حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعت احمدیہ بیلجیم کےواقفینِ نَو پرمشتمل ایک وفد کی ملاقات

یہ تو مَیں عرصے سے جماعت کو کہہ رہا ہوں کہ جب جنگ ہوگی اور دنیا میں ایک تباہی آئے گی تو اس کے بعد پھر لوگ پوچھیں گے اور پتا کریں گے۔ اس لیے اس سے پہلے ہی تم لوگ لوگوں کو تعارف کرانا شروع کر دو کہ جماعت احمدیہ اور اسلام کی تعلیم کیا ہے اور اسلام کی تعلیم سے ہی تم لوگوں کی دنیا میں بچت ہے اور دنیا میں اسی نظام سے فائدہ ہوگا۔ اس لیے تم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف آؤ

مورخہ ۳۱؍ مئی ۲۰۲۶ء، بروز اتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعت احمدیہ بیلجیم سے تعلق رکھنے والے واقفینِ نو پر مشتمل تینتیس (۳۳) رکنی ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ انتظامیہ کے دو احباب بھی اس ملاقات میں شامل تھے۔ یہ بابرکت ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے بیلجیم سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

بعدازاں تمام شاملین مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

دورانِ تعارف حضورِ انور نے ایک واقف نو سے اس کی مستقبل کی خواہش کے بارے میں دریافت فرمایا کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے؟

اس پر واقف نو نے عرض کیا کہ وہ ایک جج بننا چاہتا ہے۔

واقف نو کی یہ خواہش سماعت فرما کر حضورِ انورنے نہایت شفقت و محبّت کے ساتھ فرمایا کہ جج بننا ہے۔ اچھی بات ہے۔ پھر انصاف کرنا۔ لوگوں کے حق میں صحیح فیصلے کرنا۔

ایک واقف نو نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ وہ سیاستدان بننا چاہتا ہے۔

اس پر حضورِ انور نے انتہائی مشفقانہ انداز میں فرمایا کہ اچھا! جھوٹ نہ بولنا۔ سیاستدان تم بیشک بن جاؤ۔ سیاستدان جھوٹ بڑا بولتے ہیں۔ سچ کی خاطر لڑنا ہے اور ہر ایک کو سچائی کا پیغام دینا ہے پھر تو تم سیاستدان بن جاؤ۔

اسی طرح حضورِ انور نے فرمایا کہ اس سے بہتر ہے کہ تم گورنمنٹ سروس بیورو کریسی میں جاؤ۔ پولیٹکس میں بھی بعد میں آپ آ جاؤ گے۔ پولیٹیشنز کو کنٹرول کرنے کے لیے بہتر ہے کہ سول سروس جو گورنمنٹ سروس مختلف منسٹریز کی ہوتی ہے، اس کے لیے پڑھائی کرنے کی کوشش کرو اوراس کا امتحان دو۔

دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک واقف نو نے سوال کیا کہ سائنٹسٹ بن کے جماعت کی کیسے خدمت کی جا سکتی ہے؟

اس پر حضورِ انور نے سائنسدان بن کر انسانیت کی خدمت اور جماعت کے تعارف کے عملی مواقع پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے راہنمائی فرمائی کہ سائنٹسٹ بنو، پھر کوئی ایسی اچھی چیز ایجاد کرو جس سے جماعت کو بھی فائدہ ہو اور دنیا کو بھی فائدہ ہو۔ سائنٹسٹ بن کے کوئی تم انسانیت کے لیے کام کرو گے تو اس سے پھر لوگوں کو پتا لگے گا کہ تم احمدی ہو اور جب احمدیت کا پتا لگے گا تو اس سے تمہیں تبلیغ کا رستہ بھی کھلے گا۔ وہی تمہاری جماعت کی خدمت ہے۔ انسانیت کی خدمت کر لو وہی جماعت کی خدمت ہے۔

