حضرت ہارون علیہ السلام
السلام علیکم دادی جان۔ عشاء کی نماز کے بعد تینوں بچے دادی جان کے کمرے میں آگئے۔
دادی جان :آج میں نے آپ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بڑےبھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی کہانی سنانی ہے۔ حضرت موسی ٰکی کہانی تو آپ کو سنا دی تھی۔ حضرت ہارونؑ اور آپؑ کی بڑی بہن مریم دریائے نیل کے شمال مشرقی علاقے میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہتے تھے۔ حضرت ہارونؑ کا ذکر قرآن کریم میں نام لے کر بیس (20) دفعہ آیا ہے اور عمومی طور پر حضرت موسیٰؑ کے ساتھ ہی اُن کا ذکر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰؑ کی کہانی میں بتایا تھا کہ حضرت موسیٰؑ مصر سے مدائن چلےگئے تھے اور وہاں شادی کر لی تھی جس میں دس سال کا عرصہ مدائن میں رہنے کی شرط شامل تھی۔ جب یہ میعادد پوری ہوئی تو آپ نے اپنے وطن جانے کا ارادہ کیا مگر آپؑ کے دل میں یہ خوف بھی تھا کہ بادشاہ مصر قتل کے معاملے میں آپؑ سے بازپرس نہ کرے۔ مگرجب اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرماکر حوصلہ دیا کہ وہ معاملہ تو کب کا ختم ہوچکا ہے اور حکم دیا کہ وہاں جاکر اپنی قوم کو ہدایت کی جانب بلائیں تو آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے اپنے کام میں معاونت کے لیے مددگار کی دعا کی۔
اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ نے خود یہ درخواست کی تھی کہ ہارونؑ کو میری تائید کے لیے میرے ساتھ کھڑا کیا جائے۔ چنانچہ قرآن کریم حضرت موسیٰؑ کے یہ الفاظ بیان فرماتا ہے کہ اور میرا بھائی ہارون زبان کے لحاظ سے مجھ سے زیادہ فصیح ہے۔ پس میرے مددگار کے طور پر اسے میرے ساتھ بھیج دے وہ میری تصدیق کرے گا۔ یقیناً مجھے (یہ بھی) ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان کی اس دعا کو قبول فرماتےہوئے حضرت ہارونؑ کو بھی ان کی معیت میں نبی بنادیا۔ پس قرآن کریم حضرت ہارونؑ کی بعثت کو حضرت موسیٰؑ کی دعا کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔
پھر جب حضرت موسیٰؑ فرعون کے دربار میں بادشاہ کے روبرو پیش ہوئے تو بھی حضرت ہارونؑ آپؑ کے ہمراہ تھے۔ یعنی حضرت ہارونؑ کوئی الگ نبی نہیں تھے بلکہ حضرت موسی ٰؑ کے ماتحت یا تابع نبی تھے۔ اس بات کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ؓ فرمایا کہ قرآن میں اس طرف بھی اشارہ کیاگیا ہے کہ دوسرے انبیاء کا مقام نبوت ایک الگ رنگ رکھتا ہے اور حضرت ہارونؑ کا مقام نبوت اور رنگ رکھتاہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو اپنی رحمت سے حضرت ہارونؑ عطا فرمائے تھے گویا وہ نبی تو تھےمگر موسیٰؑ کے ایک خادم اورماتحت کے طور پر تھے۔
پھر حضرت موسیٰؑ ہجرت کر کے اپنے بھائی اور بنی اسرائیل کے لوگوں کے ساتھ بحیرۂ احمر پار کرکے وادیٔ سینا کی جانب چلے گئے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کی ہدایت و راہنمائی کے لیے حضرت موسیٰؑ کو آسمانی کتاب دینے کا فیصلہ فرمایا اور اُنھیں تیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر بلالیا، جنہیں مزید دس راتوں کے اضافے کے ساتھ چالیس راتیں کردیا۔ حضرت موسیٰؑ نے کوہِ طور پر جانے سے پہلے اپنے بھائی، حضرت ہارونؑ کو اپنا جانشین مقرر کردیا۔ اب ہوا یہ کہ چونکہ انہیں تیس کی بجائے وہاں چالیس راتیں گزارنا پڑیں تو جیسا کہ ہوتا ہے انسان برائی کی جانب جلدی سے مائل ہوجاتا ہے اس لیے ان کی قوم میں بھی ایک بُرا آدمی سامری موجود تھا۔ اُس نے اس غیر حاضری کا بھر پور فائدہ اٹھایا اور ان کی قوم کو سونے کےبچھڑے کے ذریعے شرک میں مبتلا کردیا اور الزام حضرت ہارونؑ پر لگادیا کہ انہوں نے ہمیں کبھی شرک سے نہیں روکا۔ لیکن بائیبل کے اس الزام کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ حضرت ہارونؑ نہ صرف اپنی قوم کو شرک سے روکتے رہے بلکہ یہ بھی کہتے رہے کہ اے قوم اس بچھڑے کے ذریعہ سے تمہارا ایمان خراب کیا گیا ہے اور تمہارا رب تو رحمٰن ہے یہ بے حقیقت بچھڑا رب کس طرح ہو سکتا ہے۔ پس تم میری فرمانبرداری کرو اور میرے حکم پر چلو۔ قرآن پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارونؑ شرک سے روکنے والوں میں سے تھے۔
احمد : ہیں دادی جان مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ یہ سامری کہاں سے آگیا ؟ بچھڑا کہاں سے آگیا اور وہ اس کی عبادت کیوں کرنے لگے ؟
دادی جان : وہ ایک جادوگر اور عیار آدمی تھا۔ اس واقعہ کو حضرت مصلح موعود ؓنے تفسیر کبیر میں یوں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نےحضرت موسیٰؑ سے فرمایا کہ تم کو تو ہماری ملاقات کا اتنا شوق ہے مگر تمہاری قوم کا یہ حال ہے کہ اِدھر تم ہماری طرف آئے اور اُدھر وہ سامری کے بہکانے سے بہک گئی۔ اس پر موسیٰؑ غصہ اور افسوس کی حالت میں واپس لوٹے اور اپنی قوم سے کہا کہ کیا تمہارے ربّ نے نہایت اعلیٰ اور شاندار وعدہ تم سے نہیں کیا تھا۔ یعنی تمہارے نبی کو ہم کلام ہونے کے لیے نہیں بلایا تھا۔ کیا تم اتنے بے ایمان ہو کہ اتنی تھوڑی سی دیر میں تمہارا ایمان ضائع ہو گیا یا تم کو اپنے رب کے غضب کے نازل ہونے کی خواہش ہے۔ جس کی وجہ سے اتنے تھوڑے عرصہ میں ہی تم خدا کو بھول گئے اور میری اطاعت کا جو تم نے اقرار کیا تھا اس کی تم نے خلاف ورزی شروع کر دی۔
حضرت مصلح موعودؓ نے بائیبل کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بیان فرمایا کہ مصری خود دل سے چاہتے تھے کہ وہ لوگ (بنی اسرائیلی )مصر سے نکل جائیں اس لیے ہوسکتا ہے کہ انہوں نے خود ان کو زیورات دیے تاکہ وہ عبادت کے لیے باہر جائیں اور ان پر آنے والا عذاب ٹل جائے۔ اور یہی بات قرآن کریم نے بیان کی ہے بلکہ ممکن ہے سامری نے بھی ان لوگوں سے یہی کہا ہو کہ اگر یہ لوگ باہر نکلیں گے تو میں ان کے لیے سونے کا بچھڑا بنا دوں گا اور ان سے اس کی پوجا کرواؤں گا اور یہ لوگ تمہارے مذہب میں واپس آجائیں گے۔ ان لوگوں نےزیورات کونفرت سےپھینک دیا مگر سامری نے اس سے بچھڑا تیار کر لیا اور بچھڑا بھی ایسا جو بولتا تھا۔ چونکہ بنی اسرائیلی مصر میں بچھڑے کی پرستش ہوتی دیکھ آئے تھے اور فرعون بھی اس کے آگے سجدہ کرتا تھا۔ اس لیے ان کے خیال میں اس سے زیادہ اعلیٰ چیز اور کیا ہوسکتی تھی پس وہ کہتے ہیں کہ ایک تو بچھڑا دوسرا سونے کا اور تیسرا بولنے والا اس کے بعد بھی اگر ہم اس کی عبادت نہ کرتے تو کیا کرتے۔ گویا وہ اپنی مجبوری کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور موسیٰؑ سے کہتے ہیں کہ آپ ہماری بھی تو مجبوری دیکھیں اگر اتنی باتوں کے بعد بھی ہم اس کی پرستش نہ کرتے تو کیا کرتے۔
