت جہاں کے تحت 13؍ممالک میں 620؍پرائمری سکول اور 9؍ممالک میں 80؍سیکنڈری سکول قائم ہیں

چالیس ممالک میں 2530؍فری میڈیکل کیمپس کے ذریعہ 2؍لاکھ69؍ہزار سے زائدمریضوں کو مفت ادویات تقسیم کی گئیں

انٹرنیشنل ٹرانسلیشن ریسرچ، رقیم پریس، وکالت تعمیل و تنفیذ،الاسلام ویب سائٹ، مرکزی شعبہ آئی ٹی،شعبہ مخزن تصاویر، احمدیہ آرکائیوز اینڈ ریسرچ سنٹر، ہفت روزہ الحکم، ریویو آف ریلیجنز، افریقہ و یورپ میں قائم احمدیہ ریڈیو اسٹیشنز اور مرکزی شعبہ اے ایم جےکی مختصر رپورٹس

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹکٹس (IAAAE)، مجلس نصرت جہاں اور ہیومینٹی فرسٹ کے خدمتِ انسانیت پر مشتمل بے لوث کاموں کا تذکرہ

جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برطانیہ 2025ء کے موقع پر دوسرے دن بعد دوپہر کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایمان افروز اور دل نشین خطاب (حصہ اوّل)

(فرمودہ 26 جولائی 2025ء بروز ہفتہ بمقام حدیقۃ المہدی (جلسہ گاہ) آلٹن ہمپشئر۔ یوکے)

(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾

آج کے دن اس وقت

اللہ تعالیٰ کے فضل جو جماعت احمدیہ پر دوران سال ہوئے ہیں ان کا مختصر خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔

اس مختصر رپورٹ کا بھی میں مزید اختصار کر رہا ہوں تب بھی بہرحال وقت لگے گا۔ مختصر رپورٹ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے

اس سال دنیا بھر میں 356؍جماعتیں قائم ہوئی ہیں

اور ان جماعتوں کے علاوہ

1529؍نئے مقامات پر پہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے۔

اس میں کونگو کنشاساپہلے نمبر پہ ہے۔پھر بینن ہے، کونگو برازاویل ہے،گیمبیا ہے، لائبیریا ہے، نائیجیریا ہے، گھانا ہے، سینیگال، گنی بساؤ، کینیا اور مختلف ممالک ہیں جن میں دس سے کم جماعتیں یا دس جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے

جماعت کو دوران سال اللہ تعالیٰ کے حضور جو مساجد پیش کرنے کی توفیق ملی ان کی مجموعی تعداد 134؍ہے جن میں 97؍مساجد نئی تعمیر ہوئی ہیں 37؍بنی بنائی مساجد ملی ہیں۔

ان میں بھی امریکہ، بنگلہ دیش، انڈیا، ملائیشیا، جرمنی، بیلیز، نیوزی لینڈ، یوگنڈا، گھانا، تنزانیہ، نائیجیریا، گنی بساؤ، لائبیریا، سیرالیون، آئیوری کوسٹ، کینیا، ٹوگو،کیمرون، سنٹرل افریقن ریپبلک، کونگو کنشاسا، برکینا فاسو، مالی، ساؤ تومے، زیمبیا، چاڈ، گنی کناکری، نائیجیریا شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے

دوران سال86؍مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا ہے۔

ان میں پہلے نمبر پہ یوگنڈا ہے اور بینن ہے جہاں دس دس مشن ہاؤس بنے ہیں۔ پھر کینیا ہے، پھر گھانا ہے اور اس طرح دوسرے ممالک ہیں۔ امریکہ، کینیڈا وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 28؍ ممالک ایسے ہیں جہاں ایک یا دو مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا ہے۔

افریقہ کے ممالک میں جماعتیں مساجد اور مشن ہاؤسز کی تعمیر وقار عمل کے ذریعے سے کرتی ہیں۔ بہت سارے کاموں میں حصہ لیتی ہیں۔ اس میں بجلی پانی وغیرہ کی فٹنگ اور رنگ روغن وغیرہ اور بہت سارے کام ہیں۔ اس سال 113؍ممالک سے موصولہ رپورٹس کے مطابق

