حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ احمدیہ مسلم ویمن سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(AMWSA)جرمنی کی طالبات کےایک وفد کی ملاقات

ابھی آجکل مَیں واقعات سنا رہا ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات بھی حدیثوں سے سنائے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بھی سنائے کہ لوگوں سے جب بات کر رہے ہوتے تھے تو کہتے تھے کہ ٹھیک ہے آپ کو بہت علم ہوگا، لیکن حقیقت یہ ہے۔ عاجزی سے بات کریں تو لوگوں کو سمجھ آجاتی ہے۔ میرے خطبے ذرا غور سے سنا کرو، انہی میں جواب آ جاتے ہیں، اسی لیے مَیں دیتا ہوں کہ سوال بیچ بیچ میں سے نکالو

مورخہ ۷؍ جون ۲۰۲۶ء، بروز اتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ لجنہ اماء الله جرمنی کی یونیورسٹی کی طالبات پر مشتمل ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ بابرکت ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں واقع ایوانِ مسرور میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے جرمنی سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کوحضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک شریکِ مجلس نے راہنمائی کی درخواست کی کہ اگر اللہ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم سوچ سکیں، سوال کر سکیں،صحیح اور غلط کو محسوس کر سکیں، تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے جبکہ میرا دل کسی اسلامی حکم سے مطمئن نہ ہو؟

اس پر حضورِ انور نے اسلامی احکام کی حکمت کو سمجھنے کے لیے تحقیق، مطالعہ اور اہلِ علم سے راہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے جو تمام حکم ہیں، ان میں حکمت ہے، اگر مطمئن نہیں ہیں تو سوال تو تم نے خود ہی پہلے کر دیا ہے کہ عقل بھی دی ہے اور سوچ بھی دی ہے تو سوچو، دیکھو۔ جس پر تسلّی نہیں ہوتی اس کے متعلق دیکھو کہ قرآنِ شریف میں کہاں کہاں اور کس جگہ اس کے بارے میں حکم ہے۔ اگر ان جوابوں سے بھی تسلّی نہیں ہوتی تو کسی قرآنِ کریم کا علم رکھنے والے کو، دین کا علم رکھنے والے کو، حدیث کا علم رکھنے والے کو یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جس نے کتابیں پڑھی ہوں، اس کا علم رکھنے والے کو، اس سے پوچھو کہ یہ یہ سوال ہیں۔

پھر حضور ِانور نے استفسار فرمایا کہ کون سے حکم ہیں کہ جن سے تسلّی نہیں ہوتی؟

طالبہ نے عرض کیا کہ آپ نے صحیح بات کی ہے، مجھے تھوڑا سا خود بھی پڑھنا پڑے گا، لیکن جس طرح کبھی کبھی مَیں سوچتی ہوں کہ حجاب کا جو حکم ہے۔

اس پر حضورِ انور نے حجاب کے پسِ منظر کو مرد و زن کی فطرت اور معاشرتی تحفّظ کے تناظر میں واضح کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اکثر لڑکیوں یا عورتوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جو ان کی شکل و صورت ہے، جو ان کی خوبصورتی ہے، وہ دوسرے لوگ دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ہاں! قدرتی بات ہے، تم دکھاؤ، لیکن جو شادی شدہ عورت ہے وہ اپنے خاوند کو اپنا حُسن دکھائے۔ جو عام لڑکیاں ہیں، وہ اپنے ماحول میں جن سے پردہ نہیں ہے، عورتوں کے ماحول میں رہ کے اپنا حسن دکھائیں۔ باہر دکھاؤ گی تو گندگی پھیلے گی۔ انسان کو نہیں پتا کہ کون سا مرد کس سوچ کا رکھنے والا ہے۔ اس لیے قرآنِ کریم میں تو انبیاء کی بیویوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جب تمہارے سے کوئی مرد بات کرتا ہے تو ذرا سخت لہجے میں بات کرو تاکہ تمہارا نرم لہجہ اس کو غلط سوچ کی طرف نہ لے جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فطرت جو مرد کی ہے، اس کو اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے جب پیدا کیا تو اس کو یہ بھی پتا ہے کہ کون کس فطرت کا ہے۔ تو تم لوگوں کی protection کے لیے حجاب ہے۔

بعدازاں حضورِ انور نے ایک تاریخی واقعہ کے ذریعے حجاب کے حکم کی عملی حکمت اور معاشرتی ضرورت بیان فرمائی کہ پہلے اتنی حجاب کی سختی نہیں تھی۔ جب مدینہ میں ایک واقعہ ہوا کہ ایک عورت دکاندار کے سامنے بیٹھی تھی، ایک یہودی آیا، اس نے اس کے سر پر چادر لی ہوئی تھی یا جو کپڑا پہنا ہوا تھا، اس کو کسی کھونٹے سے اُڑس دیا ٹانگ دیا یا باندھ دیا۔ جب وہ کھڑی ہوئی تو اس کا ننگ ظاہر ہو گیا۔ اس پر فساد اور جھگڑا پیدا ہو گیا اور مسلمانوں کی طرف سے بھی لڑائی ہوئی، اُدھر سے بھی لڑائی ہوئی، قتل و غارت ہوگئی۔ تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ یہودی یا غیر مسلم کہنے لگے کہ ہمیں تو پتا نہیں تھا کہ کون مسلمان ہے یا کون نہیں؟ ہمیں کیا پتا یہ اپنے تقدّس کا اتنا خیال رکھنے والی ہے، اپنیsanctityکا اتنا خیال رکھنے والی ہے، اتنی نیک ہے۔ ہم تو عام عورت سمجھے تھے، ہم جس طرح مذاق کرتے ہیں توایسے ہی مذاق کر لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پہچان کے لیے پھر تمہیں چاہیے کہ تم پردہ بھی کرو اور ایک ایسا حجاب رکھو کہ مرد کو تمہارے سے کسی قسم کا غلط مذاق کرنے کی جرأت نہ ہو۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے حجاب کےاصل مقصد کوعورت کے تقدّس، وقار اور تحفّظ کو برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اصل جو بیک گراؤنڈ اس کے پیچھے ہے، وہ یہی ہے کہ تمہارا تقدّس قائم ہو اور مردوں کو غلط کام کی طرف توجہ نہ پیدا ہو۔اس لیے جیسے مَیں نے پہلے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو بھی یہی حکم تھا کہ مردوں سے نرمی سے بات نہ کرو کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ذرا سی عورت نے آرام سے بات کر لی تو پتا نہیں شاید اب یہ ہمارے ہاتھ میں آ گئی۔ عورت کو مرد بہت کھلونا سمجھتے ہیں، اس لیے تمہاری protection کے لیے اللہ تعالیٰ نے حجاب کا حکم دیا ہے اور یہ تو تمہاری protection ہے۔

