حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ امریکہ کے مقامی اور گلف سٹیٹس ریجن سے تعلق رکھنے والے مجلس انصار اللہ کے احباب پرمشتمل ایک وفد کی ملاقات

اگر آپ کے پاس دینی علم ہو، تو ان (بچوں)کے سوال اتنے ہی ہوتے ہیں کہ آپ جواب دے سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ بچوں کو یہ کہہ دیا جائے کہ تم سوال نہ کرو، تویہ بھی غلط ہے، ان کے سوالوں کے جواب ہیں۔…تو ماں باپ کو بھی چاہیے اور انصار اللہ کو خاص طور پر کہ اپنا دینی علم بڑھائیں اور اس کے مطابق جواب دیا کریں

مورخہ ۹؍ مئی ۲۰۲۶ء، بروزہفتہ، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ امریکہ کےمقامی اور گلف سٹیٹس ریجن سے تعلق رکھنے والے مجلس انصار اللہ کے احباب کے پچیس(۲۵) رکنی ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےامریکہ سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

[قارئین کی معلومات کےلیے عرض ہے کہ قبل ازیں امریکہ کے گلف سٹیٹس ریجن کے انصار پر مشتمل ایک پندرہ(۱۵) رکنی وفد مورخہ۲۶؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو حضورِ انور سے ملاقات کی سعادت حاصل کر چکاہے، جس کی تفصیلی رپورٹ مورخہ۱۱؍ مئی ۲۰۲۶ء کے روزنامہ الفضل انٹرنیشنل کی اشاعت کی زینت بن چکی ہے، موجودہ ملاقات میں شامل انصار ان کے علاوہ ہیں۔]

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

بعدازاں تمام شاملینِ مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک سائل نے راہنمائی کے لیے درخواست کی کہ انصار عمر کے ساتھ سیکھنے کی صلاحیت میں کمی کا شکار ہوتے ہیں تاہم بعض انصار جو عمر بڑھنے کے باوجود اپنے علم میں اضافہ کر کے جماعت کی بہتر خدمت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، آپ ان کے لیے کیا تجویز کریں گے؟ نیز پچھلے چند سالوں میں علم کے مسلسل حصول میں کس چیز کو آپ نے سب سے زیادہ مفید پایا ہے؟

اس پر حضور ِانور نے عمر کے بڑھنے کے ساتھ یادداشت میں آنے والی کمی اور مسلسل ذہنی مشق کی اہمیت کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے فرمایا کہ مَیں اپنے آپ کو بوڑھانہیں سمجھتا۔یہ جو یاد کرنے کی صلاحیت ہے یا یاد رکھنے کی صلاحیت ہے، اس میں کمی ہو جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ جوانی میں یاد کرنے والے جو ہیں وہی باتیں ذہن میں رہتی ہیں۔ بڑھاپے میں آ کے تو پھر آدمی بھول جاتا ہے کہ کیا کیا تھا اور کیا نہیں کیا تھا۔ لیکن اگر مسلسل کوشش ہو، انسان چیزوں کو دُہراتا رہے تو یاد بھی رہتی ہیں۔

اسی طرح حضورِ انور نے علم کے مسلسل حصول کی اسلامی تعلیم اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ذہنی صلاحیتوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچپن سے لے کے،جب بچہcradle یعنی پنگھوڑے میں ہوتا ہے اس وقت سے لے کے قبر تک علم حاصل کرتے رہو۔ تو مقصد یہی تھا کہ علم حاصل کرنا چاہیے اور اس کو بڑھانا چاہیے۔ جب وہ کرتے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ صلاحیتیں بھی پیدا کرتا ہے، دماغ کو تیز کرتا رہتاہے، اگر چھوڑ دیں گے تو پھر ختم ہو جاتے ہیں۔

مزید برآں حضورِ انور نے جدید پیشہ ورانہ دنیا کی مثال دیتے ہوئے عمر کے ساتھ تجربے اور مسلسل سیکھنے کے عمل کی روشنی میں انسان کےمزید ذُودرس ہوجانےکی بابت واضح فرمایا کہ اب دنیا میں اکثر جگہوں پر ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ ہو جاتی ہے اور کہتے ہیں کہ اس کے بعدختم۔ اب جو ڈاکٹرز یاپروفیشنل ہیں یا انجینئرز ہیں وہ کہتے ہیں کہ آجکل نئی ٹیکنالوجی آ رہی ہے اورنئی باتیں سیکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پچاس پچپن سال کی عمر کا انسان بڑا اچھا ڈاکٹر بھی ہوتا ہے۔ اس کو پہلا تجربہ بھی ہوتا ہے اور نئی بھی ٹیکنالوجی اس نے سیکھی ہوتی ہے اور اچھا کام کر سکتا ہے۔ لیکن امریکہ میں آپ کے ہاں ریٹائرمنٹ ہوتی کوئی نہیں۔ پینسٹھ سال تک آپ ریٹائرمنٹ شفٹ دے دیتے ہیں اور اس کے بعد بھی ڈاکٹر کہتے ہیں کہ جب تک پیسے کمانے ہیں کمائی جاؤ۔ پچھتر،اسّی سال کی عمر تک چھوڑتے نہیں۔ چھوڑتے تو اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے اپنا علم تازہ رکھا ہوا ہے اور جو سرجن ہیں وہ اچھی نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ آپریشن وغیرہ بھی کرتے ہیں۔

