خطاب حضور انور

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یوکے۲۰۲۶ء(حصہ اوّل)

اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے تو وعدہ ہے کہ وہ آپؑ کو فتوحات دے گا اور انشاء اللہ تعالیٰ ضرور دے گا ۔لیکن اگر ہم نے اس کا حصہ بننا ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرنے والے بنیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں اور اپنی عبادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہوں اور اپنی ظاہری حالت کو بھی اسی طرح ڈھالنے والے ہوں کہ اس سے ہلکا سا بھی شرک کا شائبہ تک نظر نہ آئے

آپؑ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی ہوئی تعلیم کے مطابق دنیا میں خدائے واحد کی حکومت قائم کرنے کےلیے، شرک کے خاتمے کے لیے، روحانی اور اخلاقی اقدار پیدا کرنے کے لیے، وفا اور خلوص کی تعلیم دینے کے لیے اور وہ اقدار پیدا کرنے کے لیے جو کامل طور پر وفا، اخلاص اور اطاعت کا جذبہ اپنے اندر رکھیں، مبعوث فرمایا۔ اس آنے والے مسیح و مہدیؑ نے اپنے تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ بھرپور کوشش کرنی تھی اور ایک ایسی جماعت تیار کرنی تھی جو کامل موحد ہو اور شرک کے خاتمے کے لیے ہر فرد جماعت جہاں اپنے آپ کو شرک سے مکمل طور پر پاک کرے وہاں دنیا کو بھی خدائے واحد کی آغوش میں لانے کے لیے اپنی تمام تر استعدادیں اور صلاحیتیں استعمال کرے

آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر ایک پاک جماعت کا قیام فرمایا اور بعض شرائط پر جن کی تعداد دس ہے اپنے ماننے والوں سے بیعت لی۔
یہی بیعت کے الفاظ ہم ہمیشہ ہر سال اور جب بھی بیعت کرنی ہویا جماعت میں داخل ہونا ہو، دہراتے ہیں

گو کہ شرائط بیعت کے بارے میں مَیں پہلے بھی خطبات دے چکا ہوں اور کافی خطبات اور تقریروں میں بھی بیان کرچکا ہوں اور اس حوالے سے احادیث اور قرآن کے بعض حوالے بھی پیش کر چکا ہوں جو کتابی صورت میں چھپ بھی چکے ہیں لیکن اس پر عمل کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ اس لیے دوبارہ اس کی ضرورت ہے کہ مَیں بیان کروں

ہمیشہ اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو ہمیں اپنے عہدِ بیعت سے ہٹانے والی ہو۔ ہم نے ایک عہد کیا ہے اس کو بہرحال پورا کرنا ہے اور اگر نہیں کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ سزا بھی دے گا اور دے سکتا ہے

ایک شخص کے موحّد ہونے کا یہی حقیقی معیار ہے کہ کسی بھی صورت میں کبھی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے شرک کا ہلکا سا شائبہ بھی نظر آتا ہو۔

جب تک ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کے لیے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا نہیں کریں گے اس وقت تک شرک میں گر سکتے ہیں

ہمیں ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہر کام کرتے ہوئے اور ہر لفظ بولتے ہوئے ہمیں یہ خیال رہے کہ کہیں یہ لفظ ہمیں خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والا اور شیطان کے قریب لے جانے والا نہ ہو۔ پس اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے۔ جب ہم یہ کریں گے تو تب ہی ہم اپنے عہدِ بیعت کو بھی پورا کرنے والے ہوں گے اور تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے آنے کے مقصدکو بھی پورا کرنے والے ہوں گے کیونکہ آپؑ کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم کیا جائے اور شرک کا خاتمہ کیا جائے

’’ پس اے احمدی قوم!خدا ہمارا رشتہ دار نہیں ۔شرک سے پرہیز کرو اور عبادت کرو تاکہ خدا تمہارا نگہبان ہو جائے۔ دیکھو کہ خدا نے نوح علیہ السلام کے بیٹے تک کی پرواہ نہیں کی۔ پس اس بات سے خوش ہونا کہ احمدی ہیں نادانی ہے بلکہ ایسے کام کرو کہ احمدی ہونے کے لائق ثابت ہو ‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)

اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مبعوث فرمایا تھا تاکہ آپؑ شرک کے خلاف ایک جہاد کریں اور اپنی ایک ایسی پاک جماعت قائم کریں جو شرک سے بکلّی اجتناب کرنے والی ہو

ہم شرک ظاہری تو نہیں کرتے لیکن شرک خفی سے بھی اجتناب کریں۔ یہ بعض دفعہ غیر محسوس طریقے سے اندر داخل ہو جاتا ہے تبھی ہم حق بیعت ادا کر سکیں گے اور تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست و بازو بن سکتے ہیں

امیر المومنین سیدنا حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برطانیہ 2026ء کے اختتامی اجلاس سے بصیرت افروز خطاب (حصہ اوّل)

(فرمودہ 26؍ جولائی 2026ء بروز اتوار بمقام حدیقۃ المہدی (جلسہ گاہ) آلٹن ہمپشئر۔ یوکے)

(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾

اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کرتے ہوئے ہمیں اس زمانے میں پیدا کیا ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ِصادق کو اسلام کی تعلیم دنیا میں پھیلانے کے لیے بھیجا اور اسلام کی نشأة ثانیہ کے لیے مبعوث فرمایا۔

آپؑ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی ہوئی تعلیم کے مطابق دنیا میں خدائے واحد کی حکومت قائم کرنے کےلیے، شرک کے خاتمے کے لیے، روحانی اور اخلاقی اقدار پیدا کرنے کے لیے، وفا اور خلوص کی تعلیم دینے کے لیے اور وہ اقدار پیدا کرنے کے لیے جو کامل طور پر وفا، اخلاص اور اطاعت کا جذبہ اپنے اندر رکھیں، مبعوث فرمایا۔