ایک لجنہ ممبر نے حضورِ انور سے سوال کیا کہ ایک لڑکا یا لڑکی شادی کے رشتے کے حوالے سے اپنے والدین کی رائے پر کیسے بھروسہ کر سکتے ہیں جبکہ والدین نے خود اپنی ازدواجی زندگی کا کوئی اچھا نمونہ قائم نہ کیا ہو؟

اس پر حضورِ انور نے سائل کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا بڑاvalid questionہے۔ جب خود ہی ٹھیک نہیں ہیں تو تمہیں کیا advice کریں گے۔ ازدواجی فیصلوں میں محض والدین پر انحصار کرنے کی بجائے ذاتی اطمینان اور اللہ تعالیٰ سے راہنمائی طلب کرنے کی بنیادی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے حضورِ انور نےفرمایا کہ اس لیے اسلامی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی رشتہ آتا ہے تو لڑکی کے لیے آتا ہے، تو لڑکی کو خود دعا کرنی چاہیے، غیب کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ جس سے رشتہ آیا ہے، وہ بہتر ہے کہ نہیں۔ تمہارے ساتھ مستقبل میں sincere ہوگا کہ نہیں ہوگا۔ اس لیے استخارے کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر یہ رشتہ میرے لیے بہتر ہے تو میرے دل میں اس طرفinclination پیدا کر دے، توجہ پیدا کر دے اور اگر نہیں بہتر تو میری اس سے جان چھڑا دے۔

پھر حضورِ انور نے رشتوں کے معاملے میں ذاتی تسلّی اور جذبات کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کو ضروری قرار دیتے ہوئے اس اَمر کی بابت توجہ دلائی کہ بہت ساری لڑکیاں میرے پاس آتی ہیں، مَیں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر تمہاری تسلّی نہیں ہے، ماں باپ جو مرضی کہتے ہیں تو تم رشتہ نہ کرو۔ اور اگر تمہاری تسلی ہے تو کر لو۔ بعض دفعہ ماں باپ نہیں چاہتےلیکن لڑکی شاید کسی وجہ سے چاہتی ہے۔ لیکن اگر وہ صرف جذباتیattachment ہے، تو جذباتی فیصلے نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ جذباتی فیصلے پھرfutureمیں جا کےتمہیں نقصان پہنچاتے ہیں۔ جو جذباتی لڑکے ہوتے ہیں یا لڑکیاں ہوتی ہیں، لڑکوں کے لیے لڑکیوں کا رشتہ، لڑکیوں کے لیے لڑکوں کا رشتہ پھر بعض دفعہ وہ جذبات قائم نہیں رہتے۔ ایک وقت میں آکے ختم ہو جاتے ہیں، پھر لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں، پھر بحثیں شروع ہو جاتی ہیں اور پھر طلاقیں شروع ہو جاتی ہیں۔

اسی طرح حضورِ انور نے مغربی معاشروں کی مثال کی روشنی میں صرف ذاتی پسند پر مبنی فیصلوں کے نتائج کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اب یہاں یورپ میں یا ویسٹ میں یاso-calledترقی یافتہ ملکوں میں اپنے رشتے لڑکا لڑکی خود ہی طے کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود seventy percent سے اُوپر جو لوگ ہیں، آخر میں جا کے دو سال بعد، چار سال بعد، دس سال بعد، پندرہ سال بعد، ان کی طلاقیں ہو جاتی ہیں اور رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو خود سمجھ کے کرو تو وہ بہت اچھا رشتہ ہوگا۔

