حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار الله ویسٹرن نیویارک ریجن کے ایک وفد کی ملاقات

عبادالرحمٰن بننا صرف یہی نہیں کہ نمازیں پڑھ لیں اور عبادالرحمٰن بن گئے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا جو بھی حکم ہے اس پرعمل کرنا ہے۔ اِیَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاكَ نَسۡتَعِیۡنُ جب ہم پڑھتے ہیں تو اس میں صرف یہی نہیں کہ ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے حکم ہیں اس کے لیے پوریsubmissionہے اور اس پر پھر ہم عمل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ یہ تصوّر پیدا کرنا ہوگا۔ یہ تعلیم دینی ہوگی۔ اس کے لیے مَیں بھی کوشش کرتا رہتا ہوں اورآپ لوگ بھی کوشش کریں، تو یہ consolidatedکوشش جوہوگی یہmultiply ہو کے بہت زیادہ اچھا رزلٹ پیدا کرے گی۔

مورخہ ۸؍ جون ۲۰۲۶ء، بروزپیر، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار الله امریکہ کے ویسٹرن نیویارک ریجن سے تعلق رکھنے والے انصار پرمشتمل اکیس(۲۱) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ بابرکت ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے امریکہ سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

بعدازاں تمام شاملین مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورِ انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک ناصر نے عرض کیا کہ آجکل معلومات کی زیادتی مسلسل distraction، مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا اور ذہنی دباؤ کا دَور ہے، ایسے حالات میں قرآن ِکریم سے صرف علمی یا رسمی تعلق کی بجائے ایک زندہ ذاتی اور بدل دینے والا تعلق کیسے پیدا کیا جائے؟

اس پر حضور ِانور نے ذہنی دباؤ اور انتشارکے پسِ منظر میں انسانی خواہشات اور ترجیحات کے بدلنے کے اثرات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر زمانے میں حالات کے مطابق، ان لوگوں کی دماغی صلاحیتوں کے مطابق یا ماحول کے مطابق ایسی ہی چیزیں تھیں، distractionبھی ہوتی تھی اور بہت ساری ایسی چیزیں تھیں جو ان کی توجہ پھیرنے والی تھیں یا دنیا داری کی طرف لے جانے والی تھیں۔ اب اس کا نام آپ چاہے ذہنی دباؤ کہہ لیں۔ ذہنی دباؤ کیوں ہے؟ اس لیے کہ دنیا کی خواہش زیادہ ہو گئی۔ سو خواہشات کیpreference جب بدل جاتی ہے اور وہ پوری نہیں ہو رہی ہوتیں توfrustration ہوتی ہے اورپھر ذہنی دباؤ ہوتا ہے۔

حضور ِانور نے مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس پر غیر ضروری انحصار کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ مصنوعی ذہانت کا آپ نے نام لے دیا۔ مصنوعی ذہانت تو ایک بالکل علیحدہ چیز ہے۔اس کا اسdistractionسے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں! اگر آپ کہیں کہ ہمیں کسی سوال کا جواب نہیں آتاتو ہم فوراً اے آئی کی طرف چلے جاتے ہیں اور اسے کہتے ہیں کہ تلاش کرو۔ ویسے یہ بتا دوں کہ ہم نے یہاں اے آئی سے دینی معلومات کے لیے ایک تجربہ کیا تھا۔ ہمارے ایک مربی سے کہا گیا تھا تو انہوں نے ایک سوال کا اس سے جواب مانگاتو اے آئی نے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں حدیث میں تو یہ لکھا ہوا ہے تمہارا جواب غلط ہے، یہ نہیں ہے۔ تو اے آئی نے پھر جواب دیا کہ ہاں! تم ٹھیک کہتے ہومیرا جواب غلط ہے، تو اے آئی پر اتنا بھیrely نہ کریں۔

اسی طرح حضورِ انور نے بدلتی ہوئی ترجیحات، دنیاوی خواہشات اور ذہنی سکون کی غلط تلاش کے رجحان کی نشاندہی کرتے ہوئے قرآنی تعلیم کی جانب توجہ مرکوز کروائی کہ دوسری بات یہ ہے کہpreferencesبدل گئی ہیں، ترجیحات بدل گئی ہیں یا تو دنیا کی خواہش ہے یا یہ ہے کہ مَیں ان چیزوں میں پڑا رہوں تاکہ مَیں اپنی طرف سے ذہنی سکون تلاش کروں، حالانکہ قرآنِ کریم کہتا ہے کہ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ یعنی اللہ تعالیٰ کا جو ذکر ہے اس سے ذہنی اور دلی سکون حاصل ہوتا ہے۔