ساٹھ ہزار 629؍وقار عمل ہوئے

اور جن میں

احباب جماعت نے چار لاکھ 44؍ہزار 880؍گھنٹے کام کیا

اور اگر اس کو مالی لحاظ سے دیکھا جائے کہ کتنا خرچ ہوا یا بچت ہوئی تو

اس کام کے کرنے سے تقریباً آٹھ ملین یو ایس ڈالر کی بچت ہوئی ہے۔ وکالت تصنیف یوکے

کی رپورٹ ہے کہ اس سال قرآن کریم ناظرہ اور انگریزی ترجمہ از حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ  کو ری پرنٹ کروایا گیا۔ قاعدہ یسرنا القرآن ری پرنٹ ہوا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں ’’آئینہ کمالات اسلام، نزول المسیح، نور الحق حصہ اوّل دوم، استفتاء، البلاغ اور پرانی تحریریں۔‘‘ ان کے انگریزی تراجم امسال طبع ہوئے۔ کل میں بک سٹال میں گیا تھا۔ وہاں میں نے آئینہ کمالات اسلام دیکھا کہتے ہیں بڑی تیزی سے بک گیا ہے۔

حضرت مصلح موعود ؓکی تصانیف چشمہ ٔتوحید، حریت انسانی کا قائم کرنے والا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بھی انگریزی ترجمہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کی کتابیں خلفائے راشدین کے بارے میں اور دوسری اسلامی تاریخ کے بارے میں شائع ہوئی ہیں۔ اسی طرح اردو کتب میں حضرت مصلح موعود ؓکی ’’سیرت النبیؐ‘‘ اور ’’اسلام کا وراثتی نظام‘‘، رشید غنی صاحب نے کتاب لکھی تھی اسلام کے وراثتی نظام پہ بڑی اچھی کتاب ہے۔ وہ شائع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بہت ساری اَور کتب ہیں جو شائع ہوئی ہیں۔

قرآن کریم کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کی 78؍ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور یہ شائع ہو چکا ہے۔

اسی طرح اس سال فائیو والیم کمنٹری کا پہلی جلد کا عربی ترجمہ بھی ہمارے یہاں انٹرنیشنل ٹرانسلیشن ریسرچ شعبےنے شائع کیا ہے۔ شائع نہیں ہوا، ابھی پریس میں ہے۔ انشاء اللہ آ جائے گا۔ اسی طرح اَور بہت ساری کتابیں ہیں جو شائع ہوئی ہیں یا دوبارہ ایڈیشن طبع ہوئے ہیں۔ اور جماعت کے لٹریچر میں اضافہ ہوا ہے یہ بک سٹال میں موجود ہیں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض کتابوں کا مختصر تعارف تو میں کراچکا ہوں جو شائع ہوئی ہیں۔

حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ؓکامرتب کیا ہوا صحیح بخاری مع ترجمہ وشرح جو اردو میں تھا اس کی پہلی جلد کا انگریزی ترجمہ ہو گیا ہے اور بک سٹال میں موجود بھی ہے۔ اسی طرح خلفائے سلسلہ کی بہت ساری کتب ہیں وہ شائع ہوئی ہیں۔ دیگر زبانوں میں بھی تراجم ہوئے ہیں۔ فارسی میں، عربی میں اور رشین میں، البانین میں۔ اس طرح مختلف کتابیں شائع ہوئی ہیں۔

وکالت اشاعت (طباعت )

کی رپورٹ یہ ہے کہ 86؍ممالک سے موصولہ رپورٹس کے مطابق

دوران سال 374؍مختلف کتب پمفلٹس اور فولڈرز وغیرہ 48؍زبانوں میں 18؍لاکھ 51؍ہزار کی تعداد میں طبع ہوئے۔

جن زبانوں میں لٹریچر شائع ہوا ان میں عربی، فرنچ، لتھوینین، اسامیز، جرمن، میسی ڈونین، بنگلہ، یونانی، مالاگاسی، بوسنین، عبرانی، مالے، برمیز، ہندی، ملیالم، چینی، انڈونیشین، مارشلیز، کروشین، آئرش، مراٹھی، ڈینش، جاپانی، نیپالی، ڈچ، کناڈہ، نارویجن، انگریزی، لاطینی سپینش، اڈیہ، فنش، لیتھوین، فارسی، پنجابی، سواحیلی اور بہت ساری کتب ہیں۔

قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں جو نئے ریوائزڈ ایڈیشن ہیں وہ طبع ہوئے۔ اسی طرح بعض نئے ایڈیشنز میں سورتوں کے تعارف کے ساتھ اور منتخب آیات کے تفصیلی نوٹ وغیرہ بھی شائع ہوئے اور اس میں بھی تقریباً نو، دس، پندرہ مختلف تراجم اور تفسیر ہے۔