بعدازاں حضور انور نے ایک مومن کے لیے اصل راہنمائی مسلسل دعا، اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی برکتوں کے طلبگار رہنے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہاں! ایک چیز اللہ تعالیٰ نے ہمیں، ایک مسلمان کو جو نعمت دی ہے، وہ یہی ہے کہ دعا کرو کہ میرے لیے رشتہ بہتر ہو اور اس دوران میں پھر مستقل دعا کرتے رہو۔ شادی کے وقت بھی اللہ سے تعلق پیدا کرو، اصل مقصد ہمارا اللہ سے تعلق پیدا کرنا ہے، اصل مقصد شادیاں کرنا نہیں۔ اللہ سے تعلق پیدا کرو اور اللہ سے کہو کیونکہ تیرا حکم تھا، اس لیے مَیں نے شادی کی اور میری شادی کو اب تُو با برکت کر دے۔ لیکن اگر واضح طور پرکسی کے خلاف دل میں انقباض پیدا ہوتا ہے، تو ماں باپ جو مرضی کہیں، تو کہہ دو کہ مَیں نے رشتہ نہیں کرنا۔ اور لڑکیاں ایسا کرتی ہیں۔ اس طرح لڑکے بھی اس طرح کرتے ہیں، تو تمہاراfreehand ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نکاح اور علیحدگی کے معاملات میں عورت کو عطا کیے گئے حق فیصلہ کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے لڑکیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی حکم دیا تھا کہ تم اپنے فیصلے خود کیا کرو۔ بلکہ جہاں تک شادیاں ہو جاتی ہیں، جب خلع یا علیحدگی کا سوال پیدا ہوتا ہے، تواس وقت بھی ایک حدیث میں آتا ہے کہ لڑکی آئی اوراس نے کہا کہ میری شادی تو اس سے ہو گئی ہے پر مجھے یہ پسند نہیں ہے۔ پتا نہیں زبردستی والدین نے شادی کرا دی ہوگی، تو مَیں تو اس سے خلع لینا چاہتی ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن اگر تم نے حقِ مہر لے لیا ہے تو تمہیں واپس کرنا ہو گا۔ اس نے کہا کہ پیسے میرے پاس ہیں مَیں دُگنا دے دوں گی۔ میری اس سے جان چھڑا دیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ٹھیک ہے اور خلع ہو گئی۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے پائیدار اور بابرکت ازدواجی تعلقات کی بنیاد دینداری اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پر اُستوار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تو یہ اختیار لڑکی کو اسلام نے دیا ہے اور تمہیں بھی دیا ہے اور مرد کو بھی دیا ہے کہ سوچ سمجھ کے رشتے کرو، دعا کر کے رشتے کرو تاکہ رشتے قائم رہیں۔ لوگ میرے سے نکاح پڑھوانے کے لیے آتے ہیں، تو نکاح میں مَیں ان کے لیے یہی دعا کرتا ہوں کہ ان کے رشتے قائم رہیں، آپس میں پیار و محبّت کا رشتہ ہو اورصرف ذاتی مفادات کا رشتہ نہ ہو۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم ایک دوسرے سے رشتے کرتے ہو، تو ان کا دین دیکھا کرو بجائے دنیا دیکھنے کے یا خوبصورتی دیکھنے کے یا دولت دیکھنے کے یا خاندان دیکھنے کے یہ دیکھو کہ اس میں دین ہے کہ نہیں۔ اللہ سے تعلق ہے کہ نہیں۔ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں دین دیکھنے لگ جائیں تو پھر پسندیں ایک جیسی ہو جائیں گی۔ پھر ماں باپ چاہے دنیا داری کی طرف جائیں توتم لڑکا بھی اور لڑکی بھی کہو کہ نہیں مَیں نے تو دینداری کی طرف جانا ہے۔

ایک اَور لجنہ ممبر نے راہنمائی کی درخواست کی کہ اگر شادی کے بعد شوہر یہ توقع کرے کہ بیوی کام کرے لیکن بیوی کام نہیں کرنا چاہتی تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نے ازدواجی زندگی میں عملی توقعات اور ذمہ داریوں کے باہمی تعیّن کو نکاح سے پہلے واضح کرنے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تو بیوی پڑھی لکھی ہے، کسی پروفیشن میں اس نے specializeکیا ہوا ہے تو اوّل عورت کی لڑکی کی خود خواہش ہوتی ہے کہ مَیں کام کروں اور اگر جس سے شادی ہوئی ہے، وہ شوہر لالچی ہے، تو اس کو کہو کہ اگر مَیں کام کروں گی بھی توتمہیں ایک آنہ نہیں دوں گی۔ جو پیسے ہیں میرے اپنے پاس آئیں گے۔ ایک centبھی مَیں نے تمہیں نہیں دینا۔ جو مَیں کماؤں گی میرا ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ شادی کوئی زبردستی تو ہے نہیں۔ جیسے پہلے مَیں نے اس کو کہا جب شادیاں کر رہے ہیں تو شرط رکھو کہ خاوند تمہارے اخراجات اُٹھائے گا۔ اگر لڑکی شادی سے پہلے کوئی کام کر رہی ہے توخاوند کو بھی اس کے گھر والوں کو بھی بتا دےکہ نہ میں کام کروں گی یا مَیں کام کروں گی تو پیسے تمہیں ایک آنہ نہیں دوں گی اور تم میرے گھر کے ذمہ دار ہو۔ یہ شرط رکھو، تو پھر ٹھیک ہے، رشتہ قبول ہے۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ آنہ برّصغیر میں رائج قدیم کرنسی کا ایک حصّہ تھا، ایک روپیہ سولہ آنے کے برابر ہوتا تھا، جبکہ ایک آنہ چار پیسے کے مساوی سمجھا جاتا تھا۔]

پھر حضورِانور نے اسلامی تعلیمات کے حوالے سے نکاح سے قبل شرائط کے شرعی دائرۂ اختیار کوبیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام میں تو اس کی اس حد تک اجازت ہے کہ اب دیکھو! ایک مرد کے لیے ایک سے زیادہ شادی کرنا جائز ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اگر عورت چاہے تو شادی سے پہلے ہی مرد کے ساتھ شرط رکھ سکتی ہے کہ تم دوسری شادی نہیں کرو گے جو مرضی حالات ہو جائیں۔ پھر مرد پابند ہے کہ وہ باوجود اسلامی حکم کے دوسری شادی نہ کرے۔ تو جب اس حدتک اسلام اجازت دے دے تو پیسہ کمانے والی تو بات ہی کوئی نہیں۔

اسی طرح جواب کے آخر میں حضورِ انور نے عورت کی خاندانی ذمہ داریوں اور پیشہ ورانہ مصروفیات کے درست دائرۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہاں! اگر تمہارا پیسے کمانے کا اپنا شوق ہے تو کماؤ لیکن اصل کام عورت کا بچوں کی تربیت ہے۔ گھر کو سنبھالو۔ گھر کی نگران عورت ہے اور بچوں کی تربیت کی ذمہ دار عورت ہے۔ ہاں! اگر کسی اچھے پروفیشن میں ہو، ڈاکٹر ہو یا کوئی ایسا پروفیشن ہے کہ جس سے انسانیت کی خدمت ہو رہی ہے تو وہاں کام کر سکتی ہو، لیکن مرد کو ندیدی نظر سےgreedyہو کےاس کے پیسوں کو نہیں دیکھنا چاہیے۔ اگر وہ دیکھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہsincereنہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ جا کے لڑائیاں شروع کر دو۔