جواب کے آخر میں حضور ِانور نے ذہنی صلاحیتوں کو زنگ سے محفوظ رکھنے، مسلسل ترقی کرتے رہنے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو اصل بنیاد قرار دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تو یہ تو سوچ کی بات ہے۔ ہاں! یہ ٹھیک ہے کہ یادداشت میں کمی ہوتی ہے، لیکن اگر اس کو چھوڑ دو تو زنگ لگ جاتا ہے، اس لیے زنگ نہ لگنے دیں۔ اس میں اضافہ کرتے رہیں، بڑھاتے رہیں، اس میں جو ترقی ہو سکتی ہے کرتے رہنا چاہیے۔ انسان کو تھکنا نہیں چاہیے۔ جہاں سوچ تھک گئی وہاں انسان ختم ہو گیا۔ اصل چیز اللہ تعالیٰ کافضل ہے وہ ہونا چاہیے۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ عام طور پر سوال کرنے کو علم کے بڑھانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور مغربی معاشروں میں خاص طور پر یہ کہتے ہیں کہ No question is a silly question، لیکن قرآنِ مجید میں حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے بچانے کے لیے جب سوال کیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اصل حالت سے حضرت نوح علیہ السلام کو آگاہ کیا اور سورۂ ہود آیت ۴۸[قَالَ رَبِّ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔلَكَ مَا لَـیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلۡمٌ ط وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِیۡ وَتَرۡحَمۡنِیۡۤ اَکُنۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ] میں اللہ یہ دعا سکھاتا ہے کہ اے میرے ربّ! یقیناً مَیں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے وہ سوال کروں کہ جس کا مجھے کوئی علم نہیں۔ پیارے حضور! دعا کے حوالے سےوہ کون سے سوالات ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہیں اور نہیں مانگنے چاہئیں؟

اس پر حضورِ انور نے قرآنی تعلیم کی روشنی میں حضرت نوح علیہ السلام کے واقعے کی جامع وضاحت کرتے ہوئے حقیقی اہل اور معیارِ اطاعت کو پُر معارف انداز میں بیان فرمایا کہ سوال یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی بات کر رہے ہیں، اس کے دل میں کیا تھا، وہ تو غیب کا علم نہیں جانتے تھے۔ جب سیلاب آیا ہوا تھا، تو وہ پہاڑی کے کونے میں بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہاکہ آؤ! میرے ساتھ شامل ہو جاؤ اور جاہلوں میں سے نہ بنو۔ تو اس نے کہا کہ نہیں! پہاڑپر چڑھ جاؤں گا، مجھے یہ بچا لے گا، توانہوں نے کہا کہ آج تمہیں کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ جب ایک لہر آئی، وہ اسے لے کے ڈوب گئی اور وہ ہلاک ہو گیا۔ پھر انہوں نے اللہ سے یہ سوال کیا کہ تُو نے کہا تھا کہ تیرے اہل کو مَیں بچا لوں گا۔ تو یہ تو میرا بیٹا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا! تیرے اہل وہ ہیں کہ جوتیری تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں اور تیرے تابع ہیں، یہ تو اہل میں سے تھا ہی نہیں، یہ تو باغی تھا۔ اس لیے چاہے نبی کی اولاد ہو، اگر وہ باغی ہو جائے، تو وہ اہل میں نہیں رہتی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ میرے سے ایسے سوال نہ کرو۔ یہ نہیں کہا تھا کہ سوال نہ کرو۔

بعد ازاں حضورِ انور نے نزولِ شریعت کے زمانے میں بعض غیر ضروری سوالات سے منع کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اور دوسرے قرآنِ شریف میں یہ کیوں نہیں آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ جب شریعت نازل ہو رہی ہے، اس وقت ایسے سوال نہ نبی سے پوچھو کہ جب اس کے جواب تمہیں مل جائیں، تو تم لوگ مشکل میں پڑ جاؤ۔ اس لیے شریعت کے بارے میں بعض باتیں ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ جتنی بیان کرنا چاہتا ہے، اتنا بیان سن لو اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔ اگر زیادہ سوال کرو گے اور پھر تمہیں جواب مل جائیں گے اور پھر تم عمل نہیں کر سکوگے تو تم سزاوار ہو جاؤ گے۔ پھر اس کی سزا ملے گی۔ اس لیے بہتر ہے کہ جو تمہارے علم میں باتیں آئی ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے خود بتا دیں، جو نبی نے تمہیں کہہ دیا، ان پر عمل کر لو تو اس سے تمہاری دینی اور روحانی بچت ہے۔

