حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

جلسہ سالانہ کی اہمیت اور اس میں شمولیت کی برکات

(انتخاب از خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۵؍جولائی۲۰۰۳ء)

میں آپ کے سامنے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے چند ایسے ارشادات پیش کرتاہوں جن میں ان جلسوں کی اغراض بیان فرماتے ہوئے ان کے انتظام اور ان میں شمولیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’یہ جلسہ ایسا تو نہیں ہے کہ دنیا کے میلوں کی طرح خوانخواہ التزام اس کا لازم ہے بلکہ اس کا انعقاد صحتِ نیت اور حسن ثمرات پر موقوف ہے‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد نمبر ا صفحہ ۴۴۰)

آپؑ مزید فرماتے ہیں کہ ’’یہ دنیا کے تماشوں میں سے کوئی تماشا نہیں۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات۔ جلد اوّل۔ صفحہ ۴۴۳)

آپؑ نے فرمایا: ’’سلسلہ بیعت میں داخل ہو کر پھر ملاقات کی پرواہ نہ رکھنا، ایسی بیعت سراسربے برکت اور صرف ایک رسم کے طور پر ہوگی اور چونکہ ہر یک کے لئے بباعث ضُعفِ فطرت یا کمیٔ مقدرت یا بُعد مسافت یہ میّسر نہیں آسکتا کہ وہ صحبت میں آکر رہے یا چند دفعہ سال میں تکلیف اٹھاکر ملاقات کے لئے آوے۔ کیونکہ اکثردلوں میں ابھی ایسا اشتعالِ شوق نہیں کہ ملاقات کے لئے بڑی بڑی تکالیف اور بڑے بڑے حرجوں کو اپنے پر روا رکھ سکیں۔ لہٰذا قرین مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ سال میں تین روز ایسے جلسہ کے لئے مقرر کئے جائیں جس میں تمام مخلصین اگر خدا چاہے بشرط صحت و فرصت وعدمِ موانع قویہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہوسکیں۔‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ۳۰۲)

آپ ؑمزید فرماتے ہیں :- ’’حتی الوسع تمام دوستوں کو محض للہ ربانی باتوں کے سننے کے لئے اور دُعا میں شریک ہونے کے لئے اس تاریخ پر آجانا چاہئے اور اس جلسہ میں ایسے حقائق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں۔ اور نیز ان دوستوں کے لئے خاص دعائیں اور خاص توجہ ہوگی اور حتی الوسع بدرگاہِ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خدائے تعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی ان میں بخشے۔ اور ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ ہریک نئے سال جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہوکر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناسی ہو کر آپس میں رشۃٔ تودّدوتعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا…اور اس روحانی جلسے میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہونگے جو انشاء اللہ القدیر وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے۔‘‘(آسمانی فیصلہ اشتہار۳۰؍دسمبر ۱۸۹۱ء روحانی خزائن جلد۴ صفحہ۳۵۱۔۳۵۲)

پھر آپ ؑنے فرمایا:’’لازم ہے کہ اس جلسے پر جو کئی بابرکت مصالح پر مشتمل ہے ہرایک ایسے صاحب ضرور تشریف لائیں جو زاد راہ کی استطاعت رکھتے ہوں اور اپنا سرمائی بستر لحاف وغیرہ بھی بقدر ضرورت ساتھ لاویں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی راہ میں ادنیٰ ادنیٰ حرجوں کی پرواہ نہ کریں۔‘‘(اشتہار۷؍ دسمبر۱۸۹۲ء، مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ۳۴۱)

…نیز فرمایا: ’’جو شخص ایسا خیال کرتا ہے کہ آنے میں اس پر بوجھ پڑتا ہے۔ یا ایسا سمجھتا ہے کہ یہاں ٹھہرنے میں ہم پر بوجھ ہوگا۔ اسے ڈرنا چاہئے کہ وہ شرک میں مبتلا ہے۔ ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ اگر سارا جہان ہمارا عیال ہو جائے تو ہمارے مہمات کا متکفل خدا تعالیٰ ہے۔ ہم پر ذرا بھی بوجھ نہیں۔ ہمیں تو دوستوں کے وجود سے بڑی راحت پہنچتی ہے۔ یہ وسوسہ ہے جسے دلوں سے دور پھینکنا چاہئے۔ میں نے بعض کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم یہاں بیٹھ کر کیوں حضرت صاحب کو تکلیف دیں۔ ہم تو نکمے ہیں۔ یوں ہی روٹی بیٹھ کر کیوں توڑا کریں۔ وہ یہ یاد رکھیں یہ شیطانی وسوسہ ہے جو شیطان نے ان کے دلوں میں ڈالا ہے کہ ان کے پَیر یہاں جمنے نہ پائیں۔‘‘ (خط مولانا عبد الکریم صاحب ۶ جنوری ۱۹۰۰ء مندرجہ الحکم جلد ۴ صفحہ ۶ تا ۱۱،ملفوظات جلد اوّل صفحہ۴۵۵)