ایک طالبہ نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ دوسروں کی کمزوری اور غلطیوں کے بارے میں بات کرنا یا انہیں آگے پہنچانا درست نہیں۔ لیکن روزمرہ زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں بعض لوگوں کے رویّوں سے تکلیف یا ناراضگی ہوتی ہے۔کبھی کچھ لوگ یا حالات ذہنی تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں اور ان کے بارے میں بات کر کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ نیز اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست کی کہ ایسی صورت میں کس مقام پر ایسی گفتگو غیبت بن جاتی ہے؟

اس پر حضورِ انور نے غیبت کے مفہوم، اس کے معاشرتی اثرات اور اصلاح کے درست طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے اس اَمر کی بابت توجہ دلائی کہ بات یہ ہے کہ غیبت اس وقت ہوتی ہے کہ جب تم اس بات کو، کسی کی کمزوری کو پھیلاؤ اور وہ اس تک پہنچے تو اس کے دل کو تکلیف پہنچے اور وہ تمہارے سے لڑنے کے لیے آ جائے اور معاشرے میں فساد پیدا ہو جائے۔ سوسائٹی میں فساد نہیں پیدا کرنا۔ تمہارا اصل مقصد تو اصلاح ہے۔ اگر تمہیں کسی سے تکلیف پہنچی ہے اور تم اس کی اصلاح کرنا چاہتی ہو تو اصل تو طریقہ پہلا یہ ہے کہ اس تک خود جاؤ اور کہو کہ مجھے تمہارے متعلق یہ بات پہنچی ہے جو میرے لیے کافی تکلیف دہ ہے، اس کو تم درست کرنا۔

پھر حضورِانور نے ذاتی اذیّت کے ازالے اور اصلاحِ معاشرہ کے متوازن اور محفوظ طریقۂ کار کی بابت فرمایا کہ اگر وہ ضدی آدمی ہے یا دشمنی میں ایساکر رہا ہے اور اس کے نقص بھی تمہیں پتا ہیں کہ کیا ہیں اور اس کی کیا کمزوریاں ہیں۔ جو تمہارا کوئی قریبی دوست ہو سکتا ہے، اس سے شیئر کرو، لیکن اس تسلّی کے ساتھ کہ وہ آگے پھیلائے گی نہیں تاکہ تمہارے دل کی بھڑاس نکل جائے یا جو متعلقہ جماعتی عہدیدار ہیں یا خلیفۂ وقت ہے ان کو لکھ کے کہہ سکتے ہو کہ یہ اس طرح کی باتیں میرے متعلق کی گئی ہیں جس سے مجھے بہت زیادہ تکلیف پہنچائی گئی ہے۔ بہت زیادہ ذہنی طور پر مجھے tortureکیا گیا ہے اور جو سوسائٹی میں میرا ایک imageتھا اس کو بھی خراب کیا گیاہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے منع بھی فرمایا کہ یہ غلط چیزیں ہیں، تو اس کے لیے اس کی اصلاح کریں، پھر نظامِ جماعت کا کام ہے کہ اس کی اصلاح کرے۔

اسی طرح حضور ِانور نے ردّعمل میں رَوا رکھے گئے طرزِعمل سے اجتناب اور فساد کی بجائے اصلاح و امن کو مقدّم رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ لیکن کسی کے خلاف اگر تم بھی اسی طرح کہ جس طرح اس نے تمہیںtortureکیا، گندی فضول باتیں تمہارے متعلق کیں، تم نے بھی اس کے متعلق کر دیں تو لڑائی پھیلتی جائے گی۔ پھر اس کے کچھ ہمدرد لوگ ہوں گے وہ اس کی طرف سے تمہارے سے لڑنے آ جائیں گے، تمہارے ہمدرد لوگ ہوں گے، وہ ان سے لڑنے چلے جائیں گے تو فساد پھیلتا جائے گا کم تو نہیں ہوگا۔ اصل مقصد تو یہ ہے کہ فساد کم ہو اور دنیا کی اصلاح ہو۔ ایک مسلمان ،حقیقی مسلمان کا کام یہ ہے کہ فسادوں کو کم کرے نہ یہ کہ فساد کو بڑھائے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے فساد کے خاتمے اور مسئلے کے مؤثر حل کے لیے متوازن اور مرحلہ وار طریقہ کار اختیار کرنے کی بابت راہنمائی کرتے ہوئے اس نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ تو جب فسادوں کو کم کرنا ہے تو اس کے لیے تمہیں کوئی نہ کوئیway outتلاش کرنا پڑے گا۔ہاں! دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے بعض رازدار ہوتے ہیں، لیکن یہ تسلّی ہو کہ وہ کہیں اَور بات نہیں کرے گا۔ سہیلیاں تمہاری ہوں گی،آخر سارے تمہارے دشمن تو نہیں، کوئی دوست بھی تو ہوگا تو اس سے شیئر کر سکتی ہیں۔ اس کو یہ کہہ کے کہ میرا مقصد فساد نہیں ہے بس مَیں دل کا بوجھ ہلکا کر رہی ہوں۔ اور پہلی بات تو یہی ہے کہ اس شخص تک بھی بات پہنچائی جائے تاکہ وہ اپنی اصلاح کرے اور پھر وہ دشمنی میں اگر کر رہا ہے تو پھر نظامِ جماعت کو بتاؤ۔