پھر حضورِ انور نے حصولِ علم کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے بچوں کے فطری تجسس کے حوالے سے انہیں مدلّل اور تسلّی بخش جواب دینے اور سوال کرنے کے ضمن میں دینی و دنیاوی اُمور میں فرق کو ملحوظ رکھنے کی بابت تلقین فرمائی کہ باقی دنیاوی لحاظ سے تو علم حاصل کرنے کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔ علم کو بڑھاؤ۔ابھی مَیں نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیدائش کے پنگھوڑے سے لے کے قبر تک علم حاصل کرو۔ باقی جو آجکل بچوں میںwhy کا سوال بہت اُٹھتا ہے اور اگر آپ نہ جواب دیں کہ کیوں کیوں یہ ہے، تو وہ سمجھ جائیں گے کہ دین کے پاس دلیل نہیں ہے۔ تو دلیل سے ان کو جواب دینا چاہیے۔ اس کے لیے تو روک نہیں پیدا کی۔ ہاں! اللہ تعالیٰ نے بعض باتوں میں جہاں روحانیت کا سوال ہے، دین کے علم کا سوال ہے، اس کے بارے میں کہا ہے کہ اس بارے میں تم ایسے سوال نہ کرو کہ جس کو اگر تم پر فرض کر دیا جائے تو تم مشکل میں پڑ جاؤ۔ ہاں! آپ یہ بتائیں کہ یہ شریعت کہتی ہے، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اس پر عمل کرو، تواس پر تم لوگوں کو جوmaximumرِیوارڈہے، وہ مل جائے گا۔ لیکن یہ دنیاوی معاملوں میں نہیں ہے۔ یہ دین کے بعض مخصوص معاملات میں ہے۔اس لیے ہر ایک چیز کو اس کے ساتھ بریکٹ نہ کریں۔ وہ علیحدہ معاملہ ہے اوریہ علیحدہ معاملہ ہے۔ وہاں آپ ضرور سوال کریں۔کیونکہ آجکل کے بچوں کو دین کے معاملے میں بھی سکھایاجاتا ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے والدین اور بالخصوص انصار کو دینی علم بڑھانے اور نئی نسل کے سوالات کے مدلّل جواب دینے کی نصیحت کا اعادہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ کے پاس دینی علم ہو، تو ان کے سوال اتنے ہی ہوتے ہیں کہ آپ جواب دے سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ بچوں کو یہ کہہ دیا جائے کہ تم سوال نہ کرو، تویہ بھی غلط ہے، ان کے سوالوں کے جواب ہیں۔ لوگ لکھتے ہیں، مجھے بہت بڑے بڑے سوال لکھ دیتے ہیں، بعض اعتراض والے سوال بھی لکھتے ہیں۔ تو جو مناسب جواب اس کا ہو سکتا ہے وہ ہم دیتے ہیں۔ تو ماں باپ کو بھی چاہیے اور انصار اللہ کو خاص طور پر کہ اپنا دینی علم بڑھائیں اور اس کے مطابق جواب دیا کریں۔ لیکن یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا کہ سوال نہ کرو۔ اس سے نئی جنریشن میں تو یہ بات پیدا کر دیں گے کہ ہمارے پاس تو علم ہے نہیں۔ حالانکہ اللہ کہتا ہے علم ہے۔ علم حاصل کرو۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے دین و ایمان کے لیے ٹھوکر بننے ولےسوالات سے احتراز برتنے اور ان کے جواب تلاش کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ ہاں! ایسے سوال جو آپ کے دین کو ختم کرنے والے ہیں، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی دعا مانگنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بڑے ہو کے عقل آ کے ایسے سوالوں کی مجھے عادت نہ پڑ جائے، بچوں کی بات نہیں یہاں ہو رہی، یہاں آپ جیسے عقل مند لوگوں کی بات ہو رہی ہے کہ ایسے سوال نہ کرو کہ جہاں سے تمہیں ٹھوکر لگے۔ ان کے جواب تلاش کرو۔

ایک ناصر نے عرض کیا کہ کچھ لوگ نظرِبدّ اور تعویذ، جادو ٹونے وغیرہ پر یقین رکھتے ہیں۔ حضورِ انور کیا مہربانی فرماکر ہماری راہنمائی فرمائیں گے کہ ہم ان معاملات کا جواب قرآنِ کریم کی تعلیمات کی روشنی میں کیسے دے سکتے ہیں اور اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ وہ ان چیزوں سے متأثر ہے تو ہمیں اس کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نے نظر لگنے کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے شر ّسے بچنے کے لیے ذکرِ الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ بات یہ ہے کہ نظریں لگ جاتی ہیں، کوئی ایسی بات نہیں۔ اس لیےمحاورہ ہی بنا ہوا ہے کہ چشمِ بدّ دُور کہہ دینا چاہیے اور پھر حدیث میں آیا ہے کہ جب تم چیزوں کو دیکھو، اپنی فصل کو دیکھا ہے، تو زمیندار اگر کہتا ہے کہ یہ دیکھو! میری محنت سے کتنی اچھی فصل ہو گئی اور ایک آندھی آئے، طوفان آئے، قرآنِ شریف میں ذکر آیا کہ تباہ ہو گئی۔ تم اگر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تو وہ تباہ نہ ہوتی۔ ان کو دیکھ کے مَا شَآءَ اللّٰہُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھنا چاہیے۔ اپنی نظر بھی لگ جاتی ہے۔ پھر حدیث میں یہ آیا ہے کہ ماں کی بچے پر نظر لگ جاتی ہے۔ جب ماں کو یہ خیال آتا ہے کہ مَیں نے اس کی پرورش ایسی کی اور یُوں کیا، وُوں کیا اور بچے کو نظر لگ گئی، اس پر اثر ہو جاتا ہے یا وہ بیمار ہو گیا یا اس کے اخلاق خراب ہو گئے یا اس طرح کی چیزیں۔ تو نظر لگتی ہے اور اس کے لیے یہی ہے کہ اللہ سے دعا مانگنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے اس کی پناہ میں آنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر شر ّسے بچائے۔