الحمدللہ!کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ یہ پیاری جماعت اس عشق و محبت کی وجہ سے اور اس تعلیم اور تربیت کی وجہ سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہماری کی ہے، آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک تڑپ کے ساتھ ا س جلسہ میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں لوگ اور جہاں خلیفۃ المسیح موجود ہو وہاں تو وہ ضرور آنا چاہتے ہیں اور بڑی تڑپ کے ساتھ آتے ہیں، بڑے اخراجات کر کے آتے ہیں۔لیکن حالات کی وجہ سے باوجود خواہش اور تڑپ کے لاکھوں کروڑوں احمدی ایسے بھی ہیں جو پرشکستہ اور اپنی خواہشوں کو دبائے بیٹھے ہیں اور اس جلسہ میں شامل نہیں ہو سکتے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ہم پر فضل اور احسان ہے کہ ایم ٹی اے جیسی نعمت ہمیں عطا فرمائی ہے اور آج دنیا کے کونے کونے میں احمدی گھر بیٹھے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اس جلسہ میں شامل ہورہے ہیں۔ اور اس شکر کے ساتھ بے اختیار حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے لئے بھی دعا نکلتی ہے جنہوں نے اس نعمت کو ہم تک پہنچانے کے لئے بے انتہا کوشش کی اور اس کو کامیاب کیا۔ اللہ تعالیٰ جماعت کے اس محبت کے جذبے کو جو خدا، رسول اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وجہ سے جماعت کو خلافت سے ہے ہمیشہ قائم رکھے اور اس میں اضافہ کرتا چلا جائے،اس میں کبھی کمی نہ آئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس جلسہ کو خالصۃً للّہی جلسہ ہونے کی خواہش اور دعا کی ہے جس میں ہماری روحانی اور علمی ترقی کی باتوں کے علاوہ تربیتی امور کی طرف بھی توجہ دلائی جاتی ہے۔ اور اس کا ایک بہت بڑا مقصدجیساکہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا آپس میں محبت و اخوت کا رشتہ قائم کرنا بھی ہے۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا،اپنے بھائی کے لئے اگر ضرورت پڑے تو اپنے حق چھوڑنے کا حوصلہ رکھنا بھی آپس میں محبت و اخوت کو بڑھانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔گزشتہ خطبہ میں بھی مَیں نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مہمانوں اور میزبانوں دونوں کو خوش خلقی اور خوش مزاجی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے ا ور اس کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ایک دوسرے کی تکلیف کا خیال رکھنا چاہئے اور اپنے اندر زیادہ سے زیادہ برداشت کا مادہ پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ کرے کہ یہ معیار پیدا ہو جائیں۔ لیکن یہ معیار کس طرح پیدا ہوں،کس طرح ایک دوسرے کی خاطر قربانی دی جائے اس بارہ میں حضر ت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کرتاہوں۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’…میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہو سکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہراوے۔ اگر میرا ایک بھائی میرے سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے اور میں باوجود اپنی صحت و تندرستی کے چارپائی پر قبضہ کرتا ہوں تا وہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر میں نہ اٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چارپائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرشِ زمین پسند نہ کروں۔ اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں اس کے مقابل پر امن سے سو رہوں اور اس کے لئے جہاں تک میرے بس میں ہے آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں۔اور اگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کچھ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں بھی دیدہ و دانستہ اس سے سختی سے پیش آؤں۔ بلکہ مجھے چاہئے کہ میں اس کی باتوں پر صبر کروں اور اپنی نمازوں میں اس کے لئے روروکر دعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے اور روحانی طور پر بیمارہے۔ اگر میرا بھائی سادہ ہو یا کم علم یا سادگی سے کوئی خطا اس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہئے کہ میں اس سے ٹھٹھاکروں یا چیں بہ جبیں ہوکر تیزی دکھاؤں یا بدنیتی سے اس کی عیب گیری کروں کہ یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں۔ کوئی سچا مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو۔ جب تک وہ اپنے تئیں ہر یک سے ذلیل تر نہ سمجھے اور ساری مشیختیں دُور نہ ہوجائیں۔ خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جُھک کر بات کرنا مقبول الٰہی ہونے کی علامت ہے، اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصے کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجے کی جوانمردی ہے۔ مگر میں دیکھتاہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں…‘‘۔(شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد۶، صفحہ۳۹۵۔۳۹۶)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اس نصیحت کے مطابق عمل کرنے کی، اپنے آپ کو ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مزید پڑھیں: دعوت الیٰ اللہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا فضل ضروری ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button