نظارت نشر و اشاعت قادیان

کی رپورٹ یہ ہے۔ انہوں نے انڈیا کی چودہ زبانوں میں قرآن شریف شائع کیا ہے۔ اسی طرح میر اسحاق صاحبؓ والا جو قرآن کریم اردو ترجمہ کے ساتھ ہے اس کو انہوں نے منظور فونٹ کے ساتھ تیار کروایا ہے۔ اسی طرح یہ باقی کام کر رہے ہیں۔ کسر صلیب پہ آج کل کام ہو رہا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مختلف زبانوں میں تراجم جو ہیں۔

ان میں جرمن زبان میں نو کتب کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔ انگریزی اور سواحیلی زبان میں چھ چھ کتب کے۔ ہندی، اڑیا، پنجابی اور آسامی میں چار چار کتب کے، بنگلہ اور انڈونیشین میں تین تین، فارسی اور رشین میں دو دو کتب شائع ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ بوسنین، فرنچ، عربی، تیلیگو، سنڈانیز، کنڈا، مارشلی، تامل اور مراٹھی زبان میں بھی ان کی کتاب شائع ہوئی ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے انڈیا کی تقریباً آٹھ نو مختلف علاقائی زبانوں میں ترجمے بھی انہوں نے شائع کیے ہیں۔

دوران سال مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی خلفاء کی کتب

یہ ہیں۔ حضرت مصلح موعود ؓکی کتب خلفاء کی سچے دل سے اطاعت، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا خاص مقصد، چشمہ ٔتوحید کا انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے، نبیوں کا سردار اور عرفان الٰہی کا جرمن، منہاج الطالبین اور خدام الاحمدیہ کے نام پیغام کا ڈچ، دیباچہ تفسیر القرآن کا انڈونیشین، عورتوں کو غلامی سے نجات دلانے والا نبیؐ کا فنش زبان میں ترجمہ ہوا ہے، برکات خلافت کا ٹرکش، دعوت الامیر کا سواحیلی اور عربی، دس دلائل ہستی باری تعالیٰ کا فارسی، ملائکة اللہ کا ملیالم اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا آسامی زبان میں ترجمہ شائع ہوا ہے۔ اسی طرح سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم جلد ہفتم اور خطبات محمود جلد 14 اور 17 بزبان اردو شائع ہوئی ہیں۔ حضرت خلیفة المسیح الرابع ؒکی کتاب الہام، عقل، علم اور سچائی کا انڈونیشین اور اسلام اور عصر حاضر کےمسائل کا ڈینش زبان میں ترجمہ ہوا ہے۔ اسی طرح میری مختلف تقریریں جو ہیں ان کا انہوں نے ترجمہ شائع کیا ہے۔ بنیادی مسائل کے جو جوابات دیے جاتے ہیں اور آج کل الفضل میں چھپتے ہیں وہ کتابی صورت میں شائع کیے ہیں۔ اسی طرح اَور بہت سے لیکچر اور ایڈریس جو ہیں ان کو شائع کیا ہے۔

وکالت اشاعت (ترسیل )

کے مطابق 48؍ممالک کو 38؍زبانوں میں تقریباً پونے دو لاکھ کی تعداد میں کتب بھجوائی گئیں۔ مختلف ممالک میں بھی مقامی طور پر جماعتی رسالوں کی اشاعت ہو رہی ہے۔ جماعتی رسالوں کے ذریعہ فری لٹریچر کی تقسیم جو ہے

5؍ہزار 725؍مختلف عناوین کی کتب فولڈر 31؍لاکھ 40؍ ہزار سے زیادہ کی تعداد میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اس طرح

66؍لاکھ سے زیادہ افراد تک اس ذریعہ سے پیغام پہنچا۔

جماعتوں میں

ریجنل اور مرکزی لائبریریز کا قیام

ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو رہا ہے۔ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بُک سٹالز لگائے گئے، بُک فئیر لگائے گئے۔

تقریباً نواسی ممالک eighty nine ممالک سے موصولہ رپورٹس کے مطابق

12؍ہزار نمائشوں کا انعقاد کیا گیا۔ 1753؍سے زائد تراجم قرآن کریم تحفةً مہمانوں کو دیے گئے۔ 10 ہزار 500؍بک سٹالز اور بک فیئرزکے ذریعے لاکھوں کا لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ انٹرنیشنل ٹرانسلیشن ریسرچ