بعد ازاں حضورِ انور نے قرآنِ کریم کو ہر مسئلے کا جامع حل قرار دیتے ہوئے تدبّر، تفاسیر کے مطالعہ اور دعا کے ذریعے راہنمائی حاصل کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ آپ ہارٹ سپیشلسٹ بھی ہیں۔ اگر ذکر کرنے والے ہوں اور خود قرآنِ کریم کی تعلیم کو سمجھنے والے ہوں توہر بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں دیا ہے۔ جس کی سمجھ نہیں آتی اس کی تفسیریں لکھی ہوئی ہیں، تفسیر پڑھیں۔ اور جو بھی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے ہی مدد مانگیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ آپ کی راہنمائی کر سکتا ہے۔ اب ڈاکٹر عبدالسلام صاحب سائنٹسٹ تھے۔وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے تو کوئی پانچ سو یا سات سو آیتیں ایسی نکالی ہیں جو سائنس سے تعلق رکھنے والی تھیں اور جنہوں نے مجھے گائیڈ کیا کہ مَیں ریسرچ کروں۔ سو اگر آپ لوگ پڑھے لکھے لوگ ہیں تو آپ خود تلاش کر سکتے ہیں۔

مزید برآں جواب کے آخر میں حضورِ انور نے عام انسان کے لیے دین پر سادہ مگر مستقل عمل اور دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے راہنمائی کے حصول کی بابت ارشاد فرمایا کہ باقی جو عام آدمی ہیں اس کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی پانچ نمازیں اگر صحیح طرح ادا کرتا ہے اور اس میں دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ راہنمائی بھی فرما دیتا ہے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم مجھ سے مانگو اور میرا صحیح حق ادا کرو تو مَیں تمہیں پھر بھی نہیں دوں گا۔ نہیں! بلکہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم مانگو تو مَیں دوں گالیکن شرط یہ ہے کہ میری بات مانو اور مجھ پر ایمان لاؤ۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ پیارے حضور! ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ادھیڑ عمری میں ہونے والی طلاقوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انصار اس میں کمی لانے کے لیے کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

اس پر حضور ِانور نے استفسار فرمایا کہ middle-age سے آپ کی مراد چالیس سال کے بعد ہے؟اس پر ناصر نے اثبات میں تصدیق کرتے ہوئے عرض کیا کہ خاص طور پر چالیس سال اور اس کے آس پاس کی عمر ان کی مراد ہے۔

حضورِ انور نے ادھیڑ عمری میں بڑھتے ہوئے رجحانِ طلاق اور اس کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ چاہے وہ divorce جلدی ہو جائےیا بعد میں ہو جائے اور چالیس سال کے بعد جب بچے پیدا ہو جاتے ہیں، بچے بڑے ہو جاتے ہیں، بعضوں کے دس پندرہ سال شادیوں کو بھی گزر جاتے ہیں، بعضوں کے بیس پچیس سال گزر جاتے ہیں تو پھر عورتیں کہتی ہیں کہ جی! ہمارے حق نہیں ادا کیے، ہم نے بڑی مشکل سے بچوں کے بڑے ہونے تک گزارہ کرلیا ہے، اب ہم مزید اس کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اصل تو چیز وہی ہے کہ جو انہی کا سوال ہے کہ دین کو بھول رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ نہیں ہے۔ ذاتی خواہشات اور دنیاوی خواہشات زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ ترجیحات بدل گئی ہیں۔ جب یہ حالت ہو جائے تو پھر وہیtrend شروع ہو جاتا ہےکہ جو دنیا داروں کا ہے۔

حضورِ انور نے مغربی معاشروں کے خاندانی نظام اور بڑھتے ہوئے طلاق کے رجحان کی بابت نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا داروں میں بھی آپ دیکھ لیں کہ یہاں جب یورپ میں، امریکہ میں، ویسٹرن ملکوں میں یا ترقی یافتہ ملکوں میںdivorce rate بہتhigh ہے، پینسٹھ ستّر فیصد ہے۔ آپ کا ابھی تک جو بڑھا بھی ہے، وہ twenty percent تک پہنچا ہے اور اس کی بھی ہمیں فکر ہے۔ جب مَیں نے یہ کہنا شروع کیا تھا کہ سنبھالو سنبھالو! اس وقت تین چار percent تھا، اب آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے اور مَیں بھی دیکھ رہا ہوں۔