بعد ازاں حضورِ انور نے حاسدین کی عملی ضرر رسانیوں اور حسد سے بچنے کے لیے قرآنِ مجید کی آخری سورتوں میں سکھلائی گئی دعا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے نظر لگنے کے حوالے سے انسانی سوچ سے ماوراء ایک واقعے کا ذکر فرمایا کہ دوسرے یہ ہے کہ کچھ حاسد جو ہیں، وہ صرف نظر نہیں لگاتے، بلکہ حسد کے بعد اپنے کچھ عمل بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے حاسدوں کے حسد سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف کے آخر میں بھی سورتوں میں دعا سکھا دی۔ حضرت مصلح موعودرضی الله عنہ نے تو لکھا ہے کہ بعض دفعہ بعض لوگوں کی نظر ایسی لگتی ہے کہ آدمی سوچ بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میرے ایک بچہ تھا، اس کو میرے کھانے کی طرف غور سے دیکھنے کی عادت تھی۔ تو مَیں جب کھانا کھا رہا ہوتا تھا تو بعض دفعہ اتنے غور سے وہ دیکھتا تھا کہ میرا لقمہ ہاتھ سے گر جاتا تھا۔ تو ایسے واقعات ہو جاتے ہیں تو یہ ایسی بات نہیں۔

پھر حضورِ انور نے نظر لگنے کی حقیقت کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے اپنی مفصّل تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اس پر مَیں نے ایک لمبا جواب لکھ کے بھیجا ہوا ہے۔ میرا خیال ہے کہ الحکم میں یا کہیں چھپ گیا ہوگا، تو وہاں سے پڑھ لیں کہ نظر کی حیثیت کیا ہے، حقیقت کیا ہے اور قرآنِ شریف کیا کہتا ہے، ہم کس حدّ تک اس کو مانتے ہیں، کس حدّ تک یہ جائز ہے اور کس حدّ تک ناجائز ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے جادو ٹونے کے نام پر لوگوں کو خوفزدہ کرنے والے بعض طریق کی وضاحت کرتے ہوئے اس ضمن میں بزرگانِ سلسلہ کے واقعات بیان فرمائے کہ جادو ٹونے بعض لوگوں کے ایسے عمل ہوتے ہیں، جو کم پڑھے لکھے لوگ ہیں،وہ ان کو ڈرانے کے لیے جادو ٹونے کر لیتے ہیں۔ حضرت خلیفہ اوّل رضی الله عنہ نے بھی اس کے بارے میں لکھا ہے کہ اس طرح کرتے ہیں اور انہوں نے اپنے ایجنٹ رکھے ہوتے ہیں کہ جو بعض دفعہ گھروں میں جا کے بعض چیزیں چھپا آتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ تم پر ٹونہ ہو گیا۔ پھر اس کے بعد بندہ اس پیر کے پاس جاتا ہے، تو وہ پیر صاحب کہتے ہیں کہ اچھا! تمہارے گھر کے صحن میں فلاں کونے میں فلاں چیز دبی ہوئی ہے، اس کو نکال دو تو یہ جادو ختم ہو جائے گا۔ تو وہ جادوختم ہو جاتا ہے۔ اس طرح مولانا راجیکی صاحب رضی الله عنہ کے بارے میں بھی آتا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ کسی جنّ نے قبضہ کر لیا یا جادو ہو گیا، تو انہوں نے دعا کی اور اس کو کہا اورایک دَم دھڑ دھڑ ہوئی اور برتن نیچے گر گئے۔ واقعہ ان کی کتاب [حیاتِ قدسی]میں بھی لکھا ہوا ہے۔ نیز جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اپنی مفصّل تحریر سے استفادہ کرنے کی بابت فرمایا کہ تو اس ساروں کے جواب مَیں نے ایک تفصیل سے لکھ کے دیے ہوئے ہیں وہ پڑھ لیں۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم میں دنیا کا سفر کرنے کا حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے: سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ، اور ان قوموں کی تاریخ کا مشاہدہ کرنے کا بھی حکم دیتا ہے کہ جنہوں نے اللہ کے کلام کو جھٹلایا اور یہ بھی دیکھنے کا حکم دیتا ہے کہ اس نے کس طرح تخلیق کی ابتدا کی۔ نیز اس سلسلے میں راہنمائی کی عاجزانہ درخواست کی کہ پیارے حضور! ہم اپنے معمول کے سفر کے دوران اللہ کی تخلیق کے عجائبات کو سراہتے ہوئے ان احکامات کو کس طرح پُورا کر سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں غور و فکر کرنے اور قدرتِ الٰہی کے نشانات کو تلاش کرنے کی اہمیت بیان فرمائی کہ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ، اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ دنیا میں پھرو اور اللہ تعالیٰ نے نعمتیں جو دی ہیں تلاش کرو۔ پہاڑ ہیں، جنگل ہیں، موسم ہے، سمندر ہیں، دریا ہے، ان میں پھرو اور وہاں سے اللہ تعالیٰ کی جو پیدائش ہے، اس کو تلاش کرو، اور اس میں پیدائش میں اللہ تعالیٰ نے کیا کچھ چیزیں پیدا کی ہوئی ہیں۔ جس طرح حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی الله عنہا نے اپنے شعر میں کہا ہے، جو اقبال نے شکوہ لکھا تھاکہ مجھے نظر آ شکلِ مجاز میں، تو انہوں نے پھر اس کے جواب میں لکھا؂