بھی صحیح بخاری کاترجمہ کر رہا ہے۔ فائیو والیم کمنٹری کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک جلد شائع ہو چکی ہے اور اسی طرح بعض اَور کتب ہیں جن کا ترجمہ ہو رہا ہے۔

رقیم پریس

افریقن ممالک کے جو احمدیہ پرنٹنگ پریس ہیں ان میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کام ہو رہا ہے اور کافی تعداد میں کتب اور لٹریچر وہ شائع کر رہے ہیں۔

اسی طرح انڈیا کی رپورٹ تو میں نے دے دی۔

وکالت تعمیل و تنفیذ

کے تحت یہاں کام ہو رہا ہے اور اچھا کام ہو رہا ہے۔

عربی ڈیسک

کے تحت اب تک شائع ہونے والی عربی کتب اور پمفلٹس کی تعداد 192؍ ہے۔ اس سال چار نئی کتب چھپی ہیں۔ مرقاة الیقین فی حیات نورالدین، الکفر ملة واحدة کا نظر ثانی شدہ ترجمہ، فضائل القرآن اور دعوة الامیر شامل ہیں۔ اسی طرح حضرت مصلح موعود ؓکی کچھ کتب شائع ہوئی ہیں۔

رشین ڈیسک

کے تحت بھی کام ہو رہا ہے اور کافی کتب شائع ہوئی ہیں۔ حقیقة الوحی، تذکرة الشہادتین،کشتی نوح کا ترجمہ جاری ہے۔ برکات الدعا طباعت کے لیے بھجوا دی ہے۔ سر الخلافة بھی اور اسی طرح بعض اَور کتب پہ بھی کام ہو رہا ہے اورترجمہ بھی ہو چکا ہے۔

بنگلہ ڈیسک

میں بھی اللہ کے فضل سے کام ہو رہا ہے اور کتب شائع کر رہے ہیں۔ دس دلائل ہستی باری تعالیٰ کا بنگلہ میں ترجمہ چھپ چکا ہے۔ بعض اَور کتابوں کے ترجمے ہوئے ہیں جو اَب ان شاء اللہ جلدی چھپ جائیں گے۔

فرنچ ڈیسک

ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کام کر رہے ہیں۔ اور سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، لیکچر سیالکوٹ، حقیقة المہدی کا ترجمہ ہوا ہے۔ تفسیر کبیر جلد اوّل اور فائیو والیم کمنٹری جلد اوّل کا ترجمہ ہو گیا ہے نظر ثانی ہو رہی ہے۔

ٹرکش ڈیسک

بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کچھ کتابیں شائع کی ہیں۔

انڈونیشین ڈیسک

میں بھی اللہ کے فضل سے کام ہو رہا ہے۔ یہ بھی کام کر رہے ہیں لٹریچر شائع ہو رہا ہے۔

فارسی ڈیسک

ہے۔ اس میں بھی ترجمے کا کام ہو رہا ہے کتب کا بھی اور قرآن شریف کا بھی۔

چینی ڈیسک

ہے۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا کام ہو رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی اور حضرت مصلح موعودؓ کی بھی بعض کتب ترجمہ ہو کے جلدی شائع ہو جائیں گی۔

سواحیلی ڈیسک

ہے۔یہ بھی قرآن کریم کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ ریویژن ہو چکی ہے، شائع ہو جائے گا۔ اسی طرح حضرت مصلح موعود ؓکی کتب ہیں اور میرے جو مختلف خطبات ہیں ان کا ترجمہ ہوا ہے۔

سپینش ڈیسک

ہے یہ بھی اپنا کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا کر رہے ہیں۔

الاسلام ویب سائٹ

ہے۔ اس میں قرآن کریم سرچ انجن میں سویڈش ترجمے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح اذان کے اوقات اور قبلہ کی سمت دیکھنے کے لیے موبائل ایپ کا اجراء ہوا ہے۔ آواز کی مدد سے قرآنی آیات کی تلاش کے لیے نئی آیات سرچ ایپ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی ڈیجیٹل لائبریری میں اردو اور انگریزی کی پندرہ سوکتب کے سرچ انجن کا اجرا کیا گیا ہے۔ روحانی خزائن کی پچاس کتب کی فہرست مضامین کا انگریزی ترجمہ کتب کے ساتھ کراس ریفرنس کا اضافہ کیا گیا ہے۔ روحانی خزائن عربی کا نئی ڈیجیٹل لائبریری میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 31؍انگریزی ای بکس الاسلام ویب سائٹ پہ ڈالی گئی ہیں۔ اس طرح اب ان ای بُکس کی انگریزی میں کل تعداد 221؍ ہوگئی ہے اور اللہ کے فضل سے یہ مزید کام کر رہے ہیں۔