اس آنے والے مسیح و مہدیؑ نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ بھرپور کوشش کرنی تھی اور ایک ایسی جماعت تیار کرنی تھی جو کامل موحد ہو اور شرک کے خاتمے کے لیے ہر فرد جماعت جہاں اپنے آپ کو شرک سے مکمل طور پر پاک کرے وہاں دنیا کو بھی خدائے واحد کی آغوش میں لانے کے لیے اپنی تمام تر استعدادیں اور صلاحیتیں استعمال کرے۔

اسی طرح جیسا کہ میں نے کہا

تمام قسم کی اخلاقی برائیوں سے دنیا کو پاک کرنے کے لیے بھیجا اور یہی آپؑ کے ماننے والوں کا کام تھا تاکہ دنیا روحانی اور اخلاقی اقدار سے اپنی بقا کے سامان پیدا کر سکے۔

پس اس کے لیے

آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر ایک پاک جماعت کا قیام فرمایا اور بعض شرائط پر جن کی تعداد دس ہے اپنے ماننے والوں سے بیعت لی۔ یہی بیعت کے الفاظ ہم ہمیشہ ہر سال اور جب بھی بیعت کرنی ہویا جماعت میں داخل ہونا ہو، دہراتے ہیں۔

آپؑ نےجو بیعت لی وہ ان باتوں پر لی کہ ہمیشہ یہ سچے دل سے عہد کرتا ہوں کہ جب تک میں قبر میں داخل نہ ہو جاؤں شرک کے قریب بھی نہیںجاؤں گا ۔اور پھر یہ کہ جھوٹ نہیں بولوں گا۔ زنا نہیں کروں گا۔ بد نظری نہیں کروں گا۔ فسق و فجور، ظلم، خیانت، فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہوں گا۔ نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہوں گا چاہے جو مرضی حالات پیدا ہو جائیں۔ یہ روحانی اور اخلاقی اصلاح کے لیے بہت ضروری باتیں ہیں۔ پھریہ کہ روحانیت میں ترقی کرنے کے لیے بلاناغہ پنج وقت نمازیں اللہ اور رسولؐ کے حکم کے مطابق ادا کروں گا۔ پھر یہ بھی کہ صرف فرض نمازیں نہیں بلکہ نماز تہجد بھی پڑھنے کی کوشش کروں گا۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھی بھیجوں گا۔ روزانہ اپنے گناہوں کی معافی بھی مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو بھی دلی محبت سے یاد کروں گا اور اس کی حمد بھی ہمیشہ کرتا رہوں گا۔ یہ باتیں ایسی ہیں جو انسان کی روحانی حالت کو اوپر لے جانے کے لیے بہت ضروری ہیں۔اسی طرح یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً ہر قسم کے نفسانی جوشوں سے کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا۔ نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اَور طرح سے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو مسلمانوں میں خاص طور پر پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر آج کل کے حالات میں۔اسی طرح ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کرتا رہوں گا اور وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھوں گا۔ اللہ تعالیٰ کے جو فیصلے ہوں گے ان کو خوشی سے قبول کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی بھی قسم کی تکلیف اور ذلّت برداشت کرنی پڑے تو کروں گا۔ ہوا و حوس سے باز رہوں گا۔ دنیا کی تمام بدرسومات سے باز رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی باتوں کو ان سب باتوں پر حاوی رکھوں گا۔ تکبر سے بچوں گا۔عاجزی اختیار کروں گا۔ خوش خلقی اختیار کروں گا۔ حلیمی اور مسکینی سے رہوں گا ۔اور دین کی عزّت اور ہمدردیٔ اسلام کو اپنی جان، مال اپنی عزت اور اپنی اولادہر چیز سے زیادہ عزیز سمجھوں گا۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی میں اللہ تعالیٰ کی خاطر ہمیشہ کوشش کرتا رہوں گا اور اپنی تمام تر طاقتوں اور استعدادوں سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کے لیے کوشش کروں گا۔

پھر آگے دوبارہ بھی آپؑ نے یہاں اس بات کو زور دے کر فرمایا کہ اسی طرح یہ کہ اطاعت کے جذبے کے ساتھ ہمیشہ اپنی جان، مال اور وقت قربان کرنے کے لیے تیار رہوں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو بھی فیصلہ کریں گے اس کو دل سے مانوں گا ۔یعنی کہ جب آپؑ کی بیعت کی ہے تو آپ علیہ السلام کے فیصلوں کو بھی دل سے مانوں گا۔ یہاں خلافت کی بھی کامل اطاعت ہے کیونکہ خلافت بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے کام کو ہی اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق آگے چلانے کے لیے ہے۔ گویا ان شرائط میں جن کے نمبر تو میں نے نہیں لیے لیکن مختصر بیان کر دیا ہے ان میں یہ تمام باتیں آپؑ نے بیان فرما دیں کہ اگر یہ ہو گا تو حقیقت میں تم صحیح احمدی کہلانے کے موجب بن سکو گے اور تبھی تم اپنی بیعت کا حق بھی ادا کر سکو گے۔

(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 206-207)

پس آج اس وقت میں اس حوالے سے کچھ بیان کروں گا۔

گو کہ شرائط بیعت کے بارے میں مَیں پہلے بھی خطبات دے چکا ہوں اور کافی خطبات اور تقریروں میں بھی بیان کر چکا ہوں اور اس حوالے سے احادیث اور قرآن کے بعض حوالے بھی پیش کر چکا ہوں جو کتابی صورت میں چھپ بھی چکے ہیں لیکن اس پر عمل کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ اس لیے دوبارہ اس کی ضرورت ہے کہ مَیں بیان کروں۔

میری کوشش ہوگی کہ وہ حوالے دوبارہ بیان نہ ہوں جو پہلے ہو چکے ہیں بلکہ نئی باتیں یا نئے حوالے ہوں اور نئی احادیث پیش کروں تاکہ ہمارے علم میں مزید وسعت پیدا ہو اور ہم اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور اس میں بھی مَیں تمام پہلو تو نہیں لوں گا ۔سب سے بڑا پہلو جو پہلی شرط ہے اس کو ہی زیادہ بیان کروں گا۔ بہرحال باتیں تو بہت ساری مَیں نے کی ہیں لیکن وقت کی وجہ سے جیسا کہ مَیں نے کہا اس وقت ان کی تفصیل بیان نہیں ہو سکتی۔ ان کے چند پہلو بیان کروں گا۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ

آپؑ نے جو پہلی شرط رکھی وہ یہ تھی کہ میں شرک سے اجتناب کروں گا اور مرتے دم تک کبھی شرک نہیں کروں گا۔ یہ ایسی شرط ہے کہ اگر انسان اس پر صحیح عمل کرے تو بہت سی برائیوں سے بچ سکتا ہے۔

اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں:’’ہر ایک نبی کی اصل غرض اور مقصد یہ رہا ہے کہ لوگ گناہوں سے نجات پا کر اور ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں سے بکلّی نفرت کر کے خدا ہی کے لیے ہو جاویں۔ انسانی پیدائش کی اصل غرض اور مقصد بھی یہی ہے کہ وہ خدا ہی کے لیے ہوجائے۔ اس لیے انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض اسی مقصد کی طرف انسان کی رہبری کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی گم گشتہ متاع اور مقصد کو پھر حاصل کر لے۔ گناہ اگرچہ بہت ہیں اور ان کے بہت سے شعبے اور شاخیں ہیں یہاں تک کہ ہر ادنیٰ قسم کی غفلت بھی گناہ میں داخل ہے لیکن

عظیم الشان گناہ جو اس مقصدِعظیم کے بالمقابل انسان کو اصل مقصد سے ہٹا نے کے لیے پڑا ہوا ہے وہ شرک ہے۔‘‘

پس شرک ایک بہت بڑا گناہ ہے۔’’ انسان کی پیدائش کی اصل غرض اور مقصد یہ ہے کہ وہ خدا ہی کے لیے ہو جائے اور گناہ اور اس کے محرکات سے بہت دور رہے۔ اس لیے کہ جُوں جُوں بدقسمت انسان اس میں مبتلا ہوتا ہے اسی قدر اپنے اصلی مدعا سے دور ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر گرتے گرتے ایسی سفلی جگہ پر جا پڑتا ہے جو مصائب اور مشکلات اور ہر قسم کی تکلیفوں اور دکھوں کا گھر ہے جس کو جہنم بھی کہتے ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد 2صفحہ 418-419، ایڈیشن 2022ء)

پس گناہوں میں پڑ کر انسان اس دنیا میں اگر نہیں تو اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ کی سزا کا مورد بنتا ہے۔ اس لیے آپؑ نے فرمایا کہ شرک سے بچو کیونکہ شرک بہت بڑا گناہ ہے اور قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے بہت جگہ شرک سےبچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شرک کرنا ایک ظلمِ عظیم ہے۔(لقمان:14)اسی کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمائی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بیعت لیا کرتے تھے تو اس میں شرک کے پہلو کو آپؑ خاص طور پر سامنے رکھا کرتے تھے۔

مثلاً ایک روایت میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعتِ عقبہ لی تو اس وقت اس میں جو لوگ شامل تھے وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ہمیشہ شرک سے بچے رہو ۔چنانچہ ابو ادریس عائذ اللہ نے بیان کیا کہ حضرت عبادہ بن صامتؓ ان لوگوں میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے تھے اور وہ عقبہ کی رات آپؐ کے صحابہؓ میں سے تھے۔ انہوں نے انہیں اس وقت جب آپؐ کے گرد بہت سے صحابہ ؓکی جماعت تھی بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آؤ تم میری بیعت کرو۔ اس بات پر کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور نہ تم چوری کرو گے۔ نہ زنا کرو گے۔ نہ اپنے بچوں کو قتل کرو گے اور نہ تم کسی بہتان کا ارتکاب کرو گے یعنی کسی پر الزام تراشی نہیں کرو گے جس کو تم اپنی طرف سے گھڑتے ہو۔ اور معروف باتوں میں میری نافرمانی نہ کرو گے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معروف باتیں تو وہی تھیں کیونکہ آپؐ شریعت لائے تھے۔ آپؐ کی ہر بات ہی معروف تھی لیکن پھر بھی آپؐ نے احتیاط کی ہے۔ اس لیے بعض لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کہ معروف کا حکم ہے تو ہر وہ بات معروف ہے جو قرآن اور شریعت کے مطابق ہے اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اپنی بیعت لینے والوں سے فرمایا اور یہی آگے خلافت، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت ہے وہ اس بات پر بیعت لیتی ہے کہ معروف باتیں اور معروف باتیں وہی ہیں جو خدا اور رسولؐ کے حکم کے مطابق ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں سو جس نے تم میں سے اپناعہد پورا کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے ۔اور جس نے اس میں کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اسے اسی دنیا میں اس کی سزا دی گئی تو وہ اس کے لیے بطور کفارہ ہے۔ اور جس نے اس میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا پھر اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی یعنی دنیا میں اس کو سزا نہیں ملی تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ اگر چاہے تو مرنے کے بعد سزا دےاور اگر چاہے تو اسے درگزر کرے۔ وہ کہتے ہیں چنانچہ مَیں نے اس بات پر آپؐ سے بیعت کی۔

(صحیح البخاری کتاب الایمان باب 11 حدیث 18)

پس بڑے واضح طور پر آپؐ نے اس بیعت کے الفاظ میں وہ تمام باتیں فرما دیں جن کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باتیں فرمائی ہیں، جن کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی ہم سے بیعت لی ہے اور یہ کہ شرک بھی نہیں کرنا، غلط باتیں بھی نہیں کرنی، اطاعت کا بھی پورا نمونہ دکھانا ہے، کسی جرم کا ارتکاب نہیں کرنا کیونکہ اگر ہم یہ کریں گے۔ تو پھر آپؑ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں اس دنیا میں اس کی سزا دے دے تو تم اگلے جہان میں بچ جاؤ گے لیکن اگر اس دنیا میں سزا نہیں ملتی تو پھر اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے سزا دے یا بخش دے۔ بہرحال وہ بہتر جانتا ہے اور جس کا انسان کو علم نہیں۔ اس سے بچنے کے لیے پھر بہت استغفار کی ضرورت ہے۔ اس لیے