اصل بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی قوم مصر سے آرہی تھی اور فرعون کی قوم میں بیل کی پوجا کا عام رواج تھا بلکہ سب سے بڑا مندر مصر کا وہی تھا جس میں ایک بے عیب بیل بطور دیوتا کے رکھا جاتا تھا۔ غرض فرعون کی قوم چونکہ بیل کی پرستش کی عادی تھی۔ اس لیے محکوم قوم ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بھی مشرکانہ خیالات پیدا ہو گئے اور حضرت موسیٰؑ کی غیر حاضری سے فائدہ اٹھا کر سامری نے انہیں پھر شرک کے راستہ پر ڈال دیا اور وہ بچھڑے کو بڑے ادب کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئے۔ سامری جو در حقیقت دل سے کافر انسان تھا اس نے قوم کی اس کمزوری ایمان سے فائدہ اٹھایا اور ان سے کہا کہ اپنے زیورات لاؤ اور میں بھی اپنا سونا ڈالتا ہوں اس سے میں فرعونیوں کی طرح کا ایک بچھڑا تمہیں بنادوں گا۔ وہ سامری کی یہ بات سن کر خوش ہو گئے۔ کیونکہ بچھڑے کا ادب فرعونیوں سے ان کو ورثہ کے طور پر ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سامری نے جو بچھڑا بنایا تھا اس میں ایسی ترکیب رکھی تھی کہ اس میں سے ایک بے معنے آواز نکلتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سیٹیاں بنائی جاتی ہیں سامری نے بچھڑا اسی طرح بنایا تھا۔
حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں کہ بائیبل بتاتی ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ کو معلوم ہوا کہ لوگوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی ہے تو وہ سخت غیظ و غضب کی حالت میں پہاڑ سے واپس تشریف لائے اور بچھڑے کو آگ میں جلاکر اسے خاکستر کیا اور اس کی خاک پانی پر چھڑک کربنی اسرائیل کو پلوائی۔ بائیبل کے مطالعہ سے مزید علم ہوتا ہے کہ جہاں اور لوگوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا اور مجرموں کو قتل کی سزائیں دی گئیں وہاں حضرت ہارونؑ پر بجائے کسی ناراضگی کا اظہار کرنے کے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ ہارونؑ کو مقدس لباس پہنایاجائے اور نہ صرف اس کی عزت افزائی کی جائے بلکہ اس کی تمام اولاد کو بھی قابل اعزاز سمجھا جائے اور عبادت گاہوں کی نگرانی کاکام ان کے سپرد کیاجائے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ انعام اور اس کی طرف سے خوشنودی کا اظہا ر بتارہا ہے کہ بچھڑا بنانا تو الگ رہا حضرت ہارونؑ اس کے پجاریوں میں سے بھی نہیں تھے بلکہ جیساکہ قرآن کریم بتاتاہے انہوں نے بنی اسرائیل کو شرک سے روکا اور انہیں توحید پر قائم رکھناچاہا مگر انہوں نے ہارونؑ کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ حضرت ہارونؑ نے اس موقعہ پر جو یہ کہا کہ یعنی اے میری قوم تمہیں اس بچھڑے کے ذریعے ایک آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ تمہاری اصل آزمائش کاوقت اب آیا ہے گویا فرعون کے عذاب اس آزمائش کے مقابل پر بالکل ہیچ تھے کیونکہ و ہ آزمائش دشمن کی طرف سے تھی جس میں قدرتاً سب لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں لیکن جب اندرسے فتنہ کھڑاہو تو کئی کمز ور طبائع ڈانواں ڈول ہوجاتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اندرونی فتنوں کوکبھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ پوری تندہی سے ان کامقابلہ کرنا چاہیے۔ اگر اندرونی فتنہ پیدا ہو تو پھرتباہی کا خطرہ پیدا ہوجاتاہے۔
حضرت مصلح موعود سورۃ طٰہٰ کی تفسیر میں مزید فرماتے ہیں کہ حضرت ہارونؑ کہتے ہیں کہ میں نے صرف اس خیال سے ان لوگوں پرزیادہ سختی نہیں کی کہیں آپؑ مجھے یہ الزام نہ دیں کہ میں نے آپؑ کے حکم کاانتظار نہ کیا۔ او ربنی اسرائیل میں تفرقہ پیدا کردیا۔ گویا وہ ہر اہم بات میں ان کے حکم کے منتظر رہتے تھے اور اس بات کاخیال رکھتے تھے کہ کہیں حضرت موسیٰؑ کی اطاعت میں کوئی فرق نہ آجائے۔ تو سمجھ لگی آپ کو؟
گڑیا جی دادی جان۔
دادی جان: چلین اب سونے کا وقت ہو گیا ہے۔ کمرے میں جائیں اور دعا پڑھ کر سو جائیں۔ بچے شب بخیر کہہ کر سونے چلے گئے۔
(درثمین احمد۔ جرمنی)
٭…٭…٭
