حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ایڈیشنل وکالتِ تصنیف کی امریکہ سے تعلق رکھنے والی کمیٹی کے ٹیم ممبران کی ملاقات

جرمنی والوں نے تو جرمن زبان میں سارا روحانی خزائن مکمل کر لیا ہے ۔ اور انہوں نے پچھلے دس سال سے شروع کیا تھا اور آپ لوگ پچھلے تیس سال سے کر رہے ہیں اور ابھی تک ۷۱؍ تک پہنچے ہیں۔ ان کی ٹیم بھی آپ سے چھوٹی ہے۔ عربی والوں نے بھی مکمل کر لیا ہے۔ انگلش پیچھے رہ گیاہے ۔ یہ آپ کے لیے چیلنج ہے

مورخہ یکم؍ جون ۲۰۲۶ء، بروز پیر، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ایڈیشنل وکالتِ تصنیف کی امریکہ سے تعلق رکھنے والی کمیٹی کے احباب و خواتین پر مشتمل ٹیم ممبران کے چونتیس (۳۴) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔یہ بابرکت ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے امریکہ سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

سب سے پہلے مکرم منیر الدین شمس صاحب ایڈیشنل وکیل التصنیف نے تصنیف ٹیم کی بیس سالہ مساعی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضور! اس کمیٹی کو کام کرتے ہوئے بیس سال ہو گئے ہیں۔ جو ہماری حضورِاقدس سے ۲۰۲۳ء میں پچھلی ملاقات تھی ، اس وقت تک ۳۰۹؍ کُتب کا ترجمہ مکمل ہو چکا تھا۔ یہ اوسطاً ۱۵.۲؍کُتب فی سال بنتی ہے۔

پھر حالیہ برسوں میں تراجم اور اشاعتی کام کی رفتار میں نمایاں اضافے کی بابت عرض کیا گیا کہ حضور! گذشتہ تین سال، یعنی حضور ِاقدس سے جو ملاقات ہوئی تھی اس کے بعد سے اب تک، ۶۲؍کُتب پر کام کیا گیا ہے۔ ان میں سے۲۹؍ کُتب کا ترجمہ کیا گیا ہے جبکہ ۳۳؍ کُتب کو فارمیٹ کیا گیا ہے اور اس طرح اس عرصہ میں اوسط کارکردگی ۲۰.۷؍کُتب فی سال بنتی ہے۔

اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کُتب کے انگریزی تراجم کی تکمیل کی جانب ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا گیا کہ روحانی خزائن اور ملفوظات کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو کُتب ہیں، ان میں ۷۶؍ فیصد کتابوں کا ترجمہ ہو چکا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ۹۳؍ کُل کُتب میں سے ۷۱؍کا انگریزی ترجمہ شائع ہو چکا ہے اور اس طرح ۶۰؍ فیصد بنتے ہیں جو کہ صفحات کا ترجمہ کیا گیا۔

مزید برآں خلافتِ خامسہ کے مبارک دَور میں تراجم کے میدان میں حاصل ہونے والے نمایاں ثمرات اور کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا گیا کہ۱۴؍ کُتب ایسی ہیں جو کہ خلافتِ خامسہ سے پہلے جن کا انگریزی میں ترجمہ ہوا تھا۔ حضور! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جو حضور کے عہدِ خلافت میں کُتب کا ترجمہ کیا گیا ہے ، وہ ۵۷؍ ہیں۔ تو حضور! مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے، الحمدللہ، کہ اس دورِ خلافت میں۵۷؍ کُتب کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا، جبکہ اس سے پہلے صرف ۱۴؍کُتب تھیں کہ جن کا ترجمہ ہو کر شائع کیا گیا تھا۔

اس پر حضورِ انور نے تصنیف ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے باقی ماندہ تراجم کی جلد تکمیل کی طرف توجہ دلائی کہ باقی توباتیں ہو گئیں ، آپ کی رپورٹ بھی سُن لی، آپ سے باتیں بھی کر لیں۔ کام کر رہے ہیں، کیے جائیں، اللہ تعالیٰ توفیق دے۔ اور مزید جو آپ کہتے ہیں کہ ۷۱؍کتابیں آپ نے روحانی خزائن میں سے کر لی ہیں ، تو باقی بھی جلدی مکمل کریں ۔

اسی طرح حضورِ انور نے سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئےمختلف زبانوں میں روحانی خزائن کے تراجم کی تکمیل کے تناظر میں انگریزی ترجمے کے حوالے سے ایک اہم یاددہانی کرائی کہ جرمنی والوں نے تو جرمن زبان میں سارا روحانی خزائن مکمل کر لیا ہے ۔ اور انہوں نے پچھلے دس سال سے شروع کیا تھا اور آپ لوگ پچھلے تیس سال سے کر رہے ہیں اور ابھی تک ۷۱؍ تک پہنچے ہیں۔ ان کی ٹیم بھی آپ سے چھوٹی ہے۔ عربی والوں نے بھی مکمل کر لیا ہے۔ انگلش پیچھے رہ گیاہے ۔ یہ آپ کے لیے چیلنج ہے ۔