مجھے دیکھ رفعتِ کوہ میں مجھے دیکھ پستیٔ کاہ میں

جو پہاڑوں کی اُونچائی ہے، جو اُونچے اُونچے پہاڑ ہیں، جنگل ہیں، درخت ہیں، ان میں میری قدرت کو دیکھو اور جو نئی گہری گھاٹیاں ہیں ان میں دیکھو۔ سمندروں میں دیکھو تو وہاں سے تمہیں پتا لگے گا کہ خدا کیا چیز ہے۔ تو خدا تعالیٰ کی جوcreationہے، اس کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ان چیزوں پر غور کریں۔

بعد ازاں حضورِ انور نے بنفسِ نفیس تفسیرِ صغیر سے مذکورہ آیتِ مبارکہ ملاحظہ فرما کر اس کے پسِ منظر کی وضاحت کرتے ہوئے سابقہ اقوام کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی بابت توجہ دلائی کہ اب آپ نے مثال دی ہے کہ قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُجۡرِمِیۡنَکا مجرموں کو انجام کیسا ہوا، اب یہاں اللہ تعالیٰ مجرموں کی بات کر رہا ہے کہ زمین میں پھرو اور دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف جو مجرم تھے، انبیاء کی تاریخ دیکھو، پُرانے کھنڈرات نظر آتے ہیں کہ کس طرح قومیں تباہ ہوئیں۔ اور اسرائیل آجکل بڑے جوش میں ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ انبیاء میں الله تعالیٰ نے ان کا حال بتایا ہے کہ یہ لوگ ظلم کرنے کی وجہ سے پہلے ہی دو دفعہ تباہ ہوئے تھے، اب تیسری دفعہ ظلم کریں گے تو بالکل تباہ ہو جائیں گے۔ اور ان کی جو تاریخ ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ اگر تاریخ کو پڑھیں تو پتا لگ جاتا ہے۔ اسی سے سبق حاصل کرو اور دیکھو کہ ان لوگوں کا کس طرح انجام ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے مقابلے میں کسی چیز کو نہ لاؤ اور خود فرعون نہ بنو۔ فرعون تباہ ہوا۔ فرعون کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے، ان کی قوم نے زیادتیاں کیں، تو وہ تباہ ہو گئی۔ اسی طرح مسلمانوں کا بھی حال ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہر چیز سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ پھرو اور دیکھو۔

حضور انور نے قرآنِ کریم پڑھتے وقت بشارات اور عذاب کی آیات سے عملی سبق حاصل کرنے کی بابت تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ جب تم قرآن ِکریم پڑھتے ہو، توجہاں اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کا ذکر آتا ہے، ان کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان کا حامل بنائے اور مجھے بھی یہ چیزیں ملیں۔ اور جہاں عذاب کا ذکر آتا ہے، تو وہاں اِستغفار پڑھو، اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ مجھے اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے بچائے۔ تو یہ چیزیں سبق دینے کے لیے ہیں۔ اس کا یہ مقصد ہے، اس کا مطلب ہے کہ صرف سیر کرنے کے لیے،enjoyکرنے کےلیے ہاں! ہم گئے، ہم نے دیکھا، آج ہم سوئٹزرلینڈ کی فلاں جگہ چلے گئے یا فلاں چوٹی جو پہاڑ کی ہے، وہاں چلے گئے اور جو آپ کی امریکہ میں valleyکہلاتی ہے، کیا ہے؟

