کیوں؟
پیارے بچو! آج کے نئے سوال اور اس کے جواب کے ساتھ حاضر ہیں۔ اور آج کا سوال یہ ہے کہ
بچوں کے زیادہ تر سوالات کیوں میں ہوتے ہیں؟
پیارے بچو! ایک جائزہ رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ بچے والدین سے دن بھر میں کم از کم 8 بار ایسے سوالات کرتے ہیں جن کی ابتدا کیوں سے ہوتی ہے۔ بچوں کے سوالات اگرچہ بہت معصوم ہوتے ہیں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ کئی بار بچوں کے سوالوں کا جواب والدین کے پاس بھی نہیں ہوتا ہے۔ بچوں کے ایسے کون سے سوالات ہیں جنہیں سن کر ماں باپ کا دماغ چکرا جاتا ہے، اس حوالے سے شائع ہونے والے ایک مطالعے کا نتیجہ بتاتا ہے کہ بچے والدین سے سب سے زیادہ ’’کیوں‘‘والے سوالات پوچھتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ والدین بچوں کے نصف سے زائد سوالات کا جواب نہیں دے پاتے ہیں۔تین سے دس برس کے بچوں کے والدین پر مشتمل ایک مطالعے میں تقریباً 47 فیصد والدین نے بتایا کہ خاص طور پر کار کے سفر کے دوران بچے بہت زیادہ سوالات پوچھتے ہیں؟
تعلیم کے فروغ کی ایک تنظیم ’’ریڈ آن،گیٹ آن‘‘کے جائزے کے مطابق 51 فیصد والدین نے بتایا کہ بچوں کے دوسرے سوالات میں زیادہ تر پوچھا جاتا ہے کہ کتنا وقت اور لگے گا؟ اسی طرح بچے اکثر ماں باپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے جب آپ مر جاتے ہیں؟ یا پھر بہت سے بچے اپنے والدین سے یہ سوال ضرور کرتے ہیں ہم سب کو کس نے پیدا کیا ہے؟ والدین نے بتایا کہ بچوں کے آسان سے سائنسی سوالات بھی اکثر ان کے لیے ایک چیلنج بن جاتے ہیں۔ ایک چوتھائی والدین نے اعتراف کیا کہ بچوں کے سوالات انہیں الجھن میں ڈال دیتے ہیں جیسا کہ بچوں کی طرف سے عام طور پر سوال کیا جاتا ہے کہ آسمان نیلا کیوں ہے؟ آسمان میں کتنے ستارے ہیں؟ چاند کس چیز سے بنا ہے؟اللہ تعالیٰ ہمیں دکھائی کیوں نہیں دیتا ہے ؟وغیرہ
والدین کے مطابق، اگر بچوں کے فلسفیانہ قسم کے سوالات کا ان کے پاس جواب نہیں ہوتا ہے تو وہ دوستوں یا دوسرے ذرائع سے اس کا جواب معلوم کرتے ہیں جبکہ آٹھ فیصد نے کہا کہ وہ خیالی باتوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں اس لیے جوابات کی جگہ بچوں کو کہانیاں بھی نہیں سناتے ہیں۔
زبان کی ایک تھراپسٹ کیٹ فری مین نے کہا کہ کیوں والے سوالات بچوں کی ذہنی نشوونما کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ نتائج سے پتا چلا کہ اگر پانچ برس کے بچے میں زبان کی مہارت نہیں ہے تو وہ اسکول شروع کرنے کے بعد دوسرے بچوں سے پڑھائی میں پیچھے رہ جاتا ہے اور سیکھنے کے معاملے میں دشواری کا سامنا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے کیوں کے سوالات کی حوصلہ افزائی کریں کیونکہ سوالات سے بچوں میں نہ صرف زبان کی مہارت بہتر ہوتی ہے بلکہ اُن کا دینی علم بھی بڑھتا ہے اور بچپن کی سیکھی ہوئی بات پتھر پہ نقش کی طرح ہوتی ہے یعنی ہمیشہ یاد رہتی ہے۔
بچو!آپ کو آج کا سوال اور اِس کا جواب کیسا لگا؟ اگر آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہو تو ہمیں بھجوائیں۔ ان شا ءاللہ ہم آپ کو اُس کا بھی جواب دیں گے۔ آپ کا بھائی۔ نبیل احمد کاشف۔ جرمنی