ایک واقف نو نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ آج کل اے ڈی ایچ ڈی (ADHD) اور توجہ مرکوز کرنے کے مسائل عام طور پر بہت سے لوگوں میں دیکھے جاتے ہیں، اس ضمن میں آپ کی کیا نصیحت ہے؟

اس پر حضورِ انور نے اے ڈی ایچ ڈی کے بارے میں عمومی تشخیص کے بڑھتے ہوئے رجحان اور بچوں کی فطری کیفیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ذرا سا کوئی بچہ ہائپر ہو جائےاور سائیکائٹرسٹ کے پاس چلے جاؤتو وہ کہتے ہیں کہ اسے اے ڈی ایچ ڈی ہو گیا یا autistic ہو گیا یا فلاں ہو گیا۔ سائیکائٹرسٹ اس طرح کی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ نیز اس اَمر پر زور دیا کہ یہ نارمل بچے ہوتے ہیں،activeبھی ہوتے ہیں، اس لیے ماں باپ کو ایسےبچوں کو نارمل سکولوں میں داخل کرانا چاہیے اور ان کو پڑھنے کا موقع دینا چاہیے اور تمہیں فکر نہیں کرنی چاہیے۔

اسی طرح حضور انور نے ابتدائی غلط تشخیص اور اس کے بعد کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ بعد میں جا کے بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تو بچپن میں پتا نہیں لگا، بچے بڑے ہو گئے، تب ڈاکٹر ہمیں کہتا ہے کہ تمہیں تو اے ڈی ایچ ڈی یا تمہیں فلاں چیز تھی۔ ڈاکٹروں نے اپنا صرف پیسے کمانے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔

پھر حضورِ انور نے مختلف معاشروں میں اس مسئلے کی حقیقت اور بچوں کی فطری نشوونما کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بیان فرمایا: تو بچے ہائپر ہوتے ہیں، کوئی بات نہیں، پاکستان میں یا دوسرے غریب ملکوں میں تو پتا بھی نہیں لگتا کہ بچےہائپر ہو رہے ہیں۔ اور پڑھ لکھ بھی جاتے ہیں، انجنیئر بھی بن جاتے ہیں، ڈاکٹر بھی بن جاتے ہیں، سب کچھ ہوتا ہے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے غیر ضروری لیبلنگ اور اس کے پھیلاؤ کے رجحان کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا، تو یہاں یونہی ماں باپ کو پریشان کرنے کے لیے اے ڈی ایچ ڈی ،اے ڈی ایچ ڈی کہتے رہتے ہیں۔ کوئی ایک آدھا مریض ہوتا ہے، سو میں سے دس مریض ہوتے ہوں گے اور نوّے کو ڈاکٹر یونہی کہہ دیتے ہیں کہ تمہیں اے ڈی ایچ ڈی ہے، تو پریشان نہ ہو۔

[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ ADHD (Attention Deficit Hyperactivity Disorder) یعنی توجہ کی کمی اور ضرورت سے زیادہ متحرک رہنے کی کیفیت ایک ایسی حالت ہے کہ جس میں انسان کی توجہ برقرار رکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، اور بعض اوقات بےچینی اور فوری ردّعمل دینے کا رجحان بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت میں بعض افراد کو ایک کام پر دیر تک توجہ قائم رکھنا مشکل ہوتا ہےوہ جلدی دھیان بٹا لیتے ہیں، کام مکمل کرنے میں تاخیر یا بھول چوک ہو سکتی ہے، اور بعض اوقات غیر معمولی جسمانی بے چینی یا زیادہ متحرک رہنے کی کیفیت بھی محسوس ہو سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق اس کی وجوہات میں جینیاتی عوامل اور دماغی نیوروٹرانسمیٹرز کے نظام میں عدم توازن، خصوصاً ڈوپامین (Dopamine)، بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ماحول، پرورش، اور تعلیمی و نفسیاتی عوامل بھی جزوی طور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