ہمیشہ اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو ہمیں اپنے عہدِ بیعت سے ہٹانے والی ہو۔ ہم نے ایک عہد کیا ہے اس کو بہرحال پورا کرنا ہے اور اگر نہیں کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ سزا بھی دے گا اور دے سکتا ہے۔

اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے ۔حضرت زید بن خالدؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ حدیبیہ کا سال تھا ۔ایک رات ہم پر بارش ہوئی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر آپؐ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ تمہارے ربّ نے کیا فرمایا؟ نماز میں اس وقت میری اللہ تعالیٰ سے جو باتیں ہوئیں۔ ہم نے کہا :اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرے بندوں نے صبح کی، کچھ مجھ پر ایمان لانے والے تھے اور کچھ میرا انکار کرنے والے تھے۔ اب دیکھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ آپؐ کو فرماتا ہے کہ ان میں سے بھی کچھ مجھ پر ایمان لانے والے تھے اور کچھ انکار کرنے والے تھے۔ پھر فرمایا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے جنہوں نے کہا کہ اللہ کی رحمت کے ساتھ اور اللہ کی عطاءکے ساتھ اور اللہ کے فضل کے ساتھ ہم پر بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان لانے والے ہیں اور ستاروں کے منکر ہیں۔ اور جس نے کہا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ ستارے پر ایمان لانے والا اور میرا انکار کرنے والا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والا ہے۔

(صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الحدیبیۃ حدیث 4147)

بڑی باریکی سے آپؐ نے شرک کی نفی کی تعلیم دی اور چونکہ اس زمانے میں کچھ لوگ نئے نئے ایمان لائے تھے اس لیے بعض جو تھے ان پر پرانی روایات کا بھی اثر تھا یا اپنے روایتی مذہب کا اثر تھا اس لیے شرک کی طرف بھی بعض کی توجہ ہو جاتی تھی چاہے وہ خفی شرک ہو اور وہ سمجھتے تھے کہ تاروں کے بارے میں اگر ہم نے کہہ دیا تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں! یہ اللہ تعالیٰ کا شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم یہ کبھی نہ کہو جب یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہو رہے ہیں، بارش ہو یا اللہ تعالیٰ کا کوئی اَور فضل ہو تو ہمیشہ اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا کرو۔ اسی میں تمہاری بچت ہے اور

ایک شخص کے موحّد ہونے کا یہی حقیقی معیار ہے کہ کسی بھی صورت میں کبھی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سےشرک کا ہلکا سا شائبہ بھی نظر آتا ہو۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی حالت کیا تھی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں آپؐ سے کہلوایا کہ قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا۔(الکہف:111) یعنی کہہ دے کہ مَیں تو محض تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے۔ پس جو کوئی اپنے ربّ کی لقاء چاہتا ہے وہ بھی نیک عمل بجا لائے اور اپنے ربّ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔

پس یہ اصل بات ہے۔اصل میں تو ہمارے لیے ہے کہ شرک سے مکمل پرہیز کریں۔ آپؐ تو پرہیز کرنے والے تھے ہی اور لوگوں کو بتایا کہ مَیں جب ایسا ہوں تو پھر تمہیں بھی ایسا ہونا چاہیے اور اس اسوہ پر ہمیں چلنا چاہیے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے اور یہی ہمیں تلقین ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے شرک کے حوالے سے اس آیت کی روشنی میں جو بیان فرمایا ہے یہ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’’وہ ‘‘یعنی اللہ تعالیٰ’’ قرآن شریف میں اس تعلیم کو پیش کرتا ہے جس کے ذریعہ سے اور جس پر عمل کرنے سے اسی دنیا میں دیدارِ الٰہی میسّر آ سکتا ہے جیسا کہ فرمایامَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاءَ رَبِّہٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا۔(الکہف:111) یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اسی دنیا میں اس خدا کا دیدار نصیب ہو جائے جو حقیقی خدا اور پیدا کنندہ ہے۔ پس چاہیے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جن میں کسی قسم کا فساد نہ ہو ۔یعنی عمل اس کے نہ لوگوں کے دکھلانے کے لئے ہوں نہ ان کی وجہ سے دل میں تکبر پیدا ہو کہ مَیں ایسا ہوں اور ایسا ہوں اور نہ وہ عمل ناقص اور ناتمام ہوں اور نہ ان میں کوئی ایسی بدبو ہو جو محبتِ ذاتی کے برخلاف ہو بلکہ چاہیے کہ صدق اور وفاداری سے بھرے ہوئے ہوں۔ اور ساتھ اس کے یہ بھی چاہیے کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پرہیز ہو۔نہ سورج نہ چاند نہ آسمان کے ستارے نہ ہوا نہ آ گ نہ پانی نہ کوئی اَور زمین کی چیز معبود ٹھہرائی جائے اور نہ دنیا کے اسباب کو ایسی عزّت دی جائے اورایسا اُن پر بھروسہ کیا جائے کہ گویا وہ خدا کے شریک ہیں اور نہ اپنی ہمت اور کوشش کو کچھ چیز سمجھا جائے کہ یہ بھی شرک کے قسموں میں سے ایک قسم ہے بلکہ سب کچھ کر کے یہ سمجھا جائے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا اور نہ اپنے علم پر کوئی غرور کیا جائے اور نہ اپنے عمل پر کوئی ناز بلکہ اپنے تئیں فی الحقیقت جاہل سمجھیں اور کاہل سمجھیں اور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ہر ایک وقت روح گری رہے اور دعاؤں کے ساتھ اس کے فیض کو اپنی طرف کھینچا جائے اور اس شخص کی طرح ہو جائیں کہ جو سخت پیاسا ہو اور بےدست و پا بھی ہے اور اس کے سامنے ایک چشمہ نمودار ہوا ہے نہایت صافی اور شیریں۔‘‘ یعنی پانی کا چشمہ پھوٹ پڑے’’ پس اس نے افتاں و خیزاں بہرحال اپنے تئیں اس چشمہ تک پہنچا دیا‘‘ گرتے پڑتے وہاں پہنچ گیا ’’اور اپنے لبوں کو اس چشمہ پر رکھ دیا اور علیحدہ نہ ہوا جب تک سیراب نہ ہوا۔‘‘ جب تک کہ پانی پی کے اپنی پیاس نہ بجھا لی۔

(لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 154)

پس شرک سے بچے رہنے کا یہ وہ معیار ہے کہ کسی بھی حالت میں نہ ظاہری بتوں کی پوجا کرنی ہے وہ تو خیر مسلمان کرتے نہیں لیکن قبروں کو پوجنے کا یہ رواج بھی تو بہرحال مسلمانوں میں ہے اور یہ بھی ظاہری شرک ہے لیکن اپنے اسباب پر، اپنے افسروں پر، اپنے وسائل اور ذرائع پر اور اپنی عقل پر بھی بھروسہ نہیں کرنا۔ یہ تو بہت عام ہے۔ انسان کو جو بھی انعام ملتا ہے یا اس پر جو بھی فضل ہوتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کرنا ہے۔ جب یہ حالت ہوگی تو وہ حقیقی موحد ہونے کی حالت ہے اور شرک سے بچے رہنے کی حالت ہے۔

آپؑ نے ایک جگہ فرمایا کہ نیک عمل کی مثال ایک پرند کی طرح ہے ۔اسے صدق اور اخلاص کے قفس میں رکھو گے۔ سچائی اور اخلاص کے پنجرے میں پرندے کو بند رکھو گے، قید رکھو گے تو وہ رہے گا ورنہ پرواز کر جائے گا۔ اسی طرح اپنے نیک عمل کو بھی رکھو۔ اپنے اعمال کو بھی تمہیں قید رکھنا پڑے گا اور یہ خدا کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہفَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا۔(الکہف:111) فرمایا کہ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا ۔عمل صالح سے یہاں یہ مراد ہے کہ اس میں کسی قسم کی بدی کی آمیزش نہ ہو۔ صلاحیت ہی صلاحیت ہو۔ نہ عُجب ہو، نہ کبر ہو، نہ نخوت ہو، نہ تکبر ہو، نہ نفسانی اغراض کا کوئی حصہ ہو، نہ رُو بخلق ہو یعنی لوگوں کی طرف توجہ نہ ہو، ان پر انحصار نہ ہو حتّٰی کہ آپؑ نے فرمایا کہ اگر ایک شخص اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا ہے اور شرک سے بالکل پرہیز کرنے والا ہے تو وہ دوزخ اور بہشت کی خواہش بھی نہیں رکھتا۔ صرف خدا کی محبت سے وہ عمل صادر ہوتا ہے۔ جب تک دوسری قسم کی غرض کو دخل ہے تب تک ٹھوکر کھائے گا۔ اگر اللہ کی محبت کے علاوہ کوئی اَور غرض ہے تو پھر انسان شرک سے نہیں بچ سکتا، کامل موحد نہیں بن سکتا، عمل صالح نہیں کر سکتا۔ فرمایا ٹھوکر کھائے گا اور اس کا نام شرک ہے کیونکہ وہ دوستی اور محبت کس کام کی جس کی بنیاد صرف ایک پیالہ چائے یا دوسری خالی محبوبات تک ہی ہے۔ ایسا انسان جس دن اس میں فرق آتا دیکھے گا اس دن قطع تعلق کر دے گا ۔یعنی جب تک انسان کو دنیاوی فائدے پہنچتے رہتے ہیں اس وقت تک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکا رہتا ہے جب اس میں فرق آئے گا تو وہ قطع تعلق کر دے گا۔ اسی لیے شرک سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کا کامل موحد بننے اور اس کے ساتھ مکمل تعلق پیدا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے انجام بخیر کی دعائیں کرتا رہے کہ کبھی میرے اندر ایسی حالت پیدا نہ ہو کہ مَیں دنیاوی فائدے نہ ملنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاؤں۔ بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہم پہلے نمازیں بھی پڑھتے تھے دعائیں بھی کرتے تھے لیکن بعض حالات ایسے پیش آئے جن کی وجہ سے نہ ہماری نمازوں میں اتنا شغف رہا ،نہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر اتنا زیادہ یقین رہا جو ہونا چاہیے، اس لیے کہ انہوں نے اپنے دنیاوی مقاصد حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھا تھا نہ کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے لیے۔

پس

جب تک ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کے لیے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا نہیں کریں گے اس وقت تک شرک میں گر سکتے ہیں۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ جو لوگ خدا سے اس لیے تعلق باندھتے ہیں کہ ہمیں مال ملے یا اولاد حاصل ہو یا ہم فلاں فلاں امور میں کامیاب ہو جائیں ان کے تعلقات عارضی ہوتے ہیں اور ایمان بھی خطرے میں ہے۔ جس دن ان کے اغراض کو کوئی صدمہ پہنچے اسی دن ایمان میں فرق آ جائے گا۔ اس لیے

پکا مومن وہ ہے جو کسی سہارے پر خدا کی عبادت نہیں کرتا

(ماخوذ از ملفوظات جلد 6 صفحہ 287، ایڈیشن 2022ء)

یعنی دنیاوی فائدے کے لیے عبادت نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ سے محبت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے آخر میں ہمیں جو تین سورتیں سکھائی ہیں اس میں سورہ اخلاص بھی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو رات کو سوتے ہوئے بھی پڑھنا چاہیے ۔

(مسند احمد بن حنبل جلد5 صفحہ895-896 مسند عقبۃ بن عامرحدیث 17467 مکتبہ عالم الکتب بیروت 1998ء)

یہ انسان کو برائیوں سے پاک کرتی ہے اور شرک سے دور کرتی ہے۔ یعنی: قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ۔ وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ۔ (الاخلاص:2تا5) حضرت مسیح علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ

یہ چھوٹی سی سورت ہے اور اس میں بڑی لطافت سے اور نہایت عمدگی سے ہر قسم کے شرک سے انسان کو دور کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خوبصورتی کو منزّہ کر دیا ہے۔ پاک صاف کر کے دکھا دیا ہے۔

(ماخوذ از براہین احمدیہ حصہ چہارم ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 518 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)

پھر ایک جگہ آپؑ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ’’ حسن ایک ایسی چیز ہے جو بالطبع دل اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔‘‘ حسن ہو، خوبصورتی نظر آئے تو دل کی اس طرف توجہ ہوتی ہے ’’ اور اس کے مشاہدہ سے طبعاً محبت پیدا ہوتی ہے۔ تو حسن باری تعالیٰ اس کی وحدانیت اور اس کی عظمت اور بزرگی اور صفات ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا حسن کیا ہے؟ اس کا ایک ہونا۔ اس کی عظمت۔اس کی بزرگی۔ ’’جیسا کہ قرآن شریف نے یہ فرمایا ہے۔قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ۔ وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ۔(الاخلاص:2تا5)یعنی خدا اپنی ذات اور صفات اور جلال میں ایک ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔سب اس کے حاجت مند ہیں۔ ذرّہ ذرّہ اس سے زندگی پاتا ہے۔ وہ کُل چیزوں کے لئے مبدءِفیض ہے۔‘‘اسی سے فیض کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ اسی سے فیض ملتے ہیں’’ اور آپ کسی سے فیضیاب نہیں ۔ ‘‘اس کو کسی سے فیضیاب ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ تو ہر چیز کا مالک ہے۔’’ وہ نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کسی کا باپ اور کیوں کر ہوکہ اس کا کوئی ہم ذات نہیں۔‘‘ آپؑ نے فرمایا کہ ’’قرآن نے بار بار خدا کا کمال پیش کر کے اور اس کی عظمتیں دکھلا کے لوگوں کو توجہ دلائی ہے کہ دیکھو ایسا خدا دلوں کا مرغوب ہے نہ کہ مردہ اور کمزور اور کم رحم اور کم قدرت ۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 417)

پس یہ مختصر میں نے بیان کیا ہے۔ آپؑ نے اس کی تفصیل میں بہت ساری جگہوں پر کھول کھول کربیان کیا ہوا ہے کہ شرک سے مکمل طور پر اپنے آپ کو پاک کرو۔ جب تم یہ کرو گے تبھی تم میری بیعت کا بھی حق ادا کر سکو گے۔ تبھی تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ سے جو بیعت لی تھی اس کے مطابق اپنے آپ کو بھی اس معیار پر لے جانے کی کوشش کر سکو گے اور تبھی تم اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے فیضیاب بھی ہو سکو گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شرک کے خلاف اس باریکی میں تعلیم دیتے تھے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی تو سورج کو گرہن لگا۔ لوگوں نے کہا حضرت ابراہیم کی موت کی وجہ سے گرہن لگا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یقیناً سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے دو نشانات ہیں ۔یہ دونوں نہیں گہناتے ان پر کسی کی موت کی وجہ سے اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے گہن نہیں لگتا۔ پس جب تم اسے دیکھو تو اللہ سے دعا کرو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائیں۔ اس لیے آپؐ کے اس فرمان کے مطابق نماز خسوف و کسوف بھی پڑھی جاتی ہے۔ یعنی آپؐ نے یہ اعلان فرمایا کہ مَیں جو شرک کے خلاف سب سے اوّل نمبر پر ہوں اور اس کے خلاف آواز اٹھانے والا ہوں اور اسی کی تعلیم لے کر آیا ہوں تم میرے بیٹے کو اس درجے پر لا رہے ہو جس میں سے شرک کی بو آتی ہو اور پھر میرے بیٹے کو شرک کاذریعہ بنا رہے ہو۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ تم یاد رکھو کہ کسی کی موت یا زندگی سورج اور چاند کے گرہن کی وجہ نہیں بنتی۔

(صحیح البخاری کتاب الکسوف باب الدعاء فی الخسوف حدیث 1060)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ہمیں ایک جگہ تلقین فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’قرآن شریف نے تمہارے لئے بہت پاک احکام لکھے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ تم شرک سے بکلّی پرہیز کرو کہ مشرک سرچشمۂ  نجات سے بے نصیب ہے۔ ‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 28)

اس کو نجات نہیں مل سکتی۔

ایک جگہ آپؑ نے فرمایا کہ شرک تین قسم کے ہیں۔

اوّل یہ کہ عام طور پر بت پرستی ہو، درخت پرستی ہو۔

درخت پرستی وغیرہ کی جائے جس طرح بعض لوگ کرتے ہیں۔ اب جاپان میں ہم دیکھتے ہیں یا افریقہ میں بعض اَور روایتی مذاہب میں ہے کہ انہوں نے بہت سارے پتھروں اور درختوں وغیرہ کو بھی عبادت اور شرک کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ وہ ان کے سامنے جا کے جھکتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں۔ یہ سب سے عام اور موٹی قسم کا شرک ہے۔

دوسری قسم شرک کی یہ ہے کہ اسباب پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا جائے

کہ فلاں کام نہ ہوتا تو مَیں ہلاک ہو جاتا یا فلاں چیز نہ ملتی تو مَیں ہلاک ہو جاتا۔اگر وہ وہ وجہ نہ بنتی تو مَیں ہلاک ہو جاتا۔ اس کی وجہ سے میرا کام ہو گیا ۔یہ بھی شرک ہے ۔اور

تیسری قسم شرک کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود کے سامنے اپنے وجود کو بھی کوئی شئے سمجھنا

