حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا بچپن ۔قسط ششم

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کےبچپن کے تبلیغ دین سےمتعلق چند ایمان افروز واقعات افادۂ عام کی غرض سےپیش کیے جارہے ہیں۔
بچپن ہی سے تبلیغ کا شوق”پہلا فرض خلیفہ کا تبلیغ ہے جہاں تک مَیں نے غور کیا ہے مَیں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے اور تبلیغ سے ایسا اُنس رہا ہے کہ مَیں سمجھ ہی نہیں سکتا۔ مَیں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دُعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام بھی ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو۔ مَیں اپنی اس خواہش کے زمانہ سے واقف نہیں کہ کب سے ہے مَیں جب دیکھتا تھا اپنے اندر اس جوش کو پاتا تھا اور دعائیں کرتا تھا کہ اسلام کا جو کام ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو پھر اتنا ہو ،اتنا ہو کہ قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ ہو جس میں اسلام کی خدمت کرنے والے میرے شاگرد نہ ہوں۔ مَیں نہیں سمجھتا تھا اور نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ جوش اسلام کی خدمت کا میری فطرت میں کیوں ڈالا گیا۔ ہاں اتنا جانتا ہوں کہ یہ جوش بہت پرانا رہا ہے۔ غرض اسی جوش اور خواہش کی بناء پر مَیں نے خدا تعالیٰ کے حضور دُعا کی کہ میرے ہاتھ سے تبلیغ اسلام کاکام ہو اور مَیں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے میری ان دعاؤں کے جواب میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں۔
غرض تبلیغ کے کام سے مجھے بڑی دلچسپی ہے۔ یہ مَیں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور یہ بھی جانتا ہوں کہ سب دنیا ایک مذہب پر جمع نہیں ہوسکتی۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس کا م کو نہیں کرسکے اور کون ہے جو اسے کر سکے یا اس کا نام بھی لے لیکن اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خادم اور غلام توفیق دیا جاوے کہ ایک حد تک تبلیغ اسلام کے کام کو کرے تو یہ اس کی اپنی کوئی خوبی اور کمال نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ ہی کا کام ہے۔ میرے دل میں تبلیغ کےلیے اتنی تڑپ تھی کہ مَیں حیران تھا اور سامان کے لحاظ سے بالکل قاصر ۔پس مَیں اس کے حضور ہی جُھکا اور دُعائیں کیں اور میرے پاس تھا ہی کیا؟ مَیں نے بار بار عرض کی کہ میرے پاس نہ علم ہے، نہ دولت، نہ کوئی جماعت ہے، نہ کچھ اور ہے جس سے مَیں خدمت کر سکوں۔ مگر اب مَیں دیکھتا ہوں کہ اس نے میری دعاؤں کو سنا اور آپ ہی سامان کر دیے اور تمہیں کھڑا کر دیا کہ میرے ساتھ ہوجاؤ۔
پس آپ وہ قوم ہیں جس کو خدا نے چُن لیا اور یہ میری دعاؤں کا ایک ثمر ہ ہے جواُس نے مجھے دکھایا اس کو دیکھ کر مَیں یقین رکھتا ہوں کہ باقی ضروری سامان بھی وہ آپ ہی کرے گا اور ان بشارتوں کو عملی رنگ میں دکھاوے گا۔ اور اب میں یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کو ہدایت میرے ہی ذریعہ ہوگی اور قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ گزرے گا جس میں میرے شاگرد نہ ہوں گے کیونکہ آپ لوگ جو کام کریں گے وہ میرا ہی کام ہوگا۔ اب تم یہ تو سمجھ سکتے ہو کہ میری دلچسپی تبلیغ کے کام سے آج پیدا نہیں ہوئی اس حالت سے پہلے بھی جہاں تک مجھے موقع ملا مختلف رنگوں اور صورتوں میں تبلیغ کی تجویز یں کرتا رہا۔ وہ جوش اور دلچسپی جو فطرتاً مجھے اس کام سے تھی اور اس راہ کے اختیار کرنے کی جو بے اختیار کشش میرے دل میں ہوتی تھی اس کی حقیقت کو بھی اب مَیں سمجھا ہوں کہ یہ میرے کام میں داخل تھا ورنہ جب تک اللہ تعالیٰ ایک فطرتی جوش اس کے لیے میری روح میں نہ رکھ دیتا میں کیونکر اسے سر انجام دے سکتاتھا…
ہر زبان کے مبلّغ ہوں مَیں تمام زبانوں اور تمام قوموں میں تبلیغ کا ارادہ رکھتا ہوں اس لیے کہ یہ میرا کام ہے کہ تبلیغ کروںمَیں جانتا ہوں کہ یہ بڑا ارادہ ہے اور بہت کچھ چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی مَیں یقین رکھتا ہوں کہ خدا ہی کے حضور سے سب کچھ آوے گا۔ میرا خدا قادر ہے جس نے یہ کام میرے سپرد کیا ہے وہی مجھے اس سے عُہدہ برآء ہونے کی توفیق اور طاقت دے گا کیونکہ ساری طاقتوں کا مالک تو وہ آپ ہی ہے… پس مَیں جب کہ جانتا ہوں کہ جو کام میرے سپرد ہوا ہے یہ اُسی کا کام ہے اور مَیں نے یہ کام خود اس سے طلب نہیں کیا خدا نے خود دیا ہے تو وہ انہی رِجال کو وحی کرے گا جو مسیح موعود علیہ السلام کے وقت وحی کیے جاتے تھے۔ پس میرے دوستو! روپیہ کے معاملہ میں گھبرانے اور فکر کرنے کی کوئی بات نہیں وہ آپ سامان کرے گا۔ آپ اُن سعادت مندروحوں کو میرے پاس لائے گا جو ان کاموں میں میری مدد گار ہونگی۔“ (منصبِ خلافت۔انوار العلوم جلد ۲صفحہ ۳۵ تا۳۸)
مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا بچپن