اسی طرح حضورِ انور نے بچوں کی بھلائی کے پیشِ نظر والدین کو ذاتی مفاد سے بالا ہو کر قربانی کا جذبہ اختیار کرنے اور والدین کی علیحدگی کے بچوں پر مرتّب ہونے والے گہرے اثرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ جب بچے ہو جائیں، تو اس کے بعد مَیں تو ماں باپ کو یہی کہا کرتا ہوں کہ اب تمہارا ذاتی مفاد نہیں ہے، اب بچوں کی خاطر تم دونوں کو قربانی کرنی چاہیے۔ یہ کہہ دینا کہ جی! ہم نے بچوں کی خاطر بچپن میں قربانی کر لی، اب چلے جائیں، تو بعض بڑے بچے ہو تےہیں اور بعض ابھی بھی ایسیage میں ہوتے ہیں کہ جن پر ماں باپ کی علیحدگی کا اثر ہوتا ہے۔

بعد ازاں حضورِ انور نے خاندانی استحکام کے لیے دینداری کو بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے شعبہ تربیت پر عائد ہونے والی ذمہ داری کی بابت یاددہانی کروائی کہ سواگر دنیا داری کی بجائے دینداری کی طرف توجہ پیدا ہو جائے، تو یہdivorce rate کم ہو جائے گا اور اگر دنیا داری میں ہی رہنا ہے، جس طرح سمجھتے ہیں کہ ویسٹرن ملکوں میں آ کے یا ترقی یافتہ ملکوں میں آکے یا developed ملکوں میں آکے ہم نے اب صرف دنیا ہی کو کمانا ہے تو پھر وہی حال ہوگا جو دنیا داروں کا ہوتا ہے۔ جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے۔ اس لیے کوشش یہی ہے کہ تربیت کا جو شعبہ ہے وہ لوگوں کو بتائے کہ اللہ سے تعلق پیدا کرو اور اسی کو سب کچھ سمجھو اور پھر اگلی نسلوں کی فکر کروتو یہ ایسی باتیں نہیں ہوں گی۔

مزید برآں حضورِ انور نے عائلی مسائل میں غیر ضروری خواہشات، ماحول کے منفی اثرات اور دینی تربیت کی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ بڑے ہو کے چالیس پینتالیس سال کے بعد جا کے پتا نہیں کیوں خواہشات ہوتی ہیں۔ پھر انسان کہتے ہیں کہ دوبارہ جوان ہوں اور نئی شادی مَیں کروں۔ اصل میں بیویوں کے خاوندوں کے مسائل کم ہوتے ہیں لیکن کہیں ماحول کی وجہ سے دوسری پسند شروع ہو جاتی ہے۔ اس ماحول میں تربیت کی ضرورت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے درمیان حجاب رکھا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک restriction لگائی ہے کہ تم اس کے اندر رہو، یہ تمہاریlimitations ہیں، اس کے اندر رہو گے تو بعد میں بھی تمہاری زندگی اچھی گزرے گی۔ اور اگر نہیں تو پھر تمہارا بھی وہی حال ہوگا جو دنیا داروں کا ہوتا ہے۔ تو اصل چیز تو یہی ہے کہ دینداری پیدا کریں۔ یہی انصار اللہ کا کام ہے۔

اس پر سائل نے مزید عرض کیا کہ دیکھا تو یہ گیا ہے کہ بچے ماں کو کہتے ہیں کہ تم کیوں یہ ظلم سہ رہی ہو؟