کوئی سمجھنا کہ میری عقل سے۔آج کل اس روشن اور عقل کے زمانے میں کوئی موٹے شرک میں تو گرفتار نہیں ہے سوائے چند روایتی مذہبوں کے جیسا کہ میں نے کہا جس میں بھی بہت کم لوگ گرفتار ہیں۔ عموماً جو پڑھے لکھے لوگ ہیں ان میں سے جو خدا کو ماننے والے ہیں یا نہیں ماننے والے ان میں سے بہت کم ایسے ہیں جو اس طرح شرک کرتے ہیں لیکن آپؑ نے فرمایا کہ مادی ترقی کے زمانے میں شرک فی الاسباب بہت بڑھ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر چیزوں کو لانے کا شرک بہت بڑھ گیا ہے۔ انسان اسباب پر بھروسہ کرنے لگ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ نہیں رہی اور لوگ اسباب کی طرف دیکھتے ہیں۔ اس لیے اس سے بچنے کی کوشش کرو۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 86، ایڈیشن 2022ء)

آپؑ نے پھر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ’’ دیکھو! خدا یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاوے۔ بعض لوگ اپنے شرکاءِ نفسانی کے واسطے بہت سا حصہ رکھ لیتے ہیں اور پھر خدا کا بھی حصہ مقرر کرتے ہیں۔ سو ایسے حصہ کو خدا قبول نہیں کرتا۔ وہ خالص حصہ چاہتا ہے۔ ‘‘اللہ تعالیٰ توچاہتا ہے خالص اسی کے ہو جاؤ۔ ’’اس کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک بنانے سے زیادہ اس کو غضبناک کرنے کا اَور کوئی آلہ نہیں ہے۔ایسا نہ کرو کہ کچھ تو تم میں تمہارے نفسانی شرکاء کا حصہ ہو اور کچھ خدا کے واسطے۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں سب گناہ معاف کروں گا مگر شرک نہیں معاف کیا جاوے گا ۔

یاد رکھو شرک یہی نہیں کہ بتوں اور پتھروں کی تراشی ہوئی مورتوں کی پوجا کی جاوے۔ یہ تو ایک موٹی بات ہے۔یہ بڑے بیوقوفوں کا کام ہے۔ دانا آدمی کو تو اس سے شرم آتی ہے۔ شرک بڑا باریک ہے۔ وہ شرک جو اکثر ہلاک کرتا ہے وہ شرک فی الاسباب ہے۔ یعنی اسباب پر اتنا بھروسا کرنا کہ گویا وہی اس کے مطلوب و مقصود ہیں‘‘ اور جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا آجکل یہی شرک ہے’’ جو شخص دنیا کو دین پر مقدم رکھتا ہے اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اس کو دنیا کی چیزوں پر بھروسہ ہوتا ہے اور وہ امید ہوتی ہے جو دین و ایمان سے نہیں ۔‘‘ یہاں میں ضمناً یہ بھی ذکر کر دوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض احمدی عورتیں بلکہ اکثر احمدی عورتیں اپنے ایمان میں بہت مضبوط ہیں لیکن بعض اس بہانے سے اس معاشرے میں آکر پردہ اتار دیتی ہیں کہ اس میں دنیا کا خوف ہے یا نوکری کا خوف ہے۔ ایسی عورتیں یا لڑکیاں مخفی شرک میں مبتلا ہیں بلکہ ظاہری شرک میں مبتلا ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ مَیں تمہیں ایسے ذرائع سے رزق مہیا کروں گا جہاں تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ آپؑ نے فرمایا یہ لوگ’’ نقد فائدہ کو پسند کرتے ہیں‘‘ اور بعض دفعہ بعض خاوند یا مرد اپنی بیویوں اور عورتوں کو کہتے ہیں کہ پردے اتارو۔ وہ بھی اسی ڈر اور خوف سے کہ دنیا والے کیا کہیں گے، دنیا میں ہمارا گزارا کس طرح ہوگا، ہم کس طرح ترقی کریں گے ،کس طرح اپنے آپ کو اس دنیا میں انٹیگریٹ (integrate) کر سکتے ہیں، شامل کر سکتے ہیں، ملا جلا سکتے ہیں۔ تو یہ سب لوگ شرک کرنے والے ہیں اور مردوں کا بھی اس میں ساتھ ہے صرف عورتوں کا نہیں۔بہرحال آپؑ نے فرمایا کہ یہ لوگ نقد فائدے کو پسند کرتے ہیں ’’اور آخرت سے محروم ۔ جب وہ اسباب پر ہی اپنی ساری کامیابیوں کا مدار خیال کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کے وجود کو تو اس وقت وہ لغو محض اور بے فائدہ جانتا ہے اور تم ایسا نہ کرو۔ تم توکّل اختیار کرو ۔‘‘تو پھر تمہیں بہت کچھ ملے گا

(ملفوظات جلد 4 صفحہ 288، ایڈیشن 2022ء)

پھر یہ بھی ایک اہم بات آپؑ نے فرمائی کہ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یہ توحید کا کلمہ ہے اس کے معنے ہیں کہ خدا کے سوا کوئی بھی عبادت اور سچی فرماں برداری کے لائق نہیں ہے۔ خدا اگر توحید کے پھیلانے میں کسی دوسرے کا محتاج ہوتا یا کسی اَور کو اس کام میں اپنا شریک بناتا تو بھی شرک لازم آتا تھا ۔ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم’’ کا جملہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکے ساتھ شامل کرنے میں سِر یہی ہے‘‘ یہی راز ہے ’’کہ تا توحید کا سبق کامل ہو اور دنیا کو معلوم ہو کہ جو کچھ آتا ہے درحقیقت اسی خدا کی طرف سے آتا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ہدایات کو خدا سے پا کر مخلوق کو پہنچانے والے ہیں اور کہ جو کچھ ادھر سے آتا ہے وہ اسی راہ سے آتا ہے۔ ‘‘

جیسا کہ بیان ہوا ہے۔’’ شرک صرف پتھروں کے پوجنے ہی کا نام نہیں ہے بلکہ شرک کی ایک قسم یہ بھی لکھی ہے کہ انسان خدا کو چھوڑ کر صرف اسباب ہی پر تکیہ کرلے ‘‘اور یہ خطرناک شرک ہے۔

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 352، ایڈیشن 2022ء)