ایک لجنہ ممبر نے سوال کیا کہ زندگی میں جب انسان ذہنی دباؤ کی وجہ سے بہت مشکل وقت سے گزرا ہو، خود کو دین سے دُور محسوس کرے اور نماز اور ایمان کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے، حتّٰی کہ نماز پڑھنے کے لیے بھی بہت طاقت لگتی ہو، تو اس حالت سے نکلنے اور دوبارہ طاقت حاصل کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے بحیثیتِ نوجوان ہمت و حوصلہ برقرار رکھنے اور مثبت سوچ اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ جوان ہو، جوان بنو اور انسان میں ہمت ہونی چاہیے۔ہلکے چھوٹے چھوٹے بوجھ جو ہیں ان کو مسئلے نہیں بنا لینا چاہیے۔ ہاں! بعض دفعہ گھر کے ماحول کی وجہ سے یا معاشرے کے ماحول کی وجہ سے یادوستوں کی وجہ سے یا environment کی وجہ سے انسان ڈپریشن میں چلاجاتا ہے۔ گہری سوچ کی علامت ہوتی ہے، زیادہ سوچتا ہے، تو اتنا ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔

پھر حضور انور نے ذہنی دباؤ سے نکلنے کے لیے ذکرِ الٰہی، نماز اور دعا کو عملی علاج کے طور پر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا کہ تو ایسی حالت میں ایک تو یہ کہ درود شریف پڑھو، اِستغفار پڑھو، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ پڑھو، دو نفل پڑھو، دعا کیا کرو۔ دعا میں اگر توجہ پیدا نہیں ہوتی، تو تب بھی سجدے میں چلی جاؤ اور اللہ سے کہو کہ مَیں نے تجھ سے ہی مانگنا ہے، جو کچھ مانگنا ہے، مجھے دے۔ آج مَیں نے اس وقت تک اُٹھنا ہی نہیں کہ جب تک تُو دیتا نہیں اور پھر اللہ تعالیٰ دل کو تسلّی بھی دیتا ہے۔

اسی طرح حضورِ انور نے خدا کے دَر پر دھونی جمائے بیٹھے رہنے کے حوالے سے اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں اللہ تعالیٰ سے مسلسل اور عاجزانہ دعا کے غیر معمولی روحانی نتائج کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر ایک کا تجربہ ہے۔ ہمارا بھی تجربہ ہے۔ بعضوں نے تجربے کیے ہوئے ہیں۔ بلکہ کل ہی مجھے کسی نے لکھا کہ فلاں شخص کا بھائی کے ساتھ یا بہن کے ساتھ فلاں مسئلہ ہو گیا، کوئی بیمار ہو گیا، تو میری بہن جو تھی وہ سجدے میں گر گئی اور سجدے سے سر ہی نہیں اُٹھا رہی تھی۔ دو تین گھنٹے کے بعد، جہاں جو نہ ہونے والی بات تھی وہ پُوری ہو گئی تو اس کو اس کے باپ نے کہا کہ وہ مسئلہ حل ہو گیا، تمہارا بھائی جو بیمار تھا یا جو بھی تھا وہ ٹھیک ہو گیا یا تمہاری جو مشکل تھی وہ حل ہو گئی ہے اب سلام پھیر دو توپھر اس نے سلام پھیر دیا۔

جواب کے آخر میں حضور ِانور نے اصل طاقت اور سہارا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو قرار دیتے ہوئے مومن کے لیے اسی سے کامل وابستگی، دعا میں استقامت اور توکّل کی ضرورت پر زور دیا کہ تو بعض دفعہ اس طرح اللہ تعالیٰ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ اللہ سے کہو کہ مَیں نے تجھ سے ہی مانگنا ہے۔ اَور کون دنیا میں ہے۔ طاقت تو ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے۔ جب اللہ کے پاس طاقت ہےتو پھر اس کے ساتھ لفظ تو عام طور پر لوگ بولتے ہیں کہ ڈھیٹ بن جانا، لیکن ڈھیٹ نہیں بن جانا لیکن مستقل مزاجی سےاللہ سے تعلق پیدا کرتے رہو۔ کہو کہ اللہ تعالیٰ تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے؂

مَیں ترا دَر چھوڑ کر جاؤں کہاں

چینِ دل آرامِ جاں پاؤں کہاں

کوئی دَر اس کے علاوہ ہے ہی نہیں ہے۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ مَیں وصیّت کرنا چاہتی ہوں تاکہ اللہ کے قریب ہو سکوں اور بہتر انسان بن سکوں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ مَیں ابھی دینی طور پر مضبوط نہیں ہوں۔ کیا مجھے ابھی وصیّت کر لینی چاہیے اور ساتھ اپنی اصلاح کرتی رہوں یا پہلے انتظار کروں کہ جب تک مَیں بہتر نہ ہو جاؤں اور مَیں وصیّت کی تیاری کیسے کروں؟

اس پر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ وصیّت کی جو کتاب ہے وہ پڑھی ہے؟ نیز ہدایت فرمائی کہ اس کتاب کو دو تین دفعہ پڑھو۔

پھر حضورِ انور نے نظامِ وصیّت کے حقیقی مقصد اور اس کے عملی اثرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس میں دیکھو کہ اس کامقصد کیا ہے۔ ایک تو اس میں یہی لکھا ہوا ہے کہ خلافت کے ساتھ تعلق۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت، یہ یقین کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، یہ یقین کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت پیدا کی ہے تو اس کو ترقی بھی دے گا۔ تقویٰ پر چلنا۔تقویٰ ضروری شرط ہے، نمازیں پڑھنا ضروری شرط ہے۔ یہ چیزیں اگر پڑھ رہی ہو اور پھر جو وصیّت کر لو گی تو پھر خیال پیدا ہوگا کیونکہ اب مَیں نے وصیّت کر لی ہے تو مَیں نے پہلے سے بہتر انسان بننا ہے۔ اپنا اللہ سے بھی تعلق بہتر کرنا ہے اور اخلاق کو بھی پہلے سے بہتر کرنا ہے۔ جب یہ ہوگا تو طبیعت بہتری کی طرف مائل ہو جائے گی۔