یہ کوئی لاعلاج مسئلہ نہیں، بلکہ ایک قابلِ عمل انتظامی کیفیت ہے، جس میں مناسب راہنمائی، رویّے کی تربیت، تعلیمی معاونت اور بعض صورتوں میں طبّی مشورے کے ذریعے واضح بہتری ممکن ہے، اور متاثرہ افراد معمول کی زندگی مؤثر انداز میں گزار سکتے ہیں۔

یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ Autism (Autism Spectrum Disorder – ASD) اور ADHD (Attention Deficit Hyperactivity Disorder) دو الگ نفسیاتی و اعصابی حالتیں ہیں۔ اگرچہ بعض افراد میں یہ دونوں ایک ساتھ بھی پائی جا سکتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں Autismمیں سماجی روابط اور رویّے کے انداز زیادہ متاثر ہوتے ہیں جبکہ ADHDمیں توجہ برقرار رکھنے، نظم و ضبط اور خود کنٹرول کی صلاحیت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ ]

ایک واقفِ نَو نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ وہ شرک کے علاوہ تمام گناہ معاف کرتا ہے، نیزاس ضمن میں راہنمائی کی درخواست کرتے ہوئے دریافت کیاکہ بہت بڑے گناہ جیسے کسی کا قتل وغیرہ کیوں معاف ہو سکتے ہیں جبکہ شرک معاف نہیں ہوتا؟

اس پر حضورِ انور نے شرک کے مفہوم اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پھر ان سے اگلے جہان جا کے کہتا ہے، کیونکہ وہ میرے مقابلے پر آئے تھے؟ تو قاتل جو ہے وہ بھی بعض دفعہ شرک کر رہا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ مَیں کسی کو مار بھی سکتا ہوں اور زندہ بھی رکھ سکتا ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں جو بادشاہ آیا تھا، اس نے بھی یہی کہا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم کہتے ہو کہ مَیں اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر آیا ہوا ہوںاس لیے اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر اگر آؤگے تو پھر ٹھیک ہے کہ مَیں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔

اسی طرح حضورِ انور نے قتل جیسے بڑے گناہ کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت، توبہ کی قبولیت اور انجام کے اصول کو ایک ایمان افروز مثال کے ذریعے واضح فرمایا کہ باقی دوسرے گناہ جو ہیں، قتل بھی ہے، اگر انسان معافی مانگ لے تو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔ ایک شخص تھا اس نے ۹۹؍قتل کر دیے، پھر اس کو خیال آیا کہ مَیں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگوں، وہ معافی مانگنے کے لیے ایک بزرگ کے پاس گیا کہ کس طرح معافی مانگوں؟ انہوں نے کہا کہ تم نے تو اتنے قتل کر دیے، تم معاف نہیں ہو سکتے، تو اِس نے اُس کو بھی قتل کر دیا۔ ۹۹؍سے سو(۱۰۰)پورے ہو گئے۔ اس کے بعد پھر اس نے بخشش کا ذریعہ ایک بزرگ سے پوچھا۔ اس نے کہا کہ ہاں! فلاں جگہ ایک بزرگ ہے۔ اس کے پاس جاؤ تو وہ تمہیں راستہ بخشش کا بتا دے گا۔ تو وہ جا رہا تھا تو راستے میں ہی وہ مَر گیا۔ جب مَر گیا، تو پھر دوزخ کے فرشتے جو جہنّم میں لے جانے والے تھے وہ بھی آگئے اور جنہوں نے جنّت میں لے جانا تھا وہ بھی آگئے۔ انہوں نے آپس میں بحث شروع کر دی، جنّت والا کہہ رہا تھا کیونکہ یہ نیکی کرنے کی طرف جا رہا تھا، اپنے گناہ معاف کرنے کی سوچ رکھتا تھا اور اللہ تعالیٰ کا خوف اس کے دل میں پیدا ہوا، اس لیے مَیں اس کو جنّت میں لے کے جاؤں گا۔ دوزخ والا کہتا کہ نہیں، اس نے سو قتل کر دیے ہیں، اس کو مَیں دوزخ میں لے کے جاؤں گا۔ آخر فیصلہ ہوا کہ فاصلہ ناپا جائے۔ جب فاصلے ناپنے لگے کہ جنّت کی طرف زیادہ قریب ہے یا دوزخ کی طرف تو اللہ تعالیٰ نے ایسی حکمت کی کہ جو فاصلہ اس نے اللہ کی معافی کی طرف آنے کا طے کر لیا تھا،، وہ معافی کافاصلہ زیادہ قریب تھا۔ تو فیصلہ ہوا کہ وہ جنّت میں چلا جائے گا۔