جس پر حضورِ انور نے خاندانی مسائل کے پسِ منظر میں دین سے دُوری کے اثرات اور دینی تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ بات تو وہیں آ گئی کہ جب دنیا داری آ جاتی ہے اور دین نہیں رہتا، تو خاوند بیوی پرظلم کرتا ہے، تو بیوی یہ کہتی ہے کہ اچھا! بچوں کی خاطر مَیں نے کچھ تو پندرہ بیس سال برداشت کر لیا ہے اور اب نہیں برداشت کروں گی۔ تو جو خاوند ہیں، جو مرد ہیں، ان کی تربیت کرنا تو آپ کا کام ہے۔ یہی تو مَیں بتا رہا ہوں کہ ان کو دین کی طرف لے کے آئیں۔اگر دین مقدّم ہو جائے گا تو پھر بات ہے، عہد کر دینا کھڑے ہو کے کہ مَیں دین کو دنیا پر مقدّم رکھوں گا یہ تو کوئی بات نہیں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کے حقیقی مفہوم کے عملی تصوّر کو واضح کرتے ہوئے اس کے حصول کے لیے مشترکہ اور منظّم مساعی بروئے کار لانے کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ دین کو دنیا پر مقدّم رکھنا کیا ہے؟عبادالرحمٰن بننا صرف یہی نہیں کہ نمازیں پڑھ لیں اور عبادالرحمٰن بن گئے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا جو بھی حکم ہے اس پرعمل کرنا ہے۔ اِیَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاكَ نَسۡتَعِیۡنُ جب ہم پڑھتے ہیں تو اس میں صرف یہی نہیں کہ ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے حکم ہیں اس کے لیے پوریsubmissionہے اور اس پر پھر ہم عمل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ یہ تصوّر پیدا کرنا ہوگا۔ یہ تعلیم دینی ہوگی۔ اس کے لیے مَیں بھی کوشش کرتا رہتا ہوں اورآپ لوگ بھی کوشش کریں، تو یہ consolidatedکوشش جوہوگی یہmultiply ہو کے بہت زیادہ اچھا رزلٹ پیدا کرے گی۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ پیارے حضور! خلافت کے مقام پر فائز ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے واقعات میں سے کوئی واقعہ ہمارے ایمان کی زیادتی کے لیے براہِ مہربانی بیان فرما دیں؟

اس پر حضورِ انور نے کامل عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے مسلسل تائیدی نشانات، جماعتی ترقی اور ایمان میں اضافے کے روزمرہ مشاہدات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہر روز ہی واقعات ہوتے ہیں۔کیا بتاؤں۔جماعت کی ترقی کے واقعات ہی ہیں۔ اور ایمان کی ترقی تو اسی بات پر ہونی چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ جیسے آدمی سے کام لے کے جماعت کی ترقی کر سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جماعت سچی ہے، اور یہی واقعات ہیں کہ دنیا میں جماعت پھیل بھی رہی ہے، ترقی بھی کر رہی ہے، ایمان میں بھی بڑھ رہے ہیں۔ افریقہ میں بھی ہیں، یورپ میں بھی ہیں، ایشیا میں بھی ہیں، عرب ممالک میں بھی ہیں، فار ایسٹ میں بھی ہیں، ساؤتھ امریکہ میں بھی ہیں، امریکہ میں بھی ہیں۔ تو یہی واقعات روز کے روز ہیں۔

مزید برآں حضورِ انور نے جماعتی ترقیات اور عالمی وُسعت کے تسلسل کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ باقی واقعات تو مَیں بیان کرتا رہتا ہوں کہ جو لوگ واقعات لکھتے ہیں اور ترقی کی بعض رپورٹس جو مَیں دوسرے دن جلسے پر بتاتا ہوں، اس میں بے شمار واقعات ہیں، غور سے تقریر سُن لیا کریں تو آپ کو پتا لگ جائے گا۔

ایک ناصر نے عرض کیا کہ الحمدللہ! امریکی ایئرفورس میں بیس سال سے زائد عرصہ خدمات انجام دینے اور اس وقت پینٹاگون میں تعینات ہونے کے بعد اب مَیں ریٹائرمنٹ کے قریب ہوں اور مَیں نے اپنے خاندان اور کمیونٹی کی خدمت کےلیے ایک حلال فارم کا کاروبار شروع کیا ہے۔ نیز اس سلسلے میں درخواست کی کہ عاجزی و انکساری برقرار رکھنے، اپنے ایمان کو مضبوط کرنے، خاندانی ذمہ داریوں میں توازن قائم رکھنے اور ایک بامقصد انداز میں انسانیت کی خدمت جاری رکھنے کے حوالے سے حضورِانورمجھے کیا نصیحت یا راہنمائی فرمائیں گے؟

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ پینٹاگون (Pentagon) امریکہ کی وزارتِ دفاع کا مرکزی ہیڈکوارٹر ہے، جو واشنگٹن ڈی سی کے قریب واقع ہے اور امریکی دفاعی و عسکری اُمور کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔]