پس اس شرک سے بھی ہمیشہ بچنا چاہیے ۔اس لیے

ہمیں ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہر کام کرتے ہوئے اور ہر لفظ بولتے ہوئے ہمیں یہ خیال رہے کہ کہیں یہ لفظ ہمیں خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والا اور شیطان کے قریب لے جانے والا نہ ہو۔ پس اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے۔ جب ہم یہ کریں گے تو تب ہی ہم اپنے عہدِ بیعت کو بھی پورا کرنے والے ہوں گے اور تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے آنے کے مقصدکو بھی پورا کرنے والے ہوں گے کیونکہ آپؑ کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم کیا جائے اور شرک کا خاتمہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے تو وعدہ ہے کہ وہ آپؑ کو فتوحات دے گا اور انشاء اللہ تعالیٰ ضرور دے گا ۔لیکن اگر ہم نے اس کا حصہ بننا ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرنے والے بنیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں اور اپنی عبادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہوں اور اپنی ظاہری حالت کو بھی اسی طرح ڈھالنے والے ہوں کہ اس سے ہلکا سا بھی شرک کا شائبہ تک نظر نہ آئے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں ایک جگہ بڑی اچھی نصیحت فرمائی ہے۔ آپؓ نے فرمایا کہ

’’ پس اے احمدی قوم!خدا ہمارا رشتہ دار نہیں ۔‘‘

اے احمدی قوم! خدا ہمارا رشتہ دار نہیں ہے۔

’’شرک سے پرہیز کرو اور عبادت کرو تاکہ خدا تمہارا نگہبان ہو جائے۔ دیکھو کہ خدا نے نوح علیہ السلام کے بیٹے تک کی پرواہ نہیں کی۔ پس اس بات سے خوش ہونا کہ احمدی ہیں نادانی ہے بلکہ ایسے کام کرو کہ احمدی ہونے کے لائق ثابت ہو

اور اسی طرح لوطؑ کی بستی کا حال دیکھ لو کہ کس طرح ہو گئی کہ کفر کرتی تھی اور حضرت لوطؑ جو شکر کرنے والے بندے تھے بچ گئے۔ یہاں حضرت لوطؑ کی بیوی سے بھی ویسا ہی واقعہ پیش آیا کیوں کہ وہ کافروں سے تعلق رکھتی تھی۔ پھر ہے کہوَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِہٖ وَہُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشۡرِکۡ بِاللّٰہِ ؕؔ اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ ۔(لقمان:14)اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو جب کہ وہ اس کو نصیحت کرتا تھا کہ اے لڑکے اللہ سے شرک نہ کر۔ کیوں کہ شرک ایک بڑا ظلم ہے۔ اس جگہ خدا تعالیٰ لقمان کا کلام بتاتا ہے کہ وہ حکمت والا انسان یہ بات کہتا ہے اور پھر اپنے لڑکے کو کہ جس کو اس نے اچھی بات ہی کہنی تھی اور پھر معمولی طور سے نہیں کہا بلکہ وہ اس وقت اس کو نصیحت کرتا تھا تاکہ اس کی آئندہ زندگی ٹھیک ہو کہ اے بیٹے! خدا سے شرک نہ کر کیونکہ شرک جو ہے وہ ایک بڑا ظلم ہے ۔ایک ایسا خدا جو کہ ہم پر ہر طرح سے احسان کرتا ہے اور ہمارے نفع اور ضرر پر بھی قادر ہے اس کے ساتھ ہم اوروں کو برابر ٹھہرائیں ،کتنا ظلم ہے۔ اب یہاں خیال رکھنا چاہئےکہ شرک سے مراد یہ نہیں کہ صرف لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکہہ دیا اور پاک ہو گئے بلکہ حضرت لقمان فرماتے ہیں کہ کُل شرک جلی اور خفی سے اپنے آپ کو بچا۔‘‘ (چشمۂ  توحید، انوار العلوم جلد 1 صفحہ 12-13) یعنی ظاہری شرک سے بھی اور چُھپے ہوئے شرک سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ۔ مسلمانوں کی یہ بھی بڑی بدقسمتی ہے کہ یہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ُکو پڑھتے ہیں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ،کوئی چیز قابل پرستش نہیں ہے نہ ہو سکتی ہے ،کسی چیز میں بھی خدا تعالیٰ کی صفات نہیں آ سکتیں اور وہ قادر مطلق بھی ہے لیکن اس کے باوجود دیکھ لیں کہ مسلمانوں میں بعض قسم کے شرک ہیں جیسا کہ قبروں پرجاتے ہیں، پوجتے ہیں، ان کے آگے سجدے کرتے ہیں ۔ایک بہت سارا طبقہ ایسا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں بعض ان کے آگے جھکتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بزرگوں سے دعا کرنے سے، ان کے آگے سجدہ کرنے سے ہماری حاجتیں پوری ہو جائیں گی۔ تو ایک طرف لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ُکہتے ہیں اور دوسری طرف شرک کرتے ہیں۔ اسی لیے

اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مبعوث فرمایا تھا تاکہ آپؑ شرک کے خلاف ایک جہاد کریں اور اپنی ایک ایسی پاک جماعت قائم کریں جو شرک سے بکلّی اجتناب کرنے والی ہو

اور بعض دفعہ بڑے بڑے علماء اور مولوی بھی یہ شرک کرتے جاتے ہیں میں نے پہلے بھی کہا۔ پس

ہمارا یہ کام ہے کہ ہر قسم کے شرک سے بچیں۔

اپنی تقریروں میں غیر احمدیوں کے بعض مولوی تو بتا بھی دیتے ہیں کہ فلاں بزرگ کی یہ کرامت تھی ،فلاں کی یہ کرامت تھی اور اسے شرک تک پہنچا دیتے ہیں۔

ہم شرک ظاہری تو نہیں کرتے لیکن شرک خفی سے بھی اجتناب کریں۔ یہ بعض دفعہ غیر محسوس طریقے سے اندر داخل ہو جاتا ہے تبھی ہم حق بیعت ادا کر سکیں گے اور تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست و بازو بن سکتے ہیں۔

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button