اسی طرح حضورِ انور نے وصیّت کے انسان کی عملی اصلاح، خود احتسابی اور نیکی کی طرف مائل ہونے میں مؤثر کردار کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض دفعہ وصیت بھی اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہ کہنا کہ اصلاح نہیں ہوئی، اس لیے وصیّت نہ کروں، تو پھر جب بھی کوئی غلط خیال آئے گا تو کہہ دو گی کہ مَیں نے کون سی وصیّت کی ہوئی ہے۔اگر غلط کام کر بھی لوں تو کوئی ہرج نہیں ہے۔ لیکن جب وصیّت کی ہوگی تو خیال آئے گا کہ مَیں نے وصیّت کی ہوئی ہے تو مَیں نے غلط کام نہیں کرنا۔اس لیے سوچ سمجھ کے دعا کر کے فیصلہ کرو، یہ تو خود ہی فیصلہ کر سکتی ہو، کوئی کسی کو نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اصول یہی ہے کہ نیکی کو ایک طرف قدم بڑھاؤ تو اور نیکیاں کرنے کی توفیق ملتی ہے۔

ایک لجنہ ممبر نے اس بات کا ذکر کیا کہ بعض رشتوں میں ہونے والے شوہر یا بیوی یا ان کے رشتہ داروں میں اَنا کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود کو بدلنے کےلیے تیار نہیں ہیں۔ اس حوالے سے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں راہنمائی کی عاجزانہ درخواست پیش کی۔

اس پر حضورِ انور نے یا د دلایا کہ اس لیے مَیں نے اس کو بتایا تھا کہ پہلے سوچ سمجھ کے فیصلہ کرنا چاہیے، دعا کر کے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر یہ رشتہ بہتر ہے تو میرا رشتہ ہو جائے۔

پھر حضورِ انور نے ازدواجی زندگی میں اَنا کے منفی اثرات کوبیان کرتے ہوئے عاجزی، برداشت اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کو خوشگوار اور پائیدار تعلقات کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ جھوٹی اَنائیں ہوتی ہیں۔ اَنا کیا ہے۔ اَنا تو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ دونوں میں عاجزی ہو۔ جب ایک bondمیں شامل ہو رہے ہیںتو دونوں کو ایک لو اور دو والے اصول پر عمل کرنا چاہیے ہوگا۔ اگر کرو تو اَنا کوئی نہیں ہوتی، اُس کو پتا ہو کہ مَیں نے اِس کے حق ادا کرنے ہیں، تمہیں پتا ہو کہ مَیں نے دوسرے کے حق ادا کرنے ہیں۔

اسی طرح حضورِ انور نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میاں بیوی کو ایک دوسرے کی کمزوریوں سے صَرفِ نظر کرنے اور ایک دوسرے کی خوبیوں اور مثبت پہلوؤں پر توجہ مرکوز رکھنے کے حوالے سے عملی اور حکیمانہ نصیحت فرمائی کہ شادی کے بعد لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ نصیحت کریں۔تو مَیں ان کو کہتا ہوں کہ دیکھو! کوئی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ تمہارے میں بھی کمزوریاں ہیں، بُرائیاں ہیں، لڑکے میں بھی کمزوریاں ہیں، بُرائیاں ہیں، اس لیے جب تم ایک دوسرے کی بُرائیاں دیکھو تو اپنی آنکھیں بند کر لو، سننے کے لیے بُرائیاں کان بند کر لو اور کچھ کہنے کی بجائے منہ بند کر لو۔ یہ تین چیزوں کو بند کر لو تو تمہارے رشتے بڑے اچھے ہو جائیں گے۔ دونوں فریق یہی کریں تو تب اَنا بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اگر یہ ہو کہ سب طاقتوں کا سرچشمہ،سب سے بڑی طاقت والا، وہ تو خدا تعالیٰ ہے ہم تو کوئی طاقت نہیں رکھتے تو پھر اَنا کیسی؟

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اپنے حالیہ خطبات کے تناظر میں عائلی زندگی میں عاجزی و انکساری کو فروغ دینے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایاکہ اس لیے آجکل مَیں عاجزی انکساری کے خطبے بھی دے رہا ہوں۔اپنے منگیتر کو بھی سناؤ اور خود بھی سنو اور اپنے خاندان والوں کو بھی سناؤ۔ اس کے خاندان میں سسرالی خاندان کو بھی سناؤ کہ دیکھو! عاجزی پیدا کرو، عاجزی میں ہی ساری برکتیں ہیں۔ ابھی تو کچھ تھوڑے سے واقعات مَیں لیتا ہوں، مَیں سارے لیتا بھی نہیں، اس بارے میں بھی بے شمار واقعات ہیں۔ توegoنہیں ہونی چاہیے۔

ایک سوال حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں یہ پیش کیا گیا کہ ہم نوجوان نسل کو بُرے کاموں جیسے کہ اے آئی کی حدّ سے زیادہ عادت، غیر اسلامی تعلقات اور ویپنگ(vaping) [الیکٹرانک سگریٹ] جیسی بُری عادتوں سے کیسے بچا سکتی ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ تمہیں پتا ہے کہ یہ بُری عادتیں ہیں؟موصوفہ کے اثبات میں جواب عرض کرنے پر حضورِ انور نے بُرے اعمال کو آگ سے تشبیہ دے کر ان سے اجتناب، انسانی ذمہ داری اور عملی نظم و ضبط کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں پتا ہے کہ آگ جل رہی ہے تو اس آگ میں جان بوجھ کے ہاتھ ڈالو گی، نہیں ڈالو گی؟ لیکن اگر غلطی سے پڑ جائے تو جل جائے گا تو پھر اُفّ اُفّ کرو گی اور آئندہ سے بچو گی۔ تو جب تمہیں پتا ہے کہ یہ آگ ہے تو پھر کیوں ہاتھ ڈالتے ہو؟ یہ تو ہوا کہ وہ غلطی سے چلا جائے۔ اسی لیے بچا سکتے ہیں کہ اللہ سے تعلق نہیں ہے۔ اگر پانچ نمازیں وقت پر پڑھیں، اپنی زندگی disciplined ہو جائے تو پھر ہماری توجہ اللہ کی طرف ہوگی، نیک کاموں کی طرف ہوگی اور کسی مقصد کے لیے ہوگی، purposeful زندگی ہو گی۔ یہ نہیں ہوگا کہ ہم نے سارا دن اے آئی پر بیٹھ کے، آئی پیڈ، اینڈرائڈ پر یا آئی فون پر یا سیل فون پر بیٹھ کے تو صرف اے آئی سےفضول قسم کے سوال جواب ہی کرتے رہنا ہے۔