پھر حضورِ انور نےاللہ تعالیٰ کی صفات، معافی اور جزا و سزا کے عمومی اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر تم قتل کرنے کے بعد معافی مانگ رہے ہو تو مَیں تمہیں معاف کر دوں گا۔ لیکن شرک کرنے والا جو ہے وہ آخر وقت تک مشرک ہی رہتا ہے، لیکن اگر ایک ایسا شخص جو آخری وقت میں مشرک بھی ہو، معافی مانگ لے تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی معاف کر دیتا ہے۔ لیکن سزا اگر کسی کو دینی ہے تو اللہ تعالیٰ تھوڑی بہت سزا تو ہر ایک کو دیتا ہے۔ اگر کوئی معافی نہیں بھی مانگتا، لیکن اس نے کوئی نیکیاں بھی اگر کی ہوئی ہیں، تو پھر اللہ تعالیٰ ان نیکیوں کا اجر بھی دیتا ہے اور اس کے گناہوں کا وزن کم کر دیتا ہے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نےاللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور انسان کے انجام کےحتمی اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بہرحال قاتل اگر معافی نہیں مانگ رہا تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی سزا دے گا۔ اگر وہ معافی مانگ رہا ہے تو اللہ تعالیٰ رحمٰن بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت بھی ہے، معاف کرنے والا بھی ہے۔ تو جب معاف کرنے والا بھی ہے، رحمانیت کا جذبہ بھی ہےتو اللہ تعالیٰ اس صفت کو استعمال کرتا ہے اور ان کو معاف کر دیتا ہے۔ اور جو بالکل قاتل ہے جو ظلم کرنے والے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرتا۔ ویسے تو ایک وقت میں ایسا آئے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا کہ جہنّم خالی ہو جائے گی۔ سزائیں بھگت کے لوگ جنّت میں چلے جائیں گے۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ: ایک وقت آئے گا کہ جب دنیا ایک نئے نظام کو تلاش کرے گی، تو اس وقت جماعتِ احمدیہ دنیا کو نظامِ نَو دے گی، آجکل دنیا کے حالات سے لگ رہا ہے کہ دنیا ایک عالمی جنگ کی طرف جا رہی ہے۔ پیارے حضور! میرا سوال ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ اگر یہ جنگ ہوئی تو اس کے بعد نظامِ نَو قائم ہو؟

اس پر حضورِ انور نے موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں جماعت احمدیہ کی ذمہ داری اور اس کے اصل کردار کی وضاحت فرماتے ہوئے یاد دلایا کہ یہ تو مَیں عرصے سے جماعت کو کہہ رہا ہوں کہ جب جنگ ہوگی اور دنیا میں ایک تباہی آئے گی تو اس کے بعد پھر لوگ پوچھیں گے اور پتا کریں گے۔ اس لیے اس سے پہلے ہی تم لوگ لوگوں کو تعارف کرانا شروع کر دو کہ جماعت احمدیہ اور اسلام کی تعلیم کیا ہے اور اسلام کی تعلیم سے ہی تم لوگوں کی دنیا میں بچت ہے اور دنیا میں اسی نظام سے فائدہ ہوگا۔ اس لیے تم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف آؤ۔