مرکزی شعبہ آئی ٹی

یہ لوگ بھی اچھا کام کر رہے ہیں۔ 35؍مرکزی شعبہ جات کو آئی ٹی سروس مہیا کر رہا ہے۔

تحریک وقف نو

اللہ تعالیٰ کے فضل سے واقفین نو کی کل تعداد 85؍ہزار 489؍ہے۔49؍ہزار668؍لڑکے اور 35؍ہزار 621؍لڑکیاں ہیں۔ اس سال 3؍ہزار 274؍درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن پہ کارروائی ہو رہی ہے۔ کچھ منظوریاں بھجوائی گئیں۔ پندرہ سال سے زائد عمر کے واقفین نو کی تعداد 44ہزار 670 ہے۔ اور اس میں مختلف شعبوں میں، مختلف یونیورسٹیوں میں، سکولوں میں واقفین نو بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سہ ماہی رسالہ ’’اسماعیل‘‘ لڑکوں کے لیے اور ’’مریم‘‘ لڑکیوں کے لیے جاری ہے۔ یو کے کے علاوہ انڈیا، جرمنی، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش میں یہ رسالے شائع ہو رہے ہیں۔

لیف لیٹس اور فلائرز کی تقسیم

جو ہے اس میں

109؍ ممالک میں مجموعی طور پر 80؍لاکھ 16؍ہزار سے زائد لیف لیٹس تقسیم ہوئے۔ 2؍کروڑ 55؍لاکھ سے زائد افراد تک پیغام پہنچا۔

لیف لیٹس کی تقسیم میں یو کے نمبر ایک ہے۔اس میں 14؍لاکھ 91؍ہزار، جرمنی 14؍لاکھ 85؍ہزار پھر فرانس ہے، ہالینڈ ہے، بیلجیم ہے، ڈنمارک، پرتگال ہیں، سویڈن ہے، آسٹریا ہے۔ افریقہ کے بعض ممالک ہیں۔ امریکہ، کینیڈا اور امریکن بلاک کے دیگر ممالک ہیں انہوں نے بھی 12؍لاکھ 88؍ہزار سے زائد لیف لیٹس تقسیم کیے۔آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فارایسٹ کے ممالک میں آٹھ لاکھ سے زائد تقسیم ہوئے۔ انڈیا، بنگلہ دیش، جاپان اور دیگر ایشیائی ممالک میں تین لاکھ سے زائد۔

شعبہ مخزن تصاویر

کے تحت بھی اچھا کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے تصویری تاریخ جو ہے وہ کافی جمع کر لی ہے۔

احمدیہ آرکائیو اینڈ ریسرچ سینٹر

بھی کام کر رہا ہے۔ انہوں نے جماعت کا کافی ریکارڈ محفوظ کر لیا ہے اور اب ان کے پاس اچھا مواد جمع ہوگیا ہے۔

الفضل انٹرنیشنل

کو اس سال 310؍شمارے شائع کرنے کی توفیق ملی۔ اس میں خطبات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے میرے 52؍خطبات اور 14؍خطابات شائع کیے۔ بچوں کے اردو اخبار کی کمی پوری کرنے کے لیے

بچوں کا الفضل

بھی اب شائع کیا جاتا ہے۔

ان کی رپورٹ یہ ہے کہ الفضل کی ویب سائٹ، ٹوئٹر اور فیس بک وغیرہ کے ذریعہ

3؍کروڑ 48؍لاکھ سے زائد لوگوں تک پیغام پہنچا۔

الحکم

انگریزی میں اخبار ہے۔ اس کے ویب سائٹ پر آنے والے قارئین کی تعداد دس لاکھ رہی ہے۔ اس میں غیرازجماعت بھی شامل ہیں۔ معلومات مہیا کی جاتی ہیں انہیں۔ اور اس سال یوم خلافت اور فلسطین کے متعلق الحکم پر شائع کیے جانے والے مضامین لوگوں کی توجہ کا مرکز رہے۔ فلسطین پر ایک مضمون ڈیڑھ لاکھ دفعہ پڑھا گیا۔ اسی طرح اور بہت سے اچھے مضامین ان میں شائع ہو رہے ہیں۔