اسی طرح حضورِ انور نے مصنوعی ذہانت پر غیر ضروری اعتماد اور اس کے ممکنہ غلط نتائج کی بابت آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض اسلامی کاموں کے بارے میں ہمارے ایک شخص نے اے آئی سے یہاں ایک سوال کیاتو اس نے اس کا جواب دیا، تو اس شخص نے کہا کہ حدیث میں یہ آیا ہے، تمہارا جواب غلط ہے اور یہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو اے آئی نے فوراً replyکیا کہ ہاں! تم ٹھیک کہتے ہو میرے پاس تو جو علم ڈالا گیا تھا اس کے مطابق مَیں نے جواب دے دیا اور میرا یہ جواب غلط تھا۔ تو اے آئی بھی غلط جواب دے دیتی ہے تو اے آئی پر اتنا relyبھی نہیں کرنا چاہیے۔

مزید برآں جواب کے آخر میں حضورِ انور نے ویپنگ اور اسی نوعیت کی لغو و نقصان دہ عادات سے اجتناب برتنےاور قوّتِ ارادی و دینی شعور کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ باقی ویپنگ وغیرہ جو ہیں یہ تو فضول عادتیں گندی عادتیں ہیں، لغو عادتیں ہیں۔ اس لیے قرآنِ شریف میں اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جو لغو چیزیں ہیں، فضول چیزیں ہیں ان سے بچو۔تو جب انسان کو پتا ہے کہ لغو ہے تو پھر تو بچنا خود تمہاری willpower ہونی چاہیے۔ ایک willpower ہو، determination ہو اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہو تو پھر تم بچ سکتی ہو۔

حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا جانے والا اگلاسوال یہ تھا کہ جب لوگ قرآن پر یہ شک کرتے ہیں کہ اتنی صدیاں گزرنے کے بعد انسانوں نے اس میں کوئی تبدیلی کر دی ہوگی، تو ہم یہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ قرآن اپنی اصل حالت میں محفوظ رہا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے قرآن کریم کی تاریخی حفاظت، موجودہ نسخوں کی ہم آہنگی اور اعتراض کرنے والوں کے طرزِاستدلال کی کمزوری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ سوال یہ ہے کہ جو قرآنِ کریم ۱۴۰۰؍ سال پہلے تھا، وہ روایتوں میں چلا آرہا ہے، سارے نسخے موجود ہیں۔ قرآن کریم کی توhistory یہ ہے۔ اب تو بعض میوزیم جو ہیں وہاں قرآنِ کریم کے پُرانے نسخے پڑے ہوئے ہیں، ۱۴۰۰؍ سال پُرانے بھی لکھے ہوئے ہیں۔ ترکی میوزیم میں ہیں اَور جگہوں پر بھی ہیں۔ تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں جو لکھا ہے کہ وہ ہر ایک،وہی چیز پڑھتا چلا جا رہا ہے۔

حضورِ انور نے قرآنِ کریم پر کیے جانے والے بےبنیاد اعتراضات کے مقابلے میں ثبوت کی اہمیت اور اس کے محفوظ و مستند ہونے کے شواہد کو نمایاں کرتے ہوئے فرمایا کہ تو یہ تو غیر مسلموں کا اعتراض ہے کیونکہ ان کی بائبل changeہو گئی اس لیے یہ کہتے ہیں۔ قرآنِ کریم تو changeہوا ہی نہیں۔ قرآنِ کریم کا تو یہ دعویٰ ہے کہ اس کو کوئی changeکر ہی نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کر رہا ہے۔ اگر کہتے ہیں کہ changeہوا تو کوئی ثبوت دیں کہ change ہوا۔ صرف اعتراض کر دینا کہ دیکھو جی! باقی change ہو گئے تو قرآن بھی change ہو گیا ہو گا یہ تو سننے والے کی بیوقوفوں والی بات ہے۔ اس سے کہو کہ تم اعتراض کر رہے ہو تو ثابت کرو کہ یہ تمہارا اعتراض کس طرح درست ہے؟ پھر مَیں تمہیں جواب دوں گی کہ تمہارا اعتراض غلط ہے۔ قرآنِ کریم اپنی اصلی حالت میں ہے اس کے پُرانے نسخے بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں اور چھپے ہوئے نسخے بھی موجود ہیں۔کہیں کسی زمانے میں بھی قرآنِ کریم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہمارے پاس جو چھپے ہوئے قرآنِ کریم ہیں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ واقعی نہیں آئی۔ تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ آئی ہے ؟ جب ان سے پوچھو گی تو وہ بتائیں۔ تو جس نے الزام لگایا ہے یہ تو اس کے ذمے ہے کہ الزام کو ثابت کرے۔ پھر تم سچائی کو بعد میں ثابت کرو گی اور سچائی تو ثابت ہے۔