اس پر حضورِ انور نے کاروباری مصروفیات کے باوجود دین کو نہ بھولنے، فرائضِ الٰہی کو مقدّم رکھنے اور ہر کام کوتقویٰ کے تحت ایمانداری سے انجام دینے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ بات تو یہ ہے کہ بزنس آپ کر رہے ہیں، تو ایک کمائی کے لیے کر رہے ہیں۔ ٹھیک ہے وہ کریں۔ صحابہؓ بھی بزنس کرتے تھے۔تجارتیں کرتے تھے۔ ان میں سے بعض کروڑ پتی بھی بن گئے، جب فوت ہوئے تو کروڑوں میں ان کی جائیداد تھی، لیکن دین کو نہیں وہ بھولے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو مرضی کام دنیا کا کریںآپ نے دین کو نہیں بھولنا، اللہ تعالیٰ کے جو فرائض ہیں وہ مقدّم ہونے چاہئیں۔ اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک فقرہ استعمال کیا ہے کہ دست بکار و دل بیار۔ یعنی کہ ہاتھ کام کر رہے ہوں، سوچیں بھی کام کر رہی ہیں، لیکن دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ہو اور جو بھی کام کرنا ہے وہ ایمانداری سے کرنا ہے۔

پھر حضورِ انور نے کاروباری معاملات میں دیانت، ملاوٹ سے اجتناب اور حقیقی معیارِ اشیاء کو یقینی بنانے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ بزنس کرتے ہیں تو اس میں ایمانداری ہونی چاہیے اور کوئی دھوکانہیں ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہے کہ ٹیکہ لگا کے تو برائلر مرغیوں کو پُھلا دیں اور اس کاگوشت بیچ کے تو کہہ دیں کہ دیکھو!بڑی اچھی کیسیhealthyہیں،healthyکیا ہونی ہیں،ساری تو آپ نے پھونک بھری ہوتی ہے۔بعض لوگinjection سے بھی ایساکرتے ہیں۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ برائلر مرغی (Broiler Chicken) وہ مرغی ہوتی ہے کہ جسے خاص طور پر گوشت کے حصول کے لیے تیزی سے بڑھانے کی غرض سے پالا جاتا ہے۔ یہ عام دیسی مرغی کے مقابلے میں نسبتاً سستی ہوتی ہے اور قلیل مدت میں تیار ہو جاتی ہے، عموماً پانچ سے سات ہفتوں کے اندر مارکیٹ میں فروخت کے قابل ہوجاتی ہے۔جبکہ دیسی مرغی قدرتی ماحول میں بغیر غیر ضروری مصنوعی ادویات اور تیز رفتار افزائش کے طریقوں کے نسبتاً گھریلو یا کم استعمال کے لیے پالی جاتی ہے۔ اس کا گوشت اور انڈے عموماً زیادہ مہنگے مگر ذائقے اور غذائی اعتبار سے بہتر اور زیادہ لذیذ سمجھے جاتے ہیں۔]

اس پر سائل نے وضاحت کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہم ایسا نہیں کرتے، یہ کام بڑی انڈسٹری میں لوگ کرتے ہیں اور ہم اس سے دُور رہتے ہیں۔

جس پر حضورِ انور نے گذشتہ سلسلۂ کلام کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ جو بھی کرتے ہیں، اگر آپ کر رہے ہوں تو اس سے بچ کے رہیں۔ اور اگر egg یا گوشت آپ organicدے رہے ہیںتو اس میں آپ کو ایمانداری سے پتا ہونا چاہیےکہ واقعیorganicہے کہ نہیں۔ یہ نہیں کہ اس کو بعض کیمیکل دے کے کچھ اَور کیا ہو۔ تو بزنس بھی اگر آپ نے کرنا ہے تو ایمانداری ہونی چاہیے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے کاروباری مصروفیات کے ساتھ ساتھ عبادات کی پابندی، خاندانی و جماعتی حقوق کی ادائیگی کو دین و دنیا کی کامیابی کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ پھر اپنی پانچ نمازیں جو وقت پر ہیں وہ نہیں بھولنی۔ یہ نہیں کاروبار میںinvolve ہو گیا تو نمازیں بھول گیا یا بیوی بچوں کے حقوق جو ادا کرنے ہیں وہ نہیں بھولنے۔ جماعت کے جو حق ادا کرنے ہیں وہ نہیں بھولنے۔ تو یہ چیزیں یاد رکھیں گے تو بزنس بھی کامیاب ہے۔ اللہ بھی ملے گا اور دنیا بھی مل جائے گی۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورتبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ایڈیشنل وکالتِ تصنیف کی امریکہ سے تعلق رکھنے والی کمیٹی کے ٹیم ممبران کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button