ریویو آف ریلیجنز

جس کا اجراء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا تھا۔ اس رسالے کو اب 123؍سال ہو چکے ہیں۔ اور اس کی بھی ڈیجیٹل سبسکرپشن شروع کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کی کافی پذیرائی ہے اور دو سو سے زائد ممالک میں کئی ملین افراد تک اس کی رسائی ہے۔ اسی طرح گاڈ سمٹ (God Summit)انہوں نے کیا اس کو بھی کافی پذیر ائی ملی۔ اس ذریعہ سے بیعتیں بھی حاصل ہوئیں۔ اس کے علاوہ اَور بھی ان کے اچھے علمی مضامین ہوتے ہیں۔

پریس اینڈ میڈیا آفس

ہے۔ یہ لوگ بھی اچھا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس سال 190؍خبریں اور مضامین شائع کروائے۔

اس ذریعہ سے30؍ملین سے زائد لوگوں تک جماعت کا پیغام پہنچا۔

اس میں اچھے مشہور چینل بھی ہیں۔سکائی نیوز ہے، انڈیپینڈنٹ، آئی ٹی وی ہے، پھر ٹیلی گراف ہے، بی بی سی ہے، ایوننگ سٹینڈرڈ ہے، مِرر ہے، ڈیلی میل میٹرو، فنانشل ٹائم، ایکسپریس، لندن ورلڈ، یاہو نیوز، بی بی سی ریڈیو وغیرہ یہ شامل ہیں۔ اور ان کی پوسٹیں بھی شیئر کی جاتی ہیں اس سےکئی ملین تک پھر آگے پیغام پہنچتا ہے۔

ایم ٹی اے انٹرنیشنل

کے سولہ ڈیپارٹمنٹ ہیں یہاں 555؍کارکنان رات دن خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے 299؍مرد اور176؍خواتین۔ تووالنٹیئرکام کر رہے ہیں۔ یہ 299؍ اور 176؍ تو والنٹیئر کام کرنے والے ہیں۔

ایم ٹی اے کے ذریعے سے آٹھ چینل پر چوبیس گھنٹے کی مستقل نشریات جاری ہیں

جن کو آپ دیکھیں جب ایم ٹی اے کی ایپ کھولتے ہیں تو وہاں آپ کو نظر آ جاتا ہے۔ یہ چینلز گیارہ سیٹلائٹس کے ذریعہ دنیا کے تمام کناروں تک پیغام پہنچا رہے ہیں۔ افریقہ میں دو لوکل سیٹلائٹ چینل ایم ٹی اے گھانا اور ایم ٹی اے گیمبیا بھی جاری ہیں۔ اسی طرح ایم ٹی اے کے زیر انتظام ٹرسٹیئل چینلز جو بغیر کسی ڈش انٹینا کے دیکھے جا سکتے ہیں سرینام اور بیلیز میں جاری ہیں۔ ایم ٹی اے پر اس وقت چوبیس مختلف زبانوں میں رواں تراجم نشر کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح گھانا سٹوڈیو کی خاصیت یہ ہے کہ اس سال اسے مکمل طور پر سولر انرجی پہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ پہلا سٹوڈیو ہے جو سولر انرجی پہ کام کر رہا ہے اور اب یہ گھانا میں ملک کا جدید ترین اسٹوڈیو شمار کیا جاتا ہے۔ اس طرح اللہ کے فضل سے بڑا اچھا کام کر رہا ہے۔

ایم ٹی اے افریقہ

میں نے بتایا ہے اس کی مختلف برانچیں ہیں۔ ان کی برانچز کی تعداد چودہ ہو چکی ہے۔ جن میں سواحیلی، ہاؤسا،یوروبا، شوئی، فرنچ اور انگریزی میں 1200؍نئے پروگرام انہوں نے دیے۔ اسی طرح اَور بہت سارے پروگرام یہ شائع کر رہے ہیں، براڈ کاسٹ کر رہے ہیں۔

افریقہ کے احمدیہ ریڈیو اسٹیشنز

جو ہیں ان کی تعداد 27؍ہے۔ اس میں مالی میں سب سے زیادہ پندرہ ہیں۔ پھر برکینا فاسو میں، سیرالیون میں اس کے علاوہ گیمبیا، کونگوکنشاسا، نائیجیریا، تنزانیہ میں کام کر رہے ہیں ریڈیو اور کئی لاکھ افراد تک اس ذریعے سے پیغام پہنچ رہا ہے۔