اسی طرح حضور انور نے قرآن کریم کے دعویٔ حفاظت، اس کی تاریخی صداقت اور دیگر مذہبی کتب سے اس کے امتیاز کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جو قرآنِ شریف تھا یا اِس سے پہلے تھا یا اُس سے پہلے تھا، دنیا میں قرآنِ کریم کے نسخے موجود ہیں، کہیں نہیں تم دیکھ سکتی کہ کوئی تبدیلی آئی ہو اور یہ صرف قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ تبدیل نہیں ہو سکتا باقی کسی کتاب کا دعویٰ ہی نہیں ہے۔

جواب کے آخر میں حضور ِانور نے مغربی معاشروں سے غیر ضروری مرعوبیت کے بجائے عقل، دلیل اور حقیقت کو معیار بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ جو اعتراض لگاتے ہیں ان کے پاس کیا ثبوت ہے کہ قرآنِ کریم میں تبدیلی آئی ہے۔ یہ کہہ دینا کہ آئی ہوگی یہ تو بچوں والی بات ہے کہ بچہ کہہ دے کہ نہیں اس کھانے میں کڑواہٹ ڈالی ہوگی۔ تم کھاؤ گے تو پتا لگے گا۔ اس لیے لوگوں کی باتیں سن کے متأثر نہ ہو جایا کرو۔ یہ نہ سمجھو کہ یورپ میں جو رہتے ہیں، جرمنی میں رہتے ہیں، یہ لوگ بڑے عقلمند ہیں۔ بڑے بڑے سیاست دانوں سے، لیڈروں سے بھی بات کر کے مَیں نے دیکھا ہے کوئی عقل نہیں ہے۔

ایک شریکِ مجلس نے راہنمائی کی درخواست کی کہ انسان عاجزی کیسے پیدا کرے جبکہ آجکل حیثیت اور پرفارمنس کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے؟

اس پر حضورِ انور نے علم، قابلیت اور اچھی کارکردگی کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے اسے احساسِ برتری کی بجائے عاجزی کا ذریعہ بنانے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ پرفارمنس ہونا تو اچھی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ نیکیوں میں آگے بڑھو، فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِکہ نیکیوں میں بڑھو اور نیکیوں میں، خیرات میں، ہر چیز آجاتی ہے۔ ہر وہ بات جو تمہارے فائدے کے لیے ہے، جو انسانوں کے فائدے کے لیے ہے، جو علم میں اضافے کے لیے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم حاصل کرو۔ جب تم علم حاصل کرو گے تو تمہاری پرفارمنس بھی ظاہر ہو گئی۔ تو اس کوstatus سے بریکٹ کیوں کرتے ہو۔ لیکن جب علم حاصل ہو تو اتنا ہی انسان عاجز بنے۔یہ کہنا کہ میرے پاس علم ہے اور تمہارے پاس علم نہیں، دوسرے سے بحث کرنے لگ جائےتو وہ بلا وجہ کاتکبّر ہے۔

پھر حضورِ انور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اُسوۂ حسنہ کی روشنی میں عاجزانہ طرزِگفتگو اختیار کرنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے خطباتِ جمعہ سے علمی و روحانی راہنمائی حاصل کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ابھی آجکل مَیں واقعات سنا رہا ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات بھی حدیثوں سے سنائے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بھی سنائے کہ لوگوں سے جب بات کر رہے ہوتے تھے تو کہتے تھے کہ ٹھیک ہے آپ کو بہت علم ہوگا، لیکن حقیقت یہ ہے۔ عاجزی سے بات کریں تو لوگوں کو سمجھ آجاتی ہے۔ میرے خطبے ذرا غور سے سنا کرو، انہی میں جواب آ جاتے ہیں، اسی لیے مَیں دیتا ہوں کہ سوال بیچ بیچ میں سے نکالو۔ تم لوگوں نے خود پڑھنا نہیں، توان لوگوں سے سن کے ذرا سی کسی سے بات سن کر پریشان ہو گئے۔ احمدیوں کا کام نہیں پریشان ہونا۔

اسی طرح جواب کےآخر میں حضور انور نے جدید ذرائعِ علم، خصوصاً جماعتی ویب سائٹس اور آن لائن وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے اور حاصل کردہ تعلیم و معلومات کو عملی زندگی اور علمی ترقی کے لیے بروئے کار لانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی بھی اعتراض سنو تو تمہارا کام ہے کہ فوری طور پراس کے لیے تلاش کر کے، اس کا جواب نکالو۔ اور اگرخود کہیں سے جواب نہیں بھی ملتا تو اب تو اس میں بھی بے شمارinformationنئی ٹیکنالوجی میں، سوشل میڈیا پر بھی، بلکہ ہماری جو نئی ویب سائٹس ہیں، اسلامی ویب سائٹس ان پر بھی، alislam پربھی آچکی ہوئی ہے یا لوگوں سے پوچھ سکتے ہو تو وہاں سے تمہیں جواب مل جائیں گے۔ تو اب تمہیں سرچ کرنی ہو، قرآنِ شریف سے یا کسی بھی ٹاپک پر سرچ کرنی ہو، تو alislam میں قرآن پر جاؤمل جائے گی، حدیث پر جاؤ مل جائے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں پر جاؤ مل جائے گی۔ تو اب تو یہ سرچ کرنا مشکل کام رہا ہی نہیں۔ alislam نےبہت آسان کر دیا۔ دیکھنے کی عادت ڈالو، پڑھی لکھی لڑکیاں ڈگریاں لے کے صرف بیٹھ نہ جاؤ، ان ڈگریوں کو استعمال بھی کرو۔ جو اپنا علم ہے اس کو بڑھاؤ۔

دورانِ ملاقات حضورِ انور سوالات کے جواب عطا فرمانے کے ساتھ ساتھ طالبات کو قلم بطور تبرک سے بھی نوازتے رہے۔

یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’الله حافظ ہو، السلام علیکم!‘‘پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعت احمدیہ بیلجیم کےواقفینِ نَو پرمشتمل ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button