اسی طرح حضورِ انور نے مختلف عالمی نظاموں کے تجربات اور اسلامی تعلیمات پر مبنی نظام کی افادیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ جب لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف آئیں گے اور جماعت احمدیہ نظام پیش کرے گی، تو وہ نظام نَوہوگا۔ مَیں نے ایک دو دفعہ تقریروں میں بھی یہی کہا ہوا ہے کہ آپ لوگوں نے سوشلزم بھی دیکھ لیا، کمیونزم بھی دیکھ لیا، کیپٹلزم بھی دیکھ لیا، لیکن ہر جگہ فساد ہی نظر آتا ہے۔ جو اسلام کا صحیح نظام ہے اب اس کو بھی اختیار کر کے دیکھوتو تمہیں پتا لگے کہ اسلام کا صحیح نظام غریبوں کی بہتری کا بھی اور یتیموں کی بہتری کا بھی اور بیواؤں کی بہتری کا بھی اور دنیا کی معاشی حالت کی بھی ضمانت دیتا ہے۔

پھر اسی تناظر میں جواب کے آخر میں حضورِ انور نے نظام نَو کےتعارف اور پیشگی تبلیغی مساعی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تو اگر تم لوگ ابھی سے لوگوں کو بتاتے رہوکہ اسلام کا اقتصادی نظام جو ہے وہ کیا ہے اور اسلام کا روحانی سسٹم جو ہے وہ کیا ہے۔ ان دونوں پر چلو گے تو تمہاری بچت ہے، نہیں تو نہیں۔ پھر جب لوگ بچ جائیں گے تو ان کو تبلیغ کر کے بتانا کہ اب اس نظام کی طرف آ جاؤ، دوسرے نظام دیکھ کے تم نے تباہی کر لی، اب اس طرف آ جاؤ۔

جج بننے کی خواہش رکھنے والے واقف نو کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں ایک سوال پیش کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔ واقف نو نے عرض کیا کہ جب نماز کے دوران ہم سے کوئی غلطی ہو جائےتو دیکھا گیا ہے کہ سجدہ سہو یعنی دو سجدے کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے پیچھے کیا حکمت ہے؟

اس پر حضورِ انور نے سجدہ سہو کی بنیادی حکمت بیان کرتے ہوئے غلطی کی تلافی اور اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ غلطی ہو جائے تو دو سجدے کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتے ہیں کہ غلطی ہو گئی۔ ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ تمہیں غلطی ہو سکتی ہے،تو غلطی کا مداوا یہ ہے کہ تم دو سجدے کرو اور نماز میں جو غلطی ہو گئی ہے، اللہ تعالیٰ سے کہو کہ ہمارے سے غلطی ہو گئی، ہمیں معاف کر دے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے ایک مرتبہ پھر واقف نو کی فہم کے مطابق دلنشین پیرائے میں اس عبادتی عمل کی سادہ عملی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بس! غلطی ہونے کی حکمت یہی ہے۔ کچھ نہ کچھ تو کرنا چاہیے۔ تمہارے سے کوئی غلطی ہو جائےتو تم ٹیچر کو کہتے ہو کہ sorryغلطی ہو گئی۔ تو دو سجدے sorry ہے۔

ایک سائل نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ احادیث میں آتا ہے کہ حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی کے دن قربانی سے پہلے کچھ نہیں کھاتے تھے۔ اس ضمن میں راہنمائی کی درخواست کی کہ عید کے دن روزہ رکھنے کی اجازت نہیں ہےتو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی سے پہلے کچھ نہ کھانے سے کیا مراد ہے؟

اس پر حضورِ انور نے روزے کے حقیقی مفہوم اور عیدالاضحی کے روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معمول کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ روزہ کیا ہوتا ہے؟ روزہ تو یہ ہوتا ہے کہ صبح سحری کے وقت کھاؤ اور شام کو روزہ افطار کرو اور سارا دن بھوکے رہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت تھی کہ صبح عید کی نماز جلدی ہو جاتی تھی، عید الاضحی کی، بڑی عید کی، بکرا عید کی تواس کے بعد جو جانور ذبح کرتے تھے تو اس کے گوشت سے کھاتے تھے کہ اس میں برکت ہے اور یہ کہ یہ قربانی جو اللہ تعالیٰ کے حضور مَیں پیش کر رہا ہوں اس میں اتنا میرا فاقہ جو ایک رات کا ہے۔ رات کا مَیں نے کھانا کھایا ہواہے، اب مَیں توڑ رہا ہوں۔