یورپ کے اسٹیشنز

میں جرمنی میں قائم عربی ریڈیو اسٹیشن کا نام الاحمدیہ صوت الاسلام ہے۔ترک ریڈیو اسٹیشن کا نام صدائے اسلام احمدیت ہے۔ اسی طرح جرمن ریڈیو اسٹیشن کا وائس آف اسلام ہے۔ دوران سال ان تینوں ریڈیو سٹیشن پر 267؍گھنٹوں پر مشتمل 267؍پروگرام نشر ہوئے۔

وائس آف اسلام یو کے

ریڈیو اسٹیشن ہے۔ یہ 12؍شہروں میں سنا جا سکتا ہے۔ نیز آن لائن نشریات دنیا بھر میں سنی جا سکتی ہیں۔ دوران سال دو مزید شہروں لزبن اور بیلفاسٹ میں اس کی نشریات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے دوران سال 8؍ہزار760؍گھنٹوں پر مشتمل پروگرام نشر کیے اور کئی کروڑ تک ان کا پیغام پہنچا۔

اس کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک کے ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشن ہیں۔

73؍ممالک میں یہ ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشن ایم ٹی اے کے علاوہ کام کر رہے ہیں

اور اس میں بھی ہزاروں کی تعداد میں پروگرام دیے گئے مختلف ٹی وی اسٹیشنوں پر انہوں نے دکھائے اور اس کا بڑا اچھا اثر ہوا۔

65؍ممالک کے اخبارات میں جماعتی خبریں اور مضامین شائع ہوئے جن کی مجموعی تعداد 3؍ہزار 448؍ہے۔

3؍ ہزار 448؍ اخبارات رسائل نے جماعتی مضامین، آرٹیکلز اور خبریں شائع کیں اور ان کے پڑھنے والوں کی مجموعی تعداد اٹھارہ کروڑ سے زائد ہے۔ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹیکٹس

یہ بھی اچھا کام کر رہے ہیں۔ ہینڈ پمپ اور سولر انرجی اور ماڈل ولیج وغیرہ بنا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کا اچھا کام ہو رہا ہے۔

مرکزی شعبہ اے ایم جے

کے تحت مختلف ممالک کےتعمیراتی پراجیکٹس پہ کام ہو رہا ہے۔

مجلس نصرت جہاں

کے تحت افریقہ کے 13؍ممالک میں چالیس ہسپتال اور کلینک قائم ہیں۔ 36؍مرکزی ڈاکٹر 53؍لوکل اور 74؍وزٹنگ ڈاکٹر خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ گذشتہ سال پانچ لاکھ سے زائد مریضوں کے علاج معالجہ کی سہولت مہیا کی گئی۔ اسی طرح 9؍ممالک میں ہمارے 620؍پرائمری اورمڈل سکول ہیں۔

13؍ممالک میں 620؍پرائمری اور مڈل سکول ہیں اور نو9؍ممالک میں 80؍سیکنڈری سکول ہیں۔

ان میں بھی مرکزی اور لوکل اساتذہ کام کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کا بڑا اچھا رزلٹ ہے۔

نصرت جہاں بورڈ

کا قیام یہاں یو کے میں بھی کر دیا گیا ہے جو یہاں مرکزی طور پر سارے جائزے لے کر یہاں سے مشینری اور مختلف سامان وغیرہ مختلف ملکوں میں بھجواتے ہیں اور ہسپتالوں کے لیے کئی لاکھ پاؤنڈز کا سامان یہاں سے غریب ملکوں میں بھجوایا جا رہا ہے۔

فری میڈیکل کیمپس

ہو رہے ہیں

چالیس ممالک میں 2530؍ فری میڈیکل کیمپس کے ذریعے 2؍لاکھ 69؍ہزار سے زائد لوگ مریضوں کو مفت ادویات تقسیم کی گئیں۔

آنکھوں کے فری آپریشن کیے گئے اور برونڈی، کینیا، گنی بساؤ،مالی، نائیجیریا، سیرالیون، تنزانیہ، یوگنڈا، ٹوگو، انڈیا، نیپال میں 1725؍فری آپریشن کیے گئے۔ اب تک 23؍ہزار سے زائد افراد کے فری آپریشن ہو چکے ہیں۔ خون کا عطیہ ہے اس کے ذریعے سے بھی مدد کی جا رہی ہے۔