اس پر سائل کے Grand Canyonکے عرض کرنے پر حضورِ انور نے سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاحت کے حقیقی مقصد کو اُجاگر فرمایا کہ ہاں! اس علاقے میں چلے گئے تو ہم نے یہ دیکھ لیا۔ صرفenjoyنہ کرو۔تو یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو جو بنایا، یہ پہلے کیا ان کی آبادیاں وہاں ہوں گی اور پھر تباہ ہو گئیں۔ کس طرح کس طرح، پہاڑوں سے، زلزلوں سے، سیلابوں سے بارشوں سے آبادیاں تباہ بھی ہوئیں اور بنیں بھی۔ جب تم پھرتے ہو تو اس سے سبق حاصل کرو اور اللہ تعالیٰ کی طرف آؤ۔ یہ اس کا مطلب ہے۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ گرینڈ کینین (Grand Canyon) ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ریاست ایریزونا (Arizona) میں واقع دنیا کے سب سے مشہور قدرتی عجائبات میں سے ایک عظیم اور گہری گھاٹی ہے۔ یہ بنیادی طور پر دریائے کولوراڈو (Colorado River) کے لاکھوں سال کے کٹاؤ کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ یہ گھاٹی تقریباً ۴۴۶؍کلومیٹر ۲۷۷؍میل طویل، ۶ سے ۲۹؍کلومیٹر تک چوڑی اور بعض مقامات پر ۱.۸؍کلومیٹر (تقریباً ۶۰۰۰؍فُٹ) تک گہری ہے۔ اس کی تہوں میں موجود چٹانیں زمین کی ارضیاتی تاریخ کے تقریباً دو ارب سال قدیم اَدوار کی نمائندگی کرتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ ماہرینِ ارضیات کے لیے بھی نہایت اہم مقام ہے۔ گرینڈ کینین کو گرینڈ کینین نیشنل پارک کے طور پر ۱۹۱۹ء میں قائم کیا گیا اور یہ یونیسکو (UNESCO) کے عالمی ورثہ میں بھی شامل ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں سیاح اس کی قدرتی خوبصورتی اور حیرت انگیز مناظر دیکھنے آتے ہیں۔ مختصر یہ کہ گرینڈ کینین زمین کی طویل ارضیاتی تاریخ، قدرتی حسن اور قدرت کے حیرت انگیز تخلیقی نظام کی ایک شاندار مثال ہے۔]

مزید برآں حضورِ انور نے دوبارہ بنفسِ نفیس تفسیرِ صغیر سے قوموں کے عروج و زوال کے حوالے سے قرآنی آیت قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ بَدَاَ الۡخَلۡقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنۡشِیُٔ النَّشۡاَۃَ الۡاٰخِرَۃَ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌکی تفسیر بیان کرتے ہوئے موجودہ دنیا کے طاقتور لوگوں کے انجام کی بابت نشاندہی فرمائی کہ پھر یہ کہہ دےکہ ملک میں چاروں طرف پھر کر دیکھو کہ اللہ نے مخلوق کی پیدائش کس طرح شروع کی تھی، پھر مرنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرتا چلا گیا، الله ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ نے تو تشریح میں اس کا ذکر لکھا ہے کہ اس دنیا میں مُردے زندہ ہو کر نہیں آتے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا میں پھرو اور دیکھو کہ مُردے زندہ ہو کے آگئے۔ پس یہ آیت واضح ثبوت اس بات کا ہے کہ پیدائش سے مُراد قوموں کو تمکنت بخشنا ہے۔ جو پہلے مَیں اسرائیل کے بارے میں یا فرعون کے بارے میں بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح قومیں بڑی شہرت حاصل کرتی تھیں، بڑی بادشاہت تھی، فرعون کہتا تھا کہ دیکھو! جو سارا نظام ہے، یہ تو میرے under چل رہا ہے، بتاؤ کہ اس سے اُوپر کوئی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کوپانی میں ڈبو کے تباہ کر دیا۔ اور اسی طرح اور قوموں کو بھی تباہ کر دیا۔ جو ٹرمپ صاحب سمجھتے ہیں کہ مَیں سب کچھ ہوں اورSecond Advent of Jesus Christ بھی بعض دفعہ کہتے ہیں۔ پتا نہیں کہ کہاں تک صحیح ہے۔ ان لوگوں کے بھی اللہ تعالیٰ غرور اس طرح ہی توڑے گا۔ اسی تناظر میں حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے سائل کو یاد دلایا کہ آپ تو ان ملکوں میں رہتے ہیں۔ آپ نے کیا کرنا ہے، آپ تو خود اس جگہ میں رہ کے سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ کا نظارہ کر رہے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کا خوف کریں اور اللہ سے ڈریں اور ان کو بھی ڈرائیں۔ بعد میں تو یہی کہہ دیتا ہے کہ مَیں اللہ کی طرف سے آیا ہوں، اللہ کا نام لے کے وہ جو غلط باتیں کر رہا ہے، اس سے وہ خود اپنی تباہی کوبُلا رہا ہے۔ قرآن ِ شریف میں اللہ تعالیٰ نے بعض دوسری جگہوں پر لکھا ہوا ہے کہ تم سے زیادہ طاقتور لوگ تھے، ان کو مَیں نے تباہ کر دیا، تو تم کیا چیز ہو ؟

جواب کے آخر میں حضور ِانور نے قدیم کھنڈرات اور آثار کے مشاہدے کو قوموں کے انجام اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشان کے طور پر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تو مقصد یہی ہے کہ دیکھو کہ ان کی کتنی بادشاہت تھی، کتنا ان کا زور تھا، کتنی حکومتیں تھیں، کتنی طاقت تھی، لیکن اس کے باوجود ختم ہو گئے۔ وہاں کھنڈر ہی نظر آتے ہیں۔ مڈل ایسٹ میں بہت سارے ملکوں میں جائیں، شام میں،عراق میں، فلاں جگہ پر یا اور دنیا میں بھی دیکھیں کہ جو پُرانے کھنڈرات ملتے ہیں، اسی لیے ملتے ہیں۔ آپ ruins تلاش کر رہے ہیں۔ اسی ضمن میں حضورِ انور نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے حاضرین میں سے ایک شریکِ مجلس کی طرف اپنے دستِ مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تو یہ جیولوجسٹ ہیں، ان کو پتا ہے کس طرح جیولوجی والے چیزیں نکالتے ہیں، تو اس سے یہ مطلب ہے۔