حضورِ انور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معمول کی حقیقت واضح کرتے ہوئے روزے کے تصوّر کی نفی فرمائی کہ پانی تو پی لیتے تھے۔ کھاتے نہیں تھے، پانی تو پیتے تھے۔ روزہ تو نہیں تھا۔ یہ کہاں آیا ہے کہ پانی بھی نہیں پیتے تھے۔ پانی پیتے تھے۔ صرف کھانا نہیں کھاتے تھے۔ پکی ہوئی سخت غذا نہیں کھاتے تھے۔

جواب کےآخر میں حضورِ انور نے اس سُنّتِ مبارکہ کی حکمت اور روحانی پہلو کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں یہ سُنّت تھی کہ جو مَیں قربانی کر رہا ہوں، اسی میں سے کھاؤں تاکہ اس کی برکت پہلے مجھے بھی حاصل ہو، یہ حکمت ہے۔

ایک واقفِ نَو نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ اچھی صحبت اختیار کرنی چاہیے۔ اچھی صحبت کی کیا پہچان ہے؟

اس پر حضورِ انور نے نیک اور صالح لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے راہنمائی عطا فرمائی کہ اچھی صحبت یہ ہے کہ تمہارے دوست اچھے ہوں۔ جہاں تمہیں نیک باتوں کی تلقین کی جاتی ہے۔ تمہارے بزرگ تمہیں کہتے ہیں کہ نمازیں پڑھو، نیک کام کرو، شرارتیں کم کرو، لوگوں سے ماردھاڑ نہ کرو، اچھے اخلاق دکھاؤ۔ ایسی نصیحت کرنے والے لوگ ایسے ہیں جو اچھی صحبت والے لوگ ہیں۔

حضورِ انور نے بُری عادات اور ناپسندیدہ رویّے رکھنے والے افراد کی صحبت سے اجتناب برتنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ دوسری اچھی صحبت یہ ہے کہ تمہارے جو دوست ہیں، وہ کوئی نشہ کر رہا ہے، کوئی ویپنگ کر رہا ہے یا کوئی غلط قسم کی فلمیں دیکھ رہا ہے یا سموکنگ کر رہا ہے یا ایسا لڑکا لڑائی مار دھاڑ کر رہا ہے، تو ان کی صحبت نہ اختیار کرو، ان کو اپنے دوست نہ بناؤ اور ان سے بچ کے رہو۔

پھر حضورِ انور نے دوستی میں اخلاصِ نیت اور مفاد پرستی کے فرق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پھر یہ دیکھو ان میں ایمانداری بھی ہے؟ ان میں تمہارے سے خلوص بھی ہے؟ اگر تمہارے پاس پیسے زیادہ ہیں، وہ تمہارے پیسے کے پیچھے چل کے یہ کہہ دیں کہ اچھا آؤ ذرا !آج ہمیں Nando’sکھلا لاؤاور جب تم Nando’sکھلا لاؤ گے تو وہ بڑے خوش ہوں گے اور تمہاری بڑی تعریف کریں گے کہ ہاں! ہمارابڑا اچھا دوست ہے۔ اور جس دن تمہارے ابّا تمہیں پیسے نہیں دیں گے یا تمہارے پاس جیب میں پیسے نہیں ہوں گےتو تم کہہ دو گے کہ آج نہیں میں کھلا سکتا تو وہ کہیں گے کہ تم بڑے کنجوس آدمی ہو، تم یہ ہو، وہ ہو، تمہیں بُرا بھلا کہہ دیں، تواس کا مطلب ہے کہ وہ اچھے دوست نہیں ہیں اوراچھی صحبت نہیں ہے۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہNando’s ایک بین الاقوامی ریسٹورنٹ چین ہے جو بنیادی طور پر پُرتگالی طرز کے پیری پیری (peri-peri) چکن کے لیے مشہور ہے۔ اس کی بنیاد ۱۹۸۷ءمیں جنوبی افریقہ میں رکھی گئی، اور آج یہ دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے مخصوص مصالحہ دار گرلڈ چکن اور غیر رسمی ڈائننگ سٹائل کی وجہ سے معروف ہے۔ ]