ہیومینٹی فرسٹ

ہے یہ بھی 66؍ممالک میں رجسٹر ہو چکی ہے اور اس کے تحت بھی

دوران سال آٹھ لاکھ بیاسی ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا۔

بینن اور ٹوگو میں موبائل آئی کلینک کام کر رہے ہیں۔

27؍ممالک میں جو جنگی حالات ہیں یا قدرتی آفات جو ہیں اس سے متاثرہ ایک لاکھ 82؍ہزار افراد کی امداد کی گئی۔

غزہ جنگ کے متاثرین کے لیے ہیومینٹی فرسٹ کی ٹیم گذشتہ اکیس ماہ سے مسلسل خدمت کر رہی ہے۔ اب تک

پانچ لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی مدد کی گئی ہے۔

ہیومینٹی فرسٹ کے تحت100؍سکول قائم ہیں۔ ووکیشنل سکول بھی ان میں شامل ہیں۔ اسی طرح قربانی کا گوشت بھی یہاں تقسیم کیا جاتا ہے، پانی کے لیے سہولت مہیا کی جاتی ہے۔

چیریٹی واک

کا بھی دنیا کے مختلف ممالک میں اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے بھی اس کے مختلف پروگرام ہوتے ہیں اور اس کے ذریعے سے بھی

15؍لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم جمع کر کے فلاحی اداروں میں چیریٹی میں تقسیم کی گئی۔

مجلس انصار اللہ یو کے کے تحت چیریٹی واک ہو رہی ہے۔ یہ بھی یہاں پچاس مختلف چیریٹی اور فلاحی اداروں میں اپنی رقم تقسیم کرتے ہیں۔ انہوں نے بھی کافی بڑی رقم کئی لاکھ پاؤنڈ جمع کیے اور چیرٹیز میں تقسیم کیے۔

قیدیوں سے رابطہ اور ان کی خبر گیری

کا انتظام بھی ہو رہا ہے۔

نومبائعین سے رابطہ بحالی

کی رپورٹ یہ ہے کہ دوران سال

75؍ممالک میں کل 32؍ہزار 627؍ نو مبائعین سے رابطہ بحال ہوا۔

اور ان کا رابطہ ختم ہو چکا تھا۔ ان میں زیادہ تر افریقہ کے ممالک ہی ہیں۔

نومبائعین کے لیے تربیتی کلاسز ریفریشر کورسز کا انعقاد

ہو رہا ہے اور94؍ممالک سے موصولہ رپورٹس کے مطابق

23؍ہزار 429؍تربیتی کلاسز، تعلیمی کلاسز، ریفریشر کورسز کا انعقاد ہوا۔ ان میں شاملین کی تعداد ایک لاکھ 37؍ہزار ہے۔

اس کے علاوہ

ایک ہزار 281؍اماموں کو ٹریننگ

بھی دی گئی جو امام بیعت کر کے شامل ہوئے۔

اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک بیعتوں کی تعداد 2 لاکھ 49؍ ہزار 408؍ہے۔

افریقہ میں بہت جگہوں پہ فساد اور فتنہ ہے اور دہشت گردوں کا کنٹرول ہے اور تبلیغی کام اس طرح نہیں ہو سکا لیکن ان نامساعد حالات کے باوجود اللہ کے فضل سے ان ممالک میں گذشتہ سال سے دس ہزار سے اوپر بیعتیں ہیں اور

111؍ممالک سے تقریباً پانچ سو سے زائد اقوام احمدیت میں داخل ہوئی ہیں۔

اس میں اس سال جو سب سے زیادہ بیعتیں ہیں وہ کونگو برازاویل کی ہیں۔پھر نائیجیریا کی، پھر گنی بساؤ کی اور اس کے علاوہ پھر اَور ممالک شامل ہیں۔ ان میں ہزاروں میں بیعتیں ہیں۔ براعظم ایشیا میں انڈیا میں زیادہ ہیں، پھر انڈونیشیا ہے، بنگلہ دیش ہے۔ اس کے علاوہ عرب ممالک میں بھی بیعتیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو رہی ہیں جن میں سیریا، کبابیر، اردن ہیں۔ اسی طرح دوسرے متفرق ممالک میںملائیشیا، سری لنکا ہے، قازقستان ہے، قرغیزستان ہے، کمبوڈیا، ترکی ہیں۔ ان ملکوں میں اللہ کے فضل سے بیعتیں ہوئی ہیں۔ یورپ کے بعض ممالک میں بیلجیم، فرانس وغیرہ میں، جرمنی میں، یو کے میں بھی اللہ کے فضل سے اس سال زیادہ بیعتیں ہوئی ہیں۔

(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button