ایک ناصر نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ عہدیداران اور جماعت کے ممبران کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان بعض اوقات ممبران کو جماعت سے دُور کر دیتا ہے۔ ہم اس تعلق کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ lack of alignmentکیوں ہے؟ حضورِ انور نے عہدیداران کے نرم رویّے، حُسنِ سلوک اور محبّت بھرے انداز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر افسر ٹھیک ہیں، آپ پیار سے، نرمی سے office holder ان کو بتا رہے ہوں، عہدیدار جتنے ہیں، نرمی سے بتائیں تو یہ باتیں ہو ہی نہیں سکتیں۔ اس لیے مَیں بار بار کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ عہدیدار اپنے رویوں کو نرم کریں اور تعلق پیدا کریں۔

بعد ازاں حضورِ انور نے ممبرانِ جماعت سے صرف انتظامی یا مالی ضرورت کے وقت رابطہ کرنے کے بجائے مستقل ذاتی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ صرف آپ لوگ اپنے کسی احمدی کے پاس جاتے ہیں یا کسی جماعت کے ممبر کے پاس جاتے ہیں کہ اچھا! آج جلسہ ہے، آج اجلاس ہے، آؤ۔یا آپ کا زعیم ہے یا سائق ہے یا جو بھی نظام ہے یا قائد ان کے مرکزی عاملہ میں ہیں، وہ صرف کوئی مقصد ہوتو تب ان کے پاس جاتے ہیں یا چندہ لینے یا تحریک کرنے کے لیےچلے جاتے ہیں کہ ہم نے پلاٹ لینا ہے، ہم نےجلسے کے لیے، اجتماع کے لیے زمین لینی ہے، ہمیں اتنے پیسے چاہئیں، دو۔ یا فلاں مقصد کےلیے ہمیں چیزیں دو یا اجتماع ہو رہا ہے وہاں آؤ۔ ویسے تعلق رکھیں، اگر قریبی تعلق ہو، ایک دوستانہ ماحول ہو، بھائی چارہ ہو، جسے اخوّت کہتے ہیں، تو پھر یہ چیزیں نہیں ہوتیں۔ پھر آپس میں ایک تعلق ہوتا ہے۔

پھر حضورِ انور نے خاندانی تعلقات کی مثال دے کر باہمی لحاظ، ہمدردی اور عہدیداران کے محبّت بھرے تعلق کی بابت توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اب بہن بھائی ماں باپ کی رشتہ داریاں جو ہیں ان میں اس قسم کی باتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں، خیر بہت کم ہوتا ہے، rareکیسز ہوتے ہیں یا جب ایسی لڑائیاں ہو جائیں کہ رشتے ہی ٹوٹ جائیں یا ختم ہو جائیں نہیں تو عموماً ایک دوسرے کا لحاظ رکھتے ہیں۔ ہر جگہexceptions ہوتی ہیں۔تو اسی طرح اگر آپ لوگ صحیح طرح لوگوں سے سلوک کر رہے ہوں اور ان کا خیال رکھ رہے ہوں، ان سے تعلق ہو، ان کو پتا ہو کہ یہ Office-bearer جو ہیں، ہمارے ہمدرد ہیں، تو آپ سے تعلق بھی رکھیں گے اور آپ کی بات بھی مانیں گے۔

مزید برآں حضورِ انور نے قرآنی تعلیم کی روشنی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے تربیت میں محبّت اور تعلق کی بنیاد کو اُجاگر کرتے ہوئے بیان کیا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ فرمایا تھا کہ مُردے کس طرح زندہ ہوتے ہیں یا کس طرح میری طرف آئیں گے، تو آپؑ کو فرمایا فَصُرۡھُنَّ کہ ان کی ٹریننگ کرو اور پھر ان کو کہیں بھی تم چاروں کونوں میں بٹھا دو، تووہ تمہارے بلانے پر تمہاری طرف دَوڑتے ہوئے آئیں گے۔ تو ٹریننگ کس طرح کرو، اسی پیار اور محبّت سے ٹریننگ کرو، تو تربیت آپ شروع سے کریں تو ٹھیک رہے گا۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے عہدیداران کو افسری جتانے کے بجائے خدمت اور انکساری اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ لیکن اگر آپ صرف اپنی افسری دکھانے کےلیے ان کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ جاؤ مِلُّو[ایک ذات ہے] صاحب آپ گھر میں بیٹھیں۔ چودھری ہوں گے، آپ اپنے گھر میں ہوں گے، ہمارے پاس نہیں ہیں۔

اسی سائل کو ایک اورسوال پیش کرنے کا بھی موقع ملا کہ پیارے حضور! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے مطابق ہم یہ توقع کر سکتے ہیں کہ تین سو سال کے عرصے میں اسلام احمدیت باقی تمام ادیان پر غلبہ پائے گی، جیسا کہ ہم جانتے ہیں پہلے مسیح اور آخری زمانے کے مسیح کے درمیان ایک مماثلت پائی جاتی ہے، وہ عیسائیت جو دنیا بھر میں پھیلی ہے وہ باطل عقائد پر مبنی ہے، ہم اس بات کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں کہ اسلام احمدیت کا پھیلاؤ سچے عقائد اور اسلامی تعلیمات پر مبنی ہو؟

