رحمان خدا وقتاً فوقتاً انبیاء کے ذریعہ سے قوموں کی راہنمائی فرماتا رہتا ہے
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ’’ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم کا ذکر ہے۔ جب انہوں نے رحمان خدا کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنایا تو حضرت ہارون ؑ نے انہیں رحمٰن خدا کا حوالہ دے کر توجہ دلائی تھی کہ وَلَقَدۡ قَالَ لَہُمۡ ہٰرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلُ یٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِہٖ ۚ وَاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ وَاَطِیۡعُوۡۤا اَمۡرِیۡ (طٰہٰ:91) اس کا ترجمہ ہے کہ حالانکہ ہارون ؑ اس سے پہلے اُن سے کہہ چکا تھا کہ اے میری قوم تم اس کے ذریعہ سے آزمائے گئے ہو یقینا ًتمہارا رب بے انتہا رحم کرنے والا ہے۔ پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔
تو حضرت ہارون نے یہی کہا کہ رحمٰن خدا کو چھوڑ کر اس آزمائش اور ابتلاء میں کیوں پڑ رہے ہو۔ بچھڑے کو معبود بنا کر، شرک قائم کرکے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کیوں دعوت دے رہے ہو۔ اتنے نظارے دیکھنے کے بعد بھی، اتنے انعامات دیکھنے کے بعد بھی تمہیں عقل نہیں آ رہی۔ اللہ تعالیٰ نے تو بہت بڑا احسان کیا کہ اپنی رحمانیت کے جلوے تمہیں دکھا رہا ہے، مختلف موقعوں پرتمہیں دکھائے اور تم نے اُس کو چھوڑ کر ایک کھوکھلی چیز کو معبود بنایا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت جو ہے اس کی وجہ سے تم لوگ بچے ہو ئے ہو ورنہ یہ جو حرکت ہے وہ تمہیں تباہ کرنے والی حرکت ہے۔ یہ بہت بڑا ظلم ہے جس سے تباہ ہو سکتے ہو۔ اور فرماتے ہیں کہ عقل کرو اور میری پیروی کرو۔ میری بات مانو اور سیدھے راستے پر آ جاؤ۔
پس یہ رحمان خدا کے احسان ہیں جو وقتاً فوقتاً انبیاء کے ذریعہ سے قوموں کی راہنمائی فرماتا رہتا ہے۔ اور آج سے چودہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر تمام دنیا کی راہنمائی کے لئے بھیجا اور پھر اِس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیج کر راہنمائی فرمائی۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 15؍ دسمبر 2006ء)
