حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

حالات ِجنگ میں پاکیزہ اسوۂ رسول ﷺاور جامع تعلیمات ِاسلامیہ

آنحضرت ﷺ انسان کامل تھے۔ آپؐ نے اذنِ الٰہی سے دفاعی جنگیں لڑیں لیکن ان جنگوں میں بھی ہمیں آپ کا پاکیزہ اسوہ دکھائی دیتا ہے

٭… آنحضرت ﷺ نے جتنی بھی جنگیں کیں ان میں سب سے قابل ذکر امر یہ ہے کہ میدان جنگ میں صورتحال کیسی بھی رہی ہو، ہر جنگ میں آپؐ کی ثابت قدمی اور جرأت کی کوئی مثال نہیں ملتی

٭…غزوات میں حضور ﷺ کا دشمنوں سے حسن سلوک بھی مثالی تھا

٭… آپؐ کے پاکیزہ اسوہ سے دوسرے مذاہب کا احترام بھی نظر آتا ہے جس سے مذہبی رواداری کی فضا پیدا ہوتی ہے

٭…آپؐ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِین تھے۔ آپؐ سب سے زیادہ عفو و درگزر کا سلوک فرمانے والے تھے

٭… ہمیں چاہئے کہ حضور ﷺ کی سیرت اور اسوۂ حسنہ پر چلنے کی بھرپور کوشش کریں

اسلام آباد یوکے

02-07-2026

پیارے قارئین روزنامہ الفضل انٹر نیشنل

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الحمدللہ کہ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل کو جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر ’’حالاتِ جنگ میں پاکیزہ اُسوۂ رسول ﷺ اور جامع تعلیماتِ اسلامیہ‘‘ کے عنوان سے سالانہ نمبر شائع کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔ آمین

میں اس حوالے سے چند ضروری باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔

آنحضرت ﷺ انسان کامل تھے۔ آپ نے اذنِ الٰہی سے دفاعی جنگیں لڑیں لیکن ان جنگوں میں بھی ہمیں آپ کا پاکیزہ اسوہ دکھائی دیتا ہے۔ کبھی ہم دیکھتے ہیں کہ آپ اپنے صحابہ سے محبت اور شفقت کا سلوک فرما رہے ہیں تو کہیں آپ ہمیں ان کی مختلف رنگ میں تربیت فرماتے نظر آتے ہیں۔ کبھی آپ اپنے صحابہ کے ساتھ جنگ کی تیاریوں میں سخت جسمانی مشقت والے کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تو کہیں صحابہ کے بھوک کی حالت میں کاموں کے دوران آپ خود بھی بھوکے رہ کر ان کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی مخلص صحابی کی طرف سے کھانے کی دعوت ملتی ہے تو اپنے ساتھیوں کا بھی خیال رکھتے ہیں اور میزبان سے پوچھ کر سب کو ساتھ لے جاتے ہیں۔ پھر آپؐ اہم معاملات میں صحابہؓ سے مشاورت بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ غزوۂ احد سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ سے مشورہ لیا کہ آیا ہم کو شہر میں ٹھہر کر مقابلہ کرنا چاہئے یا باہر نکل کر۔ آپؐ کا اپنا خیال یہی تھا کہ دشمن کو حملہ کرنے دیا جائے تاکہ جنگ کی ابتداء کا بھی وہی ذمہ دار ہو اور مسلمان اپنے گھروں میں بیٹھ کر اس کا مقابلہ آسانی سے کر سکیں لیکن وہ نوجوان مسلمان جن کو بدر کی جنگ میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا تھا انہوں نے اصرار کیا کہ ہمیں شہادت سے کیوں محروم رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ آپؐ نے ان کی بات مان لی۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو تیاری کرنے کا حکم دیا اور آپؐ خود بھی جنگ کی تیاری کرنے لگے۔ جب آپ باہر تشریف لائے تو آپؐ نے جنگی لباس پہن رکھا تھا۔

لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہمارا یہ مقصد نہیں تھا کہ ہم آپؐ کی رائے کی مخالفت کریں۔ آپؐ جو مناسب سمجھیں اس کے مطابق عمل فرمائیں۔ اگر آپؐ شہر سے نکل کر مقابلہ پسند نہیں فرماتے تو یہیں رہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ نبی کے لیے یہ بات جائز نہیں کہ ہتھیار لگانے کے بعد اس وقت تک انہیں اتارے جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے اور اس کے دشمنوں کے درمیان فیصلہ نہ فرمادے۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جتنی بھی جنگیں کیں ان میں سب سے قابل ذکر امر یہ ہے کہ میدان جنگ میں صورتحال کیسی بھی رہی ہو، ہر جنگ میں آپ کی ثابت قدمی اور جرأت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ جس وقت بڑے بڑے بہادروں کے بھی پاؤں اکھڑ جاتے تھے اس وقت بھی آپ ایک چٹان کی طرح وہاں موجود نظر آتے رہے۔ جنگ حنین کا ذکر کرتے ہوئے حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں کہ جب تمام لوگ منتشر ہو گئے اور آنحضرت ﷺ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تنہا رہ گئے اور دشمن آپ کی طرف بڑھنے لگا تو ایسے میں آپ اکیلے ہی دشمن کی طرف بڑھتے چلے گئے اور بلند آواز میں کہتے جا رہے تھے کہ میں ابن عبدالمطلب ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ خدا کی قسم! جب جنگ شدت اختیار کر جاتی تو ہم رسول اللہ ﷺ کی پناہ میں آ جایا کرتے تھے اور سب سے زیادہ بہادر وہی سمجھا جاتا تھا جو رسول اللہ ﷺ کے قریب رہتا تھا۔

غزوات میں حضور ﷺ کا دشمنوں سے حسن سلوک بھی مثالی تھا۔ قریش مکہ کو بدر کے میدان میں ایک حوض سے پانی کی ضرورت پڑتی ہے جو مسلمانوں کے قبضہ میں تھا تو صحابہ انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آپ نے فرمایا نہیں ان کو پانی لینے دو۔ تو یہ ہے اعلیٰ معیار آنحضرت ﷺ کے اخلاق کا کہ باوجود اس کے کہ دشمن نے کچھ عرصہ پہلے مسلمانوں کے بچوں تک کا دانہ پانی بند کیا ہوا تھا۔ لیکن آپؐ نے اس سے صَرف نظر کرتے ہوئے دشمن کی فوج کے سپاہیوں کو پانی لینے سے نہ روکا۔ کیونکہ یہ اخلاقی ضابطوں سے گری ہوئی حرکت تھی۔

پھر آپ کے پاکیزہ اسوہ سے دوسرے مذاہب کا احترام بھی نظر آتا ہے جس سے مذہبی رواداری کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ فتح خیبر کے دوران توراۃ کے بعض نسخے مسلمانوں کو ملے۔ یہودی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہماری کتاب مقدس ہمیں واپس کی جائے۔ رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ یہود کی مذہبی کتابیں ان کو واپس کر دو۔ (السیرۃ الحلبیۃ جلد 3 صفحہ 49)

باوجود اس کے کہ یہودیوں کے غلط رویے کی وجہ سے ان کو سزائیں مل رہی تھیں آپؐ نے یہ برداشت نہیں فرمایا کہ دشمن سے بھی ایسا سلوک کیا جائے جس سے اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔

پھر آپؐ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِین تھے۔ آپؐ سب سے زیادہ عفو و درگزر کا سلوک فرمانے والے تھے۔ اس کا بہترین نمونہ فتح مکہ کے موقع پر نظر آتا ہے۔ مکہ والوں نے آپؐ اور آپؐ کے صحابہؓ پر بے انتہا ظلم کئے تھے لیکن یہ مجسّم رحمت خدا کا سب سے پیارا جب فاتح مکہ بنتا ہے تو شہر بھر میں یہ کہہ کر عام معافی کا اعلان فرما دیتا ہے کہ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم۔ یعنی آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔

آنحضرت ﷺ کے حالاتِ جنگ میں پاکیزہ اسوہ اور جامع تعلیماتِ اسلامیہ کے یہ چند نمونے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ حضور ﷺ کی سیرت اور اسوۂ حسنہ پر چلنے کی بھرپور کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

والسلام

خاکسار

(دستخط) مرزا مسرور احمد

خلیفۃ المسیح الخامس

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button