اس پر حضورِ انور نے حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیان فرمودہ تین سو سالہ عرصے کے مفہوم اور ابتدائی عیسائیت کے حالات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ جو مسیحِ موسویؑ تھا، جو تعلیم لے کے بھی آیا، ان کو بڑےtrial سے گزرنا پڑا۔ اصحابِ کہف بھی رہے، اس کے بعد ان کے حالات بہتر ہوئے اور جب رومن ایمپائر نےبادشاہ نے عیسائیت قبول کر لی، جیسی بھی تھی، لیکن تم دیکھو گے کہ اُتنا عرصہ نہیں گزرے گا، تین سو سال کا عرصہ نہیں گزرے گا کہ جب احمدیت کا غلبہ ہوگا۔ تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ایک مثال پیش کی جائے، تو ہر ایک چیز اس کے اُوپر ویسی کی ویسی ہو۔ ایک مثال دی جاتی ہے کہ ان میں ہوا تھا تواس میں بھی ہو گا۔

بعد ازاں حضورِ انور نے خلافتِ راشدہ اور خلافتِ احمدیہ میں تاریخی واقعات کے حوالے سے مشابہت کے باوجود نتائج کے لازماً یکساں نہ ہونے کی بابت تفہیم بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ اب خلافتِ راشدہ کی ہم مثال دیتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ نے خلافتِ راشدہ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی الله عنہ پر بھی حملہ ہوا، حضرت عثمان رضی الله عنہ پر ہوا، حضرت علی رضی الله عنہ پر ہوا، اور وہی واقعات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت ہے، اس میں ہوں گے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق تیرہ سو سال کے بعد مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت کا نظام جاری ہونا تھا۔ وہ حالات تو پیدا ہو سکتے ہیں لیکن نتائج وہ نہیں نکلیں گے۔

حضورِ انور نے جماعتِ احمدیہ کی ترقی کے حقیقی مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے عقیدے کے بگاڑ پر مبنی غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہوئے اسے مزید ترقی و استحکام کا ایک زینہ قرار دیا کہ اس لیے یہاں بھی یہی مثال ہے کہ مطلب یہ ہے کہ جماعتِ احمدیہ کی ترقی ہوگی، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ بگڑا ہواجو اسلام ہے وہ پیش ہو جائے گا۔ اسلام بگڑا ہوا تو پہلے ہی ہے، جس کی اصلاح کے لیےمسیح موعود علیہ السلام آئے ہیں اور جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں، وہ پورے نہیں ہوتے، ٹھیک ہے کہ ایکclimaxپر پہنچ کے ایک زوال diminishing returnsبھی شروع ہو جاتا ہے، وہ شروع ہو جائے، یہاں بھی ہوگا، لیکن وہ آخری دن قیامت کے دن ہوں گے۔ یہ نہیں ہوگا کہ تین سو سال میں اگر جماعتِ احمدیہ کی ترقی واضح نظر آرہی ہے، تو بگڑی ہوئی جماعتِ احمدیہ ہو گی، وہ بگڑی ہوئی جماعتِ احمدیہ نہیں ہو گئی۔ بلکہ اس وقت ترقی کی ہوگی۔ ہاں! آخری زمانہ میں ہو سکتا ہے کہ کبھی زوال آئے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد فرمودہ تین سو سالہ عرصے پر مبنی عرصے کے پیچھے کارفرما حقیقی مقصد یعنی صبر، استقامت اور حوصلہ افزائی کی حکمت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ تو یہ ایک مثال ہے کہ تم لوگ صبر کرو، اصل مثال یہ دی تھی کہ تم بے صبری نہ دکھاؤ، انہوں نے بھی تین سو سال تک صبر کیا۔ اصحابِ کہف نے اتنے سال گزارے۔ تین سو نو سال کا عرصہ، کئی نسلیں ان کی ختم ہو گئیں، تو اتنا عرصہ نہیں گزرے گا کہ تم لوگ اچھے نتائج دیکھو گے۔ یہ مثال ہے۔ اصل یہ مثال نہیں ہے کہ تمہاری تعلیم ایسی ہو جائے گی، کیونکہ وہ بگڑ گئی ہے، تو ہم بھی بگڑ جائیں گے۔ یہ تو ایک مثال اس لحاظ سے حوصلہ دلانے کے لیے دی تھی کہ اگر اصحابِ کہف تین سو نو سال صبر کر سکتے ہیں، توتم کیوں نہیں کر سکتے؟ تمہیں اتنا صبر نہیں کرنا پڑے گا کہ تمہیں اس سے پہلے الله تعالیٰ ان شاء اللہ کامیابیاں دے گا۔ یہ اس کا مقصد ہے۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطور تبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

بعدازاں صدر صاحب مجلس انصار الله امریکہ نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عاجزانہ درخواست کی کہ دعا کیجیے کہ ہماری مجلس آپ کی توقعات پر پُوری اُتر سکے۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر چلنے والے ہوں، انصار دین ہوں۔

یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’السلام علیکم!‘‘پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار اللہ امریکہ گلف سٹیٹس کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button