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اچھی اور بُری صحبت کےحوالے سے مجموعی معیار کو واضح کرتے ہوئے فرمایا، تو اچھی صحبت وہ ہے کہ اچھے دوست بناؤ۔ ایسے لوگ جو دنیاداری میں پڑے ہوئے ہیں، نشے میں پڑے ہوئے ہیں، غلط حرکتیں کرتے ہیں، لڑائیاں کرتے ہیں، غلط زبان استعمال کرتے ہیں، پڑھائی میں اچھے نہیں ہیں وہ اچھے دوست نہیں ہوسکتے۔ اور جو ان ساری چیزوں میں اچھے ہیں وہ اچھے دوست ہیں۔ اسی طرح جو تمہارے بڑے ہیں، وہ تمہیں اچھی باتوں میں نصیحت کرتے ہیں، وہ اچھی صحبت ہے۔

ایک واقف نو نے عرض کیا کہ مَیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے قرآنِ کریم حفظ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ آجکل پڑھائی کے بوجھ کی وجہ سے مجھے اس کوشش میں کچھ مشکل کا سامنا ہورہا ہے۔ پیارے حضور سے راہنمائی کی درخواست ہے کہ مَیں اپنے باقی کاموں کے ساتھ ساتھ قرآنِ کریم کو حفظ کرنے میں کیسے کامیاب ہو سکتا ہوں؟

اس پر حضورِ انور نے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت کی بابت سماعت فرما کر اچھا! ماشاء الله !کے دعائیہ کلمات سے اس کاوش کو سراہتے ہوئے امتحانی اور تعلیمی مصروفیات کے دوران ترجیحات اور توازن قائم رکھنے کی طرف توجہ دلائی کہ اگر پڑھائی کے امتحان ہو رہے ہیں تو ان دنوں میں تم نےجو پچھلا حفظ کیا ہوا ہے، اس کو دُہراتے رہو۔ بجائے آگے حفظ کرنے کے جو پچھلا ہے اسی کو دُہراؤ۔ نمازوں میں اسی کی تلاوت کر لیا کرو۔ اور آجکل زیادہ پڑھائی پر توجہ دو اور امتحان کی طرف توجہ دو۔ آجکل اس سیزن میں لوگوں کے عام طور پر امتحان ہو رہے ہوتے ہیں۔ جب امتحان ختم ہوجائیں تو پھر دوبارہ حفظ کرنا شروع کر دو۔

پھر حضورِ انور نے حفظِ قرآن اور رسمی تعلیم کے درمیان متوازن طرزِ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ دونوں کام ساتھ ساتھ کرنے ہیں۔ جو مدرسۃ الحفظ میں لوگ جاتے ہیں، وہ بچے پھر پڑھائی نہیں کرتے، وہ تین سال صرف حفظ کرتے ہیں۔ تم نے دونوں کام کرنے ہیں، اس لیے ان دنوں میں تم نےپُرانا جو یاد کیا ہے، اس کو نمازوں میں یا ویسے چلتے پھرتے دُہراتے رہو۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے آئندہ کے لیے عملی منصوبہ بندی اور ترجیحات کی ترتیب کی طرف راہنمائی فرماتے ہوئے اس نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ باقی پڑھائی کی طرف توجہ دو، اور آئندہ جو اگلا یاد کرنا ہے، وہ امتحانوں کے بعد چھٹیوں میں کر لینا۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورِ تبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ امریکہ کے مقامی اور گلف سٹیٹس ریجن سے تعلق رکھنے والے مجلس انصار اللہ کے احباب پرمشتمل ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button