بعدازاں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورانور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

تصنیف ٹیم کے ایک طفل رکن کی جانب سے اپنی تعلیمی مصروفیات اور تصنیفی خدمات کے درمیان ترجیح کے حوالے سے حضورِ انور کی خدمت اقدس میں راہنمائی کی غرض سے عرض کیا گیا کہ تصنیف ٹیم کے ایک رکن کے طور پر گذشتہ چھ ماہ کے دوران مَیں اوسطاً ہر ہفتے تقریباً بارہ سے اٹھارہ گھنٹے تصنیف کے کام پر صَرف کرتا رہا ہوں، البتہ بعض ہفتوں میں اس سے بھی کہیں زیادہ وقت دینا پڑا، بعض اوقات ڈیڈلائنز اور تصنیف کے اہم کاموں کی وجہ سے مجھے اپنا سکول کا کام بعد کے لیے مؤخر کرنا پڑتا ہے۔ الحمد للہ ! مَیں اپنے تعلیمی نتائج میں مسلسل بہترین گریڈز حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہوں اور مجھے تصنیف کے اس کام سے بہت شغف ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے روزانہ پہلے تصنیف کا کام مکمل کرنا چاہیے اور پھر سکول کا کام کرنا چاہیےیا پہلے سکول کا کام کرنا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نےتعلیم کو پہلی ترجیح قرار دینے اور عملی زندگی میں نظم و ضبط اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ آپ کو اپنے سکول کے کاموں کو ترجیح دینی چاہیے۔ پہلے اپنا سکول کا کام مکمل کریں پھر تصنیف کا کام کریں۔ اوّلین ترجیح آپ کی تعلیم ہونی چاہیے۔ جب آپ اپنی تعلیم مکمل کر لیں، اچھی تعلیمی قابلیت حاصل کر لیں اور جس مضمون میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں اس میں مناسب ڈگری حاصل کر لیں تو اس کے بعد آپ اپنا اضافی وقت تصنیف کے کاموں میں صَرف کر سکتے ہیں۔ بہرحال ایک طفل اور کم عمر لڑکے کے طور پر آپ تصنیف کے لیےوقت دے سکتے ہیں لیکن پہلی ترجیح تعلیم ہی ہونی چاہیے۔

پھر حضورِ انور نےٹائم مینجمنٹ اور موسمی تعطیلات کو بہتر طور پر استعمال کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ آپ ایک باقاعدہ شیڈول یا ٹائم ٹیبل بنائیں۔ سکول کے دنوں میں عموماً مغربی ممالک میں ۳۶۵؍ دنوں میں سے تقریباً ۱۷۵؍ دن سکول ہوتا ہے، جبکہ باقی تقریباً ۱۷۵؍دن تعطیلات ہوتی ہیں، ان دنوں میں آپ تصنیف کے کام کے لیے زیادہ وقت دے سکتے ہیں۔ لیکن جب سکول جاری ہو تو آپ کو اپنی تعلیم کو ترجیح دینی چاہیے۔

بچوں کی کُتب کی تیاری کے حوالے سے درپیش ضرورت اور کمی کی جانب نشاندہی کرتے ہوئے ایک شریکِ مجلس خاتون ٹیم ممبر نے حضورِ انور کی خدمت میں عرض کیا کہ اس وقت ہماری امریکہ کی بچوں کی کُتب کی ٹیم نَو عمر بچوں اور نوجوانوں کے لیے کُتب تیار کرتی ہے، لیکن دس سال سے کم عمر چھوٹے بچوں کے لیے کتب کی کمی ہے۔

اس پر حضورِ انور نے موصوفہ کوابتدائی عمر کے بچوں کے لیے نئی کُتب کی تیاری اور براہِ راست تصنیف کی طرف توجہ دلاتے ہوئےفرمایا کہ تو پھر ٹھیک ہے آپ تیار کریں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اتنا ذہن دیا ہوا ہے ،fertile ذہن ہے ماشاءاللہ! تو اس میں آپ خود لکھ لیا کریں۔ تیار کر کے دو مجھے۔اچھی بات ہے۔ تو صرف ٹرانسلیشن کرنا تو کام نہیں ہے ۔ تصنیف کا مطلب کیا ہے؟ تصنیف کا مطلب یہ ہے کہ لکھو بھی ساتھ۔ صرف ٹرانسلیشن نہ کرو۔ تو آپ لکھ کے دیں۔ بچوں کے لیے چھوٹی چھوٹی کتابیں بنائیں ۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورِ تبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ زمبابوے سے تعلق رکھنے والے ایک مصنف و عالمِ موازنۂ مذاہب کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button